قرآنی ضابطہ حیات ۔۔ حصہ اول - پیغام قرآن و حدیث

پیر، 12 مارچ، 2018

قرآنی ضابطہ حیات ۔۔ حصہ اول


قرآنی ضابطہ حیات

 اوامر ونواہی کی موضوعاتی درجہ بندی
تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے۔(آل عمران۔104)


پیغامِ قرآن پبلی کیشن
www.paighamequran.com
paighamequran.blogspot.com
جملہ حقوق بحق قارئین محفوظ ہیں۔
طباعت و اشاعت کی عام اجازت ہے


نام کتاب  .... اسلامی ضابطہ حیات (پیغام قرآن و حدیث )
مؤلف  .... یوسفِ ثانی ( مؤلف : پیغامِ قرآن، پیغامِ حدیث، قرآن جو پیغام، میسیج آف قرآن)
مدیر اعلیٰ  .... www.paighamequran.com; www.paighamequran.blogspot.com
برقی ڈاک ....usuf.e.sani@gmail.com; pqhtrust@gmail.com 

اشاعت ِ دوم  .... جون 2014 ء
 کل صفحات  .... 128
 ہدیہ    .... 150 روپے 
ناشر   .... پیغامِ قرآن پبلی کیشن؛ پوسٹ بکس: 12207 ، 
              ڈیفنس اتھارٹی،کراچی۔پوسٹ کوڈ۔ 75500 


کتب فروش
٭ ویلکم بک پورٹ، اردو بازار، کراچی۔ فون:021-32633151
٭ توکل اکیڈمی، اردو بازار، کراچی ۔ فون:0321-8762213 ; 0321-2524561

پیغامِ قرآن وحدیث ، ایک تعارف

پیغامِ قرآن: 
اردو زبان میں قرآن کے لفظی اوربامحاورہ تراجم نے قرآن فہمی کے ضمن میں عوام کی خاصی حد تک رہنمائی کی ہے۔ت اہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کتب و رسائل کو آسانی کے ساتھ پڑھنے کی اہلیت رکھنے والا قاری بھی جب قرآن کے ان تراجم کا مطالعہ شروع کرتا ہے تو اسے ایک نامانوس سی اجنبیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور چند صفحات کے مطالعہ کے بعد ہی اس کی توجہ بھٹکنے لگتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم یا تو ایک ہی موضوع پر لکھی گئی کتاب کو روانی کے ساتھ پڑھنے کے عادی ہیں یا پھر ایسے رسائل و جرائد کو جس کے متنوع موضوعات کی درجہ بندی واضح طور پر دکھائی دے۔ کتاب کے آغاز میں روایتی طور پر فہرستِ مضامین موجود ہو۔ ہر باب کے طویل متن کو مختصر نثر پاروں میں تقسیم کیا گیا ۔ اس کے برعکس تقریری اندازِبیان میں نازل ہونے والی قرآن مجید کو سورتوں اور آیات کی درجہ بندی کے ساتھ تحریرِ مسلسل میںمرتب کیا گیا ہے۔ گویا قرآن اپنی بصری ہیئت میں بھی ان عام کتابوں جیسی نہیں ہے، جنہیں ہم روز و شب روانی کے ساتھ پڑھنے کے عادی ہیں۔قارئین کی اسی ’ضرورت ‘کو مدِنظر رکھتے ہوئے پیغامِ قرآن کومرتب کیا گیا ہے۔ پیغامِ قرآن کے اصل متن اور ایک عام بامحاورہ ترجمہ قرآن میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ پیغامِ قرآن میں آیات کے تراجم کی ترتیب کو تبدیل کیے بغیر ہر پارے کی جملہ آیات کو مختلف پیراگراف میں تقسیم کرکے ذیلی عنوانات قائم کیے گئے ہیں اور پارہ کے آغاز میں حسب روایت ایسے تمام ذیلی عنوانات کی فہرست دیدی گئی ہے ہر پیراگراف کے آخر میں سورت و آیت کا حوالہ بھی درج ہے تاکہ اگر کہیں مزید وضاحت کی ضرورت ہو تواصل عربی متن اور دیگر تراجم و تفاسیر سے رجوع کیا جاسکے۔ اوامر و نواہی کے بلاواسطہ یابالواسطہ تعلیمات پر مبنی آیات کو جلی اور خط کشیدہ کیا گیا ہے تاکہ قارئین قرآنی do's and dont's سے ایک ہی نظر میں آگاہ ہو سکیں۔ کتاب کے آخر میں جملہ اوامر و نواہی کا اشاریہ بھی شامل کیا گیا ہے۔

پیغامِ حدیث: 
بخاری شریف کی جملہ کتب کی تلخیص کو بنیاد بنا کر’ پیغامِ حدیث ‘ مرتب کی گئی ہے کیونکہ احادیث کے چھ صحیح ترین مجموعوں،صحاحِ ستہ میں سرِ فہرست ہونے کے ناطے بخاری شریف کو قرآن کے بعد مستند ترین کتاب یعنی اصح الکتب کا درجہ حاصل ہے۔ پیغامِ حدیث میں بخاری شریف کی جملہ کتب کی اصل ترتیب کوبرقرار رکھتے ہوئے ابواب کے عنوانات کو حذف کر دیا گیا ہے تاہم کتب اور ابواب میں موجود احادیث کی اصل ترتیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ احادیث کے تذکرے میں غیر ضروری تفاصیل اور مکرر بیانات کو حذف کردیا گیا ہے۔اسی طرح بعد میں آنے والی تمام مکرر احادیث کو بھی حذف کر دیا گیا ہے۔طویل احادیث کو موضوعات کی مناسبت سے ذیلی عنوانات کے تحت تقسیم کر کے احادیث کا لفظی ترجمہ کرنے کی بجائے بامحاورہ اور رواں اردو مفہوم کو اختیار کیا گیا ہے تاکہ حدیث کا مفہوم سمجھنے میں آسانی ہو۔ پیغامِ حدیث کے چار ضمیموں میں صحاحِ ستہ کے دیگر مجموعوں یعنی صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، ابن ماجہ، سنن نسائی،کے علاوہ مسند احمد، سنن دارمی، مؤطا امام مالک، طبرانی، بیہقی اور شرح السنہ سے اُن اضافی احادیث کو شامل کیا گیا ہے جو بخاری شریف میں شامل نہیں ہیں۔ پیغامِ حدیث میں بھی کتاب کے متن میں موجود جلی اور خط کشیدہ اوامر و نواہی کا اشاریہ پیش کیا گیا ہے۔

عام قارئین کے لئے پیغامِ قرآن اور پیغامِ حدیث کے اوامر و نواہی کی موضوعاتی درجہ بندی پر مبنی کتابچے بھی شائع کئے جارہے ہیں

قرآن کے اوامر و نواہی : فہرستِ عنوانات

  1. ازدواجی زندگی
  2. زکوٰة اور مصارف زکوٰة
  3. اسلام، دین
  4. زنااور تہمتِ زناکی سزا
  5. اطاعت، حکمرانی، نافرمانی
  6. سلام کرنا
  7. اللہ اور رسو ل اللہ ﷺ
  8. سودخوری
  9.  نسان اور خواہش نفس
  10. شراب اور جوا
  11. انصاف،ناپ تول،امانت
  12. شرک اور مشرک ؛ غیر اللہ سے مانگنا
  13. ایمان اور تقاضائے ایمان
  14. شکر،ناشکری اور کفرانِ نعمت
  15. کنجوسی اور فضول خرچی
  16. شیطان اورشیطانی کام
  17. بھلائی، نیکی اورحسن سلوک
  18. صبر، مصیبت اور آزمائش
  19. برائی اور بے حیائی
  20. صدقہ و خیرات، خرچ 
  21. تقویٰ اور اللہ پر بھروسہ
  22. طہارت: غسل، وضو، تیمم
  23. تکبر اورعاجزی
  24. ظلم وزیادتی؛ صلح اور بدلہ
  25. توبہ و استغفار 
  26. عبادت :اللہ کی بندگی
  27. جنت اورجہنم
  28. علم ، عقل اورجہالت
  29. جہاد اورشہادت
  30. عہداور امانت کی حفاظت 
  31. چوری اور جھوٹی گواہی
  32. غصہ ، زیادتی، معافی اور قصور
  33. حج و عمرہ ؛ ارکانِ حج و عمرہ 
  34. غیبت، طعنہ اور تہمت
  35. حرام کھانا،رزق حلال
  36. فرقہ بندی: دین کے ٹکڑے کرنا
  37. حق و باطل؛ غلط اورسیدھاراستہ
  38. فساد: مفسد اور فاسق 
  39. حلال جانور، حلال کھانا اور جائز کام
  40. قتل اور قصاص
  41. حیا، بے شرمی اور فحاشی
  42. قرآن کے حقوق 
  43. دنیا اور آخرت
  44. قربانی اور قربانی کے جانور
  45. رزق ؛ اللہ کافضل
  46. قرض ، لین دین اور گواہی
  47. رشتہ دار، والدین اور اولاد
  48. قسم اور قسم کا کفارہ
  49. روزہ اور اعتکاف 
  50. کامیابی اور ناکامی
  51. کراماََ کاتبین
  52. مسلم ومومن؛ مر داور عورتیں
  53. کفر اور کافر ( یہودی،عیسائی، اہل کتاب)
  54. مشورہ
  55. گانا بجانا
  56. منافق مرد اور منافق عورتیں
  57. گناہ، گمراہی اور گمان
  58. موت اور زندگی
  59. گواہی،شہادت
  60. نماز، الصلوٰة 
  61. لونڈی اور غلام
  62. وراثت، ترکہ اور وصیت
  63. مال و دولت اور مالِ غنیمت
  64. ہجرت، ترک ِ وطن
  65. مذاق اور طعنہ زنی 
  66. یتیم اور مسکین
  67. مسجد، خانہ کعبہ
احادیث کے اوامر و نواہی : فہرستِ عنوانات

  1. ازدواجی زندگی
  2. تقدیر، نصیب، قسمت
  3. اسلام، دین
  4. تقویٰ اور توبہ
  5. استخارہ : نماز اور دعا
  6.  تکبر ، دکھاوا، خود پسندی
  7. اطاعتِ امیر، حکمران، اور رعیت 
  8. جہالت، رشک اور غیبت
  9. اللہ اوررسول اللہ ﷺ
  10. جنت، دوزخ؛ جنتی اور دوزخی
  11.  اللہ کی پناہ
  12. جہاد اور شہادت کی اقسام
  13. عمال اورنیت
  14. جھاڑ پھونک اور وظائف 
  15. امر بالمعروف ونہی عن المنکر
  16. حج اور ارکان حج
  17. انصاری ، صحابہؓ اور اہل بیت 
  18. حجاب:محرم اور نامحرم
  19. ایمان کی پہچان
  20. حدود اللہ؛ تہمت ، چوری، قتل
  21. برائی،بھلائی ؛ نیکی، گناہ
  22. حرام اور ناپسندیدہ
  23. بہتان، غیبت، چغلی، مذاق 
  24. حسن سلوک
  25. پردہ پوشی، مصیبت 
  26. حیا، بے حیائی،فحاشی اور زنا
  27. پڑوسی کے حقوق 
  28. دائیں طرف سے آغاز کرنا
  29. تجارت، خرید و فروخت، رہن
  30. دعا اور بد دعا
  31. تصویر کشی ، مصور 
  32. دنیا ،ا ٓخرت، قیامت اور میزان
  33.  رزق، اللہ کا فضل؛ مال و دولت اورغربت
  34. قرض اور سوال 
  35. رشتہ دار، اہل و عیال، والدین، اولاد
  36. قسم، کفارہ، گواہی 
  37. روزہ، اعتکاف، تراویح، لیلةالقدر
  38.  کھانے پینے کے آداب
  39. زراعت ، کھیتی باڑی
  40. کفر اور اقسامِ کفر
  41. زکوٰة، نصاب زکوٰة
  42.  گرگٹ اور زہریلے جانور
  43. سانپ اور جنات
  44. گمشدہ، لاوارث اشیائ
  45. سفر ، آدابِ سفر 
  46. لباس ، خضاب اور مہندی
  47. سلام اور مصافحہ
  48. لعنت و ہلاکت کے اسباب 
  49. سود خوری
  50.  مجلس اور راستے کے آداب
  51. سونے کے آداب اور خواب
  52. مسجد کے آداب
  53. شراب اور جوا
  54. مسلمان اور مومن
  55. شرک ،مشرک اور اہل کتاب
  56. مصیبت ، مشکلات اور آزمائش
  57.  شیطان اورشیطانی حرکات
  58. معافی، مغفرت اور خطائیں
  59. صبر و شکر 
  60. مکہ مدینہ:، بیت اللہ اور مسجد بنویﷺ
  61. صدقہ،ہدیہ اور تحفہ
  62. منافق کی پہچان
  63. طب نبویﷺ
  64. میت ،جنازہ، قبر،سوگ 
  65. طہارت اور اقسامِ طہارت
  66.  نام رکھنا اور عقیقہ کرنا
  67. عبادت اور بندگی
  68.  نجات کا آسان طریقہ
  69. عہد، نذراورگواہی
  70.  نعمت، کفرانِ نعمت
  71. عیدین ؛ قربانی، ذبیحہ اور شکار
  72. نماز: اوقات، صفات اور اقسام
  73. غصہ اور علاجِ غصہ
  74. وراثت، ترکہ،وصیت
  75. غلام، لونڈی اور خادم
  76.  وسوسہ، وہم، بد شگونی
  77. غیب کا علم
  78. وظائف اور ذکر الٰہی 
  79. فتنہ اور فرقہ بندی
  80. ہجرت اور نقل مکانی
  81. قتل ، قصاص، دیت؛ ظلم، جھگڑا، بدلہ
  82. یتیم، مسکین اور بیوہ
  83.  قرآن اور الہامی کتب

قرآنی ضابطہ حیات ۔ حصہ اول



قرآن و سنت کی تعلیمات کو اسلامی ضابطہ حیات بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن میں وعظ و نصیحت کے علاوہ ایسی آیات بھی ہیں جن میں بلا واسطہ یا بالواسطہ اوامر و نواہی (dos and don'ts) کا حکم موجود ہے۔انہی آیات کی موضوعاتی درجہ بندی کو اسلامی ضابطہ حیات کے نام سے مرتب کیا گیا ہے تاکہ عام قارئین معمولات زندگی سے متعلق قرآن کے اوامر و نواہی سے براہ راست آگاہ ہوسکیں۔


1- ازدواجی زندگی

(زوجین):
  •  تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو (روم:21)
  •  شرم والے ستر کو ڈھانکنے، جسم کی حفاظت اورزینت کے لئے لباس کو نازل کیا گیا (اعراف:26)۔ 
  • شوہر اور بیوی ایک دوسرے لئے لباس کی مانند ہیں (البقرة:187)۔
  •  جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں (النساء:34)
  •  ایسی بیویاں جو سچی مسلمان، باایمان، اطاعت گزار، توبہ گزار، عبادت گزار، اور روزہ دار ہو، خواہ شوہر دیدہ ہوں یا باکرہ(التحریم :5)۔
  •  تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، جس طرح چاہو اپنی کھیتی میں جا ؤ (البقرة:223)۔ 
  • حیض ایک تکلیف دہ حالت ہے، اس میں عورتوں سے (مجامعت کرنے سے) الگ رہو (البقرة:222)۔ 

(ایک سے زائد بیویاں):
  •  اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کر لو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لا ؤ جو تمہارے قبضہ میں(بطور لونڈی) آئی ہیں (النساء:3)۔
  • ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جُھک جا ؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو (النساء:129) 

(ازدواجی سرد مہری):
  •  جوبیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں، ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے (البقرة:226)۔ 
  • تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو (النساء: 15-16)۔ 
  • اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھا ؤ، خواب گاہوں میں اُن سے علیٰحدہ رہو اور مارو، پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو (النساء:34)۔ 
  • اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکَم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو (النساء:35)۔
  •  اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کر لیں(النساء:128)۔
  •  اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہو ہی جائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بے نیاز کر دے گا (النساء:130)۔ 

(ظہار): 
  • جو لوگ اپنی بیویوں سے ظِہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں (مجادلہ:2)۔
  •  جواپنی بیوی سے ظِہار کرے اورپھر رجوع کرے تو پہلے انہیں ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ غلام نہ پائے تو دو مہینے کے پے درپے روزے رکھے اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے (مجادلہ: 3-4) 

(نکاح میں حلال و حرام):
  •  تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرو(البقرة:221) ۔ 
  • اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی نہ کرنا (البقرة:221)۔ 
  •  جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو(النساء:22) ۔
  •  تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو، اور تمہاری دُودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے (النساء:23)۔
  •  اور اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن و شَو ہو چکا ہو(النساء:23) ۔ 
  •  تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہارے صُلب سے ہوں۔ تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو (النساء:23) ۔
  •  اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں (النساء:24) 
  •  محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے(نکاح کے لئے) حلال ہیں خواہ وہ اہلِ ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (المآئدة:5)۔
  •  جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لیے حلال(سورة الممتحنہ:10)۔
  •  ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم اُن کے مہر اُن کو ادا کر دو (الممتحنہ:10)۔ 
  •  تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو (الممتحنہ:10) 
  •  جو مہر تُم نے اپنی کافر بیویوں کو دیے تھے وہ تم واپس مانگ لو اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں(الممتحنہ:10)۔
  •  خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے ( النور:26) 
  • پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوںکے لیے ( النور:26) 
  • جو نکاح کا موقع نہ پائیں انہیں چاہیں کہ عفت مآبی اختیار کریں(سورة النور:33) ۔
  •  مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہیں جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں (الاحزاب:37) ۔

(مہر): 
  •  عورتوں کے مہر خوشدلی کے ساتھ ادا کرو (النساء:4) ۔
  •  تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے اُس مَہر کا کچھ حصہ اُڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو(النساء:19) ۔
  •  جوازدواجی لطف تم ان سے اُٹھا ؤ اس کے بدلے اُن کے مَہر بطور فرض کے ادا کرو(النساء:24)۔
  •  اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کر لو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا (النساء:20) ۔
  •  ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دینے کی صورت میں نصف مہر دینا ہوگا (البقرة:237) 

(طلاق اور عدت):
  •  جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں (بقرة:228) ۔
  •  اللہ نے مطلقہ عورتوں کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو، اُسے چھپاناجائز نہیں ہے (البقرة:228)
  •  جو کچھ تم اپنی بیوی کو دے چکے تھے، طلاق کے بعد اُسے واپس لےنا جائز نہیں (البقرة:229)
  • عورتوں کو طلاق دے چکو توبعد از عدت اُن کے نکاح کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالو (البقرة:232) 
  • عدت پوری ہونے تک عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ نہ کرو(البقرة:235)
  • بعد از نکاح عورت کو ہاتھ لگانے سے قبل طلاق دےنے میں کوئی گناہ نہیں(البقرة:236)
  •  جنہیں طلاق دی جائے انہیں مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے (البقرة:241)
  •  اے مومنو!اگر تم مومن عورتوں سے نکاح کے بعد انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دوتوان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے(الاحزاب:49)
  • عورتوں کو طلاق دو تو اُنہیں اُن کی عدّت کے لیے طلاق دیا کرو اور عدت کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو( الطلاق :1)
  •  عدت کے دوران نہ تم اُنہیں گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں (سورة الطلاق:1) 
  • عدت کی مدت کے خاتمہ پر یا انہیں بھلے طریقے سے اپنے نکاح میں روک رکھو، یا بھلے طریقے سے اُن سے جدا ہو جا ؤ۔ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو تم میں سے صاحبِ عدل ہوں (الطلاق:2) 
  • عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اُن کی عدت تین مہینے ہے۔ اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو( الطلاق:4) 
  •  اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ اُن کا وضع حمل ہو جائے(الطلاق :4)
  •  مطلقہ عورتوں کوعدت میں اُسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسر ہو(الطلاق :6)
  •  اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستا ؤ(طلاق :6) اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اُس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہو جائے (الطلاق:6) پھر اگر وہ تمہارے بچے کو دُودھ پلائیں تو ان کی اُجرت انہیں دو( الطلاق :6) ۔

(بیوہ کی عدت):
  • شوہر کے مرنے کے بعد بیوہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن تک روکے رکھے۔(البقرة:234) 
  • بیوہ عورتوں کو ایک سال تک شوہر کے گھر سے نہ نکالا جائے (البقرة:240) 

(پردہ اورو حجاب):
  •  دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اُن سے اجازت نہ لے لو اوراُن پر سلام نہ بھیج لو (النور:27) 
  •  جب تک اجازت نہ دیدی جائے، داخل نہ ہو۔واپس جانے کو کہا جائے تو واپس ہوجاؤ (النور:28) 
  •  کوئی مضائقہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہوجاﺅ جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں (النور:29) 
  • مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچاکر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں (النور:30)
  •  مومن عورتیں اپنی نظریں بچاکر رکھیں،اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اپنا بنا ؤ سنگھار نہ دکھائیں (النور:31)
  •  وہ اپنا بنا ؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ ،شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں،ا پنے لونڈی غلام، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہو، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں( النور:31)
  •  وہ اپنے پا ؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلاکریں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت کا لوگوں کو علم ہوجائے( النور:31)
  •  لونڈی غلام اور چھوٹے بے عقل بچے تمہارے پاس پردے کے ان تین اوقات میں اجازت لے کر آیا کریں۔ صبح کی نماز سے پہلے، دوپہر کو اور عشاءکی نماز کے بعد(النور:58)
  •  ان کے بعد وہ بلااجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ ان پر۔تمہیں ایک دوسرے کے پاس بار بار آنا ہی ہوتا ہے (النور:58)
  •  جب تمہارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں تو بڑوں کی طرح اجازت لے کر آیا کریں(النور:59)
  •  جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں، نکاح کی امیدوار نہ ہوں، وہ اگر اپنی چادریں اتار کر رکھ دیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں (النور:60)
  •  اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مُبتلاکوئی شخص لالچ میں پڑجائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو( احزاب:32)
  •  اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دورِ جاہلیت کی سی سَج دھج نہ دکھاتی پھرو(احزاب:33)
  •  مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں (احزاب:59)

2- اسلام ، دین

  • اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے، لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا (البقرة:132)
  •  اللہ کا رنگ (دین) اختیار کرو، اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟ (البقرة:138)
  • پورے کے پورے اسلام میں آجا ؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو(البقرة:208) 
  •  اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسُوب نہ کرو(النساء:171)
  •  چھوڑو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو(الانعام:70)
  •  جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ درگروہ بن گئے (الانعام:159)
  •  آبادی کے ہر حصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کوخبردار کرتے (سورة التوبة:122)
  •  یک سُو ہوکر اپنا رُخ اس دین کی سمت میں جما دو(الروم:30) 
  • مجھے حکم دیاگیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اس کی بندگی کروں(سورة الزُمر:11) ۔

3- اطاعت اور نافرمانی


(اطاعت):
  •  اطاعت کرو اللہ کی، اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں صاحبِ امر ہوں(النساء:59)
  •  ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے(النساء:64)
  • جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی (النساء:80)
  • اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی (الانفال:46)
  • یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے،زکوٰة دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور بُرائی سے منع کریں گے ( الحج:41)
  •  جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس نے بڑی کامیابی حاصل کی( سورة الاحزاب:71)
  •  جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں (شوریٰ:38)
  •  نماز قائم کرتے رہو، زکوٰة دیتے رہو اور اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کرتے رہو (مجادلہ:13)
  •  اللہ کی اطاعت کرو اور رسولﷺ کی اطاعت کرو (سورة التغابن :12) ۔
  •  مریم بنت عمران نے اپنے رب کے ارشادات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں سے تھی (التحریم:12) 
  •  ”ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے، ہم نے حکم سُنا اور اطاعت قبول کی۔ مالک ہم تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے“ (البقرة:285)
  •  گر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو اللہ کے رسول ﷺکی پیروی اختیار کرو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطا ؤں سے درگزر فرمائے گا (آلِ عمران:32) ۔ 
  • اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی بات مانو اور باز آ جا ؤ (المآئدة:92)
  •  مالک کائنات کے آگے سرِ اطاعت خم کر دو، نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو (الانعام:72) 
  •  اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو (الانفال:1)
  •  اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو(الانفال:20)
  •  اے لوگو! رسولوں کی پیروی اختیار کرلو(سورة یٰسین:21) ۔

(نافرمانی):
  •  ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی تو اس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا (سورة الحاقہ :10)
  •  البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا(الغاشیہ: 23-24)
  •  جس نے راہ خدا میں مال دیا اور خدا کی نافرمانی سے پرہیز کیا، اور بھلائی کو سچ مانا (الیل:5-6) 
  • اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کر نے والوں کو یقیناً سخت سزا ملے گی(آلِ عمران:4)
  •  جو اللہ اوراس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کر جائے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا (النساء:14)
  •  اُس خدا کی نافرمانی سے بچتے رہو، جس پر تم ایمان لائے ہو(المآئدة:88)
  •  جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰة دیںگے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے (الاعراف:156) 

4- اللہ اور رسو ل اللہ ﷺ

(اللہ):
  •  تمہاری حمایت و مددگاری کے لیے اللہ ہی کافی ہے (النساء:45)
  •  اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھیرایا تواُس نے بڑے سخت گناہ کی بات کی (النساء:48)۔
  •  اللہ پر بھروسہ رکھو۔ وہی بھروسہ کے لیے کافی ہے (النساء:81) 
  •  جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے ان کو اللہ اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم کے دامن میں لے لے گا (النساء:175)
  • اللہ سے ڈرو اور اس کی جناب میں باریابی کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو(المآئدة:35) 
  •  جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دُور نہ پھینکو (الانعام:52)
  •  اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے (الاعراف:55)
  •  اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے۔ اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو (الاعراف:180)
  •  رب کو صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ (الاعراف:205) 
  •  جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتراءباندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پاسکتے(سورة یونس:69) 
  •  اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے؟ (ھود:18)
  •  اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رُجوع کرتا ہوں(ھود:88) 
  • اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے (سورة الرعد:28) ۔
  •  اللہ نے دریاجاری کیے اور قدرتی راستے بنائے تاکہ تم ہدایت پاؤ( النحل:15) 
  •  اللہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم فرمانبردار بنو (سورةالنحل:81) 
  • اللہ کے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا۔( بنی اسرائیل:2) 
  •  اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو اس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں(بنی اسرائیل:110) 
  •  آسمانوں اور زمین کا رب ہی ہمارا رب ہے۔ ہم کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے(الکھف:14)
  •  کسی چیز کے بارے میں کبھی نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کردوں گا، الاّیہ کہ اللہ چاہے۔ اگر بھولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے رب کو یاد کرو (سورة الکھف: 23-24) ۔
  •  انعام وہی بہتر ہے جو اللہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو اللہ دکھائے (الکھف:44) 
  •  تم چاہے پکار کر کہو، وہ اللہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اُس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے (طٰہٰ:7)
  •  اللہ پر توکل کرو، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے( الاحزاب:3)
  •  بہترین بندہ وہ ہے جو کثرت سے اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا ہو(سورة صٓ:30)
  • بے شک اے اللہ! تو ہی اصل داتا ہے (سورة صٓ:35)
  •  اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جمادے گا (محمد:7)
  •  اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے (الحجرات:12)
  •  اللہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور اُس کے وسوسوں تک کو جانتا ہے( قٓ:16) 
  •  اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو(الجمعہ:10)
  •  اُس اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنالو (المزمل:9) 
  • میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب، انسانوں کے بادشاہ، انسانوں کے حقیقی معبُود کی(سورة الناس:1-3) 

(رسول اللہ ﷺ):
  •  جو اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں اور اُن کے درمیان تفریق نہ کریں (النساء:152) 
  •  ا للہ اور اس کے رسولﷺ کی پکار پر لبیک کہو (الانفال:24)
  •  اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو(الانفال:27)
  •  تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو ( محمد:33)
  •  تم اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لا ؤ اور رسول کا ساتھ دو، اس کی تعظیم و توقیر کرو(الفتح:9) 
  •  اللہ اور اس کے رسولﷺ کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو (سورة الحجرات:1) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل و خوار کر دیے جائیں گے (المجادلہ:5) 
  •  جو کچھ رسولﷺ تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ روک دے اس سے رُک جا ؤ(الحشر:7)
  •  کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو (النساء:59)۔

5۔ انسان کی فطرت

  • انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے( سورة بنی اسرائیل:11)
  •  زبان سے بہترین بات نکالا کرو ، شیطان انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے( بنی اسرائیل:53)
  •  قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے ( الکھف:54) 
  •  خواہشِ نفس کی پیروی کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو،جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہو (سورة الکھف:28)
  •  ہم نے(اے انسان) تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ لہٰذاتولوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی(سورة صٓ:26) 
  •  اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اُس سے زیادہ کا وہ اُسے مکلف نہیں کرتا۔( الطلاق :7) 

6۔ انصاف اورناپ تول

  • اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو (الانعام:152)
  •  اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو (الانعام:152)
  •  ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے(المآئدة:42)
  •  ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فسادنہ پھیلاتے پھرو(ھود:85)
  •  پیمانے سے دو تو پورا بھر کر دواور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو ( بنی اسرائیل:35)
  •  امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو۔لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرو (النساء:58)
  •  پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو۔ (الشعراء:181) 
  • صحیح ترازو سے تولو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو (شعراء:182) 
  • میزان میں خلل نہ ڈالو، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو (الرحمٰن: 8-9)
  •  اللہ نے کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں (حدید:25)
  •  تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں توپورا پورا لیتے ہیں،اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں(المطففین:3)۔

7۔ ایمان اور تقاضائے ایمان

  • ہدایت ہے ان پرہیزگار لوگوں کے لیے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں(البقرة :2)
  • اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں(البقرة:4)
  •  جس پر بھروسہ کیا گیا ہے، وہ امانت ادا کرے، رب سے ڈرے اور شہادت ہرگز نہ چھپائے (البقرة:283)
  •  ایمان لانے والے اور نماز و زکوٰة کی پابندی کرنے والے اور اللہ اور روزِ آخر پر سچا عقیدہ رکھنے والے (النساء:162)
  •  ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جا ؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہو جا ؤ(الاعراف:86)
  •  اللہ کے ہاں تو اُنہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان و مال سے جہاد کیا، وہی کامیاب ہیں ( التوبة:20)
  •  ایمان کے ساتھ عمل صالح کرنے والے نعمت بھری جنتوں میں جائیں گے (الحج:56)
  •  اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو، اپنے رب کی بندگی کرو، اور نیک کام کرو (الحج:77) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوںنے نیک عمل کیے ہیں (سورة الروم:15)
  •  ایمان لا ؤ اللہ اور اس کے رسول پر(الحدید:7)
  •  جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں اُن لوگوں سے محبت نہیں کرتے جو اللہ اور اس کے رسولﷺکی مخالفت کرتے ہیں (سورة المجادلہ:22) 
  •  ایمان لا ؤ اللہ اور اس کے رسولﷺ پر(سورة الصف:10) 
  • اے ایمان والو! اللہ کے مددگار بنو (الصف:14) 
  •  جو اللہ پر ایمان لایا ہے اور نیک عمل کرتا ہے، اللہ اس کے گناہ جھاڑ دے گا (سورة التغابن:9)
  •  جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے(الطلاق:11)
  •  اُسی پر ہم ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے(سورة الملک:29)
  •  یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا( الحاقہ :33-34)
  • جوامانتوں کی حفاظت اور عہد کا پاس کرتے ہیں اور گواہیوں میں راست باز رہتے ہیں (المعارج :32-33)
  •  لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایما ن نہیں لاتے، جب قرآن سامنے پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟(انشقاق: 20-21) 
  •  جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے ( انشقاق :25) 
  •  جو ایمان لائے، نیک اعمال کرتے رہے، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے (العصر:2-3)۔

8۔ برائی اور بے حیائی

  • جو بھی بدی کمائے گا اور اپنی خطاکاری کے چکر میں پڑا رہے گا، وہ دوزخی ہے (البقرة:18)
  •  لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی (النساء:114)
  •  جو بھی بُرائی کرے گا اس کا پھل پائے گا (النساء:123) 
  • اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الاّ یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو(النساء:148)
  •  اُنہوں نے ایک دوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا (المآئدة:79) 
  •  اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی بُرائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کر دیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے“ (الانعام:54) 
  • ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے (الاعراف:165)
  •  اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہاری برائیوں کو تم سے دور کر دے گا (الانفال:29) 
  • جن لوگوں نے برائیاں کمائیں اُن کی برائی جیسی ہے ویسا ہی وہ بدلہ پائیں گے (یونس:27)
  •  نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الاّیہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو( یوسف:53) اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں (سورة الرعد:22) 
  • اللہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی، بے حیائی اور ظلم سے منع کرتا ہے( النحل:90)
  •  لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا بُرا نتیجہ دیکھوگے اور سزا بھگتوگے (سورة النحل:94)
  •  جو بُرائی لیے ہوئے آئے گا، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میںپھینکے جائیں گے (النمل:90)
  •  وہ بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرتے ہیں( القصص:54)
  •  برائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے ( القصص:84) 
  • جو بدی کرے گا اس کا وبال اُسی پر ہوگا ( حٰمٓ السجدہ:46)۔
  • جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے۔ (الفرقان:72)

9۔ بھلائی اور نیکی

  • اگر تم بھلائی کرو یا کم از کم بُرائی سے درگزر کرو تو اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے (النساء:149) 
  • نیک عمل کریں ، نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں(البقرة:277)
  •  نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہے (آلِ عمران:104)
  •  ماں باپ کے ساتھ نیک برتا ؤ کرو۔ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسن سلوک سے پیش آ ؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو (النساء:36)
  •  جو مومن مرد یا عورت نیک عمل کریں گے تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے(النساء:124)
  •  جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو (المآئدة:2) اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں(المآئدة:13) 
  •  نیکی کے لیے دس گنا اجر ہے ، جبکہ بدی کا اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا (الانعام:160) 
  • وہ نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے۔ پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے (الاعراف:157) 
  • جن لوگوں نے بھلائی کا طریقہ اختیار کیا ان کے لیے بھلائی ہے اور مزید فضل( یونس:26)
  •  انہیں وحی کے ذریعے نیک کاموں کی اور نماز قائم کرنے اور زکوٰة دینے کی ہدایت کی (الانبیاء:73) 
  •  یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور ہمارے آگے جُھکے ہوئے تھے (الانبیاء:90) 
  •  جومومن نیک عمل کرے گا تو اس کے کام کی ناقدری نہ ہوگی (الانبیاء:94)
  •  زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہونگے (الانبیاء:105)
  •  نیک عمل کرنے والے ایمانداروں کے لیے مغفرت اور عزت کی روزی ہے( الحج:50)
  •  جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا۔ (النمل:89)
  •  جو کوئی بھلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھلائی ہے ( القصص:84) 
  •  احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے (القصص:77) 
  • نیک عمل کرنے والے مومن کے لیے اللہ کا ثواب بہتر ہے مگر یہ دولت صابرین ہی کو ملتی ہے (القصص:80)
  •  جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کردے اور عملاً وہ نیک ہو(لقمان:۲۲) 
  •  ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں(سورة صٰفّٰت:110) 
  • تم بدی کو بہترین نیکی سے دفع کرو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ مگر یہ صفت صبر کر نے والوں کو نصیب ہوتی ہے (حٰمٓ السجدہ:34) 
  •  جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے اچھا کرے گا (حٰمٓ السجدہ:46)
  •  جو نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا اور جو برائی کرے گا وہ آپ ہی خمیازہ بُھگتے گا(الجاثیہ:15)
  •  جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے (سورة محمد:2)
  •  جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پا ؤ گے (المزمل:20) 
  • جو بھلائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو بُرائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا (النساء:85)۔ 

10۔ تقویٰ اور پرہیزگاری

  • ظالموں کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی۔ تم اُن سے نہیں بلکہ مجھ سے ڈرو (البقرة:150)
  •  نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے (البقرة:189) 
  •  اللہ سے ڈرتے رہو(البقرة:194)
  •  اللہ انہی لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حُدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں(البقرة:194)
  • اللہ کی نافرمانی سے بچو (البقرة:203) 
  • نیکی، تقویٰ اور بھلائی کے خلاف کاموں میں اللہ کی قسمیں نہ کھا یا کرو (البقرة:224)
  •  اللہ کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ کرو (البقرة:229)
  •  اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے (آلِ عمران:102)
  •  جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں(آلِ عمران:198)
  •  خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو (النساء:131) 
  •  اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم اُن پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے (الاعراف:96) 
  • اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو (الاعراف:99) 
  •  اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے(سورة التوبة:7) 
  • اگر تم مومن ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو(سورة التوبة:13)
  •  بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو( التوبة:109) 
  •  اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو(سورة التوبة:119)
  •  تقویٰ کا رویہ اختیار کرنے والے مومنوں کے لیے کسی خوف اوررنج کا موقع نہیں ہے (یونس:62)
  •  اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجرمارا نہیں جاتا(یوسف:90)
  •  ہم ان لوگوں کو بچالیں گے جو متقی تھے (سورة مریم:72)
  •  تم پرہیز گاروں کو خوشخبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دو ( مریم:97)
  •  جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈریں اور جن کو حساب کی گھڑی کا کھٹکا لگا ہوا ہو (الانبیاء:49)
  •  تم اللہ سے ڈرو (الشعراء:126) 
  • اللہ پر بھروسہ رکھو ( النمل:79) ۔
  • جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے (سورة الاحزاب:39) 
  • مومنو! اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو (الاحزاب:70)
  •  جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ (فاطر:18) 
  • جو مطیع فرمان ہے، رات کی گھڑیوں میں کھڑا رہتا اور سجدے کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگاتا ہے (الزُمر:9)
  •  جو لوگ اپنے رب سے ڈر کر رہے ان کے لیے بلند عمارتیں ہیں (الزُمر:20) 
  • سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو (المومن:13) 
  •  اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا (محمد:36) 
  • متقی لوگ راتوں کو کم ہی سوتے تھے اوررات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے ( الذاریات:17-18) 
  •  تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے (سورة الحجرات:13)
  •  اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا ؤ( الحدید:28) 
  • آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو(المجادلہ:9) 
  •  اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے(سورة الحشر:18)
  •  جو اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا، اللہ اس کےلئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا(الطلاق :3) 
  •  جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں(سورة الملک:12)
  •  جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ (سورة المعارج :27)
  •  تم نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو۔ جو شخص ڈرتا ہے وہ نصیحت قبول کرلے گا ۔ (سورة الاعلیٰ :12)۔

11۔ تکبر اورعاجزی


اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے(النساء:36) اِتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلنے والوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو (الانفال:47) ہم حد سے گزرجانے والوںکے دلوں پر ٹھپّہ لگا دیتے ہیں ( یونس:47) زمین میں اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو (بنی اسرائیل:37) بعض اور لوگ ایسے ہیںجو کسی علم اور ہدایت اور روشنی بخشنے والی کتاب کے بغیر گردن اکڑائے ہوئے، خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ خدا سے بھٹکادیں (سورة الحج:8-9) بشارت دے دو، عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں کو ( الحج:34) انہوں نے تکبر کیا اور بڑی سرکشی کی( المو منون:46) رحمن کے بندے زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام (الفرقان:63) زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا (القصص:39) پُھول نہ جا، اللہ پھولنے والوںکو پسند نہیں کرتا (القصص:76) جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں (القصص:83) انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا (العنکبوت:39) اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رُخ پھیر لیتا ہے ،گویا کہ اس نے انہیں سنا ہی نہیں (لقمان:7) لوگوںسے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خودپسند شخص کو پسند نہیں کرتا (لقمان:18) اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ(لقمان:19) یہ آیات سُناکر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے (سورة السجدہ:15) اللہ ہرمتکبر و جبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے (المومن:35) جو لوگ گھمنڈ میںآکرمیری عبادت سے منہ موڑتے ہیں وہ ذلیل ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے (المومن:60) جو اللہ کی آیات کو سُنتا ہے پھر پُورے غرور کے ساتھ اپنے کفر پر اَڑا رہتا ہے ایسے شخص کے لئے دردناک عذاب ہے(الجاثیہ:8) اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو(سورة الدُخان:19) جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں (الاحقاف:20) اپنی روش پر اڑگئے اور بڑا تکبر کیا (سورة نوح:7)۔

12۔ توبہ اور معافی


تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو (البقرة:54) مگر توبہ اُن لوگوں کے لیے نہیں ہے جو بُرے کام کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے اُس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی(النساء:18) جو لوگ بُرے عمل کریں پھر توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو یقیناً اس توبہ و ایمان کے بعد تیرا رب درگزر اور رحم فرمانے والا ہے (الاعراف:153) اب اگر تم لوگ توبہ کرلو تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے (سورة التوبة:3) اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں تو انہیں چھوڑ دو(سورة التوبة:5) پس اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں ( التوبة:11) اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اُن کی خیرات کو قبولیت عطا فرماتا ہے (التوبة:104) تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آ ؤ تووہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا اور ہر صاحبِ فضل کو اُس کا فضل عطا کرے گا(سورة ھود:3) اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اُس کی طرف پلٹو (ھود:52) البتہ جن لوگوں نے جہالت کی بنا پر بُرا عمل کیا اور پھر توبہ کرکے اپنے عمل کی اصلاح کرلی تو یقینا توبہ و اصلاح کے بعد تیرا رب ان کے لیے غفور اور رحیم ہے (سورة النحل:119) جو توبہ کرلے ،اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے اس کے لیے میں بہت درگزرکرنے والا ہوں (طٰہٰ:82) جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا(القصص:66) اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور بُرائیوں سے درگزر فرماتا ہے( الشوریٰ:25) اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ(التحریم:8) معافی مانگو اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی (محمد:19) اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے(نوح:10)۔

13۔ جنت اورجہنم


جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور اپنے رب ہی کے ہوکر رہے تو یقینا وہ جنتی لوگ ہیں (ھود:23) خدا ترس انسانوں کے لیے جنت کا وعدہ کیاگیا ہے ( الرعد:35) جو کوئی جلدی حاصل ہونے والے فائدوں کا خواہشمند ہو، اسے ہم یہیں دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں۔ پھر اس کی قسمت میں جہنم لکھ دیتے ہیں (اسرائیل:18) جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے، اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اورکچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے (الکھف: 100-101) جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم تیار کررکھی ہے (الکھف:102) مومنین جنہوںنے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے (الکھف:107) توبہ کرکے ایمان لانے اور نیک عمل اختیار کرنے والے جنت میں داخل ہوں گے (مریم:60) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ، اللہ انہیں جنتوں میں داخل کرے گا (الحج:23) وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے ( الزُمر:71) جو لوگ رب کی نافرمانی سے پرہیزکرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا(الزُمر:73) جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہوں گے(التغابن :10) بچا ؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے (تحریم:6) دوزخی کہیں گے:ہم نماز پڑھنے والوں میںسے نہ تھے (مدثر:43) مومن مردوں اور عورتوں پر ستم توڑا اورپھر تائب نہ ہوئے یقینا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے (البروج :10) اورجو نصیحت سے گریز کرے گا وہ بڑی آگ میںجائے گا، پھر نہ اس میں مرے گا نہ جیے گا ( الاعلیٰ :13)۔

14۔ جہاد اورشہادت


اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو (البقرة:190) مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی نہ لڑو(البقرة:191) جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اُسی طرح اس پر دست درازی کرو(البقرة:194) مسلمانو! اللہ کی راہ میں جنگ کرو (البقرة:244) اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں اُن سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے۔ انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی اورباطل کے آگے سرنگوں نہیں ہوئے(آلِ عمران:146) جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں (آلِ عمران:169) صبر سے کام لو اور باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھا ؤ۔ حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ امید ہے کہ فلاح پا ؤ گے (آلِ عمران:200) مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہو۔ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ نکلو یا اکٹھے ہو کر(النساء:71) آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں (النساء:75) شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں (النساء:76) لہٰذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہو جائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے اُن پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے (النساء:90) جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو دوست دشمن میں تمیز کرو(النساء:94) جب تم لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو (الانفال:15) ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے (الانفال:39) جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو (الانفال:45) کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو عَلانیہ اس کے آگے پھینک دو(الانفال:58) زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو (الانفال:60) نکلو، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل۔ جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ (التوبہ:41) اللہ کی راہ میں جہاد کروجیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے (الحج:77) جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا (محمد:4) اگر تم نے حکمِ جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا (سورة الفتح:16) جہادکرنے اور میری رضا جوئی کی خاطر نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوںکو دوست نہ بنا ؤ۔(الممتحنہ:1) اُن لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتا ؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی (الممتحنہ:8) اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے(سورة الصف:10)۔

15۔ چوری کی سزا


چور، خواہ عورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو(سورة المآئدة:38) اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے ( سورة المومن:19)۔

16۔ حج اور عمرہ


میرے اس گھر کو طواف، اعتکاف، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو(البقرة:125) جو شخص بیت اللہ کا حج یا عُمرہ کرے، وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لے(البقرة:158) جب حج اور عُمرے کی نیت کرو، تو اُسے پورا کرو(البقرة:196) حج میںاپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے(البقرة:196) اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر رکھو(البقرة:196) دورانِ حج کوئی شہوانی فعل، بدعملی، یالڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو (البقرة:197) حج کے ساتھ رب کا فضل (رزق) بھی تلاش کرتے جا ؤ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں (البقرة:198) اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے (آلِ عمران:97) احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لیے حلال نہ کرلو(المآئدة:1) احرام کی حالت میں شکار نہ مارو۔ اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کرگزرے گا تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلّہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہوگایا نہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، یا اُس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے(المآئدة:95) احرام کی حالت میںسمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلا ل جبکہ خشکی کا شکار حرام کیا گیا ہے (المآئدة:96) یہ جو تمہاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام، تو اس طرح کے حکم لگاکر اللہ پر جھوٹ نہ باندھو(سورة النحل:116) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو، اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو (الحج:26) اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کعبہ کا طواف کریں (سورة الحج:29)۔

17۔ حرام اور حلال


کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا(الاعراف:32) تیرے رب کا دیا ہوا رزقِ حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے( طٰہٰ:131) تم کیوں اُس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے؟(التحریم:1) جو پاک چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کر لو اور حد سے تجاوز نہ کرو( المآئدة:87) اُن چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رُکیں اور جو فرمان الٰہی ہو اُسے مانیں (المآئدة:93) اللہ نے جو کچھ حلال اور پاک رزق تم کو بخشا ہے اسے کھا ؤ اورا للہ کے احسان کا شکر ادا کرو (النحل:114) کھا ؤ ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھاکر سرکشی نہ کرو (طٰہٰ:81) کھا ؤ پاک چیزیں اورصالح عمل کرو (المومنون:51) یہ بھی تمہارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوں کے ذریعے سے اپنی قسمت معلوم کرو (المآئدة:3) ۔

(حلال کھانا): 
حلال اور پاک چیزیں کھا ؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو(البقرة:168) جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بے تکلف کھا ؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو (البقرة:172) تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں(المآئدة:4) شکاری جانورجس شکار کو تمہارے لیے پکڑ رکھیں اسے تم اللہ کا نام لے کر کھا سکتے ہو (المآئدة:4) اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال اور تمہارا کھانا ان کے لیے(المآئدة:5) کھا ؤ اُن چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں۔ یہ آٹھ نر و مادہ ہیں: دو بھیڑ کی قسم سے،دو بکری کی قسم سے، دو اُونٹ کی قسم سے اور دو گائے کی قسم سے (الانعام: 142,144)جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھا ؤ(الانعام:118) کھا ؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں (سورة الاعراف:160) سمندرکو مسخر کررکھا ہے تاکہ تم اس سے تروتازہ گوشت لے کر کھا ؤ اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو(سورة النحل:14) تمہارے لیے مویشی جانور حلال کیے گئے، ماسوا ان چیزوں کے جو تمہیں بتائی جاچکی ہیں(سورة الحج:30) ۔

(حرام کھانا):
 مُردار نہ کھا ؤ، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو (البقرة:173) کوئی ایسی چیز نہ کھا ؤ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو(البقرة:173) آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقہ سے نہ کھا ؤ(البقرة:188) تم پر حرام کیا گیا مُردار، خون، سور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ جو گلا گُھٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گر کر، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو ،سوائے اُس کے جسے تم نے زندہ پا کر ذبح کر لیا ۔اور وہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو(المآئدة:3) جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھا ؤ(الانعام:121) حرام ہے خواہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا سُور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے، یا فسق ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو (الانعام:145)اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے ،وہ ہے مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیاگیا ہو(سورة النحل:115) ۔

(مجبوراً حرام کھانا): 
جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر ان میں سے کوئی حرام چیز کھا لے، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بے شک اللہ معاف کرنے والا(المآئدة:3) قانون الٰہی کی خلاف ورزی کی خواہش کے بغیر اور حد ضرورت سے تجاوز نہ کرکے اگر کوئی حرام چیزوں کو کھالے تو یقینا اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے( النحل:115)۔

18۔ حق و باطل اور سیدھا راستہ


درحقیقت ان کی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے (النساء:155) وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے(سورة یونس:35) منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے(سورة الرعد:35) یک سُو ہوکر ابراہیم ؑکے طریقے پرچلو ۔(سورة النحل:123) سلامتی ہے اس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے(طٰہٰ:47) اور وہ سب باطل ہیں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں (الحج:62) کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کُفران کرتے ہیں(العنکبوت:67) تم زمین میں غیرحق پر مگن تھے اور پھر اس پر اتراتے تھے(سورة المومن:75) حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے(المدثر:45) کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو( الدہر:24) ہر اس چیز میں جو اللہ نے زمین اور آسمانوں میں پیدا کی ہے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غلط روی سے بچنا چاہتے ہیں(سورة یونس:6)۔

19۔ حیا اور فحاشی


اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جا ؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چُھپی(الانعام:151) میرے رب نے یہ چیزیں حرام کی ہیں: بے شرمی کے کام، خواہ کھلے ہوں یا چھپے۔گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو(الاعراف:33) فحش کام کرتے ہو؟عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی(جنسی) خواہش پوری کرتے ہو ؟(الاعراف: 80-81) لغویات سے دور رہتے ہیں (سورة المومنون:3) مومنین کے گروہ میں فحش پھیلانے والے دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں(سورة النور:19)اور کسی لغو چیز پران کا گزر ہوجائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں(الفرقان:72) جو بڑے گناہوں اوربے حیائی سے پرہیز کرتے ہیں اوراگر غصہ آ جائے تو درگزر کر جاتے ہیں(الشوریٰ:37)۔

20۔ دنیا اور آخرت


تم دنیا اور آخرت دونوںکی فکر کرو (البقرة:220) جو شخص محض ثوابِ دنیا کا طالب ہو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے پاس ثوابِ دُنیا بھی ہے اور ثوابِ آخرت بھی(النساء:134) جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں، اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہوگا (سورة یونس:7-8) لوگو! تمہاری یہ بغاوت تمہارے ہی خلاف پڑرہی ہے۔ دنیا کی زندگی کے مزے چند روزہ ہیں (سورة یونس:23) جو لوگ بس اس دنیا کی زندگی اور اس کی خوش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں (سورة ھود:15) جس کسی نے آخرت کی پیشی کا انکار کیا، اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے (الاعراف:147) کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا؟ (سورة التوبة:38) فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا (سورة یونس:45)آخرت کا گھر اُن کے لیے زیادہ بہتر ہے جنہوںنے تقویٰ کی روش اختیار کی (یوسف:109) اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن،تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی( بنی اسرائیل:19) جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اُ س کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا ( الکھف:105) جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے (سورة الکھف:110) ہر اس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمن کے مقابلے میں زیادہ سرکش بنا ہوا تھا (سورة مریم:69) تاکہ ہرمتنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے( طٰہٰ:15) قریب آگیا ہے لوگوںکے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں (الانبیاء:1) آخرت کو نہ ماننے والوں کےلئے اُن کے کرتوتوں کو خوشنما بنا دیا گیاہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں (النمل:4) لوگو! بچو اپنے رب کے غضب سے اور ڈرو قیامت کے دن سے۔( لقمان:33) جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہواور کثرت سے اللہ کو یاد کرے( الاحزاب:21) یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے (لقمان:33) اورروزِ جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے (المدثر:46) تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز یعنی دنیا سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو(قیامہ :20-21) اُس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ (الدہر:7)۔

21۔ رزق اوراللہ کافضل


جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دُوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو۔ ہاں! اللہ سے اس کے فضل کی دُعا مانگتے رہو (النساء:32) زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسانہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو(سورة ھود:6)تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو(سورة النحل:14) اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں سکون حاصل کرو اوردن کو اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ شاید کہ تم شکرگزار بنو (القصص:73) اللہ سے رزق مانگو، اُسی کی بندگی کرو اور اُس کا شکر ادا کرو (العنکبوت:17) رب جسے چاہتا ہے، کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا عطا کرتا ہے۔ (سبا:36) تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو ( فاطر:12) اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چُھپے خرچ کرتے ہیں۔(فاطر:29) اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو(سورة یٰسین:47) ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں(سورة الشوریٰ:38) تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر گزار ہو(سورة الجاثیہ:12) اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پُھول نہ جا ؤ(الحدید:23) تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا(سورة النبا :9-11) کیا یہ دُوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا؟ (النسائ:54) رات کو سونا اور دن کواللہ کا فضل کو تلاش کرنا ہے (الروم:23) ۔

22۔ رشتہ داروں سے سلوک


ماں باپ ، رشتے داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا(البقرة:83) مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال تک دودھ پلائیں (البقرة:233) اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو (الانعام:151) اللہ نے جن جن روابط کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیںبرقرار رکھتے ہیں (الرعد:21) جو ان رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے( الرعد:25) والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ (بنی اسرائیل:23) رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق( بنی اسرائیل:26) رشتہ دار، مسکین اورمہاجر فی سبیل اللہ کی مدد نہ کرنے پر صاحبِ فضل لوگ قسم نہ کھا بیٹھیں (النور:22) اپنے گھروں سے کھا ؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوںکے گھروں سے، یا اپنے چچا ؤں کے گھروں سے،یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا ان کے گھروں سے جن کی کنجیاں تمہاری سپردگی میں ہوں، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے (النور:61) کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھا ؤ یا الگ الگ کھاؤ( نور:61) انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے (عنکبوت:8) رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین و مسافر کواس کا حق (الروم:38) ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے (لقمان:14) منہ بولے بیٹوںکو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں (الاحزاب:5) عام مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں (الاحزاب:6) ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتا ؤ کرے (الاحقاف:15)۔

23۔ روزہ اور اعتکاف

تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں(البقرة:183) کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے(البقرة:184) ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے (البقرة:184) روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ہے (البقرة:187) روزہ میںسیاہی شب کی دھاری سے سپیدہ صبح کی دھاری تک راتوں کو کھا ؤ پیو(البقرة:187) جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو (البقرة:187)۔

24۔ زکوٰة اورصدقات

(زکوٰة کے مصارف):
اور زکوٰة ادا کرو (سورة البقرة:83) نماز قائم کرو،زکوٰة دو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو (النور:56) یہ صدقات ( فرض زکوٰة) تو دراصل1۔ فقیروں،2۔ مسکینوں، 3۔ صدقات کے کام پر مامور لوگوں، 4۔ جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو،5۔غلام آزاد کرانے، 6۔ قرضداروں کی مدد کرنے، 7۔ راہِ خدا اور8۔ مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں (سورة التوبة:60) وہ زکوٰة کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں (سورة مو منون:4)۔

(اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات):
جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں(البقرة :3) اللہ کی راہ میں خرچ کرواور احسان کا طریقہ اختیار کرو (البقرة:195) جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو، اُسے راہِ خدا میں خرچ کیاکرو(البقرة:219) جو کچھ مال متاع ہم نے تم کو بخشا ہے، اس میں سے خرچ کرو (البقرة:254) اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں (البقرة:265) جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اُس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔ دینے کے لیے بُری سے بُری چیز چھانٹنے کی کوشش نہ کرنے لگو (البقرة:267) تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی عزیز چیزیں خدا کی راہ میں خرچ نہ کرو(آلِ عمران:92)۔رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اورعطا کردہ رزق میں سے خرچ کرتے ہیں (السجدہ:16) جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں(الانفال:3)۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو (سورة محمد:38) آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (الحدید:10) جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو (منافقون :10) جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ سنو اور اطاعت کرو اور اپنے مال خرچ کرو(التغابن :16) ۔

(صدقہ کا اجر عظیم):
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں، اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں(البقرة:261) اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا (الانفال:60) راہِ خیر میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لیے بھلا ہے (البقرة:272) جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں تقرب کا اور رسولﷺ کی طرف سے رحمت کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں (التوبة:99) کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے( الحدید:11) جنہوں نے صدقات دے کر اللہ کو قرض حَسَن دیا ہے، اُن کو یقیناً کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا۔ (الحدید:18) اگر تم اللہ کو قرض دو تو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا (تغابن :17) اللہ کے عطا کردہ مال سے آخرت کا گھر بنانے کی فکرکر اور دُنیا سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر (قصص:77)۔

(احسان جتلائے بغیر دینا):
 اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کر کے احسان نہیں جتاتے، نہ دُکھ دیتے ہیں (البقرة:262) ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اُس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دُکھ ہو (البقرة:263) اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے۔ نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے نہ آخرت پر(البقرة:264) اللہ کووہ لوگ بھی ناپسند ہیں جو محض لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں (النسائ:38) جو ریاکاری کرتے ہیں اور ضرورت معمولی کی چیزیں لوگوں کو دینے سے گریز کرتے ہیں۔ (الماعون:6-7) ۔

(صدقہ چھپا کر دینا):
اگر اپنے صدقات عَلانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے۔ لیکن اگر چُھپا کر حاجت مندوں کو دو تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے(البقرة:271) ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے عَلانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں(سورة الرعد:22) ۔

(مدد کے بہترین مستحق): 
خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جواللہ کے کام میں ایسے گھر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسبِ معاش کے لیے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے (البقرة:273) اور ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے (سورة الذاریات:19) اپنا مال رشتے داروں، یتیموں ، مسکینوں، مسافروں اور مانگنے والوں پر خرچ کرو(البقرة:177) اپنے والدین ، رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر مال خرچ کرو (البقرة:215) ۔

(افضل صدقہ):
جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے( الحدید:10) اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے ( الحدید:7) ۔

(غربت میں صدقہ کرنا):
 جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال(سورة آلِ عمران:134) ۔

25۔ زنا اور تہمتِ زنا

زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ وہ بہت بُرا فعل ہے اور بڑا ہی بُرا راستہ(سورة بنی اسرائیل:32) زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو ( النور:2) زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ۔اور زانیہ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک کے ساتھ۔ اور یہ حرام کردیا گیا ہے اہل ایمان پر( النور:3) اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔( الفرقان:68)۔

(تہمتِ زنا):
 پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے والے چار گواہ لے کر نہ آئیں تو انہیں80 کوڑے مارواور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو(سورة النور:4) اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھاکر گواہی دے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اس پراللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو۔ عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھاکر شہادت دے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ سچا ہو (سورة النور: 6-8) ۔

26۔ سلام کرنا

جب کوئی تمہیں سلام کرے تو اس کو بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اسی طرح(النساء:86) دوسروں کے گھروں میںداخل نہ ہو جب تک اُن سے اجازت نہ لے لو اوراُن پر سلام نہ بھیج لو (النور:27) جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیاکرو (النور:61)۔

27۔ سودخوری

جو لوگ سود کھاتے ہیں، اُن کا حال اُس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چُھو کر با ؤلا کر دیا ہو، لہٰذا جسے یہ نصیحت پہنچے وہ آئندہ کے لیے سُود خوری سے باز آجائے (البقرة:275) خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو(البقرة:278) یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو۔ اللہ اور رسول کا حکم مان لو(آلِ عمران: 130-131) اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، سود لیتے ہیں اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں (النساء:161)مال میں اضافہ سود سے نہیں بلکہ زکوٰة سے ہوتا ہے (سورة الروم:39) ۔

28۔ شراب اور جوا

شراب اور جوا،ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے(البقرة:219) یہ شراب اور جُوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں(المآئدة:90) شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے (المآئدة:91)۔

29۔ شرک کی بخشش نہیں

یکسو ہوکر اللہ کے بندے بنو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو(سورة الحج:31) میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ( النور:55) تمہارے رب نے تم پر پابندیاں عائد کی ہیں کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو (الانعام:151) اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو( حٰمٓ السجدہ:14) اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبودنہ بنا ؤ( الذاریات:15)۔ وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبُود بناتے ہیں۔ وہ اُس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے (النساء:117) جس نے اللہ کے بجائے اپنا سرپرست شیطان کو بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑ گیا (النساء:119) انہوں نے اپنے علماءاور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے (سورة التوبة:31) یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کررہے ہیںجو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع( سورة یونس:18) اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھیراتے ہیں (سورة یوسف:106) اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکادیں؟ ( سورة ابراہیم:30) مجھے تو ان ہستیوں کی عبادت سے منع کردیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو(المومن:66)۔ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو (النحل:36) دو خدا نہ بنالو۔خدا تو بس ایک ہی ہے، لہٰذا تم مجھی سے ڈرو (سورة النحل:51) رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے تاکہ اللہ کے احسان کی ناشکری کرے (سورة مریم:36) جنہوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا ان کے لئے خوشخبری ہے (الزُمر:17) اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو (سورة الاحقاف:21) اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے(محمد:19)

(شرک کی بخشش نہیں): 
بس شرک ہی کی بخشش نہیں، اس کے سوا سب کچھ معاف ہوسکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے (النساء:116) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے (المآئدة:72) اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ تو جہنم میں ڈال دیاجائے گا( بنی اسرائیل:39) ۔اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ ملامت زدہ اور بے یارومددگار بیٹھا رہ جائے گا( بنی اسرائیل:22)۔ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہوجائے گا اور تم خسارے میں رہو گے (الزُمر:65) ۔

(جھوٹے معبودوں کا احوال):
 کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا؟ (المآئدة:76) اللہ کے احسان کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے ( النحل:73) آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سُنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ کوئی کام بناسکتی ہیں؟ ( مریم:42) اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں کہ وہ ان کے پشتیبان ہوں گے، کوئی پشتیبان نہ ہوگا ( مریم: 81-82) لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبود بنالیے ہیں جو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیداکیے جاتے ہیں۔جو اپنے لیے بھی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ نہ مارسکتے ہیں نہ جِلاسکتے ہیں۔ نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھاسکتے ہیں (الفرقان:3) ۔

(غیر اللہ کو پکارنا):
تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو(الاعراف:194) جو لوگ اللہ کے سوا کچھ شریکوں کو پکاررہے ہیں وہ نرے وہم و گمان کے پیرو ہیں (یونس:66) اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ نقصان(سورة یونس:106) اُسی کو پکارنا برحق ہے۔ رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ ان کی دعا ؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں (سورة الرعد:14) اوروہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہےں۔مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اوران کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا (النحل: 20-21) پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو نہ اس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ (الحج:۲۱) اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو (الشعرائ:213) اپنے رب کی طرف دعوت دو اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو (القصص: 77-78) اللہ ہی حق ہے اور اُسے چھوڑ کر جن دُوسری چیزوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں( سورة لقمان:30) ۔ اللہ کوچھوڑ کر جن دُوسروں کو تم پکارتے ہو وہ ایک پرکاہ کے مالک بھی نہیں ہیں( فاطر:13) انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سُن نہیں سکتے اور سُن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے( فاطر:14) ۔

(مشرکین):
 اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے تو اسے پناہ دے دو (التوبہ:6) مشرکین ناپاک ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجدِ حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں (التوبہ:28) مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا نہ کروچاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں(سورة التوبة:113) یکسو ہوکر اپنے آپ کو ٹھیک ٹھیک اس دین پر قائم کردے، اور ہرگز ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہو (سورة یونس:105)۔ اُن مشرکین میں سے نہ ہوجا ؤجنہوں نے اپنااپنا دین الگ بنالیا ہے (سورة الروم:32) کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ ہمارے کیے ہوئے احسان کی ناشکری کریں (سورة الروم:34) تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے جو زکوٰة نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں( حٰمٓ السجدہ:6-7)

(بُت پرستی، چاند سورج کی پوجا):
مجھے اور میری اولاد کو بُت پرستی سے بچا، پروردگار۔ ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے( ابراہیم:35) پس بتوں کی گندگی سے بچو (الحج:30) سُورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے (حٰمٓ السجدہ:37) ۔

(مشرکین کا عذرِ شرک):
 ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں (الزُمر:3) کیا اس خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں نے دوسروں کو شفیع بنا رکھا ہے؟ (سورة الزُمر:43) اُس سے زیادہ بہکا ہوا کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر اُنہیں پکارے جو قیامت تک جواب نہیں دے سکتے (الاحقاف:5)۔

30۔ شکر اورناشکری

(اللہ کا شکر ادا کرنا): تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ میرا شکر ادا کرو، کُفران نعمت نہ کرو(البقرة:152) اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو (البقرة:185) شکر کرنے والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطا کریں گے(آلِ عمران:145) پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجا لا (الاعراف:144) شکر گزار بنو گے تو اور زیادہ نوازوں گا۔ اگر کُفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے (ابراہیم:7) اس نے تمہیں کان، آنکھیں اورسوچنے والے دل دیئے تا کہ تم شکرگزار بنو( النحل:78) اللہ نے تمہیںسننے ،دیکھنے کی قوتیں دیں اور سوچنے کو دل دیئے مگر تم کم ہی شکرگزار ہوتے ہو (مومنون:78)رب تو لوگوںپر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (النمل:73) رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو (الروم:46) جو کوئی شکر کرے اس کا شکر اُس کے اپنے ہی لیے مفید ہے (لقمان:12) میرا شکر کر اوراپنے والدین کا شکر بجالا (لقمان:14) بہت سی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو (سورة لقمان:31) پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے؟ (سورة یٰسین:35) ۔

(ناشکری سے بچو): 
اللہ کی ناشکری سے بچو (آلِ عمران:123) اللہ کسی ناشکرے بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا(البقرة:277) ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اُس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے(ھود:9) رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے تاکہ اللہ کے احسان کی ناشکری کرے( النحل:55) خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کردے( بنی اسرائیل:69)

(ناشکری بھی کفر ہے):
 ہم نے اسے راستہ دکھادیا۔ اب خواہ یہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا(الدہر:3) اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا( الزُمر:7) اور اگر تم شکر کرو تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے (سورة الزُمر:7) ۔

(انسان ناشکرا ہے):
 حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشُکرا ہے (سورة ابراہیم:34) انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے (بنی اسرائیل:67) اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کردیتے ہیں (الفرقان:50) غدار اور ناشکرا ہی اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتاہے (سورة لقمان:32) عمل کرو شکر کے طریقے پر، میرے بندوں میں کم ہی شکرگزار ہیں ( سبا:13) پھر کیوں تم شکرگزار نہیں ہوتے؟ (سورة الواقعہ:70) حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے( العٰدیٰت:6) ۔

(مصیبت اورمایوسی):
 جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتا ہے اور پیٹھ موڑ لیتا ہے، اور جب ذرا مصیبت سے دوچار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے(بنی اسرائیل:83) ۔

(اللہ کی نعمتیں): 
اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے (ابراہیم:34) رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پکار رہا تھا (الزُمر:8) اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے (المومن:61) تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا تاکہ تم اُن کی پُشت پر چڑھو اور جب اُن پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو ( الزُخرف: 12-13) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلا ؤ گے؟ (سورة الرحمٰن:13)۔

31۔ شیطان اورشیطانی کام

حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے( یوسف:5) شیطان نے اُن کے بُرے کرتوت انہیں خوشنما بناکر دکھائے (النحل:63) آپ شیطان کی بندگی نہ کریں، شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے (مریم:44) جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطانِ سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں (الحج:3) شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی ان لوگوں کے لیے کو فتنہ بنادے گی جن کے دل کھوٹے ہیں(الحج:53) شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ وہ تو اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا (النور:21) شیطان کی بندگی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے( یٰسین:60) ابلیس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا(سورة صٓ:74) میں جہنم کو ابلیس سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو ابلیس کی پیروی کریں گے ( صٓ:85) اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو (حٰمٓ السجدہ:36)جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے(الزُخرف:36) یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہِ راست پر آنے سے روکتے ہیں(الزُخرف:37) کاناپھوسی تو ایک شیطانی کام ہے (المجادلہ:10) میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی، ہر اُس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے(الفلق:1-2) اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے(الفلق:3) اور گروہوں میں پھونکنے والوں یا والیوں کے شر سے(سورة الفلق:4) اور حاسد کے شر سے جبکہ وہ حسد کرے (سورة الفلق:5) اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے (سورة الناس: 4-6)۔

32۔ صبر، مصیبت اور آزمائش


(صبر):
  •  قرآنی واقعات میں ہر اُس شخص کے لیے نشانیاں ہیں جو صابر و شاکر ہو (ابراہیم:5) 
  •  صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (البقرة:153)
  •  تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کرو(البقرة:177)
  •  تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو(آلِ عمران:120) 
  •  تم ہر حال میں صبر اور خداترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے (آلِ عمران:186) 
  • اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو(سورة الاعراف:128)
  •  اذیتوں پر ہم صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہوناچاہیے (ابراہیم:12)
  •  انہوں نے صبرکیا ہے اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں (سورة العنکبوت:59)
  •  بیٹا، نماز قائم کر، نیکی کا حکم دے، بدی سے منع کر اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر(سورة لقمان:17)
  •  انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین لاتے رہے(السجدہ:24)
  •  ہم نے ایوب ؑ کو صابر پایا، بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا(صٓ:44) 
  • جو صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اُولو العزمی کے کاموں میں سے ہے (الشوریٰ:43)
  •  اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو (مدثر:7)
  •  تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو (الدھر:24)
  •  جنہوں نے ایک د وسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کی(البلد:17)

(مصیبت کا سبب):
  • جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو(آلِ عمران:153)
  •  اے انسان! تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے (النساء:79)
  •  انسان پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے۔ مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا ( یونس:12) 
  • لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب ہم اُن کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملہ میں چالبازیاں شروع کردیتے ہیں(سورة یونس:21)
  •  قریب آگیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں(سورةالانبیاء:1) 
  •  ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کررہے ہیں(الانبیاء:35)
  •  ہر مصیبت پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرتے ہیں (الحج:35)
  •  ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے کہ کیا تم صبر کرتے ہو؟ (سورةالفرقان:20)
  •  انسان پر جب مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے(المعارج : 20-21)
  •  جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہوا اس پر تم دل شکستہ نہ ہو(سورة الحدید:23)۔


کوئی تبصرے نہیں: