پیغام حدیث ۔2 : کتاب العمرہ تا کتاب الجہاد - پیغام قرآن و حدیث

بدھ، 21 مارچ، 2012

پیغام حدیث ۔2 : کتاب العمرہ تا کتاب الجہاد


۲۷۔ کتاب العمرہ;

 ۲۸۔ ممنوعاتِ حج


۱۔ عمرہ گناہوں کا کفارہ ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان تمام گناہوں کے لیے کفارہ ہے جو دونوں عمروں کے درمیان ہو گئے ہوں۔ اور حجِ مبرور کا نعم البدل اﷲ تعالیٰ کی تیار کردہ جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔

۲۔ حج کرنے سے قبل عمرہ ادا کرنا

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ سے حج کرنے سے پہلے عمرہ کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کچھ حرج نہیں۔ مزید کہا کہ رسول اﷲﷺ نے حج سے پہلے عمرہ ادا فرمایا تھا۔


۳۔ نبیؐ نے چار عمرے اور ایک حج ادا کیا تھا

سیدنا انسؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اﷲﷺ نے کتنے عمرے ادا فرمائے تو انہوں نے کہا، چار۔ ایک عمرہ حدیبیہ ذیقعدہ میں کیا جہاں سے مشرکوں نے آپﷺ کو واپس کر دیا تھا اور ایک عمرہ ذیقعدہ سالِ آئندہ میں کیا جب کہ آپﷺ نے مشرکوں سے صلح کی تھی۔ اور عمرہ جعرانہ آپﷺ نے اس وقت کیا جب کہ آپﷺ نے (شاید حنین کا) مالِ غنیمت تقسیم کیا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا کہ آپﷺ نے کس قدر حج ادا فرمائے ؟ تو سیدنا انسؓ نے کہا کہ صرف ایک ہی یعنی حجۃالوداع۔

۴۔حج کے ساتھ عمرہ کو ملا لینا

اور سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم نبیﷺ سے جمرہ عقبہ کے پاس اس وقت ملے جب آپﷺ اس پر کنکریاں مار رہے تھے تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اﷲﷺ ! کیا حج کے درمیان عمرہ ادا کرنا خاص آپؐ ہی کے لیے ہے ؟ تو آپﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے یہ بات جائز ہے۔

۵۔عمرہ کا ثواب بقدر مشقت ملتا ہے

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہﷺ لوگ تو دو نسک (حج اور عمرہ) کر کے واپس ہو رہے ہیں اور میں نے صرف ایک نسک (حج) کیا ہے۔ آپﷺ نے کہا کہ پھر انتظار کریں اور جب پاک ہو جائیں تو تنعیم جا کر وہاں سے عمرہ کا احرام باندھیں۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر صدیقؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی بہن حضرت عائشہؓ کے ہمراہ چلے جائیں اور انہیں تنعیم سے عمرہ کروا لائیں۔ اور پھر ہم سے فلاں جگہ آ ملیں۔نبیﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کے عمرہ کے بارے میں ان سے یہ بھی فرمایا کہ اس عمرہ کا ثواب تمہارے خرچ اور تمہاری مشقت کے مطابق ملے گا۔

۶۔عمرہ کرنے والا احرام کس وقت کھولے

سیدنا اسماء بنت ابی بکر صدیقؓ جب کبھی حجون پہاڑ سے ہو کر گزرتیں تو کہتیں کہ اﷲ اپنے رسولﷺ پر رحمتیں نازل فرمائے۔ بے شک ہم آپﷺ کے ہمراہ اس مقام میں اترے تھے۔ اور اس وقت ہمارے پاس زادِ راہ بھی کم تھا اور سواریاں بھی کم تھیں۔ میں نے اور میری بہن حضرت عائشہؓ نے اور فلاں فلاں شخص نے (حج کو فسخ کر کے ) عمرہ کیا پس ہم کعبہ کا طواف کر کے احرام سے باہر ہو گئے پھر ہم نے تیسرے پہر حج کا احرام باندھ لیا۔

۷۔ حج، عمرہ یا جہاد سے واپسی کی دعاء

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ جب جہاد یا عمرہ سے لوٹتے تو ہر بلند زمین پر تین مرتبہ تکبیر کہتے تھے۔ اس کے بعد کہتے ’’ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کو سزاوار ہے ہر طرح کی تعریف، اور وہ ہر بات پر قادر ہے۔ ہم واپس ہو رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے، سجدہ کرتے ہوئے، اپنے پروردگار کی تعریف کرتے ہوئے۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچا کیا اور اپنے بندوں کی مدد کی اور سارے لشکر کو تنہا شکست دے دی۔

۸۔سفر سے رات گئے لوٹنے سے پرہیز کرنا

سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ اپنے گھر والوں کے پاس سفر سے رات کے وقت تشریف فرمانہ ہوتے یا تو صبح کے وقت تشریف لاتے یا زوال کے بعد۔ اسی طرح سیدنا جابر بن عبداﷲؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے سفر سے رات کے وقت اپنے گھر والوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے۔

۹۔شہر مدینہ سے محبت کا اظہار

سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ جب کسی سفر سے مدینہ واپس تشریف لاتے اور مدینہ کی راہوں کو دیکھتے تو اپنی اونٹنی کو تیز کر دیتے اور اگر کوئی دوسری سواری ہوتی تو اس کو بھی تیز کر دیتے۔ دوسری روایت میں ہے کہ بوجہ مدینہ کی محبت کے آپﷺ سواری کو تیز کر دیتے تھے۔

۱۰۔سفر بھی ایک طرح کا عذاب ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ سفر تو ایک طرح کا عذاب ہے۔ آدمی کو کھانے، پینے اور سونے کا آرام نہیں ملتا۔ لہٰذا جب ضرورت پوری ہو جائے تو فوراً گھر واپس آ جایا کرو۔

۱۱۔جب آپؐ کو عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا

سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ حدیبیہ کے سال مکہ جانے اور عمرے سے روک دیئے گئے تو آپﷺ نے حدیبیہ میں ہی اپنا سر منڈوا ڈالا اور اپنی بیویوں کے ساتھ صحبت فرمائی اور قربانی کی پھر اگلے سال اس کے بدلہ کا عمرہ ادا کیا۔

۱۲۔اگر حج سے روک دیا جائے

سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ کیا تمہیں رسول اﷲﷺ کی سنت کافی نہیں ہے ؟ اگر تم سے کوئی حج سے روک لیا جائے تو اگر ممکن ہو سکے تو اسے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر کے احرام کھول دینا چاہیے۔پھر وہ دوسرے برس حج کرے اور قربانی کرے اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو روزے رکھے۔سیدنا مسورؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے جس سال آپﷺ کو عمرہ سے روکا گیا تھا،سر منڈوانے سے پہلے قربانی کی تھی اور اپنے صحابہ کو بھی اسی بات کا حکم دیا تھا۔

۱۳۔تین روزے رکھنا یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا

سیدنا کعب بن عجرہؓ کہتے ہیں کہ حدیبیہ میں نبیﷺ میرے پاس کھڑے ہوئے تھے اور میرے سر سے جوئیں گر رہی تھیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہاری جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں ؟ عرض کیا جی ہاں تو آپﷺ نے فرمایا کہ تم اپنا سر منڈوا لو۔سیدناکعبؓ کہتے ہیں کہ میرے ہی حق میں یہ آیت نازل ہوئی تھی( مگر حکم اس کا سب کے لیے ہے ) : جو کوئی تم میں سے بیمار ہویا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور وہ اپنا سر منڈوا لے تو۔۔۔۔۔۔ (البقرہ: ۱۹۶) تو نبیﷺ نے فرمایا کہ تو تین روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا جو قربانی میسر ہو وہ کر دینا۔


٭٭٭

۲۹۔ کتابِ شکار


۱۔محرم دوسرے کا شکار کیا ہوا کھا سکتا ہے

سیدنا ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ ہم حدیبیہ کے سال نبیﷺ کے ہمراہ چلے تو آپﷺ کے صحابہ نے احرام باندھ لیا جبکہ میں نے اس وقت تک احرام نہیں باندھا تھا۔پھر ہمیں خبر ملی کہ مقام غیقہ میں دشمن موجود ہے جو کہ ہم سے لڑنا چاہتا ہے۔ جب ہم چلے تو میرے ساتھیوں نے ایک گورخر کو دیکھا تو میں نے گھوڑا اس پر ڈال دیا اسے تیر مارکر گرا دیا پھر میں نے ان لوگوں سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا۔بالآخر میں نے ہی اس کو ذبح کیا۔پھر ہم سب نے اس کا گوشت کھایا اس کے بعد میں اپنا گھوڑا سر پٹ دوڑا کر نبیﷺ کے پاس پہنچا اور آپﷺ سے دیگر صحابہؓ کا انتظار کرنے کی درخواست کی۔ چنانچہ آپﷺ نے ایسا ہی کیا پھر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ہم نے ایک گورخر کو شکار کیا ہے اور ہمارے پاس اس کا کچھ بچا ہوا گوشت ہے تورسول اﷲﷺ نے اپنے صحابہ رضی اﷲ عنہم سے فرمایا کہ کھاؤ حالانکہ وہ سب احرام میں تھے۔

۲۔محرم کسی کو شکار کرنے کے لیے نہ کہے

سیدنا ابو قتادہؓ سے دوسری روایت میں منقول ہے کہ جب وہ رسول اﷲﷺ کے پاس آئے تو آپﷺ نے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی شخص نے ابو قتادہؓ کو اس شکار پر حملہ کرنے کے لئے کہا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں تو آپﷺ نے فرمایا تو پھر کچھ حرج نہیں ہے اس کا گوشت کھاؤ۔

۳۔محرم پانچ موذی جانوروں کو مار سکتا ہے

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا ایسے پانچ موذی جانور ہیں کہ وہ احرام میں بھی مارے جاسکتے ہیں۔

۴۔احرام میں دیگر موذی جانوروں کو مارنا

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ہم منیٰ میں رسول اﷲﷺ کے ہمراہ ایک غار میں تھے کہ یکایک آپﷺ پر سورۃوَالْمُرْ سَلَاتِ نازل ہونی شروع ہوئی۔پھر آپﷺ اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں اس کو سن کر یاد کرنے لگا۔ اچانک ایک سانپ ہم لوگوں پر کودا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ تم اس کو ماردو چنانچہ ہم اس پر لپکے مگر وہ چلا گیا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ وہ تمہارے ضرر سے بچا لیا گیا جس طرح تم اس کے ضرر سے بچا لئے گئے۔اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہؓ نبیﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے چھپکلی کے بارے میں بھی فرمایا کہ یہ موذی ہے۔

۵۔محرم کا پچھنے لگوانا جائز

سیدنا ابن بحینہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے احرام کی حالت میں اپنے سر کے بیچ میں مقامِ لحی جمل میں پچھنا لگوایا تھا(صحت کی بہتری کے لیے جسم پر مختصرسا کٹ لگوا کر خون نکلوانا پچھنا کہلاتا ہے، جو سنت بھی ہے )

۶۔محرم کا کا نکاح کرنا

سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اُمُّ المومنین حضرت میمونہؓ سے بحالت احرام نکاح کیا۔ البتہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں اُمُّ المومنین حضرت میمونہؓ نے خود اپنے نکاح کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ اس وقت حلال تھے یعنی احرام میں نہیں تھے۔ جبکہ فتح الباری کے مطابق اُمُّ المومنین حضرت عائشہ اور ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ابن عباسؓ کو اطلاع اس وقت ملی جب آپﷺ احرام میں تھے تو وہ یہی سمجھے کہ شاید نکاح ابھی ہوا ہے۔( اس مسئلہ میں ائمہ کا اختلاف ہے، تاہم امام ابو حنیفہؒ کا مسلک یہی ہے کہ احرام کی حالت میں نکاح میں کوئی حرج نہیں۔ ممنوع صرف بیوی سے ہم بستری کرنا ہے )

۷۔بچوں کا حج کرنا

سیدنا سائب بن یزیدؓ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے نبیﷺ کے ہمراہ حج کرایا تھا اور میں اس وقت سات برس کا تھا۔ (بچوں پر حج فرض نہیں لہٰذا بچوں کا حج نفلی حج ہوتا ہے اور بڑے ہونے کے بعد اگر حج فرض ہوا تو دوبارہ کرنا پڑے گا)

۸۔رمضان میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ہے

سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ جب حج سے لوٹے تو اُمّ سنان انصاریہؓ سے پوچھا کہ تم کو حج سے کس چیز نے روکا؟ انہوں نے اپنے شوہر کی نسبت کہا کہ ابو فلاں نے کہ اُن کے پاس دو اونٹ تھے ایک پر تو وہ خود حج کرنے چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین کو سیراب کرتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا اچھا تم عمرہ کر لو اس لئے کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔

۹۔عورت بغیر محرم کے دو دن کا سفر نہ کرے

سیدنا ابو سعید خدریؓ جنہوں نے نبیﷺ کے ہمراہ بارہ جہاد کئے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ سے چار باتیں سنی ہیں جو یہ ہیں۔(۱) کوئی عورت بغیر اپنے شوہر یا محرم کے دو دن کا سفر نہ کرے۔(۲)دو دنوں میں یعنی عیدالفطر اور عید الضحیٰ میں روزہ نہ رکھا جائے۔ (۳) عصر کی نماز کے بعد جب تک کہ آفتاب غروب ہو اور صبح کی نماز کے بعد جب تک کہ آفتاب طلوع ہو، کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔ (۴) تین مساجد یعنی کعبۃ اللہ،مسجد نبوی اور مسجدِ اقصیٰ یعنی بیت المقدس کے علاوہ کسی اور مسجد کی زیارت کے لیے سفر (شدر حال ) نہ کیا جائے۔

۱۰۔ کعبہ تک پیدل جانے کی نذر ماننا

سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کا سہارا لیے چل رہا تھا تو آپﷺ نے دریافت فرمایا کہ اس کو کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اس نے پیدل جانے کی نذر مانی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا اﷲ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے آپ کو اذیت میں ڈالے۔پھر آپﷺ نے اس بوڑھے کو سوار ہو نے کا حکم دیا۔سیدنا عقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ میری بہن نے بیت اﷲ تک پیدل جانے کی نذر مانی اور مجھ سے کہا کہ میں اس بارے میں نبیﷺ سے دریافت کروں چنانچہ میں نے نبیﷺ سے دریافت کیا تو آپﷺ نے فرمایا اس کو چاہیئے کہ تھوڑا پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو۔

۱۱۔اہلِ مدینہ سے فریب کرنے کا گناہ

حضرت سعدؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اہلِ مدینہ کے ساتھ جو شخص بھی فریب کرے گا وہ اس طرح گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔

۱۲۔مدینہ میں دجال و طاعون داخل نہیں ہو سکتا

حضرت ابو بکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مدینہ پر دجال کا رعب بھی نہیں پڑے گا۔ اس دور میں مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے۔حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مدینہ کے راستوں پر فرشتے نگراں ہیں۔ نہ اس میں سے طاعون داخل ہو سکتا ہے نہ دجال۔


٭٭٭

۳۰۔کتاب فضائلِ مساجدِ مکہ مدینہ



۱۔مکہ اور مدینہ کی مساجد کی فضیلت

سیدنا ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کے لیے زیارت کی نیت سے سفر (شدر حال) نہ کیا جائے۔(۱) مسجدِ حرام یعنی خانہ کعبہ۔(۲) مسجدِ نبویﷺ (۳) اور مسجدِ اقصیٰ یعنی بیت المقدس۔

۲۔مسجدِ نبویؐ کی نماز ایک ہزار درجہ افضل ہے 

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ میری مسجد میں ایک نماز پڑھنا مسجدِ حرام کے سوا باقی تمام مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ایک ہزار درجے افضل ہے۔

۳۔مسجدِ قباء کی فضیلت کا بیان

سیدنا عبد اﷲ بن عمرؓ نمازِ چاشت صرف دو دن پڑھتے تھے جب وہ مکہ آتے کیونکہ آپ مکہ مکرمہ چاشت ہی کے وقت آتے تھے۔ اس وقت پہلے آپ کعبہ کا طواف کرتے اور پھر مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ اسی طرح جب آپ ہر ہفتہ مسجدِ قبا میں جاتے تو اس دن بھی نمازِ چاشت پڑھتے تھے۔ کیونکہ آپ اس بات کو برا جانتے تھے کہ بغیر نماز پڑھے اس سے باہر نکل آئیں۔ سیدنا ابن عمرؓ بیان فرماتے تھے کہ رسول اﷲﷺ مسجدِ قبا کی زیارت کو سوار اور پیدل جایا کرتے تھے۔

۴۔ریاض الجنۃ، حوضِ نبی اور منبر رسول

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا میرے گھر اور منبر کے درمیان ایک جنت کا ٹکڑا (ریاض الجنہ) ہے۔ اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔


٭٭٭


۳۱۔کتاب الصوم

۳۲۔ صلاۃ التراویح


۱۔روزہ دار بیہودہ بات نہ کرے

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ روزہ ڈھال کی مانند ہے پس روزہ دار بیہودہ بات اور جاہلانہ افعال سے باز رہے۔ اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اسے چاہیئے کہ دو مرتبہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔

۲۔روزہ دار کے منہ کی بو، مشک کی خوشبو سے افضل

قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اﷲ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔ (اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ) روزہ دار اپنا کھانا پینا اور اپنی خواہش و شہوت میرے لئے چھوڑ دیتا ہے تو روزہ میرے ہی لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔

۳۔روزہ داروں کے لئے جنت کا خصوصی دروازہ

سیدنا سہلؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جنت میں ایک دروازہ ’’ریان‘‘ صرف روزہ داروں کے لیے مختص ہے۔اس دروازے سے ان کے سوا کوئی اور داخل نہ ہو گا۔ کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں ؟ پس وہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر جس وقت دہ داخل ہو جائیں گے تو دروازہ بند کر دیا جائے۔

۴۔ جنت میں داخلے کے مختلف دروازے

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اﷲ کی راہ میں دو مرتبہ خرچ کیا اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا کہ اے اﷲ کے بندے ! یہ دروازہ اچھا ہے،اس میں سے آ جا۔پھر جو کوئی نماز قائم کرنے والوں میں سے ہو گا تو وہ نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا اور جو کوئی جہاد کرنے والوں میں سے ہو گا تو وہ جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا اور جو کوئی روزہ داروں میں سے ہو گا تو وہ ’’ باب الریان‘‘ سے پکارا جائے گا اور جو کوئی صدقہ دینے والوں میں سے ہو گا وہ صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ میرے ماں باپ آپﷺ پر فدا ہوں جو شخص ان تمام دروازوں سے پکارا جائے تو اس کو پھر کوئی حاجت ہی نہ رہے گی تو کیا کوئی شخص ان تمام دروازوں سے بھی پکارا جائے گا؟ تو آپﷺ نے فرمایا ہاں امید رکھتا ہوں کہ تم انہیں میں سے ہو گے۔

۵۔رمضان میں جنت کے دروازوں کا کھلنا

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

۶۔رمضان میں دوزخ بند اور شیاطین قید

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان آتا ہے تو آسمان یعنی جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور شیاطین مضبوط ترین زنجیروں سے جکڑ دیئے جاتے ہیں۔

۷۔چاند دیکھ کر روزے رکھنا اور عید کرنا

سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم رمضان کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا شروع کر دو اور جب تم عید ا لفطر کا چاند دیکھو تو روزہ رکھنا ترک کر دو۔ اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تم اس کے لیے اندازہ کر لو۔

۸۔ روزے میں جھوٹ اور لغو کام سے بچنا

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا نہ چھوڑے تو اﷲ تعالیٰ کو اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔

۹۔روزہ کا اجر اللہ خود عطا کرے گا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کے تمام اعمال اسی کے لیے ہوتے ہیں سوائے روزہ کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا آپﷺ نے مزید فرمایا کہ روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں ایک اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے تو دلی خوشی محسوس کرتا ہے اور دوسرے جب وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کرے گا تو روزے کا ثواب دیکھ کر خوش ہو گا۔

۱۰۔نکاح کی سکت نہیں تو روزے رکھا کریں

سیدنا عبداﷲ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ہمراہ تھے تو آپؐ نے فرمایا کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو وہ تو نکاح کر لے کیونکہ نکاح اس کی نظر کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا باعث ہے۔جو شخص نکاح کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو اسے روزے رکھنے چاہیے کیونکہ اس سے شہوت ختم ہو جاتی ہے۔

۱۱۔چاند نظر نہ آئے تو تیس روزے رکھو

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا مہینہ کم از کم انتیس دن کا ہوتا ہے پس تم جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو پھر اگر مطلع ابرآلود ہو جائے اور تم چاند نہ دیکھ سکو تو تیس دن کا شمار پورا کر لو۔

۱۲۔بیویوں سے ایلاء کرنا

اُمُّ المومنین اُمّ سلمہؓ سے روایت ہے کہ ایک بار نبیﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات سے ایک مہینہ کا ایلاء کیا پھر جب انتیس دن گزر گئے تو صبح کے وقت یا دوپہر کے بعد آپﷺ اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے گئے کسی نے آپﷺ سے کہا کہ آپﷺ نے تو قسم کھائی تھی کہ میں ایک مہینہ تک بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا تو آپﷺ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔

۱۳۔رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھنا

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھے۔ ہاں اگر کسی شخص کے روزے رکھنے کا دن آ جائے کہ جس دن وہ ہمیشہ روزہ رکھا کرتا تھا تو اس دن روزہ رکھ لے۔

۱۴۔سحری اور نماز فجر کے درمیان وقفہ

سیدنا زید بن ثابتؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اﷲﷺ کے ہمراہ سحری کھائی پھر آپﷺ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے (سیدنا انسؓ کہتے ہیں میں نے ان سے ) پوچھا کہ اذان اور سحری کے درمیان کتنا وقت تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ جتنے وقت میں پچاس آیتوں کی تلاوت کی جاسکے۔

۱۵۔سحری کھانے میں برکت ہے

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ سحری کھاؤ اس لئے کہ سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے۔

۱۶۔روزہ دار کا صبح کو حالت جنابت میں اٹھنا

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ اور اُمّ سلمہؓ سے روایت ہے کہ کبھی کبھی رسول اﷺ کو اس حالت میں صبح ہو جایا کرتی تھی کہ آپﷺ اپنی بیویوں سے جنبی ہوتے تھے پھر آپ غسل فرما لیتے حالانکہ آپﷺ روزے سے ہوتے تھے۔

۱۷۔روزہ دار کا زوجہ سے بوس و کنار

اُمُّ المومنین حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ روزہ کی حالت میں اپنی ازواجِ مطہرات کے بوسے لے لیا کرتے تھے اور معانقہ بھی کیا کرتے تھے مگر آپﷺ اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے۔

۱۸۔ بھول کر کھا نے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص بھول کر کھا لے یا پی لے تو وہ اپنے روزے کو پورا کر لے کیونکہ یہ تو اﷲ نے اس کو کھلا پلا دیا ہے۔

۱۹۔ رمضان میں مباشرت کا کفارہ

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کی ایک محفل میں ایک شخص نے آتے ہی عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ میں تو برباد ہو گیا۔ آپﷺ نے فرمایا کیا ہوا؟ اس نے عرض کیا کہ میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستر ہو گیا تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ کیا تو ایک غلام آزاد کر سکتا ہے ؟ تو اس نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تو پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے ؟ تو اس نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے ؟ تو اس نے عرض کیا کہ نہیں۔( جان بوجھ کر روزہ توڑنے کا کفارہ ان تینوں میں سے کسی ایک پر عمل کرنا ہے )۔

۲۰۔ادائیگی صدقہ کا ایک خصوصی واقعہ

اسی دوران کوئی شخص نبیﷺ کے پاس کھجوروں سے بھرا ہوا تھیلا لایا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ سائل کہاں ہے ؟ تو اس نے عرض کیا کہ میں حاضر ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اس تھیلے کو لے لے اور خیرات کر دے۔ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو خیرات دوں تو اﷲ کی قسم مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی گھر میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں ہے یہ سن کر رسول اﷲﷺ تبسم فرماتے ہوئے کہا کہ اچھا! پھر اپنے ہی گھر والوں کو کھلا دے۔ ایک روایت میں حضورﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ صدقہ صرف تمہارے لیے ہے۔تمہارے بعد پھر کسی کے لیے اس طرح کا صدقہ جائز نہ ہو گا۔

۲۱۔ سفر میں روزہ رکھنا مرضی پر منحصر ہے

اُمُّ المومنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمر و اسلمیؓ نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ کیا میں سفر میں روزہ رکھوں ؟ اور وہ اکثر روزہ رکھا کرتے تھے تو آپﷺ نے فرمایا کہ اگر چاہو تو روزہ رکھو اور چاہو تو نہ رکھو۔

۲۲۔سفرکی تکلیف میں روزہ رکھنا نیکی نہیں

سیدنا جابر بن عبداﷲؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کسی سفر میں تھے تو آپﷺ نے ایک مجمع دیکھا جس میں ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا تھا۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا کہ اس کو کیا ہوا؟ تو لوگوں نے عرض کیا کہ یہ شخص روزہ دار ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس حالت میں سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔

۲۳۔ سفر میں روزہ کے حوالے سے تنقید نہ کرنا

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں ہم نبیﷺ کے ہمراہ سفر کیا کرتے تھے۔تو ہم نے دیکھا کہ روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے کو بُرا نہیں سمجھتا تھا اور روزہ نہ رکھنے والا بھی روزہ دار کو بُرا نہیں سمجھتا تھا۔

۲۴۔روزہ افطار: آثارِ شب مشرق کی طرف دیکھنا

سیدنا ابنِ ابی اوفیؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ اس طرف سے آ ثارِ شب نمودار ہو گئے ہیں تو روزہ افطار کر دو اور آپﷺ نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔

۲۵۔افطار میں جلدی کرنا افضل ہے

سیدنا سہل بن سعدؓ سے روایت ہے رسول اﷲﷺ نے فرمایا لوگ ہمیشہ نیکی پر رہیں گے جب تک کہ وہ جلد افطار کیا کریں گے۔

۲۶۔شعبان میں روزے رکھنا

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ شعبان سے بڑھ کر کسی اور مہینہ میں نفلی روزے نہ رکھتے تھے بلکہ یوں سمجھیں کہ شعبان تقریباً روزوں میں ہی گزارتے تھے اور مزید کہتی ہیں کہ آپﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے لوگو! اسی قدر عبادتیں اپنے ذمہ لو جن کی تم برداشت کر سکو۔اس لیے کہ اﷲ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں تھکتا۔یہاں تک کہ تم عبادت کرنے سے تھک جاؤ۔

۲۷۔نبیﷺ کے نفلی نماز روزے کا انداز

سیدنا انسؓ نے نبیﷺ کے نفلی نماز روز ے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں جب چاہتا کہ کسی مہینہ میں آپﷺ کو روزہ رکھتا ہوا دیکھ لوں تو ایسا دیکھ لیتا اور جب کبھی آپﷺ کو بغیر روزہ رکھے دیکھنا چاہتا تو بھی دیکھ لیتا۔ اسی طرح جب کبھی آپﷺ کو رات میں نماز پڑھتا ہوا دیکھنا چاہتا تو نماز پڑھتا ہوا دیکھ لیتا اور جب سوتا ہوا دیکھنا چاہتا تو سوتا ہوا دیکھ لیتا۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے کسی سمور یا ریشمی کپڑے کو رسول اﷲﷺ کے دستِ مبارک سے زیادہ نرم نہیں دیکھا اور نہ میں نے کبھی مشک و عنبر کی خوشبو کو رسول اﷲﷺ کے پسینہ کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار پایا۔

۲۸۔ ہمیشہ روزہ رکھا اس نے روزہ ہی نہیں رکھا

عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے حضرت داؤدؑ کے روزہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپؑ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہ رکھتے اور جب دشمن سے میدان جنگ میں مقابلہ کرتے تو بھاگتے نہ تھے۔حضرت عبداﷲؓ نے عرض کیا: یا رسول اﷲﷺ کوئی ہے جو میری طرف سے بھی حضرت داؤدؑ کی اسی عمل کی ذمہ داری قبول کر لے (یعنی میں بھی یہی عمل کروں ) تو نبیﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس نے روزہ ہی نہیں رکھا۔ آپﷺ نے دو مرتبہ یہی فرمایا۔

۲۹۔ جمعہ کے دن نفلی روزہ رکھنا منع ہے

سیدنا جابرؓ سے پوچھا گیا کہ کیا نبیﷺ نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں منع فرمایا ہے۔اُمُّ المومنین جویریہ بنت حارثؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ جمعہ کے دن ان کے ہاں تشریف لائے اور وہ روزہ سے تھیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تم کل روزہ رکھنا چاہتی ہو؟ تو انہوں نے پھر عرض کیا کہ نہیں۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ پھر تم روزہ توڑ دو۔

۳۰۔عید الضحیٰ کے فوراً بعد روزہ رکھنا منع ہے 

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ اور سیدنا عبداﷲ بِن عمرؓ سے روایت ہے کہ دس ذی الحجہ یعنی عید الضحیٰ کے فوراً بعد اگلے دو تین دن (ایام تشریق) میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی سوائے اس شخص کے جس کے پاس قربانی نہ ہو۔( یعنی جس شخص نے حج تمتع ادا کیا اس پر قربانی واجب ہو جاتی ہے اب اگر وہ کسی شرعی عذر کی بناء پر قربانی نہیں کرپاتا تو اسے دس روزے رکھنے ہوتے ہیں۔ تین ایام حج میں اور سات واپسی پر)۔

۳۱۔عاشورہ کے دن روزہ رکھنا

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ دورِ جاہلیت میں قریش عاشورہ (دسویں محرم)کے دن روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اﷲﷺ بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے پھر جب آپﷺ مدینہ تشریف فرما ہوئے تب بھی آپﷺ نے یہ روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس کا حکم دیا۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشورے کا روزہ چھوڑ دیا گیا جس کا جی چاہا اس نے عاشورہ کا روزہ رکھ لیا اور جس نے چاہا اس نے نہ رکھا۔

۳۲۔لیلۃ القدر آخری عشرہ کی طاق راتوں میں

سیدنا ابو سعیدؓ نے کہا کہ ہم نے نبیﷺ کے ہمراہ رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا پھر آپﷺ بیسویں تاریخ کی صبح کو باہر تشریف لائے اور ہم سب سے مخاطب ہو کر فرمایا: مجھے لیلۃ القدر خواب میں دکھائی گئی تھی مگر میں اسے بھول گیا یا یہ فرمایا کہ بھلا دیا گیا۔ پس اب تم اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

۳۳۔ آخری عشرہ میں زیادہ عبادت کرنا

اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبیﷺ پوری طرح مستعد ہو جاتے۔ ان راتوں میں آپ خوب شب بیداری فرماتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار رکھتے۔

٭٭٭

۳۳۔ کتاب ا لاعتکاف


۱۱۔ آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں برابر اعتکاف کیا کرتے یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ نے آپﷺ کو وفات دی۔پھر آپ کی ازواج نے آپﷺ کے بعد اعتکاف کیا۔

۲۔معتکف بغیر ضرورت گھر نہ جائے

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ رسول اﷲﷺ جب مسجد میں معتکف ہوتے تھے تو اپنا سر میری طرف جھکا دیتے تھے اور میں آپ کے کنگھی کر دیتی تھی۔ جب آپؐ معتکف ہوتے تھے تو گھر میں بغیر ضرورت کے تشریف نہ لاتے تھے۔

۳۔صرف رات میں اعتکاف کرنا

امیر المومنین سیدنا عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ سے پوچھا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر کی تھی کہ ایک رات کعبہ میں اعتکاف کروں گا تو آیا اس نذر کو پورا کروں یا نہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا تم اپنی نذر کو پورا کرو۔

۴۔مسجد میں خواتین کا اعتکاف کرنا

اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اعتکاف کا ارادہ کیا پھر جب آپ اس مقام پر پہنچے جہاں آپ اعتکاف کرنے کا ارادہ رکھتے تو آپؐ نے چند خیمے دیکھے۔ اُمُّ المومنین عائشہؓ کا خیمہ اور اُمُّ المومنین حفصہؓ کا خیمہ اور اُمُّ المومنین زینبؓ کا خیمہ تو آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اس میں نیکی سمجھتی ہو؟ اس کے بعد آپﷺ واپس ہو گئے اور اعتکاف نہیں کیا۔(گویا آپؐ کو خواتین کا مسجد میں اعتکاف کرنا ناگوار گزرا۔ خواتین کو مساجد میں فرض نماز کی ادائیگی سے حضرت عمرؓ کے خلافت کے دور سے روک دیا گیا تھا، جسے صحابہؓ کی اکثریت نے قبول کر لیا تھا)۔

۵۔درمیانی عشرہ میں اعتکاف کرنا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے پھر جب وہ سال آیا جس میں آپﷺ کی وفات ہوئی تھی تو آپﷺ نے بیس دن اعتکاف کیا۔


٭٭٭


۳۴۔کتاب البیوع ( تجارت کا بیان)

۳۵۔کتاب السّلم

۱۔اسلامی مواخات کی ایک بہترین مثال

سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ کہتے ہیں کہ جب ہم ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو رسول اﷲﷺ نے میرے اور سعد بن ربیعؓ کے درمیان بھائی چارہ کرایا۔ چنانچہ سعد بن ربیعؓ نے مجھ سے کہا کہ ’’میں تمام انصار کی نسبت زیادہ مالدار ہوں لہٰذا میں تمہیں اپنا نصف مال دے دوں گا اور تم میری دونوں بیویوں میں سے جس کو پسند کرو میں اسے تمہارے لئے طلاق دے دوں گا پھر جب وہ عدت پوری کر چکے تو تم اس سے نکاح کر لینا‘‘

۲۔صحابیؓ کے نکاح کی خبر نبیﷺ کو بھی نہ تھی

پس عبدالرحمنؓ نے جواب دیا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔تم مجھے یہ بتاؤ یہاں کوئی بازار بھی ہے جس میں تجارت ہوتی ہو؟ جواب دیا کہ ہاں قینقاع نامی ایک بازار ہے چنانچہ صبح کو عبدالرحمن اس بازار میں گئے اور وہاں سے کچھ پنیر اور گھی لے آئے راوی کہتا ہے پھر تو انہوں نے روزانہ جانا شروع کیا تھوڑے ہی دنوں میں عبدالرحمنؓ رسول اﷲﷺ کی خدمت میں آئے تو ان کے لباس پر زردی کا نشان تھا۔ رسول اﷲﷺ نے ان سے فرمایا کہ کیا تم نے نکاح کیا ہے ؟ عرض کیا جی ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا کس سے ؟ انہوں نے کہا ایک انصاری خاتون سے تو آپؐ نے فرمایا تم نے اس کو کس قدر مہر دیا؟ انہوں نے عرض کیا ایک گٹھلی کے برابر سونا۔ اُن سے نبیؐ نے فرمایا کہ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری کا سہی۔

۳۔حلال و حرام کے درمیان مشتبہ چیز سے بچنا

سیدنا نعمان بن بشیرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے جبکہ ان کے درمیان شبہ کی چیزیں ہیں۔ جس شخص نے اس چیز کو ترک کر دیا جس میں گناہ کا شبہ ہو تو وہ اس کو بھی چھوڑ دے گا جو صاف اور کھلا ہوا گناہ ہو۔ اور جو شخص اس بات پر جرات کرے گا جس کے گناہ ہونے میں شک ہو تو عنقریب وہ صریح گناہ میں بھی مبتلا ہو جائے گا۔ معاصی یعنی گناہ اﷲ تعالیٰ کی چراگاہیں ہیں جو اس چراگاہ یعنی گناہ کے گرد چرے گا تو عنقریب وہ اس چراگاہ میں بھی پہنچ جائے گا۔

۴۔ وسوسوں کو شبہات میں شمار نہ کرنا

حضرت عائشہؓ راوی ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ ہمارے پاس کچھ آدمی گوشت بیچنے لاتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے اس پر بسم اﷲ پڑھی ہے یا نہیں تو جواب ملا کہ تم اس پر بسم اﷲ پڑھ کر کھا لیا کرو۔

۵۔حرام و حلال مال کی پرواہ نہ کرنے والے

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ آدمی کو اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ ہو گی کہ حلال طریقہ سے مال حاصل کیا ہے یا حرام طریقہ سے۔

۶۔ رزق میں وسعت اور عزیزوں سے نیک سلوک

سیدنا انس بن مالکؓ مروی ہیں کہ رسول اﷲﷺ فرماتے تھے کہ جس شخص کو یہ اچھا معلوم ہو کہ اس کے رزق میں وسعت ہو جائے یا اس کی عمر بڑھ جائے تو اسے چاہیے کہ اپنے قرابت داروں کے ساتھ نیک سلوک کرے۔

۷۔چیزیں گروی رکھ کر ادھار خریدنا

سیدنا انسؓ راوی ہیں کہ وہ جَو کی روٹی اور چربی نبیﷺ کے پاس لے کر گئے۔ اس وقت نبیﷺ نے اپنی ایک زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے پاس گروی رکھ کر اپنے گھر والوں کے لیے کچھ جَو ادھار خریدے تھے۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ آلِ محمدﷺ کے پاس شام کو گندم یا کسی اور غلہ کا ایک صاع بھی نہیں رہتا حالانکہ ان کے پاس نو بیویاں ہیں۔

۸۔ اپنے ہاتھ کی کمائی کی فضیلت

سیدنا مقدامؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کسی شخص نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ پاک کھانا نہیں کھایا اور اﷲ کے نبی حضرت داؤدؑ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔

۹۔خرید و فروخت میں نرمی کرنا بہتر ہے

سیدنا جابر بن عبداﷲؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اﷲ اس شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت، خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی کرے۔

۱۰۔ قرض معاف کرنا اور تقاضہ میں نرمی کرنا

سیدنا حذیفہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں فرشتوں نے ایک شخص کی روح سے ملاقات کی اور کہا کہ کیا تو نے کچھ نیکی کی ہے ؟ اس نے کہا کہ کچھ خاص تو نہیں بس میں اپنے ملازموں کو یہ حکم دیتا تھا کہ وہ تنگ دست کو ادائے قرض معاف کر دیں اور مالدار سے تقاضہ کرنے میں نرمی اختیار کریں۔ چنانچہ فرشتوں نے بھی اس سے در گذر کیا اور سختی نہیں کی۔

۱۱۔ جدا ہونے سے قبل بیع ختم کر سکتے ہیں

سیدنا حکیم بن حزامؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: بیچنے والے اور خریدار دونوں کو جدا ہو نے سے قبل بیع کو ختم کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ پس اگر دونوں گروہ سچ بولیں اور عیب و ہنر اس کا ظاہر کر دیں تو انہیں ان کی اس خرید و فروخت میں برکت دی جائے گی اور اگر جھوٹ بولیں گے اور عیب پوشی کریں گے تو ان کی تجارت میں سے برکت ختم کر دی جائے گی۔

۱۲۔ کتے اور خون کی قیمت لینا منع ہے

سیدنا ابو جحیفہؓ اپنے والد سے مروی ہیں کہ نبیﷺ نے کتے کی قیمت اور خون کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح آپﷺ نے گودنے والی اور گدوانے والی (یعنی جو بالوں میں مصنوعی بال لگا کر بالوں کو بڑا کر تی ہے ) اور سود لینے اور سود دینے سے بھی منع فرمایا ہے اور آپﷺ نے مصور پر بھی لعنت فرمائی ہے۔

۱۳۔تجارت میں جھوٹی قسم کھانا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جھوٹی قسم مال کو کھوٹا کر دیتی ہے اور برکت کو مٹا دیتی ہے۔

۱۴۔سبزیوں میں رسول اللہﷺ کو کدو پسندتھا

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں ایک درزی نے رسول اﷲﷺ کو کھانا کھلانے کے لیے بلایا۔میں بھی رسول اﷲﷺ کے ہمراہ اس کھانے پر گیا تو رسول اﷲﷺ کے سامنے روٹی اور شوربا جس میں ہرا گھیا (لمبا کدو) اور سوکھا ہوا گوشت تھا، پیش کیا گیا۔ میں نے رسول اﷲﷺ کو پیالے میں اِدھر اُدھر سے کدو کو ڈھونڈتے ہوئے دیکھا۔ لہٰذا میں اس دن سے کدو کو اچھا سمجھتا ہوں۔

۱۵۔کنواری لڑکی سے نکاح میں ترجیح

سیدنا جابر بن عبداﷲؓ کہتے ہیں کہ میں ایک غزوہ میں نبیﷺ کے ہمراہ تھا۔ میرے اونٹ نے مجھے لے کر چلنے میں سستی کی اور تھک گیا تو آپﷺ نے اسے اسے اپنی لاٹھی سے مارا۔اس کے بعد وہ اونٹ اتنا تیز ہو گیا کہ میں اس کو رسول اﷲﷺ کے برابر ہو جانے سے روکتا رہا۔ اسی دوران نبیﷺ نے پوچھا کہ کیا تم نے نکاح کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! فرمایا کنواری عورت سے نکاح کیا ہے یا بیاہی سے ؟ میں نے عرض کیا بیاہی سے تو آپﷺ نے فرمایا: کسی کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟۔

۱۶۔پچھنے لگانے کی اُجرت دینا

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ ابو طیبہؓ نے رسول اﷲﷺ کو پچھنے لگائے تو آپﷺ نے ان کو ایک صاع کھجوریں دینے کا حکم دیا۔ ایک دوسری روایت میں سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے ایک مرتبہ پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اجرت دی۔ اگر یہ اُجرت حرام ہوتی تو آپﷺ اسے ہرگز نہ دیتے۔

۱۷۔ جانداروں کی تصویر کشی کے احکامات

اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں تصویریں تھیں۔رسول اﷲﷺ کی نظر جونہی اس پر پڑی تو آپ دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے اور گھر کے اندر نہ گئے۔رسولﷺ کے چہرۂ مبارک پر ناراضگی کی کیفیت نظر آئی اور آپﷺ نے فرمایا کہ ان تصویروں کے بنانے والوں پر قیامت کے روز عذاب کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو صورتیں تم نے بنائی ہیں ان کو زندہ کرو اور آپﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں وہاں فرشتے نہیں جاتے۔

۱۸۔خرید و فروخت میں دھوکہ نہ دینا

سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ مجھے خرید و فروخت میں اکثر نقصان رہتا ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ جب تم خرید و فروخت کیا کرو تو کہہ دیا کرو کہ دھوکہ کوئی نہ ہو۔

۱۹۔کعبہ پر فوج کشی زمین میں دھنس جائیں گے

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ایک لشکر کعبہ پر لڑنے کو پیش قدمی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء میں پہنچے گا تو سب لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا:سب لوگ کیونکر دھنس جائیں گے حالانکہ ان میں ان کے بازار ہوں گے اور بعض لوگ ایسے ہوں گے جو اُن میں سے نہ ہوں گے تو آپؐ نے فرمایا سب لوگ دھنس جائیں گے مگر اُن کا حشر اُن کی نیت کے موافق ہو گا۔

۲۰۔حضرت حسنؓ سے نبیﷺ کی محبت

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ ایک دن سیدہ فاطمہ الزہرہؓ کے گھر تشریف لے گئے اور حضرت حسنؓ کے بارے میں فرمایا کہ وہ بچہ کہاں ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت حسنؓ دوڑتے ہوئے آئے تو نبیﷺ نے انہیں لپٹا لیا اور دعا فرمائی کہ اے اﷲ! تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے اُس سے بھی محبت فرما۔

۲۱۔جنس قبضہ میں لیے بغیر فروخت نہ کیا جائے

سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے دَور میں لوگ اہل قافلہ سے غلہ خرید لیتے تو نبیﷺ ایک آدمی کو ان کے پاس روانہ کرتے جو اُن کو اُسی جگہ وہ غلہ فروخت کرنے سے منع کرتا جب تک غلہ کو منڈی میں اٹھا نہ لایا جائے۔ اور ابن عمرؓ نے یہ بھی کہا کہ نبیﷺ نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ خریدے گئے اناج کو مکمل طور پر اپنے قبضہ میں لینے سے قبل ہی اسے فروخت کیا جائے۔

۲۲۔توریت میں رسولﷺ کی صفت کا بیان

جلیل القدر صحابی اور توریت کے عالم سیدنا عبداﷲ بن عمرو بن عاصؓ سے پوچھا گیا کہ توریت میں رسولﷺ کی کیا صفت مذکور ہے تو آپ نے کہا کہ جو اُن کی تعریف قرآن میں ہے، اسی قسم کی بعض تعریفیں توریت میں بھی ہیں۔ تو ریت میں لکھا ہے کہ ’’اے نبی ! ہم نے تجھ کو دین حق کا گواہ اور مومنوں کو بشارت دینے والا اور کافروں کو ڈرانے والا اور اُمّیوں کا نگہبان بنا کر بھیجا ہے تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے۔ نہ تو وہ بد خُلق ہے اور نہ بازاروں میں شور کرنے والا اور نہ وہ برائی کے بدلہ میں برائی کرتا ہے بلکہ درگزر اور مہربانی کرتا ہے۔ اﷲ اسے ہرگز موت نہ دے گا یہاں تک کہ اس کے ذریعہ سے ایک کج مذہب کو سیدھا کر دے اس طرح کہ وہ یقین کے ساتھ لَا اِلہَ اِلَّا اﷲ کہنے لگیں اور اس کے ذریعہ سے اندھی آنکھیں روشن کی جائیں گی اور بہرے کان کھولے جائیں گے اور غافل دل آگاہ کئے جائیں گے۔

۲۳۔نبیﷺ کا معجزہ، کھجوریں کم نہ ہوئیں

سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ جب میرے والد عبداﷲ بن عمرو بن حزامؓ شہید ہوئے تو ان پر کچھ قرض تھا۔ چنانچہ میں نے نبیﷺ سے یہ قرضہ معاف کروانے کی سفارش کی درخواست کی۔ نبیﷺ نے ان لوگوں سے بات کی تو وہ راضی نہ ہوئے۔ نبیﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تم اپنی کھجوروں کی قسمیں علیحدہ کرنے کے بعد مجھے بلا لینا۔ جب نبیﷺ تشریف لائے تو کھجوروں کے درمیان بیٹھ گئے اور کہا کہ اب تم لوگوں کو ناپ ناپ کر دو۔ چنانچہ میں نے ناپ ناپ کر اُن کو دینا شروع کیا یہاں تک کہ جس قدر قرضہ تھا وہ سب میں نے ادا کر دیا اور میری کھجوریں اسی طرح باقی تھیں کہ گویا ان سے کچھ کم نہیں ہوئیں۔

۲۴۔اناج کو ناپ لینا برکت کا باعث ہے

سیدنا مقدام بن معدی یکربؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اپنے غلہ کو ناپ لیا کرو۔ تمہارے لیے اس میں برکت ہو گی۔

۲۵۔ مکہ و مدینہ کی برکت : ابراہیمؑ اور نبیؐ کی دعا

سیدنا عبداﷲ بن زید روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جس طرح حضرت ابراہیمؑ نے مکہ کی حرمت ظاہر کی اور اس کے لیے برکت کی دعا کی اسی طرح میں نے مدینہ کی حرمت ظاہر کی اور مدینہ کے ’’مدوصاع ‘‘ (غلہ ناپنے کے دو پیمانے ) میں برکت کی دعا کی۔

۲۶۔جنس کے عوض وہی جنس بیچنے کی ممانعت

امیر المومنین حضرت عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ سونا، سونے کے عوض۔ گندم، گندم کے عوض کھجور، کھجور کے عوض اور جَو۔ جَو کے عوض فروخت کرنا سود ہے مگر برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہو تو درست ہے۔

۲۷۔دورانِ خریداری تیسرا مداخلت نہ کرے

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی آدمی کا مال و اسباب فروخت نہ کرے یعنی اس کا دلال نہ بنے۔ اسی طرح کوئی شخص سامان خریدنے کی نیت کے بغیر(دوسرے اصل خریداروں سے ) بڑھ کر بولی نہ دے۔ نہ ہی کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع میں مداخلت کرے یعنی دو آدمی خرید و فروخت میں مصروف ہوں تو کوئی تیسرا ان کے درمیان مداخلت کرے کے خرید و فروخت نہ کرے۔

۲۸۔کوئی عورت اپنی سوتن کو طلاق نہ دلوائے

کوئی شخص کسی عورت کا رشتہ طے ہو جانے کے بعد اُسی عورت کو اپنا رشتہ نہ بھجوائے۔ اور کوئی عورت اپنی سوتن مسلمان بہن کو طلاق نہ دلوائے کہ اس کے حصہ کو بھی خود حاصل کر لے۔

۲۹۔وصیت کو اپنی زندگی میں تبدیل کرنا

سیدنا جابر بن عبداﷲؓ مروی ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کرنے کا اعلان کیا مگر وہ خود مفلس ہو گیا اور اسے پیسوں کی ضرورت پیش آئی تو نبیﷺ نے اس غلام کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اس غلام کو مجھ سے کون خریدتا ہے ؟ چنانچہ نعیم بن عبداﷲؓ نے اسے اتنے اتنے داموں میں خرید لیا۔ پھر نبیﷺ نے وہ قیمت اس کے مالک کو دے دی۔

۳۰۔ بیع حبل الحبلہ کی ممانعت

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے بیع حبل الحبلہ سے منع فرمایا ہے۔ یہ بیع دَورِ جاہلیت میں اس طرح رائج تھی کہ ایک شخص ایک اونٹنی خریدتا اور قیمت دینے کی میعادیہ مقرر کرتا کہ یہ اونٹنی بچہ جنے پھر اس کے پیٹ کی اونٹنی بڑی ہو کر بچہ جنے،تب قیمت دوں گا۔

۳۱۔ تھنوں میں دودھ جمع کر مویشی فروخت کرنا

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ اونٹنی کو اور بکری وغیرہ کا دودھ تھن میں روک کر نہ رکھو۔ اگر کوئی دھوکہ کھا کر خرید لے تو اسے اختیار ہے کہ اس کے دوہنے کے بعد چاہے اسے اپنے پاس رکھے اور چاہے تو اسے ایک صاع کھجور کے ساتھ واپس کر دے۔

۳۲۔زانیہ لونڈی کو کوڑے مارنا اور فروخت کر نا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جب لونڈی زنا کرے اور زنا ثابت ہو جائے تواسے ملامت نہیں بلکہ کوڑے لگوانے چاہیے۔ اگر وہ پھر زنا کرے تو دوبارہ اسے کوڑے لگوانے چاہیے صرف ملامت پر اکتفا نہ کرنا چاہیے۔ پھر اگر وہ تیسری بار بھی زنا کرے تو اس کو فروخت کر دے اگرچہ ایک رسی کے بدلے ہی سہی۔

۳۳۔ممنوعہ اقسام کی خرید و فروخت

سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے پھل کے پک جانے سے قبل ان کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے اور ان کی کوئی قسم بجز درہم و دینار یعنی رقم کے اور کسی شے کے عوض فروخت نہ کی جائے مگر صرف عرایا کہ ان کو پھلوں کے عوض بھی فروخت کیا جانا جائز ہے۔ (عریہ کا مفہوم یہ ہے کہ کسی درخت کا پھل کسی فقیر کو صدقہ کر دیا جائے پھر باغ میں اس کے آنے سے تکلیف ہو تو اندازہ کر کے اس درخت کا پھل اُس سے خرید لیا جائے )۔ ایک دوسری روایت میں سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے عرایا کی بیع کے لیے اجازت دی بشرطیکہ پانچ وسق یا اس سے کم ہوں۔

۳۴۔ممنوعہ اقسام کی خرید و فروخت

سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ (یہ سب مختلف اقسام کی خرید و فروخت کے عربی نام ہیں )

۳۵۔بخیل شوہر کے مال سے بقدر ضرورت لینا

اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ رسول اﷲﷺ سے سیدنا معاویہؓ کی ماں ہندہ نے یہ عرض کیا کہ ابو سفیانؓ ایک بخیل آدمی ہیں لہٰذا کیا مجھ پر گناہ تو نہیں ہو گا اگر میں ان کے مال سے پوشیدہ طور پر کچھ لے لیا کروں تو آپﷺ نے فرمایا کہ تم اور تمہارے بیٹے اس قدر لے لیا کرو جو تمہارے لئے قاعدے کے موافق کافی ہو جائے۔

۳۶۔ حضرت ابراہیمؑ کا بی بی سارہؓ کو بہن کہنا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ابراہیمؑ نے اپنی بیوی حضرت سارہؓ کے ہمراہ ہجرت کر کے ایک ایسی بستی میں پہنچے جہاں کا بادشاہ بڑا ظالم تھا۔جب بادشاہ کو بتلایا گیا کہ حضرت ابراہیمؑ ایک نہایت خوبصورت عورت کے ساتھ آئے ہیں۔ پس اس نے ایک آدمی کو بھیجا کہ اے ابراہیمؑ ! تمہارے ہمراہ ہے یہ عورت کون ہے ؟ ابراہیمؑ نے جواب میں فرمایا کہ(دینی رشتہ کے اعتبار سے ) میری بہن ہے۔ جب اس فرستادہ نے کہا اس عورت کو بادشاہ بلاتا ہے تو حضرت ابراہیمؑ نے سارہؓ سے فرمایا کہ میری بات کو جھوٹا نہ کرنا کیونکہ میں نے ان لوگوں سے بیان کیا ہے کہ تم میری بہن ہو اﷲ کی قسم زمین پر میرے اور تمہارے سوائے کوئی مومن نہیں ہے۔

۳۷۔ ظالم بادشاہ سے بچنا: بی بی سارہؓ کی ترکیب

پھر ابراہیمؑ نے سارہؓ کو اس بادشاہ کے پاس روانہ کر دیا جب وہ بادشاہ کے پاس پہنچیں اور بادشاہ ان کی طرف متوجہ ہوا تو وہ وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑی ہو گئیں اور کہنے لگیں کہ اے اﷲ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اگر میں نے اپنے شوہر کے سوا باقی سب سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو تُو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ فرمانا۔ یہ دعا مانگتے ہی اس کافر کو مِرگی ہو گئی یہاں تک کہ وہ اپنا پیر رگڑنے لگا۔ سیدہ سارہؓ نے اس کی حالت کو دیکھ کر عرض کیا کہ اے اﷲ! اگر یہ مر جائے گا تو لوگ کہیں گے میں نے ہی بادشاہ کو مار ڈالا ہے۔ تب بادشاہ کی وہ حالت جاتی رہی اور وہ دوبارہ ان کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے پھر پہلے کی طرح نماز پڑھنے اور دعا مانگنے لگیں۔ بادشاہ پر پھر مِرگی طاری ہو گئی تو انہوں نے پھر اپنے اوپر بادشاہ کے قتل کا الزام لگنے کا خدشہ اللہ کے حضور پیش کیا۔یوں بادشاہ کی حالت پھر سنبھل گئی۔

۳۸۔بادشاہ نے باندی بی بی ہاجرہؑ کو عطا کی

اس مرتبہ بادشاہ نے لوگوں سے کہا کہ تم میرے پاس عورت لائے ہو یا شیطان؟ اس کو تم ابراہیمؑ کے پاس واپس لے جاؤ اور لونڈی آجر (حضرت ہاجرہؓ ) کو بھی ان کے حوالہ کر دو۔ چنانچہ وہ ابراہیمؑ کے پاس واپس آ گئیں تو ابراہیمؑ سے کہا کہ کیا آپؑ کو معلوم ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کافر کو کس طرح ذلیل کیا اور ایک لونڈی (حضرت ہاجرہؓ ) کو بھی خدمت کے لیے روانہ کر دیا۔

۳۹۔عیسیٰؑ صلیب توڑیں گے سور کو قتل کریں گے

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ عنقریب لوگوں میں عیسیٰ بن مریمؑ اتریں گے۔ اور ایک با انصاف حاکم ہوں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور سور کو قتل کر دیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے اور مال و دولت کی اتنی ریل پیل ہو گی کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا۔

۴۰۔ بے جان اشیا کی تصویر کشی کرنا

سیدنا عبداﷲ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ جب ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ تصویریں بنانا میر ا ذریعہ معاش ہے تو میں نے اس سے کہا کہ میں تجھ سے وہی بیان کروں گا جو میں نے رسول اﷲﷺ سے سنا ہے۔آپﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص تصویر بنائے گا تو اﷲ اس پر عذاب کرے گا تاکہ وہ اس میں جان ڈال دے اور وہ اس میں کبھی جان نہیں ڈال سکتا یہ سن کر اس شخص نے بہت ٹھنڈے سانس لئے اور اس کا چہرہ زرد ہو گیا۔ سیدنا ابن عباسؓ نے کہا کہ تیری خرابی ہو اگر تو خواہ مخواہ اس کام کو کرنا چاہتا ہے تو اس درخت کی یا ان چیزوں کی تصویریں بنا جن میں جان نہیں ہوتی۔

۴۱۔وعدہ پورا نہ کرنا اور مزدور کی اجرت نہ دینا

سیدنا ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں کہ قیامت کے دن میں ان کا دشمن ہوں گا۔( ۱) وہ شخص جو میرا نام لے کر عہد کرے مگر پھر اس کے خلاف کرے۔( ۲) اور وہ شخص جو کسی آزاد آدمی کو فروخت کر کے اس کی قیمت کھا جائے۔( ۳) اور وہ شخص جو کسی مزدور کو اجرت پر لے کر اس سے پورا کام کرائے اور پھر مزدوری نہ دے۔

۴۲۔شراب، مُردار اور بتوں کا فروخت کرنا

سیدناجابر بن عبداﷲؓ راوی ہیں کہ فتح مکہ کے سال، نبی کریمﷺ نے یہ فرمایا کہ بے شک اﷲ نے اور اس کے رسول اﷲﷺ نے شراب، مردہ جانور اور بتوں کو فروخت کرنا حرام کر دیا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ مردہ جانور کی چربی کے بارے میں آپﷺ کیا ارشاد فرماتے ہیں اس لئے کہ وہ کشتیوں میں لگائی جاتی ہے اور کھالیں اس سے چکنی کی جاتی ہیں اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا نہیں وہ بھی حرام ہے اس وقت رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اﷲ یہود کو غارت کرے۔ جب اﷲ نے چربی ان پر حرام کر دی تو انہوں نے چربی کو پگھلا کر فروخت کیا اور اس کی قیمت کھا گئے۔

۴۳۔کتے کی قیمت، زنا اور کہانت کی اجرت

سیدنا ابو مسعود انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے کتے کی قیمت، زنا کی اجرت اور کہانت کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے۔

۴۴۔معین پیمانہ اور مدتِ معین میں سلم کرنا

سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اﷲﷺ مدینہ تشریف لائے تواس وقت لوگ کھجوروں میں ایک سال اور دو سال کے لیے سلم کیا کرتے تھے تو آپﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کھجور میں سلم کرے اس کو چاہیے کہ ایک معین پیمانہ اور معین وزن کے حساب سے کرے۔ دوسری ایک روایت میں ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ معین پیمانہ میں اور مدتِ معین تک کے لیے سلم کی کرو۔ اگر نقد رقم کچھ مدت پہلے ادا کر دی جائے اور جنس یعنی فصل یا کوئی چیز اس مدت کے بعد حاصل کی جائے تو اس کو ’’سلم‘‘ کہتے ہیں۔

۴۵۔سلم کرنا جس کے پاس اصل مال نہ ہو۔

سیدنا ابن ابی اونیؓ کہتے ہیں کہ ہم دور رسالت اور امیر المومنین ابوبکر صدیق و عمر فاروقؓ کے دور میں گیہوں اور جوار، انگور اور کھجور میں سلم کیا کرتے تھے۔سیدنا ابن ابی اونیؓ کہتے ہیں کہ ہم شام کے کسانوں سے گیہوں اور جَو اور زیتون میں ایک معین پیمانہ کے حساب سے ایک معین مدت کے لئے سلم کیا کرتے تھے۔ پوچھا گیا کہ جس کے پاس اصل مال موجود ہوتا تھا اس سے معاملہ کرتے تھے تو سیدنا ابن ابی اونیؓ نے جواب دیا کہ ہم ان سے یہ نہیں پوچھتے تھے کہ تمہارے پاس اصل جنس ہے یا نہیں۔

۴۶۔جائیداد خریدنے کا پہلا حق پڑوسی کاہے

سیدنا ابو رافعؓ نبیﷺ کے غلام سے روایت ہے کہ وہ فاتح ایران سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کے پاس آئے اور کہا کہ اے سعدؓ مجھ سے میرے وہ دونوں مکان جو آپ کے محلّہ میں ہیں خرید لیجئے سیدنا سعدؓ نے کہا کہ اﷲ کی قسم میں تمہیں چار ہزار درہم سے زیادہ نہیں دوں گا اور وہ بھی قسط وار۔ سیدنا ابو رافعؓ نے کہا کہ مجھے تو پانچ سو اشرفیاں ان دونوں کے عوض ملتی ہیں اور اگر میں نے نبیؐ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ مستحق ہے تو میں آپ کو چار ہزار درہم میں نہ دیتا کیونکہ مجھ کو پانچ سو اشرفیاں ان دونوں کے عوض مل رہی ہیں۔ پس وہ دونوں مکان انہوں نے سیدنا سعدؓ کو دے دیئے۔

۴۷۔قریب تر پڑوسی کاحق پہلے ہے

اُمُّ المومنین حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ میرے دو پڑوسی ہیں میں ان میں سے تحفہ تحائف کس کو بھیجا کروں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔

(ختم شد)

جلد دوم


۳۶۔کتاب الاجارہ (اُجرت کا بیان)



۱۔ بکریوں کا چرانا تمام انبیاء کی سنت ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ سے راوی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اﷲ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں تو صحابہؓ نے عرض کیا کہ کیا آپﷺ نے بھی بکریاں چرائی ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں میں بھی کچھ قیراطوں کی عوض مکہ والوں کی بکریاں چرا دیا کرتا تھا۔

۲۔دوپہر میں مزدوری چھوڑ جانے والے یہودی

سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ یہود یوں کی حالت مثل اس شخص کے ہے جس نے کچھ لوگوں کو مزدوری پر لگایا تاکہ وہ دن بھر رات تک ایک معینہ اجرت کے اوپر اس شخص کا کام کریں چنانچہ ان لوگوں نے دوپہر تک اس کا کام کیا اور کہنے لگا کہ ہمیں تیری مزدوری کی جو تو نے ہمارے لئے مقرر کی تھی کچھ حاجت نہیں اور جو کام ہم نے کیا وہ مفت کر دیا۔ اس شخص نے ان سے کہا کہ تم ایسا نہ کرو بلکہ اپنا باقی کام پورا کرو اور اپنی مزدوری پوری لو مگر انہوں نے انکار کیا۔ (یہ یہودیوں کی مثال ہے جنہوں نے عیسیٰؑ اور محمدﷺ کی شریعت پر عمل نہیں کیا)

۳۔ عصر میں مزدوری چھوڑ جانے والے نصاریٰ

… اور اس شخص نے ان کے بعد دوسرے لوگوں کو اُجرت پر لگا لیا کہ تم باقی دن پورا کر دو اور جو کچھ میں نے ان کے لیے مقرر کیا تھا وہ تمہیں ملے گا چنانچہ انہوں نے کام کرنا شروع کیا یہاں تک کہ جب نمازِ عصر کا وقت آیا تو کہنے لگے کہ ہم نے جو کام کیا وہ مفت تیرے لئے کر دیا اور جو مزدوری اس کام کی تو نے مقرر کی تھی وہ تجھی کو مبارک اس شخص نے کہا کہ اپنا باقی کام پورا کر و اس لئے کہ اب دن کا کچھ ہی حصہ باقی رہ گیا ہے مگر اُن لوگوں نے انکار کیا۔(یہ نصاریٰ کی مثال ہے جنہوں نے آخری نبیﷺ کی شریعت پر عمل نہیں کیا)۔

۴۔شام تک کام: پوری مزدوری کے مستحق مسلمان

…پھر اس شخص نے باقی دن میں کام کرانے کے لیے دوسرے لوگوں کو مزدوری پر لگایا انہوں نے باقی دن میں کام کیا یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا اور ان لوگوں نے دونوں فریقوں کی پوری مزدوری لے لی پس یہی مثال ہے ان لوگوں کی (یعنی مسلمانوں کی) اور اس نورِ (ہدایت) کی جس کو انہوں نے قبول کیا۔

۵۔ والدین کی خدمت کا اجر

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ تین آدمی کسی کام کے بعد شب کے وقت آرام کے لیے ایک غار میں داخل ہوئے تو اتفاقاً ایک پتھر پہاڑ سے لڑھکا اور اس نے غار کا منہ بند کر دیا تو انہوں نے کہا کہ اس پتھر سے کوئی چیز رہائی نہیں دے سکتی مگر یہ کہ ہم اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے اﷲ تعالیٰ سے دعا کریں۔ پس ان میں سے ایک کہنے لگا کہ ’’اے اﷲ! میرے ماں باپ بوڑھے تھے اور میں اُن سے پہلے نہ تو اپنے بچوں وغیرہ کو دودھ پلاتا تھا اور نہ ہی لونڈی غلاموں کو۔ ایک دن اتفاق سے کسی کام میں مجھ کو دیر ہو گئی یہاں تک کہ جب میں ان کے پاس آیا تو وہ سوگئے تھے لہٰذا میں نے ان کا دودھ ہاتھ میں اٹھا لیا مگر میں نے ان کو سوتا ہوا پایا تو مجھے یہ بات گوارا نہ ہوئی کہ میں ان سے پہلے اپنے گھر والوں اور لونڈی غلاموں کو کچھ پلاؤں۔چنانچہ میں ٹھہر گیا اور دودھ کا بھرا ہوا برتن ہاتھ میں لیے ان کے بیدار ہونے کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔پس وہ دونوں بیدار ہوئے اور انہوں نے دودھ پیا۔ اے اﷲ! اگر میں نے یہ کام محض تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا ہو تو اس پتھر کی وجہ سے جس حال میں ہم ہیں اس کو ہم سے دور کر دے ‘‘ چنانچہ وہ پتھر ہٹ گیا مگر وہ اس سے نکل نہ سکتے تھے۔

۶۔اللہ کی رضا کے لیے زنا سے بچنا

… نبیﷺ نے مزید فرمایا کہ دوسرے شخص نے کہا کہ میرے چچا کی ایک بیٹی تھی جو مجھے بہت محبوب تھی۔ میں نے اس سے ہم بستری کی خواہش کی مگر وہ مجھ سے راضی نہ ہوئی یہاں تک کہ ایک سال جب قحط پڑا اور وہ ضرورتاً میرے پاس آئی تو میں نے اس کو ایک سو بیس اشرفیاں اس شرط پر دیں کہ وہ مجھے اپنی ذات سے نہ روکے۔ اس نے اس شرط کو منظور کیا لیکن جب مجھے اس پر قابو ملا تو وہ کہنے لگی کہ تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تو اس مہر کو حق کے بغیر توڑے۔ چنانچہ اس سے ہم بستری کرنے کو گناہ سمجھتے ہوئے اس سے علیحدہ ہو گیا اور اشرفیاں بھی واپس نہیں لیں۔ اے اﷲ! میں نے یہ کام محض تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا ہو تو جس مصیبت میں ہم ہیں اس کو ہم سے دور کر دے ‘‘ چنانچہ وہ پتھر کچھ اور ہٹ گیا مگر ابھی وہ اس سے نکل نہیں سکے۔

۷۔مزدوری کو کاروبار میں لگا کر بڑھا دینا

… نبیﷺ نے فرمایا کہ تیسرے شخص نے کہا کہ ’’اے اﷲ! میں نے کچھ لوگوں کو مزدوری پر لگایا تھا اور ان میں سے ایک مزدور اپنی مزدوری لیے بغیر چلا گیا تو میں نے اس کی مزدوری کو کاروبار میں لگا کر اسے بڑھانا شروع کیا یہاں تک کہ بہت سامال اس سے حاصل ہوا۔ پھر وہ ایک لمبے عرصے کے بعد میرے پاس آیا اور اپنی مزدوری طلب کی تو میں نے اس سے کہا کہ جس قدر اونٹ اور گائے بکری اور غلام تو دیکھ رہا ہے یہ سب تیری مزدوری کے ہیں اس نے کہا کہ اے اﷲ کے بندے ! کیا تو میرے ساتھ مذاق کرتا ہے ؟ جب میں نے کہا کہ میں مذاق نہیں کرتا تو اس نے وہ تمام چیزیں لے لیں اور ان کو ہانک کر لے گیا۔ اے اﷲ! اگر میں نے یہ کام محض تیری رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کیا ہو تو جس مصیبت میں ہم ہیں اس کو ہم سے دور کر دے۔ چنانچہ وہ پتھر بالکل ہٹ گیا اور وہ اس سے باہر نکل کر چلے گئے۔

۸۔سورۂ فاتحہ سے سانپ کے کاٹے کا علاج

سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے کچھ اصحابؓ کسی سفر میں گئے یہاں تک کہ عرب کے قبیلوں میں سے کسی قبیلہ میں جا کر اترے اور ان سے مہمان نوازی کی توقع کی مگر انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر جب اس قبیلہ کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا اور ہر قسم کی تدبیرسے کچھ فائدہ نہ ہوا تو وہ لوگ ان کے پاس مدد کے لیے آئے۔صحابہؓ میں سے کسی نے کہا ہاں اﷲ کی قسم میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں مگر اﷲ کی قسم ہم لوگوں نے تم سے دعوت طلب کی اور تم لوگوں نے ہماری مہمان نوازی نہ کی لہٰذا میں تمہارے لئے جھاڑ پھونک نہ کروں گا یہاں تک کہ تم ہمارے لئے کچھ اُجرت مقرر کرو چنانچہ ان لوگوں نے کچھ بکریوں پر ان کو رضامند کر لیا پھر ان میں سے ایک شخص گئے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ پڑھ کر پھونک دیا تو فوراً ہی وہ شخص تندرست ہو گیا۔چنانچہ ان لوگوں نے ان کی وہ اجرت جس پر ان کو راضی کیا تھا دے دی۔جب ان لوگوں نے بعد ازاں رسول اﷲﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپﷺ نے فرمایا تم کو کیسے معلوم ہوا کہ سورۂ فاتحہ سے جھاڑ پھونک کی جاتی ہے ؟ اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا۔اب جو کچھ ملا ہے اس کو بانٹ لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی لگاؤ۔ پھر نبیﷺ مسکرا دیئے۔

۹۔جانوروں کا ملاپ کرانے کی اجرت لینا

سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے نر جانور کا مادہ جانور سے ملاپ کرانے کی اجرت یا کرایہ لینے سے منع فرمایا ہے۔


٭٭٭

۳۷۔کتاب الحولات (قرض کا بیان)



۱۔قرض ادا کرنے میں تاخیر ظلم ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ مالدار کی جانب سے قرض ادا کرنے میں دیر کرنا ظلم ہے۔ اور کسی کا قرض کسی مالدار کے حوالہ کیا جائے تو اسے قبول کرنا چاہیے۔

۲میت کا قرض کسی زندہ شخص کی طرف منتقل کرنا

سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبیﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کیا کہ آپﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپﷺ نے فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا نہیں تو آپﷺ نے فرمایا کیا اس نے کچھ مال چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر آپﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دی۔ اس کے بعد ایک دوسرا جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اﷲﷺ ! اس کی بھی نمازِ جنازہ پڑھا دیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا کیا اس پر قرض ہے ؟ عرض کیا گیا کہ ہاں ہے پھر آپﷺ نے فرمایا کیا اس نے کچھ مال چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں تین اشرفیاں ہیں۔ پس آپﷺ نے اس کی نماز پڑھا دی۔ پھر تیسرا جنازہ لایا گیا اور لوگوں نے عرض کیا کہ اس کی بھی نمازِ جنازہ پڑھا دیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ کیا اس نے کچھ مال چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں تین اشرفیاں قرض ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا تم لوگ اپنے دوست کی نمازِ جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھوں گا) تو سیدنا ابو قتادہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! آپ اس کی نماز پڑھا دیجئے اس کا قرض میں ادا کروں گا۔ پس آپﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دی۔

۳۔مرحوم شخص کے وعدوں کو پورا کرنا

سیدنا جابر بن عبداﷲؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے نبیﷺ نے فرمایا کہ اگر بحرین کا مال آ گیا تو میں تمہیں اس قدر مال دوں گا مگر بحرین کا مال آنے نہ پایا تھا کہ نبیﷺ کی وفات ہو گئی پھر جب بحرین کا مال آیا تو امیر المومنین ابوبکر صدیقؓ نے اعلان کروا دیا کہ جس شخص سے نبیﷺ کا کچھ وعدہ ہو یا آپﷺ پر کسی کا کچھ قرض ہو وہ میرے پاس آئے۔ چنانچہ میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا کہ نبیﷺ نے مجھ سے ایسا فرمایا تھا تو امیر المومنین ابوبکر صدیقؓ نے مجھے ایک مٹھی بھر کر درہم دے دیئے۔ میں نے ان کو گنا تو وہ پانچ سو تھے۔ پھر صدیق اکبرؓ نے کہا کہ اس کا ڈبل اور لے لو۔


٭٭٭

۳۸۔کتاب الوکالۃ



۱۔قریب المرگ بکری کو ذبح کر کے کھانا

سیدنا کعب بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس کچھ بکریاں تھیں جو سلع نامی پہاڑ پر چرا کرتی تھیں۔ ہماری ایک لونڈی نے ہماری کسی بکری کو مرتے ہوئے دیکھا تو اس نے ایک پتھر کو توڑ کر اس بکری کو اس پتھر سے ذبح کر دیا تو سیدنا کعبؓ نے کہا کہ اس کو نہ کھاؤ جب تک میں نبیﷺ سے نہ پوچھ لوں۔ چنانچہ اس نے نبیﷺ سے اس کی بابت دریافت کیا تو آپﷺ نے اس کے کھانے کا حکم فرما دیا۔

۲۔قرض کو اچھے طور پر ادا کرنا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس ایک شخص اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے آیا اور اس نے آپﷺ سے سخت کلامی کی تو صحابہ کرامؓ نے اس کو مارنے کا ارادہ کیا۔مگر رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو کیونکہ صاحب حق کی گفتگو ایسی ہی ہوتی ہے۔ اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا کہ اسے اُسی عمر کا اونٹ دے دو جس عمر کا اس کا اونٹ تھا لوگوں نے عرض کیا کہ اس عمر کا تو نہیں اس سے بہتر ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس کو وہی دے دو اس لئے کہ تم میں اچھا شخص وہ ہے جو قرض کو اچھے طور پر ادا کرے۔

۳۔قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کی واپسی

سیدنا مسور بن مخرمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ کے پاس جب قبیلہ ہوازن کے لوگ مسلمان ہو کر آئے تو آپﷺ کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے آپﷺ سے درخواست کی کہ اُن کے مال اور قیدی انہیں واپس کر دیں تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ مجھے وہ بات پسند ہے جو سچی ہو۔ تم لوگ ایک بات اختیار کر لو۔یا قیدیوں کو واپس لے لو یا مال کو۔ اور میں نے تو تمہارے انتظار میں مالِ غنیمت کی تقسیم دیر سے کی مگر تم اس وقت تک نہ آئے۔ پس انہیں معلوم ہو گیا کہ رسول اﷲﷺ انہیں صرف ایک ہی چیز واپس دیں گے تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدیوں کو واپس لیتے ہیں۔ چنانچہ رسول اﷲﷺ مسلمانوں کی جماعت میں کھڑے ہو گئے اور اﷲ تعالیٰ کی تعریف کے بعد فرمایا: تمہارے یہ بھائی ہمارے پاس توبہ کر کے آئے ہیں اور میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس دے دوں۔ لہٰذا اگر جو خوشی سے دینا چاہے وہ خوشی سے دے دے۔ چنانچہ سب لوگوں نے خوشی سے قیدی واپس کر دیے۔

۴۔ سوتے وقت آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے مجھے صدقۂ رمضان کی حفاظت کا حکم دیا تو ایک آنے والا میرے پاس آیا اور وہ اس میں سے مٹھی بھر بھر کر لینے لگا تو میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا کہ واﷲ میں تجھے رسول اﷲﷺ کے پاس لے چلوں گا۔ اس نے کہا مجھے چھوڑ دو کیونکہ میں محتاج ہوں اور میری اولاد کے لیے سخت ضرورت ہے۔چنانچہ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو نبیﷺ نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہؓ تمہارے قیدی نے آج رات کو کیا کیا؟ میں نے عرض کیا :یا رسول اﷲﷺ ! اس نے سخت ضرورت بیان کی تو میں نے اس پر ترس کھا کر چھوڑ دیا۔ آپﷺ نے فرمایا آگاہ رہو اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آئے گا۔ …جب دوسری اور پھرتیسری شب بھی یہی معاملہ پیش آیا تو سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ ’’اب تو میں تجھے ضرور رسول اﷲﷺ کے پاس لے چلوں گا۔اس نے کہا ’’مجھے چھوڑ دو میں تمہیں چند کلمات ایسے تعلیم کروں گا جن سے اﷲ تمہیں فائدہ دے گا‘‘ میں نے کہا ’’وہ کیا ؟‘‘ کہنے لگا کہ ’’جب تم اپنے بچھونے پر سونے کے لیے جاؤ تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرو۔ پس اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ایک نگہبان تمہارے پاس برابر رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہ آئے گا‘‘ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ پھر صبح ہوئی تو رسول اﷲﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ ’’تمہارے قیدی نے گزشتہ شب کو کیا کیا؟‘‘ میں نے ساری بات کہہ سنائی تو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’خبردار رہو گواس نے اس مرتبہ تم سے سچ کہا ہے مگر وہ بہت بڑا جھوٹا ہے۔ تم جانتے ہو کہ تین دن تک تم نے کس سے باتیں کیں ‘‘؟ میں نے عرض کیا کہ ’’نہیں ‘‘ تو فرمایا کہ ’’وہ شیطان تھا‘‘۔

۵۔ایک ہی جنس میں خرید و فروخت کا معاملہ

سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ سیدنا بلالؓ نبیﷺ کے پاس ’’برنی‘‘ قسم کی اچھی کھجور لائے تو نبیﷺ نے ان سے پوچھا کہ یہ کہاں سے لائے ؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ خراب کھجور تھی ہم نے اس کے دو صاع کے عوض اس کھجور کا ایک صاع لیا ہے تاکہ ہم نبیﷺ کو کھلائیں۔ نبیﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ توبہ توبہ یہ تو بالکل سود ہے، ایسا نہ کیا کرو۔ البتہ جب تم عمدہ کھجور خریدنا چاہو تو گھٹیا کھجور بیچ کر اس کی قیمت سے خریدا کرو۔

۶۔شرابی کی جوتوں اور چھڑیوں سے پٹائی

سیدنا عقبہ بن حارثؓ کہتے ہیں کہ نعیمان یا ابن نعیمان شراب پئے ہوئے رسول اﷲﷺ کے پاس لائے گئے تو آپﷺ نے تمام لوگوں کو جو اس وقت گھر میں موجود تھے یہ حکم دیا کہ ان کو ماریں۔ سیدنا عقبہ بن حارثؓ کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اُن کو مارا اور ہم نے ان کو جوتیوں سے اور چھڑیوں سے مارا تھا۔

٭٭٭


۳۹۔کتاب المزاراعۃ (زراعت کا بیان)



۱۔ درخت لگانا بھی صدقہ ہے

انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جب کوئی مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کاشت کرتا ہے اور اس میں سے پرندہ یا انسان یا کوئی چوپایہ کھاتا ہے تو اس کاشتکار کو صدقہ دینے کے برابر ثواب ملتا ہے۔

۲۔ کھیتی باڑی کی حفاظت کے لیے کتا پالنا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کتا پالتا ہے تو ہر روز اس کی نیکی سے ایک قیراط کم ہوتا رہتا ہے۔ سوائے اس کتے کے جو کھیتی باڑی یا جانوروں کی حفاظت یا شکار کے لیے رکھا جائے۔

۳۔بیل سواری نہیں بلکہ کھیتی کے لیے ہے

سیدنا ابوہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ اس حالت میں کہ ایک شخص بیل پر سوار تھا۔وہ بیل اس کی طرف متوجہ ہوا اور کہا کہ میں اس سواری کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوا میں تو کھیتی کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔نبیﷺ نے یہ واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ اس پر میں یقین رکھتا ہوں اور ابوبکرؓ و عمرؓ بھی یقین رکھتے ہیں۔

۴۔ درختوں پر محنت اور فصل میں شرکت

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ انصار نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ ہم لوگ اپنے باغات اپنے اور اپنے مہاجرین بھائیوں کے درمیان تقسیم کر لیتے ہیں آپﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔ تب انہوں نے مہاجرین سے کہا: تم محنت کرو اور ہم پھلوں میں تمہیں شریک کر لیں گے۔ مہاجرین نے کہا کہ ہم اس پیش کش کو قبول کرتے ہیں۔

۵۔ مخصوص حصہ کی پیداوار مالک کے نام کرنا

سیدنا رافع بن خدیجؓ کہتے ہیں کہ مدینہ کے دوسرے باشندوں کے مقابلے میں ہمارے پاس زیادہ کھیت تھے۔ ہم کھیتوں کو اس شرط کے ساتھ دوسروں کو کاشتکاری کے لیے دیا کرتے تھے کہ کھیت کے ایک متعین حصہ کی پیداوار مالک زمین کے لیے ہوتا۔لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا کہ اس خاص حصہ کی پیداوار پر کوئی آفت آ جاتی تھی (اس وجہ سے اس میں کچھ پیدا نہ ہوتا تھا) اور باقی کھیت محفوظ رہتا تھا اور کبھی باقی کھیت پر کوئی آفت آ جاتی تھی اور وہ حصہ محفوظ رہتا تھا تو ہمیں ایسا کرنے کی ممانعت کر دی گئی۔

۶۔ پیداوار کے حصہ پر کھیت کی بٹائی کرنا

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اہل خیبر سے کھیتی اور پھل کی نصف پیداوار پر معاملہ کیا تھا۔ یعنی جو اناج یا میوہ اس میں پیدا ہوتا وہ آدھا آدھا تقسیم ہوتا۔ آپﷺ اپنی ازواج مطہرات کو سو وسق یعنی اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو دے دیا کرتے تھے۔

۷۔ زمین بٹائی پر دینے سے بہتر مفت دینا ہے

سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ گو نبیﷺ نے مزارعت سے منع نہیں فرمایا لیکن آپﷺ کا فرمان ہے کہ تم میں سے اگر کوئی شخص اپنی زمین اپنے بھائی کو مفت ہی دے دے تو اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر کچھ کرایہ لے۔

۸۔مفتوحہ شہر کی غازیوں میں تقسیم کی سنت

سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ اگر بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جو شہر بھی فتح ہوتا میں اسے غازیوں میں تقسیم کر دیتا جس طرح خیبر کو نبیﷺ نے تقسیم کر دیا تھا۔

۹۔غیر آباد زمین کو آباد کرنا

حضرت عائشہ صدیقہؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جس شخص نے کوئی ایسی زمین آباد کی جس پر کسی کا حق نہیں تھا تو آباد کرنے والا اس کا زیادہ حق دار ہے

۱۰۔فتح خیبر: یہودیوں کو مشروط رہنے کی اجازت

سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطابؓ نے یہود و نصاریٰ کو سر زمین حجاز سے نکال دیا اور رسول اﷲ نے جب خیبر پر غلبہ پایا تو وہاں سے آپﷺ نے یہود کو نکال دینے کا ارادہ کیا۔ جس وقت آپؐ نے خیبر پر غلبہ پایا تھا تو اسی وقت وہاں کی زمین اﷲ اور اس کے رسول اﷲﷺ اور تمام مسلمانوں کی ہو گئی تھی۔ پس جب آپؐ نے وہاں سے یہودیوں کو نکال دینے کا ارادہ کیا تو یہودیوں نے درخواست کی کہ ان کو وہیں رہنے دیں اس شرط پر کہ وہ وہاں کام کریں گے اور انہیں نصف پھل ملیں گے۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ہم اس شرط پر کہ تم کو جب تک چاہیں گے رکھیں گے چنانچہ وہ وہاں رہتے تھے یہاں تک کہ سیدنا عمرؓ نے ان کو مقام تیماء اور اریحا کی طرف نکال دیا۔

۱۱۔کھیتوں کو فصل کے عوض کرایہ پر دینا

سیدنا رافع بن خدیج (بن رافعؓ ) اپنے چچا سیدنا ظہیرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے ایک ایسے کام سے ہمیں منع فرما دیا کہ جس سے ہمیں بہت آسانی ہوتی تھی۔ میں نے کہا مجھے رسول اﷲﷺ نے بلایا اور فرمایا کہ تم اپنی کھیتیوں کو کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہم ان کو چوتھائی پیداوار پر اور کبھی کھجور اور جو کے چند وسق پر کرایہ پر دے دیتے ہیں۔آپﷺ نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو۔ خود ان کی زراعت کرو یا کسی سے ان کی زراعت کروا لو یا ان کو اپنے پاس روک رکھو۔

۱۲۔جنت میں پلک جھپکتے فصل تیار ہو جائے گی

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک جنتی پروردگار سے کھیتی کرنے کی اجازت طلب کرے گا تو اﷲ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ کیا تو اس حالت میں خوش نہیں ہے ؟ وہ عرض کرے گا کہ ہاں خوش تو ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ کھیتی کروں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ بیج بوئے گا تو اس کا اُگنا بڑھنا اور کٹنا پلک جھپکنے سے پہلے ہو جائے گا۔ اس کی پیداوار کے ڈھیر پہاڑوں کے برابر ہو جائیں گے۔ تب اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ابن آدم تو کسی چیز سے سیر ہی نہیں ہوتا۔

٭٭٭

۴۰۔کتاب المساقاۃ الشرب (پانی کی تقسیم)



۱۔مجلس میں اشیا کی تقسیم دائیں طرف سے

سیدنا سہل بن سعدؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس ایک پیالہ مشروب لایا گیا۔آپﷺ نے اس میں سے کچھ پیا اور اپنی داہنی جانب بیٹھے ایک لڑکے سے فرمایا کہ کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ پہلے میں یہ پیالہ اپنے بائیں جانب بیٹھے ان بڑے لوگوں کو دے دوں ؟ اس لڑکے نے کہا کہ یا رسول اﷲ! میں آپﷺ کا جھوٹا اپنے سوا کسی کو نہ دوں گا چنانچہ آپﷺ نے وہ پیالہ اسی کو دے دیا۔

۲۔ ابو بکرؓ پر داہنی جانب موجود اعرابی کو ترجیح

سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبیﷺ کے لیے بکری کے دودھ میں کنوئیں کا پانی ملایا گیا اور پھر وہ پیالہ نبیﷺ کو دیا گیا تو آپ نے اس میں سے نوش فرمایا۔ جب پیالہ کو اپنے منہ سے ہٹایا تو اس وقت آپﷺ کے بائیں جانب سیدنا ابوبکرؓ تھے اور آپﷺ کے داہنی جانب ایک اعرابی تھا۔ سیدنا عمرؓ نے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ ! سیدنا ابوبکرؓ کو دے دیجئے وہ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ مگر آپ نے اپنا جھوٹا اعرابی کو دیا اور فرمایا کہ پہلے داہنی جانب بیٹھنے والے کو دینا چاہیئے۔

۳۔پانی کا مالک فاضل پانی کو نہ روکے

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اپنی ضرورت سے زیادہ پانی اس لئے نہ روکا جائے کہ گھاس اور دیگر پودوں کی نمو بھی رکی رہے۔

۴۔کسی کا حق مارنے کے لیے جھوٹی قسم کھانا

سیدنا عبداﷲ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جو شخص قسم کھائے تاکہ اس کے ذریعہ سے کسی مسلمان کا حق مار لے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو تو وہ اﷲ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اﷲ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا۔پھر اﷲ نے یہ آیت نازل فرمائی ’’جو لوگ اﷲ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔‘‘ (آل عمران: ۷۷)

۵۔مسافر کو فاضل پانی کے استعمال سے روکنا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ فرماتے تھے کہ تین طرح کے آدمی ایسے ہوں گے کہ قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ ان کو دیکھنا بھی پسند نہیں فرمائے گا اور نہ انہیں گناہوں سے پاک فرمائے گا اور ان کو سخت عذاب دیا جائے گا۔ایسا شخص جس کے پاس راستے میں فاضل پانی ہو اور وہ کسی مسافر کو اس کے استعمال سے روک دے۔دوسرا ایسا شخص جو کسی امام سے محض مالِ دنیا کے لیے بیعت کرے کہ اگر وہ اس کو کچھ دے تو وہ خوش رہے اور اگر نہ دے تو ناخوش ہو جائے۔

۶۔جھوٹی قسمیں کھا کر مال فروخت کرنا

تیسرا ایسا شخص جو عصر کے بعد اپنا مال فروخت کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے اور یہ کہے کہ اس اﷲ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ مجھے اس مال کی اتنی قیمت مل رہی تھی، مگر میں نے نہ بیچی۔ پھر کوئی شخص اس کو صحیح سمجھ لے اور بتائی ہوئی قیمت پر اس چیز کو خرید لے پھر آپﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی …جو لوگ اﷲ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

۷۔ پیاسے جانور کو پانی پلانا بھی کارِ ثواب ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص حالتِ تشنگی میں ایک کنوئیں میں اترا اور اس نے اس سے پانی پیا۔ وہاں سے نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت کی وجہ سے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس شخص نے اپنے دل میں کہا کہ اس کو بھی ویسی ہی پیاس لگی ہے جیسی مجھے لگی تھی۔ لہٰذا وہ پھر کنوئیں میں اترا اور اس نے اپنا موزہ پانی سے بھر کر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا۔ اﷲ تعالیٰ نے اس کی یہ نیکی کی اور اس کو معاف فرما دیا۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اﷲﷺ کیا ہمیں جانوروں کی خدمت میں بھی ثواب ملے گا؟ تو آپؐ نے فرمایا ہاں ہر جاندار کی خدمت میں ثواب ملتا ہے۔

۸۔حوضِ کوثر سے دور کیے جانے والے

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ قیامت کے دن اپنے حوض کوثر سے کچھ لوگوں کو اس طرح ہانک دوں گا جس طرح اجنبی اونٹ حوض سے ہانک دیئے جاتے ہیں۔

۹۔ جہاد کے لیے گھوڑا پالنا باعثِ ثواب ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ گھوڑا بعض لوگوں کے لیے باعث ثواب ہے اور بعض لوگوں کے لیے باعث ستر اور بعض لوگوں کے لیے باعث گناہ ہے۔ جس نے اس کو اﷲ کی راہ میں جہاد کے لیے پالا ہو۔ اگر اس گھوڑے کا گزر کسی نہر پر ہو اور وہ اس میں سے پانی پئے حالانکہ وہ شخص اس نہر سے پانی پلانے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تب بھی اسے نیکیاں ملیں گی پس اس قسم کا گھوڑا اس وجہ سے باعث ثواب ہے۔

۱۰۔پیسہ کمانے کے لیے گھوڑا پالنا باعثِ ستر ہے

اور جس شخص نے سوال سے بچنے اور روپیہ پیسہ کمانے کے لیے گھوڑا پال رکھا ہو پھر وہ اپنی ذات اپنی سواری میں اﷲ کا حق نہ بھولتا ہو تو یہ گھوڑا اپنے مالک کے لیے پردہ ہے

۱۱۔دکھاوے کے لیے گھوڑا پالنا وبال ہے

اور جس شخص نے محض فخر اور ریا کی غرض سے اور اہل اسلام سے دشمنی کے لیے گھوڑا پالا ہو تو وہ گھوڑا اس شخص پر وبال ہو گا۔ اور رسول اﷲﷺ سے گدھوں کے پالنے کی بابت پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ ان کی بابت مجھ پر کچھ نازل نہیں ہوا سوائے اس جامع آیت کے : ’’قیامت کے دن جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اس نیکی کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ بھی اس برائی کو دیکھ لے گا۔ (الزِّلْزَال: ۸-۷)۔

۱۲۔جاگیریں الاٹ کرنا

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے چاہا کہ بحرین میں انصار کو جاگیر الاٹ کر دیں تو انصار نے کہا کہ (ہم نہ لیں گے ) جب تک ہمارے مہاجرین بھائیوں کو بھی ویسے ہی نہ ملیں۔ چنانچہ آپﷺ نے فرمایا کہ عنقریب تم لوگ میرے بعد اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہوئے دیکھو گے لہٰذا تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے آن ملو۔

۱۳۔پیوند لگے درخت : مالدار غلام کی فروخت

سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کھجور کے درختوں کو پیوند لگنے کے بعد خریدے تو ان کے پھل فروخت کرنے والے کو ہی ملیں گے مگر یہ کہ خریدار اس سے شرط کر لے اور جو شخص کسی غلام کو خریدے اور اس غلام کے پاس کچھ مال ہو تو اس کا وہ مال فروخت کرنے والے کو دیا جائے گا مگر یہ کہ خریدار نے شرط کر لی ہو۔

۱۴۔قرض لینے اور ادا کرنے کی نیت

سیدنا ابو ہریرہؓ مروی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کا مال قرض لے اور وہ اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اﷲ تعالیٰ اس سے ادا کرا دے گا اور جو شخص قرض مال لے اور وہ اس کو ضائع کر دینے کا ارادہ رکھتا ہو تو اﷲ تعالیٰ اس کو ضائع کر دے گا۔

۱۵۔قرضوں کا ادا کرنا ضروری ہے

سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک مرتبہ اُحد پہاڑ کو دیکھ کر فرمایا:یہ پہاڑ اگر میرے لئے سونا بھی بن جائے تو میں یہ نہیں چاہوں گا کہ تین دن کے بعد ایک دینار بھی اس میں سے میرے پاس رہ جائے۔ بجز اس دینار کے جو میں کسی قرض کے واسطے رکھ چھوڑوں پھر آپﷺ نے فرمایا: جن لوگوں کے پاس مال زیادہ ہے ان کی نیکیاں بہت کم ہیں سوائے اس شخص کے جو مال کو فراخدلی سے خرچ کرے۔

۱۶۔ادائے قرض عمدہ طور پر کرنا بہتر ہے

سیدنا جابر بن عبداﷲؓ کہتے ہیں میں نبیﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ مسجد میں تھے۔ چاشت کا وقت تھا تو آپﷺ نے فرمایا کہ دو رکعت نماز پڑھ لو۔ میرا کچھ قرض آپﷺ پر تھا تو آپﷺ نے میرا قرض ادا کر دیا اور مجھے قرض سے زیادہ دیا۔

۱۷۔فضول بحث و مباحثہ ناپسندیدہ فعل ہے

سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک دن فرمایا کہ اﷲ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کرنا اور لڑکیوں کا زندہ درگور کرنا حرام کر دیا ہے اور حق ادا نہ کرنا اور ناحق چیز کا لینا بھی حرام کر دیا ہے۔ تمہارے لئے فضول بحث کرنے اور کثرت سے سوال کرنے اور مال کے ضائع کرنے کو ناپسند کیا ہے۔

٭٭٭


۴۱۔کتاب فی الخصومات




۱۔بلا وجہ اختلاف کرنا باعثِ ہلاکت ہے

سیدنا عبداﷲ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے کسی کو ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا جسے میں نے رسو ل اﷲﷺ سے اس کے خلاف سنا تھا۔ پس میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کو رسول اﷲﷺ کے پاس لے گیا آپﷺ نے فرمایا کہ تم دونوں صحیح پڑھتے ہو، اختلاف نہ کرو۔ جو لوگ تم سے پہلے تھے انہوں نے اختلاف کیا اسی وجہ سے وہ ہلاک ہو گئے۔

۲۔حشر میں سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک دن دو آدمیوں نے باہم گالی گلوچ کی ایک ان میں سے مسلمان تھا دوسرا یہودی۔ مسلمان نے جھگڑے کے دوران کہا کہ قسم اس کی جس نے محمدﷺ کو تمام جہان کے لوگوں پر برگزیدہ کیا ہے۔یہودی نے کہا قسم اس کی جس نے موسیٰؑ کو تمام جہان کے لوگوں پر برگزیدہ کیا ہے۔ پس مسلمان نے اس وقت اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے منہ پر طمانچہ مارا وہ یہودی نبیﷺ کے پاس گیا اور اس مسلمان کا واقعہ بیان کیا تو نبیﷺ نے اس مسلمان کو بلوایا اور اس سے بھی واقعہ پوچھا اس نے ساراواقعہ بیان کیا تو آپﷺ نے بطور انکسارفرمایا کہ تم لوگ مجھے موسیٰؑ پر فضیلت نہ دو کیونکہ قیامت کے دن سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے ان کے ساتھ میں بھی بے ہوش ہو جاؤں گا اور مجھے سب سے پہلے ہوش آئے گا تو میں دیکھوں گا کہ موسیٰؑ عرش کا ایک کونا پکڑے ہوئے کھڑے ہیں۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ بے ہوش ہوئے تھے مگر انہیں مجھ سے پہلے ہوش آ گیا یا وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اﷲ تعالیٰ نے بے ہوش ہونے سے مستثنیٰ کر لیا ہے۔

۳۔قصاص میں مماثلت کا واقعہ

سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے، کیا فلاں نے، یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں پس وہ یہودی پکڑ لیا گیا اور اس نے اقرار کیا لہٰذا نبیﷺ نے حکم دیا تو اس یہودی کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔

٭٭٭

۴۲۔کتاب فی اللقطۃ (گمشدہ اشیاء)



۱۔اگر نا معلوم مالک کی گمشدہ چیز ملے

حضرت سوید بن غفلہؓ کہتے ہیں کہ ابی بن کعبؓ کو سو دینار کی ایک تھیلی پڑی ہوئی ملی۔ میں اسے رسول اﷲﷺ کی خدمت میں لایا تو آپﷺ نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ رسول اللہﷺ کے کہنے پر میں نے ایک سال تک اعلان کیا، لیکن مجھے اس کا کوئی مالک نہ ملا۔ آنحضور ﷺ پھر فرمایا کہ ایک سال تک مزید اس کا اعلان کرتے رہو۔ مالک مجھے پھر بھی نہ ملا تب آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ اس تھیلی کی ساخت، دینار کی تعداد اور تھیلی کے بندھن کو ذہن میں محفوظ رکھو۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے واپس کر دینا ورنہ اپنے خرچ میں اسے استعمال کر لو۔ چنانچہ میں نے اسے خرچ کر لیا۔

۲۔اگر کھانے پینے کی شئے پڑی ملے

حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: میں اپنے گھر جاتا ہوں اور وہاں مجھے میرے بستر پر کھجور پڑی ہوئی ملتی ہے۔ میں اسے کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں، لیکن پھر یہ خطرہ گذرتا ہے کہ کہیں صدقہ کی نہ ہو۔ اس لیے چھوڑ دیتا ہوں۔ (واضح رہے کہ اہلِ بیت کے لیے زکوٰۃ و صدقات لینا منع ہے۔۔ عام لوگ ایسی معمولی اشیاء کو اگر پائیں تو استعمال کر سکتے ہیں جن کے بارے میں یقین ہو کہ ایسی معمولی اشیاء کو اُن کا مالک نہیں ڈھونڈے گا)

٭٭٭

۴۳۔کتاب فی المظالم



۱۔جنت میں داخلے سے قبل مظالم کا بدلہ ملے گا

حضرت ابو سعید خدریؓ نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جب مومنوں کو حساب کے بعد دوزخ سے نجات مل جائے گی تو انہیں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دوسرے پل صراط پر روک لیا جائے گا۔ یہاں انہیں ان مظالم کا بدلہ دے دیا جائے گا جو وہ دنیا میں کرتے تھے۔ یہاں جب ان کی روحانی تہذیب ہو چکے گی تو انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت دی جائے گی۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ و قدرت میں محمدؐ کی جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے جنت کے گھر کو اپنے دنیا کے گھر سے بھی زیادہ بہتر طریقہ پر پہچانے گا۔

۲۔حشر میں مسلمانوں کے گناہوں کی پردہ پوشی

حضرت صفوان بن محرزمازنیؓ راوی ہیں کہ ابن عمرؓ نے ایک شخص سے کہا کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو یہ کہتے سنا ہے کہ حشر میں اﷲ تعالیٰ مومن کو قریب بلائے گا اور اس پر اپنا پردہ ڈال کر چھپا لے گا اور اس سے فرمائے گا کہ کیا فلاں فلاں گناہ یاد ہے ؟بندہ مومن جب اپنے گناہوں کا اقرار کر لے گا اور اسے یقین آ جائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوا تو اﷲ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں سے پردہ پوشی کی اور آج بھی تمہاری مغفرت کرتا ہوں۔ چنانچہ اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی۔ لیکن کافر اور منافق کے متعلق ان پر متعین گواہ (ملائکہ، انبیاء اور تمام جن وانس سے ) کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے متعلق جھوٹ کہا تھا۔ آگاہ ہو جائیں کہ ظالموں پر اﷲ کی لعنت ہے۔

۳۔ کسی مسلمان پر ظلم کرو،نہ اس پر ظلم ہونے دو

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے کی فکر میں رہتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے۔جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے گا، اﷲ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت کو دور فرمائے گا اور جو شخص مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کرے گا، اﷲ تعالیٰ قیامت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔

۴۔ بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم

حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہؓ نے عرض کیا، یا رسول اﷲ ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں ؟ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ ظالم کی مدد کی صورت یہ ہے کہ اسے ظلم کر نے سے روکنے کے لیے اس کا ہاتھ پکڑ لو۔

۵۔ قیامت کے دن ظلم تاریکی کی شکل میں ہو گا

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ نے کہا کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ظلم تاریکیوں کی شکل میں ہو گا۔

۶۔ظلم کے بدلے میں نیکیاں دینی ہوں گی

حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے کسی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ آج ہی معاف کرالے۔ کیوں کہ روزِ حشر درہم و دینا ر نہ ہوں گے بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا۔ اور اگر کوئی نیک عمل نہیں ہوا تو مظلوم کی برائیاں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی۔

۷۔کسی کی زمین پر قبضہ کرنے کی سزا

حضرت سعید بن زیدؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اﷲﷺ سے سنا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی کی زمین ظلماً لے لی اسے سات زمین کا طوق پہنا یا جائے گا۔ ایک اور روایت میں حضرت عبداﷲ ابن عمرؓ نے کہا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے ناحق کسی زمین کا تھوڑا سا حصہ بھی لیا تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔

۸۔مشترکہ دستر خوان پر کھانے کے آداب

حضرت جبلہؓ نے بیان کیا کہ ہم بعض اہل عراق کے ساتھ مدینہ میں مقیم تھے۔ وہاں ہمیں قحط سے دوچار ہونا پڑا۔ ابن زبیرؓ کھانے کے لیے ہمارے پاس کھجور بھجوایا کرتے تھے اور ابن عمرؓ ہماری طرف سے گذرتے تو فرماتے کہ رسول اﷲﷺ نے ایسے موقع پر جب بہت سے لوگ مشترکہ طریقہ پر کھا رہے ہوں تو دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا تھا۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنے دوسرے ساتھیوں سے اجازت لے لے اور اجازت دے د ی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

۹۔ جھگڑالو شخص اللہ کے یہاں سخت مبغوض ہے

حضرت عائشہؓ نے کہا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا، اﷲ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ مبغوض وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔

۱۰۔عدالتی فیصلہ سے ناحق فائدہ اُٹھانا

اُمُّ المومنین اُمّ سلمہؓ نے کہتی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے اپنے حجرے کے دروازے کے سامنے جھگڑے کی آواز سنی اور جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لائے۔ آپﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہوں۔ لہٰذا یہ عین ممکن ہے کہ کسی فریق کے زورِ بیان کی وجہ سے مَیں یہ سمجھ لوں کہ وہی سچ کہہ رہا ہے اور اس کے حق میں فیصلہ کر دوں تو وہ حق دوزخ کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے، چاہے تو وہ اسے لے لے ورنہ چھوڑ دے۔

۱۱۔ پڑوسی کو اپنی دیوار کے استعمال سے نہ روکو

حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ نبیﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی وغیرہ گاڑنے سے نہ روکے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے تھے یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس سے اعراض کرنے والا پاتا ہوں۔ حالانکہ میں اس حدیث کا تمہارے سامنے برابر اعلان کرتا رہتا ہوں۔

۱۲۔راستے میں بیٹھنے کے آداب

حضرت ابو سعید خدریؓ نے کہا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا۔ راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ہم تو وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں ہم باتیں کرتے ہیں اس پر حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ اگر وہاں بیٹھنے کی مجبوری ہے تو راستے کو بھی اس کا حق دو۔ اور راستے کے حقوق یہ ہیں کہ نگاہ نیچی رکھنا، ایذارسانی سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کے لیے لوگوں سے کہنا اور بری باتوں سے روکنا۔

۱۳۔گذرگاہ پر اختلاف ہو تو سات ہاتھ چھوڑ دو

حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا رسول اﷲﷺ نے فیصلہ کیا تھا کہ جب راستے کی زمین کے بارے میں جھگڑا کھڑا ہو جائے تو سات ہاتھ چھوڑ دینا چاہئے یعنی اتنا حصہ چھوڑ کر کوئی عمارت وغیرہ بنانی چاہئے۔

۱۴۔ مال و اسباب کی حفاظت میں جان دینا

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا،وہ شہید ہے۔

۱۵۔کسی کا برتن ٹوٹ جائے تو بہتر برتن بھیجنا

حضرت انسؓ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ ازواج مطہرات میں سے کسی ایک کے یہاں تشریف رکھتے تھے۔ اُمہات المومنین میں سے ایک نے وہیں آپﷺ کے لیے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ میں کچھ کھانے کی چیز بھجوائی۔ جن اُم المومنین کے گھر آپﷺ تشریف رکھتے تھے انہیں اپنی سوکن کی اس بات پر غصہ آ گیا اور انہوں نے ایک ہاتھ اس پیالہ پر مارا اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا۔ حضور اکرمﷺ نے پیالے کو جوڑا اور جو کھانے کی چیز تھی اسے اس میں دوبارہ رکھ کر فرمایا کہ کھاؤ۔ آپﷺ نے پیالہ لانے والے خادم کو روک لیا اور وہ پیالہ بھی نہیں بھیجا بلکہ جب کھانے سے سب فارغ ہوئے تو دوسرا اچھا پیالہ بھجوا دیا اور جو ٹوٹ گیا اسے نہیں بھجوایا۔

٭٭٭


۴۴۔کتاب الشرکۃ



۱۔قحط میں کھانے پینے کی چیزیں یکجا کرنا

حضرت سلمہؓ نے فرمایا کہ لوگوں کے توشے ختم ہو گئے اور فقر و محتاجی آ گئی تو لوگ اپنے اونٹوں کو ذبح کرنے کی اجازت لینے نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور اکرمﷺ نے پہلے تو انہیں اجازت دے دی۔ لیکن حضرت عمرؓ کے یہ کہنے پر کہ اونٹوں کے بعد پھر باقی کیا رہ جائے گا، آپﷺ نے فرمایا کہ اچھا تم لوگوں میں اعلان کر دو کہ ان کے پاس جو کچھ توشے بچ رہے ہیں وہ لے کر یہاں آ جائیں۔ اس کے لیے ایک چمڑے کا دستر خوان بچھا دیا اور لوگوں نے توشے اسی دسترخوان پر لا کر رکھ دیئے۔ اس کے بعد آپﷺ اٹھے اور اس میں برکت کی دعا فرمائی۔ اب آپ نے پھر لوگوں کو اپنے اپنے برتنوں کے ساتھ بلایا اور سب نے دونوں ہاتھوں سے توشے اپنے برتنوں میں بھر لئے۔ سب لوگ بھر چکے تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور یہ کہ میں اﷲ کا رسول ہوں ‘‘۔

۲۔ توشے کی کمی کا تدارک کیسے کیا جائے

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے کہا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: قبیلہ اشعر کے لوگوں کا جب غزوات کے موقعہ پر توشہ کم ہو جاتا ہے یا مدینہ کے قیام میں ان کے بال بچوں کے لیے کھانے کی کمی ہو جاتی ہے تو جو کچھ بھی ان کے پاس ہوتا ہے وہ ایک کپڑے میں جمع کر لیتے ہیں۔ پھر آپس میں ایک برتن سے برابر برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔ پس وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔

۳۔دانت اور ناخن سے ذبح نہ کرنا

حضرت رافع بن خدیجؓ نے فرمایا کہ ہم رسول اﷲﷺ کے ساتھ مقام ذوالحلیفہ میں مقیم تھے۔ لوگوں کو بھوک لگی۔ ادھر غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملی تھیں۔ ایک اونٹ اس میں سے بھاگ گیا تو لوگ اسے پکڑنے کی کوشش کرنے لگے۔ عرض کیا گیا کہ کل دشمن کا خطرہ ہے، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ آنحضورﷺ نے اس کا جواب یہ دیا کہ جو چیز بھی کاٹنے کے قابل ہو اور خون بہا دے اور ذبیحہ پر اﷲ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ دانت اور ناخن سے نہ ذبح کرنا چاہئے۔ اس کی وجہ میں تمہیں بتاتا ہوں، دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔

۴۔غلام کا اپنی قیمت ادا کر کے آزادی پانا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے غلام کا ایک حصہ آزاد کر دیا تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مال سے غلام کو پوری آزادی دلا دے۔ لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگائی جائے گی۔ پھر غلام سے کہا جائے گا کہ بقیہ حصہ کی قیمت کما کر ادا کرنے کے بعد اپنی آزادی کی کوشش کرے۔ لیکن غلام پر اس سلسلہ میں کوئی دباؤ نہیں ڈالا جائے گا۔

۵۔نافرمانوں کی من مانی، پوری قوم کی ہلاکت

حضرت نعمان بن بشیرؓ نے کہا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا، اﷲ کی حدود پر قائم رہنے والے اطاعت گذار اور احکامِ الٰہی سے منحرف ہو جانے والے کی مثال ایک ایسی قوم کی سی ہے جس نے ایک کشتی کے سلسلے میں قرعہ اندازی کی۔ قرعہ اندازی کے نتیجہ میں قوم کے بعض افراد کو کشتی کے اوپر کا حصہ ملا اور بعض کو نیچے کا۔ جو لوگ نیچے تھے، انہیں دریا سے پانی لینے کے لیے اوپر سے گزرنا پڑتا۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم اپنے ہی حصہ میں ایک سوراخ کر لیں تاکہ اوپر والوں کو ہم سے کوئی زحمت نہ ہو۔ اب اگر اوپر والے بھی نیچے والوں کو من مانی کرنے دیں کہ وہ اپنے نیچے والے حصے میں سوراخ کر لیں تو تمام کشتی والے ہلاک ہو جائیں گے اور اگر اوپر والے نیچے والوں کا ہاتھ پکڑ لیں تو یہ خود بھی اور ساری کشتی بچ جائے گی۔

۶۔ تجارت میں دوسروں کو شریک کرنا

حضرت عبداﷲ بن ہشامؓ نے کی والدہ زینب بنت حمیدؓ نبیﷺ کی خدمت میں آپ کو لے کر حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! اس سے عہد لے لیجئے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ یہ تو ابھی بچہ ہے۔ پھر آپﷺ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی۔ اور زہرہ بن معبدؓ فرماتے ہیں کہ ان کے دادا عبداﷲ بن ہشام انہیں اپنے ساتھ بازار لے جاتے تھے۔ وہاں غلہ خریدتے، ابن عمر اور ابن زبیرؓ سے اگر ملاقات ہو جاتی تو وہ فرماتے ہمیں بھی اس تجارت میں شریک کر لو کہ آپ کے لیے نبیﷺ نے برکت کی دعا کی تھی۔ چنانچہ وہ انہیں شریک کر لیتے اور اکثر پورے ایک اونٹ کے اٹھانے کے لائق غلہ کا نفع حاصل ہوتا اور اسے وہ گھر بھیج دیتے۔

٭٭٭

۴۵۔کتاب الرہن



۱۔رہن کے جانور سے استفادہ کرنا جائز ہے

حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: رہن جب تک مرہون ہے اس پر ہونے والے اخراجات کے بدلہ میں سوار ہوا جاسکتا ہے۔ اسی طرح دودھ دینے والے جانور کا دودھ بھی اس پر ہونے والے اخراجات کے بدلے میں پیا جاسکتا ہے۔ جو شخص سوار ہو گا، یا اس کا دودھ پئے گا، اخراجات اسی کے ذمے ہوں گے۔

۲۔گواہ پیش نہ کر سکنے پر قسم اُٹھانا

حضرت ابن بی ملیکہؓ نے فرمایا کہ میں نے ابن عباسؓ کی خدمت میں راہن اور مرتہن کے اختلاف کی صورت میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا کہ نبی کریمﷺ نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر مدعی گواہی پیش نہ کر سکا تو مدعی علیہ سے صرف قسم لی جائے گی۔

٭٭٭

۴۶۔کتاب العتق (غلامی کا بیان)



۱۔مسلمان غلام آزاد کرنے کی فضیلت

حضرت ابو ہریرہؓ مروی ہیں کہ نبیؐ نے فرمایا کہ جس شخص نے بھی کسی غلام مسلمان کو آزاد کیا تو اﷲ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کی آزادی کے بدلے اس شخص کے بھی ایک ایک عضو کو دوزخ سے آزاد کر دے گا۔

۲۔کاریگر کی مدد کرنا اور کسی کو ہنر سکھا نا

حضرت ابوذرؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲﷺ سے پوچھا کو ن سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اﷲ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا اور ایسے غلام کو آزاد کرنا،جس کی مالک کی نظر میں سب سے زیادہ قدر ہو۔ میں نے عرض کیا کہ اگر مجھ سے یہ نہ ہو سکا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ پھر کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی بے ہنر کو کوئی کام سکھا دو۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں یہ بھی نہ کر سکا؟ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ پھر لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ و مامون کر دوکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے۔

۳۔ مشترکہ غلام کے اپنے حصے کو آزاد کرنا

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ مروی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام کے اپنے حصے کو آزاد کر دیا اور اس کے پاس اتنا مال بھی تھا کہ غلام کی پوری قیمت اس سے ادا ہو سکے تو اس کی قیمت انصاف عدل کے ساتھ لگائی جائے گی اور بقیہ شرکاء کو ان کے حصے کی قیمت دے کر غلام کو اسی کی طرف سے آزاد کر دیا جائے گا ورنہ اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو غلام کا جو حصہ آزاد ہو چکا وہ ہو چکا اور بقیہ کی آزادی کے لیے غلام کو خود کوشش کرنی چاہئے۔

۴۔ عمل درآمد ہونے تک وسوسے معاف ہیں

حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ نے میری امت کے افراد کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو معاف فرمایا ہے جب تک کہ انہیں عمل یا زبان پر نہ لائے۔

۵۔زمانہ کفر کی نیکیوں کا اجر

حضرت حکیم بن حزامؓ نے اپنے کفر کے زمانے میں سوغلام آزاد کئے تھے اور سو اونٹوں کی قربانی دی تھی۔ پھر جب اسلام لائے تو سو اونٹوں کی قربانی دی اور سو غلام آزاد کئے۔ انہوں نے رسول اﷲﷺ سے پوچھا کہ ان اعمال کے متعلق آنحضورﷺ کا کیا فتویٰ ہے جنہیں وہ کفر کے زمانہ میں ثواب حاصل کرنے کے لیے کرتے تھے ؟ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جو نیکیاں تم پہلے کر چکے ہو، ان سب کے سمیت اسلام میں داخل ہوئے ہو‘‘۔

۶۔بنو تمیم سے محبت کی تین وجوہات

حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ تین باتوں کی وجہ سے میں بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا۔نبیﷺ ان کے بارے میں فرمایا کرتے تھے یہ لوگ دجال کے مقابلے میں میری امت میں سب سے زیادہ سخت ثابت ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ ایک مرتبہ بنو تمیم کے یہاں سے صدقات وصول ہو کر آئے تو نبیﷺ نے فرمایا: یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں۔ اسی طرح بنو تمیم کی ایک عورت قید ہو کر عائشہؓ کو ملی تو آپﷺ نے ان سے فرمایا اسے آزاد کر دو کہ یہ اسمعیٰلؑ کی اولاد میں سے ہے۔

۷۔کسی کو ’’میرا بندہ یا میری بندی‘‘ نہ کہنا

حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا، کوئی شخص اپنے غلام تک سے یہ نہ کہے کہ ’’اپنے رب (پالنے والے) کو کھانا کھلاؤ‘‘۔ اپنے رب کو وضو کراؤ۔ اپنے رب کو پانی پلاؤ۔ بلکہ صرف میرے سردار، میرے آقا (سیدی و مولائی) کہنا چاہئے۔ اسی طرح کوئی شخص یہ نہ کہے ’’میرا بندہ، میری بندی‘‘ بلکہ یوں کہنا چاہئے :’’میرا آدمی۔ میری لونڈی‘‘۔

۸۔خادم کو اپنے کھانے میں شریک کرنا

حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا جب کسی کا خادم کھانا لائے اور وہ اسے اپنے ساتھ کھانا کھلانے کے لیے نہ بٹھا سکے تو ایک یا دو لقمہ ضرور کھلانا چاہئے کیونکہ کام تو سارا اسی نے کیا ہے۔

۹۔چہرے پر مارنے سے پرہیز کرنا

حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا جب کوئی کسی سے جھگڑا کرے تو چہرے پر مارنے سے بہر حال پرہیز کرنا چاہئے۔

٭٭٭

۴۷۔کتاب الھبۃ و فضلھا (تحفہ کا بیان)



۱۔خلافِ شریعت شرط ناقابلِ عمل ٹھہرے گی

حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ حضرت بریرہؓ ان کے پاس اپنے معاملہ کتابت میں مدد لینے کے لیے آئیں جبکہ اس وقت تک انہوں نے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ میں نے کہا کہ تم اپنے مالکوں کے پاس جاؤ، اگر وہ یہ پسند کریں کہ تمہارے معاملہ کتابت کی پوری رقم میں ادا کر دوں اور تمہاری ولاء میرے ساتھ قائم ہو تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ بریرہؓ کے مالکوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اگر حضرت عائشہؓ تمہارے ساتھ نیکی کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اس کا اختیار ہے لیکن تمہاری ولاء ہمارے ہی ساتھ قائم رہے گی۔حضرت عائشہؓ نے اس کا ذکر رسول اﷲﷺ سے کیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ تم خرید کر انہیں آزاد کر دو، ولاء تو اسی کے ساتھ ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ پھر رسول ا ﷲﷺ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کچھ لوگ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل کتاب اﷲ میں نہیں ہے۔ جو بھی ایسی شرط لگائے گا جس کی اصل کتاب اﷲ میں موجود نہ ہو تو وہ ناقابل عمل ٹھہرے گی۔ خواہ سو مرتبہ ایسی شرطیں کیوں نہ لگا لے۔ اﷲ تعالیٰ کی شرط ہی عمل کے لائق اور مضبوط ہے۔

۲۔ خواتین معمولی ہدیہ کو بھی حقیر نہ سمجھیں

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اے مسلم خواتین! ہرگز کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے لیے معمولی ہدیہ کو بھی حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کے کھر کا ہی کیوں نہ ہو۔

۳۔ دو دو ماہ کھجوروں پر گذارا کیا کرتے، عائشہؓ

حضرت عائشہؓ نے حضرت عروہؓ سے فرمایا: میرے بھانجے !رسول اﷲﷺ کے گھر کا یہ حال یہ تھا کہ دو دو مہینے گذر جاتے اور رسول اﷲﷺ کے گھروں میں آگ نہ جلتی تھی۔ صرف دو چیزوں، کھجور اور پانی پر گذارا ہوتا تھا۔ البتہ رسول اﷲﷺ کے چند انصاری پڑوسی تھے جن کے پاس دودھ دینے والی بکریاں تھیں اور وہ رسول اﷲﷺ کے یہاں بھی ان کا دودھ پہنچا جایا کرتے تھے۔آپﷺ اسے ہمیں پلاتے تھے۔

۴۔معمولی دعوت اور معمولی ہدیہ بھی قبول کرنا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: اگر مجھے دست یا پائے کے گوشت پر بھی بلایا جائے تو میں قبول کر لوں گا اور مجھے دست یا پائے کے گوشت کا ہدیہ بھی بھیجا جائے تو اسے قبول کر لوں گا۔

۵۔شکار کا ہدیہ قبول کرنا

حضرت انسؓ نے فرمایا مرالظہران میں ہم نے ایک خرگوش شکار کر کے ذبح کیا اور اس کے رانوں کا گوشت نبی کریمﷺ کی خدمت میں بھی بھیجا تو آپﷺ نے اسے قبول فرمایا تھا اور اس میں سے آپﷺ نے تناول بھی فرمایا تھا۔

۶۔گوہ کا گوشت حلال ہے

حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ان کی خالہ اُمّ حفیدؓ نے نبی کریمﷺ کی خدمت میں پنیر، گھی اور گوہ کا ہدیہ پیش کیا۔ حضور اکرمﷺ نے پنیر اور گھی میں سے تناول فرمایا اور گوہ پسند نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ دی۔ ابن عباسؓ نے فرمایا کہ رسول اﷲﷺ کے اسی دسترخوان پر گوہ کو بھی کھایا گیا اور اگر وہ حرام ہوتی تو حضور اکرمﷺ کے دستر خوان پر کبھی نہ کھائی جاتی۔

۷۔نبیؐ صدقہ خود نہ کھاتے

حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ رسول اﷲﷺ کی خدمت میں جب کوئی کھانے کی چیز لائی جاتی تو آپ دریافت فرماتے، یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو آپﷺ اپنے اصحاب سے فرماتے کہ کھاؤ۔ لیکن خود نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا کہ ہدیہ ہے تو آپﷺ خو د بھی ہاتھ بڑھاتے اور صحابہؓ کے ساتھ تناول فرماتے۔

۸۔صدقہ کو آگے ہدیہ کرنا

حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ رسول ا ﷲﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ گوشت پیش کیا گیا۔ اور یہ بتایا گیا کہ بریرہؓ کو کسی نے صدقہ میں دیا ہے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے تو صدقہ ہے مگر ہمارے لئے ان کے واسطہ سے پہنچا ہوا ہدیہ ہے۔

۹۔نبیﷺ خوشبو کا ہدیہ کبھی واپس نہ کرتے

حضرت انس بن مالکؓ خوشبو کا تحفہ رد نہیں کرتے تھے آپ فرمایا کرتے تھے کہ نبی کریمﷺ بھی خوشبو کو واپس نہیں کیا کرتے تھے۔

۱۰۔نبیﷺ ہدیہ کا بدلہ بھی دیا کرتے تھے

اُمُّ المومنین حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اﷲﷺ ہدیہ قبول فرما لیا کرتے تھے لیکن ہدیہ کا بدلہ بھی دے دیا کرتے تھے۔

۱۱۔ اولاد کے درمیان عدل کرنا

حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان فرما رہے تھے کہ میرے والد نے مجھے ایک عطیہ دیا تو نعمانؓ کی والدہ عمرہ بنت رواحہؓ نے کہا کہ جب تک آپ رسول اﷲﷺ کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں تیار نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ یہ معاملہ نبیﷺ کے سامنے پیش ہوا۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا اسی جیسا عطیہ اپنی تمام اولاد کو آپ نے دیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ اﷲ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف کو قائم رکھو۔

۱۲۔ہدیہ دے کر واپس لینے والا

حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اپنا ہدیہ واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر چاٹ جاتا ہے۔

۱۳۔شوہر کی اجازت کے بغیر اپنا مال ہدیہ کرنا

اُمُّ المومنین حضرت میمونہ بنت حارثؓ نے اپنی ایک باندی نبی کریمﷺ سے اجازت لئے بغیر آزاد کر دی۔ حضورﷺ کی اپنے گھر آمد پر انہوں نے خدمت نبویﷺ میں عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! میں نے اپنی باندی آزاد کر دی ہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا: اچھا تم نے آزاد کر دیا! انہوں نے عرض کیا کہ ہاں۔ فرمایا کہ اگر اس کے بجائے تم نے اپنے ماموں کو دے دی ہوتی تو تمہیں اس سے بھی زیادہ اجر ملتا۔

۱۴۔قرعہ کے ذریعہ کسی بیوی کو سفرپر لے جانا

حضرت عائشہؓ نے کہا کہ رسول اﷲﷺ جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج کے لیے قرعہ اندازی کرتے اور جن کا نام نکل آتا انہی کو اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے۔ حضور اکرمﷺ کا یہ بھی معمول تھا کہ اپنی تمام ازواج کے لیے ایک ایک دن اور رات کی باری مقرر کر دی تھی۔ البتہ آخر میں حضرت سودہ بنت زمعہؓ نے اپنی کبر سنی کی وجہ سے اپنی باری حضرت عائشہؓ کو دے دی تھی۔ ان کا مقصد حضور اکرمﷺ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنا تھی۔

۱۵۔آرائشی پردوں پر نبیﷺ کا رد عمل

حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ آپﷺ فاطمہؓ کے گھر تشریف لے گئے لیکن اندر نہیں گئے۔جب حضرت علیؓ گھر آئے تو فاطمہؓ نے انہیں یہ بات بتلائی۔حضرت علیؓ نے اس کی وجہ حضور اکرمﷺ سے پوچھی تو آپﷺ نے فرمایا میں نے اس کے دروازے پر دھاری دار پردہ لٹکا دیکھا تھا۔ مجھے دنیا کی آرائش و زیبائش سے کیا سروکار۔ حضرت علیؓ نے آ کر فاطمہؓ سے حضور اکرمﷺ کی گفتگو کا ذکر کیا۔حضرت فاطمہؓ کے استفسار پر آپﷺ نے فرمایا کہ فلاں گھرانے میں اسے بھجوا دو کہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔ حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ نبیﷺ نے مجھے ایک ریشمی لباس ہدیہ میں دیا تو میں نے اسے پہن لیا لیکن جب غصے کے آثار روئے مبارک پر دیکھے تو اسے اپنے گھر کی عورتوں میں پھاڑ کر تقسیم کر دیا۔

۱۶۔ایک بکری کی کلیجی ۱۳۰؍ اصحاب نے کھائی

حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ نے بیان کیا کہ ہم ایک سو تیس آدمی رسول اﷲﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ حضور اکرمﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا کسی کے پاس کھانے کی کوئی چیز بھی ہے۔ ایک صحابی کے پاس تقریباً ایک صاع آٹا تھا وہ آٹا گوندھا گیا۔ پھر ایک دراز قد مشرک بکریاں ہانکتا ہوا آیا۔حضور اکرمﷺ نے اس سے ایک بکری خریدکر ذبح کی۔ حضور اکرمﷺ نے اس کی کلیجی بھوننے کے لیے کہا، بخدا اس وقت موجود ایک سو تیس اصحاب میں سے ہر ایک کو آپﷺ نے اس کلیجی میں سے کاٹ کر دیا اور جو اس وقت موجود نہیں تھے ان کا حصہ محفوظ رکھ لیا۔ بکری کے گوشت کو سب نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ جو کچھ بچ گیا اسے اونٹ پر رکھ کر ہم واپس لے آئے۔

۱۷۔مشرکوں سے صلہ رحمی کرنا

حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ نے فرمایا کہ رسول اﷲﷺ کے عہد میں میری مشرکہ والدہ میرے گھر آئیں۔ میں نے حضور اکرمﷺ سے پوچھا کہ وہ مجھ سے ملاقات کی بہت خواہشمند ہیں تو کیا میں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں ؟ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ ہاں ! اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔

۱۸۔عمریٰ اور رقبیٰ کے بارے میں

حضرت جابر بن عبداﷲؓ نے بیان فرمایا کہ نبیﷺ نے عمریٰ کے متعلق فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس کا ہو جاتا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہو۔(عمریٰ میں کوئی شخص اپنا گھر وغیرہ کسی کو تا حیات استعمال کے لیے دیتا تھا جب کہ رقبیٰ میں یوں کہا جاتا کہ یہ گھر میرا ہے لیکن اگر میں پہلے مرگیا تو تمہارا ہو گا اور تم پہلے مر گئے تو میرا ہی رہے گا)

۱۹۔دلہن کے لیے کپڑے مستعار لینا

حضرت عبدالواحد بن ایمنؓ نے فرمایا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوے تو آپ قطر ایمن کا ایک دبیز کھردرا کپڑے کی قمیص پہنے ہوئے تھیں۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: ذرا نظر اٹھا کر میری اس باندی کو تو دیکھو۔ اسے گھر میں یہ کپڑا پہننے سے انکار ہے حالانکہ نبیﷺ کے زمانے میں میرے پاس اسی کی قمیص تھی۔ جب کوئی دلہن بنائی جاتی تو میرے یہاں آدمی بھیج کر وہ قمیص منگا لیتی تھی۔

۲۰۔مہاجرین کا انصار کے باغ میں کام کرنا

حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو ان کے ساتھ کوئی بھی سامان نہ تھا۔ انصار زمین اور جائیداد والے تھے۔ انصار نے مہاجرین سے یہ معاملہ کر لیا کہ وہ اپنے اموال میں سے انہیں ہر سال پھل دیا کریں گے اور اس کے بدلے میں مہاجرین ان کے باغات میں کام کیا کریں گے۔حضرت انسؓ کی والدہ اُمّ سلیم نے رسول اﷲﷺ کو کھجور کا ایک باغ ہدیۃً دیا تو آنحضورﷺ نے وہ باغ اپنی موالاۃ ام ایمنؓ کو جو اسامہ بن زیدؓ کی والدہ تھیں عنایت فرما دیا تھا۔

۲۱۔فتح خیبر کے بعد مہاجرین کا ہدایا واپس کرنا

حضرت انس بن مالکؓ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ خیبر کے یہودیوں کے استیصال سے فارغ ہو کر مدینہ واپس تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے ہدایا واپس کر دیئے جو انہوں نے پھلوں کی صورت میں دے رکھے تھے۔کیونکہ اب مہاجرین کے پاس بھی خیبر کی غنیمت میں سے مال آ گیا تھا۔ آپؐ نے انسؓ کی والدہ کا باغ بھی واپس کر دیا اور ام ایمنؓ کو اس کے بجائے اپنے باغ میں سے کچھ درخت عنایت فرمائے

۲۲۔دودھ والی بکری ہدیہ کر نے کی فضیلت

حضرت عبداﷲ بن عمروؓ مروی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ چالیس خصلتیں ایسی ہیں کہ جو شخص ثواب کی نیت سے اور اﷲ کے وعدے کو سچا سمجھتے ہوئے ان میں سے ایک خصلت پر بھی عامل ہو گا تو اﷲ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ان خصلتوں میں سب سے اعلیٰ و ارفع دودھ دینے والی بکری کا ہدیہ کرنا ہے۔



٭٭٭

۴۸۔کتاب الشہادات (گواہی کا بیان)



۱۔گواہی میں غیر ذمہ داری برتنے والے

حضرت عبداﷲؓ نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر میرے عہد کے لوگ ہیں۔ پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے۔ پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگوں کا زمانہ آئے گا، جن کی زبان سے لفظ شہادت قسم سے پہلے نکل جائے گا اور قسم شہادت سے پہلے (یعنی گواہی دینے کے معاملے میں وہ غیر ذمہ دار ہوں گے )۔

۲۔جھوٹی شہادت ایک بڑا گناہ ہے

حضرت ابوبکرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کیا میں تم لوگوں کو سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤں ؟ آپﷺ نے یہ بات تین مرتبہ دہرانے کے بعد فرمایا کہ اﷲ کا کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ نے اگلی بات کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے سیدھے بیٹھ کر فرمایا کہ ہاں اور جھوٹی شہادت بھی۔ حضور اکرمﷺ نے اس آخری جملے کو متعدد مرتبہ دہرایا۔

۳۔حضرت عائشہؓ کے گلے کا ہار گم ہونا

حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ ایک غزوہ کے موقع پر میں آپﷺ کے ساتھ تھی۔ جب رسول اﷲﷺ غزوہ سے فارغ ہو کر واپس ہوئے اور ہم مدینہ کے قریب پہنچ گئے تو ایک رات آپ نے کوچ کا اعلان کرا دیا۔ جب کوچ کا اعلان ہو رہا تھا اور میں قضاء حاجت کے بعد کجاوے کے قریب واپس آئی تو میں نے دیکھا کہ میرا ظفار کے جزع کا ہار گلے میں موجود نہیں تھا۔

۴۔لشکر سے بچھڑ کر دوبارہ ملنا

چنانچہ میں وہاں دوبارہ پہنچی اور میں نے ہار کو تلاش کرنا شروع کیا تو اس میں دیر ہو گئی اور لشکر روانہ ہو گیا۔ جب میں پڑاؤ کی جگہ آئی تووہاں کوئی موجود نہ تھا۔ اس لیے میں اس جگہ بیٹھ گئی جہاں پہلے میرا قیام تھا۔ میں یوں ہی بیٹھی ہوئی تھی کہ میری آنکھ لگ گئی اور میں سوگئی۔ لشکر یوں کی گری ہوئی چیزوں کو اٹھا کر انہیں ان کے مالک تک پہنچانے کی ذمہ داری پر مامور صفوان بن معطل سلمی ثم زکوانیؓ لشکر کے پیچھے پیچھے تھے۔ وہ میری طرف سے گزرے تو مجھے پہچان لیا۔ اس لیے کہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے۔ ان کے اناﷲ پڑھنے پر میں بیدار ہو گئی۔ آخر انہوں مجھے اپنے اونٹ پر بٹھایا اور وہ خود اس کے آگے آگے چلنے لگے۔ اسی طرح جب ہم لشکر کے قریب پہنچے تو لوگ بھری دوپہر میں آرام کے لیے پڑاؤ ڈال چکے تھے۔

۵۔منافقین کی تہمت پر عائشہ کا آزردہ ہونا

بس اتنی سی بات تھی جس کی بنیاد پر جسے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوا۔ اور تہمت کے معاملے میں پیش پیش عبداﷲ بن ابی بن سلول (منافق) تھا پھر ہم مدینہ آ گئے اور میں ایک مہینہ تک بیمار رہی۔ تہمت لگانے والوں کی باتوں کا خوب چرچا ہو رہا تھا۔ اپنی اس بیماری کے دوران مجھے رسول اﷲﷺ کی وہ توجہ بھی نہیں ملی جس کا مشاہدہ اپنی پچھلی بیماریوں میں کر چکی تھی۔ جب کہ جو باتیں تہمت لگانے والے پھیلا رہے تھے، ان میں سے کوئی بات مجھے معلوم نہیں تھی۔ ایک رات میں اُمّ مسطح کے ساتھ مناصع کی طرف قضائے حاجت کے لیے جا رہی تھی کہ وہ اپنی چادر میں الجھ کر گر پڑیں اور ان کی زبان سے نکل گیا۔ مسطح برباد ہو۔ میں نے کہا بری بات آپ نے زبان سے نکالی۔ ایسے شخص کو برا کہہ رہی ہیں آپ جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے۔ وہ کہنے لگیں ارے وہ جو کچھ ان سبھوں نے کہا ہے وہ آپ نے نہیں سنا۔ پھر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی ساری باتیں سنائی اور ان باتوں کو سن کر میری بیماری اور بڑھ گئی۔

۶۔والدہ کا حضرت عائشہ کو سمجھانا

میں جب اپنے گھر واپس ہوئی تو نبیﷺ سے عرض کیا کہ آپﷺ مجھے والدین کے یہاں جانے کی اجازت دیجئے۔ اجازت ملنے پر اپنے والدین کے گھر آ کر میں نے اپنی والدہ سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جو لوگوں میں پھیلی ہوئی تھیں۔ انہوں نے فرمایا، بیٹی! اس طرح کی باتوں کی پروانہ کرو۔ خدا کی قسم شاید ہی ایسا ہو کہ تم جیسی حسین و خوبصورت عورت کسی مرد کے گھر میں ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں، پھر بھی اس طرح کی باتیں نہ پھیلائی جایا کریں۔ میں نے کہا: سبحان اﷲ! سوکنوں کا کیا ذکر وہ تو دوسرے لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ وہ رات میں نے وہیں گزاری۔ صبح تک یہ عالم تھا کہ آنسو نہیں تھمتے تھے اور نہ نیند آئی۔

۷۔باندی بریرہؓ کا مالکہ عائشہؓ کی گواہی دینا

صبح ہوئی تو رسول اﷲﷺ نے اپنی بیوی کو جدا کرنے کے سلسلے میں علیؓ بن ابی طالب اور اسامہ بن زیدؓ کو بلوایا۔ اسامہؓ کو آپﷺ کی اپنے اہل کے ساتھ محبت کا علم تھا۔ اس لیے اسی کے مطابق مشورہ دیا اور کہا کہ آپﷺ کی بیوی یا رسول اﷲﷺ بخدا ہم ان کے متعلق خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتے۔ لیکن حضرت علیؓ نے فرمایا: یا رسول اﷲ! اﷲ تعالیٰ نے اس سلسلے میں آپﷺ پر کوئی تنگی نہیں کی ہے۔ عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں۔ باندی سے بھی آپﷺ دریافت فرما لیجئے۔ وہ سچی بات بیان کریں گی۔ چنانچہ نبیﷺ نے عائشہؓ کی خاص خادمہ بریرہؓ کو بلایا اور دریافت فرمایا کہ کیا تم نے عائشہؓ میں کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جس سے تمہیں شبہ ہوا ہو۔ بریرہؓ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ میں نے ان میں ایسی کوئی چیز بھی نہیں دیکھی جس کا عیب میں ان پر لگاسکوں۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ وہ نو عمر لڑکی ہیں۔ آٹا گوندھ کر سوجاتی ہیں اور اس لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے بکری آ کر آٹا کھا لیتی ہے۔

۸۔ اوس و خزرج قبیلہ کے لوگوں کا مشتعل ہو جانا

اسی دن رسول اﷲﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر عبداﷲ بن ابی بن سلول کے بارے میں مدد چاہی اور کہا کہ ایک ایسے شخص کے بارے میں میری کون مدد کر سکتا ہے جس کی اذیت اور تکلیف دہی کا سلسلہ اب میری بیوی کے معاملے تک پہنچ چکا ہے۔ بخدا اپنی بیوی کے بارے میں خیر کے سوا اور کوئی چیز مجھے معلوم نہیں اور اس نے اس معاملے میں نام بھی ایک ایسے آدمی کا لیا ہے جس کے متعلق میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتا۔ خود میرے گھر میں بھی جب وہ آئے ہیں تو میرے ساتھ ہی آئے ہیں۔ یہ سن کر قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اﷲﷺ ! واﷲ میں آپ کی مدد کروں گا۔ اگر تہمت لگانے والا وہ شخص اوس سے ہو گا تو ہم اس کی گردن مار دیں گے۔ اور اگر خزرج کا آدمی ہے تو آپﷺ ہمیں حکم دیں۔ آپ کا جو بھی حکم ہو گا، ہم تعمیل کریں گے۔ پھر قبیلہ خزرج کے سردار سعد بن عبادہؓ کھڑے ہو گئے۔ گو اس سے پہلے آپ بہت صالح تھے لیکن اس وقت سعد بن معاذؓ کی بات پر حمیت سے غصہ ہو گئے اور سعد بن معاذؓ سے کہنے لگے۔ خدا کے دوام و بقاء کی قسم! تم جھوٹ بولتے ہو۔ نہ تم اسے قتل کر سکتے ہو اور نہ تمہارے اندر اس کی طاقت ہے۔ پھرسعد بن معاذؓ کے چچا زاد بھائی اسید بن حضیررؓ کھڑے ہو گئے اور کہا خدا کی قسم! اگر رسول اﷲﷺ کا حکم ہوا توہم اسے قتل کر دیں گے۔اب کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ تم بھی منافق ہو۔ کیونکہ منافقوں کی طرف سے مدافعت کرتے ہو۔ اس پر اوس و خزرج دونوں قبیلوں کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور آگے بڑھنے ہی والے تھے کہ رسول اﷲﷺ جو ابھی تک منبر پر تشریف رکھتے تھے منبر سے اترے اور لوگوں کو ٹھنڈا کیا۔ اب سب لوگ خاموش ہو گئے اور نبیﷺ بھی خاموش ہو گئے۔

۹۔حضرت عائشہؓ کا تہمت پر تبصرہ سے انکار

پھر میرے پاس میرے والدین آئے۔ میں دو راتوں اور ایک دن سے برابر روتی رہی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ روتے روتے میرے دل کے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ والدین ابھی میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری خاتون آئیں اور وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگیں۔ اسی دوران رسول اﷲﷺ اندر تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ آپﷺ ایک مہینے تک انتظار کرتے رہے تھے۔ لیکن میرے معاملے میں کوئی وحی آپ پر نازل نہیں ہوئی تھی۔ حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ پھر حضور اکرمﷺ نے تشہد پڑھی اور فرمایا: عائشہؓ تمہارے متعلق مجھے فلاں فلاں باتیں معلوم ہوئی ہیں۔ اگر تم اس معاملے میں بری ہو تو اﷲ تعالیٰ بھی تمہاری برات ظاہر کر دے گا۔ اور اگر تم نے گناہ کیا ہے تو اﷲ تعالیٰ سے مغفرت چاہو اور اس کے حضور توبہ کرو کہ بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کر لیتا ہے اور پھر توبہ کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ میں نے اپنے والد حضرت ابوبکرؓ اور والدہ سے کہا کہ آپ رسول اﷲﷺ سے میرے متعلق کچھ کہئے۔ لیکن انہوں نے فرمایا،: بخدا ہمیں نہیں معلوم کہ نبیﷺ کو کیا کہنا چاہئے۔تب میں نے کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگوں نے بھی لوگوں کی افواہ سنی ہے اور آپ لوگوں کے دلوں میں وہ بات بیٹھ گئی ہے۔اس لیے اب اگر میں کہوں کہ میں اس بہتان سے بری ہوں اور اﷲ خوب جانتا ہے کہ میں واقعی اس سے بری ہوں، تو آپ لوگ میری اس معاملے میں تصدیق نہیں کریں گے۔ لیکن اگر میں گناہ کو اپنے ذمے لے لوں، حالانکہ اﷲ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ لوگ میری بات کی تصدیق کر دیں گے۔ بخدا میں اس وقت اپنی اور آپ لوگوں کی کوئی مثال یوسفؑ کے والد یعقوبؑ کے سوا نہیں پاتی کہ انہوں نے بھی فرمایا تھا’’پس مجھے صبر جمیل عطا ہو اور جو کچھ تم کہتے ہو اس معاملے میں میرا مدد گار اﷲ تعالیٰ ہے ‘‘۔

۱۰۔وحی کے ذریعہ عائشہؓ کی برات کا اعلان

اس کے بعد بستر پر میں نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا اور مجھے امید تھی کہ خود اﷲ تعالیٰ میری برات کریں گے۔گو میرا یہ خیال کبھی نہ تھا کہ میرے متعلق وحی نازل ہو گی تاہم مجھے اتنی امید ضرور تھی کہ آپﷺ کوئی خواب دیکھیں گے۔ جس میں اﷲ تعالیٰ مجھے بری فرما دے گا۔ خدا گواہ ہے کہ ابھی آپﷺ اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ تھے اور نہ اس وقت تک گھر میں موجود کوئی باہر نکلا تھا کہ آپ پر وحی نازل ہونے لگی۔ اور شدت وحی سے آپ جس طرح پسینے پسینے ہو جاتے تھے وہی کیفیت اب بھی تھی۔ پسینے کے قطرات موتیوں کی طرح آپﷺ کے جسم مبارک پر گرنے لگے، حالانکہ سردی کا موسم تھا۔ جب وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو آپﷺ ہنس رہے تھے اور سب سے پہلا کلمہ جو آپ کی زبان سے نکلا وہ یہ تھا : عائشہ اﷲ کی حمد بیان کرو کہ اس نے تمہیں بری قرار دیا۔ میری والدہ نے کہا جاؤ رسول اﷲﷺ کے سامنے جا کر کھڑی ہو جاؤ۔ میں نے کہا: نہیں، خدا کی قسم! میں حضور اکرمﷺ کے سامنے جا کر کھڑی نہیں ہوں گی سوائے اﷲ کے اور کسی کی حمد بیان نہیں کروں گی۔ اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تھی (ترجمہ) ’’جن لوگوں نے تہمت تراشی کی ہے، وہ تم میں سے کچھ لوگ ہیں ‘‘۔

۱۱۔عدالت میں کسی فردکی اچھائی کی گواہی دینا

حضرت ابوبکرہؓ راوی ہیں کہ ایک شخص نے نبیﷺ کے سامنے کسی دوسرے شخص کی تعریف کی تو آپﷺ کئی مرتبہ یہ فرمایا کہ افسوس ! تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔ پھر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کے لیے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنا ناگزیر ہی ہو جائے تو یوں کہنا چاہیئے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں۔ویسے اﷲ اس کے لیے کافی ہے اور اس کے باطن سے بھی واقف ہے۔ میں قطعیت اور یقین کے ساتھ کسی کی عدالتی گواہی (تعدیل) نہیں کر سکتا ہاں ! اس کے متعلق مجھے فلاں فلاں باتیں معلوم ہیں۔

۱۲۔جہاد میں شرکت کی کم از کم عمر

حضرت عبداﷲ ابن عمرؓ نے فرمایا کہ اُحد کی لڑائی کے موقعہ پر وہ رسول اﷲﷺ کے سامنے محاذ پر جانے کے لیے پیش ہوئے تو انہیں اجازت نہیں ملی۔ اس وقت ان کی عمر چودہ سال تھی۔ پھر غزوہ خندق کے موقعہ پر پیش ہوئے تو اجازت مل گئی۔ اس وقت آپ کی عمر پندرہ سال تھی۔

۱۳۔واجب قسم کھانے میں سبقت کی کوشش

حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ رسول اﷲﷺ نے ایک مقدمے میں مدعی علیہ چند اشخاص سے قسم کھانے کے لیے کہا توقسم کے لیے سب ایک ساتھ آگے بڑھے۔ آنحضورﷺ نے حکم دیا کہ قسم کھانے کے لیے ان میں باہم قرعہ اندازی کی جائے کہ پہلے کون قسم کھائے۔

۱۴۔قسم صرف اللہ کی کھانی چاہیے

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو وہ اﷲ کی قسم کھائے ورنہ پھر اسے خاموش رہنا چاہئے۔

٭٭٭


۴۹۔کتاب الصلح



۱۔باہم صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا

حضرت اُمّ کلثوم بنت عقبہؓ مروی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں میں باہم صلح کرانے کی کوشش کرے اور اس کے لیے کوئی اچھی بات کی چغلی کھائے۔

۲۔ صلح کرانے کے لیے لوگوں کو ساتھ لینا

حضرت سہل بن سعدؓ نے کہتے ہیں کہ قبا کے لوگوں کے درمیان آپس میں جھگڑا ہوا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک دوسرے پر پتھر پھینکے گئے۔ حضور اکرمﷺ کو جب اس کی اطلاع دی گئی تو آپﷺ نے فرمایا، چلو ہم ان میں باہم صلح کرائیں گے۔

۳۔خالہ ماں کی قائم مقام ہوتی ہے

حضرت براء ابن عازبؓ مروی ہیں کہ نبیﷺ نے ذیقعدہ کے مہینے میں عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ روانہ ہوئے لیکن مکہ کے لوگوں نے آپ کو شہر میں داخل نہ ہونے دیا۔ آخر یہ طے پایا اگلے سال آپ مکہ میں تین دن تک قیام کریں گے۔ چنانچہ اگلے سال آپﷺ مکہ تشریف لے گئے اور جب تین دن پورے ہو گئے تو قریش حضرت علیؓ کے پاس آئے اور کہا کہ اپنے صاحب سے کہئے کہ مدت پوری ہو گئی ہے۔چنانچہ نبی کریمﷺ مکہ سے روانہ ہونے لگے۔ حضرت حمزہؓ کی ایک بچی چچا چچا کرتی آئیں تو حضرت علیؓ نے انہیں اپنے ساتھ لے لیا کہ یہ میرے چچا کی بچی ہے۔ حضرت جعفرؓ نے فرمایا یہ میرے بھی چچا کی بچی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں بھی ہے۔ حضرت زیدؓ نے فرمایا یہ میرے بھائی کی بچی ہے۔ جب تنا زعہ بڑھا تو نبیﷺ نے بچی کی خالہ کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا کہ خالہ ماں کی طرح ہوتی ہے اور حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔حضرت جعفرؓ سے فرمایا کہ تم صورت اور عادات و اخلاق سب میں مجھ سے مشابہ ہو۔ حضرت زیدؓ سے فرمایا کہ تم ہمارے بھائی بھی ہو اور ہمارے مولا بھی۔

۴۔ حسنؓ دو گروہوں میں صلح کرائیں گے

حضرت ابوبکرہؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو منبر پر یہ فرماتے سنا ہے کہ حسن بن علیؓ آنحضورﷺ کے پہلو میں تھے اور آنحضورﷺ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی حسنؓ کی طرف اور فرماتے کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور شاید اس کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔

۵۔ صلح کرانے کے لیے کسی بڑے کا دخل دینا

حضرت عائشہؓ نے فرمایا رسول اﷲﷺ نے دروازے پر جھگڑا سننے والے کی آواز سنی۔ ایک شخص دوسرے سے قرض میں کچھ کمی کرنے اور مطالبے میں نرمی برتنے کے لیے کہہ رہا تھا اور دوسرا کہتا تھا خدا کی قسم میں یہ نہیں کر سکتا آخر رسول اﷲﷺ ان کی طرف گئے اور فرمایا اس بات پر خدا کی قسم کھانے والے صاحب کہاں ہیں کہ وہ ایک اچھا کام نہیں کریں گے۔ ان صحابیؓ نے عرض کیا، میں ہی ہوں یا رسول اﷲ! میرا فریق جو چاہتا ہے وہی کر دوں گا۔

٭٭٭

۵۰۔کتاب الشروط (شرائط کا بیان)



۱۔عقد نکاح کے وقت مَہر کی شرطیں

سیدنا عقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا سب شرطوں میں پورا کرنے کی زیادہ مستحق وہ شرطیں ہیں جن کے ذریعے تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو اپنے اوپر حلال کیا ہے۔

۲۔ حدود کی سزا کے بدلے میں شرطیں جائز نہیں

سیدنا ابو ہریرہؓ اور سیدنا زید بن خالد جہنیؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اﷲﷺ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! میں آپ کو اﷲ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ میرے لئے کتاب اﷲ سے فیصلہ کر دیجئے۔ دوسرے فریق نے کہا کہ ہاں آپﷺ ہمارے درمیان کتاب اﷲ سے فیصلہ کر دیجئے۔ پس رسول اﷲﷺ کے پوچھنے پر اس نے کہا کہ میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے کو اس جرم میں رجم کر دیا جائے گا تو میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک لونڈی اس شخص کو دی۔ مگر اہل علم کہتے ہیں کہ میرے بیٹے پر سودُرے اور ایک سال کی جلاوطنی واجب ہے اور اس کی بیوی پر رجم واجب ہے۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ میں تم دونوں کے درمیان کتاب اﷲ سے فیصلہ کئے دیتا ہوں۔ لونڈی اور بکریاں تجھے واپس مل جائیں گی اور تیرے بیٹے پر سودُرے اور ایک سال کی جلاوطنی کا حکم دیا جائے گا اور اے انیس تم اس شخص کی عورت کے پاس جاؤ اگر وہ اقرار کر لے تو اسے سنگسار کر دینا۔ سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ اس عورت نے اقرار کر لیا اس لئے رسول اﷲﷺ نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا اور وہ سنگسار کر دی گئی۔

۳۔حضرت عمرؓ کا یہودیوں کو خیبر سے باہر نکالنا

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ جب خیبر والوں نے ان کے ہاتھ پاؤں توڑ ڈالے تو سیدنا عمرؓ خطبہ پڑھنے کھڑے ہو گئے اور کہا کہ بیشک رسول اﷲﷺ نے خیبر کے یہودیوں سے ان کے مالوں کی بابت معاملہ کیا تھا اور فرمایا تھا جب تک اﷲ تم کو قائم رکھے گا تو ہم بھی تم کو قائم رکھیں گے۔لیکن جب عبداﷲ بن عمرؓ اپنی جائداد پر وہاں گئے تو ان پر شب کے وقت ظلم کیا گیا اور ان کے دونوں ہاتھ اور پیر توڑ دیئے گے اور ان یہودیوں کے سوا کوئی ہمارا دشمن وہاں نہیں ہے۔ اور ہمارا شبہ انہیں پر ہے چنانچہ اب میں ان کا جلا وطن کر دینا مناست سمجھتا ہوں۔ اس بات کا علم ہوتے ہی ابو حقیق کی اولاد میں سے کوئی شخص حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور کہا کہ اے امیر المومنین! کیا آپ ہمیں شہر بدر کر دیں گے حالانکہ محمد (ﷺ ) نے ہمیں یہاں باقی رکھا تھا بلکہ یہاں رہنے کی آپ نے شرط بھی لگائی تھی۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اﷲﷺ کایہ قول بھول گیا ہوں جب حضورﷺ نے تم سے کہا تھا کہ تمہارا کیا حال ہو گا جب تم خیبر سے نکالے جاؤ گے اور تمہارے اونٹ تمہیں راتوں میں لیے لیے پھریں گے۔ اُس نے کہا یہ تو ابوالقاسم (ﷺ ) کا مذاق تھا۔ سیدنا عمرؓ نے کہا اے اﷲ کے دشمن تو جھوٹ بولتا ہے۔چنانچہ سیدنا عمرؓ نے انہیں شہر بدر کر دیا اور ان کے اسباب کی قیمت انہیں ادا کر دی۔

۴۔حضورؐ کا بن دیکھے خالد بن ولید کا مقام بتانا

سیدنا مِسور بن مخرمہ اور سیدنا مروانؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ زمانہ حدیبیہ میں تشریف لے چلے یہاں تک کہ جب آپﷺ اثنائے راہ میں تھے تو (بطورِ معجزہ) فرمایا کہ خالد بن ولید مقام غمیم میں قریش کے سواروں کے ساتھ مقدمۃ الجیش ہیں پس تم داہنی جانب چلو اور اسی طرف خالد بھی تھے۔ مگر اﷲ کی قسم خالد کو مسلمانوں کا آنا معلوم بھی نہیں ہوا یہاں تک کہ جب لشکر کا غبار ان کے پاس پہنچا تو ان کو معلوم ہوا کہ نبیﷺ آ گئے اور فوراً ایک شخص قریش کو خبر دینے کے لیے چل دیا۔

۵۔معجزہ رسولؐ ، گڑھے میں سے پانی کا اُبلنا

… اور نبیﷺ برابر چلے جا رہے تھے یہاں تک کہ جب آپﷺ اس پہاڑی پر پہنچے جس کے اوپر سے ہوکے مکہ میں اترتے تھے تو آپﷺ کی اونٹنی بیٹھ گئی۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ اونٹنی قصوا خود سے نہیں بیٹھی بلکہ اسے اس ذات نے روکا ہے جس نے ہاتھی کو روکا تھا۔ اس کے بعد آپﷺ نے اس کو ڈانٹا تو اس نے جست کی اور وہ سب کی طرف سے ہٹ گئی یہاں تک کہ حدیبیہ کے کنارے ایک گڑھے پر بیٹھ گئی جس میں پانی بہت کم تھا۔ لوگ اس میں سے تھوڑا تھوڑا پانی لیتے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں لوگوں نے اس کو صاف کر دیا اور نبیﷺ سے پیاس کی شکایت کی۔ آپﷺ نے ایک تیر اپنے ترکش سے نکال دیا اور انہیں حکم دیا کہ اس کو اس پانی میں گاڑ دیں۔ پس اﷲ کی قسم پانی ان کے لیے جوش کرنے لگا یہاں تک کہ سب اس سے سیراب ہو گئے۔

۶۔ چشموں پر قابض لوگوں کا جنگ کا ارادہ

پس وہ اسی حال میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی اپنی قوم کے چند لوگوں کے ہمراہ خزاعہ سے آیا اور یہ لوگ رسول اﷲﷺ کے خیر خواہ، تہامہ کے لوگوں میں سے تھے۔ اس نے کہا کہ میں نے کعب بن لوی اور عامر بن لوی کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ حدیبیہ کے عمیق چشموں پر فروکش ہیں، ان کے ہمراہ دودھ والی اونٹنیاں ہیں اور وہ لوگ آپﷺ سے جنگ کرنا چاہتے ہیں اور آپ کو کعبہ سے روکنا چاہتے ہیں تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ہم کسی سے لڑنے کے لیے نہیں آئے، بلکہ ہم تو عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں۔ پس اگر وہ چاہیں تو میں ان سے کوئی مدت مقرر کر لوں اور وہ میرے اور کفار عرب کے درمیان میں دخل نہ دیں۔اگر میں غالب آ جاؤں تو اگر وہ چاہیں کہ اس دین میں داخل ہوں جس میں اور لوگ داخل ہوئے ہیں تو ایسا کریں اور میں غالب نہ آؤں تو پھر وہ آرام اٹھائیں۔ اور اگر وہ لوگ اس بات کو منظور نہ کریں گے تو قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اپنی اسی حالت میں ان سے لڑوں گا یہاں تک کہ میں قتل کر دیا جاؤں اور بیشک اﷲ اپنے دین کو جاری کرے گا۔

۷۔ محمدﷺ کی بادشاہوں سے بڑھ کر تعظیم

… یہ سن کر بدیل قریش کے پاس پہنچا اور نبیﷺ کی بات اُن سے بیان کی۔ تو عروہ بن مسعود کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ اے لوگو! کیا میں تمہارا باپ نہیں ہوں ؟ ان لوگوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر عروہ نے کہا کہ کیا تم مثل میرے بیٹے کے نہیں ہو؟ ان لوگوں نے کہا کہ ہاں۔ عروہ نے کہا کیا تم مجھ سے کسی قسم کی بدظنی رکھتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ عروہ نے کہا تو اچھا اب میری ایک بات مانو اس شخص یعنی رسول اﷲﷺ نے تمہارے سامنے ایک اچھی بات پیش کی ہے۔ اس کو منظور کر لو اور مجھے اجازت دو کہ میں اس کے پاس جاؤں۔ سب لوگوں نے کہا اچھا تم اس کے پاس جاؤ چنانچہ عروہ نبیﷺ کے پاس آیا اور نبیﷺ سے گفتگو کرنے لگا۔تو نبیﷺ نے ویسی ہی گفتگو کی جیسی بدیل سے کی تھی۔ پھر عروہ اپنے لوگوں کے پاس لوٹ کرگیا اور کہا کہ اے لوگو! اﷲ کی قسم میں بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں اور قیصروکسریٰ اور نجاشی کے دربار میں گیا ہوں مگر اﷲ کی قسم میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے مصاحب اس کی اس قدر تعظیم کرتے ہوں، جس قدر محمدﷺ کے اصحاب محمدؐ کی تعظیم کرتے ہیں۔ جب گفتگو کرتے ہیں تو اپنی آوازیں ان کے سامنے پست رکھتے ہیں۔بے شک انہوں نے تمہارے سامنے ایک عمدہ بات پیش کی ہے، لہٰذا تم اس کو مان لو۔

۸۔قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرنا

… بنی کنانہ میں سے ایک شخص نے کہا کہ تم مجھے اجازت دو کہ میں ان کے پاس جاؤں۔ لوگوں سے اجازت ملنے پر جب وہ نبیﷺ اور آپ کے اصحاب کے سامنے آیا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ یہ فلاں شخص ہے اور وہ اس قوم میں سے ہے جو قربانی کے جانوروں کی تعظیم کیا کرتے ہیں لہٰذا تم قربانی کا جانور اس کے سامنے پیش کرو۔ چنانچہ ہدی اس کے سامنے پیش کی گئی اور لوگوں نے تلبیہ کہتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ پس اس نے یہ دیکھا تو کہنے لگا: سبحان اﷲ ان لوگوں کو کعبہ سے روکنا زیبا نہیں۔ پھر جب وہ اپنے لوگوں کے پاس لوٹ کرگیا تو کہنے لگا میں نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا کہ انہیں قلادہ پہنائے گئے تھے اور ان کا شعار کیا ہوا تھا۔ لہٰذا میں مناسب نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ کعبہ سے روکے جائیں۔

۹۔صلح حدیبیہ کی شرائط کا تحریر کیا جانا

…پھر ایک شخص ان میں سے کھڑا ہو گیا۔ جس کا نام مکرز بن حفص تھا۔ اس نے کہا کہ مجھے اجازت دو کہ میں محمدﷺ کے پاس جاؤں۔ لوگوں سے اجازت ملنے پر جب وہ مسلمانوں کے پاس آیا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ مکرز ہے اور یہ ایک بدکار آدمی ہے۔ پھر وہ نبیﷺ سے گفتگو کرنے لگا۔ اسی دوران سہیل بن عمر و نامی ایک شخص کافروں کی طرف سے آیا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ اب تمہارا کام آسان کر دیا گیا۔سہیل بن عمرو نے کہا کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان میں صلح نامہ لکھ دیجئے۔پس نبیﷺ نے کاتب کو بلایا اور نبیﷺ نے اس سے فرمایا کہ لکھ ’’یہ وہ تحریر ہے کہ جس پر محمد رسول اﷲ (ﷺ ) نے صلح کی‘‘ سہیل نے کہا کہ اﷲ کی قسم اگر ہم جانتے کہ آپ اﷲ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو کعبہ سے نہ روکتے اور نہ آپ سے جنگ کرتے۔ لہٰذا آپ یہ لکھوایئے کہ محمد بن عبداﷲ۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ اﷲ کی قسم بے شک میں ا ﷲ کا رسول ہوں اور اگر تم لوگ میری تکذیب کرتے ہو تو محمد بن عبداﷲ لکھوا دو۔ پھر نبیﷺ نے فرمایا ’’اس بات پر کہ اے کفار مکہ! تم ہمارے اور کعبہ کے درمیان میں راہ صاف کر دو کہ ہم اس کا طواف کر لیں ‘‘ سہیل نے کہا کہ اﷲ کی قسم ! کہیں عرب یہ نہ کہیں کہ ہم مجبور کر دیئے گئے لہٰذا آئندہ سال میں یہ بات ہو جائے گی۔ چنانچہ نبیﷺ نے یہی لکھوا دیا۔ پھر سہیل نے کہا کہ یہ بھی لکھوا دیجئے کہ ’’ اور اس بات پر کہ اے محمدﷺ ! ہماری طرف سے جو شخص تمہارے ہاں جائے، اگرچہ وہ تمہارے دین پر ہو تم اسے ہماری طرف واپس کر دو‘‘۔ مسلمانوں نے کہا سبحان اﷲ وہ کیونکر مشرکوں کے پاس واپس کر دیا جائے ؟ حالانکہ وہ مسلمان ہوکے آیا ہے۔

۱۰۔ صلح حدیبیہ اور سید نا ابو جندلؓ کا پا بہ زنجیر آنا

… اسی دوران میں سیدنا ابو جندل بن سہیل اپنی بیڑیوں کو لڑکھڑاتے ہوئے آئے اور اپنے آپ کو مسلمانوں کے درمیان میں ڈال دیا۔ سہیل نے کہا کہ اے محمد (ﷺ )! صلح کی پہلی شرط یہی ہے کہ تم ابو جندل کو مجھے واپس دے دو تو نبیﷺ نے فرمایا کہ ہم نے ابھی تحریرختم تو نہیں کی۔ سہیل نے کہا تو اﷲ کی قسم ہم تم سے کسی بات پر کبھی صلح نہ کریں گے تو نبیﷺ نے فرمایا کہ اچھا اس ایک آدمی کی تم مجھے اجازت دے دو۔ سہیل نے کہا کہ میں ہرگز اس کی اجازت نہ دوں گا۔ ابو جندل نے کہا کہ اے مسلمانو! کیا میں مشرکوں کی طرف واپس کر دیا جاؤں گا؟ حالانکہ میں مسلمان ہوکے آیا ہوں کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں نے اسلام کے لیے کیا کیا تکلیفیں اٹھائی ہیں ؟ درحقیقت ابوجندل کو اﷲ کی راہ میں بہت سخت تکلیف دی گئی تھی۔

۱۱۔سیدنا عمرؓ کا صلح حدیبیہ میں نہ دبنے پر اصرار

سیدنا عمر بن خطابؓ کہتے ہیں کہ پھر میں نبیﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا کہ کیا آپ اﷲ کے سچے نبی نہیں ہیں ؟ نبیﷺ نے فرمایا کہ ہاں ! میں نے عرض کیا کہ کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے ؟ نبیﷺ نے فرمایا ہاں۔میں نے عرض کیا پھر ہم کیوں اپنے دین میں دبیں ؟ آپﷺ نے فرمایا میں اﷲ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا اور وہ میرا مدد گار ہے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ہم سے نہ بیان کرتے تھے کہ ہم کعبہ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے ؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں مگر کیا میں نے تم سے کہا تھا کہ ہم اسی سال کعبہ جائیں گے ؟ میں نے کہا نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا تو تم کعبہ جاؤ گے اور اس کا طواف بھی کرو گے۔ سیدناعمرؓ پھر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس گئے اور ان سے بھی وہی باتیں دُہرائیں جو وہ نبیﷺ سے کر چکے تھے۔ سیدنا ابو بکرؓ نے بھی انہیں وہی جواب دیا جو نبیﷺ نے انہیں دیا تھا۔ سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ اس گستاخی کے کفارہ میں مَیں نے بہت سی عبادتیں کیں۔

۱۲۔صلح حدیبیہ کی شرائط اور صحابہؓ کا رنج و غم

جب صلح نامہ کی تحریر سے فراغت ہوئی تو رسول اﷲﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ اٹھو! قربانی کر ڈالو اور سر منڈوا ڈالو۔آپﷺ نے تین مرتبہ یہی فرمایا لیکن صدمہ سے دوچار صحابہؓ میں سے کوئی بھی نہ اٹھے تو آپ سیدنا اُمّ سلمہؓ کے پاس گئے اور ان سے سارا ماجرا بیان کیا۔ اُمُّ المومنین اُمّ سلمہؓ نے کہا یا رسول اﷲ! اگر آپ ایسا چاہتے ہیں تو آپ ان میں سے کسی کے ساتھ کلام نہ کیجئے یہاں تک کہ آپ اپنے قربانی کے جانوروں کو ذبح کر دیجئے اور اپنا سر مونڈوا لیجئے۔ چنانچہ آپﷺ نے ایسا ہی کیا۔ اپنے قربانی کے جانور ذبح کر لئے اور اپنے سرمونڈوا لیا۔ پس صحابہؓ نے جب یہ دیکھا تو اٹھے اور انہوں نے بھی قربانی کی اور ان میں سے ایک دوسرے کا سرمونڈنے لگے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ رنج و غم میں ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گے۔

۱۳۔مشرک عورتوں سے شادی کی ممانعت کا حکم

پھر آپﷺ کے پاس کچھ مسلمان عورتیں آئیں تو اﷲ نے یہ آیت نازل فرمائی ’’اے مسلمانو! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان کر لو۔۔۔۔۔۔ اور کافر عورتوں کی ناموس اپنے قبضہ میں نہ رکھو‘‘ (الممتحنہ: ۱) پس سیدنا عمرؓ نے اس دن دو مشرک عورتوں کو جوان کے نکاح میں تھیں، طلاق دے دی۔ پس ان میں سے ایک کے ساتھ تو معاویہ بن ابوسفیان نے اور دوسری کے ساتھ صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا۔

۱۴۔صلح نامہ کی پاسداری کی نادر مثال

پھر جب نبیﷺ مدینہ لوٹ کر آئے تو قریشی النسل سیدنا ابو بصیرؓ مکہ سے فرار ہو کر نبیﷺ کے پاس آئے کہ وہ مسلمان ہو چکے تھے۔ کافروں نے ان کے تعاقب میں دو آدمی بھیجے اور نبیﷺ سے کہلوا بھیجا کہ جو عہد ہم سے آپ نے کیا ہے اس کا خیال کیجئے۔ پس آپﷺ نے سیدنا ابوبصیرؓ کو ان دونوں شخصوں کے حوالہ کر دیا اور وہ دونوں ابوبصیرؓ کو لے کر چلے۔

۱۵۔سیدنا ابوبصیرؓ کے ہاتھوں کافر کا قتل

یہاں تک کہ جب ذوالحلیفہ میں پہنچے تو وہ لوگ اتر کر اپنی کھجوریں کھانے لگے تو سیدنا ابوبصیرؓ نے ان میں سے ایک شخص سے کہا کہ اے فلاں ! اﷲ کی قسم میں تیری تلوار کو بہت عمدہ دیکھتا ہوں۔ پس اس شخص نے اپنی تلوار میان سے نکال لی اور کہنے لگا ہاں اﷲ کی قسم یہ بہت عمدہ ہے۔ میں نے اس کو کئی مرتبہ آزمایا ہے۔ سیدنا ابو بصیر نے کہا مجھے دکھاؤ میں بھی اس کو دیکھوں چنانچہ وہ تلوار اس نے سیدنا ابوبصیر کو دے دی۔ ابوبصیر نے اسے مارا یہاں تک کہ اس کو ٹھنڈا کر دیا اور دوسرا شخص بھاگ گیا اور مدینہ میں آیا اور دوڑتا ہوا مسجد میں گھس گیا تو رسول اﷲﷺ نے جب اسے دیکھا تو فرمایا کہ یہ کچھ خوف زدہ ہے۔ پھر جب وہ نبیﷺ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا ’’اﷲ کی قسم میرا ساتھی قتل کر دیا گیا اور میں بھی قتل کر دیا جاتا‘‘

۱۶۔کافروں کے مقابل ابو بصیرؓ ابو جندلؓ کا اتحاد

پھر سیدنا ابو بصیرؓ آئے اور انہوں نے کہا کہ ’’یا نبی اﷲ!بے شک اﷲ کی قسم! اﷲ نے آپﷺ کا ذمہ بَری کر دیا۔ آپ نے مجھے کفار کی طرف واپس کر دیا تھا۔ پھر اﷲ نے مجھے ان سے نجات دے دی‘‘ نبیﷺ نے فرمایا کہ یہ لڑائی کی آگ ہے اگر کوئی اس کا مددگار ہوتا تو یہ آگ بھڑک اٹھتی۔ پس جب یہ بات ابوبصیر نے سنی تو وہ سمجھ گئے کہ نبیﷺ پھر انہیں کفار کی طرف واپس کر دیں گے لہٰذا وہ چل دیئے یہاں تک کہ وہ دریا کے کنارے پہنچے اور اس طرف سے سیدنا ابو جندلؓ بن سہیل بھی چھوٹ کر آ رہے تھے راستہ میں وہ ابوبصیرؓ سے مل گئے۔ پس جو شخص قریش کا مسلمان ہو کر آتا تھا وہ ابوبصیر سے مل جاتا تھا۔یہاں تک کہ ان سب سے ایک جماعت پوری ہو گئی۔ پس اﷲ کی قسم جب وہ قریش کے کسی قافلہ کی نسبت سنتے تھے کہ وہ سام کی طرف جا رہا ہے تو وہ اس کی گھات میں رہتے اور ان کے آدمیوں کو قتل کرتے اور ان کے مال لے لیتے۔ پس قریش نے نبیﷺ کے پاس آدمی بھیجا اور آپ کو اﷲ کا واسطہ دلایا تاکہ آپ ابوبصیرؓ کو ان باتوں سے منع کرا بھیجیں اور جو شخص آپ کے پاس مسلمان ہوکے جائے۔ وہ بے خوف ہے۔ چنانچہ نبیﷺ نے ابوبصیر وغیرہ کو منع کرا بھیجا۔

۱۷۔اللہ کے نناوے نام یاد کر نے والا جنتی ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اﷲ کے ننانوے نام ہیں، یعنی ایک کم سو۔ جو شخص ان کو یاد کر لے وہ جنت میں داخل ہو گا۔

٭٭٭

۵۱۔کتاب الوصایا (وصیت کا بیان)



۱۔ وصیت لکھ رکھنے کی تا کید

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ مروی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو، جس کے پاس وصیت کے لائق کچھ مال ہو، یہ جائز نہیں کہ دو شب بھی بغیر اس کے رہے کہ وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔

۲۔نبیﷺ کا ترکہ سفید خچر اور ہتھیار

اُمُّ المومنین جویریہ بنت حارثؓ کے بھائی سیدنا عمرو بن حارثؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے اپنی وفات کے وقت نہ کوئی درہم چھوڑا اور نہ کوئی غلام، نہ کوئی لونڈی نہ اور کوئی چیز سوائے اپنے سفید خچر اور ہتھیار کے اور ایک زمین کے جن کو آپﷺ نے صدقہ کر دیا تھا۔

۳۔نبیﷺ نے خود کوئی وصیت کیوں نہ کی

سیدنا عبداﷲ بن ابی اوفیؓ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبیﷺ نے کچھ وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پوچھا گیا کہ پھر کیونکر وصیت فرض کی گئی یا انہیں کیونکر وصیت کا حکم دیا گیا؟ تو انہوں نے کہا کہ نبیﷺ نے کتاب اﷲ پر عمل کرنے کی وصیت کی تھی۔

۴۔بحا لتِ صحت صدقہ دینا افضل ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبیﷺ سے پوچھا کہ کو ن سا صدقہ افضل ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا یہ کہ تم بحالت صحت جب کہ تمہیں مال کی حرص ہو، مالداری کی خواہش ہو، تنگدستی کا خوف ہو، اس وقت صدقہ دو اور صدقہ میں تاخیر نہ کرو کہ جب جان حلق میں پہنچ جائے تو تم کہو کہ فلاں شخص کو اس قدر دینا اور فلاں شخص کو اس قدر دینا کیونکہ اب تو وہ فلاں شخص کا یعنی وارث کا ہو چکا ہے۔

۵۔عزیزو اقارب کو عذاب الٰہی سے ڈراؤ

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ جب اﷲ نے یہ آیت نازل فرمائی ’’ اور اپنے قریب کے عزیز، رشتہ داروں کو عذاب الٰہی سے ڈراؤ‘‘ (الشعراء: ۲۱۶) تو نبیﷺ کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ اے گروہِ قریش! تم اپنی جانوں کو بچاؤ! میں اﷲ کے عذاب سے تمہیں بھی نہیں بچا سکتا۔ اے بنی عبد مناف! میں تمہیں اﷲ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ اے عباس بن عبدالمطلب! میں تمہیں اﷲ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا اور اے صفیہ! (رسول اﷲﷺ کی پھوپھی) میں تمہیں اﷲ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ اور اے فاطمہ بنت محمد (ﷺ )! تم مجھ سے میرا مال جس قدر چاہو لے لو مگر میں اﷲ کے عذاب سے تمہیں بھی نہیں بچا سکتا۔

۶۔ اللہ کی راہ میں جائیداد وقف کرنا

سیدنا ابن عمرؓ راوی ہیں کہ امیر المومنین عمر بن خطابؓؓؓ نے اپنا ایک باغ رسول اﷲﷺ کے عہد میں خیرات کرنا چاہا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ تم اصل درخت کو اس شرط پر خیرات کر دو کہ وہ فروخت نہ کئے جائیں۔ نہ ہبہ کئے جائیں اور نہ ان میں وراثت جاری ہو بلکہ اس کا پھل اﷲ کی راہ میں خرچ ہو۔ چنانچہ سیدنا عمرؓ نے اس کو اسی شرط پر خیرات کر دیا۔ اس طرح کہ اس کی آمدنی مجاہدین، غلاموں کے آزاد کرانے، مسکینوں، مہمانوں، مسافروں اور قرابت والوں میں خرچ کیا جاتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ جو شخص اس کا متولی ہو اسے کچھ گناہ نہیں کہ دستور کے موافق کھا لے یا اپنے دوست کو کھلا دے۔ بشرطیکہ وہ اس فعل سے مال جمع کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔

۷۔سات تباہ کرنے والے گناہوں سے بچنا

سیدنا ابوہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ سات تباہ کرنے والے گناہوں سے بچے رہو۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اﷲﷺ ! وہ کون سے گناہ ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا: (۱) اﷲ کے ساتھ شرک کرنا۔(۲) جادو کرنا۔( ۳) اُس جان کا ناحق مارنا جس کو اﷲ نے حرام کیا ہے۔( ۴) سود کھانا۔( ۵) یتیم کا مال کھانا۔( ۶) جنگ سے بھاگنا۔(۷) اور پاک دامن، بے خبر مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔

۸۔وقف کے منتظم کا خرچہ

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ میرے وارث نہ دینار تقسیم کریں نہ درہم۔ جو کچھ میں اپنی بیبیوں کے خرچ اور اپنی جائیداد کے اہتمام کرنے والے کی مزدوری سے فاضل چھوڑوں تو وہ صدقہ ہے۔

۹۔ سیدنا عثمان بن عفانؓ کا باغیوں سے خطاب

سیدنا عثمان بن عفانؓ جب محاصرہ میں آ گئے تو وہ بلندی پر چڑھ کر باغیوں کے سامنے آئے اور کہا کہ میں تمہیں اﷲ کی قسم دیتا ہوں اور یہ قسم میں صرف اصحاب نبیﷺ کو دیتا ہوں کہ کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا تھا کہ جو شخص رومہ نامی کنواں خرید لے اسے جنت ملے گی تو میں نے اسے خرید لیا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جو شخص غزوہ تبوک میں مجاہدین کو سامانِ جنگ مہیا کر دے اسے جنت ملے گی تو میں نے سامان مہیا کر دیا۔ صحابہ کرامؓ نے عثمانؓ کی تصدیق کی۔

۱۰۔ وصیت کے وقت دو گواہ ہو نے چاہیے

سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بدا کے ساتھ سفر کو نکلا۔ پھر وہ ایسی سرزمین میں فوت ہوئے کہ وہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ جب تمیم اور عدیؓ ان کا ترکہ لائے تو چاندی کا ایک گلاس جس میں سنہری نقش تھے کھو گیا تو نبیﷺ نے ان دونوں کو قسم دی اور انہوں نے قسم کھا لی۔ اس کے بعد وہ گلاس مکہ میں جن کے پاس ملا انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کو تمیم اور عدی ص سے خریدا ہے۔ پھر وہ شخص میت کے اعزہ میں سے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ ہماری شہادت بہ نسبت ان دونوں کی شہادت کے زیادہ قابل قبول ہے ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ پیالہ ہمارے مرنے والے عزیز کاہے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ یہ آیت انہی کے حق میں نازل ہوئی کہ ’’اے مسلمانو! جب تم میں سے کسی کو موت آئے تو وصیت کے وقت دو انصاف والے تم میں سے یا تمہارے غیروں میں گواہ ہونے چاہئیں۔

٭٭

۵۲۔کتاب الجہاد والسیر(جہاد و سِریہ کا بیان)


۱۔ ثواب میں جہاد کے برابر کوئی عبادت نہیں

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اﷲﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی عبادت بتائیے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو تو نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے ایسی عبادت معلوم نہیں۔پھر آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تو ایسا کر سکتا ہے کہ جب مجاہد جہاد کے لیے نکلے تو تو اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کھڑا ہو جا اور سست نہ ہو اور برابر روزہ رکھنا شروع کر دے اور ترک نہ کر؟ اس نے عرض کیا کہ بھلا ایسا کون کر سکتا ہے ؟

۲۔جان و مال سے اﷲ کی راہ میں جہاد کرنا

سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! سب لوگوں میں افضل کون ہے ؟ تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ وہ مومن جو اپنی جان سے اور اپنے مال سے اﷲ کی راہ میں جہاد کرتا ہو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اس کے بعد کون؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ وہ مومن جو پہاڑ کے کسی دُرّے میں رہتا ہو اور وہیں اﷲ کی عبادت کرتا ہو اور لوگوں کو اپنے ضرر سے محفوظ رکھتا ہو۔

۳۔ شہید جنت میں بلا حساب کتاب داخل ہو گا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اﷲ کی راہ میں جہاد کرتا ہو اور اﷲ تعالیٰ اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں جہاد کرتا ہے، اس کی مثال مثل اس شخص کے ہے جو (برابر دن بھر) روزہ رکھتا ہو اور رات بھر نماز پڑھتا ہو اور اﷲ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے اس بات کی ذمہ داری کر لی ہے کہ اگر اس کو موت دے گا تو اسے بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل کر دیگا یا اسے ثواب اور مالِ غنیمت کے ساتھ زندہ لوٹائے گا۔

۴۔جنت الفردوس کے اوپر رحمان کا عرش ہے 

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اﷲ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور نماز پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے، اﷲ کے ذمہ یہ وعدہ ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کر دے گا، خواہ وہ جہاد فی سبیل اﷲ کرے یا نہ کرے۔ بلکہ جس سرزمین میں پیدا ہوا ہو وہیں بیٹھا رہے۔ آپﷺ نے مزید فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں وہ اﷲ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اﷲ کرنے والوں کے لیے مہیا کئے ہیں۔ ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جیسے آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ پس جب تم اﷲ سے دعا مانگو تو اس سے فردوس طلب کرو کیونکہ وہ جنت کا افضل اور اعلیٰ حصہ ہے۔ نبیﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جنت الفردوس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں جاری ہوئی ہیں۔

۵۔ را ہ خدا صبح و شام چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ بے شک جنت کا ایک چھوٹا سا مقام جو بقدر ایک کمان کے ہو، ان سب دنیاوی چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع و غروب ہوتا ہے۔ آپﷺ نے مزید فرمایا کہ اﷲ کی راہ میں صبح کو یا شام کو چلنا تمام ان چیزوں سے بہتر ہے جن پر آفتاب طلوع ہوتا ہے یا غروب ہوتا ہے۔

۶۔جنت کی حور اگر زمین کی طرف جھانک لے

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا ’’اگر جنت کی کوئی عورت یعنی حور زمین والوں کی طرف جھانک بھی لے تو وہ آسمان و زمین کے درمیان تمام فضا کو روشن اور خوشبو سے معطر کر دے۔اس کے سر کا دوپٹہ بھی تمام دنیا و ما فیہا سے بڑھ کر ہے۔

۷۔جہاد کے زخمی کے خون سے مشک کی خوشبو

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جو شخص بھی اﷲ کی راہ میں زخمی ہوا اور اﷲ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوا ہے۔ قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا۔ خون کا رنگ تو خون جیساہی ہو گا لیکن خوشبو مشک کی خوشبوجیسی ہو گی۔

۸۔شہادت سے قبل جنت کی خوشبو پانا

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نضرؓ جنگِ بدر میں شریک نہ ہوئے تھے تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! سب سے پہلی جنگ جو آپﷺ نے مشرکین سے کی، میں اس میں شریک نہ تھا۔ خیر اب اگر اﷲ نے مجھے مشرکوں سے کسی جنگ میں شریک کیا تو بے شک اﷲ، آپﷺ کو دکھلا دے گا کہ میں کیا کروں گا۔ پھر جب جنگِ اُحد میں مسلمانوں کو پسپائی ہوئی تو انہوں نے کہا اے اﷲ! مسلمانوں نے جو کیا اس سے تو میں معذرت کرتا ہوں اور مشرکوں نے جو کچھ کیا اس سے بیزار ہوں۔ پھر وہ آگے بڑھ گئے تو سیدنا سعد بن معاذؓ سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ اے سعدؓ ! قسم ہے پروردگار کی کہ جنت قریب ہے۔ میں اُحد کے دوسری طرف سے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں۔ سیدنا سعدؓ کہا کرتے تھے کہ یا رسول اﷲ! جو کچھ انس بن نضرؓ نے کیا میں نہیں کر سکا۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے چچا کو میدان جنگ میں مقتول پایا تو اسّی (۸۰) سے زیادہ زخم تلوار، نیزے اور تیر کے ان کے جسم پر پائے اور مشرکوں نے ان کا مثلہ بھی کیا تھا یعنی ان کے اعضاء ناک کان وغیرہ کاٹ دیئے تھے۔

۹۔پہلے اسلام لانا پھر جہاد کرنا

سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں نبیﷺ کے پاس ایک شخص اسلام لانے سے قبل ہتھیاروں سے آراستہ آیا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! میں جہاد میں جاؤں یا پہلے اسلام لے آؤں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا پہلے اسلام لا پھر جہاد کر۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور جہاد میں وہ شہید ہو گیا تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اس نے کام تو بہت کم کیا لیکن ثواب بہت پایا۔

۱۰۔حارثہ بن سراقہؓ کی شہادت اور نبیؐ کا فرمان

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ اُمّ الربیع براء کی بیٹی جو حارثہ بن سراقہ کی ماں تھیں، نبیﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! مجھے بدر کے دن مقتول ہونے والے حارثہ کی کیفیت بتائیے جسے ایک نامعلوم تیر لگ گیا تھا۔ اگر وہ جنت میں ہوں تو میں صبر کروں کہ وہ آرام میں ہیں اور اگر کوئی دوسری بات ہو تو میں ان پر خوب روؤں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اے اُمّ حارثہ ایک جنت کیا، جنت کے اندر بہت سی جنتیں ہیں اور بے شک تمہارا بیٹا سب سے اعلیٰ جنت، جنت الفردوس میں ہے۔

۱۱۔ اﷲ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے جہاد کرنا

سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ کوئی شخص تو مالِ غنیمت کی غرض سے جہاد کرتا ہے۔ کوئی ناموری اور کوئی شخص اپنی بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے۔ تو فی سبیل اﷲ مجاہد کون ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ صرف وہ شخص جو محض اس لئے لڑے کہ اﷲ کا کلمہ بلند ہو جائے وہ مجاہد فی سبیل اﷲ ہے۔

۱۲۔جنگ خندق اور بنو قریظہ کے خلاف لشکر کشی

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ جب خندق کے دن جنگ سے لوٹے اور اپنے ہتھیار رکھ دیئے اور غسل فرمایا تو جبریلؑ آپﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ کے سر پر غبار جما ہوا تھا۔ جبریلؑ نے کہا کہ آپﷺ نے ہتھیار رکھ دیئے حالانکہ میں نے ابھی تک نہیں رکھے تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ پھر اب کہاں کا ارادہ ہے ؟ جبریلؑ نے بنی قریظہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرف۔ اُمُّ المومنینؓ کہتی ہیں کہ پھر رسول اﷲﷺ نے بنو قریظہ کے خلاف لشکر کشی کی۔ ( بنو قریظہ نے معاہدے کے خلاف جنگِ خندق میں حضورﷺ کے خلاف حصہ لیا تھا)۔

۱۳۔کافر کا مسلمان کو قتل کرنا پھر شہید ہونا

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنس دے گا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہو گا پھر وہ دونوں جنت میں جائیں گئے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ اﷲ کی راہ میں جہاد کیا اور شہید ہو گیا۔ پھر قاتل نے توبہ کی، مسلمان ہوا اور وہ بھی اﷲ کی راہ میں شہید ہو گیا۔

۱۴۔ جہاد کو نفلی روزہ پر ترجیح دینا

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہؓ نبیﷺ کے عہد میں جہاد کی وجہ سے نفلی روزے نہ رکھتے تھے تاکہ طاقت کم نہ ہو۔ پھر جب نبیﷺ کی وفات ہو گئی تو میں نے ان کو کبھی روزہ ترک کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن کے۔

۱۵۔طاعون سے مرنے والا مسلما ن بھی شہید

سیدنا انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ طاعون ہر مسلمان کی شہادت کا سبب ہے۔

۱۶۔ اصل زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے

سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ خندق کی طرف تشریف لے گئے جو مدینہ کے گرد کھودی جا رہی تھی تو دیکھا کہ مہاجرین اور انصار سردی کے دنوں میں صبح صبح خندق کھود رہے ہیں۔ ان کے پاس غلام بھی نہ تھے، جو یہ کام کر لیتے۔ پس جب آپﷺ نے ان کی پریشانی اور بھوک کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا ’’اے اﷲ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے۔ پس تو مہاجرین و انصار کو معاف کر دے ‘‘ تو اس کے جواب میں مہاجرین و انصار نے کہا ’’ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمدﷺ کے ہاتھ پر اس شرط کے ساتھ بیعت کی ہے کہ جب تک ہمارے جسم میں جان باقی رہے گی، جہاد کرتے رہیں گے ‘‘۔

۱۷۔ غزوۂ احزاب میں نبیﷺ کا مٹی اٹھانا

سیدنا براء عازبؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو غزوۂ احزاب کے دن مٹی اٹھاتے دیکھا۔مٹی نے آپﷺ کے پیٹ کے رنگ کو چھپا لیا تھا۔ آپﷺ یہ فرماتے جاتے تھے ’’ اے اﷲ اگر تو نہ ہوتا تو ہم نہ ہدایت پاتے،نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔ پس تو ہم پر اطمینان نازل فرما اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ بے شک ان لوگوں نے ہم پر بغاوت کی ہے۔ یہ جب بھی کوئی فساد کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کی بات نہیں مانتے ‘‘۔

۱۸۔ شرعی عذر کے سبب جہاد میں عدم شرکت

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ جب ہم غزوۂ تبوک سے نبیﷺ کے ہمراہ لوٹے تو آپﷺ نے فرمایا کہ کچھ لوگ مدینہ میں ہم سے پیچھے رہ گئے۔ وہ ایسے ہیں کہ جس دُرّے یا میدان میں ہم چلے، یقیناً وہ اس میں ہمارے ساتھ ثواب میں شریک رہے۔ کیونکہ ان کو کسی شرعی عذر نے جہاد میں آنے سے روک لیا۔

۱۹۔ روزہ دار مجاہد سے دوزخ دور کی جاتی ہے

سیدنا ابو سعید خدریؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ بے شک جو شخص اﷲ کی راہ میں یعنی جہاد میں ایک دن بھی روزہ رکھے، اﷲ اس کے منہ کو دوزخ سے بقدر ستر سال کی مسافت کے دور کر دیتا ہے۔

۲۰۔مجاہدین کی مدد کرنا بھی جہاد کا حصہ ہے

سیدنا زید بن خالد جہنیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان تیار کر دے تو گویا اس نے خود جہاد کیا اور جو شخص اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خبر گیری کرے تو گویا اس نے خود جہاد کیا۔

۲۱۔دشمن کی جاسوسی کرنے والے کی فضیلت

سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے غزوۂ احزاب میں فرمایا کہ میرے پاس دشمن کی خبر کون لائے گا؟ تو سیدنا زبیرؓ بولے کہ میں لاؤں گا۔ اس کے بعد آپﷺ نے پھر فرمایا کہ میرے پاس دشمن کی خبر کون لائے گا؟ وہ پھر بولے کہ میں لاؤں گا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیرؓ ہیں۔

۲۲۔ جہاد کے لیے گھوڑے پالنے کا اجر و ثواب

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے گھوڑا رکھے، صرف اﷲ پر ایمان لانے کی وجہ سے اور اس کے وعدوں کو سچا سمجھ کر، تو بیشک اس کا کھانا، پینا، لید اور اس کا پیشاب، غرض اس کی ہر چیز قیامت کے دن ثواب بن کر اُس کی ترازوئے اعمال میں تُلے گی۔

۲۳۔گھوڑے اور گدھے کا نام رکھنا

سیدنا سہل بن سعدؓ کہتے ہیں کہ ہمارے باغ میں نبیﷺ کا ایک گھوڑا رہتا تھا اس کا نام لحیف تھا۔ایک اور روایت میں سیدنا معاذؓ کہتے ہیں کہ میں ایک گدھے پر نبیﷺ کے پیچھے بیٹھا تھا، اس گدھے کا نام عفیر تھا۔

۲۴۔شہر کا خوف دور کرنے کے لیے گشت کرنا

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ میں کچھ خوف تھا تو نبیﷺ ہمارے گھوڑے پر سوار ہوئے جس کا نام مندوب تھا۔ آپﷺ تشریف لے گئے۔ جب واپس لوٹے تو فرمایا کہ ہم نے خوف کی کوئی بات نہیں دیکھی اور بے شک ہم نے اس گھوڑے کو دریا کی طرح تند و تیز پایا۔

۲۵۔ غزوۂ حنین میں نبیﷺ کی ثابت قدمی

سیدنا براء بن عازبؓ سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا تم لوگ غزوۂ حنین میں رسول اﷲﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں لیکن رسو ل اﷲﷺ نہیں بھاگے۔ وجہ یہ تھی کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ بڑے تیر انداز تھے۔ ہم نے جب ان سے مقابلہ کیا اور ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگ نکلے۔ پھر مسلمان مالِ غنیمت پر جھک پڑے اور کافروں نے تیر برسانا شروع کئے تو ہم پیچھے ہٹ گئے۔ مگر رسول اﷲﷺ نہیں بھاگے۔آپﷺ اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابو سفیانؓ اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور نبیﷺ یہ فرماتے جاتے تھے ’’میں نبی ہوں، اس میں کچھ جھوٹ نہیں۔ میں عبدالمطلب جیسے سردار کا بیٹا ہوں ‘‘۔

۲۶۔اللہ دُنیوی بلندی کو پست بھی کر دیتا ہے

سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ کوئی اونٹنی نبیﷺ کی عضباء نامی اونٹنی سے آگے نہ بڑھتی تھی۔ ایک مرتبہ ایک اعرابی نوجوان اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور وہ اس سے آگے نکل گیا تو مسلمانوں کو یہ بات بہت شاق گزری تو آپﷺ نے فرمایا کہ اﷲ پر یہ حق ہے کہ دنیا بھر کی جو چیز بلند ہو اس کوپست بھی کر دے۔

۲۷۔جہاد میں عورتوں نے ضروریات فراہم کی

سیدنا عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مدینہ کی عورتوں کو کچھ چادریں تقسیم کی تھیں تو ایک نہایت عمدہ چادر بچ گئی۔ کسی نے مشورہ دیا کہ اے امیر المومنین ! یہ چادر رسول اﷲﷺ کی نواسی اُمّ کلشوم بنت علی کودے دیجئے جو آپ کے نکاح میں ہے۔ سیدنا عمرؓ نے کہا کہ اُمّ سلیطؓ اس کی زیادہ مستحق ہیں کیونکہ یہ وہ انصاری خاتون ہے جنہوں نے رسول اﷲﷺ سے بیعت کی اور جنگِ اُحد میں ہمارے لئے پانی کی مشکیں بھر بھر کرلاتی تھیں۔

۲۸۔عورتوں کا جہاد میں زخمیوں کی نرسنگ کرنا

سیدنا ربیع بنت معوذؓ کہتی ہیں کہ ہم جہاد میں نبیﷺ کے ہمراہ جاتے تھے اور پانی پلاتے تھے اور زخمیوں کا علاج کرتے تھے اور شہید اور زخمی لوگوں کو اٹھا کر مدینہ میں لاتے تھے۔

۲۹۔مال و دولت کا غلام ہلاک ہوا

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ درہم و دینار کا غلام ہلاک ہوا کہ اگر اسے کچھ دیا جاتا ہے تو وہ خوش ہو جاتا ہے اور اگر نہیں دیا جاتا تو ناخوش ہو جاتا ہے۔ ایسا شخص ہلاک و برباد ہوا اور اگر اس کو کانٹا چبھ جائے تو کوئی نہ نکالے۔ خوشخبری ہو ایسے بندے کو جو اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے اپنی گھوڑے کی لگام ہر وقت اپنے ہاتھ میں لئے رہے، اس کا سرغبار آلود ہو، اس کے دونوں پیر غبار آلود ہوں۔ اگر اس سے کہا جائے کہ پہرہ دے تو وہ پہرہ دے اور اگر لشکر کے پیچھے حفاظت کے لیے مقرر ہو تو لشکر کے پیچھے رہے۔ خواہ اس کی دنیوی حیثیت یہ ہو کہ اگر وہ کسی سے ملنے کی اجازت مانگے تو اسے اجازت نہ ملے اور اگر وہ کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش نہ مانی جائے۔

۳۰۔اُحد پہاڑ سے نبیﷺ کی محبت

سیدنا اَنس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اﷲﷺ کے ہمراہ ان کی خدمت کرنے کے لیے خیبر گیا۔ پھر جب نبیﷺ خیبر سے واپس آنے لگے اور آپﷺ کو اُحد پہاڑ دکھائی دیا تو فرمایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جس سے ہم محبت کرتے ہیں اور جو ہم سے محبت کرتا ہے۔

۳۱۔سفر میں غیر روزہ دار کا ثواب لوٹنا

سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبیﷺ کے ہمراہ تھے تو ہم میں زیادہ سایہ اس شخص کے پاس تھا جس پر اُس کی چادر سے سایہ کیا جاتا تھا اور جن لوگوں نے روزہ رکھا تھا انہوں نے کچھ کام نہیں کیا اور جن لوگوں نے روزہ نہ رکھا تھا انہوں نے اونٹوں کو اٹھایا اور ان پر پانی بھر بھر کر لائے۔ غرض ہر طرح کی خدمت کی اور کام کیا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ آج تو روزہ نہ رکھنے والے سب ثواب لوٹ کر لے گئے۔

۳۲۔اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ کا اجر

سیدنا سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا اﷲ کے راستے میں دشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن کا پہرہ دینا دنیا و ما فیہاسے بہتر ہے اور جنت میں کسی کے لیے ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا و ما فیہاسے بہتر ہے۔ اور اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام گذار دینادنیا و مافیہاسے بہتر ہے۔

۳۳۔مالداروں کے رزق کا سبب غرباء ہیں

حضرت مصعب بن سعدؓ نے بیان کیا کہ کہ فاتحِ ایران سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کا خیال تھا کہ انہیں دوسرے بہت سے صحابہ پر اپنی مالداری اور بہادری کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے تو نبیﷺ نے اس خیال کی تردید میں فرمایا کہ تمہاری مدد اور تمہاری روزی (اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) انہی کمزوروں کی وجہ سے تمہیں دی جاتی ہے۔

۳۴۔صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی فضیلت

سیدنا ابو سعیدؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’ایک دَور ایسا آئے گا کہ لوگ جہاد کریں گے تو یہ کہا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی شخص ایسا ہے جسے نبیﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہو (یعنی صحابی ہو)؟ جواب دیا جائے گا کہ ہاں ہے تو ان کے ذریعے فتح کی دعا مانگی جائے گی۔ پھر ایک دَور ایسا آئے گا کہ لوگ کہیں گے کہ کیا تم میں کوئی ایسا ہے کہ جس نے نبیﷺ کے صحابہ کی صحبت اٹھائی ہو (یعنی تابعی ہو)؟جو اب دیا جائے گا کہ ہاں ہے تو ان کے ذریعے فتح کی دعا مانگی جائے گی۔ پھر ایک دَور ایسا آئے گا کہ کہا جائے گا کیا تم میں کوئی شخص ایسا ہے جس نے نبیﷺ کے اصحاب کی صحبت اٹھانے والے (تابعی)کی صحبت اٹھائی ہو(یعنی تبع تابعی ہو)؟ جواب دیا جائے گا کہ ہاں ہے،تو ان کے ذریعے فتح کی دعا مانگی جائے گی

۳۵۔ سعد بن ابی وقاصؓ پر نبیﷺ کی شفقت

امیر المومنین علیؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو نہیں دیکھا کہ سعد بن ابی وقاصؓ کے سوا کسی اور شخص کے لیے اپنے ماں باپ کے فدا ہونے کو کہتے ہوں۔غزوۂ اُحد میں میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تیر چلاؤ سعدؓ تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔

۳۶۔ صحابہ کرامؓ کے تلواروں کی آرائش

سیدنا ابو امامہؓ کہتے ہیں کہ ایک ایسی قوم (صحابہ کرامؓ ) نے بہت سی فتوحات کی ہیں جن کی تلواروں کی آرائش سونے چاندی سے نہیں ہوتی تھی۔بلکہ ان کی تلواروں پر چمڑے اور لوہے کا کام ہوتا تھا۔

۳۷۔غزوہ بدر میں نبیﷺ کا زرہ پہننا

سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے بدر کے دن جب آپ ایک قبہ کے اندر تھے یہ فرمایا کہ اے اﷲ! میں تجھے تیرے عہد اور تیرے وعدے کا واسطہ دے کر (مسلمانوں کی فتح کی) فریاد کرتا ہوں۔ اے اﷲ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد پھر کبھی تیری عبادت نہ کی جائے گی (مسلمانوں کی شکست کی صورت میں )۔ پس سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے آپﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ بس کیجیے یا رسول اﷲ!ﷺ ۔ آپ نے اپنے پروردگار سے دعا کی حد کر دی ہے۔ نبیﷺ اس وقت زرہ پہنے ہوئے تھے۔ پس آپﷺ یہ آیت پڑھتے ہوئے باہر تشریف لائے ’’عنقریب یہ جماعت بھگا دی جائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر لیں گے، بلکہ قیامت کا ان سے وعد ہ ہے اور قیامت بہت سخت اور تلخ چیز ہے ‘‘۔(سورۂ القمر ۴۵ - ۴۶ )

۳۸۔ ریشمی کپڑا پہننے کی اجازت کا موقع

سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ اور سیدنا زبیرؓ کو ریشمی قمیص پہننے کی اجازت دے دی تھی، اس وجہ سے کہ ان کے جسم پر خارش تھی۔( ریشمی کپڑا خارش کے لیے مفید ہوتا ہے )۔ سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن اور سیدنا زبیرؓ نے نبیﷺ سے جووں کی شکایت کی تو آپﷺ نے انہیں ریشمی کپڑے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ ایک جہاد میں مَیں نے ان کے جسم پر ریشمی کپڑا دیکھا۔(اگر کپڑے کا تانا بانا دونوں ریشمی ہوں تو قطعاً حرام ہے۔ اگر صرف تانا ریشمی ہو تو حلال اور اگر صرف بانا ریشمی ہو تو مجبوراً اجازت ہے )

۳۹۔روم پر چڑھائی کرنے والا پہلا اسلامی لشکر

اُمّ حرامؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ میری اُمت میں سب سے پہلے جو لوگ سمندر میں جنگ کریں گے ان کے لیے جنت واجب ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اﷲﷺ ! میں انہیں میں ہوں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ ہاں۔ پھر نبیﷺ نے فرمایا کہ میری اُمت میں سب سے پہلا لشکر جو رومی بادشاہ قیصر کے شہر (قسطنطیہ) پر چڑھائی کرے گا ان کی مغفرت ہو گی۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! میں ان لوگوں میں ہوں ؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ نہیں۔

۴۰۔یہودیوں سے لڑنے کی فضیلت

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا کہ تم یہودیوں سے جنگ کرو گے۔یہاں تک کہ کوئی یہودی پتھر کی آڑ میں چھپے گا تو وہ پتھر بھی بول اُٹھے گا کہ اے اﷲ کے بندے ! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے اسے قتل کر دے۔ دوسری روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک یہودیوں سے تمہاری جنگ نہ ہولے۔

۴۱۔غزوۂ خندق کے دن مشرکوں کے لیے بددعا

سیدنا عبداﷲ بن ابی اوفیؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے غزوۂ خندق کے دن مشرکوں کے لیے بددعا کی تھی کہ اے اﷲ! کتاب کے نازل کرنے والے ! حساب کے جلد لینے والے ! ان جماعتوں کو شکست دے، ان کے قدم اکھیڑ دے اور ان کو جھنجھوڑ کر رکھ دے۔

۴۲۔’السامُ علیکم ‘ کاجواب ’وعلیکم ‘

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ ایک روز ایک یہودی نبیﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ ’’السامُ علیکم ‘‘ (تم پر موت آئے ) تو میں نے اس پر لعنت ملامت کی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ کیا آپؐ نے نہیں سنا جو اُس نے کہا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ تم نے نہیں سنا کہ میں نے کہہ دیا کہ ’’وعلیکم ‘‘ (یعنی جو تم نے مجھے دیا ہے وہ تم پر آئے )۔

۴۳۔قبیلہ دوس کی سرکشی اور نبیﷺ کی دعا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ طفیل بن عمرالدوسی اور ان کے ساتھی نبیﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ ! قبیلہ دوس کے لوگوں نے نافرمانی کی اور پیروی سے انکار کر دیا لہٰذا اﷲ سے ان کے لیے بددعا کیجئے۔ لوگ کہنے لگے کہ اب دوس ہلاک ہوئے۔ مگر آپﷺ نے دعا کی کہ اے اﷲ! دوس کو ہدایت دے اور ان کو دائرہ اسلام میں لے آ-

۴۴۔ فتح خیبر، جھنڈا حضرت علیؓ کے ہاتھوں میں

سیدنا سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو خیبر کے دن یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں اب جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر فتح ہو جائے گی پس صحابہ کرامؓ کھڑے ہوئے اس بات کی امید کر رہے تھے کہ ان میں جھنڈا کس کو ملتا ہے۔ پھر دوسرے دن ہر شخص اس بات کی امید کرتا رہا کہ جھنڈا ہمیں عطا ہو گا مگر آپﷺ نے فرمایا کہ علیؓ کہاں ہیں ؟ کسی نے بتایا کہ اُن کی دونوں آنکھوں میں درد ہے آپﷺ نے حکم دیا تو وہ بلائے گئے۔ آپﷺ نے ان کی دونوں آنکھوں میں لعابِ دہن لگا دیا تو وہ فوراً ٹھیک ہو گئے۔حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ہم ان کافروں سے جنگ کریں گے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ابھی توقف کرو۔ پہلے ان کے میدان میں اتر کر انہیں اسلام کی طرف بلانا اور جو اﷲ کی طرف سے ان پر فرض ہے وہ بتانا۔ (پھر اگر وہ نہ مانیں تب لڑنا) اﷲ کی قسم اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص بھی ہدایت پا جائے تو وہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بڑھ کر ہے۔

۴۵۔مجرموں کو آگ میں جلانے کی ممانعت

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اﷲﷺ نے کسی لشکر میں بھیجا اور ہم سے فرمایا کہ اگر تم قریش کے فلاں اور فلاں شخص کو پانا تو انہیں آگ میں جلا دینا۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ پھر جب ہم سفر میں جانے لگے تو ہم آپﷺ کے پاس رخصت ہونے کو آئے تو آپﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں اور فلاں شخص کو آگ میں جلا دینا۔ مگر آگ سے تو اﷲ ہی عذاب کرتا ہے۔ لہٰذا اگر تم ان کو پکڑو تو انہیں قتل کر دینا۔

۴۶۔امام کی بات سننا اور اطاعت کرنا

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ امام کی بات سننا اور ماننا ہر شخص پر ضروری ہے، جب تک خلاف شرع نہ ہو۔ پھر اگر کسی گناہ کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ضروری ہے اور نہ اس پر عمل کرنا۔

۴۷ امیر کی اطاعت اللہ اور رسول کی اطاعت ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ہم لوگ اور امتوں کے مقابلہ میں آخیر میں ہیں مگر مرتبہ میں سب سے سبقت لے جانے والے ہیں۔ جس نے میری اطاعت کی اس نے اﷲ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اﷲ کی نافرمانی کی۔ جس نے (شرعی) امیر کی اطاعت کی اس نے بے شک میری اطاعت کی اور جس نے (شرعی) امیر کی نافرمانی کی اس نے بے شک میری نافرمانی کی۔ امام تو مثل ڈھال کے ہوتا ہے اس کے پیچھے سے جنگ کی جاتی ہے اور اسی کی طرف پناہ لی جاتی ہے۔ پس اگر وہ اﷲ سے تقویٰ کا حکم دے اور انصاف کرے تو اس کی وجہ سے اسے ثواب ملے گا اور اگر اس کے خلاف کرے تو اس کی وجہ سے اس پر گناہ ہو گا۔

۴۸۔ بیعتِ رضوان والے درخت کا نشان نہ ملنا

سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ بیعت الرضوان کے بعد آئندہ سال جب ہم پھر آئے تو ہم میں سے دو آدمیوں نے بھی بالاتفاق اس درخت کو نہ بتایا جس کے نیچے ہم نے بیعت الرضوان کی تھی کہ اسی میں کچھ اﷲ کی مہر بانی تھی۔ پوچھا گیا کہ صحابہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین سے کس بات پر بیعت لی گئی تھی، موت پر؟ تو انہوں نے کہا نہیں بلکہ صبر پر بیعت لی گئی تھی۔

۴۹۔موت پر بیعت نہ کرنا

سیدنا عبداﷲ بن زیدؓ کہتے ہیں کہ جب واقعہ حرہ کا دَور آیا تو ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ حنظلہ کے بیٹے لوگوں سے موت پر بیعت لے رہے ہیں تو عبداﷲ بن زیدؓ نے کہا کہ ہم نبیؐ کے بعد کسی سے اس شرط پر (یعنی موت پر) بیعت نہ کریں گے۔

۵۰۔اسلام اور جہاد پر بیعت کرنا

سیدنا مجاشعؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس اپنے بھائی کے بیٹے کو لے کر آیا اور میں نے عرض کیا کہ آپﷺ ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ہجرت تو اپنے لوگوں کے لیے ختم ہو چکی ہے۔ میں نے عرض کیا پھر آپﷺ کس بات پر ہم سے بیعت لیں گے ؟ تو فرمایا کہ اسلام پر اور جہاد پر۔

۵۱۔ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے

سیدنا عبداﷲ بن ابی اوفیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے بعض دفعہ جہاد میں، جس میں دشمن سے مقابلہ ہوا، لڑائی میں دیر کی۔ جب سورج ڈھل گیا، اس وقت کھڑے ہو کر خطبہ سنایا اور فرمایا کہ اے لوگو! دشمن سے مقابلہ کی آرزو نہ کرو اور اﷲ سے عافیت طلب کرو۔ پھر جب تم دشمن سے مقابلہ کرو تو صبر کرو اور خوب سمجھ لو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ اس کے بعد فرمایا: اے اﷲ! کتاب (قرآن) کے نازل فرمانے والے اور بادل کے جاری کرنے والے اور کفار کی فوجوں کو شکست دینے والے ! ان لوگوں کو بھگا دے اور ہمیں ان پر فتح عنایت فرما۔

۵۲۔نبیﷺ کی رعب کے ذریعہ مدد کی گئی

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ میں جامع باتیں دے کر بھیجا گیا ہوں اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے۔ ایک دن اس حال میں سورہا تھا میرے پاس زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ تو دنیا سے تشریف لے گئے اور اب تم ان خزانوں ( یعنی فتوحات )کو نکال رہے ہو۔

۵۳۔فتح مکہ کے روز نبیؐ کا کعبہ میں داخل ہونا

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ فتح مکہ کے دن مکہ کی بلندی کی طرف سے ایک اونٹنی پر سوار سیدنا اسامہ بن زیدؓ کو اپنے ساتھ بٹھائے ہوئے تشریف لائے۔ آپﷺ کے ہمراہ بلالؓ تھے اور آپﷺ کے ہمراہ کعبہ کے دربان عثمان بن طلحہ بھی تھے۔یہاں تک کہ آپﷺ نے مسجد میں اونٹ کو بٹھایا۔ پھر عثمان کو حکم دیا کہ کعبہ کی کنجی لے آئیں پھر کعبہ کو کھولا گیا اور رسول اﷲﷺ اس میں داخل ہوئے۔

۵۴چڑھتے اُترتے ہوئے اﷲ اکبر سبحان اﷲ کہنا

سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ ہم حج میں رسول اﷲﷺ کے ہمراہ تھے۔ پس جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے تو لا الٰہ الا اﷲ اور اﷲ اکبر کہتے تھے۔ ہماری آوازیں بلند ہوتی تھیں تو نبیﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو! اتنا نہ چلاؤ۔ اپنی جانوں پر آسانی کرو کیونکہ تم لوگ نہ کسی بہرے کو پکار رہے ہو نہ کسی غائب کو۔ بے شک وہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ سنتا ہے، وہ قریب ہے۔ سیدنا جابر بن عبداﷲؓ کہتے ہیں کہ جب ہم بلندی پر چڑھتے تو اﷲ اکبر کہتے تھے اور جب پستی میں اترتے تھے تو سبحان اﷲ کہتے تھے۔

۵۵۔بیمارمسافر کو معمول کی عبادت کا ثواب ملنا

سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ رسو ل اﷲﷺ نے فرمایا کہ جب بندہ بیمار ہو جاتا ہے یا سفر کرتا ہے تو جس قدر عبادت وہ گھر میں رہ کر یا حالت صحت میں کیا کرتا تھا، وہ سب اس کے لیے لکھی جاتی ہیں۔

۵۶۔رات کو تنہا سفر کرنے کی ممانعت

سیدنا ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ تنہائی میں کیا خرابی ہے تو کوئی مسافر رات کے وقت تنہا سفر نہ کرے۔

۵۷والدین کو بے سہارا چھوڑ کر جہاد میں نہ جانا

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپﷺ سے جہاد کی اجازت مانگی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تیرے والدین زندہ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں تو آپﷺ نے فرمایا کہ تو انہیں کی خدمت میں کوشش کر۔ (کیونکہ وہ بوڑھے اور بے سہارا تھے )

۵۸۔اونٹ کے گردن میں کنگن وغیرہ نہ ڈالنا

سیدنا ابو بشیر انصاریؓ سے روایت ہے کہ وہ سفر میں نبیﷺ کے ہمراہ تھے اور لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے۔ پس رسول اﷲﷺ نے ایک قاصد کو بھیجا کہ کسی اونٹ کی گردن میں کوئی کنگن تانت کایا اور کسی قسم کا باقی نہ رہے بلکہ اگر ہوں تو انہیں کاٹ دیا جائے۔

۵۹۔نامحرم مرد و زن تنہائی میں نہ بیٹھیں

سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے اور نہ کوئی عورت بغیر اپنے محرم رشتہ دار کے سفر کرے۔ تو ایک شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! فلاں فلاں جہاد میں میرا نام لکھا گیا ہے اور میری بیوی حج کے لیے جا رہی ہے۔ تو آپﷺ نے فرمایا تو جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج ادا کر۔

۶۰۔ دارالحرب والوں پر شب خون مارنا

سیدنا صعب بن جثامہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ مقام ابواء میں یا ودان میں میری طرف سے گزرے اور آپﷺ سے دارالحرب والے مشرکوں کی نسبت پوچھا گیا کہ ان پر شب خون کیا جاتا ہے تو ان کی عورتیں اور بچے بھی قتل ہو جاتے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ وہ بھی ان ہی میں سے ہیں۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ چراگاہیں اﷲ اور رسول کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں۔

۶۱۔جہادمیں عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرنا

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ کے زمانہ میں کسی جہاد میں ایک مقتول عورت ملی تو نبیﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا۔

۶۲۔انسان کو آگ میں جلانے کی ممانعت

سیدنا ابن عباسؓ کو جب یہ خبر پہنچی کہ امیر المومنین حضرت علیؓ نے کچھ لوگوں کو آگ میں جلا دیا ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو ہرگز انہیں نہ جلاتا۔ اس لئے کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے کہ اﷲ کے عذاب سے کسی کو عذاب نہ کرو اور بے شک میں انہیں قتل کر دیتا جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنا دین بدل دے اسے قتل کر دو۔

۶۳۔حشرات کو آگ میں جلانے کی ممانعت

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک چیونٹی نے نبیوں میں سے کسی نبی کو کاٹ لیا تھا تو انہوں نے حکم دیا تو چیونٹی کا چھتہ جلا دیا گیا۔ پس اﷲ تعالیٰ نے اُن کی طرف وحی کی کہ تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹا تھا تم نے بدلہ میں ایک گروہ کو جلا دیا جو اﷲ کی تسبیح پڑھتی تھیں۔

۶۴۔یمن کے کعبہ کو نبیؐ نے جلوا دیا

سیدنا جریر بن عبداﷲؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اﷲﷺ نے مجھ سے فرمایا تم ذی الخلصہ کو تباہ کر کے مجھے آرام کیوں نہیں دیتے ؟ ذی الخلصہ قبیلہ خثعم میں ایک بت خانہ تھاجسے یمن کا کعبہ کہتے تھے۔ سیدنا جریرؓ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کے ساتھ چلا اور ان سب کے پاس گھوڑے تھے۔ اور میرے پاؤں گھوڑے پر جمتے نہ تھے۔ نبیﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا یہاں تک کہ میں نے آپؐ کی انگلیوں کا نشان اپنے سینے پر دیکھا اور آپﷺ نے دعا کی کہ اے اﷲ! ان کو قائم رکھ اور ان کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔ پس وہ وہاں گئے اور اسے توڑ کر جلا ڈالا۔ رسول اﷲﷺ کو اس کی خبر کی دی گئی تو آپﷺ نے قبیلہ احمس کے گھوڑوں اور سواروں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا کی۔

۶۵۔قیصر و کسریٰ کی ہلاکت کی پیشین گوئی

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ کسریٰ ہلاک ہو گیا اب اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہو گا اور قیصر بھی ہلاک ہو جائے گا۔ اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہو گا اور بے شک تم قیصر و کسریٰ کے خزانے اﷲ کی راہ میں تقسیم کرو گے۔

۶۶۔جنگِ اُحد میں تیر اندازوں کو نبیؐ کی ہدایت

سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے اُحد کے دن عبداﷲ بن جبیرؓ کو پچاس تیر اندازوں کے ایک پیدل دستے کا سردار مقرر کیا اور فرمایا کہ اگر تم ہمیں اس حالت میں دیکھو کہ( ہم قتل ہو گئے ہیں اور ) پرندے ہمارا گوشت کھا رہے ہیں تب بھی تم اپنے اس مقام کو نہ چھوڑنا جب تک میں تمہیں واپس نہ بلا لوں۔ اور اگر تم ہمیں دیکھنا کہ ہم نے کافروں کو بھگا دیا اور انہیں پامال کر ڈالا ہے تب بھی تم نہ ہٹنا جب تک میں تمہیں واپس نہ بلا لوں۔

۶۷۔نبیؐ کی ہدایت بھول کر مالِ غنیمت سمیٹنا

چنانچہ آپﷺ نے کافروں کو شکست دی۔ سیدنا برائؓ کہتے ہیں کہ اﷲ کی قسم میں نے مشرک عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے اٹھائے ہوئے، پازیبیں پنڈلیاں کھولے بھاگے جا رہی تھیں۔ پس سیدنا عبداﷲ بن جبیرؓ کے ساتھ والوں نے کہا کہ اے لوگو! غنیمت کا مال، غنیمت کا مال، تمہارے ساتھی غالب آ گئے، اب تم کیا انتظار کر رہے ہو؟ سیدنا عبداﷲ بن جبیرؓ نے کہا کہ کیا تم رسول اﷲﷺ کا ارشاد بھول گئے ؟ ان لوگوں نے کہا اﷲ کی قسم ہم لوگوں کے پاس جائیں گے اور مالِ غنیمت لوٹیں گے۔

۶۸۔ہدایتِ نبویؐ کی خلاف ورزی کا انجام

چنانچہ جب وہ لوگ وہاں گئے اور ان کا رخ بدل گیا تو کفار بھاگتے ہوئے سامنے گئے اور لڑائی پھر ہونے لگی۔ پس نبیﷺ کے ہمراہ بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ رہا۔ پس کافروں نے ہمارے ستر آدمی شہید کئے اور نبیﷺ ، صحابہ کرامؓ نے بدر کے دن ایک سو چالیس مشرکوں کا نقصان کیا تھا، ستر قیدی اور ستر مقتول۔ ابوسفیان نے تین مرتبہ کہا کہ کیا محمد (ﷺ ) لوگوں میں زندہ ہیں ؟ نبیﷺ نے جواب دینے سے منع فرمایا دیا۔ اس کے بعد ابو سفیان نے تین مرتبہ کہا کہ کیا ابو قحافہ کے بیٹے (ابوبکر صدیقؓ ) لوگوں میں زندہ ہیں ؟۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ کیا لوگوں میں خطاب کے بیٹے (سیدنا عمرؓ ) زندہ ہیں ؟ تین مرتبہ یہی کہا اس کے بعد اپنے ساتھیوں کی طرف مخاطب ہوا اور کہنے لگا کہ یہ لوگ تو مقتول ہو گئے۔

۶۹۔ جنگ بدر کا بد لہ جنگ اُحد میں،ابو سفیان

پس عمرؓ اپنے آپ کو نہ رو ک سکے اور بول اٹھے کہ اﷲ کی قسم اے اﷲ کے دشمن! جن لوگوں کا تو نے نام لیا وہ سب زندہ ہیں اور ابھی تیرا برا دن آنے والا ہے۔ ابو سفیان نے کہا کہ آج بدر کے دن کا بدلہ ہو گیا اور لڑائی تو ڈول کے مثل ہے۔ اور تم لوگوں میں کچھ مثلہ پاؤ گے مگر میں نے اس بات کا حکم دیا اور نہ مجھے یہ بات ناگوار ہوئی۔ اس کے بعد ابو سفیان رجز پڑھنے لگا کہ ’’اے ہبل! بلند ہو جا، اے ہبل! بلند ہو جا‘‘ تو نبیﷺ نے فرمایا کہ اب تم اس کو جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!ﷺ ہم کیا جواب دیں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہو ’’اﷲ سب سے بلند مرتبہ اور بزرگ ہے ‘‘ پھر ابو سفیان نے کہا کہ ہمارے لئے عزیٰ ہے اور تمہارے لئے عزیٰ نہیں ہے تو نبیﷺ نے فرمایا کہ تم اس کو جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! ہم کیا جواب دیں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہو ’’اﷲ ہمارا مولا ہے اور تمہارا کوئی مولا نہیں ‘‘۔

۷۰۔ڈاکووں کے قبضہ سے نبیؐ کی اونٹنیاں چھڑانا

سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ میں مدینہ سے غابہ کی طرف جا رہا تھا کہ غابہ کی پہاڑی پر مجھے سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ کا ایک غلام ملا۔ غلام نے کہا کہ غطفان اور فرازہ نے نبیﷺ کی اونٹنیاں پکڑ لی گئی ہیں اور میں ان کی تلاش میں ہوں۔یہ سن کر میں دوڑا اور ڈاکوؤں کو پا لیا اور انہیں تیر مارنا شروع کر دیا۔ چنانچہ میں نے اونٹنیاں ان سے چھڑا لیں پھر میں ان کو ہانکتا ہوا لا رہا تھا کہ نبیﷺ مجھے ملے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ وہ لوگ پیاسے تھے اور میں نے قبل اس کے کہ وہ ان کا دودھ پئیں جلدی سے یہ اونٹنیاں لے لیں۔ پس آپﷺ ان کے تعاقب میں فوج روانہ کر دیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اے ابن اکوعؓ ! تم ان پر قابو پاچکے، اب جانے دو۔وہ تو اپنی قوم میں پہنچ گئے، وہاں ان کی مہمانی ہو رہی ہو گی۔ 

۷۱۔قرآن کے سوا کوئی وحی نہیں،حضرت علیؓ

سیدنا ابو جحیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علیؓ سے پوچھا کہ کتاب اﷲ کے سوا کچھ اور وحی بھی آپ کے پاس ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ قسم ہے اس کی جس نے دانہ کو زمین چیر کر نکالا اور جس نے روح پیدا کی، میں اس کے سوا اور کچھ نہیں جانتا کہ اﷲ کسی شخص کو قرآن کا فہم عطا کر دے یا وہ چیز جو اس صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے (کچھ احادیث حضرت علیؓ کے پاس لکھی ہوئی تھیں )۔میں نے پوچھا کہ اس صحیفے میں کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ دیت کے احکام، مسلمان قیدی کو رہا کرانا اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کرنا۔

۷۲۔ مشرک عزیز و اقارب کا فدیہ نہ چھوڑ نا

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اﷲﷺ سے کہا کہ یا رسول اﷲ! آپ ہمیں اجازت دیجئے تاکہ ہم اپنے بھانجے عباس بن عبدالمطلب کو ان کا فدیہ معاف کر دیں تو آپﷺ نے فرمایا ایک درہم بھی ان سے نہ چھوڑو۔

۷۳۔دشمن کے جاسوس کو قتل کرنا

سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس مشرکوں کا ایک جاسوس آیا اور آپﷺ اس وقت سفر میں تھے پس وہ آپﷺ کے صحابہؓ کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ اس کے بعد وہ چلا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو اور اس کو قتل کر دو اور آپﷺ نے اس کا سامان قاتل کو دلا دیا۔

۷۴۔ مشرکوں کو عرب سے نکال دینے کی ہدایت

سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جمعرات کے دن رسول اﷲﷺ کا مرض بڑھ گیا تھا تو آپﷺ نے فرمایا کہ میر پاس لکھنے کی کوئی چیز لاؤ تاکہ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں کہ پھر میرے بعد تم گمراہ نہ ہو گے۔پھر آپﷺ نے تین باتوں کی وصیت فرمائی۔( ۱) مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا۔ (۲) سفیروں سے ایسے ہی سلوک کرنا جیسا میں کیا کرتا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ تیسری بات میں بھول گیا۔

۷۵۔ہر نبی نے کانے دجال سے ڈرایا ہے

سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ لوگوں کے درمیان کھڑے ہو گئے اور آپﷺ نے اﷲ کی تعریف کی اس کے بعد آپﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے مگر میں تم سے ایک ایسی بات کہتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی۔ تم یہ سمجھ لو کہ وہ کانا ہو گا۔

۷۶۔حاکم کی طرف سے مردم شماری کرانا

سیدنا حذیفہ بن یمانؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبیﷺ نے فرمایا جتنے لوگ اسلام کا کلمہ پڑھتے ہیں ان سب کے نام لکھ کر میرے سامنے لے آؤ چنانچہ ہم نے ڈیڑھ ہزار آدمیوں کے نام لکھ کر آپﷺ کی خدمت میں پیش کیے۔ پھر ہم نے کہا کہ کیا ہم اب ابھی کافروں کا خوف کریں گے حالانکہ ہماری تعداد ڈیڑھ ہزار ہو گئی ہے ؟ لیکن (حضورﷺ کے بعد)ہم فتنوں میں اس طرح گھر گئے کہ مسلمان تنہا نماز پڑھتے ہوئے بھی ڈرنے لگا۔

۷۷۔ دشمن پر فتح کے بعد وہیں ۳دن تک ٹھہرنا

سیدنا ابوطلحہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ جب کسی قوم پر غالب ہو جاتے تو تین دن تک اسی میدان میں ٹھہرے رہتے تھے۔

۷۸۔بھاگا ہوا غلام، مسلمان کوواپس کرنا

سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ اُن کا ایک گھوڑا بھاگ نکلا۔ دشمن اسے پکڑ کر لے گئے۔ پھر مسلمانوں نے کافروں پر غلبہ پایا تو گھوڑا ابنِ عمرؓ کو رسو ل اﷲﷺ کے عہد میں واپس کر دیا گیا۔ ان کا ایک غلام بھی بھاگ گیا اور روم میں کافروں سے جا ملا۔ مسلمان جب ان پر غالب ہوئے تو خالد بن ولیدؓ نے نبیﷺ کی وفات کے بعد وہ غلام ابن عمرؓ کو واپس دلا دیا۔

۷۹۔نبیؐ کا حبشی زبان میں بات کرنا

سیدہ اُمّ خالد بنتِ خالد بن سعیدؓ کہتی ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ رسول اﷲﷺ کے پاس گئی اور میرے جسم پر اس وقت ایک زرد رنگ کا کرتہ تھا تو رسول اﷲﷺ نے یہ حبشی زبان میں فرمایا : سنہ سنہ،جس کے معنی ہیں حسنہ یعنی اچھی ہے۔ اُمّ خالدؓ کہتی ہیں کہ جب میں مہر نبوت کے ساتھ کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اسے رہنے دو اس کے بعد رسول اﷲﷺ نے (مجھے درازی عمر کی دعا دیتے ہوئے ) فرمایا کہ پُرانا کرو اور پھاڑو۔ پھر پُرانا کرو اور پھاڑو پھر پُرانا کرو اور پھاڑو۔

۸۰۔مالِ غنیمت میں خیانت کرنا سخت گناہ ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسو ل اﷲﷺ ہمارے مجمع میں کھڑے ہوئے پھر آپﷺ نے مالِ غنیمت میں خیانت کا ذکر کرتے ہوئے اسے سخت گناہ بتلایا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ میں تم میں سے کسی شخص کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بکری سوار ہو اور وہ بول رہی ہو یا اس کی گردن پر گھوڑا سوار ہو اور وہ ہنہنا رہا ہو۔ اور ایسا شخص کہے کہ یا رسول اﷲﷺ میری فریاد رسی کیجئے اور میں کہہ دوں کہ تیرے لئے میں کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ میں نے تو تجھے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا تھا۔اسی طرح کسی کی گردن پر اونٹ بلبلا رہا ہو یا کسی کی گردن پر کپڑے ہوں جو ہل رہے ہوں۔ ان سب کی فریاد رسی پر میں کہہ دوں کہ میں تیرے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتا۔میں تو تجھے پیغامِ الہٰی پہنچا چکا ہوں۔

۸۱۔مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والا جہنمی

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے اسباب پر ایک شخص متعین تھا۔جب وہ مرگیا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ وہ دوزخ میں ہے۔ پھر لوگ اس کی حالت دیکھنے لگے تو انہوں نے اس کے مال میں مالِ غنیمت کی ایک چادر پائی جس کو اس نے خیانت سے لے لیا تھا۔

۸۲۔غازیوں کے استقبال کے لیے جانا 

سیدنا ابن زبیرؓ نے سیدنا ابن جعفرؓ سے کہا کہ کیا تمہیں یاد ہے جب ہم اور تم اور ابن عباسؓ رسول اﷲﷺ کے استقبال کے لیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا جی ہاں یاد ہے۔پھر رسول اﷲ نے ہمیں اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا اور تمہیں نہیں کیا تھا۔سیدنا سائب بن یزیدؓ کہتے ہیں کہ ہم لڑکوں کے ساتھ مل کر ثنیتہ الوداع تک رسول اﷲﷺ کے استقبال کے لیے جایا کرتے تھے۔

۸۳۔جہاد سے لوٹتے وقت اللہ کا ذکر کرنا

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ ہم عسفان سے لوٹتے وقت نبیﷺ کے ساتھ تھے اور رسول اﷲﷺ اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور اُمُّ المومنین صفیہ بنت حییؓ کو آپﷺ نے پیچھے بٹھا لیا تھا۔ پھر آپﷺ کی اونٹنی کا پیر پھسل گیا تو آپ دونوں گر پڑے۔ پس سیدنا ابو طلحہؓ نے سواری کو درست کیا پھر رسول اﷲﷺ اور اُمّ المومنین صفیہؓ سوار ہوئے اور ہم نے رسول اﷲﷺ کو گھیر لیا تھا اس کے بعد جب ہم مدینے کے قریب پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا (ترجمہ) ’’ہم لوٹ رہے ہیں اگر اﷲ نے چاہا تو توبہ کر کے، عبادت گزار ہو کر اپنے پروردگار کی تعریف کرتے ہوئے ‘‘ آپﷺ برابر یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے۔

۸۴۔جب سفر سے لوٹے تو نماز پڑھنا

سیدنا کعب بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ جب کسی سفر سے چاشت کے وقت لوٹتے تو مسجد میں تشریف لے جاتے اور بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔

۸۵۔خمس کے فرض ہونے کی کیفیت کا بیان

سیدنا عمر بن خطابؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ اور رسول اﷲﷺ اسی مال میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا خرچ لے لیتے تھے۔ اس کے بعد جو کچھ بچتا، اس کو اس مصرف میں خرچ کر دیتے تھے جہاں اﷲ کا مال یعنی صدقہ خرچ کیا جاتا ہے۔ پھر سیدنا عمرؓ نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے صحابہ سے کہا کہ میں تمہیں اس اﷲ کی قسم دلاتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں۔ بتاؤ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اﷲﷺ نے یہ فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ بے شک آپﷺ نے یہ فرمایا تھا اور اس مجلس میں سیدنا علی، عباس، عثمان، عبدالرحمن بن عوف، زبیر اور سعد بن ابی وقاصؓ تھے۔

۸۶۔نبیؐ کی ذاتی استعمال کی یاد گار اشیاء

سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے دو جوتے بغیر بال کے چمڑے کے صحابہ کرامؓ کے سامنے نکالے، جن پر دو تسمے لگے ہوئے تھے۔ اور بیان کیا کہ وہ نبیﷺ کے جوتے تھے۔ اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ایک چادر جسے ملبدہ کہتے ہیں نکالی اور کہا کہ اسی کو اوڑھے ہوئے رسول اﷲﷺ نے وفات پائی۔ایک اور روایت میں اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے ایک موٹا تہبند، اس قسم کا جیسا کہ اہل یمن بناتے ہیں اور ایک چادر اسی قسم کی جس کو ملبدہ کہتے ہیں نکالی کہ یہ رسول اﷲﷺ کی ہے۔سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ کا پیالہ جب ٹوٹ گیا تو آپﷺ نے ٹوٹے ہوئے مقام پر چاندی کا ایک تار لگا لیا تھا۔

۸۷۔میں تو تقسیم کرنے والا ہوں، محمدﷺ

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ نہ میں تمہیں کچھ دیتا ہوں اور نہ تم سے روکتا ہوں۔ میں تو قاسم یعنی تقسیم کرنے والا ہوں، جہاں مجھے حکم دیا جاتا ہے میں صرف کر دیتا ہوں۔

۸۸۔اللہ کے مال میں بلا حق تصرف کرنا

سیدہ خولہ انصاریہؓ کہتی ہیں کہ رسول اﷲﷺ کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا کہ کچھ لوگ اﷲ کے مال میں بغیر حق کے تصرف کرتے ہیں۔ قیامت کے دن ان کے لیے دوزخ ہو گی۔

۸۹۔ انہیں جہاد میں نہ لے جایا جانا چاہیے

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ پہلے نبیوں میں سے ایک نبیؑ نے جہاد کیا تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ وہ شخص نہ جائے جس نے ابھی نئی شادی کی ہو کہ دلہن کے ساتھ کوئی رات بھی نہ گذاری ہو۔ اور نہ وہ شخص جس نے گھر بنایا ہو اور اس کی چھت نہ بنا سکا ہو اور نہ وہ شخص جس نے حاملہ بکریاں اور اونٹنیاں خریدی ہوں اور اسے ان کے بچے جننے کا انتظار ہو۔ پھر انہوں نے جہاد کیا۔ پس وہ اس بستی کے قریب نمازِ عصر کے وقت یا اس کے قریب پہنچے۔ پھر انہوں نے آفتاب سے کہا کہ تو بھی اﷲ کا محکوم ہے اور میں بھی اس کا محکوم ہوں۔ اے اﷲ اس کو ہمارے سامنے غروب ہونے سے روک لے۔ چنانچہ وہ روک لیا گیا یہاں تک کہ اﷲ نے ان کو فتح دی۔

۹۰سابقہ امتوں میں مالِ غنیمت حلال نہ تھا

پھر انہوں نے مالِ غنیمت کو جمع کیا۔ آسمان سے آگ آئی تاکہ اس مال کو کھا جائے مگر اس نے نہیں کھایا تو نبیﷺ نے کہا کہ تم لوگوں میں کسی نے چوری کی ہے۔ لہٰذا ہر قبیلے کا ایک ایک آدمی مجھ سے بیعت کرے تو ایک شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک گیا تو نبیﷺ نے کہا کہ وہ چوری کرنے والا تمہیں میں سے ہے لہٰذا تمہارے قبیلے کے سب لوگ مجھ سے بیعت کریں۔ چنانچہ دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک گئے۔ نبیﷺ نے کہا کہ چوری تمہیں نے کی ہے۔پس وہ سونے کا بنا ہوا گائے کا سرجیسا لے آئے تب آگ آ گئی اور اس نے کھا لیا۔ نبیﷺ نے فرمایا پھر اﷲ نے ہماری کمزوری اور ہماری عاجزی دیکھی۔ اس سبب سے مالِ غنیمت کو ہمارے لئے حلال کر دیا۔

۹۱۔تقسیم مالِ غنیمت : حصہ سے زیادہ عطا کرنا

سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک فوج نجد کی طرف روانہ کی جس میں عبداﷲ بن عمرؓ بھی تھے تو انہوں نے بہت سے اونٹ مالِ غنیمت میں پائے تو ان سب کے حصے میں بارہ بارہ یا گیارہ گیارہ اونٹ آئے اور ایک اونٹ انہیں حصہ سے زیادہ دیا گیا۔

۹۲۔حنین کے قیدیوں کی مفت رہائی

سیدناعبداللہ بن عمرؓ سے روایت کہ ان کے والدسیدنا عمر بن خطابؓ نے حنین کے قیدیوں میں سے دو لونڈیاں پائی تھیں اور اُن کو مکہ میں کسی گھر میں رکھا تھا۔ پھر رسول اﷲﷺ نے حنین کے قیدیوں کو مفت چھوڑ دینے کا حکم دیا تو لوگ گلیوں میں دوڑنے لگے۔ سیدنا عمرؓ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اے عبداﷲؓ دیکھو تو یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے حنین کے قیدی مفت چھڑوا دئیے ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے کہا جاؤ تم بھی ان دونوں لونڈیوں کو چھوڑ دو۔ (یہ لونڈیاں خمس میں سے ان کو ملی تھیں )۔

۹۳۔ بدر:کمسن لڑکوں کے ہاتھوں ابو جہل کا قتل

سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ کہتے ہیں میں بدر کے دن صف میں کھڑا ہوا تھا کہ اپنے دائیں اور بائیں جانب مجھے انصار کے دو کمسن لڑکے دکھائی دیئے۔ان میں سے ایک نے مجھ سے کہا کہ اے چچا! تم ابو جہل کو پہچانتے ہو؟ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ وہ رسول اﷲﷺ کو بُرا کہتا ہے۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں تو پھر میرا جسم اس کے جسم سے ٹل نہیں سکتا یہاں تک کہ ہم میں سے پہلے جس کی موت مقدر ہے وہ مر جائے۔ دوسرے لڑکے نے بھی اسی قسم کی گفتگو کی۔ تھوڑی ہی دیر بعد میں نے ابوجہل کو دیکھا تو میں نے ان نوجوانوں سے کہا کہ سنو! یہی وہ شخص ہے جس کی بابت تم مجھ سے پوچھ رہے تھے۔ پس وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر اُس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا۔ جب وہ رسول اﷲﷺ کے پاس آئے تو آپﷺ نے پوچھا کہ تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے ؟ ان میں سے ہر ایک نے کہا کہ میں نے اس کو قتل کیا ہے۔ پس آپﷺ نے ان کی تلواروں کو دیکھا تو فرمایا کہ بے شک تم نے اسے قتل کیا ہے مگر اس کا اسباب معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا اور وہ دونوں لڑکے معاذ بن عفر اور معاذ بن جموح کے تھے۔

۹۴۔ قریشیوں کو مالِ غنیمت میں سو سو اونٹ ملے

سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں قریش کے لوگوں کو ان کی تالیف کرنے کے لیے دیتا ہوں کیونکہ ان کا دَور جاہلیت سے قریب ہے۔… جب اﷲ نے اپنے رسول کو ہوازن کے اموال جس قدر غنیمت میں دلانے تھے دلا دیئے تو آپﷺ قریش کے بعض لوگوں کو سو سو اونٹ دینے لگے۔ بعض انصاری لوگ کہنے لگے کہ اﷲ تعالیٰ نبیﷺ کو معاف کرے۔ آپﷺ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نہیں دیتے حالانکہ ہماری تلواریں کافروں کے خون سے ٹپک رہی ہیں۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ سے یہ گفتگو بیان کی گئی تو آپﷺ نے انصار کو چمڑے کے ایک خیمے میں جمع کیا اور آپﷺ نے ان کے ساتھ کسی اور کو نہیں بلایا۔ پھر جب لوگ جمع ہو گئے تو رسول اﷲﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ لوگوں کے بارے میں جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے وہ کہاں تک درست ہے ؟ انصار کے سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! ہم میں سے عقلمند لوگوں نے کچھ نہیں کہا بلکہ چند کم عمر لوگوں نے ایسا کہا ہے۔

۹۵۔دارالحرب میں اگر کھانے کی کوئی چیز ملے

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ہم اپنے جہادوں میں شہد اور انگور پاتے تھے تو اس کو اسی وقت کھا لیتے اور اس کو تقسیم کرنے کے لیے باقی نہ رکھتے تھے۔

۹۶۔حضرت عمرؓ کا پارسیوں سے جزیہ لینا

امیر المومنین عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی وفات سے ایک سال قبل اہلِ بصرہ کی طرف ایک خط لکھا کہ اگر کسی مجوسی (پارسی) نے اپنی محرم عورت کو اپنی بیوی بنایا تو اُن دونوں کو جدا کر دو۔ اور امیر المومنین عمرؓ نے مجو سیوں سے جزیہ نہیں لیا یہاں تک کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ نے اس امر کی شہادت دی کہ رسول اﷲﷺ نے مقامِ ہجر کے مجہوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔

۹۷۔محتاجی سے زیادہ کشادگی کا خوف

سیدنا عمرو بن عوف انصاریؓ راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراحؓ کو جزیہ لینے بحرین بھیجا۔ وہ بحرین کا مال لے آئے اور انصار کو اس بات کی خبر ملی تو نمازِ فجر کے بعد انصار نبیﷺ کے سامنے آ گئے۔ رسول اﷲﷺ نے جب انہیں دیکھا تو مسکرائے اور فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم نے سنا ہے کہ ابو عبیدہؓ کچھ مال لائے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’جی ہاں یا رسول اﷲﷺ ‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا تم خوش رہو اور خوشی کی امید رکھو۔ اﷲ کی قسم مجھے یہ ڈر نہیں کہ تم محتاج ہو جاؤ گے بلکہ تم پر اس بات کا خوف رکھتا ہوں کہ دنیا تمہارے لئے کشادہ کر دی جائے گی۔ جس طرح پہلے لوگوں کے لیے کشادہ کر دی گئی تھی پھر تم اس میں حسد و بغض کرنے لگو۔ نا اتفاقی سے جھگڑا کرنے لگو جس طرح انہوں نے کیا تھا۔ اور وہ جھگڑا تم کو بھی پہلے لوگوں کی طرح ہی ہلاک کر دے۔

۹۸۔ عمرؓ کو پہلے کسریٰ پر حملہ کرنے کا مشورہ

امیر المومنین عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بڑے بڑے شہروں میں لوگوں کو بھیجا تاکہ وہ مشرکوں سے لڑیں۔ چنانچہ مدائن کا حاکم ہر مزان مسلمان ہو گیا تو سیدنا عمرؓ نے اس سے مشورہ کرتے ہوئے پوچھا کہ پہلے ان تین مقاموں (فارس، اصفہان اور آذر بائیجان) میں سے کہاں سے لڑائی شروع کی جائے۔ ہر مزان نے کہا کہ مسلمانوں کے دشمنوں کی مثال اس پرندے کی ہے جس کا ایک سر، دو بازو اور اس کے دو پیر ہوں۔پس سر تو کسریٰ (شاہِ ایران) ہے اور ایک بازو قیصر (شاہِ روم) ہے اور دوسرا بازو فارس ہے۔ لہٰذا آپ مسلمانوں کو حکم دیجئے کہ کسریٰ پر حملہ کریں۔

۹۹۔ایک اﷲ کی عبادت کرو یا جزیہ دو

پس سیدنا عمرؓ نے یا اور نعمان بن مقرن کو ہم پر سردار مقرر کیا یہاں تک کہ جب ہم دشمن کے ملک میں پہنچے تو کسریٰ کا عامل چالیس ہزار فوج لے کر ہمارے سامنے آیا۔ اس کا ایک ترجمان کھڑا ہو کر پوچھنے لگا کہ تم کون لوگ ہو؟ سیدنا مغیرہؓ نے کہا ہم عرب کے لوگ ہیں۔ ہم سخت بدبختی اور سخت مصیبت میں تھے۔ مارے بھوک کے چمڑے اور کھجور کی گٹھلیوں کو چوسا کرتے تھے اور ہم چمڑے اور بال کی پوشاک پہنتے تھے اور درختوں اور پتھروں کی پرستش کیا کرتے تھے کہ اچانک آسمانوں کے مالک اور زمینوں کے مالک نے ہماری طرف ایک نبی ہماری قوم میں سے بھیجا۔ جن کے ماں باپ کو ہم لوگ جانتے تھے۔ پس ہمارے نبیﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تم سے لڑیں یہاں تک کہ تم ایک اﷲ کی عبادت کرو یا جزیہ دو۔ اور ہمارے نبیﷺ نے ہمارے پروردگار کا یہ پیغام پہنچایا کہ جو شخص ہم میں مقتول ہو گا وہ جنت میں آرام سے رہے گا اور جو شخص ہم میں سے باقی رہے گا۔ وہ تمہاری گردنوں کا مالک ہو جائے گا۔

۱۰۰۔ نبیؐ اوّل وقت جنگ شروع نہ کرتے

سیدنا مغیرہؓ نے یہ گفتگو تمام کر کے سیدنا نعمانؓ سے کہا کہ لڑائی شروع کرو تو سیدنا نعمانؓ نے کہا کہ تم تو اکثر نبیﷺ کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوئے اور تمہیں کچھ مزاہمت و ذلت نہیں ہوئی یعنی شکست نہیں ہوئی اس کے باوجود کے آپ کو جنگ کا قاعدہ معلوم نہیں ؟ مگر میں اکثر آپؐ کے ساتھ شریک جنگ ہوا ہوں۔ آپؐ دن میں اوّل وقت جنگ شروع نہ کرتے انتظار فرماتے یہاں تک کہ ہوائیں چلنے لگتیں اور نماز کا وقت آ جاتا تب جنگ کرتے تھے۔

۱۰۱۔غزوۂ تبوک، ایلہ کے بادشاہ کا برقرار

سیدنا ابو حمید ساعدیؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اﷲﷺ کے ہمراہ تبوک میں جہاد کیا اور ایلہ کے بادشاہ نے نبیﷺ کو ایک سفید خچر دیا تھا اور آپﷺ کو ایک چادر دی تھی۔ آپﷺ نے اس کا ملک اسی کے نام لکھ دیا یعنی اسی کو وہاں کا حاکم رہنے دیا۔

۱۰۲۔ذمی کافر کو ناحق قتل کرنا جنت سے محرومی

سیدنا عبداﷲ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی ذمی کافر کو ناحق قتل کرے گا وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا اور بے شک جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت سے معلوم ہوتی ہے۔

۱۰۳۔یہودیوں کا زہر ملی روسٹ بکری نبیؐ کو بھیجنا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہود کی طرف سے ایک روسٹ کی ہوئی بکری جس میں زہر ملا ہوا تھا نبیﷺ کے پاس ہدیہ میں آئی تو نبیﷺ نے وہاں موجود تمام یہودیوں کو جمع کر کے اُن سے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات پوچھنے والا ہوں تو کیا تم مجھ کو سچ سچ بتادو گے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں، تو نبیﷺ نے ان سے فرمایا کہ اچھا بتاؤ تمہارا باپ کون ہے ؟ ان لوگوں نے کہا کہ فلاں شخص۔ آپﷺ نے فرمایا تم نے جھوٹ کہا تمہارا باپ تو فلاں شخص ہے۔ انہوں نے کہا آپﷺ سچ کہتے ہیں۔پھر آپﷺ نے ان سے پوچھا کہ بتاؤ دوزخ والے لوگ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم تو دوزخ میں تھوڑے ہی دنوں رہیں گے پھر ہمارے بعد تم اس میں جانشین ہو گے نبیﷺ نے فرمایا کہ تم اس میں ذلیل رہو گے۔ اﷲ کی قسم ہم کبھی اس میں تمہاری جانشینی نہیں کریں گے۔ پھر آپﷺ نے پوچھا کہ کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا تم کو کس چیز نے اس بات پر آمادہ کیا؟ تو ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے چاہا تھا کہ آپﷺ اگر جھوٹے ہیں تو ہمیں آپﷺ سے نجات مل جائے گی اور اگر آپؐ سچے نبی ہیں تو یہ آپﷺ کو ضرر نہ کرے گا۔

۱۰۴ ۔ نو لاکھ عیسائی فوجی مسلمانوں سے لڑیں گے

سیدنا عوف بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں چمڑے کے ایک خیمے میں قیام پذیر نبیﷺ کے پاس گیا تو آپؐ نے فرمایا: قیامت سے پہلے چھ باتیں ہوں گی (۱) میری موت (۲) فتح بیت المقدس۔ (۳) طاعون تم میں اس طرح پھیلے گی جیسے بکریوں میں مری کی بیماری پھیلتی ہے۔( ۴) مال کا بکثرت ہونا یہاں تک کہ اگر کسی شخص کو سو اشرفیاں دی جائیں گی،تب بھی وہ ناخوش رہے گا۔( ۵) ایک فتنہ ہو گا کہ عرب کا کوئی گھر ایسا نہ ہو گا کہ جس میں وہ داخل نہ ہو۔ (۶) ایک صلح تمہارے اور عیسائیوں کے درمیان ہو گی پھر وہ بے وفائی کریں گے اور اَسّی جھنڈے لئے تم سے لڑنے آئیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار آدمی ہوں گے۔( یعنی نو لاکھ ساٹھ ہزار فوج)۔

۱۰۵۔قیامت کے روز عہد شکن نمایاں ہو گا

سیدنا عبداﷲؓ اور سیدنا انسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا، جس سے وہ پہچان لیا جائے گا کہ یہ بندہ دغا باز تھا۔


٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں: