پیغام حدیث ۔ 3: کتاب بدء الخلق تا کتاب المغازی - پیغام قرآن و حدیث

بدھ، 21 مارچ، 2012

پیغام حدیث ۔ 3: کتاب بدء الخلق تا کتاب المغازی



۵۳۔ کتاب بدء الخلق (آغازِ خلق کا بیان)


۱۔ جب اللہ کے سوا کچھ نہ تھا

سیدنا عمران بن حصینؓ ایک روایت میں کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تھا اور اس کے سوا کچھ نہ تھا اور اس کا عرش پانی پر تھا اور لوحِ محفوظ میں اس نے ہر چیز لکھ دی تھی اور اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔

۲۔ ابن آدم کا اللہ کو گالی دینا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسو ل اﷲﷺ نے فرمایا اﷲ عزوجل فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے گالی دیتا ہے حالاں کہ اسے ایسا کرنا زیب نہیں دیتا۔ اسی طرح یہ میری تکذیب کرتا ہے حالانکہ اسے ایسا کرنا زیب نہیں دیتا۔ ابن آدم کا اللہ کو گالی دینا اس کا یہ کہنا ہے کہ اﷲ کی اولاد ہے۔ اور اللہ کی تکذیب کرنا اس کا یہ کہنا ہے کہ جس طرح اللہ نے مجھے پیدا کیا ہے اس طرح دوبارہ (موت کے بعد) اﷲ مجھے پھر زندہ نہیں کر سکتا۔

۳۔ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جب اﷲ تعالیٰ مخلوق کی پیدائش کو مکمل کر چکا تو اس نے اپنے پاس عرش میں موجود کتاب لوحِ محفوظ میں یہ لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔

۴۔سال میں چار مہینے حرمت کے ہیں

سیدنا ابو بکر صدیقؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا زمانہ اپنی اصلی حالت پر آ گیا، اس دن کے مطابق جس دن اﷲ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے اس میں چار مہینے حرمت کے ہیں۔ تین مہینے تو یکے بعد دیگرے ہیں یعنی ذی القعد، ذوالحجہ اور محرم جبکہ چوتھا مہینہ رجب ہے جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔

۵۔جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا

سیدنا ابو ذرؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے غروبِ آفتاب کے وقت اُن سے پوچھاکہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کہاں جاتا ہے ؟ میں نے کہا کہ اﷲ اور اس کا رسول اﷲﷺ خوب واقف ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ وہ جا کر عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے پھر مشرق سے طلوع ہونے کی اﷲ سے اجازت مانگتا ہے تو اُسے اجازت دے دی جاتی ہے۔ اور قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے اور اس کا سجدہ قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے مگر اسے اجازت نہ ملے بلکہ اس سے کہہ دیا جائے کہ تو جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا پس وہ مغرب سے طلوع ہو گا۔

۶۔سورج اور چاند لپیٹ دیے جائیں گے

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ دیئے جائیں گے۔

۷۔قومِ عاد پر عذابِ الٰہی کے بادل

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ جب کوئی ابر کا ٹکڑا آسمان پر دیکھتے کبھی آگے بڑھتے کبھی پیچھے ہٹتے، کبھی اندر آتے کبھی باہر جاتے اور چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا۔ پھر جب پانی برسنے لگتا تو آپﷺ کی وہ حالت دُور ہو جاتی۔ اُمّ المومنین نے اس کا سبب پوچھا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے کیا معلوم، شاید یہ وہ بادل نہ ہو کہ جسے دیکھ کر قومِ عاد نے کہا تھا ’’پس جب انہوں نے اپنی وادیوں کی طرف بادل کو آتے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ تو رحمت کا بادل ہے۔ الاحقاف۔ ۲۴… (حالانکہ وہ تو عذاب الٰہی تھا)۔

۸۔روح پھونکے جانے سے قبل رزق و عمر کا تعین

سیدنا عبداﷲ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اﷲﷺ نے بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں تمام کی جاتی ہے۔ چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے پھر اتنے ہی عرصے تک بَستہ خون رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے۔ پھر اﷲ تعالیٰ فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔( ۱) اس کا عمل۔ (۲) اس کا رزق۔ (۳) اس کی عمر۔( ۴) خوش بخت ہے یا بدبخت۔ پھر اس میں رُوح پھونک دی جاتی ہے۔ تم میں سے کوئی شخص ایسا عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ پھر اس پر اﷲ کا نوشتہ تقدیر غالب آ جاتا ہے اور وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے۔ اور کوئی شخص ایسا عمل کرتا ہے کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے پھر اس پر اﷲ کا نوشتہ تقدیر غالب آ جاتا ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے۔

۹۔جب اﷲ کسی بندے سے محبت کرتا ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جب اﷲ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریلؑ کو آواز دیتا ہے کہ اﷲ فلاں شخص کو دوست رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس کو دوست رکھو۔ پس جبریلؑ اس کو دوست رکھنے لگتے ہیں۔ پھر جبریلؑ تمام آسمان والوں میں اعلان کر دیتے ہیں کہ اﷲ فلاں شخص کو دوست رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس کو دوست رکھو چنانچہ اس کو تمام آسمان والے دوست رکھتے ہیں پھر زمین والوں میں اس کی قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔

۱۰۔شیاطین کا آسمانی خبروں سے کاہن کو آگاہ کرنا

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اﷲﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ فرشتے عنان (بادل یا آسمانِ دنیا) میں اترتے ہیں اور اُن امور کا تذکرہ کرتے ہیں جن کا فیصلہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ سے ہو چکا ہوتا ہے۔ یہیں سے شیاطین چھپ کر اُسے سن لیتے ہیں اور کاہنوں کو اس کی اطلاع دیتے ہیں۔ اور یہ کاہن اس کے ساتھ کچھ جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر آگے بیان کرتے ہیں۔

۱۱۔خطبہ جمعہ سے قبل آنے والے نمازیوں کا اندراج

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے متعین ہوتے ہیں، اور وہ سب سے پہلے اور بعد میں آنے والے نمازیوں سب کے نام لکھتے رہتے ہیں۔ پھر جب امام (منبر پر خطبہ دینے ) بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفوں کو لپیٹ دیتے ہیں اور خطبہ سننے کے لیے آ جاتے ہیں۔

۱۲۔ جبریلؑ کا حضرت عائشہ ؓ کو سلام کہنا

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایا کہ اے عائشہؓ ! یہ جبریلؑ تم کو سلام کہتے ہیں تو انہوں نے کہا وعلیکم السلام و رحمۃ اﷲ و برکاتہ، بے شک آپ (ﷺ ) وہ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھ سکتی۔

۱۳۔جبرئیلؑ کا اللہ کے حکم سے نبیؐ کے پاس آنا

سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے جبریلؑ سے کہا کہ جس قدر اب تم ہمارے پاس آتے ہو اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ ابن عباسؓ کہتے ہیں پس یہ آیت نازل ہوئی ’’ اور ہم نہیں نازل ہوتے مگر تمہارے پروردگار کے حکم سے، اس کاہے جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور ہمارے پیچھے ہے ‘‘ (سورۃ مریم: ۶۴)

۱۴۔قرآن کا سات قرأتوں میں نازل ہونا

سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ مجھے جبریلؑ نے ایک قرأت میں قرآن پڑھایا تھا پھر میں برابر ان سے زیادہ چاہتا رہا یہاں تک کہ سات قرأتوں تک پہنچ گیا۔

۱۵۔نبیﷺ پر سخت ترین دن طائف میں گذرا

اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبیﷺ سے پوچھا کیا اُحد سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپﷺ پر گذرا ہے تو آپﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہاری قوم قریش سے جو جو تکالیف اٹھائی ہیں وہ میرا ہی دل جانتا ہے اور سب سے زیادہ سخت دن مجھ پر (طائف کی طرف واقع) مقامِ عقبہ کا دن گزرا ہے جب میں نے اپنے آپ کو طائف کے رئیس ابن عبد یا یعل لیل بن عبد کلال کی پناہ کے لیے پیش کیا اور اس نے میری خواہش رد کر دی۔ میں نہایت رنج میں چلا۔ میں اپنے ہوش میں نہ آیا تھا کہ مقام قرن الثعالب میں پہنچا۔ اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ابر کے ٹکڑے نے مجھ پر سایہ کر لیا ہے پھر میں نے دیکھا تو اس میں جبریلؑ تھے۔ انہوں نے مجھے آواز دی کہ اﷲ نے آپﷺ کی قوم کی گفتگو سن لی اور وہ جواب جو انہوں نے آپﷺ کو دیا اور اﷲ نے آپﷺ کے پاس پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ہے۔ آپﷺ اس کو کافروں کی نسبت جو چاہیں حکم دیں۔ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی۔ مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد(ﷺ )! جو تم چاہو موجود ہے۔ اگر تم چاہو تو میں اخشبین نامی دونوں پہاڑ ان پر رکھ دوں ؟ آپؐ نے فرمایا ’’نہیں میں یہ نہیں چاہتا بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اﷲ ان کی پشت سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اﷲ عزوجل کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔

۱۶۔نبیؐ نے اللہ کو نہیں بلکہ جبریلؑ کو دیکھا تھا

اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ جو شخص خیال کرتا ہے کہ محمدﷺ نے اپنے پروردگار کو دیکھا تو اس نے بُرا خیال کیا بلکہ آپﷺ نے جبریلؑ کو اُن کی اصلی صورت و خلقت میں دیکھا تھا جنہوں نے آسمان کے کنارے بھر دیئے تھے۔

۱۷۔خاوند کو انکار کرنے والی بیوی پر لعنت

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جب خاوند اپنی بیوی کو ہم بستری کے لیے بلائے اور وہ انکار کر دے اور خاوند اس پر غصہ ہو کر سوجائے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔

۱۸۔ حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰؑ کا حلیہ مبارک

سیدنا ابن عباسؓ مروی ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ معراج کی شب میں نے موسیٰؑ کو دیکھا کہ وہ ایک گندمی رنگ، دراز قامت اور گھنگریالے بالوں والے آدمی ہیں۔ جیسے قبیلہ شنو ۃ کے لوگ ہوتے ہیں۔ اور میں نے عیسیٰؑ کو بھی دکھا کہ وہ میانہ قامت، میانہ بدن، سرخ سفید سیدھے بالوں والے آدمی ہیں۔

۱۹۔مرنے کے بعد جنت یا دوزخ کا دکھلایا جانا

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اُسے (ہر روز) اس کا مقام صبح و شام دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو جنت میں اسے اس کا مقام دکھایا جاتا ہے اور اگر وہ اہل دوزخ میں سے ہو تو دوزخ میں اسے اس کا مقام دکھایا جاتا ہے۔

۲۰جنت میں غربا،دوزخ میں عورتوں کی کثرت

سیدنا عمران بن حصینؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ میں نے جنت میں دیکھا تو وہاں کے لوگوں میں اکثرغریبوں کو پایا اور میں نے دوزخ میں دیکھا تو دوزخ والوں میں عورتوں کی کثرت دیکھی۔

۲۱۔ نبیﷺ کاحضرت عمرؓ کے جنتی محل کو دیکھنا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبیﷺ کے پاس تھے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’اس حالت میں کہ میں سورہا تھا تو میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا ایک عورت ایک محل کے گوشہ میں وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کاہے ؟ لوگوں نے کہا کہ عمرؓ کاہے تو میں نے ان کی غیرت کا خیال کیا اور وہاں سے لوٹ آیا‘‘ یہ سن کر سیدنا عمرؓ رونے لگے اور کہا کہ یا رسول اﷲﷺ ! کیا میں آپﷺ کے ساتھ بھی غیرت کروں گا؟

۲۲۔جنتیوں کو بول و براز کی حاجت نہ ہو گی

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ان کی صورت چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہو گی۔ ان لوگوں کو نہ تھوک آئے گا نہ ہی ناک سے لعاب اور نا وہ وہاں بول و براز کریں گے۔ ان کے برتن وہاں سونے کے ہوں گے اور ان کی کنگھیاں سونے چاندی کی اور ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگے گا اور ان کا پسینہ مشک کا جیسا خوشبو دار ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے حسین و جمیل اور نازک مزاج دو دو بیویاں ہوں گی۔ اہل جنت میں نہ باہم اختلاف ہو گا اور نہ دشمنی۔ ان سب کے دل ایک ہوں گے وہ صبح و شام اﷲ کی پاکی بیان کر تے رہیں گے۔

۲۳۔سات لاکھ کا گروہ جنت میں داخل ہو گا

سیدنا سہل بن سعدؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ بیشک میری امت میں ستر ہزار یا سات لاکھ کی ایک جماعت جنت میں بیک وقت داخل ہو گی جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔

۲۴۔جنتی درخت طوبیٰ کی خوبی

سیدنا انسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اگر سوار اس کے سائے میں سو برس تک چلتا رہے تب بھی اس کو طے نہ کر سکے (یہ درخت طوبیٰ ہے )۔

۲۵۔افضل جنتیوں کو باقی جنتی دیکھیں گے

سیدنا ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت اپنے اوپر والوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم روشن ستارے کو دیکھتے ہو۔ کیونکہ ان میں ایک جنتی دوسرے سے افضل ہو گا۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! یہ انبیاء کے مقامات ہیں۔ کوئی اور وہاں کیسے پہنچ سکتا ہے ؟ تو آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں ! قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ کچھ لوگ جو اﷲ پر ایمان لائے اور انہوں نے پیغمبروں کی تصدیق کی وہ بھی وہاں پہنچیں گے۔

۲۶۔بخار کو پانی سے ٹھنڈا کرو

اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہ روایت کرتی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ بخار جہنم کے جوش سے پیدا ہوتا ہے لہٰذا تم اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔

۲۷۔ جہنمی آگ دنیاکی آگ سے ستر گنا زیادہ

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ تمہاری آگ کی گرمی جہنم کی آگ کی گرمی کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ عرض کیا گیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! دنیا کی آگ ہی جلانے کے لیے کافی تھی تو آپﷺ نے فرمایا کہ وہ اس پر انہتر حصے بڑھا دی گئی ہے۔ ہر ایک حصہ اسی کے برابر گرم ہے۔

۲۸:اوروں کو نصیحت اور خود عمل نہ کرنے کا انجام

سیدنا اسامہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن ایک شخص لایا جائے گا اور وہ آگ میں ڈال دیا جائے گا پھر اس کی آنتیں آگ میں نکل پڑیں گی اور وہ اس طرح سے گھومے گا جیسے گدھا اپنی چکی کو لے کر گھومتا ہے۔ پھر دوزخ والے اس کے پاس جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ اے فلاں ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ کیا تو ہمیں اچھی باتوں کا حکم نہ دیتا تھا اور ہمیں بُری باتوں سے منع نہ کرتا تھا؟ وہ کہے گا کہ ہاں میں تمہیں اچھی باتوں کا حکم دیتا تھا مگر خود نہ کرتا تھا اور تمہیں بُری باتوں سے منع کرتا تھا مگر خود اُن پر عمل کرتا تھا۔

۲۹۔کنگھی، بال اور کھجور سے نبیؐ پر یہودی کا جادو

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبیﷺ پر جادو کیا گیا اس کا اثر یہ ہوا کہ آپﷺ کو خیال ہوتا تھا کہ ایک کام کیا ہے حالانکہ آپﷺ نے اس کو نہ کیا ہوتا۔ آخر آپﷺ نے ایک دن دعا کی اور اس کے بعد مجھ سے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اﷲ نے مجھے وہ بات بتا دی جس میں میری شفا ہے۔ دو آدمی میرے پاس آئے، ان میں سے ایک میرے سر کے پاس اور دوسرا میرے پیروں کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر اُن میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ اس شخص کو کیا بیماری ہے ؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو کیا گیا ہے۔ اس نے پوچھا کہ کس نے ان پر جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے کہا کہ لبید بن اعصم نامی یہودی نے۔ اس نے پوچھا کہ کس چیز میں ؟ دوسرے نے کہا کہ کنگھی میں اور بالوں میں اور نر کھجور کے خوشے کے اوپر والے چھلکے میں۔ اس نے پوچھا کہ وہ کہاں ہے ؟ دوسرے نے کہا کہ ذروان نامی کنوئیں میں۔ پس نبیﷺ وہاں تشریف لے گئے۔ جب وہاں سے واپس آئے تو آپﷺ نے اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہؓ سے فرمایا کہ اس کنوئیں کے قریب والے درخت گویا کہ شیاطین کے سر ہیں حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا کہ آپﷺ نے اس کو نکلوا لیا؟ فرمایا کہ نہیں۔ اﷲ نے تو مجھے شفا دے دی اور اس کے نکلوانے میں مجھے یہ خیال ہوا کہ لوگوں میں فساد پھیلے گا۔اس کے بعد وہ کنواں بند کر دیا گیا۔

۳۰۔شیطانی وسوسوں پر اعو ذ باللہ پڑھنا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے یعنی وسوسہ ڈالتا ہے کہ یہ کس نے پیدا کیا ہے ؟ وہ کس نے پیدا کیا ہے ؟ اخیر میں کہتا ہے کہ بتاؤ تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ پس جب یہاں تک نوبت پہنچ جائے تو وہ شخص اعوذ باﷲ پڑھے اور شیطانی خیال چھوڑ دے۔

۳۱۔شیاطین شام ڈھلے پھیل جاتے ہیں

سیدنا جابرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جب رات کا اندھیرا چھا جائے تو تم اپنے بچوں کو گھر میں روک لو کیونکہ اس وقت شیاطین پھیل جاتے ہیں۔ جب عشاء کے وقت میں سے ایک گھڑی گزر جائے تو اس وقت بچوں کو چھوڑ دو اور بسم اﷲ کہہ کر اپنا دروازہ بند کر لو اور بسم اﷲ کہہ کر اپنا چراغ بجھا دو، پانی کا برتن بسم اﷲ کہہ کر ڈھانک دو اگر ڈھانکنے کے لیے کوئی چیز نہ ملے تو کوئی لکڑی وغیرہ اس کے اوپر رکھ دو۔

۳۲۔غصہ کا علاج اعوذ باﷲ پڑھنا

سیدنا سلیمان بن صُردؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور دو آدمی باہم گالی گلوچ کر رہے تھے۔ ایک کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور رگیں پھول گئیں۔ پھر نبیﷺ نے فرمایا کہ میں ایک ایسی دعا جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص پڑھے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا اگر یہ کہہ دے اعوذ باﷲ من الشیطان الرجیم تو اس کا غصہ جاتا رہے تو لوگوں نے اس شخص سے کہا کہ نبیﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ اس لئے تو شیطان سے اﷲ کی پناہ مانگ!

۳۳۔جمائی کو روکنا کہ یہ شیطانی حرکت ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:جمائی شیطان کی حرکات میں سے ہے پس جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ حتی الامکان اس کو روکے کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص جمائی لیتے وقت (منہ کھول کر) ہا کہتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔

۳۴۔اچھا اور بُرا خواب: اللہ و شیطان کی طرف

سیدنا ابو قتادہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا عُمدہ خواب اﷲ کی طرف سے اور بُرا خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ جب تم میں سے کسی کو بُرا خواب نظر آئے،جس سے وہ ڈر جائے تو جاگتے ہی اپنی بائیں طرف تھوکے اور اس بُرائی سے اﷲ کی پناہ مانگے۔یوں وہ خواب اسے کچھ نقصان نہ پہنچائے گا۔

۳۵شیطان رات بھر ناک کے سرے پر رہتا ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب کوئی تم میں سے سوکر جاگے اور وضو کرے تو تین بار ناک میں پانی ڈالنا چاہیے کیونکہ شیطان رات بھر اس کی ناک کے سرے پر رہتا ہے۔

۳۶۔گھروں کے سانپ جن بھی ہو سکتے ہیں

سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو منبر پر خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سانپ جہاں دیکھو مار ڈالو اور دو سفید دھاری والے اور دُم کٹے سانپ کو زندہ نہ چھوڑو کیونکہ یہ آنکھ کی بینائی ختم کر دیتے ہیں اور پیٹ والی عورت کا حمل گرا دیتے ہیں۔ سیدنا عبداﷲؓ کہتے ہیں کہ میں ایک سانپ کو مارنے کے لیے اس کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ سیدنا ابو لبابہؓ نے مجھے پکارا اور کہا کہ اسے مت مارو تو میں نے کہا کہ بے شک رسول اﷲﷺ نے سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے تو انہوں نے کہا کہ بے شک مگر اس کے بعد آپﷺ نے گھریلو سانپوں کو مار ڈالنے سے منع کر دیا تھا کہ ایسے سانپ عوامر کہلاتے ہیں۔ (گھروں میں رہنے والے سانپ میں جنات بھی ہو سکتے ہیں۔ ابو سعید خدریؓ کی ایک حدیث کے مطابق انہیں پہلے تین مرتبہ وارننگ دینی چاہیے پھر بھی اگر وہ نہ جائیں تو انہیں مار دینا چاہیے )۔

۳۷۔کفر کی بنیاد مشرق میں ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ کفر کی بنیاد مشرق میں ہے۔ فخر اور تکبر گھوڑے والوں، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتا ہے۔ جبکہ سکونِ قلب اور اطمینان بکری والوں میں ہے۔

۳۸۔مرغ فرشتے کو اور گدھا شیطان کو دیکھتا ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جب تم مرغ کوبانگ دیتے ہوئے سنو تو اﷲ س کے فضل کے لیے دعا کرو کیونکہ مرغ فرشتے کو دیکھ کر بانگ دیتا ہے۔ اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اﷲ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر چیختا ہے۔

۳۹۔ کچھ اسرائیلیوں کا چوہا بننے کی روایت

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ غائب ہو گئے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ انہوں نے کیا کیا، ان کی صورتیں مسخ ہو گئیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ چوہا بن گئے کیونکہ اگر اونٹ کا دودھ چوہے کے سامنے رکھو تو وہ نہیں پیتا (بنی اسرائیل کے دین میں اونٹ حرام تھا) اور جب بکری کا دودھ رکھو تو پی جاتا ہے۔ راوی نے یہ حدیث سیدنا کعبؓ سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ تم نے یہ حدیث نبیﷺ سے سنی ہے ؟ میں نے کہا ہاں۔ سیدنا کعبؓ نے مجھ سے بار بار یہی پوچھا تو میں نے کہا کہ اگر رسول اﷲﷺ سے نہیں سنی تو کیا میں تو رات پڑھتا ہوں ؟

۴۰۔ مکھی : ایک پَر میں بیماری دوسرے میں شفاء

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اس کو ڈبو دے پھر نکال ڈالے اس لئے کہ اس کے ایک پَر میں بیماری اور دوسرے میں شفاء ہے۔

۴۱:پیاسے کتے کو پانی پلانا مغفرت کا سبب بن گیا

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ ایک بدکار عورت کو اﷲ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معاف کر دیا کہ اس نے کنوئیں کے دہانے پر ایک کتے کو ہانپتے ہوئے دیکھا۔ وہ پیاس کی وجہ سے مرنے کے قریب تھا۔ اس عورت نے اپنا موزہ اتارا پھر اپنی چادر میں باندھ کر اس کتے کے لیے کنوئیں سے پانی نکالا اور اسے پلایا۔چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اس کو اس نیکی کے بدلے میں جہنم سے بچا لیا۔


٭٭٭


۵۴۔کتاب احادیث الانبیاء



۱۔آدمؑ ساٹھ ہاتھ لمبے قد کے تھے

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا اﷲ تعالیٰ نے آدمؑ کو ساٹھ ہاتھ لمبا بنایا پھر فرمایا کہ جاؤ ان فرشتوں کو سلام کرو اور دیکھو کہ وہ کن الفاظ سے جواب دیتے ہیں کیونکہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہو گا۔ آدمؑ نے کہا ’’السلام علیکم‘‘ تو انہوں نے جواب دیا ’’السلام علیکم و رحمۃ اﷲ‘‘۔ گویا انہوں نے ’’و رحمۃ اﷲ‘‘ کا لفظ بڑھا دیا۔ جو کوئی بھی جنت میں داخل ہو گا وہ آدمؑ کی شکل و صورت میں داخل ہو گا۔آدمؑ کے بعد سے آج تک انسانوں میں قد چھوٹے ہی ہوتے رہے۔

۲۔جنت میں پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی ہو گی

سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ یہودیوں کے عالم سیدنا عبداﷲ بن سلامؓ کو رسول اﷲﷺ کے مدینہ تشریف لانے کی خبر پہنچی تو وہ آپﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ میں آپﷺ سے تین باتیں پوچھتا ہوں۔ پیغمبر کے سوا کوئی اور ان کو نہیں جان سکتا۔ (۱) قیامت کی پہلی نشانی کیا ہے ؟ (۲)جنتی لوگ جنت میں جا کر پہلے کیا کھائیں گے ؟ (۳) بچہ اپنے باپ کے مشابہ کیوں ہوتا ہے ؟ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ابھی ابھی جبریلؑ نے مجھے یہ باتیں بتا دیں ہیں تو سیدنا عبداﷲؓ نے کہا کہ فرشتوں میں یہی تو یہودیوں کے دشمن ہیں۔ پھر رسول اﷲﷺ نے فرمایا قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف لے جائے گی۔ اور پہلا کھانا جنتی لوگوں کا مچھلی کی کلیجی کا ایک منفرد ٹکڑا ہو گا۔ بچہ کے مشابہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب مرد عورت سے صحبت کرتا ہے اس وقت اگر مرد کی منی غالب ہو جاتی ہے تو بچہ باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور اگر عورت کی منی غالب ہو جاتی ہے تو بچہ ماں کے مشابہ ہوتا ہے۔ پس عبداﷲ بن سلام نے یہ سن کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپﷺ اﷲ کے رسول ہیں۔

۳۔یہودی عالم عبداﷲ بن سلامؓ کا مسلمان ہونا

…پھر انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! یہودی نہایت جھوٹے لوگ ہیں۔ آپﷺ کے پوچھنے سے پہلے اگر ان کو معلوم ہو جائے کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں تو وہ مجھے جھوٹا کہیں گے۔ یہودی رسول اﷲﷺ کے پاس آئے اور سیدنا عبداﷲ بن سلام ایک کوٹھڑی میں چلے گئے۔ رسول اﷲﷺ نے ان یہودیوں سے پوچھا کہ عبداﷲ بن سلام تم میں کیسا آدمی ہے ؟ انہوں نے کہا عبداﷲ بن سلام عالم ہیں اور عالم کے بیٹے اور سب سے افضل اور سب سے افضل کے بیٹے۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اگر عبداﷲ مسلمان ہو جائے تو کیا تم بھی مسلمان ہو جاؤ گے ؟ انہوں نے کہا کہ اﷲ انہیں مسلمان ہونے سے بچائے رکھے۔ پس سیدنا عبداﷲ کوٹھڑی سے نکلے اور کہا کہ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اﷲ کے رسول ہیں ‘‘ اس وقت یہودی کہنے لگے کہ ’’تو ہم سب میں بُرا آدمی ہے اور سب سے بُرے شخص کا بیٹا ہے ‘‘ اور انہیں بُرا بھلا کہنے لگے۔

۴۔نہ گوشت سڑتانہ عورتیں خیانت کرتیں

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا اور اگربی بی حوا ؑ نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔

۵۔دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب

سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو دوزخ میں سب سے ہلکا عذاب ہو گا، اﷲ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ اگر تیرے پاس اس وقت زمین بھر کا مال ہو تو اس کو دے کر تو اپنے آپ کو چھڑانا چاہے گا؟ تو وہ کہے گا کہ بے شک۔ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تو تجھ سے اس سے بھی بہت آسان بات چاہی تھی۔جب تو آدم کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا۔ تو نہ مانا اور شرک پر ہی اڑا رہا۔

۶۔ قتل ناحق کے گناہوں میں قابیل کی شرکت

سیدنا عبداﷲ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص دنیا میں ناحق قتل کیا جاتا ہے تو اس کے خون کے گناہ کا ایک حصہ آدم کے پہلے بیٹے قابیل کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جاتا ہے کیونکہ قتل ناحق کی ابتدا اسی نے کی تھی۔

۷۔بُرائی کا پھیلنا نیک و بد کی ہلاکت کا سبب

اُمُّ المومنین حضرت زینب بنت جحشؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ گھبرائے ہوئے ان کے پاس آئے اور فرمایا کہ ’’لا الہ الا اﷲ، عرب کی خرابی اس آفت سے ہونے والی ہے جو نزدیک آ پہنچی۔ آج یا جوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا‘‘ آپﷺ نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے حلقہ کر کے بتلایا۔ حضرت زینبؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں جب بُرائی زیادہ پھیل جائے۔

۸۔ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنمی ہوں گے

سیدنا ابو سعید خدریؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا کہ اے آدمؑ ! پس وہ کہیں گے کہ میں حاضر ہوں اور مستعد ہوں۔ سب بھلائی آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ پھر اﷲ کہے گا کہ دوزخ میں جانے والوں کو باہر نکالو۔وہ پوچھیں گے کہ کتنے لوگوں کو نکالوں ؟ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے۔ پس اس وقت مارے خوف کے بچہ بوڑھا ہو جائے اور حاملہ کا حمل گر جائے گا اور تو لوگوں کو دیکھے گا کہ جیسے وہ مست بیہوش ہیں۔ حالانکہ ان کو نشہ نہ ہو گا لیکن اﷲ کا عذاب بہت سخت ہے۔

۹۔جنت کی نصف آبادی اُمتِ محمدیہؐ ہو گی

صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ہزار میں سے ایک جنتی ہم میں سے کون ہو گا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ خوش ہو جاؤ کہ وہ ایک آدمی تم میں سے ہو گا اور جہنم میں جانے والے ایک ہزار یا جوج ما جوج کی قوم سے ہوں گے۔پھر فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ تمام جنتی لوگوں کے ایک چوتھائی ہو گے۔ ہم نے مارے خوشی کے تکبیر کہی۔ پھر فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنتی لوگوں کے تہائی حصہ ہو گے ہم نے پھر تکبیر کہی۔ آپﷺ نے پھر فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنتی لوگوں کے نصف برابر ہو گے۔ ہم نے پھر تکبیر کہی۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ (محشر میں ) تم لوگ تمام انسانوں کے مقابلے میں ایسے ہو جیسے سفید بیل کی کھال میں ایک کالا بال یا کالے بیل کی کھال میں ایک سفید بال۔

۱۰۔سب سے پہلے ابراہیم کو لباس پہنایا جائے گا

سیدنا ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ اکٹھے کئے جاؤ گے۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی ’’جیسے ہم نے اوّل دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے اور ہم اسے ضرور کر کے ہی رہیں گے ‘‘ (الانبیاء: ۱۴) اور قیامت کے دن سب سے پہلے ابراہیمؑ کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ اور میری امت میں سے کئی لوگ بائیں (دوزخ کی) طرف کھینچ لئے جائیں گے تو میں کہوں گا کہ یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ یہ میرے ساتھی ہیں تو کہا جائے گا کہ یہ لوگ آپﷺ کی وفات کے بعد اسلام سے پھر گئے تھے۔ اس وقت میں وہی کہوں گا جو ایک نیک بندے (عیسیٰؑ ) نے کہا تھا کہ ’’ اور میں جب تک ان میں رہا ان پر گواہ رہا۔تو زبردست ہے، حکمت والا ہے ‘‘ (المائدہ: ۱۱۸، ۱۱۷)

۱۱۔حشر میں ابراہیمؑ کی اپنے والد سے ملاقات

سیدنا ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ابراہیمؑ قیامت کے دن اپنے والد آزر سے ملیں گے اور آزر کے منہ پر سیاہی گردو غبار ہو گا تو ابراہیمؑ ان سے کہیں گے کہ ’’میں نے دنیا میں تم سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرو‘‘ تو ان کا باپ کہے گا کہ ’’آج میں تمہاری نافرمانی نہ کروں گا‘‘۔ پھر ابراہیمؑ کہیں گے کہ اے میرے رب تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے قیامت کے دن ذلیل نہ کرے گا تو اس سے زیادہ ذلت کیا ہو گی کہ میرا باپ تیری رحمت سے دُور ہوا؟ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے کافروں پر جنت حرام کر دی ہے۔ پھر کہا جائے گا کہ اے ابراہیمؑ ! دیکھو تمہارے پاؤں کے نیچے کیا ہے ؟ وہ دیکھیں گے کہ ایک ذبح کیا ہوا جانور خون میں لتھڑا ہوا پڑا ہو گا۔ پھر اس کے پاؤں پکڑ کر اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔

۱۲۔سب سے زیادہ شریف کون؟

سیدنا ابو ہریرہؓ نے پوچھا کہ یا رسول اﷲﷺ ! سب زیادہ شریف کون ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو؟ لوگوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں پوچھتے۔ آپﷺ نے فرمایا پھر حضرت یوسفؑ تھے جو خود نبی تھے، باپ نبی، دادا نبی، پر دادا نبی، اﷲ کے خلیل۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں پوچھتے تو آپﷺ نے فرمایا کہ تم عرب کے خاندان کے بارے میں پوچھتے ہو؟ جو لوگ جاہلیت کے دَور میں شریف تھے وہی اسلام میں بھی شریف ہیں بشرطیکہ وہ اسلام کو اچھی طرح سمجھیں۔

۱۳۔محمدﷺ کا ابراہیمؑ کوخواب میں دیکھنا

سیدنا سمرہ بن جندبؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ رات کو خواب میں میرے پاس دو فرشتے (جبرئیلؑ اور میکائیلؑ ) آئے۔ پھر یہ دونوں مجھے ایک اتنے لمبے بزرگ کے پاس لے گئے کہ میں ان کا سر نہیں دیکھ پاتا تھا اور یہ ابراہیمؑ تھے۔

۱۴۔ابراہیمؑ نے اسّی برس کی عمر میں ختنہ کیا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیمؑ نے اسّی برس کی عمر میں بسولے سے ختنہ کیا تھا۔

۱۵۔ابراہیمؑ نے زندگی میں تین جھوٹ بولا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ابراہیمؑ نے ساری عمر جھوٹ نہیں بولا سوائے تین دفعہ کے۔ دو جھوٹ تو خالص اﷲ کے لیے۔ ایک تو یہ کہنا کہ ’’میں بیمار ہوں ‘‘ دوسرے یہ کہنا کہ ’’ ( بتوں کو میں نے نہیں توڑا) بلکہ اس بڑے بت نے توڑا ہے ‘‘ اور تیسرے یہ کہ ابراہیمؑ اور بی بی سارہؓ ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں پہنچے تو اس بادشاہ سے کہا گیا کہ یہاں ایک مرد آیا ہے اور اس کے ساتھ ایک بہت خوبصورت عورت ہے۔ تو اس بادشاہ نے ابراہیمؑ کو بلایا اور ان سے اس عورت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میری بہن ہے۔

۱۶۔گرگٹ کو مارو کہ یہ ابراہیمؑ پر آگ پھونکتا تھا

سیدہ اُمّ شریکؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے گرگٹ کے مارنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ ابراہیمؑ کی آگ پر پھونکتا تھا۔(تاکہ آگ اور بھڑ کے )

۱۷۔سیدہ ہاجرہؓ اور اسماعیل کو مکہ میں تنہاچھوڑ دیا

سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ عورتوں میں (کام کاج کے دوران) پٹکا باندھنے کا طریقہ سیدہ ہاجرہؓ سے چلا ہے۔ انہوں نے بی بی سارہؓ کی ناراضگی کو دور کر نے کے لیے (خود کو خادمہ کا روپ دے کر) سب سے پہلے پٹکا باندھا تھا۔ پھر سیدنا ابراہیم انہیں اور ان کے بیٹے اسماعیلؑ کو مکہ میں لے آئے اور انہیں بیت اﷲ کے قریب ایک بڑے درخت کے پاس جو زم زم کے اوپر مسجد کے بالائی حصہ میں تھا، انہیں لا کر بٹھا دیا۔ ان دنوں مکہ میں کوئی انسان نہ رہتا تھا اور نہ ہی وہاں پانی تھا۔ ابراہیمؑ نے ان دونوں کو وہاں بٹھایا اور چمڑے کا ایک تھیلا کھجوروں سے بھرا ہوا اور پانی سے بھرا ہوا ایک چھوٹا مشکیزہ دیا۔ پھر واپس جانے لگے تو اُمّ اسماعیل ان کے پیچھے ہوئیں اور کہنے لگیں کہ اے ابراہیمؑ ! ہمیں اس جنگل میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو کہ جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی اور چیز؟ ہاجرہؓ نے بار بار پکار کر یہی کہا لیکن ابراہیمؑ نے انہیں مڑ کر نہیں دیکھا تو حاجرہؓ نے کہا کہ کیا اﷲ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ؟ ابراہیمؑ نے کہا ’’ہاں ‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ پھر اﷲ ہمیں ہلاک نہیں کرے گا، یہ کہہ کر وہ واپس لوٹ آئیں

۱۸بی بی ہاجرہ کا صفا مروہ کے گرد سات چکر لگانا

… اور ابراہیمؑ چل دئیے یہاں تک کہ جب اس پہاڑی ثنیہ پر پہنچے جہاں سے وہ ہاجرہؓ کو دکھائی نہ دے سکتے تھے تو انہوں نے کعبہ کی طرف منہ کیا پھر ان کلمات کے ساتھ دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کی۔ (دیکھیے سورۃ ابراہیم: ۳۷) اور سیدہ ہاجرہ اسماعیلؑ کو دودھ پلاتی اور مشک میں سے پانی پیتی رہیں۔ یہاں تک کہ جب مشک میں سے پانی ختم ہو گیا اور انہیں خود کو بھی پیاس لگی اور ان کے بیٹے کو بھی۔ اور وہ بچے کو دیکھ رہی تھیں کہ وہ پیاس کی وجہ سے تڑپ رہا تھا تو وہ وہاں سے ہٹ گئیں تاکہ بچے کا یہ حال نہ دیکھیں۔ ان کے سامنے صفا پہاڑ قریب ہی تھا وہ اس پر چڑھ گئیں۔ پھر وادی میں دیکھا کہ شاید کوئی آدمی نظر آئے لیکن کوئی بھی نظر نہ آیا۔ پھر وہ وہاں سے اتریں اور اپنا کرتہ سمیٹ کر نالے کے نشیب میں اس طرح دوڑیں جیسے کوئی مصیبت زدہ دوڑتا ہے یہاں تک کہ نالے کو پار کر کے مروہ پہاڑی پر پہنچیں اور اس پر چڑھ کر دیکھا کہ شاید کوئی آدمی نظر آئے۔ لیکن کوئی نظر نہ آیا۔ پھر اسی طرح صفا و مروہ کے درمیان سات دفعہ چکر لگایا۔ سیدنا ابن عباس نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ یہی ان دونوں صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا ہے (جو بعد میں حج و عمرہ میں مسلمانوں پر فرض کی گئیں )۔

۱۹۔جبریلؑ نے زم زم چشمہ کی پر سے کھدائی کی

پھر جب بی بی ہاجرہ آخری چکر میں مروہ پر چڑھیں تو انہوں نے ایک آواز سنی تو اپنے آپ سے ہی کہنے لگیں کہ چپ رہ۔ پھر وہی آواز سنی تو کہنے لگیں کہ اے اﷲ کے بندے ! تو جو کوئی بھی ہے، میں نے تیری آواز سن لی۔ کیا تو ہماری کوئی مدد کر سکتا ہے ؟ پھر دیکھا کہ آب زم زم کے قریب ایک فرشتہ جبریلؑ ہے جو اپنی ایڑھی مار کر اپنا پَر مار کر زمین کھود رہا ہے یہاں تک کہ اس جگہ سے پانی نکلنے لگا۔ وہ اپنے ہاتھ سے اس کے گرد حوض سا بنانے لگیں اور پانی چلو سے بھر بھر کی اپنی مشک میں ڈالتیں۔ جوں جوں وہ پانی لیتیں وہ چشمہ اور جوش مارتا۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ اسماعیلؑ کی والدہ پر رحم کرے۔ اگر وہ زم زم کو اس کے حال پر چھوڑ دیتیں تو زم زم ایک چشمہ کی صورت بہتا رہتا۔ پھر رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ہاجرہ نے خود بھی پانی پیا اور بچے کو بھی پلایا۔ فرشتے نے ان سے کہا کہ تم اپنی جان کا خوف نہ کرو۔ بے شک یہاں اﷲ کا گھر ہے جسے یہ بچہ اور اس کے والد مل کر بنائیں گے اور اﷲ اپنے بندوں کو تباہ نہیں کرنے والا۔

۲۰۔ جُر ہم قبیلہ کا زم زم چشمہ کے گرد آباد ہونا

اور اس وقت بیت اﷲ کی جگہ ٹیلے کی طرح زمین سے اونچا تھا اور جب برسات کا پانی آتا تو وہ دائیں بائیں سے نکل جاتا۔ سیدہ ہاجرہؓ نے ایک مدت اسی طرح گزاری یہاں تک کہ جُر ہم قبیلے کے کچھ آدمی ان پر گزرے جو کَداء کے راستے سے آ رہے تھے۔ وہ مکہ کے نشیب میں اترے۔ انہوں نے ایک پرندے کو وہاں گھومتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ پرندہ ضرور پانی کے گرد گھوم رہا ہے۔ حالانکہ ہم اس میدان سے اچھی طرح واقف ہیں اور یہاں پانی کہیں بھی نہیں ہے۔ پھر انہوں نے ایک یا دو آدمیوں کو بھیجا۔ انہوں نے دیکھا کہ پانی موجود ہے، وہ لوٹ کر گئے اور انہیں پانی کی خبر دی، وہ بھی وہاں آئے۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ پانی کے پاس ہی اُمّ اسماعیلؑ بیٹھی تھیں ان لوگوں نے کہا کہ کیا تم ہمیں یہاں اترنے کے اجازت دیتی ہو؟ انہوں نے کہا ہاں ! لیکن پانی میں تمہارا کوئی حق نہیں، انہوں نے قبول کیا۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جُرہم کے لوگوں نے وہاں رہنے کی اس وقت اجازت مانگی جب خود اسماعیل کی والدہ یہ چاہتی تھیں کہ یہاں بستی ہو۔ پس وہ لوگ وہیں اتر پڑے اور اپنے اہل و عیال کو بھی بلا لیا۔ وہ بھی وہیں ان کے پاس آ گئے یہاں تک کہ جب وہاں کئی گھر بن گئے۔

۲۱۔اسماعیلؑ نے ناشکر گذار بیوی کو طلاق دے دی

… اور اسماعیلؑ جوان ہوئے اور انہوں نے عربی انہی جُر ہم کے لوگوں سے سیکھی اور جوان ہو کر ان کی نگاہ میں بہت اچھے نکلے۔ جُر ہم کے لوگ ان سے محبت کرنے لگے اور اپنے خاندان کی ایک عورت سے ان کی شادی کر دی۔ بعد میں جب اُمّ اسماعیل فوت ہو گئیں، ابراہیم، اسماعیلؑ کی شادی کے بعد اپنے اہل و عیال کی خبر لینے کو آئے جنہیں وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ اسماعیل اپنے گھر میں نہ تھے تو ابراہیمؑ نے ان کی بیوی سے ان کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا کہ روزی کی تلاش میں گئے ہیں۔ ابْراہیمؑ نے پوچھا کہ تمہاری گزر بسر کیسی ہوتی ہے ؟ اس نے کہا کہ بہت بُری اور بڑی تنگی سے گزر بسر ہوتی ہے اور ان سے خوب شکایت کی۔ ابْراہیمؑ نے کہا کہ جب تیرا شوہر آئے تو انہیں میری طرف سے سلام کہنا اور یہ کہنا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں۔ پھر جب اسماعیلؑ گھر میں آئے اور اپنے باپ کی کچھ خوشبو پائی تو بیوی سے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی آیا تھا؟ اس نے کہا ہاں۔ اور سارا احوال کہہ سنایا۔ اسماعیلؑ نے کہا کہ وہ میرے والد تھے اور انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں تجھے چھوڑ دوں۔ تو اپنے گھر والوں میں چلی جا اور اسے طلاق دے دی۔ اور (جُر ہم قبیلہ میں سے ) کسی دوسری عورت سے شادی کر لی۔

۲۲۔اسماعیلؑ کا مکہ میں گوشت اور پانی پر گذارا

… جتنی دیر اﷲ کو منظور تھا ابُراہیمؑ اپنے ملک میں ٹھہرے رہے پھر اس کے بعد دوبارہ آئے تو اسماعیلؑ گھر میں نہ ملے۔ وہ ان کی دوسری بیوی کے پاس گئے اور اس سے اسماعیلؑ کا پوچھا تو اس نے کہا کہ روزی کی تلاش میں گئے ہیں۔ ابراہیمؑ نے کہا کہ تمہارا کیا حال ہے ؟ اور اس سے ان کے گزر بسر اور رہن سہن کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا کہ اﷲ کا شکر ہے ہم بہت خیرو خوبی کے ساتھ رہتے ہیں۔ ابْراہیمؑ نے کہا کہ تم کیا کھاتے ہو؟ اس نے کہا کہ گوشت۔ پھر پوچھا کہ تم پیتے کیا ہو؟ اس نے کہا پانی، ابْراہیمؑ نے کہا کہ اے اﷲ ان کے گوشت اور پانی میں بَرکت کر دے۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ان دنوں مکہ میں اناج کا نام نہیں تھا۔ اگر ہوتا تو ابْراہیم اس میں بھی بَرکت کی دعا کرتے۔ اگر دوسرے ملک والے صرف گوشت اور پانی پر گزربسر کریں تو بیمار ہو جائیں۔ ابْراہیمؑ نے کہا کہ جب تیرا شوہر آئے تو اسے میری طرف سے سلام کہنا اور کہنا اپنے دروازے کی چوکھٹ کو حفاظت سے رکھے۔ پھر جب اسماعیلؑ آئے تو بیوی نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ اسماعیلؑ نے کہا کہ وہ میرے والد تھے اور تم میرے گھر کے دروازے کی چوکھٹ ہو۔ انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اپنی زوجیت میں رہنے دوں۔

۲۳۔ ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کا کعبہ کی تعمیر کرنا

…پھر جب تک اﷲ کو منظور تھا ابْراہیمؑ اپنے ملک میں ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد آئے تو اسماعیلؓ اس وقت چاہِ زم زم کے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھے اپنے تیر درست کر رہے تھے۔ ابْراہیمؑ نے کہا کہ اے اسماعیلؑ ! اﷲ تعالیٰ نے مجھے ایک حکم دیا ہے کہ میں اس جگہ پر ایک گھر بناؤں اور ایک اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا کہ اس کے ارد گرد۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ اس وقت دونوں باپ بیٹے نے اس گھر کی دیواریں بلند کیں، اسماعیلؑ پتھر لاتے جاتے تھے اور ابْراہیمؑ تعمیر کرتے تھے۔ جب دیواریں اونچی ہو گئیں تو اسماعیلؑ ایک پتھر (مقامِ ابْراہیم) لے آئے اور اس کو رکھ دیا پھر ابْراہیمؑ اس پر کھڑے ہو کر دیوار تعمیر کرتے اور اسماعیلؑ انہیں پتھر لا کر دیتے اور دونوں کہتے کہ ’’اے ہمارے پروردگار! تو ہماری یہ کوشش قبول فرما تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے ‘‘ (بقرہ: ۱۲۷)۔

۲۴۔زمین پر پہلی مسجد کعبہ اور دوسری مسجد اقصیٰ

سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپﷺ نے فرمایا مسجد حرام۔ پھر کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ پھر کون سی؟ آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) میں نے پھر پوچھا کہ ان دونوں کے بننے میں کتنا فاصلہ تھا؟ آپﷺ نے فرمایا چالیس برس کا۔ پھر فرمایا کہ لیکن اب جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے وہیں فوراً ادا کر لو کہ فضیلت اسی میں ہے۔


۲۵۔رسول اللہﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ

سیدنا ابو حمید الساعدیؓ راوی ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! ہم آپﷺ پر درود کیسے بھیجیں ؟ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ کہو ’’اے اﷲ محمد (ﷺ ) اور ان کی ازواج پر اور ان کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیمؑ کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرمائی تھی، اور محمد (ﷺ ) اور ان کی ازواج پر اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیمؑ کی اولاد پر برکت نازل فرمائی بے شک تو خوبیوں والا بڑائی والا ہے ‘‘۔

۲۶۔اولاد کے لیے اللہ کی پناہ مانگنے کا طریقہ

سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ سیدنا حسن اور حسینؓ کے لیے اﷲ کی پناہ مانگا کرتے تھے اور فرماتے کہ ’’بے شک تمہارے دادا ابراہیم اپنے بیٹوں اسماعیل اور اسحاق علیہم السلام کے لیے ان کلمات کے ساتھ اﷲ کی پناہ مانگا کرتے تھے کہ ’’اﷲ تعالیٰ کے پورے کلموں کے ذریعے سے ہر شیطان اور زہریلے، ہلاک کرنے والے جانور سے اور ہر نظر لگانے والی آنکھ سے پناہ مانگتا ہوں ‘‘۔

۲۷۔تیر اندازی کے کھیل میں نبیؐ کی شرکت

سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگوں پر گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے تو آپﷺ نے فرمایا: اسماعیل کے بیٹو! تیر چلاؤ کیونکہ تمہارے دادا تیر انداز تھے اور میں اِس جماعت کے ساتھ ہوتا ہوں۔ یہ سن کر دوسری جماعت والوں نے ہاتھ روک لئے رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ تم تیر کیوں نہیں چلا رہے ؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ ! ہم کیسے مقابلہ کریں، آپﷺ تو ان کے ساتھ ہو گئے ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ تیر چلاؤ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں۔

۲۸۔حجر، تبوک میں قوم ثمود پر اﷲ کا عذاب

سیدنا ابن عمرؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ جب غزوہ تبوک میں مقامِ حجر میں اترے،جہاں قوم ثمود پر اﷲ کا عذاب آیا تھا تو آپﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ یہاں کے کنوئیں سے نہ پانی پیو نہ مشکیں بھرو۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اس پانی سے آٹا بھی گوندھ ڈالا اور مشکیں بھی بھر لیں۔ آپﷺ نے فرمایا یہ آٹا پھینک دو اور پانی بھی بہا دو۔

۲۹۔حضرت خضرؑ کے نام کی وجۂ تسمیہ

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ خضرؑ کا نام اس لئے خضر رکھا گیا کہ وہ ایک خشک بنجر زمین پر بیٹھے لیکن جب وہ وہاں سے چلے تو زمین سرسبز ہو کر لہلہانے لگی۔

۳۰۔ پیلو کے کالے پھل مزیدار ہوتے ہیں

سیدنا جابر بن عبداﷲؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اﷲﷺ کے ساتھ پیلو کے پھل چُن رہے تھے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ کالے کالے دیکھ کر چنو۔ وہ پختہ اور مزیدار ہوتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کیا آپﷺ نے جنگل میں بکریاں چرائی ہیں ؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ بھلا کوئی ایسا پیغمبر بھی گزرا ہے جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں ؟

۳۱۔زوجۂ فرعو ن آسیہ اور مریم ؑ کی فضیلت

سیدنا ابو موسیٰؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ مَردوں میں تو بہت سے کامل انسان گزرے ہیں مگر عورتوں میں دو ہی کمال کو پہنچیں۔ ایک تو فرعون کی بیوی آسیہ ہیں اور دوسری عمران کی بیٹی مریمؑ اور عائشہ (رضی اﷲ عنہا) کو تمام عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی کہ ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔

۳۲۔داؤد ؑ پر زبور پڑھنا آسان کر دیا گیا تھا

سیدنا ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ داؤدؑ پر زبور پڑھنا اتنا آسان کر دیا گیا تھا کہ وہ اپنی سواری کے جانوروں پر زین کسنے کا حکم دیتے اور زین کسے جانے سے پہلے پڑھ چکتے تھے اور اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کھاتے تھے۔

۳۳۔بچے کی ملکیت کا جھگڑا، سلیمانؑ کا فیصلہ

سیدنا ابو ہریرہؓ سے راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ دو عورتیں تھیں ہر ایک کے پاس ایک لڑکا تھا۔ بھیڑیا آیا اور ایک کا بچہ اٹھا کر لے گیا تو اس کے ساتھ والی کہنے لگی کہ تیرا بچہ بھیڑیا لے گیا ہے۔ دوسری کہنے لگی کہ نہیں بلکہ تیرا بچہ لے کر گیا ہے۔ دونوں فیصلہ کروانے کے لیے داؤدؑ کے پاس آئیں تو انہوں نے بڑی عورت کو بچہ دلا دیا۔پھر وہ دونوں سلیمانؑ کے پاس گئیں اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ چھری لاؤ میں اس بچے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو دے دیتا ہوں۔ یہ سن کر چھوٹی عورت بولی کہ اﷲ تجھ پر رحم کرے ایسا نہ کرو کیونکہ یہ دوسری عورت ہی کا بچہ ہے۔(چھوٹی عورت کے اس جذبۂ مامتا سے سلیمانؑ پہچان گئے کہ یہی بچے کی اصل ماں ہے ) چنانچہ انہوں نے وہ بچہ چھوٹی عورت کو دلا دیا۔

۳۴۔اُمت کی بہترین خاتون خدیجہؓ ہیں

امیر المومنین سیدنا علیؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ(اپنے زمانے میں ) عمران کی بیٹی مریمؑ سب سے بہترین عور ت تھیں اور اس اُمت کی سب سے بہترین خاتون اُمُّ المومنین حضرت خدیجہؓ ہیں۔

۳۵۔اونٹ سواروں میں قریش کی عورتیں بہتر

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قریش کی عورتیں ان سب عورتوں میں بہتر ہیں جو اونٹ پر سوار ہوتی ہیں۔ اولاد پر بہت مہربان اور شوہر کے مال کا بہت خیال رکھنے والیاں۔

۳۶۔جنت میں جانے کی کم سے کم شرائط

سیدنا عبادہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جو اس بات کی گواہی دے کہ ’’اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور عیسیٰؑ اس کے بندے اور رسول ہیں اور عیسیٰؑ اللہ کا وہ کلمہ ہیں جو اس نے مریمؑ کی طرف ڈالا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں اور جنت و دوزخ بَرحق ہے ‘‘ تو اﷲ تعالیٰ ایک نہ ایک دن اسے جنت میں لے جائے گا خواہ وہ کیسے ہی اعمال کرتا ہو۔

۳۷۔ شیرخوار بچہ کا ماں کے الزام کی تردید کرنا

سیدنا ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ گود میں کسی بچے نے بات نہیں کی سوائے تین بچوں کے، ایک حضرت عیسیٰؑ دوسرے (بچہ کا قصہ کچھ یوں ہے کہ) بنی اسرائیل میں جریج نامی ایک شخص تھا۔ وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں آئی اور اسے بلایا تو وہ دل میں کہنے لگا کہ میں نماز پڑھے جاؤں یا اپنی ماں کو جواب دوں ؟ (یہی سوچتے ہوئے ماں کو جواب نہ دیا) تو اس کی ماں نے (ناراض ہو کر بد دعا دی) کہ یا اﷲ! یہ اس وقت تک نہ مرے جب تک فاحشہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ پھر ایسا ہوا کہ جریج اپنے عبادت خانہ میں تھا کہ ایک فاحشہ عورت آئی اور جریج سے بدکاری چاہی، جریج نہ مانا۔ پھر وہ ایک چروا ہے کے پاس گئی۔ اس سے منہ کالا کیا اور ایک لڑکا جنا۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ لڑکا کہاں سے لائی؟ اس نے کہا کہ یہ جریج کاہے۔ لوگ یہ سن کر بہت غصے ہوئے کہ ایسا عابد ہو کر بدکاری کرتا ہے انہوں نے آ کر اس کے عبادت خانہ کو توڑ ڈالا۔ اُسے نیچے اتار دیا اور گالیاں دیں۔ جریج نے وضو کیا نماز پڑھی پھر اس نومولود بچے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تیرا باپ کون ہے ؟ اس نے کہا کہ میرا باپ فلاں چرواہا ہے۔یہ حال دیکھ کر لوگ شرمندہ ہوئے اور جریج سے کہنے لگے کہ ہم تیرا عبادت خانہ سونے سے بنا دیتے ہیں انہوں نے کہا نہیں، مٹی سے بنا دو۔

۳۸۔شیر خوار بچہ کا ماں کے بر عکس دعا کرنا

… تیسرے بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی جو اپنے بچے کو دودھ پلارہی تھی ادھر سے ایک بہت خوش وضع، خوبصورت سوار گزرا۔ عورت اسے دیکھ کر کہنے لگی کہ یا اﷲ میرے بیٹے کو اس سوار کی طرح کرنا۔ یہ سنتے ہی بچہ بول اُٹھا: یا اﷲ مجھے اس کی طرح نہ کرنا۔ یہ کہہ کروہ پھر دودھ پینے لگا۔پھر ایک لونڈی ادھر سے گزری،جسے لوگ مارتے جاتے تھے۔ عورت نے کہا کہ یا اﷲ میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ کرنا۔ یہ سن کر بچہ پھر بول اُٹھا: یا اﷲ مجھے اسی لونڈی کی طرح کرنا۔ اس وقت عورت نے اپنے بچے سے تعجب سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہوئی؟ تواس نے کہا کہ یہ سوار جو گزرا ہے، ظالموں کا ایک ظالم ہے اور یہ لونڈی بے قصور ہے۔ لوگ اس پر الزام دھرتے ہیں کہ تو نے چوری کی ہے، زنا کیا ہے، حالانکہ اس نے کچھ نہیں کیا۔

۳۹۔ عیسیٰؑ اور دجال کو طوافِ کعبہ کرتے دیکھنا

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ میں نے رات خواب میں خود کو کعبہ کے پاس دیکھا اور دیکھا کہ ایک شخص بہت اچھا گندمی رنگ والا جس کے بال کاندھوں تک صاف سیدھے تھے۔ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ دو شخصوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے کعبے کا طواف کر رہا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ مسیح ابن مریمؑ ہیں پھر اُن کے پیچھے میں نے ایک اور شخص کو عبدالعزیٰ بن قطن کے بہت مشابہ دیکھا جو سخت گھونگھریالے بال اور داہنی آنکھ سے کانا تھا۔وہ اپنے دونوں ہاتھ ایک شخص کے کندھوں پر رکھے کعبے کا طواف کر رہا ہے تو میں نے کہا کہ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ مسیح دجال ہے۔

۴۰۔حضرت عیسیٰؑ نے قسم کا اعتبار کیا

سیدنا ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰؑ نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھ لیا تو اس سے کہا کہ کیا تو نے چوری کی ہے ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں اﷲ کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ عیسیٰؑ نے کہا کہ میں اﷲ پر ایمان لایا اور اپنی آنکھ کو کہتا ہوں کہ اس نے غلطی کی۔

۴۱۔نبی کی حیثیت میں مبالغہ آرائی نہ کرنا

سیدنا عمر بن خطابؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے اتنا بلند مت چڑھاؤ جیسے نصاریٰ نے عیسیٰؑ کو چڑھا دیا ہے۔ میں تو اﷲ کا بندہ ہوں اور کچھ نہیں پس اس طرح کہو کہ اﷲ کے بندے اور اس کے رسولﷺ ۔

۴۲۔ عیسیٰ ابن مریمؑ آسمان سے اتریں گے

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا کہ جب مریم کے بیٹے عیسیٰؑ تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تمہاری قوم میں سے ہو گا۔

۴۳۔دجال آگ اور پانی کے ساتھ نکلے گا

سیدنا حذیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دجال جب نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ دونوں ہوں گے مگر جس کو لوگ آگ سمجھیں گے وہ درحقیقت ٹھنڈا پانی ہو گا اور جس کو لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ جلانے والی آگ ہو گی۔ تم میں سے جو کوئی یہ دَور پائے تو ظاہر میں جو آگ معلوم ہو اس میں گر پڑے۔ وہ حقیقت میں ٹھنڈا پانی ہے۔

۴۴۔اللہ کے خوف سے کئے گئے غلط کام

سیدنا حذیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی دور میں ایک شخص جب اپنی زندگی سے نا امید ہو گیا تو اپنے گھر والوں کو یہ وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا ڈالنا۔ جب آگ میرا گوشت کھا کر ہڈی تک پہنچ جائے اور ہڈی بھی جل کر کوئلہ ہو جائے تو ہڈیاں لے کر خوب پیسنا۔پھر جس دن زور کی ہوا چلے، وہ راکھ دریا میں اڑا دینا۔ اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا تو اﷲ تعالیٰ نے اس کا سارا بدن اکٹھا کر لیا اور اس سے فرمایا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا کہ پروردگار تیرے ڈر سے۔ پھر اﷲ نے اس کو معاف کر دیا۔

۴۵۔خلیفۂ وقت کی بیعت اور اطاعت کا حکم

سیدنا ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے لوگوں پر پیغمبر حکومت کیا کرتے تھے۔ جب ایک پیغمبر فوت ہو جاتا تو دوسرا اس کا قائم مقام ہوتا مگر میرے بعد کوئی پیغمبر نہ ہو گا البتہ خلیفہ ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہ نے پوچھا کہ پھر آپﷺ ہمیں ایسے وقت میں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا: سب سے پہلے جس سے بیعت کر لو، اس کی وفاداری کرو اور ان کا حق (اطاعت) ادا کرتے رہو۔بے شک اﷲ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن پوچھے گا کہ انہوں نے رعیت کا حق کیسے ادا کیا۔

۴۶۔مسلمانوں کا یہود و نصاریٰ کی پیروی کرنا

سیدنا ابو سعید خدریؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ پہلی امتوں کی قدم بہ قدم پیروی کرو گے۔ یہاں تک کے اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی داخل ہو گے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اﷲ! اگلے لوگوں سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ پھر اور کون ہو سکتا ہے ؟

۴۷۔نبیﷺ سے قصداً جھوٹ منسوب کرنا

سیدنا عبداﷲ بن عمروؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ میرا پیغام لوگوں کو پہنچاؤ اگرچہ ایک آیت ہی سہی اور بنی اسرائیل سے جو سنو وہ بھی بیان کرو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور جو شخص قصداً میرے اوپر جھوٹ لگائے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔

۴۸۔بالوں میں خضاب لگایا کرو

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ یہود اور نصاریٰ بالوں میں خضاب نہیں کرتے تم ان کے خلاف کرو یعنی خضاب لگایا کرو۔

۴۹۔خود کشی کرنے والے پر جنت حرام ہے

سیدنا جندب بن عبداﷲؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ سابقہ امتوں میں ایک شخص کو ایک زخم لگا تو اس نے چھری لے کر اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا۔ خون بہتا رہا حتیٰ کہ وہ مرگیا تو اﷲ نے فرمایا کہ اس شخص نے جلدی کر کے جان دی۔ میں نے بھی جنت اس پر حرام کر دی

۵۰۔بنی اسرائیل کے جزامی کی آزمائش

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے، ایک جذامی (کوڑھی) ایک گنجا اور ایک اندھا۔ اﷲ نے ان تینوں کو آزمانا چاہا۔ چنانچہ ایک فرشتہ جذامی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تو کیا چاہتا ہے ؟ اس نے کہا کہ اچھا رنگ اور اچھی جلد کیونکہ اس حال میں لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیردیا تو کوڑھ دُور ہو گئی اور وہ خوبصورت ہو گیا۔ پھر فرشتے نے پوچھا تجھے کون سا مال بہت زیادہ پسند ہے ؟ وہ کہنے لگا کہ اونٹ۔ تو اسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی دی گئی اور فرشتے نے کہا کہ اﷲ تجھے اس میں برکت دے۔… اسی حدیث میں آگے بیان ہوا کہ پھر وہی فرشتہ اپنی اسی شکل و صورت میں جذامی کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک محتاج آدمی ہوں سفر میں میرا سارا سامان جاتا رہا اب میں اﷲ کی مدد اور اس کے بعد تیری عنایت چاہتا ہوں۔ مجھے ایک اونٹ دے دے جس پر سوار ہو کرمیں اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاؤں۔ جذامی نے بہانہ کیا کہ بہت سے آدمیوں کا مجھے قرض دینا ہے۔ فرشتے نے کہا میں تجھے بخوبی پہچانتا ہوں۔ کیا تو کوڑھی نہ تھا، سب لوگ تجھ سے نفرت کرتے تھے اور تو محتاج تھا تو اﷲ نے تجھے یہ سب عنایت کیا؟ جذامی نے کہا کہ میں تو بزرگوں کے وقت سے مالدار چلا آتا ہوں۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تو جھوٹ بولتا ہے تو اﷲ پھر تجھے ویسا ہی کر دے۔

۵۱۔بنی اسرائیل کے گنجے کی آزمائش

… پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تو کیا چاہتا ہے ؟ اس نے کہا کہ اچھے بال تاکہ یہ گنجا پن دُور ہو جائے۔ کیونکہ لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو گنجا پن ختم ہو گیا اور بہت اچھے بال نکل آئے۔ پھر فرشتے نے کہا دنیا کا کون سا مال تجھے زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا گائے۔ فرشتے نے ایک گابھن گائے اس کو دی اور کہا کہ اﷲ تجھ اس میں برکت دے گا۔… اسی حدیث میں آگے بیان ہوا کہ پھر وہ فرشتہ اسی شکل اور صورت میں گنجے کے پاس گیا اور اس سے بھی وہی کہا جو کوڑھی سے کہا تھا تو اس نے بھی ویسا ہی جواب دیا تو فرشتے نے کہا کہ اگر تو جھوٹ بولتا ہے تو اﷲ پھر تجھے ویسا ہی کر دے۔

۵۲۔بنی اسرائیل کے اندھے کی آزمائش

… پھر وہ فرشتہ اندھے کے پاس گیا اور پوچھا کہ تو کیا چاہتا ہے ؟ کہنے لگا کہ اﷲ مجھے میری بینائی واپس کر دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھوں، فرشتے نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو اﷲ نے اس کی بینائی لوٹا دی۔ فرشتے نے کہا کہ تجھے کونسا مال زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا کہ بکریاں۔ فرشتے نے اسے ایک جننے والی بکری دی۔ پھر اونٹنیاں اور گائے بکریاں بھی جنیں تو جذامی کے پاس اونٹوں کا اور گنجے کے پاس گایوں کا اور اندھے کے پاس بکریوں کا ایک جنگل ہو گیا۔ … اسی حدیث میں آگے بیان ہوا کہ پھر وہ فرشتہ اپنی اسی شکل میں اندھے کے پاس گیا اور کہا کہ میں ایک محتاج اور مسافر آدمی ہوں اور میرے پاس سفر کا سامان بالکل نہیں رہا اب بغیر اﷲ کی مدد اور تیری توجہ کے میں اپنے وطن نہیں پہنچ سکتا، مجھے اس اﷲ کے نام پر جس نے تیری آنکھیں دوبارہ روشن کیں ایک بکری دے دے جس سے میں سفر میں اپنے ٹھکانے پہنچ جاؤں۔ اندھے نے کہا کہ بیشک میں اندھا تھا، اﷲ نے مجھے بینائی دی۔ محتاج تھا، مجھے مالدار کر دیا۔ جوتیرا جی چاہے وہ لے لے، میں آج تجھے تنگ نہیں کرنے کا۔ فرشتے نے کہا کہ تو بکریاں رہنے دے، اﷲ نے تم تینوں کو آزمایا تھا، تجھ سے خوش ہوا اور تیرے دونوں کوڑھی اور گنجے ساتھیوں سے ناراض۔

۵۳۔سَو افراد کے قاتل شخص کی مغفرت

سیدنا ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ بنی سرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے قتل کیا تھا پھر نادم ہو کر مسئلہ پوچھنے نکلا تو ایک راہب کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ اس شخص نے اس پادری کو بھی مار ڈالا پھر وہ دوسروں سے پوچھنے لگا تو ایک دوسرے پادری نے کہا کہ تو فلاں بستی میں چلاجا۔ ابھی وہ راستے ہی میں تھا کہ موت آ پہنچی۔ مرتے مرتے اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف جھکا دیا۔ اب رحمت اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے تو اﷲ تعالیٰ نے نصرہ بستی کو،جس طرف وہ جا رہا تھا یہ حکم دیا کہ اس شخص سے نزدیک ہو جا۔ اور اس بستی کو،جہاں سے وہ نکلا تھا یہ حکم دیا کہ تو اس سے دُور ہو جا۔ پھر فرشتوں سے فرمایا کہ ایسا کرو جہاں یہ مرا ہے وہاں سے دونوں بستیوں کا فاصلہ ناپو۔ جب فاصلہ ناپا گیا تو دیکھا کہ وہ نصرہ سے ایک بالشت زیادہ نزدیک ہے، پس وہ جہنم سے بچا لیا گیا۔

۵۴۔خرید و فروخت میں دیانت کی اعلیٰ مثال

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے دوسرے شخص سے گھر خریدا۔ جس نے خریدا تھا اس نے اُس گھر میں سونے سے بھرا ہوا ایک گھڑا پایا اور بیچنے والے سے کہنے لگا کہ بھائی یہ گھڑا لے جا۔ میں نے تجھ سے گھر خریدا ہے، سونا نہیں خریدا۔بیچنے والا کہنے لگا کہ میں نے گھر بیچا اور اس میں جو کچھ تھا وہ بھی بیچا۔ آخر دونوں جھگڑتے ہوئے ایک شخص کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ تمہاری اولاد بھی ہے ؟ ایک نے کہا کہ میرا لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں کا آپس میں نکاح کر دو اور یہ سونا ان دونوں پر خرچ کر دو اور خیرات بھی کرو۔

۵۵۔طاعون زدہ علاقے میں نہ جانا

سیدنا اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے رسول اﷲﷺ سے طاعون کے بارے میں کیا سنا ہے ؟ تو سیدنا اسامہؓ نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا گیا تھا۔پھر جب تم سنو کہ کسی ملک میں طاعون پھیلا ہے تو وہاں مت جاؤ اور جب اس ملک میں پھیلے جہاں تم لوگ رہتے ہو تو بھاگنے کی نیت سے وہاں سے مت نکلو۔ ( واضح رہے کہ طاعون ایک وبائی مرض ہے، جو ایک سے دوسرے کو لگتا ہے )

۵۶،اللہ کا عذاب طاعون مسلمانوں کے لئے رحمت

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا کہ طاعون ایک عذاب ہے، اﷲ تعالیٰ جن پر چاہتا ہے یہ عذاب بھیجتا ہے۔ لیکن اﷲ نے مسلمانوں کے لیے اسے رحمت بنا دیا ہے۔ جب کسی بستی میں طاعون پھیلے اور مسلمان صبر کر کے ثواب کی نیت سے اسی بستی میں ٹھہرا رہے اور اس کا یہ اعتقاد ہو کہ اﷲ نے جو مصیبت قسمت میں لکھ دی ہے وہی پیش آئے گی تو اس کو شہید کا ثواب ملے گا۔

۵۷۔تکبر سے لباس زمین سے گھسٹنے کا عذاب

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین سے گھسٹتا ہوا جا رہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ اب وہ قیامت تک اسی طرح زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔ 

 ٭٭٭


۵۵۔کتا ب المناقب




۱۔سب سے بُرا آدمی کون ہے ؟

سیدنا ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : جو لوگ جاہلیت کے دَور میں اچھے، شریف گنے جاتے تھے وہی اسلام کے دَور میں بھی اچھے اور شریف ہیں۔ جب کہ انہوں نے دین کا علم بھی حاصل کر لیا ہو۔ حکومت اور سرداری کے زیادہ لائق تم اس کو پاؤ گے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو۔ اور آدمیوں میں سب سے بُرا اس کو پاؤ گے جو ایک طرف ایک طرح بات کرے اور دوسری طرف دوسری طرح کی۔

۲۔مسلمان امامت و خلافت میں قریش کے تابع

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ مسلمان لوگ امامت اور خلافت میں مسلمان قریش کے تابع ہیں۔ جیسے دَورِکفر میں بھی عرب کے کافر قریش کے تابع تھے۔

۳۔ دین کو قائم رکھنا، خلافت قریش میں رہے گی

جب سیدنا معاویہؓ کو یہ خبر پہنچی کہ سیدنا عبداﷲ بن عمرو بن عاصؓ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ عنقریب عرب کا بادشاہ ایک قحطانی ہو گا تو آپ یہ سُن کر سخت غصہ ہوئے اور خطبہ میں کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ خلافت قریش میں رہے گی اور ان سے جو بھی چھیننے کی کوشش کرے گا، اﷲ تعالیٰ اسے ذلیل کر دے گا۔یہ صورت اس وقت تک قائم رہے گی جب تک کہ قریش دین کو قائم رکھیں گے۔ ایک اور روایت میں سیدنا ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ یہ خلافت قریش میں رہے گی، جب تک دنیا میں ان کے دو آدمی بھی باقی رہیں۔

۴۔رسول اللہﷺ کے خیر خواہ قبائل

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ قریش، انصار، جُہینہ، مُزینہ، اسلم، اشجع اور غفار، ان سب قبیلوں کے لوگ میرے خیر خواہ ہیں اور اﷲ اور رسول (ﷺ ) کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں۔

۵۔ولدیت ر حسب نسب تبدیل کرنے والا جہنمی

سیدنا ابوذرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ جس شخص نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو جان بوجھ کر اپنا باپ بنایا وہ کافر ہو گیا اور جو شخص اپنے آپ کو کسی دوسری قوم کا بتلائے، جس میں سے وہ نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔

۶۔رسول اللہ کے فرمانبردار اور نافرمان قبائل

سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول ا ﷲﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ قبیلہ غفار کو اﷲ نے بخش دیا اور قبیلہ اسلم کو اﷲ نے بچا دیا اور قبیلہ عصیّہ نے اﷲ اور اس کے رسول اﷲﷺ کی نافرمانی کی۔

۷۔ قیامت سے قبل قبیلہ قحطان کا بادشاہ ہو گا

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک قبیلہ قحطان کا ایک شخص بادشاہ ہو کر لوگوں کو اپنی لاٹھی سے نہ ہانکے گا۔

۸۔ قومیت پر لوگوں کو جمع کرنا جاہلیت ہے

سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ ہم نے نبیﷺ کے ساتھ جہاد کیا اس وقت آپﷺ کے پاس مہاجرین میں سے بہت لوگ جمع ہو گئے تھے ان مہاجرین میں سے ایک نے ایک انصاری کے سر پر ضرب لگائی۔ انصاری بہت سخت غصے ہوا اور اس نے اپنی ذات والوں کو پکارا، اے انصار دوڑو جواباً مہاجر نے کہا کہ اے مہاجرین دوڑو۔یہ شور و غل سن کر رسول اﷲﷺ اپنے خیمہ سے باہر نکل کر آئے اور فرمایا کہ یہ جاہلیت کی سی باتیں کیسی؟ پھر پوچھا کہ قصہ کیا ہے ؟ لوگوں کے بتانے پر آپﷺ نے فرمایا کہ ایسی جہالت کی ناپاک باتیں چھوڑ دو۔ عبداﷲ ابی ابن سلول (منافق) نے کہا کہ اب مہاجر ہمارے خلاف اپنی قوم والوں کو پکارتے ہیں۔ پس جب ہم مدینہ پہنچیں گے تو یقیناً عزت دار ذلیل کو مدینہ سے نکال باہر کرے گا۔ سیدنا عمرؓ نے کہا کہ یا رسول اﷲ کیا میں اس ناپاک شخص کا سرنہ اُڑا دوں ؟ نبیﷺ نے فرمایا کہ نہیں ! لوگ کہیں گے کہ محمدﷺ اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں۔

۹۔سائبہ کی بدعت شروع کرنے والے کا انجام

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامر کو دیکھا کہ وہ اپنی انتڑیاں دوزخ میں کھینچ رہا تھا۔ اسی نے سب سے پہلے سائبہ کی بدعت نکالی تھی۔ (سائبہ ایسی اونٹنی کو کہتے ہیں جسے کسی بت کے نام پر چھوڑا جائے اور اس پر سواری وغیرہ کرنا ناجائز تصور کیا جائے )

۱۰۔سیدنا ابو ذرؓ غفاری کے اسلام لانے کا واقعہ

سیدنا ابن عباسؓ کے مطابق سیدنا ابو ذرؓ غفاری کہتے ہیں جب ہمیں یہ خبر پہنچی کہ مکہ میں ایک شخص اپنے آپ کو پیغمبر کہتا ہے تو میں نے اپنے بھائی کو مکہ بھیجا۔وہ آپﷺ سے مل کر واپس آیا اور کہا کہ اﷲ کی قسم میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا ہے جو اچھی بات کا حکم دیتا ہے اور بُری بات سے منع کرتا ہے۔سیدنا ابو ذرؓ غفاری کہتے ہیں اس خبر سے میری تسلی نہیں ہوئی تو میں خود مکہ پہنچ گیا۔ سیدنا علیؓ مجھے مسجد سے مسافر جان کر اپنے گھر لے گئے۔ نہ انہوں نے مجھ سے کچھ پوچھا اور نہ میں نے انہیں کچھ بتایا۔ اگلی صبح پھر مجھے مسجد میں دیکھ کر سیدنا علی نے مجھ سے مکہ آنے کا سبب پوچھا تو میں نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔سیدنا علیؓ نے کہا کہ بے شک تو نے اچھا راستہ نکالا ہے۔ وہ مجھے لے کرایک مکان میں داخل ہوئے جہاں نبیﷺ موجود تھے۔ میں نے آپﷺ سے عرض کیا کہ مجھے اسلام سکھایئے پس آپﷺ نے مجھے سکھایا تو میں اسی جگہ مسلمان ہو گیا۔ آپﷺ نے مجھے مشورہ دیا کہ اے ابوذر! تم اپنے ایمان کو فی الحال چھپا کر اپنے ملک میں لوٹ جا اور جب تجھے ہمارے غلبے کی خبر ملے تو اس وقت آنا۔ میں نے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ !قسم اس ذات کی جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں تو اس کلمہ کو ان کافروں کے درمیان میں زور سے پکاروں گا کہ جو ہونا ہے سو ہو۔ چنانچہ سیدنا ابو ذر مسجد میں آئے اور قریش کے کافروں کی موجودگی میں کہا کہ بے شک میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور اس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ یہ سنتے ہی انہوں نے مجھے خوب مارا۔ سیدنا عباس بن عبدالمطلبؓ کافروں سے کہنے لگے کہ تم قومِ غفار کے ایک شخص کو مار ڈالتے ہو جبکہ تمہاری سودا گری کا اور آنے جانے کا راستہ اسی قوم کے قریب سے ہے۔یہ سن کر انہوں نے میرا پیچھا چھوڑ دیا۔

۱۱۔حسان بن ثابتؓ کی شاعری کا کمال

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ راوی ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابتؓ نے نبیﷺ سے مشرکین مکہ کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی تو آپﷺ نے فرمایا کہ میں بھی انہی کے خاندان سے ہوں۔ سیدنا حسانؓ نے کہا کہ میں شاعری کے کمال سے آپﷺ کو ان مشرکوں میں سے اس طرح نکال لوں گا جیسے آٹے میں سے بال نکالتے ہیں۔

۱۲۔رسول اﷲﷺ کے پانچ نام

سیدنا جبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں، میں محمد ہوں اور احمد اور ماحی یعنی مٹانے والا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں یعنی تمام لوگوں کا میرے بعد حشر ہو گا اور میں عاقب ہوں یعنی نبیوں میں سب کے بعد آنے والا۔

۱۳۔ وفات کے وقت نبیؐ کی عمر ۶۳ برس تھی

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ وفات کے وقت نبیﷺ کی عمر تریسٹھ برس تھی۔

۱۴۔حضرت حسنؓ نبیﷺ کے مشابہ تھے

سیدنا عقبہ بن حارثؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے عصر کی نماز پڑھائی پھر پیدل تشریف لے گئے رستے میں امام حسنؓ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو سیدنا ابوبکر نے انہیں اپنے کاندھے پر اٹھا لیا اور کہا کہ میرا باپ تجھ پر قربان ہو۔تو بالکل نبیﷺ کے مشابہ ہے اور علیؓ کے مشابہ نہیں ہے۔ یہ سن کرسیدنا علیؓ ہنسنے لگے۔

۱۵۔رسول اللہﷺ کا حلیہ مبارک

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ میانہ قامت تھے، نہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے۔ آپﷺ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا، نہ ایسے کہ بالکل سفید نہ بہت گندمی۔ زرد رنگ بلکہ سرخی مائل بال نہ سخت گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل ہی سیدھے۔

۱۶۔محمدﷺ خوبصورت اور خوش اخلاق تھے

سیدنا برائؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ سب لوگوں میں خوش رَو، خوبصورت اور اخلاق میں بھی سب سے اچھے تھے۔ قد میں نہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے تھے۔ ایک روایت میں سیدنا انسؓ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبیﷺ نے خضاب کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپﷺ کی دونوں کنپٹیوں پر تھوڑی سی سفید آئی تھی۔

۱۷۔میانہ قامت، چوڑا سینہ اور گول چہرہ

سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ میانہ قامت کے تھے اور آپﷺ کے دونوں کندھوں میں فاصلہ تھا یعنی سینہ چوڑا تھا اور آپﷺ کے بال کان کی لو تک پہنچتے تھے۔ آپﷺ سے بڑھ کر خوبصورت شخص میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ایک دوسری روایت میں سیدنا براء بن عازبؓ سے پوچھا گیا کہ کیا نبیﷺ کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح لمبا پتلا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ چاند کی طرح گول اور چمکدار۔

۱۸۔نبیؐ کا ہاتھ مبارک ٹھنڈا اور خوشبو دار تھا

سیدنا ابو جحفیہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو دوپہر میں وادی بطحا میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا … لوگ اٹھ کر نبیﷺ کے ہاتھ تھام کر برکت کے لیے اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ سیدنا ابو جحیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے بھی آپﷺ کا ہاتھ تھاما اور اپنے منہ پر رکھا تو وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبو دار تھا۔

۱۹۔اللہ کے رسول سر میں مانگ نکالا کرتے تھے

سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ شروع میں پیشانی کے بال سامنے لٹکاتے تھے۔ اس وقت مشرک لوگ مانگ نکالا کرتے اور اہل کتاب بالوں کو لٹکایا کرتے۔ اور رسول اﷲﷺ جس بات میں کوئی حکم نہ آتا تو مشرکوں کے مقابلہ میں اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے پھر اس کے بعد آپﷺ سر میں مانگ نکالنے لگے۔

۲۰۔ نبیﷺ لڑنے جھگڑنے والے نہ تھے

سیدنا عبداﷲ بن عمر وؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ بد زبان اور لڑنے جھگڑنے والے نہیں تھے۔ آپﷺ فرمایا کرتے کہ تم میں بہتر وہ شخص ہے، جن کے اخلاق اچھے ہوں۔

۲۱۔رسول اللہ آسان طریقہ کو پسند کرتے تھے

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے راوی ہیں کہ جب نبیﷺ کو دو باتوں میں اختیار دیا جاتا تو آپؐ اس کو اختیار کرتے جو آسان ہوتی بشرطیکہ گنا ہ نہ ہو۔ اگر گناہ ہوتی تو آپ سب لوگوں سے زیادہ اس سے الگ رہتے۔ آپﷺ نے کسی سے اپنی ذات کے لیے بدلہ نہیں لیا بلکہ جب اﷲ کے حکم کو کوئی ذلیل کرتا تو اﷲ کے لیے اس سے بدلہ لیا کرتے۔

۲۲۔ہاتھ ریشم کی طرح نرم اور خوشبودار تھے

سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے ریشم یا اور کوئی باریک کپڑا رسول اﷲﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ ملائم نہیں دیکھا اور نہ کوئی خوشبو نبیﷺ کی خوشبو سے بہتر سونگھی۔

۲۳۔کنواری لڑکیوں سے زیادہ حیا دار تھے

سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ اس لڑکی سے زیادہ حیا دار تھے جو کنواری ابھی پردے میں رہتی ہے۔ایک روایت میں ہے کہ جب آپﷺ کسی بات کو بُرا سمجھتے تو آپﷺ کے چہرے سے معلوم ہو جاتا۔

۲۴۔آپؐ نے کبھی کسی کھانے کو برا نہیں کہا

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے کبھی کسی کھانے کو بُرا نہیں کہا۔ اگر آپﷺ کا دل چاہتا تو اسے کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔

۲۵۔ گفتگو میں جلدی جلدی نہ کرتے

اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ اس طرح آرام سے اور ٹھہر ٹھہر کر گفتگو کرتے کہ اگر کوئی چاہے تو آپﷺ کے الفاظ کو بآسانی گن سکے۔ آپ کہتی ہیں کہ بے شک رسول اﷲﷺ اس طرح جلدی جلدی باتیں نہ کیا کرتے تھے جیسے تم لوگ کرتے ہو۔

۲۶۔نبیؐ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں

سیدنا انسؓ شب معراج کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ پر وحی نازل ہونے سے پہلے تین فرشتے آئے اور آپﷺ اس وقت مسجد حرام میں سیدنا جعفر بن ابی طالب اور سیدنا حمزہؓ کے درمیان سورہے تھے۔ ان فرشتوں میں سے ایک نے کہا کہ ان میں سے وہ کون ہے جسے لے جانے کا حکم ہوا ہے ؟ دوسرے نے کہا کہ وہ درمیان والا ان میں سے بہتر ہے۔ تیسرے نے کہا کہ جو اُن سب سے بہتر ہے اسی کو لے چلو۔ اس رات اتنا ہی ہوا اور اس کے بعد آپﷺ نے انہیں دوسری رات کو دیکھا جیسے آپﷺ دل سے دیکھا کرتے تھے۔ اور نبیﷺ کی آنکھیں سوتی تھیں لیکن دل نہیں سوتا تھا۔ اور سب پیغمبروں کا یہی حال ہے کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔ پس جبریلؑ نے آپﷺ کو اپنے ساتھ لیا پھر آسمان پرلے گئے۔


٭٭٭


۵۶۔کتاب فضائل الصحابہ



۱۔نبیﷺ کی انگلیوں سے پانی پھوٹنے لگا

سیدنا عبداﷲ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم تو معجزوں کو اﷲ کی برکت اور عنایت سمجھتے تھے اور تم ان سے ڈرتے ہو۔ ہم نبیﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ پانی کم پڑگیا۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ بچا ہوا پانی ہو تو لے آؤ تو لوگ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔آپﷺ نے اپنا ہاتھ اس برتن میں ڈال دیا پھر فرمایا کہ آؤ برکت والا پانی لو اور برکت اﷲ کی طرف سے ہے۔ سیدنا عبداﷲ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے خود دیکھا کہ پانی رسول اﷲﷺ کی انگلیوں سے پھوٹ رہا تھا۔ایک اور روایت میں سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ مقامِ زوراء میں تھے کہ آپﷺ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا۔ آپﷺ نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھ دیا۔ پھر پانی آپﷺ کی انگلیوں سے پھوٹنے لگا۔ سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ سیدنا انسؓ سے کہا گیا کہ آپ کتنے آدمی تھے ؟ تو جواب دیا کہ تین سو یا تین سو کے قریب۔

۲۔ خوز اور کرمان سے مسلمانوں کی جنگ

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم عجم کے ممالک خوز اور کرمان سے نہ لڑو۔ جن کے منہ سرخ، ناکیں پھیلی ہوئی، آنکھیں چھوٹی ہوں گی ان کے منہ تہ بتہ ڈھالوں کی مانند ہوں گے، جوتے بالوں والے پہنتے ہوں گے۔

۳۔مسلمانوں کی جماعت نہ ملے توالگ رہنا

سیدنا حذیفہ بن یمانؓ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اﷲﷺ سے اچھی باتوں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں آپﷺ کے بعد ہونے والی برائیوں کے بارے میں پوچھا کرتا تھا اس ڈر سے کہیں میں ان میں نہ پھنس جاؤں۔ نبیﷺ نے فرمایاپھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے بلاتے ہوں گے جس نے ان کی بات سنی انہوں نے اسے دوزخ میں جھونک دیا۔ میں نے کہا یا رسول اﷲﷺ ان کا حال تو بیان فرمائیے ؟ فرمایا کہ وہ ظاہر میں ہماری طرح مسلمان ہوں گے ہماری زبان بولیں گے۔ میں نے کہا کہ اگر میں یہ دَور پاؤں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا کہ تو مسلمانوں کی جماعت اور برحق امام کے پیچھے رہو۔ میں نے کہا کہ اگر اس وقت جماعت یا امام نہ ہو تو؟ آپﷺ نے فرمایا کہ پھر تو سب فرقوں سے الگ رہ اگرچہ تو بھوک کی وجہ سے جنگلی درخت کی جڑ چباتا رہے یہاں تک کہ تو مر جائے تو یہ تیرے لئے ان کی صحبت میں جانے سے بہتر ہے۔

۴۔ ایماندارسابقہ امتیوں پر کافروں کی سختیاں

سیدنا خباب بن ارتؓ کہتے ہیں کہ ہم نے نبیﷺ سے کافروں کی ایذاد ہی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ آپﷺ ہمارے لئے اﷲ کی مدد کیوں نہیں مانگتے ؟ آپﷺ نے فرمایا تم سے پہلے جو لوگ ایماندار تھے۔ انہیں گڑھے میں گاڑھ کر ان کے سر پر آراچلایا جاتا اور انہیں دو ٹکڑے کر دئیے جاتے مگر پھر بھی وہ اپنے سچے دین سے نہ پھرتے تھے۔ لوہے کی کنگھیاں ان کی ہڈی اور پٹھوں تک چلاتے، پھر بھی وہ اپنا ایمان نہ چھوڑتے۔ اﷲ کی قسم کہ وہ اس دین کو ضرور پورا کرے گا۔ ایک شخص سوار ہو کر صنعاء سے حضر موت تک جائے گا اس کو اﷲ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا یا تو بھیڑیا کا ہو گا اپنی بکریوں پر لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔

۵۔سیدنا ثابت بن قیسؓ کو جنت کی خوش خبری

سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے سیدنا ثابت بن قیسؓ کے بارے میں پوچھا تو ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ میں اس کی خبر لاتا ہوں۔ وہ گیا تو دیکھا کہ ثابتؓ اپنے گھر میں غم سے سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ بُرا حال ہے۔ اور یہ کہ ان کے تمام اعمال مٹ گئے اور وہ اہل دوزخ میں سے ہیں۔ وہ آدمی واپس گیا اور نبیﷺ کو سارا ماجرا بتایا۔راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی دوبارہ سیدنا ثابتؓ کے پاس یہ عظیم خوشخبری لے کر گیا کہ نبیﷺ نے کہا ہے کہ تو اہل دوزخ میں سے نہیں بلکہ اہل جنت میں سے ہے۔

۶۔سورۂ کہف کی تلاوت پر سکینت کا نزول

سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نماز سورۂ کہف پڑھی تو ان کے گھر میں بندھا ہوا گھوڑا بدکنے لگا۔ سلام پھیرنے کے بعد وہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ابر سا ہے جو سارے گھر پر چھا گیا ہے۔ یہ واقعہ سن کر نبیﷺ نے فرمایا تلاوت کو مزید طول دینا چاہیے تھا کیوں کہ یہ سکینت تھی جو قرآن پڑھنے کی وجہ سے نازل ہوئی تھی۔

۷۔ مرتدکاتب وحی کی لاش کو قبر نے قبول نہ کیا

سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص عیسائی مسلمان ہو گیا اور سورۂ بقرہ اور آلِ عمران پڑھ لی۔ وہ نبیﷺ کے لیے وحی کی کتابت بھی کرنے لگا۔ پھر وہ دوبارہ عیسائی ہو گیا اور کہنے لگا کہ (نعو ذُ باللہ) محمد (ﷺ ) کیا جانیں۔میں جو اُن کو لکھ کر دیتا تھا وہی جانتے تھے۔ پھر جب اﷲ نے اسے موت دی اور لوگوں نے اسے دفن کر دیا تو اگلی صبح اس کی لاش قبر کے باہر پڑی ہوئی تھی۔ عیسائی کہنے لگے کہ یہ محمد (ﷺ ) اور ان کے اصحاب کا کام ہے کہ جب ان کو چھوڑ کر بھاگ آیا تو انہوں نے رات کو قبر کھود کر ہمارے ساتھی کی لاش کو باہر پھینک دیا۔ آخر انہوں نے بہت گہری قبر کھودی اور اس کی لاش دوبارہ دفن کیا۔ اگلی صبح کو انہوں نے پھر دیکھا کہ لاش قبر سے باہر پڑی ہے تو وہ اپنا الزام دہرانے لگے۔ پھر تیسری بارمزید گہری قبر کھود کر اسے دفن کیا۔ اس بار بھی جب انہیں لاش قبر سے باہر ملی تو انہیں یہ یقین ہو گیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ اﷲ کا غضب ہے۔ چنانچہ وہ اس کی لاش کو یوں ہی پھینک گئے۔

۸اپنے قتل کی پیشین گوئی،اُمیہ بن خلف کی تصدیق

سیدنا سعد بن معاذؓ کہتے ہیں کہ میں نے امیہ بن خلف سے کہا کہ میں نے محمدﷺ سے سنا ہے کہ وہ تمہیں قتل کر دیں گے۔ امیہ نے کہا کہ کیا مجھے ؟ سیدنا سعدؓ نے کہا ہاں۔ امیہ نے کہا کہ اﷲ کی قسم محمد (ﷺ ) کی بات جھوٹی نہیں ہوتی۔ اﷲ تعالیٰ نے اسے بدر کے دن قتل کرا دیا۔

۹۔جبریلؑ کاصحابی دحیہ کلبیؓ کی صورت میں آنا

سیدنا اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ ایک بار جب جبریل امینؑ نبیﷺ کے پاس آئے تو آپﷺ کے پاس اُمُّ المومنین اُمّ سلمہؓ موجود تھیں۔جبریلؑ نبیﷺ سے باتیں کر کے چلے گئے تو نبیﷺ نے اُمّ سلمہؓ سے پو چھا کہ کیا تم جانتی ہو یہ کون تھے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ صحابی دحیہ کلبی تھے۔ اُمّ سلمہؓ کہتی ہیں کہ اﷲ کی قسم میں تو انہیں دحیہ ہی سمجھی تھی یہاں تک کہ نبیﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جبرئیل کا حوالہ دے رہے تھے اور خطبہ میں وہ باتیں سنائیں جو جبریلؑ نے آپﷺ سے کی تھیں۔

۱۰۔ ابوبکرؓ و عمرؓ کا دورِ خلافت نبیؐ کے خواب میں

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے اپنا ایک خواب یوں بیان فرمایا کہ آپﷺ نے لوگوں کو ایک میدان میں جمع دیکھا۔ مجمع سے ابوبکر صدیقؓ اٹھ کھڑے ہوئے اور کنوئیں سے ایک یا دو ڈول نکالے مگر نا توانی کے ساتھ، اﷲ ان کو بخشے۔پھر حضرت عمر بن خطابؓ نے وہ ڈول سنبھالا تو ان کے ہاتھ میں جاتے ہی وہ ڈول ایک بڑا ڈول بن گیا۔ نبیﷺ نے خواب بیان کرنے کے بعد فرما یا کہ میں نے ایسا شاہ زور پہلو ان، ان کی طرح کام کرنے والا نہیں دیکھا۔ انہوں نے اتنا پانی نکالا کہ لوگ اپنے اونٹوں کو بھی پلا کر لے گئے۔

۱۱۔تورات میں زانی و زانیہ کو سنگسار کرنے کا حکم

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ یہودی لوگ رسول اﷲﷺ کے پاس آئے اور بیان کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے۔آپ کیا حکم دیتے ہیں ؟ تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ تورات میں سنگسار کرنے کے بارے میں کیا لکھا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا ہم زانی اور زانیہ کو منہ کالا کر کے رسوا کرتے ہیں اور ان کو کوڑے لگاتے ہیں۔ سیدنا عبداﷲ بن سلامؓ نے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ تو رات میں سنگسار کرنے کا حکم ہے۔ وہ تو رات لائے، اسے کھولا تو ایک یہودی نے اپنا ہاتھ رجم کی آیت پر رکھ دیا اور اس کے آگے اور پیچھے والی عبارت پڑھنے لگا تو سیدنا عبداﷲ بن سلام نے اسے کہا کہ اپنا ہاتھ اٹھا! اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو وہاں رجم کی آیت تھی۔ یہودی کہنے لگے کہ محمد (ﷺ ) نے سچ کہا بے شک تورات میں رجم یعنی سنگسار کا حکم ہے پھر آپﷺ نے حکم دیا تو وہ دونوں زانی مرد اور عورت رجم کئے گئے۔

۱۲۔ مشرکین کے مطالبہ پر شق القمر کا معجزہ دکھلانا

سیدنا عبداﷲ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ مشرکین کے مطالبہ پر اللہ کے حکم اور رسول اﷲﷺ کے اشارہ پر چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ لوگو!گواہ رہنا۔

۱۳۔عروہؓ کی تجارت میں نبیؐ کی دعا سے برکت

سیدنا عروہ البارقیؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے انہیں ایک دینار دیا کہ ایک بکری خرید لاؤ۔ وہ گئے اور ایک دینار میں دو بکریاں خریدیں پھر ان میں سے ایک بکری ایک دینار میں بیچ ڈالی اور ایک بکری اور ایک دینار نبیﷺ کے پاس لائے آپﷺ نے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی۔ آپﷺ کی دعا سے عروہؓ کا یہ حال ہو گیا کہ اگر وہ مٹی خریدتے تو اس میں بھی فائدہ ہوتا۔

۱۴۔سیدنا ابو بکرؓ کی خلافتِ اوّل پرنبیؐ کا اشارہ

سیدنا جبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت مالی مدد کی خاطر نبیﷺ کے پاس آئی تو آپﷺ نے اسے دوبارہ آنے کی ہدایت کی۔ اُس نے کہا کہ اگر میں آؤں اور آپﷺ نہ ملیں (یعنی وفات پا چکے ہوں ) تو؟ نبیﷺ نے فرمایا کہ اگر میں نہ ہوں تو ابوبکرؓ کے پاس چلی جانا۔

۱۵۔ابوبکرؓ و عمرؓ کی تکرار پر نبیﷺ کا فیصلہ

سیدنا ابو درداءؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس سیدنا ابو بکرؓ اپنے کپڑے کا کونہ اٹھائے ہوئے اس طرح آئے کہ گھٹنا کھل گیا تھا۔ نبیﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ تمہارے صاحب کسی سے لڑ کر آ رہے ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ نے سلام کے بعد کہا کہ یا رسول اﷲﷺ ! مجھ میں اور عمر بن خطابؓ میں کچھ تکرار ہو گئی تومیں نے انہیں سخت سست کہہ دیا۔پھر میں شرمندہ ہوا اور ان سے معافی چاہی لیکن انہوں نے انکار کیا۔اب میں آپﷺ کے پاس آیا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ابوبکرؓ اﷲ تمہیں بخشے۔ تین بار یہی فرمایا۔ پھر جب سیدنا عمرؓ شرمندہ ہوئے اور سیدنا ابوبکرؓ کے گھر آئے اور پوچھا کہ ابوبکر ہیں ؟ تو گھر والوں نے کہا کہ نہیں۔ پس وہ نبیﷺ کے پاس آئے اور ر سلام کیا تو نبیﷺ کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا یہاں تک کہ سیدنا ابوبکرؓ ڈرگئے کہ نبیﷺ سیدنا عمرؓ پر خفا نہ ہو جائیں۔سیدنا ابوبکرؓ نے دوزانوں ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! اﷲ کی قسم میری ہی غلطی تھی۔ دو دفعہ یوں ہی کہا۔ تب نبیﷺ نے فرمایا کہ لوگو! اﷲ نے مجھے تمہاری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا لیکن تم نے مجھے جھوٹا کہا اور ابوبکرؓ نے سچا کہا اور اپنے مال اور جان سے میری خدمت کی۔ کیا تم میرے واسطے میرے دوست کو ستانا چھوڑ دو گے ؟ دو دفعہ یہی فرمایا۔ پھر اس کے بعد سیدنا ابوبکرؓ کو کسی نے نہیں ستایا۔

۱۶۔ عمر بن خطابؓ پرسیدنا ابوبکرؓ کی فضیلت

سیدنا عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے مجھے ذات السلاسل کی لڑائی میں لشکر کا سردار بنا کر بھیجا۔ میں آپﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ آپﷺ کو لوگوں میں سب سے زیادہ کس سے محبت ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ عائشہؓ سے۔ میں نے کہا کہ مَردوں میں سے ؟ فرمایا کہ اس کے والد سیدنا ابوبکرؓ سے۔ میں نے کہا پھر کس سے ؟ آپﷺ نے فرمایا پھر عمر بن خطابؓ سے اور اسی طرح کئی آدمیوں کے نام لئے۔

۱۷۔تکبر کے بغیر زمین تک لٹکے کپڑے کا بیان

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو شخص غرور اور تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا لٹکائے اﷲ تعالیٰ اس کو قیامت کے روز رحمت کی نگاہ سے دیکھے گا بھی نہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ نے کہا کہ میرا کپڑا چلنے میں ایک طرف لٹک جاتا ہے۔ اگر خیال رکھوں اور مضبوط باندھوں تو شاید نہ لٹکے تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ بے شک تو غرور اور تکبر سے ایسا نہیں کرتا۔

۱۸۔ابو بکرؓ ، عمرؓ ، عثمانؓ اور نبیؐ کا کنویں پر بیٹھنا

سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے گھر سے وضو کر کے یہ سوچ کر نکلے کہ آج میں دن بھر رسول اﷲﷺ کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔معلوم ہوا کہ آپﷺ مقام اریس کے باغ میں گئے ہیں۔میں کھجور کی ڈالیوں سے بنے دروازے کے قریب بیٹھ گیا۔جب رسول اﷲﷺ حاجت سے فارغ ہوئے اور وضو کر چکے تو میں آپﷺ کی طرف چل دیا۔ میں نے دیکھا کہ آپﷺ اریس کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھے ہیں اور دونوں پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں لٹکا دی ہیں۔ میں نے آپﷺ کو سلام کیا پھر لوٹ کر دروازے کے قریب دربان بن کر بیٹھ گیا۔ اتنے میں سیدنا ابوبکر آئے اور دروازے کو دھکیلا تو میں نے کہا ذرا ٹھہرو۔ پھر میں نبیﷺ کے پا س گیا اور کہا کہ ابوبکرؓ اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ ان کو آنے دو اور جنت کی خوشخبری دو۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر داخل ہوئے اور نبیﷺ کی داہنی طرف اسی منڈیر پر دونوں پاؤں لٹکا کر پنڈلیاں کھول کر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد عمر بن خطابؓ آئے تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو۔چنانچہ حضرت عمرؓ بھی داخل ہوئے اور رسول اﷲﷺ کے بائیں طرف اسی منڈیر پر بیٹھ گئے اور دونوں پاؤں کنوئیں میں لٹکا دیئے۔کچھ دیر بعد حضرت عثمان بن عفان آئے اور میں نے رسول اﷲﷺ کو اطلاع دی تو آپﷺ نے فرمایا کہ انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری دو مگر وہ ایک بلا میں مبتلا ہوں گے۔ پس وہ بھی داخل ہوئے اور دیکھا کہ منڈیر کا ایک حصہ بھر گیا ہے چنانچہ وہ دوسرے کنارے پر آپﷺ کے سامنے بیٹھ گئے۔

۱۹۔ میرے صحابہ ؓ کو بُرا نہ کہو، محمدﷺ

سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہؓ کو بُرا نہ کہو۔ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونابھی خرچ کرے تو ان کے مدیا آدھے مد غلہ کے برابر نہیں ہو سکتا۔

۲۰۔ سیدنا ابوبکرؓ ، عمرؓ اور عثمانؓ نبیؐ کے ہمراہ اُحد پر

سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ اُحد پہاڑ پر چڑھے اور آپﷺ کے ساتھ سیدنا ابوبکرؓ اور عمرؓ اور عثمانؓ بھی چڑھے۔ اتنے میں پہاڑ کو جنبش ہوئی تو نبیﷺ نے فرمایا کہ اے اُحد پہاڑ ٹھہرا رہ۔ تجھ پر اور کوئی نہیں چڑھا سوائے ایک پیغمبر، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے۔

۲۱۔ ابوبکرؓ و عمرؓ کی شان میں سیدنا علیؓ کی گواہی

سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا عمر بن خطابؓ کے جنازہ کے سامنے کھڑے ان کے لیے مغفرت کی دعا کر رہے تھے کہ سیدنا علی بن ابی طالبؓ نے پیچھے سے اپنی کہنی میرے کندھے پر رکھی اور کہنے لگے کہ اے عمرؓ ! اﷲ تجھ پر رحم کرے۔ مجھے یہی امید ہے کہ اﷲ تمہیں تمہارے دونوں ساتھیوں نبیﷺ اور سیدنا ابوبکرؓ کے ساتھ ہی رکھے گا۔ کیونکہ میں نے اکثر رسول اﷲﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ فلاں فلاں جگہ میں تھا اور ابوبکرؓ اور عمرؓ تھے۔ میں نے یہ کیا اور ابوبکرؓ اور عمرؓ نے بھی کیا۔ میں وہاں کے لیے چلا تو ابوبکرؓ اور عمرؓ بھی ساتھ تھے۔ پس مجھے امید ہے کہ اﷲ تمہیں ان کے ساتھ ہی رکھے گا۔

۲۲۔حشر میں انہی کا ساتھ ہو گا جن سے محبت ہے

سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کے پوچھنے پر کہ قیامت کب آئے گی؟ آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تو نے اس کے لیے تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ نہیں سوائے اس کے کہ میں اﷲ اور اس کے رسول اﷲﷺ سے محبت رکھتا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تو روزِ قیامت انہی کے ساتھ ہو گا جن سے محبت رکھتا ہے۔ یہ سن کر ہم بہت خوش ہوئے۔ سیدنا انس کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ اور سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے میرا حشر انہی کے ساتھ ہو گا۔ اگرچہ میں ان کی طرح کے نیک اعمال نہ کر سکا۔

۲۳۔فرشتے غیر نبیوں سے بھی کلام کرتے تھے

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایسے لوگ بھی گزر چکے ہیں جو نبی نہ تھے مگر جن سے فرشتے باتیں کرتے تھے۔اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوا تو وہ عمربن خطابؓ ہوں گے۔

۲۴۔سیدنا عثمانؓ پر تین الزامات کی حقیقت

سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس اہل مصر سے ایک شخص آیا اور ابن عمر سے کہا کہ کیا تو جانتا ہے کہ عثمان اُحد کے دن بھاگ نکلے تھے ؟ بدر کی لڑائی میں غیر حاضر رہے تھے ؟ اور بیعت الرضوان میں بھی شریک نہ تھے تھے۔ سیدنا ابن عمرؓ نے کہا کہ آمیں تجھے ان سب باتوں کی حقیقت بیان کرتا ہوں۔ اُحد کی لڑائی میں ان کا بھاگ جانا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ نے ان کے اس قصور سے درگزر کیا اور معاف کر دیا اور بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہونا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ا ن کے نکاح میں موجودرسول اﷲﷺ کی بیٹی بیمار تھیں تو رسول اﷲﷺ نے انہیں کہا کہ تمہیں جہاد میں شریک ہونے کا ثواب بھی ملے گا اور مالِ غنیمت میں حصہ بھی۔ اور بیعت الرضوان میں غائب ہونا تو آپؓ کی فضیلت ہے کہ اگر مکہ والوں میں نبیﷺ کے نزدیک سیدنا عثمان سے زیادہ کوئی عزت والا ہوتا تو اسی کو اپنی طرف سے بھیجتے۔ رسول اﷲﷺ نے سیدنا عثمان کو بھیجا اور بیعت الرضوان سیدنا عثمان کے مکہ جانے کے بعد ہوئی۔ رسول اﷲﷺ نے اپنے سیدھے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور اس کو بائیں ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ یہ عثمان کی بیعت ہے۔ پھر سیدنا ابن عمرؓ نے اس شخص سے کہا کہ یہ تینوں جواب اپنے ساتھ مصر لے جا۔

۲۵۔سبحان اﷲ ۳۳، الحمدﷲ ۳۳، اﷲ اکبر ۳۴ بار

سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کو چکی پیستے ہاتھوں میں گٹے پڑگئے تو انہوں نے اس کی شکایت کی۔ اس وقت نبیﷺ کے پاس قیدی آئے تو وہ آپﷺ کے پاس آئیں لیکن آپﷺ نہ ملے تو اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہؓ کو ایک غلام کا کہہ کر چلی آئیں۔ جب نبیﷺ آئے تو حضرت عائشہ صدیقہؓ نے آپﷺ کو سیدہ فاطمہؓ کے آنے کی وجہ بتلائی۔ نبیﷺ ہمارے پاس آئے تو ہم لیٹے ہوئے تھے۔ میں نے اٹھنا چاہا تو آپﷺ نے فرمایا کہ اپنی جگہ رہو۔آپؐ نے فرمایا کہ میں تمہارے سوال سے بہترایک بات بتاتا ہوں۔ جب تم لیٹو تو ۳۳ مرتبہ سبحان اﷲ، ۳۳ مرتبہ الحمدﷲ اور ۳۴ مرتبہ اﷲ اکبر پڑھو

۲۶۔سیدنا طلحہؓ اور سعد بن ابی وقاص کا اعزاز

طلحہ بن عبید اﷲؓ کہتے ہیں کہ نبیؐ نے جو لڑائیاں لڑیں ان میں سے بعض لڑائیوں میں نبیؐ کے پاس سوائے سیدنا طلحہؓ اور سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کے کوئی نہ رہا۔

۲۷۔سیدہ فاطمہؓ سے نبیﷺ کی محبت

سیدنا مسور بن مخرمہؓ کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے ابوجہل کی بیٹی جویریہ کو شادی کا پیغام دیا۔ یہ خبر سیدہ فاطمتہ الزہراءؓ کو پہنچی تو وہ نبیﷺ کے پاس آئیں اور کہا کہ آپﷺ کی قوم والے یہ کہتے ہیں کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کے ستانے پر کوئی غصہ نہیں آتا کہ سیدنا علیؓ ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرتے ہیں۔ پس آپؐ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔ اس لیے جس نے اسے ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔اﷲ کی قسم! اﷲ کے رسولﷺ کی بیٹی اور اﷲ کے دشمن کی بیٹی ایک آدمی کے نکاح میں نہیں رہ سکتیں۔ پس سیدنا علیؓ نے وہ پیغام چھوڑ دیا۔

۲۸۔دامادِ رسولؐ ابوالعاص بن الربیع ؓ کی فضیلت

سیدنا مسور بن مخرمہؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو بنی عبد شمس میں سے اپنے ایک داماد ابوالعاص بن الربیع کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپﷺ نے ان کی تعریف کی کہ انہوں نے دامادی کا پورا پورا حق ادا کیا اور فرمایا کہ انہوں نے جو بات کہی، سچی کہی اور جو وعدہ کیا اسے پورا کیا۔

۲۹۔ زید بن حارثہؓ اور اسامہ بن زید کی فضیلت

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک لشکر کا کمسن اسامہ بن زیدؓ کو سردار مقرر کیا۔ جب بعض لوگوں نے سیدنا اسامہ کی سرداری پر اعتراض کیا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ لوگو اگر تم اسامہ کی سرداری پر طعن کرتے ہو تو اس سے پہلے تم نے اس کے باپ زید بن حارثہؓ کی سرداری پر بھی اعتراض کیا تھا۔ اﷲ کی قسم وہ سرداری کے لائق تھا اور مجھے سب سے زیادہ محبوب بھی۔ اور اس کے بعد یہ اسامہؓ بھی مجھے محبوب ہے۔

۳۰۔با اثر شخص کا جرم بھی قابلِ سزا ہے

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ بنی مخزوم کی ایک عورت فاطمہ نے چوری کی۔ لوگوں نے سیدنا اسامہ بن زیدؓ کے ذریعہ نبیﷺ سے سفارش کرانی چاہی تو آپﷺ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں بھی جب کوئی با اثر شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی عام شخص چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتے۔ اگر آج چوری کرنے والی میری بیٹی فاطمہؓ بھی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کٹوا دیتا۔

۳۱۔سیدنا عمارؓ اور سیدنا حذیفہؓ کی فضیلت

سیدنا ابو درداءؓ سے روایت ہے کہ ایک کوفی لڑکا ان کے پاس یہ کہتے ہوئے بیٹھا کہ اے اﷲ مجھے ایک نیک ساتھی عنایت فرمایا تو سیدنا ابودرداءؓ نے کہا کہ کیا تمہارے شہر میں حذیفہؓ نہیں ہیں جو نبیﷺ کے ایسے رازوں سے واقف تھے جن کو ان کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا؟ کیا تمہارے شہر میں عمار بن یاسرؓ نہیں ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی زبان پر شیطان کے شر سے پناہ دے رکھی ہے ؟ کیا تمہارے شہر میں عبداﷲ بن مسعودؓ نہیں ہیں جو نبیﷺ کی مسواک رکھتے تھے ؟ اس نے کہا کہ ہاں ہیں۔

۳۲۔ ابو عبیدہ بن جراحؓ اُمت کے امین ہیں

سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ہرامت کا ایک امین گزرا ہے اور اس امت میں ہمارے امین ابو عبیدہ بن جراحؓ ہیں۔

۳۳۔کبیرہ گناہ نظر انداز، صغیرہ گناہ کی تحقیق

سیدنا ابن عمرؓ سے کسی عراقی نے پوچھا کہ اگر کوئی حالتِ احرام میں مکھی مار ڈالے ؟ تو سیدنا ابن عمرؓ نے کہا کہ اہل عراق مکھی کو مار ڈالنے کے بارے میں تو مسئلہ پوچھتے ہیں جبکہ انہوں نے نبیﷺ کے نواسے حضرت حسینؓ کو قتل کر ڈالا جن کے بارے میں نبیؐ نے فرمایا تھا کہ یہ دونوں دنیا میں میرے پھول ہیں۔

۳۴۔سیدنا ابن عباسؓ کے لیے علمِ حکمت کی دعا

سیدنا ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور دعا کی کہ اے اﷲ! اسے حکمت کا علم عطا فرما۔

۳۵۔ قرآنی علوم کے ماہر چار صحابیؓ

سیدنا عبداﷲ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن چار آدمیوں یعنی عبداﷲ بن مسعودؓ ، ابو حذیفہؓ کے غلام سالمؓ ، ابی بن کعبؓ اور معاذ بن جبلؓ سے سیکھو۔


٭٭٭

۵۷۔کتاب فضائل انصار



۱۔ قبل از اسلام جنگِ بعاث کا انصار کو فائدہ

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ اسلام سے پہلے اوس و خزرج میں ہونے والی جنگِ بعاث کو اﷲ تعالیٰ اپنے رسولﷺ سے پہلے ہی مقدر کر رکھا تھا۔ لہٰذا جب آپﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو مدینہ میں انصار کی جماعت میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی۔ ان کے سردارقتل یا زخمی کئے جا چکے تھے۔ اﷲ نے اس جنگ کو حضورﷺ سے پہلے اس لیے مقدر کیا تھا تاکہ انصار کا اسلام میں داخل ہونا مشکل نہ رہے۔

۲۔ ہجرت نہ ہوتی تو محمدؐ بھی انصاری ہوتے

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی قبیلہ انصار کا ایک فرد ہوتا۔

۳۔انصار کا مومن دوست اور منافق دشمنی ہو گا

سیدنا براءؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ انصار سے سوائے مومن کے کوئی دوستی نہ رکھے گا اور ان کے ساتھ سوائے منافق کے کوئی دشمنی نہ رکھے گا۔پس جو کوئی انصار سے محبت کرے اﷲ بھی اس سے محبت کرے گا اور جو کوئی انصار سے دشمنی کرے تو اﷲ بھی اس سے دشمنی کرے گا۔

۴۔انصاریوں سے محمدﷺ کی چاہت کا اظہار

سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے انصاری عورتوں اور بچوں کو شادی میں سے آتے دیکھا تو نبیﷺ سیدھے کھڑے ہو گئے اور تین دفعہ فرمایا کہ اﷲ کی قسم! میں تمہیں سب لوگوں سے زیادہ چاہتا ہوں۔ایک اور روایت میں سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ ایک انصاری عورت اپنا بچہ لے کر نبیﷺ کے پاس آئی۔ نبیﷺ نے اس سے باتیں کیں اور دو مرتبہ فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ بے شک میں تم لوگوں کو سب سے زیادہ چاہتا ہوں۔

۵۔انصار کے حلیف بھی انہی کی طرح ہیں

سیدنا زید بن ارقمؓ کہتے ہیں کہ انصار نے کہا کہ یا رسول اﷲ! ہر نبی کے حلیف ہوتے ہیں اور ہم آپ کے حلیف ہیں۔ آپﷺ اللہ سے دعا کیجیے کہ جو لوگ ہمارے حلیف ہیں، انہیں بھی ہماری ہی طرح قرار دیا جائے۔چنانچہ اللہ کے رسولﷺ نے اس کی دعا فرمائی۔

۶۔انصار کے بہترین گھرانوں کا بیان

سیدنا ابو حمیدؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ انصار کا بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے پھر عبداشہل کا، پھر بنی حارث کا، پھر بنی سعدہ کا اور خیر انصار کے تمام گھرانوں میں ہے۔ یہ حدیث سن کر سیدنا سعد بن عبادہؓ نے نبیﷺ سے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ ! انصار کے بہترین گھرانوں کا بیان ہوا اور ہم اخیر درجہ میں رکھے گئے تو آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تمہارا گھرانہ بھی بہترین گھرانہ ہے ؟

۷۔حوضِ کوثر پر محمدؐ سے ملنے تک حق تلفی پر صبر کرنا

سیدنا اسید بن حضیرؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے کہا کہ یا رسول اﷲ! آپ مجھے حکومت نہیں دیتے جیسے فلاں شخص کو آپ نے حکومت دی ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا تم میرے بعد اپنے ساتھ حق تلفی دیکھو گے تو صبر کئے رہنا یہاں تک کہ تم روزِ قیامت مجھ سے حوضِ کوثر پر ملو۔سیدنا انسؓ سے ایک دوسری روایت میں آپﷺ نے یوں فرمایا کہ ’’ اور تمہارے ملنے کا مقام حوضِ کوثر ہو گا‘‘۔

۸۔ اپنی ضرورت پر دوسروں کو ترجیح دینا

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک بھوکا آدمی نبیﷺ کے پاس آیا تو آپﷺ نے اپنی بیویوں کے پاس پیغام بھجوایا کہ کھانے کو کچھ ہے ؟ جواب ملا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ رسول اﷲﷺ نے حاضرین مجلس سے فرمایا کہ کون اس کی ضیافت کرتا ہے ؟ تو ایک انصاری انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ نبیﷺ کے مہمان ہیں۔ بیوی نے کہا کہ ہمارے پاس تو صرف اتنا ہی کھانا ہے جو بچوں کو کافی ہو۔انصاری نے کہا کہ بچوں کو تو بغیر کھانا کھلائے سلادو۔ پھر مہمان کے سامنے کھانا رکھ کر چراغ بجھا دینا۔یوں اندھیرے میں میزبانوں نے یوں ظاہر کیا جیسے وہ دونوں بھی کھا رہے ہوں۔ اس طرح دونوں نے وہ رات بھوکے ہی گزار دی۔ دوسری صبح جب وہ انصاری نبیﷺ کے پاس گئے تو آپﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے رات کو تم دونوں کے اندازِ میزبانی کو بہت پسند کیا۔

۹۔انصار کی نیکی کو قبول اور بُرائی سے درگزر کرنا

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدناعباسؓ نے ایک جگہ کچھ لوگوں کو روتے دیکھ کر وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں نبیﷺ کا آخری مرتبہ منبر رسولﷺ پر چڑھنا یاد آ رہا ہے۔ اس وقت آپﷺ نے سر پر چادر کا حاشیہ باندھا ہوا تھا۔ اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم و جان ہیں ان پر جو میرا حق تھا وہ ادا کر چکے اب ان کا حق (جنت کا ملنا) باقی ہے پس ان کی نیکی کو قبول کرنا اور ان کی برائی سے درگزر کرنا۔

۱۰۔ اُحد میں ابو طلحہ انصاریؓ نبیؐ سینہ سپر رہے

سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ جنگ اُحد کے دن جب مسلمان نبیﷺ کو چھوڑ کر بھاگے تو سیدنا ابو طلحہ نبیﷺ کے سامنے ایک چمڑے کی سپر کی آڑ کئے رہے تاکہ کافروں کے تیر آپﷺ کو نہ لگ جائیں۔ ایک مرتبہ نبیﷺ سر اٹھا کر کافروں کو دیکھنے لگے تو سیدنا ابو طلحہ نے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ ! میرے ماں باپ آپﷺ پر فدا ہوں آپﷺ سر نہ اٹھائیے کہیں کافروں کے تیروں میں سے کوئی تیر آپؐ کے نہ لگ جائے، میرا سینہ آپﷺ کی آڑ کر رہا ہے۔

۱۱۔عبداﷲ بن سلامؓ کا ایک عمدہ خواب

عبداﷲ بن سلامؓ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کشادہ اور سرسبزباغ میں ہوں۔ باغ کے وسط میں ایک لوہے کا ستون ہے جس کا پایہ زمین میں ہے تو سرا آسمان میں۔ اس پایے کے اوپر کی طرف ایک گھنا درخت العروہ ہے۔مجھے کہا گیا کہ اس کے اوپر چڑھ تومیں نے کہا کہ میں اتنی طاقت نہیں رکھتا۔چنانچہ ایک خدمتگار نے پشت سے میری مدد کی تو میں چڑھنے لگا یہاں تک کہ چوٹی پر پہنچ گیا اور میں نے وہ گھنا درخت پکڑ لیا تو مجھ سے کہا گیا کہ مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو۔ ابھی میں اسے اپنے ہاتھوں سے پکڑے ہوئے ہی تھا کہ میری آنکھ کھُل گئی۔ میں نے یہ خواب نبیﷺ سے بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ باغ سے دین اسلام مراد ہے اور ستون سے مراد اسلام کا ستون اور گھنا درخت عروۃ الوثقی ہے اور تو اپنی موت تک اسلام پر قائم رہے گا۔

۱۲۔ عائشہؓ کا حضرت خدیجہؓ سے رشک کرنا

اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبیﷺ کی کسی بیوی پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا حضرت خدیجہؓ پر کیا حالانکہ میں نے ان کو دیکھا تک نہیں لیکن نبیﷺ ان کا بہت ذکر کیا کرتے تھے اور جب کبھی بکری ذبح کرتے تو اس کا حصہ حضرت خدیجہؓ کی سہیلیوں کو بھی بھیجتے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ رشک کے باعث میں اکثر آپؐ سے یوں کہتی کہ شاید دنیا میں حضرت خدیجہؓ کے سوا اور کوئی عورت نہیں ہے تو آپﷺ حضرت خدیجہؓ کی صفتیں بیان کرنے لگتے اور کہتے کہ میری اولاد انہی کے بطن سے ہوئی۔

۱۳۔اللہ اور جبرئیلؑ نے خدیجہؓ کو سلام کہلوایا

سیدنا ابوہریرہؓ مروی ہیں کہ ایک مرتبہ جبریل ؑ نبیﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ یا رسول اﷲﷺ !حضرت خدیجہؓ آپﷺ کے پاس کھانے پینے کا ایک برتن لا رہی ہیں جب وہ آپﷺ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہئے اور انہیں جنت میں ایک گھر کی خوشخبری دیجئے جو ایک خولدار موتی کا ہو گا جس میں نہ شور ہو گا اور نہ کوئی اور پریشانی ہو گی۔

۱۴۔ ہند بنت عتبہ بن ربیعہؓ کی نظر میں نبیؐ کا گھرانہ

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ ہند بنت عتبہ کہنے لگی کہ یا رسول اﷲﷺ ! مجھے اسلام لانے سے پہلے ساری دنیا میں کسی گھرانے کی ذلت آپﷺ کے گھرانے کی ذلت سے زیادہ پسند نہ تھی۔ جب کہ آج کے دن مجھے ساری دنیا میں کسی گھرانے کا عزت دار ہونا اتنا پسند نہیں جتنا آپﷺ کے گھرانے کا عزت دار ہونا پسند ہے تو نبیﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں بھی ایسا ہی سمجھتا ہوں۔

۱۵۔ زید بن عمروؓ کا قبل از اسلام تقویٰ

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ راوی ہیں کہ نزولِ وحی سے پہلے ایک مرتبہ نبیؐ کی ملاقات حضرت زید بن عمرو بن نفیلؓ سے وادی بلدح میں ہوئی۔ جب کچھ لوگوں نے نبیؐ کے سامنے کھانے کا دستر خوان چنا تو زید بن عمروؓ نے وہ کھانا کھانے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ میں ان جانوروں کا گوشت نہیں کھاتا جنہیں تم بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہو۔ میں صرف اسی جانور کا گوشت کھاتا ہوں جو اﷲ کے نام پر ذبح کیا جائے۔ اور زید بن عمروؓ قریش کا جانوروں کو ذبح کرنے کا طریقہ بُرا سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ اﷲ نے ہی بکری کو پیدا کیا اور آسمان سے اس کے پینے کے لیے پانی نازل فرمایا اور اس کے کھانے کے لیے زمین میں چارہ اگایا پھر تم اسے اﷲ کے نام کے سوا اور وں کے نام پر ذبح کرتے ہو۔ وہ اس فعل کو بڑا گناہ خیال کرتے تھے۔

۱۶۔اللہ کے سوا کسی اور کی قسم نہ کھائی جائے

سیدنا ابن عمرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ سُن رکھو! جو کوئی قسم کھانا چاہے تو وہ اﷲ کے سوا اور کسی کی قسم نہ کھائے۔ قریش کے لوگ اپنے باپ دادا کی قسم کھایا کرتے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ۔

۱۷۔نبیﷺ پر مشرکوں کی سخت ترین ایذا

سیدنا عبداﷲ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ مشرکوں نے نبیﷺ کو سخت ایذا کو ن سی دی تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ ا ایک مرتبہ نبیﷺ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے اپنا کپڑا آپﷺ کی گردن میں ڈالا اور آپﷺ کا گلا زور سے گھونٹا،اتنے میں سیدنا ابوبکرؓ آ گئے اور انہوں نے اس کا کندھا پکڑ کر اس کو نبیؐ سے الگ کیا اور کہا کہ ’’کیا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اﷲ ہے۔

۱۸۔نبیﷺ کی حمایت کا ابو طالب کو فائدہ

سیدنا عباس بن عبدالمطلبؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیؐ سے کہا کہ یا رسول اﷲ! آپؐ اپنے چچا ابو طالب کے کیا کام آئے کہ وہ آپؐ کی حفاظت و حمایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہ اسی وجہ سے صرف ٹخنوں تک آگ میں ہیں اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کی سب سے نچلی تہہ میں ہوتے۔

۱۹۔نبیؐ کا کعبہ سے بیت المقدس کو بلا حجاب دیکھنا

سیدنا جابر بن عبداﷲؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قریش نے جب میرے سفرِ معراج کو جھٹلایا تو میں کعبہ میں کھڑا ہو گیا اور اﷲ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے بے حجاب کر دیا۔ لہٰذا میں نے اسے دیکھ کر قریش سے اس کی تمام جزئیات بیان کرنے لگا۔

۲۰۔ معراج : نبیؐ کے دل کو ایمان سے دھویا گیا

سیدنا مالک بن صعصعہؓ سے روایت ہے کہ اﷲ کے نبیﷺ نے معراج کی رات کا قصہ بیان فرمایا کہ میں کعبہ میں لیٹا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک فرشتہ آیا۔ اس نے میرے پیٹ کو سینے کے سرے سے ناف تک چیرا۔ میرا دل نکالا پھر ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا ہوا تھا اس سے میرا دل دھویا گیا پھر اسے اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا۔

۲۱۔ پہلے آسمان پر نبیؐ کی حضرت آدمؑ سے ملاقات

پھر میرے لئے ایک سفید جانور بُراق لایا گیا جو خچر سے ذرا نیچا اور گدھے سے کچھ اونچا تھا۔ وہ اپنا اگلا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی تھی۔ پس میں اس پر سوار کیا گیا اور جبرئیل میرے ساتھ چلے یہاں تک کہ آسمان دنیا پر پہنچے۔ جبرئیلؑ کے دروازہ کھولنے کی درخواست پر پوچھے گئے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں جبرئیلؑ ہوں اور میرے ساتھ محمدﷺ ہیں، جنہیں بلایا گیا ہے۔ تب دروازہ کھولا گیا اور ہمیں خوش آمدید کہا گیا۔ میں اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں آدمؑ ہیں۔ جبریلؑ نے کہا کہ یہ تمہارے باپ آدمؑ ہیں انہیں سلام کرو۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا کہ کیا اچھا بیٹا اور کیا اچھا نبی ہے۔

۲۲۔یحییٰ ؑ ، عیسیٰ ؑ اور یوسفؑ سے نبیؐ کی ملاقاتیں

پھر ہم اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان تک پہنچے تو وہاں بھی پہلے کی طرح سوال و جواب کے بعد دروازہ کھولا گیا۔ میں اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں موجود خالہ زاد بھائی یحییٰ ؑ اور عیسیٰؑ سے جبریلؑ نے میرا تعارف کرایا۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا کہ مرحبا اچھا بھائی ہے اور اچھا پیغمبر ہے۔ پھر جبریل ؑ میرے ساتھ اوپر تیسرے آسمان تک چڑھے تو وہاں بھی پہلے کی طر ح سوال و جواب کے بعد دروازہ کھولا گیا۔میں اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں یوسفؑ ہیں، جبریل نے کہا کہ یہ یوسف ؑ ہیں انہیں سلام کرو۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر کہا کہ مرحبا اچھا بھائی ہے اور اچھا نبی ہے۔

۲۳ادریسؑ چوتھے، ہارونؑ پانچویں آسمان پر ملے

پھر جبریلؑ میرے ساتھ چوتھے آسمان تک چڑھے۔ پہلے کی طرح سوال و جواب کے بعد دروازہ کھولا گیا۔ میں اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں ادریسؑ ہیں۔ جبریلؑ کے تعارف کرانے پر میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا پھر کہا کہ اچھے بھائی اور اچھے نبی کو مرحبا۔ پھر جبریلؑ میرے ساتھ پانچویں آسمان تک چڑھے۔سوال و جواب کے بعد دروازہ کھولا گیا۔ میں اندر گیا تو جبریلؑ کے تعارف کرانے پر وہاں موجود ہارونؑ کو سلام کیا تو انہوں نے جواباً کہا کہ مرحبا کیا اچھا بھائی ہے اور کیا اچھا نبی۔

۲۴۔موسیٰ ؑ کا نبیؐ سے ملنے کے بعد رونا

پھر جبریلؑ میرے ساتھ چھٹے آسمان تک چڑھے۔سوال و جواب کے بعد دروازہ کھولا گیا۔ میں اندر گیا تو وہاں موجود موسیٰ ؑ سے جبریلؑ نے تعارف کرایا۔میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا پھر کہا کہ مرحبا کیا اچھا بھائی ہے اور کیا اچھا نبی ہے۔ جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے۔ ان سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ میں اس لئے روتا ہوں کہ یہ لڑکا میرے بعدنبی بنا کر بھیجا گیا اور اس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوں گے۔

۲۵ ساتویں آسمان پر ابراہیمؑ سے ملاقات ہوئی

پھر جبریلؑ میرے ساتھ ساتویں آسمان تک چڑھے۔ سوال و جواب کے بعد دروازہ کھولا گیا۔ میں اندر گیا تو وہاں موجود ابراہیمؑ سے جبریلؑ نے تعارف کرایا۔میں نے انہیں سلام کیا۔تو انہوں نے جواب دیا اور کہا کہ مرحبا کیا اچھا بیٹا ہے اور کیا اچھا نبی

۲۶۔ نیل و فرات، سدرۃ المنتہیٰ سے بہتی ہیں

پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک بلند کیا گیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے پھل (بیر) مدینہ کے قریب مقامِ ہجر کے مٹکوں کے برابر ہیں اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح ہیں۔ جبریلؑ نے بتلایا کہ یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔میں نے دیکھا کہ وہاں اس کی جڑ سے چار نہریں نکل رہی ہیں دو نہریں ڈھکی ہوئی ہیں اور دو کھلی۔ میرے پوچھنے پر جبریلؑ نے کہا کہ بند نہریں تو جنت میں بہہ رہی ہیں جب کہ کھلی دو نہریں دنیا میں نیل اور فرات ہیں۔

۲۷بیت المعمور میں روز ستر ہزار فرشتوں کا داخل ہونا

پھر مجھے بیت المعمور بلند کر کے دکھایا گیا جہاں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ پھر میرے سامنے ایک پیالہ شراب کا اور ایک دودھ کا اور ایک شہد کا بھرا ہوا لایا گیا تو میں نے دودھ کا پیالہ لے کر پی لیا۔ جبریلؑ نے کہا کہ یہ اسلام کی فطرت ہے جس پر تم ہو اور تمہاری امت ہے۔

۲۸۔معراج النبیؐ خواب نہیں بلکہ عینی رویت تھی

سیدنا ابن عباسؓ ،اﷲ تعالیٰ کے اس قول ’’ اور جو رویا ہم نے آپ کو دکھلائی تھی وہ لوگوں کے لیے صاف آزمائش ہی تھی‘‘ (بنی اسرائیل: ۶) کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں رویا سے مراد خواب نہیں بلکہ حقیقی آنکھ سے دیکھنا مراد ہے جو رسول اﷲﷺ کو اس رات دکھایا گیا جب آپﷺ کو بیت المقدس تک لے جایا گیا۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اﷲ کا یہ قول کہ ’’ اور وہ درخت، جس سے قرآن میں اظہار نفرت کیا گیا ہے ‘‘ (بنی اسرائیل: ۶) میں درخت سے تھوہر کا درخت مراد ہے۔

۲۹۔چھ سالہ عائشہؓ کا نکاح اور ۹ سال میں رخصتی

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ جب نبیﷺ نے مجھ سے نکاح کیا تو میری عمر چھ برس تھی۔ پھر ہم مدینہ آئے اور بنی حارث بن خزرج کے محلّہ میں اترے۔ مجھے بخار ہوا اور میرے سارے بال جھڑ گئے۔بعد میں دوبارہ کندھوں تک میرے بال نکل آئے اور میری ماں اُمّ رومان میرے پاس آئیں تو میں اس وقت اپنی ہم جولیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھر کے دروازے پر لے جا کر پانی سے میرا سر اور منہ پونچھا پھر گھر کے اندر لے گئیں۔ وہاں انصار کی چند عورتیں بیٹھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مبارک ہو مبارک ہو! تمہارا نصیب بہت اچھا ہے۔میری ماں نے مجھے ان کے سپرد کیا انہوں نے میرا بناؤ سنگھار کیا۔ اور میں اس وقت گھبرا گئی جب چاشت کے وقت یکا یک نبیﷺ تشریف لائے اور مجھے آپﷺ کے سپُرد کر دیا گیا۔ اس وقت میری عمر نو سال تھی۔

۳۰۔ قبل از نکاح عائشہؓ کو خواب میں دیکھا

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے آپؓ سے فرمایا کہ میں نے تجھے دو دفعہ خواب میں دیکھا کہ تو ایک ریشمی کپڑے کے ٹکڑے میں لپٹے ہوئے ہے اور مجھ سے کہا جاتا ہے کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔ میں نے جو کھول کر دیکھا تو اندر تو ہی تھی۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر یہ اﷲ کی طرف سے ہے تو اﷲ اس کو ضرور پورا کرے گا۔

۳۱۔ابو بکر صدیقؓ کی ہجرت حبشہ کو روانگی

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ جب سے مجھے اپنے والدین کی شناخت ہوئی تو میں نے ان کو دین اسلام ہی پر پایا اور ہمارا کوئی دن نہیں گزرتا تھا کہ اس میں نبیﷺ ہمارے پاس تشریف نہ لائیں۔ آپﷺ دن میں دو دفعہ آتے، صبح اور شام کو۔ پھر جب مسلمانوں کو مشرکین سے سخت تکالیف پہنچنے لگیں تو سیدنا ابوبکر حبشہ کی طرف ہجرت کی نیت سے نکلے تو برک الغماد کے مقام پر قومِ قارہ کا سردار ابن دغنہ سے ملا۔ اس نے پوچھا کہ اے ابوبکرؓ کہاں کا قصد ہے ؟ سیدنا ابوبکر نے کہا کہ مجھے میری قوم قریش نے نکال دیا ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ زمین میں سیر و سیاحت کروں اور اپنے رب کی عبادت کروں۔

۳۲۔ابن دغنہ کی پناہ میں ابو بکرؓ کی مکہ واپسی

ابن الدغنہ نے کہا کہ اے ابوبکرؓ ! تیرے جیسے لوگ نہ نکلتے ہیں اور نہ نکالے جاتے ہیں۔ تم لوگوں کو ان کی ضرورتیں مہیا کرتے ہو۔ لوگوں کا بوجھ اپنے سر پر اٹھا لیتے ہو۔ مہمان نوازی کرتے ہو اور جھگڑوں میں حق کی مدد کرتے ہو۔ لہٰذا میں تمہیں پناہ دیتا ہوں۔ تم واپس لوٹ جاؤ اور اپنے شہر میں ہی اپنے رب کی عبادت کرو۔ چنانچہ سیدنا ابو بکرؓ واپس آ گئے۔ ابن دغنہ نے اس بارے میں قریش کے سرداروں سے ملاقات کی تو انہوں نے ابن الدغنہ سے کہا کہ تم ابوبکرؓ کو سمجھا دو کہ وہ اپنے گھر میں اﷲ کی عبادت کریں اور وہیں نمازیں پڑھیں اور قرأت کریں اور اس سے ہمیں اذیت نہ دیں اور نہ اس کو اعلانیہ پیش کریں۔ کیونکہ ہم اعلانیہ پیش کرنے سے اپنی عورتوں اور بیٹوں کے بگڑ جانے کا خوف رکھتے ہیں۔

۳۳۔ابوبکرؓ کا صحن میں مسجد بنانے پر اعتراض

ابن دغنہ نے سیدنا ابوبکرؓ کو ان شرائط سے آگاہ کیا اور سیدنا ابوبکرؓ اسی شرط پر مکہ میں رہے۔ وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرتے اور اعلانیہ نماز نہ پڑھتے اور نہ اپنے گھر کے سوا کہیں اور قرآن پڑھتے۔ پھر سیدنا ابوبکرؓ نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنائی اور اس میں نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے۔ پس مشرکین کی عورتیں اور ان کے بیٹے اکٹھے ہو جاتے اور وہ سب قرآن سننے لگتے۔ اس صورتِ حال سے مشرکینِ قریش گھبرا گئے اور انہوں نے ابن دغنہ کو بلوا کر ان سے کہا کہ ہم نے ابوبکرؓ کو تیری پناہ میں دینا اس شرط سے قبول کیا تھا کہ وہ اپنے گھر میں رہ کر پروردگار کی عبادت کریں۔مگر انہوں نے اس شرط کے خلاف کیا اور اس نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنائی ہے۔ وہاں وہ اعلانیہ نماز ادا کرتے اور قرآن پڑھتے ہیں اور ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے گمراہ نہ ہو جائیں۔ تم ابوبکرؓ کو اس سے روکو یا اپنی پناہ ان سے واپس مانگ لو۔ ہم تمہاری پناہ توڑنا پسند نہیں کرتے اور یہ بھی نہیں کر سکتے کہ ابوبکر کو علانیہ عبادت کرنے دیں۔

۳۴۔ابوبکر صدیقؓ کا امان واپس کرنا

عائشہؓ کہتی ہیں کہ ابن دغنہ یہ سب سن کر سیدنا ابوبکرؓ کے پاس آیا اور کہا کہ تم جانتے ہو کہ میں نے جو شرط قریش کے لوگوں سے ٹھہرائی تھی اب تم یا تو اس شرط پر قائم رہو یا میری پناہ واپس کر دو۔ کیونکہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ عرب لوگ یہ خبر سنیں کہ میں نے جس شخص کو امان دی تھی اس کی امان توڑ دی گئی۔ سیدنا ابوبکرؓ نے کہا کہ میں تجھے تیری امان واپس کرتا ہوں اور اﷲ عزوجل کی پناہ پر راضی ہوں۔

۳۵۔نبیﷺ کو ہجرت کا مقام دکھلایا جانا

نبیﷺ بھی ان دنوں مکہ ہی میں تھے۔ آپﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ مجھے تم لوگوں کی ہجرت کا مقام دکھلایا گیا وہاں کھجور کے درخت ہیں اور دونوں طرف پتھریلے میدان ہیں یعنی مدینہ کے وہ دونوں سنگستان جن کو حرتین کہتے ہیں۔ جن مسلمانوں سے ہو سکا وہ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے اور قبل ازیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمان بھی مدینہ ہی میں لوٹ آئے۔ جب حضرت ابو بکرؓ نے بھی مدینہ جانے کی تیاری کی تو رسول اﷲﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم ٹھہر جاؤ۔ مجھے امید ہے کہ مجھے بھی ہجرت کی اجازت ملے گی۔

۳۶۔نبیؐ کا حضرت ابوبکرؓ کوہجرت کی خبر دینا

چنانچہ سیدنا ابوبکرؓؓ رک گئے اور اپنی دو اونٹنیوں کو تیز کرنے کے لیے چار ماہ تک کیکر کے پتے کھلاتے رہے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ایک دن ٹھیک دوپہر کے وقت رسول اﷲﷺ حضرت ابوبکرؓ کے گھر میں آئے تو سیدنا ابوبکرؓ نے اس خلاف معمول آمد پر کہا کہ آپﷺ جو اس وقت آئے ہیں تو ضرور کوئی بڑا کام ہے۔ آپﷺ اجازت لے کر اندر داخل ہوئے اور حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا کہ اپنے لوگوں سے کہو ذرا باہر جائیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ یا رسول اﷲ یہاں صرف آپ کے گھر والے یعنی عائشہ اور ان کی والدہ اُمّ رومانؓ ہی ہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ تو سیدنا ابوبکرؓ نے کہا کہ یا رسول اﷲ میں آپﷺ کے ساتھ رہوں گا؟ رسول اﷲﷺ نے فرمایا ہاں تو سیدنا ابوبکرؓ نے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ ! ان دونوں اونٹنیوں میں سے کوئی اونٹنی لے لیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا اچھا ٹھیک ہے لیکن میں اس کی قیمت ادا کروں گا۔

۳۷۔نبیؐ کا ابوبکرؓ کے ہمراہ غارِ ثور میں قیام کرنا

حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ہم نے جلدی سے دونوں کے سفر کا سامان تیار کیا اور ایک چمڑے کے تھیلے میں رکھا تو سیدہ اسماءؓ نے اپنا کمر بند پھاڑا اور اس سے تھیلے کا منہ باندھا۔ اسی وجہ سے اس کا نام ذات النطا قین (یعنی دو تسمہ والی) رکھا گیا۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ پھر رسول اﷲﷺ اور ابوبکر صدیقؓ دونوں مکہ سے تین میل دور ثور پہاڑ کی غار میں چلے گئے جہاں یہ لوگ تین راتوں تک رہے۔ نوجوان عبداﷲ بن ابو بکرؓ جوبہت ہوشیار تھے، رات کو غار میں ان کے پاس رہتے اور صبح سویرے قریش کے لوگوں کے ساتھ اس طرح ملتے جیسے رات مکہ ہی میں گزاری ہو۔ یوں آپ جتنی باتیں نبیﷺ اور سیدنا ابوبکرؓ کو نقصان پہنچانے کی سنتے وہ رات کا اندھیرا ہوتے ہی غار پر آ کر نبیﷺ اور ابوبکرؓ کو سنا دیتے۔ اس دوران حضرت بوبکرؓ کے غلام عامر بن فہیرہ گلے میں سے ایک بکری روکے رہتے اور جب ایک گھڑی رات گزر جاتی تو وہ بکری اس غار میں لے کر آتے اور دونوں صاحب تازہ اور گرم گرم دودھ پی کر رات بسر کرتے۔

۳۸۔غارِ ثور سے روانگی کا احوال

نبیﷺ اور ابوبکرؓ نے قبیلہ بنی الدیل میں سے ایک شخص کو اجرت پر راہ بتلانے والا ٹھہرایا۔ پس نبیﷺ اور سیدنا ابوبکرؓ دونوں نے اس پربھروسہ کیا اور اپنی اونٹنیاں اس کے حوالے کیں اور اس سے یہ وعدہ لیا کہ وہ تین راتوں کے بعد اونٹنیاں لے کر غارِ ثور پر آ جائے۔چنانچہ وہ حسب وعدہ اونٹنیاں لے کر آ گیا۔ یوں نبیؐ ، حضرت ابوبکر صدیقؓ عامر بن فہیرہ رستہ بتانے والے شخص کے ساتھ روانہ ہو گئے۔

۳۹۔ نبیؐ اور ابوبکرؓ کے قتل پر انعام کا اعلان

سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم المدلجیؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس قریش کے کافروں کا ایک ایلچی آیا اور انہوں نے رسول اﷲﷺ اور ابوبکرؓ میں سے ہر ایک کے قتل کرنے یا پکڑ لینے والے کے لیے دیت یعنی سو اونٹوں کا وعدہ کیا تھا۔ ایک بار میں بنی مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک شخص نے آ کر کہا کہ اے سراقہ! میں نے ابھی چند آدمیوں کو ساحل کے راستے سے جا تے ہوئے دیکھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ محمد (ﷺ ) اور ان کے ساتھی ہیں۔

۴۰۔ نبیﷺ اور ابوبکرؓ کا تعاقب کیا گیا

کچھ دیر بعد میں اپنے گھر گیا اور اپنی لونڈی سے کہا کہ تو میرا گھوڑا نکال اور ٹیلے کے پرے جا کر گھوڑے سمیت میرا انتظار کر۔ میں نے اپنا نیزہ سنبھالا اور گھر کے پچھلے دروازے سے نیزہ جھکائے ہوئے باہر نکلا اور گھوڑے کے پا س پہنچ کر اس پر سوار ہو گیا۔ جب میں نبیﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے قریب پہنچا تو میرے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں اس پر سے گر پڑا۔ پھر میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس میں سے تیر نکالے اور ان سے فال لی کہ کیا میں انہیں ضرر پہنچا سکوں گیا یا نہیں تو وہ بات میرے خلاف نکلی۔ لیکن اونٹوں کے لالچ میں میں پھر اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور فال کے خلاف کیا۔ میرا گھوڑا مجھے لے کر آپﷺ کے قریب پہنچ گیا یہاں تک کہ میں نے آپﷺ کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی۔ اتنے میں میرے گھوڑے کے پاؤں زمین میں گھس گئے۔ یہاں تک کہ گھٹنوں تک زمین میں سما گیا اور میں اس کے اوپر سے گر پڑا۔ میں نے پھر تیروں سے فال نکالی تو میری ناپسندیدہ بات ہی نکلی۔لہٰذا میں نے انہیں امان دینے کے ساتھ پکارا تو وہ رُک گئے۔میں ان کے پاس پہنچا تو دل میں خیال آیا کہ عنقریب رسول اﷲﷺ کا دین غالب آ جائے گا۔ میں نے انہیں بتلایا کہ آپ کی قوم نے آپ کے بارے میں دیت مقرر کی ہے۔ میں نے ان کے سامنے زادِ راہ اور سفر کا سامان پیش کیا لیکن انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں لیا۔ صرف یہ کہا کہ ہمارا حال پوشیدہ رکھنا۔ میں نے نبیﷺ سے درخواست کی کہ میرے لئے امن کی ایک تحریر لکھ دیں تو آپﷺ نے عامر بن فہیرہ کو حکم دیا۔ انہوں نے مجھے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر لکھ دیا اور پھر رسول اﷲﷺ روانہ ہو گئے۔

۴۱۔مدینہ میں نبیﷺ کی آمد کا انتظار

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ زبیرؓ اور مسلمانوں کے کئی سواروں سے ملے جو تاجر تھے اور شام کے ملک سے لوٹے آ رہے تھے۔ پس سیدنا زبیرؓ نے نبیﷺ اور سیدنا ابوبکرؓ کو سفید کپڑے پہنائے۔ ادھر مدینہ میں مسلمانوں نے نبیﷺ کے مکہ سے نکلنے کی خبر سنی تو وہ ہر روز صبح کو مقام حرہ تک آتے اور آپﷺ کا انتظار کرتے رہتے۔ ایک دن ایک یہودی اپنے کسی کام سے اپنے ایک گھر کی چھت پر چڑھا تو اس نے رسول اﷲﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو سفیدکپڑے پہنے ہوئے دیکھا کہ سراب ان سے چھپ گیا تھا۔ یہ دیکھ کر یہودی اپنے آپ کو بلند آواز سے یہ کہنے سے نہ روک سکا کہ اے گروہِ عرب! تم اپنے جس سردارانتظار کر رہے تھے، وہ آن پہنچا ہے۔

۴۲۔مسجد قبا اور مسجد نبویﷺ کی تعمیر

یہ ربیع الاوّل کا مہینہ اور پیر کا دن تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ لوگوں سے ملنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور رسول اﷲﷺ خاموش بیٹھے رہے۔نبیﷺ دس سے کچھ اوپر راتوں تک بنی عمرو بن عوف میں رہے اور مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔رسول اﷲﷺ نے اس میں نماز ادا فرمائی پھر اپنی سواری اونٹنی پر سوار ہو کر چلے اور لوگ آپﷺ کے ساتھ پیدل چل رہے تھے یہاں تک کہ مدینہ میں موجودہ مسجد نبوی کے پاس جا کر اونٹنی بیٹھ گئی اور ان دنوں اس جگہ کچھ مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے۔یہ زمین دو یتیم لڑکوں سہیل اور سہل کی تھیں۔ جب اونٹنی بیٹھ گئی تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ان شاء اﷲ یہی ہمارا رہنے کا مقام ہو گا۔ پھر رسول اﷲﷺ نے دونوں لڑکوں سے اس زمین کی قیمت پوچھی تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ ہم یہ زمین آپؐ کو ہبہ کرتے ہیں۔نبیﷺ نے بطور ہبہ لینے سے انکار کر دیا اور ان دونوں سے زمین خرید کر وہاں مسجد بنانا شروع کی۔ اس کے بنانے کے لیے آپؐ خود بھی سب لوگوں کے ہمراہ اینٹیں اٹھا اٹھا کر لے جاتے ہوئے فرماتے کہ یہ بوجھ اٹھانا خیبر کا بوجھ اٹھانے سے بہتر ہے۔ اے اﷲ! بے شک بہتر فائدہ تو آخرت ہی کاہے۔ پس تو انصار اور مہاجرین پر رحم فرما۔

۴۳۔قبا میں سیدنا عبداﷲ بن زبیرؓ کی پیدائش

سیدہ اسمائؓ سے کہتی ہیں کہ میں مکہ سے ہجرت کی نیت سے اس وقت نکلی جب میں پورے حمل سے تھی۔ میں مدینہ میں آ کر قبا میں اتری تو وہاں سیدنا عبداﷲ بن زبیرؓ پیدا ہوئے۔ میں انہیں لیکر نبیﷺ کے پاس آئی۔ آپﷺ نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا پھر ایک کھجور منگوائی اور اس کو چبایا۔ اور اس کا جوس ان کے منہ میں ڈال دیا تو پہلی چیز جو عبداﷲ کے پیٹ میں پہنچی وہ رسول اﷲ کا تھوک تھا۔ اس کے بعد رسول اﷲﷺ نے کھجور چبا کر ان کے منہ میں ڈالی اور ان کے لیے دعا فرمائی اور برکت کی دعا فرمائی۔

۴۴۔غارِ ثور تک مشرکین کی آمد پر حضور کا فرمان

سیدنا ابوبکرؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے ساتھ غار ثور میں تھا کہ میں نے اپنا سر اٹھایا تو مشرک لوگوں کے پاؤں دیکھے تو میں نے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ ! اگر ان میں سے کسی نے اپنی نظر نیچے کی تو ہمیں دیکھ لے گا آپؐ نے فرمایا کے ابوبکرؓ ! خاموش رہو۔تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم دو ہیں۔ہمارے ساتھ تیسرا اﷲ ہے۔

۴۵۔ نبیؐ کی آمد پر اہل مدینہ کا اظہارِ مسرت

سیدنا برائؓ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ہمارے پاس مکہ سے سیدنا مصعب بن عمیرؓ آئے۔ ان کے بعد سیدنا ابن اُمّ مکتومؓ آئے جو نابینا تھے اور لوگوں کو قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ پھر سیدنا بلالؓ ،سعد بن ابی وقاصؓ اور عمار بن یاسرؓ آئے۔ پھر سیدنا عمر بن خطابؓ نبیﷺ کے بیس صحابہؓ کے ساتھ آئے۔ پھر نبیﷺ تشریف لائے پس میں نے مدینہ والوں کو کسی بات سے اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا وہ رسول ا ﷲﷺ کے تشریف لانے سے خوش ہوئے یہاں تک کہ لونڈیاں بھی یہی کہنے لگیں کہ رسول اﷲﷺ تشریف لائے۔

۴۶۔حج کے بعد مکہ میں تین دن تک رہنا

سیدنا العلاء بن حضرمیؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ مہاجر کو منیٰ سے لوٹنے کے بعد جب حج ختم ہو جائے توتین دن تک مکہ میں رہنا درست ہے۔

۴۷۔اگر دس یہودی بھی ایمان لے آتے

سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر دس یہودی بھی مجھ پر ایمان لے آتے تو سب یہودی مسلمان ہو جاتے۔


٭٭٭


۵۸۔کتاب المغازی (غزوات کا بیان)



۱۔نبیﷺ نے ۱۹؍ غزوات میں شرکت کی

سیدنا زید بن ارقمؓ سے پوچھا گیا کہ نبیﷺ نے کتنے غزوات میں شرکت کی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ انیس (۱۹)۔ پھر پوچھا گیا کہ آپ کتنے غزوات میں نبیﷺ کے ہمراہ تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ سترہ غزوات میں اور سب سے پہلا غزوہ ’’غزوہ عشیر یا عسیرۃ‘‘ تھا۔

۲۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی تعداد

سیدنا برائؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبیﷺ کے بدری اصحاب نے بیان کیا کہ جنگِ بدر میں ان کی تعداد اتنی ہی تھی جتنی طالوت بادشاہ کے ساتھیوں کی تھی، جو اُن کے ساتھ نہر پار کر گئے تھے اور وہ تین سو دس سے کچھ اوپر آدمی تھے۔ سیدنا برائؓ کہتے ہیں کہ اﷲ کی قسم! سوائے مومن لوگوں کے کوئی ان کے ساتھ دریا پار نہ جاسکا۔

۳۔بدر کے مقتول قریشی سرداروں کا احوال

سیدنا ابو طلحہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے بدر کے دن قریش کے چوبیس سرداروں کی لاشوں کو بدر کے کنووں میں سے ایک گندے اور ناپاک کنوئیں میں پھینکنے کا حکم دیا۔ نبیﷺ جب کسی قوم پر غلبہ پاتے تو تین راتیں اسی مقام پر ٹھہرے رہتے تھے۔ بدر میں تیسرے دن پھر آپﷺ چلے اور آپ کے پیچھے صحابہ بھی چلے۔ یہاں تک کہ آپﷺ اس کنوئیں کی منڈیر پر کھڑے ہوئے اور مقتول کفارِ قریش کو ان کے اپنے نام اور ان کے باپوں کے نام سے پکارنے لگے کہ اے فلاں کے بیٹے فلاں ! اے فلاں کے بیٹے فلاں ! کیا اب تمہیں یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ تم اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کر لیتے۔بے شک ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا، ہم نے پا لیا۔ کیا تم سے بھی تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچا پایا؟ سیدنا ابو طلحہؓ کہتے ہیں کہ پھر سیدنا عمرؓ نے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ ! آپ ان جسموں سے باتیں کرتے ہیں جن میں روح موجود نہیں ہے ؟ تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اس کو تم ان کافروں سے زیادہ نہیں سن رہے۔( یہ آپﷺ کا معجزہ تھا۔ اﷲ تعالیٰ اپنی قدرتِ کاملہ کے ساتھ درختوں کو، دیواروں کو اور مُردوں کو سنوا سکتا ہے۔)

۴۔بدر : مسلمانوں کے ساتھ فرشتوں کی شرکت

جنگ بدر میں شریک رہنے والے سیدنا رفاعہ بن رافع زر قیصؓ کہتے ہیں کہ جبرئیلؑ ، نبیﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ آپﷺ بدر میں لڑنے والوں کو اپنے درمیان کے ساتھ سمجھتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ مَیں سب مسلمانوں میں انہیں افضل سمجھتا ہوں تو جبرئیلؑ نے کہا کہ اسی طرح جو فرشتے جنگ بدر میں حاضر ہوئے تھے وہ بھی تمام فرشتوں میں افضل ہیں۔

۵۔ بدر: جبرئیلؑ کی ہتھیاروں کے ساتھ شرکت

سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے غزوۂ بدر کے دن فرمایا کہ یہ جبریلؑ اپنے گھوڑے کا سر تھامے اور لڑائی کے ہتھیار لگائے ہوئے آئے ہیں۔

۶۔بدر میں استعمال ہونے والے نیزہ کا اعزاز

سیدنا زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں جنگ بدر کے دن عبیدہ بن سعید بن عاص سے ملا۔ وہ ہتھیاروں میں اس طرح غرق تھا کہ اس کی صرف دونوں آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ اس نے اپنی کنیت بتائی کہ میں ابو ذات الکرش ہوں۔ میں نے اس کی آنکھ پر نیزہ مارا تو وہ مر گیا اور میں نے بہت مشکل سے وہ نیزہ اس کی آنکھ سے نکالا۔ اس کے دونوں کنارے ٹیڑھے ہو گئے تھے۔ یہ نیزہ رسول اﷲﷺ نے مجھ سے مانگا تو میں نے آپﷺ کو دے دیا۔ جب رسول اﷲﷺ کی وفات ہو گئی تو میں نے پھر اسے لے لیا۔جب سیدنا ابوبکرؓ نے مجھ سے وہ نیزہ مانگا تو میں نے انہیں دے دیا۔ سیدنا ابو بکرؓ کی وفات ہو گئی تو سیدنا عمرؓ نے مانگا۔ میں نے انہیں دے دیا۔ پھر سیدنا عمرؓ کی شہادت واقع ہوئی تو میں نے لے لیا۔ پھر سیدنا عثمانؓ نے مانگا تو میں نے انہیں دے دیا۔ جب سیدنا عثمانؓ شہید ہو گئے تو وہ سیدنا علیصؓ اور ان کی اولاد کے پاس رہا۔ آخر میں سیدنا عبداﷲ بن زبیرؓ نے ان سے مانگ لیاجواُن کی شہادت تک ان کے پاس رہا۔

۷۔کیا نبیﷺ جانتے تھے کہ کل کیا ہو گا؟

سیدہ ربیع بنت معوذؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ میرے عروسی والے روز میرے پاس تشریف لائے توکچھ لڑکیاں اس وقت دف بجا رہی تھیں اور بدر کے دن شہید ہونے والے اپنے بزرگوں کی تعریفیں کر رہی تھیں۔ ان میں سے ایک لڑکی کہنے لگی کہ ہم میں ایک نبیﷺ ہے جو جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا تو نبیؐ نے فرمایا کہ اس طرح مت کہو اور پہلے جو کہہ رہی تھی وہی کہو۔

۸۔کتے اور تصویر والے گھر فرشتے نہیں جاتے

جنگ بدر میں رسول اﷲﷺ کے ساتھی سیدنا ابو طلحہؓؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا : رحمت کے فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جہاں کتا اور جانداروں کی تصویریں ہوں۔

۹۔بیٹی کا رشتہ اپنے دوست کوپیش کرنا

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ راوی ہیں کہ جب اُمُّ المومنین حفصہ بنت عمرؓ کے پہلے خاوند اور بدری صحابی حضرت ابن حذافہ سہمیؓ مدینہ میں فوت ہو گئے تو سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان بن عفانؓ سے ملا اور کہا کہ تم چاہو تو میں ان کا نکاح تم سے کر دوں ؟ تو انہوں نے کہا کہ ابھی میں یہی مناسب سمجھتا ہوں کہ ان دنوں دوسرا نکاح نہ کروں۔ پھر میں سیدنا ابو بکرؓ سے ملا اور کہا کہ اگر تم چاہو تو میں حفصہؓ کا نکاح تم سے کر دوں ؟ تو سیدنا ابو بکرؓ خاموش رہے اور مجھے کچھ جواب نہ دیا تو مجھے ان پر سیدنا عثمانؓ سے بھی زیادہ غصہ آیا۔ پھر نبیﷺ نے حفصہؓ کو نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے ان کا نکاح نبیﷺ سے کر دیا۔ اس کے بعد سیدنا ابوبکرؓ مجھے ملے تو کہا کہ شاید تمہیں غصہ آیا ہو گا۔ لیکن میری خاموشی کی وجہ یہ تھی کہ رسول اﷲﷺ نے مجھ سے حفصہؓ کا ذکر کیا تھا کہ کیا میں اس سے نکاح کر لوں اور میں رسول اﷲﷺ کا راز فاش نہیں کر سکتا تھا۔ اگر نبیﷺ ان سے نکاح کرنے کا ارادہ چھوڑ دیتے تو بے شک میں ان سے نکاح کر لیتا۔

۱۰۔البقرہ کی آخری دو آیات رات میں پڑھنا

سیدنا ابو مسعود البدریؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی رات کو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے وہ اسے کفایت کرتی ہیں۔

۱۱۔جنگ میں کلمہ پڑھنے والے کافر کو قتل نہ کرنا

بدری صحابی اور بنی زہرہ کے حلیف سیدنا مقداد بن عمر و کندیؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ سے کہا کہ آپﷺ اس بارے میں کیا کہتے ہیں کہ اگر جنگ میں ایک کافر سے مڈ بھیڑ ہو اور وہ کافر تلوار میرے ہاتھ پر مار کر اسے کاٹ ڈالے۔ پھر وہ ایک درخت کی پناہ لے کر کہے کہ میں اﷲ کا تابعدارمسلمان ہو گیا تو کیا میں اس کے یوں کہنے کے بعد اسے قتل کر ڈالوں ؟ تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ نہیں اسے قتل نہ کرو۔ میں نے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ ! بے شک اس نے میرا ایک ہاتھ بھی کاٹ ڈالا۔ اور کاٹنے کے بعد ایسا کہنے لگا کہ مسلمان ہو گیا۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ نہیں اس کو قتل مت کرو ورنہ اسے وہ درجہ حاصل ہو جائے گا جو تجھے اس کے قتل کرنے سے پہلے حاصل تھا اور تیرا وہ حال ہو جائے گا جو اسلام کا کلمہ پڑھنے سے پہلے اس کافر کا حال تھا۔

۱۲۔کسی کی سفارش پر قیدیوں کو چھوڑ نا

سیدنا جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے بدر کے قیدیوں سے فرمایا کہ اگر آج مطعم بن عدیؓ زندہ ہوتا اور ان ناپاک لوگوں کی سفارش کرتا تو میں اس کے کہنے پر انہیں چھوڑ دیتا۔

۱۳۔یہودیوں کا نبیؐ کے ساتھ دھوکہ کرنا

سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ سے بنی نضیر اور بنی قریظہ نے خلافِ معاہدہ لڑائی کی۔ آپﷺ نے بنی نضیر کو جلا وطن کر دیا اور بنی قریظہ پر احسان کر کے رہنے دیا۔ جب قریظہ نے مسلمانوں پر دوبارہ چڑھائی کی تب آپؐ نے ان کے مَردوں کو مار ڈالا اور ان کی عورتوں، بچوں اور مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا کچھ لوگ مطیع ہو گئے تو آپﷺ نے انہیں امن دیا۔ وہ مسلمان ہو گئے۔ پھر تمام یہودی مدینہ بنی قینقاع کو جو سیدنا عبداﷲ بن سلامص کی قوم کے تھے اور یہودِ بنی حارثہ اور باقی یہودِ مدینہ سب کوجلا وطن کر دیا۔

۱۴۔اللہ کے حکم سے یہودیوں کے درخت جلانا

سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اﷲﷺ نے بنی نضیر کے درخت جلا دیئے اور بعضے کاٹ دیئے جو کہ بویرہ میں تھے تو یہ آیت اتری ’’جو درخت تم نے کاٹ دیئے یا انہیں ان کی جڑوں پر قائم رہنے دیا، یہ سب اﷲ کے حکم سے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘۔ (سورۂ الحشر آیت نمبر ۵)۔

۱۵۔نبیؐ کی وراثت صدقہ ہے

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ رسول اﷲﷺ کی ازواج مطہرات نے سیدنا عثمانؓ کو سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے پاس اپنا آٹھواں حصہ مالِ غنیمت میں سے مانگنے کو بھیجا۔ میں ان کو منع کرتی تھی اور کہتی تھی کہ کیا تمہیں اﷲ کا ڈر نہیں ہے ؟ کیا تمہیں نبیﷺ کا یہ قول معلوم نہیں ہے کہ ہمارے مال کا کوئی وارث نہیں۔ جو کچھ ہم چھوڑ دیں وہ صدقہ ہے۔ اس سے اپنی ذات مراد تھی۔ صرف آلِ محمدﷺ اس مال میں سے کھا لے۔ پھر سب ازواجِ نبیﷺ میرے کہنے سے اس حصہ کو طلب کرنے سے رک گئیں۔

۱۶۔ یہودی کعب بن اشرف کے قتل کا حکم

سیدنا جابر بن عبداﷲؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ کعب بن اشرف نے اﷲ اور اس کے رسولﷺ کو بڑی تکلیف دی ہے۔ اس کے قتل کا ذمہ کون لیتا ہے ؟ سیدنا محمد بن مسلمہؓ نے کھڑے ہو کر کہا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں کچھ بات بنا کر اسے قتل کروں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تجھے اختیار ہے۔ چنانچہ سیدنا محمد بن مسلمہؓ اس یہودی کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ اس شخص (یعنی محمدﷺ ) نے ہم سے صدقہ مانگا ہے اور ہمیں ستا رکھا ہے۔ میں تجھ سے کچھ قرض لینے آیا ہوں۔ کعب نے کہا کہ ابھی کیا ہے اﷲ کی قسم آگے چل کر تم کو بہت تکلیف ہو گی۔ وہ بولے کہ خیر اب تو ہم اس کا اتباع کر چکے اب ایک دم چھوڑنا تو اچھا نہیں لگتا۔ خیر میں تیرے پاس ایک دو وسق قرض لینے آیا ہوں۔ کعب بن اشرف نے کہا کہ پھر تم میرے پاس اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو۔ انہوں نے جواب دیا ہم تیرے پاس عورتوں کو کیسے رکھ دیں کہ تو عربوں میں بے انتہا خوبصورت ہے۔ کعب بولا کہ پھر اپنے بیٹوں کو میرے پاس گروی رکھ دو۔ وہ بولے بھلا ہم انہیں کیونکر گروی رکھ دیں ؟ جو اُن سے لڑے گا یہ طعنہ دے گا کہ تو ایک دو وسق پر گروی رکھا گیا تھا ا البتہ ہم تیرے پاس اپنے ہتھیار گروی رکھ دیں گے۔

۱۷۔سیدنا محمد بن مسلمہؓ کا کعب کو قتل کے لئے گھیرنا

سیدنا محمد بن مسلمہؓ نے کعب سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا اور رات کے وقت کعب کے دودھ شریک بھائی ابونائلہ کے ہمراہ کعب کے پاس آئے۔ کعب نے انہیں قلعہ کے پاس بلایا اور خود قلعہ سے نیچے اتر کر جانے لگا تواس کی بیوی نے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو؟ کعب نے جواب دیا کہ محمد بن مسلمہؓ اور میرا بھائی ابو نائلہ مجھے بلا رہے ہیں۔ اور شریف آدمی کو تو اگر رات کے وقت نیزہ مارنے کے لیے بھی بلایا جائے تو وہ فوراً منظور کر لے۔ ادھر سیدنا محمد بن مسلمہؓ دو اور آدمیوں کے ساتھ لائے اور ان سے کہہ دیا کہ جب کعب بن اشرف آئے گا تو میں اس کے بال پکڑ کر سونگھوں گا۔ جب تم دیکھو گے کہ میں نے اس کے سر کو مضبوط پکڑلیا ہے تو تم جلدی سے اسے مار دینا۔

۱۸۔اور ملعون کعب کو قتل کر دیا گیا

جب کعب ان کے پاس چادر سے سر لپیٹے ہوئے آیا اور خوشبو کی مہک اس میں پھیل رہی تھی تو محمد بن مسلمہؓ نے کہا کہ میں نے آج کی خوشبو سے اچھی کبھی کوئی خوشبو نہیں دیکھی۔ کعب نے جواب دیا کہ میرے پاس عرب کی عورتوں میں سب سے زیادہ معطر رہنے والی اور سارے عرب کی با کمال عورت ہے۔ محمد بن مسلمہؓ نے پوچھا کہ کیا مجھے اپنا سر سونگھنے کی اجازت دیتے ہو؟ اس نے کہا ہاں کیوں نہیں۔ محمد بن مسلمہؓ نے سونگھا اور اپنے ساتھیوں کو سنگھایا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پھر سونگھنے کی اجازت ہے ؟ اس نے کہا ہاں ہے۔ چنانچہ جب سیدنا محمد بن مسلمہؓ نے اسے مضبوط پکڑلیا تب انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس کو مارو۔ چنانچہ انہوں نے کعب بن اشرف کو مار ڈالا اور رسول اﷲﷺ کو اس کے قتل کی خوشخبری سنائی۔

۱۹۔ یہودی ابو رافع کے قتل کی منصوبہ بندی

حجاز میں اپنے قلعہ میں رہنے والا عبداﷲ بن ابی الحقیق عرف ابو رافع نامی یہودی رسول اﷲﷺ کو سخت ایذا دیتا تھا اور ہمیشہ آپﷺ کے نقصان پر کمر بستہ رہتا تھا۔سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے چند انصار کو ابو رافع یہودی کے پاس بھیجا اور ان پر سیدنا عبداﷲ بن عتیکؓ کو امیر بنایا۔ یہ لوگ شام کے وقت اس کے قلعہ کے قریب پہنچے توسیدنا عبداﷲ بن عتیکؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم یہاں بیٹھو۔ میں قلعہ کے اندر جانے کی کوئی تدبیر کرتا ہوں۔ پھر وہ قلعہ کی طرف چلے اور دروازہ کے قریب پہنچ کر اپنے آپ کو کپڑے میں اس طرح چھپایا جیسے کوئی رفع حاجت کے لیے بیٹھتا ہے۔ دربان نے انہیں دیکھ کر آواز دی کہ اے اﷲ کے بندے ! اگر تو اندر آنا چاہتا ہے تو آ جا کیونکہ میں دروازہ بند کرتا ہوں۔سیدنا عبداﷲ بن عتیکؓ کہتے ہیں کہ یوں میں اندر چلا گیا۔ جب سب آ چکے تو دربان نے دروازہ بند کر کے کنجیاں کھونٹی پر لٹکا دیں۔ عبداﷲؓ کہتے ہیں کہ میں نے کنجیاں لیں پھر انہیں لے کر دروازہ کھولا۔

۲۰۔ قلعہ کے اندر داخل ہو کر ابو رافع کو قتل کرنا

ابو رافع اپنے بالا خانے پر رہتا تھا جہاں اس کے پاس کہانیاں ہوا کرتی تھیں۔ جب اس کے پاس سے کہانی والے چلے گئے تو میں بالا خانے پر چڑھا۔ میں جب کوئی دروازہ کھولتا تو اندر کی جانب سے بند کر لیتا تھا تاکہ اگر لوگ مجھ سے واقف بھی ہو جائیں گے تو مجھ تک ابو رافع کے مارنے سے پہلے نہ آ سکیں۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک اندھیرے کمرے میں اپنے بچوں کے ہمراہ سورہا ہے۔ میں نے زور سے ابو رافع کہہ کر آواز دی تواس نے جواب دیا کون ہے ؟ میں آواز کی طرف لپکا اور آواز پر تلوار کی ایک ضرب لگائی مگر میرا وار خالی گیا اور وہ چلانے لگا۔ میں مکان سے نکل کر تھوڑی دیر بعد پھر اندر گیا اور آواز بدل کر کہا کہ اے ابو رافع! یہ کیسی آواز تھی؟ اس نے کہا کہ تیری ماں پر مصیبت پڑے۔ کسی نے ابھی ابھی مجھے تلوار ماری تھی۔ یہ سنتے ہی میں نے ایک بڑا وا ر کیا اور تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھی اور زور سے دبایا تو تلوار اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی۔ جب یقین ہو گیا کہ میں نے اسے مار دیا تو پھر ایک ایک دروازہ کھول کر باہر نکلتا جاتا۔ سیڑھیوں سے اتر رہا تھا کہ یہ سمجھ کر کہ اب زمین آ گئی ہے۔ نیچے گر پڑا اور میری پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔

۲۱۔ٹوٹی ہڈی کو نبیؐ نے ہاتھ پھیر کر جوڑ دیا

میں پنڈلی کو اپنے عمامہ سے پٹی باندھ کر نکلا اور دروازہ پر یہ سوچ کر بیٹھ گیا کہ آج رات اس وقت تک نہ نکلوں گا جب تک میں یہ نہ جان لوں کہ کیا میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ جس وقت مرغ نے اذان دی تو اس وقت موت کی خبر سنانے والے ناعی نے دیوار پر کھڑا ہو کر اعلان کیا کہ اہل حجاز کے سوداگر ابو رافع کے مرنے کی خبر سناتا ہوں۔ تب میں نے اپنے ساتھیوں سے آ کر کہا کہ جلدی چلو۔ اﷲ نے ابو رافع کو قتل کرا دیا ہے۔ جب میں نے نبیﷺ کو پورا ماجرا سنایا تو آپﷺ نے فرمایا کہ اپنا پاؤں پھیلاؤ۔ میں نے اپنا پیر پھیلایا تو آ پﷺ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ ایسا ہو گیا جیسے مجھے کبھی اس کی شکایت ہی نہ تھی۔

۲۲۔جنت کی نوید سن کر لڑتے ہوئے شہید ہو گیا

سیدنا جابر بن عبداﷲؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اُحد کے دن نبیﷺ سے پوچھا کہ اگر میں اﷲ کی راہ میں مارا جاؤں تو کہاں جاؤں گا؟ آپﷺ نے فرمایا تو جنت میں جائے گا اس نے اپنے ہاتھ کی کھجوریں تک پھینک دیں اور اتنا لڑا کہ شہید ہو گیا۔

۲۳۔اُحد میں نبیؐ کی معاونت کرنے والے

فاتح ایران سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ راوی ہیں کہ میں نے غزوۂ اُحد میں رسول اﷲﷺ کے ساتھ سفید کپڑے پہنے ہوئے دو مرد دیکھے جو آپﷺ کی طرف سے خوب لڑ رہے تھے۔ میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۔

۲۴۔جنگ اُحد میں نبیﷺ کا سر مبارک زخمی ہو گیا

سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبیﷺ کا سر مبارک جنگِ اُحد کے دن زخمی ہو گیا تو آپﷺ نے فرمایا ’’بھلا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے پیغمبر کو زخمی کیا‘‘ تو یہ آیت اتری ’’اے پیغمبرﷺ ! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں ‘‘ (سورۂ آل عمران: ۱۲۸)۔

۲۵۔اللہ با اختیار ہے نبیؐ کے اختیار میں کچھ نہیں

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ فجر کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع کے بعد یوں دعا کرتے تھے ’’اے اﷲ! فلاں اور فلاں اور فلاں پر لعنت فرما‘‘۔ اس وقت اﷲ نے یہ آیت اتاری۔ ’’اے پیغمبرؐ ! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں۔ اﷲ تعالیٰ چاہے تو اُن کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں ‘‘ (سورۂ آل عمران: ۱۲۸)۔

۲۶۔ سید شہداء حضرت حمزہؓ کی شہادت کا پس منظر

عبید اﷲ بن عدی بن خیار سے روایت ہے کہ انہوں نے وحشی سے کہا کہ کیا تم ہمیں حضرت حمزہؓ کے قتل کی خبر نہیں بتاؤ گے ؟ اس نے کہا کہ ہاں قصہ کچھ یوں ہے کہ سیدنا حمزہؓ نے بدر کے دن طیعمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا۔ مجھ سے میرے آقا جبیر بن مطعم نے کہا اگر تو میرے چچا کے عوض حمزہؓ کو مار ڈالے تو تُو آزاد ہے۔ وحشی نے کہا کہ جب قریش کے لوگ اُحد کے ایک پہاڑکوہِ عینین کی لڑائی کے سال نکلے تو اس وقت میں بھی لڑنے والوں کے ساتھ نکلا۔ جب لوگ لڑائی کی صفیں باندھ چکے، تو سباع بن عبدالعزیٰ نے صف سے نکل کر کہا کہ کیا کوئی لڑنے والا ہے ؟ وحشی کہتے ہیں کہ سید الشہدا ء حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب نے اس کے مقابل نکل کر کہا اے سباع! اے اُمّ انمار کے بیٹے ! جو عورتوں کا ختنہ کرتی تھی کیا تو اﷲ اور اس کے رسولﷺ کی مخالفت کرتا ہے ؟ پھر انہوں نے سباع پر حملہ کیا اور سباع گذشتہ کل کی طرح مٹ گیا۔

۲۷۔وحشی نے نیزہ مارکر حضرت حمزہؓ کو شہیدکیا

وحشی نے کہا پھر میں قتل حمزہؓ کے واسطے ایک پتھر کی آڑ میں گھات لگا کر بیٹھ گیا۔ جب وہ میرے قریب آئے تو میں نے اپنا ہتھیار پھینک مارا۔ وہ اُن کو زیر ناف اس طرح لگا کہ وہ اُن کے دونوں سرین کے پار ہو گیا اور یہی ان کا آخری وقت تھا۔ جب سب قریش مکہ میں واپس آئے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آ کر مکہ میں مقیم ہو گیا۔ جب فتح مکہ کے بعد مکہ میں بھی اسلام پھیل گیا تو میں طائف چلا گیا۔

۲۸۔قاتلِ حضرت حمزہؓ کی نبیؐ سے ملاقات

جب طائف والوں نے رسول اﷲﷺ کی طرف قاصد بھیجے تو مجھ سے کہا کہ وہ قاصدوں کو نہیں ستاتے چنانچہ میں ان کے ساتھ رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپﷺ نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا ’’کیا وحشی تو ہے ‘‘؟ میں نے عرض کیا جی ہاں آپﷺ نے فرمایا کہ حمزہؓ کو تو نے ہی شہید کیا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! جو کچھ آپﷺ سے لوگوں نے بیان کیاوہی ماجرا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کیا تو مجھ سے اپنا منہ چھپا سکتا ہے ؟ وحشی کہتے ہیں کہ میں آپﷺ کے پاس سے اٹھ کر باہر آ گیا۔

۲۹۔جھوٹی نبوت کے دعویدارمسلیمہ کذاب قتل

رسول اﷲﷺ کی وفات کے بعد جب مسلیمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا تو میں نے سوچا کہ میں بھی مسلمانوں کے پاس چلوں۔ شاید مسیلمہ کو مارکر حمزہؓ کا بدلہ اتار سکوں۔ وحشی نے کہا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نکلا جو سیدنا ابوبکرؓ نے روانہ کئے تھے۔وحشی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہی میں نے دیکھا کہ مسیلمہ ایک دیوار کے شگاف میں کھڑا ہے گویا کہ خاکستری رنگ کا اونٹ ہے اور پریشان سر ہے۔ میں نے وہی حربہ جس سے حمزہؓ کو شہید کیا تھا اس کے چھاتی کے درمیان مارا اور اس کے دونوں مونڈھوں کے آرپار کر دیا پھر مسیلمہ کی طرف ایک انصاری نے دوڑ کر اس کی کھوپڑی پر تلوار مار کر اس کی گردن جدا کر دی۔

۳۰۔اللہ کا غصہ کس قوم پر ہے

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے اپنے چاروں دانتوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اﷲ کا غصہ اس قوم پر ہے جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ یہ معاملہ کیا ہو اور نیز اس قوم پر ہے جنہیں رسول اﷲﷺ نے اﷲ کی راہ میں مارا ہو۔

۳۱ اُحد کے دن ستّر صحابہ کو کفار کے پیچھے بھیجا گیا

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ جب غزوۂ احد کے دن نبیﷺ کو جو صدمہ پہنچنا تھا، پہنچ چکا اور مشرک واپس چلے گئے تو آپﷺ نے ان کے دوبارہ آ جانے کے اندیشہ سے فرمایا کہ کون ہے جو ان کفار کے پیچھے جائے ؟ یہ سن کر ستر صحابہ کرام نے نبیﷺ کا فرمان قبول کیا۔ اُن میں سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا زبیرؓ بھی شامل تھے۔

۳۲۔غزوۂ خندق : بھوکے پیاسے کھدائی کرنا

سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ ہم خندق کے دن زمین کھود رہے تھے کہ اتفاقاً ایک زمین سخت نکل آئی۔ سب نے نبیﷺ سے جا کر عرض کیا یا رسول اﷲﷺ ! ایک بہت سخت زمین خندق میں درپیش آ گئی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ میں خود آ کر اسے دور کر دیتا ہوں۔ اس وقت آپﷺ کے پیٹ سے پتھر بندے ہوئے تھے کیونکہ تین روزسے ہم بھوکے پیا سے ہی تھے۔ آپﷺ وہاں پہنچے اور زمین پر کدال مارکر اس زمین کو نرم کر دیا۔

۳۳۔ نبیؐ کا کافروں پر چڑھائی کر نے کا بیان

سیدنا سلیمان بن صردؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے غزوۂ احزاب کے دن فرمایا کہ اب ہم ہی کافروں پر چڑھائی کریں گے اور وہ ہم پر چڑھائی نہ کر سکیں گے۔

۳۴۔اللہ نے اپنی فوج کو غالب کیا

سیدنا ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ فرماتے تھے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے جس نے اپنی فوج (مسلمانوں ) کو غالب کیا اور اپنے بندے محمدﷺ کی مدد فرمائی۔ کفار کو اس اکیلے نے مغلوب کیا۔ اﷲ کے بعد کوئی چیز نہیں یعنی سب کو فنا ہے اور صرف اﷲ ہی ’’الاول والآ خر‘‘ ذات ہے۔

۳۵۔بنی قریظہ :سعد بن معاذ ؓ کا فیصلہ

سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے تھے کہ بنی قریظہ سیدنا سعد بن معاذ ؓ کے فیصلے پر راضی ہو کر قلعے سے نیچے اتر آئے۔ رسول اﷲﷺ نے کسی کو سعدؓ کے پاس بھیجا۔ وہ گدھے پر بیٹھے ہوئے تشریف لائے۔ جب مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اﷲﷺ نے انصار سے کہا کہ اپنے سردار کو اتارو۔ پھر آپﷺ نے سعدؓ سے کہا کہ یہ کافر تمہارے فیصلے پر اترے ہیں۔تم کیا فیصلہ کرتے ہو؟ سیدنا سعدؓ نے جواب دیا کہ جو کافر لڑائی کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کی اولاد اور عورتیں قید کی جائیں۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ تو نے وہی فیصلہ کیا جیسے اﷲ کا حکم تھا۔

۳۶۔غزوہ ذات الرقاع کی وجہ تسمیہ

سیدنا ابو موسیٰؓ کہتے ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ہمراہ ایک لڑائی میں نکلے اور ہم چھ آدمیوں کے پاس صرف ایک اونٹ تھا۔ ہم آگے پیچھے باری باری اس پر سوار ہوتے تھے۔ ہمارے قدم چھلنی ہو گئے تھے اور میرے دونوں پیر پھٹ گئے اور ناخن بھی گر پڑے تو ہم اپنے پیروں پر پٹیاں باندھتے تھے۔ اس لڑائی کا نام ذات الرقاع بھی اسی وجہ سے رکھا گیا یعنی پٹیوں دھجیوں والی لڑائی کیونکہ ہم پاؤں پھٹ جانے کی وجہ سے ان پر پٹیاں باندھتے تھے۔

۳۷۔غزوہ ذات الرقاع میں صلوٰۃ خوف

ر سول اﷲﷺ کے ساتھ جنگ ذات الرقاع میں شریک رہنے والے سیدنا سہل بن ابی حشمہؓ نے اس غزوہ میں صلوٰۃِ خوف پڑھنے کا بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک گروہ نے رسول اﷲﷺ کے ہمراہ صف باندھی اور ایک گروہ دشمن کے مقابل رہا۔ رسول اﷲﷺ نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپﷺ کھڑے رہے اور وہ مقتدی اپنی نماز پوری کر کے چلے گئے اور دشمن کے مد مقابل ہو گئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا۔ آپﷺ نے انہیں دوسری رکعت جو آپﷺ کی باقی رہ گئی تھی پڑھائی۔پھر بیٹھے ٹھہرے رہے اور انہوں نے اپنی اپنی نماز پوری کر لی پھر آپﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔

۳۸۔حملہ آؤر دشمنوں سے اللہ ہی بچا سکتا ہے

سیدنا جابر بن عبداﷲؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اﷲﷺ کے ساتھ نجد کی طرف جہاد کیا۔ واپسی میں ایک کانٹے بھرے جنگل میں دوپہر ہو گئی پس رسول اﷲﷺ وہیں اتر گئے اور لوگ جنگل میں جا بجا پھیل گئے اور درختوں کے سائے میں ٹھہرے۔ رسول اﷲﷺ کیکر کے ایک گھنے درخت کے نیچے ٹھہرے اپنی تلوار اس پر لٹکا دی۔ سیدنا جابرؓ کہتے ہیں ہم تھوڑی ہی دیر سوئے تھے کہ رسول اﷲﷺ نے ہمیں آواز دی ہم آپﷺ کے پاس آئے تو دیکھا کہ ایک دیہاتی آپﷺ کے پاس بیٹھا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اس نے میرے سونے کی حالت میں میری تلوار کھینچ لی۔ اسی اثناء مَیں اٹھ بیٹھا توننگی تلوار اس کے ہاتھ میں دیکھی۔ یہ مجھ سے کہنے لگا کہ اب بتا تجھے میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ اﷲ بچا سکتا ہے۔ یہ سنتے ہی تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا۔ اب نبیؐ نے تلوار اٹھا لی اور کہا کہ اب تجھے میرے ہاتھوں سے کون بچا سکتا ہے۔ لیکن پھر آپﷺ نے اسے کچھ سزا نہ دی اور معاف کر دیا۔

۳۹۔جس نے پیدا ہونا ہے وہ ضرور پیدا ہو گا

سیدنا ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ہم نبیﷺ کے ہمراہ جنگ بنی مصطلق (جنگ مریسیع ) میں نکلے جہاں ہمیں عرب کی باندیاں ہاتھ لگیں۔ ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور عورتوں کے بغیر رہنا مشکل ہو گیا تو ہم نے عزل (یعنی حمل ٹھہرانے سے بچنے کے لیے مباشرت کے دوران منی کو فرج سے باہر خارج کرنا ) بہتر جانا اور عزل کرنے کا ارادہ کر لیا۔پھر ہم نے سوچا کہ جب رسول اﷲﷺ ہم میں موجود ہیں تو پھر ہم ان سے بغیر پوچھے کیوں عزل کریں ؟ ہم نے آپﷺ سے سوال کیا تو آپﷺ نے جواب دیا کہ عزل کرنے میں نہ تمہارا کچھ فائدہ ہے اور نہ تم پر کچھ خوف ہے۔ کوئی جان پیدا ہونے والی قیامت تک بغیر پیدا ہوئے نہ رہے گی یعنی جس جان نے پیدا ہونا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی۔

۴۰۔ نبیؐ نے جنگِ انمار میں سواری پر نماز پڑھی

سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاریؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو جنگ انمار میں سواری پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ آپﷺ کا منہ مشرق کی طرف تھا اور آپﷺ نفل نماز پڑھ رہے تھے۔

۴۱۔ حدیبیہ کا خشک کنواں اور نبیؐ کا معجزہ

سیدنا براءؓ کہتے ہیں کہ لوگو! تم تو سورۃ فتح سے مراد فتح مکہ لیتے ہو اور ہم بیعت الرضوان کو جو حدیبیہ کے دن ہوئی فتح سمجھتے ہیں۔ جس کا قصہ یوں ہے کہ ہم چودہ سو آدمی رسول اﷲﷺ کے ہمراہ تھے اور حدیبیہ ایک کنواں ہے اس کا پانی ہم نے لینا شروع کیاحتیٰ کہ اس میں ایک قطرہ نہ چھوڑا۔ جب یہ خبر نبیﷺ کو معلوم ہوئی تو آپﷺ وہاں تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر ایک برتن میں پانی منگوایا اور وضو کیا پھر کلی کی اور دعا فرمائی اور وہ پانی اس کنوئیں میں ڈال دیا۔ ہم تھوڑی دیر تک ٹھہرے رہے پھر کنوئیں میں پانی اس قدر ہو گیا کہ جس سے ہم اور ہمارے جانور سب سیراب ہو گئے۔

۴۲۔حدیبیہ کے اصحاب کی فضیلت

سیدنا جابر بن عبداﷲؓ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن رسول اﷲﷺ نے ہم سے فرمایا کہ آج تم ساری زمین والوں میں سب سے بہترہو۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہزار چار سو آدمی تھے۔ اور اگر میری بینائی ہوتی تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھا دیتا۔

۴۳۔غزوۂ خیبر میں ستو کھا کر گذارا کیا

سیدنا سوید بن نعمانؓ جو کہ اصحاب شجرہ میں سے تھے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ اور صحابہ کرامؓ کے پاس غزوۂ خیبر میں صرف ستو کھانے کو لائے گئے تو انہوں نے اسی کو کھا کر گذارا کیا

۴۴۔سالِ حدیبیہ نبیؐ کے لشکر کی بیت اللہ روانگی

سیدنا مسور بن مخرمہؓ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال رسول اﷲﷺ ایک ہزار سے کئی سو زائد صحابیوں کے ساتھ نکلے۔ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو قربانی کے جانوروں کے گلے میں ہار ڈالا اور وہیں سے عمرہ کا احرام باندھ لیا۔ جب آپﷺ موضع غدیر الاشطاط میں پہنچے تو جاسوس نے آ کر بتایا کہ قریش نے آپﷺ سے لڑنے کے لیے مختلف قبیلوں سے لی گئی فوجیں اکٹھی کی ہیں جو آپﷺ کو بیت اﷲ تک جانے نہ دیں گے۔ آپﷺ نے پوچھا اے لوگو ! تمہاری کیا رائے ہے کہ میں کافروں کے اہل و عیال کو غارت کر دوں جو کہ ہمیں بیت اﷲ سے روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر وہ ہمارا مقابلہ کریں گے تو اﷲ بڑا بزرگ و غالب ہے۔ اور اگر وہ ہمارا مقابلہ نہ کر سکے تو ہم انھیں لوٹے ہوؤٍں اور بھاگے ہوؤں کی طرح چھوڑ دیں گے۔ سیدنا ابو بکرؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ہم تو صرف بیت اﷲ کا قصد کر کے آئے ہیں ہم کسی کو مارنا یا لوٹنا نہیں چاہتے۔ آپﷺ چلئے تو سہی اگر کوئی ہمیں روکے گا تو ہم لڑیں گے تو آپﷺ نے فرمایا کہ اﷲ کے نام پر چلو۔

۴۵۔ سیدنا عامرؓ کی شاعری پرنبیؐ کا اظہارِ تحسین

سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ ہم جنگ خیبر میں رات کے وقت رسول اﷲﷺ کے ساتھ نکلے توکسی کی فرمائش پر سیدنا عامرؓ ہمیں اپنے شعر سنانے لگے۔ ’’اے اﷲ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہرگز ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔ معاف کر جو تیری اطاعت میں ہم سے کوتاہی ہو۔ ہم تجھ پر قربان ہوں اگر ہم لڑیں تو ہمارے قدم ثابت رکھ۔ اور ہم پر سکونت نازل فرما۔ جب کوئی ہمیں ناحق کی طرف بلائے گا تو ہم انکار کر دیں گے۔ کفار نے شور و غل مچا کر ہم پر مدد بُلائی ہے ‘‘ تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ یہ کون ہے جو اونٹوں کو چلانے کے لیے شعر پڑھ رہا ہے ؟ عرض کیا گیا کہ عامر بن اکوعؓ ہیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ اﷲ اس پر رحم فرمائے۔

۴۶۔سیدنا عامرؓ کی شان کا بیان

ہم خیبر پہنچے اور خیبر والوں کو گھیر لیا گیا۔جب دشمنوں کے مقابل صف بندی ہوئی تو سیدنا عامرؓ کی تلوار چھوٹی تھی۔ وہ ایک یہودی کی پنڈلی پر مارنے لگے تو اس کی نوک پلٹ کر سیدنا عامر ہی کے گھٹنے پر لگی۔ اور سیدنا عامرؓ اسی زخم سے شہید ہو گئے۔راوی کہتے ہیں کہ مجھے مغموم دیکھ کر نبیﷺ نے اس کی وجہ پوچھی تومیں نے عرض کیا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ سیدنا عامرؓ کے عمل چھن گئے (کیونکہ انہوں نے خودکشی کی ہے ) تو آپﷺ نے فرمایا جس نے یہ کہا وہ جھوٹا ہے۔عامرؓ کو تو دوہرا اجر ملے گا اور اپنی دونوں انگلیاں ملا کر فرمایا کہ عامر کوشش کرنے والا اور لڑنے والا تھا۔ کوئی بھی عرب زمین پر عامر کی طرح نہیں چلا۔ اس جیسے عربی جو مدینے میں رہتے ہوں بہت کم ہیں۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ کوئی عربی مدینہ میں عامر کی مثل پیدا نہیں ہوا۔

۴۷۔لاحول ولا قوۃ الا باﷲ، جنت کا خزانہ

سیدنا عبداﷲ بن قیس ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں رسول اﷲﷺ نے جب خیبر پر چڑھائی کی تو راستے میں لوگ ایک بلند جگہ پر چڑھے اور پکار پکار کر اﷲ اکبر اﷲ اکبر، لا الٰہ الا اﷲ کہنے لگے۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ اپنے نفسوں پر نرمی کرو کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے ہو بلکہ تم سننے والے کو اور جو بہت نزدیک ہے اسے پکارتے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں رسول اﷲﷺ کی سواری کے پیچھے ہی تھا۔ آپﷺ نے مجھے لاحول ولا قوۃ الّا باﷲ پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اے عبداﷲ بن قیسؓ ! کیا میں تجھے ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ وہ کلمہ لاحول ولا قوۃ الا باﷲ ہے۔

۴۸۔نبیؐ کے ساتھ جہاد کرنے والا جہنمی نکلا

سیدنا سہل بن سعد ساعدیؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ اور مشرکین کا خیبر کے دن مقابلہ ہوا دونوں طرف کے لوگ لڑے۔ جب رسول اﷲﷺ اپنی فوج کی طرف لوٹے اور کافر اپنی فوج کی طرف تو رسول اﷲﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص تھا جو کسی اکیلے مشرک کو نہ چھوڑتا تھا بلکہ اس کے پیچھے جا کر اسے اپنی تلوار سے مار دیتا۔لوگوں نے کہا کہ اس نے تو آج وہ کام کیا ہے جو ہم میں سے کوئی نہ کر سکا۔ بہت سے کافروں کو مار ڈالا رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ وہ تو جہنمی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے نبیﷺ کی اس بات کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اُس شخص کے ساتھ ہو لیا۔ جہاں وہ ٹھہرتا یہ بھی ٹھہر جاتا۔ جب وہ دوڑتا یہ بھی دوڑ کر اس کے ساتھ جاتا۔راوی کہتے ہیں کہ آخر وہ شخص سخت زخمی ہو گیا تو اس نے مرنے میں جلدی کی اور تلوار کی نوک اپنی دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھ کر اُس پر اپنا سارا بوجھ ڈال دیا اور اپنے آپ کو قتل کر ڈالا۔ یہ دیکھ کر دوسرا شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور بولا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپﷺ اﷲ کے سچے رسول ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ وہ کیسے ؟ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ابھی ابھی آپ نے جس شخص کو دوزخی فرمایا تھا اور لوگوں پر آپﷺ کا یہ کہنا شاق گزرا تھا۔ تو میں نے سوچا کہ چل کر اس کا حال دیکھوں۔ پھر اس نے اس کے مرنے کا سارا احوال بیان کیا۔ رسول اﷲﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ کوئی شخص لوگوں کی نظر میں اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ دوذخی ہوتا ہے اور کوئی شخص لوگوں کی نگاہ میں دوزخیوں کے سے کام کرتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پھر رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ’’اے فلاں کھڑے ہو کر آواز لگا دے کہ جنت میں ایماندار کے سوا کوئی نہ جائے گا اور اﷲ تعالیٰ بدکار سے بھی دین کی تائید کراتا ہے ‘‘۔

۴۹۔ اُمُّ المومنین صفیہؓ کا ولیمہ کھجوریں اور پنیر

سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ مدینہ اور خیبر کے درمیان تین شب ٹھہرے ان میں اُمُّ المومنین حضرت صفیہؓ سے زفاف کیا پھر میں نے لوگوں کو رسول اﷲﷺ کے ولیمہ کے واسطے بلایا، نہ اس میں روٹی تھی اور نہ گوشت تھا۔ اس میں صرف یہ تھا کہ سیدنا بلالؓ کو رسول اﷲﷺ نے دسترخوان بچھانے کا حکم دیا۔ دسترخوان بچھا دیا گیا پھر اس پر کھجوریں اور پنیر اور گھی ڈال دی گئی۔ پھر مسلمانوں نے باہم گفتگو کی کہ صفیہ اُمہات المومنین میں سے ایک ہیں یا لونڈی ہیں ؟ پھر خود کہنے لگے کہ اگر رسول اﷲﷺ نے انہیں چھپایا تو اُمہات المومنین میں سے ہوں گی اور اگر نہ چھپایا تو لونڈی رہیں گی۔ چنانچہ جب آپﷺ نے کوچ کیا تو اُمُّ المومنین صفیہؓ کے واسطے اپنے پیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی اور پردہ کھینچ دیا۔

۵۰۔خیبر میں نبیؐ نے متعہ کی ممانعت کر دی تھی

امیر المومنین سیدنا علیؓ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے (مخصوص دورانیہ کے لیے نکاح کرنا) اور گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے خیبر کے دن مال غنیمت سے گھوڑے والے سوار مجاہد کو دو حصے دیئے اور پیادہ مجاہد کو ایک حصہ۔

۵۱۔دو ہجرتیں کرنے والوں کا ذکر

سیدنا ابو موسیؓ کہتے ہیں کہ ہم یمن میں تھے کہ ہمیں رسول اﷲﷺ کی مکہ سے نکلنے کی خبر پہنچی تو ہم بھی آپﷺ کی طرف ہجرت کر کے روانہ ہوئے۔ میری قوم میں سے ۵۳ آدمی ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر آئے۔ ہم نبیﷺ کے پاس اس وقت پہنچے جب آپﷺ خیبر فتح کر چکے تھے۔ ہم اہل سفینہ سے کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہجرت میں ہم لوگ تم پر سبقت لے گئے۔ سیدنا عمرؓ نے ہمارے ساتھ آنے والی اسماء بنت عمیسؓ کو اُمُّ المومنین حضرت حفصہؓ کے پاس دیکھ کر بولے کہ ہم ہجرت میں تم سے سبقت لے گئے لہٰذا رسول اﷲﷺ پر تم سے زیادہ ہمارا حق ہے۔ یہ سن کر انہیں غصہ آ گیا اور کہنے لگیں ’’اﷲ کی قسم ہرگز نہیں۔ تم تو رسول اﷲﷺ کے پاس موجود تھے آپﷺ تم میں سے بھوکے کو کھانا کھلاتے ہیں اور تمہارے جاہل کو نصیحت کرتے ہیں اور ہم اجنبیوں اور دشمنوں کی زمین میں تھے جو حبش میں واقع ہے اور ہماری یہ سب تکالیف اﷲ اور اس کے رسولﷺ کی راہ میں تھیں۔ جب نبیﷺ تشریف لائے تو سیدہ اسمائؓ نے آپﷺ کی خدمت میں حضرت عمرؓ کی شکایت کرتے ہوئے سارا احوال بیان کیا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تم سے زیادہ کسی کا حق نہیں ہے۔کیونکہ عمرؓ اور ان کے ساتھیوں کی ایک ہجرت ہے اور تم کشتی والوں کی تو دو ہجرتیں ہوئیں۔

۵۲۔نبیؐ اشعری لوگوں کی قرأت پہچانتے تھے

سیدنا ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ میں اشعری لوگوں کی آواز کو پہچا نتا ہوں جب وہ رات کو مدینہ میں اپنے گھروں میں قرآن پڑھا کرتے ہیں اور میں ان کے رات کو قرآن پڑھنے کی آواز سے ان کے ٹھکانے پہچان لیتا ہوں اگرچہ میں ان کے اترنے کی جگہ نہیں دیکھتا جہاں وہ دن میں اترے تھے

۵۳۔خیبر کے غنیمت میں ہجرت والوں کا حصہ

سیدنا ابو موسیٰؓ کہتے ہیں کہ ہم فتح خیبر کے بعد رسول اﷲﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپﷺ نے خیبر کے مالِ غنیمت سے ہمیں حصہ دیا۔ ہمارے علاوہ کسی اور کو جو بوقت فتح حاضر نہ تھا،حصہ نہیں دیا گیا۔

۵۴۔جنگِ موتہ میں سیدنا جعفرؓ کو ۹۰؍ زخم لگے

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں نبیﷺ نے غزوہ موتہ میں سیدنا زید بن حارثہؓ کو امیر بنا کر فرمایا کہ اگر زیدؓ شہید ہو جائیں تو جعفرؓ اور اگر جعفرؓ شہید ہو جائیں تو عبداﷲ بن رواحہؓ امیر ہیں۔سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں اس لڑائی میں موجود تھا۔ جب ہم نے سیدنا جعفر بن ابی طالبؓ کو تلاش کیا تو انہیں شہیدوں میں پایا اور ہم نے نوے سے کچھ اوپر نیزے اور تلوار کے زخم ان کے جسم پر دیکھے۔

۵۵۔سفر میں روزہ داروں کا روزہ توڑ دینا

سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ رمضان کے مہینے میں حنین کی طرف نکلے۔ تو آپﷺ کے ساتھ والے لوگوں کا ایک جیساحال نہ تھا۔ بعض روزہ دار تھے اور بعض بغیر روزہ کے تھے۔ چنانچہ جب آپﷺ اپنی سواری پر بیٹھ گئے تو ایک برتن میں پانی یا دودھ منگوا کر اسے پی لیا۔ پھر لوگوں کی طرف نظر کی تو جنہوں نے روزہ نہ رکھا تھا انہوں نے روزہ داروں سے کہا کہ تم بھی افطار کر لو کیونکہ نبیؐ افطار کر چکے ہیں۔

۵۶۔فتح مکہ کے دن رسول اﷲؐ کے لشکر کا احوال

سیدنا عروہ بن زبیرؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲﷺ فتح مکہ کے سال روانہ ہوئے اور یہ خبر قریش کو پہنچی تو ابو سفیان بن حرب اور حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء رسول اﷲﷺ کے بارے میں خبر لینے کو نکلے۔ جب یہ لوگ مکہ کے قریب موضع مرالظہران میں پہنچے تو وہاں انہوں نے دیکھا کہ آگ بکثرت روشن ہے جیسی کہ عرفہ میں ہوتی ہے۔اسی اثناء میں رسول اﷲﷺ کے چوکیداروں نے انھیں دیکھ لیا اور انھیں پکڑ کر رسول اﷲﷺ کے پاس لے آئے جہاں ابوسفیان مسلمان ہو گئے۔ جب رسول اﷲﷺ چلے تو سیدنا عباس بن عبدالمطلبؓ سے کہا کہ ابو سفیان کو پہاڑ کی گھاٹی پر کھڑا کرو تاکہ وہ مسلمانوں کی فوج دیکھ لے۔ اب جو قبیلے نبیﷺ کے ساتھ تھے، گزرنا شروع ہوئے۔ ان قبیلوں میں قبیلہ غفار، قبیلہ جہنیہ، قبیلہ سعد بن ہزیم، قبیلہ سلیم اور قبیلہ انصار شامل تھے۔قبیلہ انصار کے جھنڈا بردار امیر سیدنا سعد بن عبادہؓ ہیں نے کہا کہ اے ابو سفیان! آج کا دن کفار کے قتل کا دن ہے۔ آج کے دن کعبہ حلال ہو جائے گا یعنی کفار کا قتل اس میں جائز ہو جائے گا۔ پھر ایک لشکر آیا جو سب لشکروں سے چھوٹا تھا انہی میں رسول اﷺ اور آپﷺ کے صحابہ تھے اور نبیﷺ کا جھنڈا سیدنا زبیر بن عوامؓ کے پاس تھا۔ جب رسول اﷲﷺ ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو ابوسفیان نے سعد بن عبادہؓ کی بات رسول اللہﷺ کو بتلائی تو آپﷺ نے فرمایا کہ سعد نے غلط کہا ہے۔ بلکہ یہ دن وہ ہے کہ اس میں اﷲ تعالیٰ کعبہ کو بزرگی دے گا اور وہ دن ہے کہ کعبہ کو غلاف پہنایا جائے گا۔عروہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے موضع حجون میں جھنڈا گاڑنے کا حکم دیا۔ سیدنا زبیرؓ نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے سیدنا خالد بن ولیدؓ کو حکم دیا کہ کَداء بلندی مکہ کی جانب سے جانا اور خود نبیﷺ کَداء نشیبی علاقے کی طرف سے تشریف لائے۔سیدنا خالدؓ کی فوج میں سے دو سوار حُبیش بن اشعر اور کرز بن جابر فہریؓ اس دن شہید ہوئے۔

۵۷۔فتح مکہ :نبیؐ کا سورۂ فتح خوش الحانی سے پڑھنا

سیدنا عبداﷲ بن مغفلؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن میں نے رسول اﷲﷺ کو اونٹنی پر سوار دیکھا اور آپﷺ سورۂ فتح خوش الحانی سے پڑھ رہے تھے۔ سیدنا عبداﷲ بن مغفلؓ کے شاگرد معاویہ بن قرۃ کہتے ہیں کہ اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ لوگ میرے گرد جمع ہو جائیں گے تو میں بھی اسی طرح خوش الحانی سے پڑھتا جیسے سیدنا عبداﷲ بن مغفلؓ نے پڑھ کر سنایا تھا۔

۵۸۔فتح مکہ : خانہ کعبہ کے گرد ۳۶۰ بت تھے

سیدنا عبداﷲ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں گئے اور اس وقت خانہ کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپﷺ اپنے ہاتھ کی لکڑی سے ان بتوں کو مارتے اور یہ فرماتے جاتے تھے کہ ’’حق آیا اور باطل چلا گیا ‘‘ ’’حق آیا، اب باطل نہ نیا ہو گا اور نہ دوبارہ آئے گا‘‘۔

۵۹۔ مسلمان ہونے کے لیے فتح مکہ کا انتظار

سیدنا عمروبن سلمہؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک ایسے چشمہ کے قریب رہتے تھے جو گذر گاہِ عوام تھا اور ہمارے پاس سے سوار گزرتے تھے۔ ہم جب اِن سے مدعی نبوت کے بارے میں پوچھا کرتے تو وہ جواب دیتے تھے کہ وہ کہتا ہے کہ اﷲ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے اور میرے پاس وحی آتی ہے۔پس میں (عمروبن سلمہ) اس وحی یعنی قرآنی آیات کو اس طرح یاد کر لیتا گویا کہ کوئی میرے سینے میں جما دیتا ہے۔ اور عرب مسلمان ہونے کے واسطے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ محمد (ﷺ ) اور اس کی قوم کو چھوڑ دو۔ اگر محمد (ﷺ ) ان پر غالب آ گیا تو وہ سچا نبی ہے۔

۶۰۔ فتحِ مکہ: ہر قوم جلدی اسلام لانے لگی

پھر جب مکہ فتح ہو گیا تو ہر قوم اسلام لانے میں جلدی کرنے لگی اور میرے باپ نے مسلمان ہونے میں اپنی قوم پر سبقت کی۔ جب میرا باپ مسلمان ہو کر آیا تو اپنی قوم سے کہا کہ اﷲ کی قسم میں تمہارے پاس سچے نبی کے پاس سے آیا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تم فلاں وقت یہ نماز اور فلاں وقت فلاں نماز پڑھا کرو۔ اور جب نماز کا وقت ہو تو کوئی تم میں سے اذان کہے اور جو تم میں زیادہ قرآن جانتا ہو وہ نماز پڑھا دے۔ قبیلہ والوں نے غور کیا تو کسی کو مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا نہ پایا کیونکہ میں سواروں سے مل مل کر بہت زیادہ یاد کر چکا تھا چنانچہ سب نے مجھے اپنا امام بنا لیا۔

۶۱۔ جنگ اوطاس میں امیرِ لشکر کی شہادت

سیدنا ابو موسیٰؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اﷲﷺ غزوۂ حنین سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابو عامرؓ کو امیرِ لشکر بنا کر اوطاس کی طرف روانہ فرمایا۔جہاں پر قبیلہ ہوازن جمع تھا۔ سیدنا ابو عامر کا دُرید بن صّمۃ سے مقابلہ ہوا، دُرید مارا گیا اور اﷲ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دی۔ اس جنگ میں ایک جہنمی مرد نے سیدنا ابو عامرؓ کے گھٹنے میں تیر مار کر اُن کے گھٹنے میں اتار دیا۔ سیدنا ابو موسیٰؓ کے پوچھنے پر انہوں نے اشارے سے بتایا کہ فلاں نے مجھے تیر مارا ہے۔ میں تیر مارنے والے کے پیچھے بھاگا۔ میرے اور اس کے درمیان تلوار کے دو وار ہوئے اور میں نے اسے مار ڈالا۔ پھر میں نے آ کر ابو عامرؓ کے گھٹنے سے وہ تیر نکالا تو اس زخم سے پانی بہنے لگا۔ پھر وہ بولے کہ اے میرے بھائی کے بیٹے ! تو نبیﷺ کو میری طرف سے سلام عرض کرنا اور کہنا کہ ابو عامرؓ کے لیے استغفار کریں۔ پھر ابو عامرؓ نے مجھے لوگوں پر اپنا قائم مقام بنا دیا۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ شہید ہو گئے۔ جب میں جنگ سے لوٹا تو نبیﷺ سے اپنا اور ابو عامرؓ کا حال بیان کیا۔ آپﷺ نے پہلے وضو کیا پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ اے اﷲ! ’’عبید ابو عامرؓ کو بخش دے ‘‘۔اے اﷲ! ابو عامر کا قیامت کے روز بہت سی مخلوق نوع انسان پر درجہ بلند کرنا‘‘ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ ! میرے لئے بھی دعا کیجئے۔ آپﷺ نے کہا کہ اے اﷲ! ابو موسیٰ عبداﷲ بن قیسؓ کے گناہ معاف فرما دے اور قیامت کے دن اچھی جگہ (جنت میں ) داخل فرما۔

۶۲۔اُمّ المومنین کو ہیجڑوں سے دور رہنے کی ہدایت

اُمّ المومنین اُمّ سلمہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ میرے ہاں تشریف لائے۔ اس وقت میرے پاس ایک ہیجڑا بیٹھا تھا۔ میں نے سنا کہ وہ عبداﷲ بن امیہ سے کہہ رہا تھا ’’اے عبداﷲ! اگر کل اﷲ تعالیٰ طائف فتح کرا دے تو غیلان کی بیٹی کو لے لینا کیونکہ وہ اس قدر فربہ ہے کہ جب وہ سامنے سے آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار بل پڑتے ہیں اور پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ۔ یہ سن کر نبیﷺ نے فرمایا: یہ ہیجڑے آئیندہ تمہارے پاس ہرگز نہ آنے پائیں۔

۶۳۔جب رسول اﷲؐ نے طائف کا محاصرہ کیا

سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اﷲﷺ نے طائف کا محاصرہ کیا اور ان کا کچھ نقصان نہ کیا بلکہ الٹا مسلمانوں کا نقصان ہوا تو آپﷺ نے فرمایا کہ ہم ان شاء اﷲ اب مدینہ کو لوٹ چلیں گے۔ صحابہؓ کو یہ شاق معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ ہم بغیر فتح کیونکر لوٹ چلیں ؟ آپﷺ نے فرمایا اچھا کل صبح لڑو۔ صبح ہوئی تو وہ سب لڑے اور زخمی ہو گئے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ کل ان شاء اﷲ ہم واپس چلیں گے۔ اس وقت انہیں یہ بات اچھی معلوم ہوئی۔ پس نبیﷺ مسکرا دیئے۔

۶۴۔جان بوجھ کر اپنی ولدیت تبدیل کرنا

سیدنا سعدؓ اور سیدنا ابوبکرؓ را وی ہیں کہ نبیﷺ سے سنا کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی جان بوجھ کر اپنے اصلی باپ کے سِوا کسی اور کا بیٹا بنے تو اس پر جنت حرام ہے۔

۶۵۔نبیﷺ کا قریش کی دل جوئی کرنا

سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے انصار کو جمع کر کے فرمایا کہ قریش کے لوگ ابھی دورِ جاہلیت اور قتل و قید کی مصیبتوں سے نکلے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انہیں کچھ مالِ غنیمت دے کہ اُن کی مدد اور دل جوئی کر دوں۔ تو کیا تم خوش نہیں ہوکہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم رسول اﷲﷺ کو اپنے گھروں کی طرف لے جاؤ؟ انہوں نے جواب دیا ’’جی ہاں ہم راضی ہیں ‘‘ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگ کنارہ صحرا میں چلیں اور انصار پہاڑ کی گھاٹی پر چلیں تو میں بھی انصار کی وادی یا گھاٹی اختیار کروں گا۔

۶۶۔ امیر کی اطاعت صرف اچھے کاموں میں

امیر المومنین سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اُس کا حاکم ایک انصاری کو بنایا اور سب کو اُس کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا۔ راستے میں اسے غصہ آیا تو کہنے لگا کہ کیا نبیﷺ نے تمہیں میری فرمانبرداری کرنے کا حکم نہیں دیا؟ وہ بولے کہ ہاں ضرور دیا ہے۔ وہ انصاری بولا کہ تم میرے لئے لکڑیاں جمع کرو۔ انہوں نے جمع کیں۔ پھر کہا کہ آگ سلگاؤ۔ انہوں نے آگ سلگائی۔ پھر اُس نے کہا کہ تم سب اس میں گھس جاؤ۔ انہوں نے گھسنے کا ارادہ کیا اور بعض ایک دوسرے کو روکنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم آگ (دوزخ) سے تو بھاگ کر نبیﷺ کے پاس آئے ہیں۔اب اس میں کیونکر جل جائیں۔ اسی جھگڑے میں آگ بجھ گئی اور اس انصاری کا غصہ بھی جاتا رہا۔ جب آپﷺ کو یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ اگر وہ اس آگ میں چلے جاتے تو قیامت تک اس میں سے نہ نکلتے کیونکہ اطاعت کرنا صرف اچھے کاموں میں لازم ہے یعنی گناہ کے کام میں امام کی فرمانبردار ی ضروری نہیں۔

۶۷۔ ہر نشہ کرنے والی چیز حرام ہے

سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے رسول اﷲﷺ سے وہاں بننے والی شرابوں کے بارے میں دریافت کیا۔ آپﷺ نے پوچھا کہ وہاں کون کون سی شرابیں بنتی ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ شہد اور جوکی شرابیں۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ہر نشہ کرنے والی چیز حرام ہے۔

۶۸۔سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے

سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نے رسول اﷲﷺ کے پاس یمن سے خام سونے کا ایک ٹکڑا چمڑے میں رکھ کر بھیجا جسے رسول اﷲﷺ نے چار آدمیوں عیینہ بن بدر،اقرع بن حابس، زید عرف خیل اور علقمہ یا عامر بن طفیل میں تقسیم کر دیا۔ آپﷺ کے صحابیوں میں سے کسی نے کہا کہ ہم اس مال کے ان سے زیادہ مستحق ہیں۔ نبیﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تم مجھے امانت دار نہیں سمجھتے ؟ حالانکہ میں اُس کا امانت دار ہوں جو آسمانوں میں ہے اور میرے پاس آسمان کی خبر صبح و شام آتی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک شخص دھنسی ہوئی آنکھوں والا، جس کے رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھیں، اونچی پیشانی، گھنی ڈاڑھی، سر منڈا ہوا، اونچی ازار باندھے ہوئے کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اﷲﷺ ! اﷲ سے ڈرو۔ آپﷺ نے جواب دیا کہ اﷲ تجھے ہلاک کرے۔ کیا میں ساری زمین والوں میں سب سے زیادہ اﷲ سے ڈرنے والا نہیں ہوں ؟

۶۹۔ لوگوں کے دلوں میں نقب لگا کر دیکھنا

جب وہ شخص چلا گیا تو سیدنا خالد بن ولیدؓ نے کہا کہ یا رسو ل اﷲﷺ ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ آپﷺ نے فرمایا ’’نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو‘‘۔ سیدنا خالدؓ بولے کہ بہت سے نمازی ایسے منافق ہوتے ہیں جو زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو اُن کے دل میں نہیں ہوتی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اﷲ نے مجھے یہ حکم نہیں دیا کہ میں لوگوں کے دلوں میں نقب لگا کر دیکھوں اور نہ یہ حکم دیا ہے کہ میں ان کے پیٹ چیروں۔ پھر آپﷺ نے اس کی طرف دیکھا جب وہ پیٹھ موڑے جا رہا تھا۔ پھر کہا کہ اس شخص کی نسل سے وہ قوم نکلے گی جو قرآن کو مزے سے پڑھیں گے۔ حالانکہ وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ لوگ دین سے ایسے خارج ہو جائیں گے جیسے کہ تیر شکار کے جسم سے پار نکل جاتا ہے۔

۷۰۔تیروں سے فال نکالنا

جب سیدنا جریرؓ یمن میں پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جو تیروں سے فال کھولتا تھا۔ کسی نے اس سے کہا کہ رسول اﷲﷺ کا قاصد یہاں پر موجود ہے۔ اگر اُس نے تجھ پر قابو پایا تو تیری گردن اڑا دے گا۔ایک دن وہ فال نکال رہا تھا کہ اس کے پاس سیدنا جریرؓ پہنچ گئے اور کہا کہ انہیں توڑ کر کلمہ شہادت لا الٰہ الا اﷲ پڑھ لے ورنہ میں تیری گردن اڑا دوں گا۔ راوی کہتا ہے کہ اس شخص نے انہیں توڑ کر کلمہ شہادت پڑھ لیا۔

۷۱۔ سیدنا جریرؓ کا قیامِ یمن اور نبیؐ کا وصال

سیدنا جریرؓ کہتے ہیں کہ جب میں یمن میں تھا تو وہاں کے دو آدمیوں ذوکلاع اور ذوعمر سے ملا۔ میں اُن سے رسول اﷲﷺ کے بارے میں باتیں کرنے لگا۔ ذوعمرو نے مجھ سے کہا کہ جو کچھ تو بیان کرتا ہے اگر تیرے صاحب کے بارے میں درست ہے تو اُسے تو وفات پائے ہوئے تین روز ہو گئے اور پھر دونوں میرے ہمراہ مدینہ آئے۔ راستے میں کچھ سوار مدینہ کی طرف سے آتے ہوئے دکھائی دیئے تو ہم نے ان سے پوچھا تو وہ بولے کہ رسول اﷲﷺ نے وفات پائی اور سیدنا ابوبکرؓ خلیفہ ہو گئے ہیں۔ اور باقی سب خیریت ہے۔ ذوکلاع اور ذوعمرو نے یہ سن کر کہا کہ اپنے صاحب کو خبر کر دینا کہ ہم یہاں تک آئے تھے۔ اگر اﷲ نے چاہا تو ہم پھر آئیں گے اور وہ دونوں یمن کی طرف چلے گئے۔

۷۲۔جنگ سیف البحر میں زادِ راہ کی قلت

سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراحؓ کی سپہ سالار ی میں تین سو آدمیوں کا ایک لشکر سمندر کے کنارے روانہ کیا۔لشکر ابھی تھوڑی دور ہی پہنچا تھا کہ زادِ راہ ختم ہو گیا۔ سیدنا ابوعبیدہؓ نے سب کے توشے ایک جگہ جمع کرنے کا حکم دیا۔وہ اس میں سے ہمیں روزانہ تھوڑا تھوڑا دیتے رہے۔ پھر وہ بھی ختم ہو گیا تو ہمیں روزانہ صرف ایک ایک کھجور ملا کرتی۔جب وہ بھی ختم ہو چکی تو ہمیں اُس کی قدر معلوم ہوئی۔پھر ہم سمندر پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک مچھلی مثل پہاڑ کے موجود ہے پس لوگوں نے اس میں سے اٹھارہ راتوں تک کھایا پھر سیدنا ابوعبیدہؓ نے حکم دیا تو اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں۔ وہ اتنی اونچی تھیں کہ اونٹ پر کجاوہ رکھ کر اُن کے نیچے سے گزارا گیا تو وہ اُن کے نیچے سے صاف صاف نکل گیا۔

۷۳۔مچھلی کا گوشت کھانا اور چربی بدن پر لگانا

سیدنا جریرؓ ایک دوسری روایت میں کہتے ہیں کہ سمندر نے اﷲ کے حکم سے ایک مچھلی نکال پھینکا جسے عنبر کہتے ہیں۔ آدھا مہینہ تک ہم اس کا گوشت کھاتے رہے اور اس کی چربی بدن پر لگاتے رہے تو ہمارے جسم پہلے جیسے موٹے تازے ہو گئے۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو نبیﷺ سے بیان کیا۔ آپﷺ نے فرمایا کھا لو۔ یہ اﷲ کا بھیجا ہوا رزق تھا۔ اگر تمہارے پاس کچھ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ۔ کسی نے آپﷺ کو لا کر دیا تو آپﷺ نے بھی کھایا۔

۷۴۔ ثمامہ بن اثال کے اسلام لانے کا واقعہ

سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے نجد کی طرف کچھ سوار روانہ فرمائے تو وہ قومِ بنی حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو پکڑ لائے اور اُسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ نبیﷺ نے اُس کے پاس جا کر کہا کہ اے ثمامہ! تیرے خیال میں، مَیں تیرے ساتھ کیا کروں گا؟ وہ بولا کہ اے محمد (ﷺ ) میرا خیال بہتر ہے۔ اگر آپ مجھے مار ڈالیں گے تو بھی کوئی قباحت نہیں کیونکہ میں نے بھی جنگ میں مسلمانوں کو مارا ہے اور اگر آپﷺ احسان کر کے مجھے چھوڑ دیں گے تو میں آپﷺ کا شکر گزار رہوں گا۔ اور اگر آپﷺ مال و دولت چاہتے ہوں تو وہ بھی حاضر ہے۔ نبیﷺ نے دوسرے اور تیسرے دن بھی ثمامہ سے یہی سوال پوچھا اور اُس نے ہر مرتبہ ایک سا جواب دیا تو آپﷺ نے ثمامہ کو چھوڑ نے کا حکم دیا۔ ثمامہ مسجد کے قریب ایک تالاب پر گیا اور غسل کر کے مسجد میں آیا اور کہنے لگا کہ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بے شک محمدﷺ اﷲ کے رسول ہیں۔ اے محمدﷺ ! اﷲ کی قسم مجھے تمام روئے زمین پر کسی کا منہ دیکھ کر اتنا غصہ نہیں آتا تھا جتنا آپﷺ کا منہ دیکھ کر آتا تھا اب آج کے دن آپﷺ کا منہ سب زیادہ مجھ کو پسند ہے۔ اور اﷲ کی قسم آپﷺ کے دین سے زیادہ کوئی دین مجھے بُرا معلوم نہ ہوتا تھا اور اب آپﷺ کا دین مجھے اس سے بھلا معلوم ہوتا ہے۔ اور اﷲ کی قسم! میرے نزدیک آپﷺ کے شہر سے برا کوئی شہر نہ تھا اور اب آپﷺ کا شہر میرے نزدیک سب شہروں سے بہتر ہو گیا۔ پھر ثمامہ نے بتلایا کہ جب مجھے گرفتار کیا گیا تھا تو میں عمرہ کے ارادہ سے جا رہا تھا۔ رسول اﷲﷺ نے اسے مبارکباد دی اور اسے عمرے کا حکم دیا۔ جب وہ مکہ میں آئے تو کسی نے اس سے کہا کہ تم بے دین ہو گئے ہو؟ وہ بولے نہیں اﷲ کی قسم بلکہ محمد رسول اﷲﷺ کے ساتھ مسلمان ہو گیا ہوں اور اﷲ کی قسم تمہارے پاس یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ بھی نہ آنے پائے گا جب تک کہ نبیﷺ حکم نہ دیں گے۔

۷۵۔مسیلمہ کذاب کا نبیﷺ سے ملنا

سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں مسیلمہ کذاب نبیﷺ کے عہد میں آیا اور کہنے لگا کہ اگر محمد (ﷺ ) اپنے بعد مجھے اپنا خلیفہ بنا دیں تو میں اُن کی اطاعت کروں گا۔ وہ اپنی قوم بنی حنیفہ کے اکثر لوگوں کو اپنے ہمراہ لایا تھا۔ رسول اﷲﷺ ، خطیب انصار سیدنا ثابت بن قیس بن شماسؓ کے ہمراہ اس کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت آپﷺ کے دست مبارک میں شاخ خرما کی چھڑی تھی۔ پھر آپﷺ مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھیوں کے پاس ٹھہرے اور فرمایا کہ اگر تو مجھ سے ٹکڑا بھی مانگے تو میں تجھے نہ دوں گا اور اﷲ نے جو تیری تقدیر میں لکھ دیا ہے، تُو اس سے بچ نہیں سکتا۔ اور اگر تُو مجھ سے منہ موڑے گا تو اﷲ تجھے ہلاک کر دے گا اور میں تجھے دیکھتا ہوں کہ تُو وہی ہے جس کا حال خواب میں مجھ سے بیان کیا گیا۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نے اس خواب کے بارے میں بتلایا کہ رسول اﷲﷺ فرماتے تھے کہ ایک بار میں سورہا تھا تو میں نے خواب میں اپنے ہاتھوں میں دو کنگن دیکھے۔ مجھے ان سے رنج معلو م ہوا۔ پھر خواب ہی میں بذریعہ وحی مجھے ارشاد ہوا کہ ان دونوں کو پھونک مارو۔ میں نے ان دونوں کو پھونکا تو وہ دونوں اُڑ گئے۔ ان کی تعبیر میں نے یہ لی کہ دو جھوٹے شخص میرے بعد نبوت کا دعویٰ کریں گے۔

۷۶۔ابو عبیدہ بن جراحؓ کی فضیلت

سیدنا انسؓ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا ہر امت کا امانت دارہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ؓ ہے۔

۷۷۔قسم توڑ کر مناسب امر کو اختیار کرنا

سیدنا ابو موسیٰؓ کہتے ہیں کہ ہم جماعت اشعری نبیﷺ کے پاس آئے۔ ہم نے آپﷺ سے سواری مانگی تو آپﷺ نے انکار کر دیا۔ ہم نے پھر آپﷺ سے سواری مانگی تو آپﷺ نے قسم کھائی کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا۔ پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد نبیﷺ کے پاس مالِ غنیمت کے کچھ اونٹ آئے تو آپﷺ نے ہمارے لئے پانچ اونٹوں کا حکم دیا۔ جب ہم نے اُن اونٹوں کو لے لیا تو ہم نے کہا کہ چونکہ ہم نے نبیﷺ کو قسم یاد نہ دلائی اس لئے اب ہم کبھی فلاح کو نہ پائیں گے۔ تب میں نے آ کر آپﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اﷲﷺ آپ نے قسم کھائی تھی کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا پھر آپﷺ نے ہمیں سواری دے دی۔ آپﷺ نے جواب دیا کہ ہاں مجھے قسم یاد تھی لیکن میں اگر کسی بات کی قسم کھا لیتا ہوں اور اس کے علاوہ دوسری بات مناسب جانتا ہوں تو اسی مناسب امر کو اختیار کرتا ہوں اور قسم کا کفارہ دیتا ہوں۔

۷۸۔یمن والوں کے ایمان کا احوال

سیدنا ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا اے لوگو! تمہارے پاس یمن والے آئے ہیں جو رقیق القلب اور نرم دل ہیں۔ ایمان یمن ہی کا عمدہ ہے اور حکمت بھی یمن ہی کی اچھی ہے۔ غرور و تکبر اونٹ والوں میں ہے اور اطمینان اور سہولت بکری والوں میں ہے۔

۷۹۔نبیﷺ نے اُنیس لڑائیاں لڑیں

سیدنا زید بن ارقمؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے انیس لڑائیاں لڑیں اور ہجرت کے بعد ایک حج حجۃ الوداع کیا اس کے بعد کوئی حج ادا نہیں فرمایا۔

۸۰ حرمت کے مہینے : ذیقعد،ذی الحج، محرم،رجب

سیدنا ابوبکرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے حجۃ الوداع میں خطبہ پڑھتے وقت یہ فرمایا کہ وقت پھر گھوم کر اپنی اسی حالت پر آ گیا جس حالت پر اُس دن تھا کہ جس دن اﷲ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا۔ سال بارہ مہینے کاہے جس میں چار مہینے حرمت والے ہیں ان میں سے تین تو لگاتار۔ ۱:ذیقعدہ۔ ۲: ذی الحجہ۔ ۳: محرم ہیں اور چوتھا مہینہ ر جب ہے جوکہ جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے۔

۸۱مسلمانوں کے خون، مال، عصمت کی حرمت

… آپﷺ نے فرمایا ’’کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا کہ بے شک یہ ذی الحجہ ہی کا مہینہ ہے۔ … آپﷺ نے فرمایا’’ کیا یہ شہر مکہ نہیں ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا کہ بے شک یہ مکہ کا شہر ہے۔… آپﷺ نے فرمایا کہ کیا یہ یوم نحر نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا بیشک یہ یوم نحر(قربانی کا دن) ہی ہے۔ پھر فرمایا ’’تو اب سن لو کہ تمہارے آپس (مسلمانوں )کے خون اور تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس شہر اور اس مہینے میں ہے۔

۸۲۔مسلمان کا مسلمان کو قتل کرنا گمراہی ہے

اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے۔ وہ تم سے تمہارے اعمال کی باز پُرس کرے گا۔ دیکھو ذرا خبردار ہو جاؤ! میرے بعد تم پھر گمراہ نہ ہو جانا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ جو یہاں موجود ہے اس کو چاہیئے کہ وہ ان باتوں کو اس تک پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں ہے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس کو بات پہنچائی جاتی ہے وہ پہنچانے والے سے زیادہ اس کو یاد رکھتا ہے۔

۸۳۔حج میں سر منڈوانا اور بالوں کو قصر کرنا

سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ اور صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈوایا اور بعض اصحاب نے قصر کیا یعنی سر نہیں منڈوایا بلکہ کچھ بال کٹوائے۔

۸۴۔غزو تبوک :نبیؐ حضرت علیؓ کو مدینہ چھوڑ گئے

فاتح ایران سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ جب نبیﷺ غزوہ تبوک میں تشریف لے جانے لگے تو مدینہ میں سیدنا علیؓ کو اپنا جانشین چھوڑا تو انہوں نے عرض کیا کہ کیا آپﷺ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جاتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اس بات سے راضی نہیں کہ میرے پاس تمہارا وہ درجہ ہو جو موسیٰؑ کے پاس ہارونؑ کا تھا مگر صرف اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

۸۵۔غزوۂ تبوک کے لیے نبیؐ کا خصوصی اعلان

سیدنا کعب بن مالکؓ نے کہا کہ میں رسول اﷲﷺ کے ساتھ غزوۂ تبوک اور غزوۂ بدر کے سِوا ان تمام لڑائیوں میں شریک رہا جو آپﷺ نے لڑیں۔ نبیﷺ کا قاعدہ یہ تھا کہ جب کسی جنگ کا ارادہ کرتے تو اس کو صاف نہ بیان فرماتے بلکہ گول گول ایسا فرماتے کہ لوگ کوئی دوسرا مقام سمجھیں۔ جب اس لڑائی کا وقت آیا تو اتفاق سے سخت گرمی تھی اور دور دراز سفر کا سامنا تھا۔ صحرائی راستے کا سفر اور دشمنوں کی تعداد کثیر تھی اس لئے آپﷺ نے مسلمانوں کو صاف صاف بتا دیا کہ ہم تبوک چاہتے ہیں تاکہ وہ اچھی طرح لڑائی اور سفر کا سامان درست کر لیں۔

۸۶۔غزوۂ تبوک میں سیدنا کعبؓ کی عدم شرکت

سیدنا کعبؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے غزوۂ تبوک کا اس وقت قصد کیا جب درختوں کا میوہ پک گیا تھا اور سایہ اچھا معلوم ہوتا تھایعنی سخت گرمی تھی۔رسول اﷲﷺ اور دیگرمسلمانوں نے اس لڑائی کا سامان تیار کرنا شروع کر دیا لیکن میں اپنے دل میں کہتا رہا کہ میں تو کسی بھی وقت اپنا سامان تیار کر سکتا ہوں۔ دن اسی طرح گزرتے رہے اور لوگوں نے محنت مشقت اٹھا کر اپنا اپنا سامان تیار کر لیا اور نبیﷺ اور مسلمان ایک صبح کو روانہ ہو گئے اور میں نے ابھی تک کچھ سامان نہ کیا تھا تو میں نے سوچاکہ میں ان کے بعد ایک دو روز میں سامان تیار کر لوں گا پھر اُن سے راستہ میں جا ملوں گا۔ میرا کئی بار ارادہ ہوا کہ میں بھی کوچ کروں اور ان سے مل جاؤں اور کاش میں ایسا کرتا مگر تقدیر میں نہ تھا۔ پھر رسول اﷲﷺ کے کوچ کر جانے کے بعد مدینہ میں جب میں گھر سے نکلتا اور لوگوں سے ملتا تو میں منافقوں، معذوروں اور ضعیف ونا تواں آدمیوں سے ملتا تو مجھے اس سے رنج ہوتا۔

۸۷۔عورت کی حکمرانی: فلاح حاصل نہ ہو گی

سیدنا ابو بکرہؓ کہتے ہیں کہ اﷲ نے ایامِ جنگ جمل میں مجھے اس بات سے فائدہ دیا جو میں نے رسول اﷲﷺ سے سنی تھی۔ ورنہ قریب تھا کہ میں جمل والوں میں شریک ہو کر مسلمانوں سے لڑتا۔ اور وہ بات یہ تھی کہ جب رسول اﷲﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ ایران والوں نے کسریٰ کی بیٹی بوران بنت شیرویہ کو اپنا حکمران بنا لیا ہے تو فرمایا کہ ’’جو قوم اپنے اوپر عورت کو حکمراں بنائے گی وہ ہرگز فلاح حاصل نہ کر سکے گی‘‘۔

۸۸۔ مرض الموت، سیدہ فاطمہؓ اور نبیؐ کی سرگوشی

اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ نے مرض الموت میں سیدہ فاطمہؓ کو بلایا اور کچھ آہستہ سے فرمایا تو وہ رونے لگیں۔ پھر دوبارہ بلایا اور کچھ آہستہ سے فرمایا تو وہ ہنسنے لگیں۔ ہم نے سیدہ فاطمہؓ سے رسول اﷲﷺ کی وفات کے بعد پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اوّل یہ فرمایا تھا کہ ’’اسی مرض میں میری روح قبض ہو گی‘‘ یہ سن کر میں رونے لگی۔ دوسری مرتبہ یہ فرمایا کہ ’’تم اہلِ بیت میں سے سب سے پہلے مجھ سے ملو گی‘‘ تو یہ سن کر خوش ہوئی۔

۸۹۔ انبیاؑ کو دنیا یا آخرت پسند کرنے کا اختیار

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ کوئی نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوا جب تک جنت میں اس کو اس کا مقام نہیں دکھلایا گیا۔ پھر جب تک اس کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ چاہے تو دنیا میں زندہ رہے یا آخرت کو اختیار کرے۔ جب آپﷺ بیمار ہوئے اور آپﷺ کا آخری وقت قریب آیا تو آپﷺ کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ اوّل تو آپﷺ کو غشی ہوئی۔ پھر جب افاقہ ہوا تو نگاہ گھر کی چھت کی طرف لگائی اور فرمایا ’’اے اﷲ! بلند رفیقوں میں رکھ‘‘ یعنی آخرت کو پسند کیا۔تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اب آپﷺ ہمارے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتے۔یوں نبی کو اختیار دیے جانے سے متعلق آپﷺ کے قول کی تصدیق ہو گئی۔

۹۰ بیمار ی میں معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم کرنا

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ جب بیمار ہوتے تو معوذات (سورۃ اخلاص، الفلق اور الناس) سورتیں پڑھ کر اپنے اوپر دَم کیا کرتے اور ہاتھ اپنے بدن پر پھیرتے۔ جب آپﷺ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو میں نے بھی یہ سورتیں پڑھ کر آپﷺ کو دم کیا۔

۹۱۔ ’’ اے اﷲ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما‘‘

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ جب نبیﷺ کی وفات قریب ہوئی اور آپﷺ مجھ سے کمر لگائے بیٹھے تھے تو میں نے بغور سنا کہ آپﷺ یہ فرماتے ہیں ’’ اے اﷲ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق ا لاعلیٰ بلند فریقوں سے ملا دے ‘‘۔

۹۲۔رسول اﷲﷺ پر موت کی سختی

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ رسول اﷲﷺ کا سر مبارک وفات کے وقت میرے سینہ پر تھا۔جب سے میں نے رسول اﷲﷺ پر موت کی سختی دیکھی اس کے بعد سے میں موت کی سختی کو کسی کے لیے بُرا نہیں سمجھتی۔سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ جب نبیﷺ پر مرض کی شدت ہوئی تو بے ہوش ہو گئے۔ سیدہ فاطمہ الزہرہؓ رو کر کہنے لگیں کہ ہائے میرے باپ پر کیسی سختی ہو رہی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا تیرے باپ پر اس روز کے بعد پھر کوئی سختی نہ ہو گی۔

۹۳۔نبیﷺ کا وفات سے قبل مسواک کرنا

اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ یہ بھی اﷲ کی نعمتوں میں سے ہے کہ آپﷺ نے میرے گھر میں اور میری باری کے روز میری ٹھوڑی اور سینہ کے درمیان وفات پائی اور اﷲ نے آپﷺ کی وفات کے وقت میرا اور آپﷺ کا لعاب دہن ملا دیا۔اُس روز میرے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکرؓ ہاتھ میں مسواک لئے ہوئے آئے۔ میں رسول اﷲﷺ کو اپنے اوپر ٹکائے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپﷺ مسواک کو دیکھ رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے آپﷺ کی خواہش پر وہ مسواک لے کر اپنے دانتوں سے چبا کر نرم کر دی تو آپﷺ نے وہ مسواک دانتوں پر پھیری اور آپﷺ اپنے سامنے موجود پانی میں اپنے دونوں ہاتھ ڈالتے اور منہ پر پھیرتے اور فرماتے لا الٰہ الا اﷲ۔موت میں بڑی سختیاں ہوتی ہیں۔ پھر آپﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا اﷲ مجھے رفیق ا لاعلیٰ میں رکھ۔ یہاں تک کہ آپؐ کی روح مبارک نکل گئی اور آپؐ کا ہاتھ گر گیا۔

۹۴۔ نبیؐ نے ۶۳ برس کی عمر میں وفات پائی

۱۷۱۱: اُمّ المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے تریسٹھ برس کی عمر میں وفات پائی۔


٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں: