قرآن اورمسلمانوں کا عروج و زوال - پیغام قرآن و حدیث

جمعرات، 8 مارچ، 2012

قرآن اورمسلمانوں کا عروج و زوال


مسلمانوں کے عروج و زوال کی کہانی علامہ اقبا ل رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ تعالیٰ کی زبانی کیا خوب بیان کی ہے کہ

 وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو ک
اور تم خوارہوئے ، تارکِ قرآں ہو کر

 انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان قرآن و سنت پر من حیث القوم عمل پیرا رہے ، وہ نہ صرف سیاسی طور پردنیا میں عروج پر رہے بلکہ عصری علوم و فنون میں بھی دنیا کے امام بنے اور دنیا کی دیگر اقوام سائنس و ٹیکنالوجی سمیت جملہ علوم و فنون سیکھنے کے لیے مسلم ممالک کی درسگا ہوں کا اسی طرح رُخ کیا کرتی تھیں جیسے آج کے مسلمان عصری علوم و فنون سیکھنے کے لیے مغربی ممالک کی طرف دیکھتے ہیں ۔ مسلمانوں کے اس عروج کے زمانے میں آج کا ترقی یافتہ مغرب اور یورپ تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، جسے وہ خود بھی ’تاریک دور‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کا زوال اس وقت شروع ہواجب وہ قرآن و سنت سے دور ہوتے چلے گئے ۔ اس کے برعکس تاریخ ہمیں یہ دلچسپ صور تحال بھی بتلاتی ہے کہ مغربی اقوام اُس وقت تک تاریکی میں ڈوبی رہیں جب تک ان کا اپنے مذہب سے تعلق استوار رہا ۔ بعد ازاں مغرب نے اسٹیٹ کے معاملات کوچرچ سے علیحدہ کیا اور اپنے مذہبی معاملات کو چرچ تک محدود کیا تو اُن پر دُنیوی ترقی کے دروازے کھلتے چلے گئے ۔

ماہرینِ دینیات اس بات کو یوں واضح کرتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل اور ترقی یافتہ دین ہے جو دنیا کے تمام معاملات میں درست سمت میں رہنمائی فراہم کر نے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ۔ لہٰذا مسلمان جب تک اپنے دین کے اصل ماخذ یعنی قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرتے رہے، دنیا میں کامیاب و کامران رہے ۔ اس کے برعکس عیسائیت سمیت دیگر تمام مذاہب نامکمل اور ناقص ہونے کے سبب بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصرہیں ۔ لہٰذا مغرب جب تک اپنے فرسودہ مذہبی روایات سے جڑا رہا، ترقی سے دور رہا۔ لیکن جب انہوں نے اپنے اس ناقص مذہب سے چھٹکارا حاصل کر لیا تو وہ ترقی کرتے چلے گئے ۔ مسلمانوں کے بعض نادان دوست، مسلمانوں کو بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے دُنیوی معاملات کو اپنے دین سے جدا کرنے کے اسی راستے پر چلانا چاہتے ہیں ، جس پر چل کر مغرب نے ترقی کی ہے ۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے، ہم جوں جوں اپنے دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں، تنزلی کے گڑھے میں گرتے چلے جا رہے ہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مسلمان انفرادی و اجتماعی سطح پر اپنے جملہ معاملات کو اپنے دین کے اصل ماخذ یعنی قرآن و حدیث سے جوڑنے کی کوشش کریں ۔ ’ پیغامِ قرآن و حدیث‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ مسلمان ہونے کے دعویدار خواہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں، قرآن و حدیث کو اپنے ایمان کا جزو سمجھتے ہیں ۔ وہ ان سے قلبی لگاؤ تورکھتے ہیں مگر بوجوہ انہیں پڑھنے اور سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں ۔ ’پیغامِ قرآن‘ اور ’پیغامِ حدیث‘ کا مجموعہ ’پیغامِ قرآن و حدیث‘ کی صورت میں اس لئے شائع کیا جا رہا ہے تاکہ ایک عام پڑھا لکھا مسلمان بھی ایک متفقہ و مصدقہ کتاب کے ذریعہ اسلام کی اصل روح سے آگاہ ہو سکے ۔ اس کتاب میں قرآن و حدیث کے مکمل پیغام کو سمونے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو قرآن و حدیث کو بحیثیت مجموعی پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے کیونکہ دنیا اور آخرت دونوں میں ہمار ی کامیابی کا دارومدارکتاب و سنت پر عمل کرنے ہی میں ہے ۔

دین اسلام بنیادی طور پر صرف کتاب و سنت یعنی قرآن اور حدیث کے مجموعہ کا نام ہے ۔ رسولِ ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دنیا میں کوئی شخصیت ایسی نہیں ہے جس کی ہر بات تسلیم کی جاسکتی ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ائمہ و محدثین نے بھی ہدایت کے اسی چشمہ سے فیض پایا۔ عموماً یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن وحدیث کو براہِ راست سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ۔ یہ بات اللہ کے اس قول کے سراسر خلاف ہے کہ بلاشبہ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان بنا دیا ہے، پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟ (القمر۔ ۱۷)۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطورِ خاص ساری انسانیت کے لیے ’’معلم‘‘ بنا کر بھیجا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سارا دین سیکھا۔ لہٰذا ہم بھی قرآن و حدیث سے دین کو براہِ راست سیکھ سکتے ہیں ۔ البتہ اگرکوئی بات سمجھنے میں دقت محسوس ہو تو اصحاب علم سے رجوع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ ائمہ اربعہ نے بھی صرف اتباعِ قرآن و حدیث ہی کا راستہ اختیار کرنے کی دعوت دی ہے ۔

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ: اگر میری کوئی بات قرآن، حدیث یا قولِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف ہو تو میری بات چھوڑدو۔ (ایقاظ ھمم اولی ا لا بصار،صفحہ:۵۰)۔ جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے ۔ (درّ المخطار جلد۔ ۱، صفحہ:۶۸) کسی کے لیے حلال نہیں کہ وہ ہمارے قول کے مطابق فتویٰ دے، جب تک اسے معلوم نہ ہو کہ ہمارے قول کا ماخذ کیا ہے ؟(ا لا نتقار فی فضائل ا لثلاثہ و ا لا ئمہ ا لفقہاء لا بن عبد ا لبر، صفحہ : ۱۴۵

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ : سر ور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا باقی ہر انسان کی بات کو قبول بھی کیا جاسکتا ہے اور رَد بھی۔ (ارشاد السالک لا بن عبد الہادی۔ جلد۔ ۱، صفحہ۔ ۲۲۷) میری بات غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی۔ لہٰذا میری رائے کو دیکھ لیا کرو۔ جو کتاب و سنت کے مطابق ہو، اسے لے لو اور جو کتاب و سنت کے مطابق نہ ہو اسے ترک کر دو۔ (ایقاظ ھمم اولی ا لا بصار،صفحہ:۷۲)

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ: جب میری کسی بھی بات کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح ثابت ہو تو حدیث کا مقام زیادہ ہے اور میری تقلید نہ کرو۔ (آدابِ الشافعی و منا قبہ لا بن ابی حاتم الرازی، صفحہ۔ ۹۳)

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ: نہ میری تقلید کرو نہ کسی اور کی بلکہ جہاں سے انہوں نے دین لیا ہے، تم بھی وہاں (یعنی قرآن و حدیث) سے دین حاصل کرو۔ (ایقاظ ھمم اولی ا لا بصار،صفحہ:۱۱۳)۔ دین کے معاملے میں لوگوں کی تقلید کرنا انسان کی کم فہمی کی علامت ہے ۔ (اعلام المواقعین لا بن قیم رحمۃ اللہ علیہ جلد۔ ۲، صفحہ۔ ۱۷۸)

(پیغام قرآن و حدیث کا اداریہ)

پیغامِ قرآن کا اداریہ:


اردو زبان میں تراجمِ قرآن کے تدریجی مراحل کی تاریخ خاصی دلچسپ ہے۔ ابتدا ئی ادوار میں عربی متن کی سطور میں عربی الفاظ کے نیچے مترادف اردو الفاظ خفی حروف میں لکھے جانے کا رواج رہا۔اس طرح دورانِ تلاوت عربی آیات کے الفاظ کا اردو مطلب تو کسی حد تک سمجھ میں آ جاتا ،لیکن عربی زبان سے نابلد قاری کے لیے قرآنی آیات کے حقیقی مفہوم سے آگاہ ہونا خاصہ دشوار گذار مرحلہ ہوتا۔ کیونکہ اسے عربی آیت کے نیچے غیر مربوط اردو الفاظ ہی پڑھنے کو ملتے۔ بعد ازاں جب اِن غیر مربوط الفاظ کی ترتیبِ نو اور ساتھ ہی قوسین میں کچھ ضروری الفاظ شامل کر کے اردو عبارت کو بامعنی بنانے کی سعی کی گئی تو قرآن کے لفظی ترجمہ کا آغاز ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب لفظی ترجمہ بھی عام قارئین میں اپنی دلچسپی کے تسلسل کو برقرار نہ رکھ سکا تو قرآن کے با محاورہ ترجمہ کی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔گو قرآن مجید کے مختلف با محاورہ اردو تراجم کے معنوی متن میں کہیں کہیں باہم اختلاف بھی دیکھنے میں آتا ہے اس کے باوجود قرآن فہمی کے ضمن میں با محاورہ اردو تراجم نے ایک عام اردو دان قاری کی خاصی حد تک رہنمائی کی۔اردو زبان میں متعدد با محاورہ تراجمِ قرآن کی موجودگی کے باوجود آج ایک عام اردو داں قاری کو قرآن کے ترجمہ کے مطالعہ کے دوران ایک نامانوس سی اجنبیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزانہ سینکڑوں صفحات پر مشتمل کتب و رسائل کو آسانی کے ساتھ پڑھنے کی اہلیت رکھنے والا قاری بھی جب قرآن کا مطالعہ ترجمہ کے ساتھ شروع کرتا ہے تو چند صفحات کے مطالعہ کے بعد ہی اس کی توجہ بھٹکنے لگتی ہے۔

پیغامِ قرآن درحقیقت قارئین کی اسی ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے۔ اگر آپ مطالعہ کے عادی ہیں تو پیغامِ قرآن کے اس نسخہ کو بھی چند نشستوں میں ختم کر سکتے ہیں تاہم یہ واضح رہے کہ تین دن سے کم کی مدت میں قرآن کریم کو ختم کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ دراصل ہم یا تو ایک ہی موضوع پر لکھی گئی کتاب کو روانی کے ساتھ پڑھنے کے عادی ہیں یا پھر ایسے کتب و جرائد کو جس کے متنوع موضوعات کی درجہ بندی واضح طور پر دکھائی دے۔ کتاب کے آغاز میں روایتی طور پر فہرستِ مضامین موجود ہو۔ ہر باب کے طویل متن کو مختصر نثر پاروں میں تقسیم کیا گیا ہو اور قارئین کی دلچسپی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ذیلی عنوانات یا سرخیاں بھی دی گئی ہوں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ تقریری اندازِ بیان میں نازل ہونے والی قرآن مجید کو سورتوں اور آیات کی درجہ بندی کے ساتھ تحریرِ مسلسل میں مرتب کیا گیا ہے۔ گویا قرآن اپنی بصری ہیئت میں بھی ان عام کتابوں جیسی نہیں ہے، جنہیں ہم روز و شب روانی کے ساتھ پڑھنے کے عادی ہیں ۔

پیغامِ قرآن کے اصل متن اور ایک عام با محاورہ ترجمہ قرآن میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ پیغامِ قرآن میں آیات کے تراجم کی ترتیب کو تبدیل کیے بغیر ہر پارے کی جملہ آیات کو مختلف پیراگراف میں تقسیم کر کے ذیلی عنوانات قائم کیے گئے ہیں اور پارہ کے آغاز میں ایسے تمام ذیلی عنوانات کی فہرست بھی دی گئی ہے ،تاکہ قارئین کو دورانِ مطالعہ کسی قسم کی اجنبیت محسوس نہ ہو اور وہ پیغامِ قرآن کو اسی سہولت کے ساتھ پڑھ سکیں جس کے وہ عام مطالعہ کے دوران عادی ہیں ۔ ہر پیراگراف کے آخر میں سورت کا نام اور آیت کا نمبر شمار بھی درج ہے تاکہ پیغامِ قرآن کے مطالعہ کے دوران اگر کہیں مزید وضاحت کی ضرورت محسوس ہو تو قرآن پاک کے اصل عربی متن اور دیگر تراجم و تفاسیر سے بآسانی رجوع کیا جا سکے۔

صرف اردو متن پر مشتمل ہونے کے سبب پیغامِ قرآن کو پڑھنے کے لئے کسی خاص اہتمام جیسے وضو وغیرہ کی شرعاً ضرورت نہیں ۔یہ کتاب آپ کی عام بک شیلف میں ، بچوں کے بستہ میں ، آپ کی گاڑی میں ، دفتر کی میز پر، دکان میں ، کارخانہ میں غرضیکہ ہر اس جگہ رکھی جا سکتی ہے، جہاں فرصت کے لمحات ملتے ہی آسانی سے پڑھی جا سکے۔الحمد للہ مؤلف کو یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ پیغامِ قرآن کے بعض تکمیلی مراحل خانہ کعبہ میں سرانجام دیے گئے ۔ احقر نے بیت اللہ شریف میں اللہ سے اس کاوش کو قبول کرنے کی اور روضہ رسولﷺ پر رسول اللہﷺ سے شفاعت کی درخواست بھی کی ۔اللہ مؤلف اور جملہ انتظامی و مالی معاونین کی اس مشترکہ کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین ۔


طالبِ دعا : یوسفِ ثانی،
۲ رمضان المبارک ۱۴۲۹ھ
بیت اللہ شریف ، مکۃ المکرمہ

اشاعتِ چہارم (ترامیم و اضافہ کے ساتھ)
پیغامِ قرآن کا چوتھا ایڈیشن چند ترامیم و اضافہ کے ساتھ پیشِ خدمت ہے۔ ترامیم اُن عنوانات میں کی گئی ہے جن کی ضرورت اور نشاندہی محترم شیخ القرآن و الحدیث مفتی محمد ابراہیم حنیف صاحب نے کی تھی۔ کمپوزنگ کی اُن اغلاط کی بھی تصحیح کر دی گئی ہے جو سابقہ اشاعتوں میں پائی گئیں تھیں ۔ ایک اہم خوبی کا اضافہ یہ کیا گیا ہے کہ متن میں جہاں کہیں بھی امر و نہی (DOs and DON'Ts) کا بلاواسطہ یا بالواسطہ (DIRECTLY OR INDIRECTLY) حکم موجود ہے اُن سطور کو جلی اور خط کشیدہ الفاظ میں تحریر کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو ایک نظر میں ہی اندازہ ہو جائے کہ قرآن نے کن باتوں اور کاموں کا حکم دیا ہے اور کن سے منع کیا ہے۔ مطلوبہ احکام کی تلاش میں آسانی کی غرض سے کتاب کے آخر میں جملہ امر و نہی کا اشاریہ (INDEX) بھی شامل کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ ان ترامیم و اضافہ سے پیغامِ قرآن کی افادیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ الحمد للہ ترامیم و اضافہ کے اس کام کا کچھ حصہ سفر حج کے دوران مکۃ المکرمہ میں انجام دینے کی سعادت حاصل ہوئی اور بیت اللہ شریف میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ مؤلف اور دیگر معاونین کی اس کاوش کو قبول کرتے ہوئے اسے ہماری اُخروی نجات کا ذریعہ بنائے آمین ثم آمین۔


طالبِ دعا : یوسفِ ثانی،
۱۷ ذی الحجہ ۱۴۳۲ھ
بمطابق ۲۳نومبر ۲۰۱۰ء
بیت اللہ شریف ، مکۃ المکرمہ

---------------------------------------------

پیغامِ حدیث کا اداریہ

موضوعاتی درجہ بندی پر مبنی ’پیغامِ قرآن‘ کی عوام الناس میں بے پناہ مقبولیت کے بعد اسی انداز میں ’پیغامِ حدیث‘ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس نے رسولﷺ کی اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی (النساء۔۸۰)۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بجا طور پر شارح قرآن بھی کہا جاتا ہے کیونکہ قرآن آپﷺ ہی پر نازل ہوا اور آپ ہی اس کی بہترین تشریح و تعبیر کر سکتے ہیں۔قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے احادیث کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ چونکہ صحاحِ ستہ یعنی احادیث کے چھ صحیح ترین مجموعوں (بخاری، مسلم، ترمذی،ابو داؤد، ابن ماجہ، نسائی) میں سرِ فہرست ہونے کے ناطے بخاری شریف کو قرآن کے بعد مستند ترین کتاب یعنی اصح الکتب کا درجہ حاصل ہے۔ اسی لیے ہم نے بخاری شریف کو بنیاد بنا کر’ پیغامِ حدیث ‘ مرتب کی ہے،جس کی خصوصیات حسب ذیل ہیں۔

بخاری شریف کی کتب کی اصل ترتیب کو برقرار رکھتے ہوئے ابواب کے عنوانات کو حذف کر دیا گیا ہے تاہم کتب اور ابواب میں موجود احادیث کی اصل ترتیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ طوالت سے بچنے کے لیے احادیث کے تذکرے میں غیر ضروری تفاصیل اور مکرر بیانات کو حذف کر دیا گیا ہے۔اسی طرح ایک ہی حدیث کے مختلف کتب میں بار بار آمد کی روایت سے انحراف کرتے ہوئے بعد میں آنے والی تمام مکرر احادیث کو بھی حذف کر دیا گیا ہے۔۔ صرف انہی راویوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے براہِ راست نبیﷺ سے روایت کی ہے۔طویل احادیث کو موضوع کی مناسبت سے چھوٹے چھوٹے نثر پاروں میں تقسیم کر کے ایسے ذیلی عنوانات قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو حدیث کے متعلقہ حصہ سے ہم آہنگ ہوں۔طویل احادیث کی ترتیبِ نو کرتے ہوئے احادیث کی اصل روح کو برقرار رکھنے کی بھی ہر ممکن سعی کی گئی ہے۔ قارئین کی سہولت کی خاطر ’پیغامِ حدیث‘ کو عام کتابوں کی طرز پر مرتب کیا گیا ہے اور احادیث کا لفظی ترجمہ کرنے کی بجائے با محاورہ اور رواں اردو مفہوم کو اختیار کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو حدیث کا مفہوم سمجھنے میں آسانی ہو۔

پیغامِ حدیث کو پیغامِ قرآن کی ویب سائٹ پر بھی پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اس کتاب تک رسائی نہ رکھنے والے قارئین بھی دنیا بھر میں ہر جگہ اس سے استفادہ کر سکیں۔ شیخ التفسیرو شیخ الحدیث مفتی محمد ابراہیم حنیف صاحب ہما رے خصوصی شکریے کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے پیغامِ حدیث کے مسودے پر نظر ثانی کرتے ہوئے گرانقدر مشوروں سے نوازا۔پیغامِ حدیث کو مزید بہتر بنانے کے لیے قارئین کی تجاؤیز کا بھی خیر مقدم کیا جائے گا۔ اللہ مولف کی اس کاوش کو قبول کرتے ہوئے جملہ ادارتی، انتظامی اور مالی معاونین کو اجرِ عظیم عطا کرے۔ آمین، ثُم آمین۔


طالبِ دُعاء
یوسف ثانی
۸ اپریل۰۱۰ ء

اشاعتِ ثانی : پیغامِ حدیث کے موجودہ ایڈیشن میں تقریباً سَو صفحات پر مشتمل چار خصوصی ضمیمے شامل کئے گئے ہیں۔ ان ضمیموں میں صحاحِ ستہ کے دیگر مجموعوں یعنی صحیح سلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، ابن ماجہ، سنن نسائی،کے علاوہ مسند احمد، سنن دارمی، موطا امام مالک، اوسط للطبرانی، بیہقی اور شرح السنہ سے اُن اضافی احادیث کو شامل کیا گیا ہے جو بخاری شریف کے جملہ کتب کی تلخیص میں شامل نہیں ہیں۔ گویا اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ احادیث نبویؐ کے ذخیروں کے سمندرکو پیغامِ حدیث کے کوزے میں سمودیا گیا ہے۔

اشاعتِ اوّل پر اہلِ علم اور دینی اسکالرز کی موصول شدہ رائے اور تجاؤیز کی روشنی میں اس دوسری اشاعت میں مناسب ترامیم کرنے کے علاوہ کمپوزنگ کی اُن اغلاط کی بھی تصحیح کر دی گئی ہے جو سابقہ اشاعت میں پائی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ ایک اہم خوبی کا اضافہ یہ کیا گیا ہے کہ متن میں جہاں کہیں بھی امر و نہی (DOs and DON'Ts) کا بلاواسطہ یابالواسطہ (DIRECTLY OR INDIRECTLY)حکم موجود ہے اُن سطور کو جلی اور خط کشیدہ الفاظ میں تحریر کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو ایک نظر میں ہی اندازہ ہو جائے کہ حدیث میں کن باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور کن باتوں سے منع کیا گیا ہے۔ مطلوبہ احکام کی تلاش میں آسانی کی غرض سے کتاب کے آخر میں امر و نہی کا اشاریہ (INDEX) بھی شامل کیا گیا ہے۔

الحمد للہ ترامیم و اضافہ شدہ اس ایڈیشن کا اختتامی کام حالیہ سفرحج کے دوران مکۃ المکرمہ اور مدینہ منورہ میں انجام دینے کی سعادت حاصل ہوئی۔اللہ مولف کی اس کاوش کو قبول کرتے ہوئے جملہ ادارتی، انتظامی اور مالی معاونین کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین، ثُم آمین۔

طالبِ دعا:
یوسفِ ثانی، مسجدِ نبویؐ ، مدینہ منورہ
۸ محرم الحرام ۱۴۳۲ھ ; ۱۴ دسمبر ۲۰۱۰ء

1 تبصرہ:

  1. Salam!
    I studied intro pages.
    Language is simple and plain.
    One sensitive fact, I would like to show you that symbol with mubarak name of Prophet(PBUH)is not properly mentioned. Instead, a box is printed at many places.
    Need to put attention towards proof reading.
    We will see all these issues in future.
    Regards.

    جواب دیںحذف کریں