September 2018 - پیغام قرآن و حدیث

اتوار، 30 ستمبر، 2018

Bunyadi wajah
zun o shauher ka jhagRa
Aurat ki molaazmat
Bewa ki shadi
Talaq kay sharayee zaabtay
ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
ستمبر 30, 20180 Comments
مسلمانوں کے عروج و زوال کی کہانی علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ تعالیٰ کی زبانی کیا خوب بیان کی ہے کہ ع
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان قرآن و سنت پر من حیث القوم عمل پیرا رہے، وہ نہ صرف سیاسی طور پر دنیا میں عروج پر رہے بلکہ عصری علوم و فنون میں بھی دنیا کے امام بنے رہے۔ دنیا کی دیگر اقوام سائنس و ٹیکنالوجی سمیت جملہ علوم و فنون سیکھنے کے لیے مسلم ممالک کی درسگاہوں کا اسی طرح رُخ کیا کرتی تھیں جیسے آج کے مسلمان عصری علوم و فنون سیکھنے کے لیے مغربی ممالک کی طرف دیکھتے ہیں۔ مسلمانوں کے اس عروج کے زمانے میں آج کا ترقی یافتہ مغرب اور یورپ تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، جسے وہ خود بھی ’تاریک دور‘ سے یاد کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا زوال اس وقت شروع ہواجب وہ قرآن و سنت سے دور ہوتے چلے گئے۔ اس کے برعکس تاریخ ہمیں یہ دلچسپ صور تحال بھی بتلاتی ہے کہ مغربی اقوام اُس وقت تک تاریکی میں ڈوبی رہیں جب تک ان کا اپنے مذہب سے تعلق استوار رہا۔ بعد ازاں مغرب نے اسٹیٹ کے معاملات کوچرچ سے علیحدہ کیا اور اپنے مذہبی معاملات کو چرچ تک محدود کیا تو اُن پر دُنیوی ترقی کے دروازے کھلتے چلے گئے۔
ماہرینِ دینیات اس بات کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل اور ترقی یافتہ دین ہے جو دنیا کے تمام معاملات میں درست سمت میں رہنمائی فراہم کر نے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔ لہٰذا مسلمان جب تک اپنے دین کے اصل ماخذ یعنی قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرتے رہے، دنیا میں کامیاب و کامران رہے۔ اس کے برعکس عیسائیت سمیت دیگر تمام مذاہب نامکمل اور ناقص ہونے کے سبب بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصرہیں۔ لہٰذا مغرب جب تک اپنے فرسودہ مذہبی روایات سے جڑا رہا، ترقی سے دور رہا۔ لیکن جب انہوں نے اپنے اس ناقص مذہب سے چھٹکارا حاصل کر لیا تو وہ ترقی کرتے چلے گئے۔ مسلمانوں کے بعض نادان دوست، مسلمانوں کو بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے دُنیوی معاملات کو اپنے دین سے جدا کرنے کے اسی راستے پر چلانا چاہتے ہیں، جس پر چل کر مغرب نے ترقی کی ہے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے، ہم جوں جوں اپنے دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں، تنزلی کے گڑھے میں گرتے چلے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مسلمان انفرادی و اجتماعی سطح پر اپنے جملہ معاملات کو اپنے دین کے اصل ماخذ یعنی قرآن و حدیث سے جوڑنے کی کوشش کریں۔
ماشا اللہ آپ ایک تعلیم یافتہ مسلمان ہیں، آپ نے قرآن مجید تو پڑھا ہی ہوگا؟
ارے آپ کیسی باتیں کرتے ہیں، میں نے تو آٹھ سال کی عمر میں قرآن پاک ختم کر لیا تھا۔ بلکہ اسکول جانے سے قبل کئی پارے حفظ بھی کر لیے تھے۔
ماشا اللہ بہت خوب، تو کیا اَب آپ قرآن پاک نہیں پڑھتے؟
اَب ایسا بھی نہیں ہے۔ رمضان المبارک میں تو کم از کم ایک قرآن پاک تو ختم کر ہی لیتا ہوں۔ عام دنوں میں ذرا وقت نہیں ملتا البتہ جب کبھی کسی قرآن خوانی وغیرہ میں شرکت کر تا ہوں تو وہاں بھی ایک آدھ سپارہ تو ضرورپڑھ لیتا ہوں۔
ویسے یہ تو بتائیں کہ کیا کبھی آپ نے قرآن کو سمجھ کر بھی پڑھا ہے۔ عربی زبان تو شاید آپ کو نہیں آتی۔
بھئی عربی تو اسکولوں میں پڑھی تھی، اب تو سب کچھ بھول بھال گیا۔ البتہ قرآن کا ترجمہ تو اکثر پڑھتا ہی رہتا ہوں۔ اخبارات و جرائد میں بھی قرآن کے ترجمے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اور میرے پاس تو کئی تفاسیر بھی موجود ہیں۔ اردو انگریزی دونوں زبانوں میں کئی ترجمے موجود ہیں جنہیں وقتاً فوقتاً پڑھتا بھی رہتا ہوں۔ خاص طور سے جب کسی اسلامی موضوع پر کوئی تحریر لکھنی ہو یا تقریر کرنی ہو تو ان تفاسیر سے ضرور استفادہ کرتا ہوں۔
ماشاء اللہ آپ تو خاصے دیندار ہیں اور قرآن سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔
جی بس کیا عرض کروں، مسلمان ہونے کے ناطے قرآن سے تعلق تو رہتا ہی ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہوں گے، اسے اُمّ الکتاب بھی کہا جاتا ہے۔ تمام علوم کے سوتے قرآن ہی سے پھوٹتے ہیں۔ بہت سے غیر مسلم سائنسدانوں اور اسکالرز نے بھی قرآن سے استفادہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ماہر حیاتیات کیتھ مور، البرٹ آئن اسٹائن، برنارڈشا، ٹالسٹائی وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ واہ بھئی واہ، آپ کی تو قرآن کے بارے میں خاصی معلومات ہیں۔ بس جی اللہ کا شکر ہے، تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہوا ہے۔
ویسے آپ نے تو ماسٹرز کیا ہوا ہے نا؟
جی ہاں آپ کو تو پتہ ہی ہے، پھر کیوں پوچھ رہے ہیں؟
بس ویسے ہی، ذرا یہ تو بتلائیے کہ ماسٹرز تک کی تعلیم کے دوران آپ نے اندازاً کتنی تعداد میں کتابیں پڑھی ہوں گی؟
بھئی خیریت تو ہے نا؟ آج آپ کا سارا زور کتابوں ہی پر ہے۔ ظاہر ہے اس دوران سینکڑوں درسی اور حوالہ جاتی کتب تو پڑھی ہی ہوں گی۔ اور سچ پوچھیں تو مَیں نے اپنی زندگی میں درسی کتب سے زیادہ غیر درسی کتب ہی پڑھی ہوں گی۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے، مجھے کتابیں پڑھنے کا کتنا شوق ہے۔
اسی لیے تو پوچھ رہا ہوں۔ ویسے یہ تو بتائیے کہ آپ کتابیں بالعموم پوری پڑھتے ہیں یا اِدھر اُدھر کے چند صفحات پڑھ کر چھوڑدیتے ہیں۔
بھئی آج آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ کتابیں نہ ہوئیں، اخبارات و رسائل ہو گئے۔ بھئی کتابیں تو شروع سے لے کر آخر تک پڑھی جاتی ہیں۔ اور مَیں تو جب کوئی کتاب شروع کرلوں، اُس وقت تک چین نہیں آتا، جب تک اُسے ختم نہ کرلوں۔
بہت خوب! گویا اب تک آپ نے سینکڑوں کتابیں پڑھ چکے ہیں اور بیشتر کتابیں پوری یعنی شروع سے لے کر آخر تک پڑھی ہیں۔ اور آئندہ بھی یہی طرزِ عمل جاری رکھنے کا ارادہ ہے۔
جی ہاں آپ درست کہہ رہے ہیں، کتابوں سے بڑھ کر کوئی دوست نہیں۔ اور میرا تو کتابوں سے گہرا یارانہ ہے۔
اَب میں آپ سے ایک سوال کروں گا، آپ ناراض مت ہوئیے گا۔ کیا آپ نے آج تک پورا قرآن مجید پڑھا ہے؟
بھئی مَیں نے بتایا تو ہے کہ بچپن سے اب تک نہ جانے کتنی مرتبہ قرآن پاک ختم کر چکا ہوں۔
نہیں میرا سوال یہ نہیں تھا۔ آپ کو چونکہ عربی زبان نہیں آتی لہٰذا عربی میں قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے تو آپ کو یہ معلوم نہیں ہوتا ہوگا کہ جو کچھ آپ پڑھ رہے ہیں اُس کا مطلب کیا ہے۔
یہ بات تو مَیں آپ کو پہلے ہی بتلا چکا ہوں۔
بھئی میرے پوچھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اب تک کی زندگی میں جہاں سینکڑوں اردو انگریزی کی کتابیں سمجھ کر پڑھ رکھی ہیںاور دیگر زبانوں کی مشہور و معروف کتابوں کے انگریزی یا اردو تراجم بھی پڑھے ہوئے ہیں۔ تو کیا آپ نے اسی طرح اب تک ایک مرتبہ بھی پورا قرآن مجید ترجمہ کے ذریعہ سمجھ کر پڑھا ہے؟
مَیں نے آپ کو بتلایا تو ہے کہ بارہا میں ترجمہ و تفاسیر سے بھی قرآن کا مطالعہ کرتا رہا ہوں اور اب بھی، جب کبھی وقت ملتا ہے تو قرآن کو سمجھ کر بھی پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بھئی یہ بات تو آپ پہلے بھی بتلا چکے ہیں اور میں آپ کے اس عمل کی تعریف بھی کر چکا ہوں۔ قرآن کے بارے میں ماشاء اللہ آپ کی معلومات بھی بہت ہیں۔
پھر آپ یہی سوال بار بار کیوں کر رہے ہیں؟
بھئی اب میں نے وہی سوال نہیں بلکہ ایک مختلف سوال کیا ہے، ذرا سوچ سمجھ کر صرف ہاں یا ناں میں جواب دیجیے کہ کیا آپ نے پوری زندگی میں ایک مرتبہ بھی ترتیب سے پورا قرآن مجید، تھوڑا تھورا کر کے ہی سہی سمجھ کر مکمل ختم کیا ہے۔
آں، ہاں، پورا تو شاید نہیں، لیکن۔۔۔
آپ اس لیکن کا سہارا نہ ہی لیں تو بہتر ہے۔ آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کتابیں پڑھنے کے شوقین ہیں۔ جب تک آپ کوئی کتاب پوری نہ پڑھ لیں، آپ کو چین نہیں آتا۔ آپ اب تک سینکڑوں کتابیں مکمل طور پر پڑھ چکے ہیں، جن میں کئی ایسی کتب بھی شامل ہیں، جن کی اصل زبان آپ کو نہیں آتی۔ لہٰذا آپ نے ان کتابوں کے اردو یا انگریزی تراجم پڑھے ہیں۔ خود قرآن کو بھی عربی زبان میں کئی مرتبہ ختم کر چکے ہیں۔
جی ہاں بالکل یہی بات ہے۔
مگر اس کے باوجود آپ نے ابھی تک ایک مرتبہ بھی قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پورا مکمل نہیں پڑھا۔
ہاں آپ کہہ سکتے ہیں۔
کیا آپ اس کھلی تضاد کی وجہ بتلا سکتے ہیں جب کہ آپ کا یہ ماننا بھی ہے کہ قرآن امّ الکتاب ہے اور سارے علوم کے سوتے اسی کتاب سے پھوٹتے ہیں۔ اسی وجہ سے غیر مسلم اسکالرز بھی قرآن سے استفادہ کرتے رہتے ہیں، حالانکہ ان کی زبان بھی عربی نہیں ہے۔
ہاں یہ تو ہے۔ تو کیا آپ قرآن کو کم اہمیت دیتے ہیں؟
نہیں نہیں، خدا نخواستہ ایسی بات تو نہیں۔
پھر آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
بس جی موقع نہیں ملا، دنیا داری کے جھمیلے میں وقت بھی نہیں ملتا۔
مگر آپ تو اسی جھمیلے میں سینکروں کتابیں پڑھ چکے ہیں۔
بس آپ اسے میری کوتاہی سمجھ لیں۔ آج تو آپ مجھے شرمندہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
نہیں میرے بھائی، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ مَیں اصل میں آپ کی توجہ اُس 'بنیادی وجہ' کی طرف دلانا چاہتا تھا، جس کی وجہ سے آپ آج تک ہزاروں کتابوں کو پڑھنے کے باوجود ایک اہم ترین کتاب قرآن مجید کا مکمل مطالعہ نہیں کر سکے۔
بنیادی وجہ؟
جی ہاں! بنیادی وجہ یعنی وہ روٹ کاز جس کی وجہ سے کوئی کام خراب ہوتا ہے، یا درست طریقہ سے نہیں ہو پاتا۔
آپ کا مطلب ہے کہ میری نا اہلی کے علاوہ بھی اس کی کوئی وجہ ہو سکتی ہے۔
جی ہاں! ایک بنیادی وجہ ایسی بھی ہے جس کی وجہ سے کتابوں کا شوق نہ رکھنے والے نیم تعلیم یافتہ افراد تو ایک طرف، آپ جیسے یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، کتابوں کے شوقین احباب بھی قرآن کو ترجمے کے ساتھ مکمل طور پر پڑھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
جی! تو ارشاد فرمائیے، وہ بنیادی وجہ کیا ہے؟
جی مَیں وہی عرض کرنے چلا ہوں۔ اصل میں ہم لوگ جب قرآن مجید کا اردو یا انگریزی ترجمہ پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ترجمہ کے مطالعہ کے دوران ہمیں ایک نامانوس سی اجنبیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزانہ سینکڑوں صفحات پر مشتمل کتب و رسائل کو آسانی کے ساتھ پڑھنے کی اہلیت رکھنے والے قارئین بھی جب قرآن کا مطالعہ ترجمہ کے ساتھ شروع کرتے ہیں تو چندصفحات کے مطالعہ کے بعد ہی ان کی توجہ بھٹکنے لگتی ہے۔ دراصل ہم یا تو ایک ہی موضوع پر لکھی گئی کتاب کو روانی کے ساتھ پڑھنے کے عادی ہیں یا پھر ایسے کتب و جرائد کو جس کے متنوع موضوعات کی درجہ بندی واضح طور پر دکھائی دے۔ کتاب کے آغاز میں روایتی طور پر فہرستِ مضامین موجود ہو۔ ہر باب کے طویل متن کو مختصر نثر پاروں میں تقسیم کیا گیا ہو اور قارئین کی دلچسپی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ذیلی عنوانات یا سرخیاں بھی دی گئی ہوں۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث گریجویشن کی سطح تک سینکڑوں کتابوں کا مطالعہ کر لینے کے باوجود شاید ہی کوئی طالب علم ایسا نظر آتا ہو جس نے زندگی میں ایک مرتبہ بھی مکمل قرآن مجید کو ترجمہ کے ساتھ پڑھ رکھا ہو۔ حالانکہ ہم سب بچپن ہی سے عربی زبان میں قرآن کا ناظرہ پڑھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ عجمی ہونے کے باوجود عربی زبان زبان میں ناظرہ میں ہمیں کوئی دقت اس لیے نہیں ہوتی کہ عربی میں قرآن کی روانی اور اس کا حسنِ بیان توبے مثال ہے۔ یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال گزرنے کے باوجود عالمِ عرب و عجم میں اس کی قرات کی روانی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ جبکہ تراجم قرآن میں ایسی روانی ممکن ہی نہیں کہ یہ انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
تقریری اندازِبیان میں نازل ہونے والی قرآن مجید آج ہمارے سامنے سورتوں اور آیات کی درجہ بندی کے ساتھ تحریرِ مسلسل کی شکل میں موجود ہے۔ قرآن مجید کا کوئی بھی ترجمہ اپنی بصری ہیئت میں ان کتب جیسا نہیں ہے، جنہیں ہم روز و شب روانی کے ساتھ پڑھنے کے عادی ہیں۔ عام قارئین کی اسی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے پیغامِ قرآن نامی کتاب کو مرتب کیا گیا ہے۔ پیغامِ قرآن کے اصل متن اور ایک عام بامحاورہ ترجمہ قرآن میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ پیغامِ قرآن میں آیات کے تراجم کی ترتیب کو تبدیل کیے بغیر ہر پارے کی جملہ آیات کو مختلف پیراگراف میں تقسیم کرکے ذیلی عنوانات قائم کیے گئے ہیں اور ہر پارہ کے آغاز میں ایسے تمام ذیلی عنوانات کی فہرست بھی دی گئی ہے، تاکہ قارئین پیغامِ قرآن کو اسی سہولت کے ساتھ پڑھ سکیں جس کے وہ عام مطالعہ کے دوران عادی ہیں۔ ہر پیراگراف کے ساتھ سورت کا نام اور آیت کا نمبر شمار بطور حوالہ درج ہے، تاکہ پیغامِ قرآن کے مطالعہ کے دوران اگر کہیں مزید وضاحت کی ضرورت محسوس ہو تو قرآن پاک کے اصل عربی متن اور دیگر تراجم و تفاسیر سے آسانی کے ساتھ رجوع کیا جاسکے۔ متن میں جہاں کہیں بھی اوامر و نواہی کا بلاواسطہ یابالواسطہ حکم موجود ہے اُن سطور کو جلی اور خط کشیدہ الفاظ میں تحریر کیا گیا ہے۔ کتاب کے آخر میں جملہ اوامر و نواہی کا اشاریہ بھی شامل کیا گیا ہے۔پیغامِ قرآن دراصل جدید تعلیم یافتہ اور کم پڑھے لکھے افراد کو براہِ راست قرآن کے مطالعہ کی طرف راغب کرنے کی ایک ادنیٰ سی کاوش ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عربی زبان سے نابلد اردو داں طبقہ تک قرآن کے پیغام کو براہِ راست پہنچا سکیں تاکہ وہ اسلام کے اصل پیغام سے باخبر ہو سکیں۔ پیغام قرآن کو کتابی صورت میں شائع کرنے کے علاوہ ویب پر بھی پیش کیا گیا ہے۔ جہاں اسے نہ صرف آن لائن ریڈ کیا جاسکتا ہے بلکہ ڈاؤن لوڈ بھی یا جاسکتا ہے۔
Reading Time:
سسرال مرے پیچھے ہے تو میکہ مرے آگے
ستمبر 30, 20180 Comments
سسرال مرے پیچھے ہے تو میکہ مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے
گھر کسی بھی معاشرے کا اہم ترین بنیادی ادارہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا پیداواری ادارہ ہےجو سوسائٹی کو بہتر انسان کی مسلسل فراہمی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ گھر کے اس اہم ترین ادارے کا آغاز دو بنیادی ارکان یعنی شوہر اور بیوی سے ہوتا ہے۔ اس ادارے کو کامیابی سے چلانے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تین باتوں کا پیشگی تعین کر لیا جائے۔ پہلی بات اس ادارہ کے قیام کا بنیادی مقصد، دوسرا اس مقصد کو حاصل کرنے کا لائحہ عمل یا طریقہ کار اور تیسرا مقصد کے حصول کی غرض سے طے کردہ طریقہ کار پر عمل درآمد کے لیے ورکنگ ٹیم کے سربراہ کی تقرری۔ گھر کے ادارہ کے قیام کا بنیادی مقصد تو سوسائٹی کو بہتر انسانوں کی فراہمی ہے۔ جبکہ اس مقصد کے حصول کے لیے لائحہ عمل ہمیں مختلف دنیوی نظام ہائے زندگی یا مذاہب عطا کرتا ہے۔ ہم مسلمانوں کے لیے یہ لائحہ عمل اسلام عطا کرتا ہے۔ ایک نئے گھر کے تاسیسی ارکان چوں کہ میاں بیوی ہی ہوتے ہیں، لہٰذا گھر کا سربراہ بھی انہی میں سے کسی ایک کو ہونا چاہیے۔ عقل و شعور، منطق، تاریخی شواہد، دیگر مذاہب اور اسلام سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ گھر کا سربراہ شوہر کو ہی ہونا چاہیے۔ خود خواتین بھی اُصولی طور پر اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ اللہ نے مردوں کو نسبتاً برتر جسمانی و دانائی کی قوت اسی لیے عطا کی گئی ہے کہ وہ گھر میں ایک لیڈنگ رول کردار ادا کرے۔ شریعتِ اسلامی میں اسی لیے شوہر کا رُتبہ و درجہ بلند رکھا گیا ہے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ مرد کی صنف کو مجموعی طور پر عورت کی صنف پر برتری حاصل نہیں۔
جس طرح مرد کے چار بنیادی روپ ہیں یعنی بیٹا،بھائی، شوہر اور باپ۔ اسی طرح عورت کے بھی چار ہی روپ ہیں یعنی بیٹی، بہن، بیوی اور ماں۔ مستثنیات کے علاوہ بیٹا بیٹی یا بہن بھائی عمومی طور پر مساوی حیثیت و مرتبے کے حامل ہوتے ہیں یعنی ان میں سے کوئی مطلقاًحاکم یا محکوم نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس بیٹی اور باپ کے رشتے میں باپ(مرد) کو بطور ولی اور بیٹا اورماں کے رشتے میں ماں (عورت) کوحاکمیت کا درجہ عطا کیا گیا ہے۔ دوسری طرف شوہر اور بیوی کے تناظر میں دونوں ایک دوسرے کے لائف پارٹنرہوتے ہوئے نہ صرف یہ کہ دونوں کی ذمہ داریاں یکسر مختلف اور علیحدہ ہیں بلکہ باہمی ورکنگ ریلیشن شپ کو مؤثر بنانے کے لیے شوہر کا ایک درجہ بلندبھی رکھا گیا ہے تاکہ اختلافِ رائے کی صورت میں شوہر کی ا تھارٹی پر عمل درآمد کیا جاسکے۔ جس طرح اپنی ماں (ایک عورت) کا نافرمان بیٹا (ایک مرد) جہنم کا مستحق ٹھہرسکتا ہے۔ اسی طرح اپنے شوہر (ایک مرد) کی نافرمان بیوی (عورت) بھی داخلِ جہنم ہو سکتی ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ دورِ رسالت ﷺ میں ایک نافرمان بیٹا عذابِ مرگ میں تڑپ رہا تھا اور اس کی جان نہیں نکل رہی تھی۔ جب حضور ﷺ کو اس بات کی خبر ملی تو آپﷺ نے نافرمان بیٹے کی ماں سے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی خطا بخش دے تاکہ اس کی جان آسانی سے نکل سکے۔ لیکن ماں نے اپنے بیٹے کو اس بنیاد پر معاف کرنے سے انکار کر دیا کہ بیٹے نے ماں کو اپنی زندگی میں بہت ستایا تھا۔ چنانچہ رسولِ ا کرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکڑیاں جمع کر کے الاؤ جلانے کا حکم دیا تاکہ اس الاؤ میں اس نافرمان بیٹے کو جلایا جاسکے۔ جب اس بات کی اطلاع اُس ماں کو ملی تو اس نے احتجاج کیا کہ میرے بیٹے کو کیوں جلایا جا رہا ہے۔ حضور ﷺنے فرمایا کہ جب اسے جہنم کی آگ میں جلنا ہی ہے توکیوں نہ اسے یہاں بھی جلا ہی دیا جائے۔ یہ بات سنتے ہی اس دکھیاری ماں نے فورااًپنے بیٹے کی خطا معاف کر دی۔ ماں کے معاف کرتے ہی وہ شخص جان کنی کے عذاب سے نجات پا گیا اور اس کی روح پرواز کرگئی۔ اس واقعہ سے عورت کی بہ حیثیت ماں کے درجہ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر ماں بیٹے سے ناراض ہو تواللہ اُسے جہنم کے آگ میں اور اللہ کے رسول ﷺ اسی دنیا میں جلانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ آپ ﷺ رحمۃاللعالمین ہیں اور اللہ تو رحمٰن بھی ہے اور رحیم بھی۔
اگرکوئی فرد (جیسے جمہوری انتخابات میں جیتنے والی سیاسی پارٹی کا سربراہ) کسی بھی رکن اسمبلی کو وزیر اعظم جیسا بلند مرتبہ عطا کرنے کی اہلیت رکھتا ہو تو اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتی ہے کہ خود وہ شخص وزیراعظم سے بلندتر درجہ کا حامل ہوگا۔ عورت بیٹی اور بہن کی حیثیت سے تو اپنے مدمقابل بیٹا اور بھائی سے کم و بیش برابری کا درجہ ہی رکھتی ہے۔ لیکن جب ایک اور مرد (شوہر) اِسے ماں بناتا ہے تو اس (ماں ) عورت کا درجہ ایک یا ایک سے زائد مردوں (بیٹوں ) سے اس درجہ بلند ہو جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ بھی ان مرَدوں (بیٹوں ) سے اس وقت تک راضی نہیں ہوتا جب تک یہ (ماں ) عورت راضی نہیں ہو جاتی۔ اب آپ خود سوچئے کہ جو مرد (شوہر) اسے اس بلند تر درجہ پر فائز کرنے کا سبب بنتا ہے، خود اس کا درجہ (کسی کو وزیر اعظم بنانے والے کی طرح) اس سے لازما" بلند ہو گا۔ ایک حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میرے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا رَوا ہوتا تو میں بیویوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ ایک اور حدیث کے مطابق فرشتے رات بھر اُس بیوی پر لعنت کرتے رہتے ہیں جو اپنے شوہر سے روٹھ کر شوہر اور اُس کے بستر سے دور رات بسر کرے۔ شادی سے قبل عورت باپ کے حکم کے تابع ہوتی ہے تو شادی کے بعدباپ سے برتر درجہ شوہر کا ہو جاتا ہے اورباپ کے گھر (میکہ) سے شوہر کا گھر (سسرال)مقدم ٹھہرتا ہے۔
جو عورتیں اس فطری اور عین اسلامی حدود و قیود کو دل سے قبول نہیں کرتیں، وہ نہ گھر کی رہتی ہیں نہ گھاٹ کی۔ یعنی پھر اُن کی عزت نہ میکہ میں ہوتی ہے نہ سسرال میں۔ سسرال کو اپنے پیچھے اورمیکہ کو اپنے آگے رکھنے والی بیویوں کے سامنے شب و روز تماشہ تو ہو اہی کرتا ہے۔ لیکن ایسی بیویوں کا اُخروی انجام بھی بُرا ہی ہوا کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں نے معراج میں جہنم میں عورتوں کی کثرت کو دیکھا جو محض اس وجہ سے جہنم میں ڈالی گئیں تھیں کہ وہ اپنے شوہر کی ناشکرگذار تھیں۔ شوہر کی فرمانبرداری کی اہمیت کا اندازہ عہدِ نبوی کے اس واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
تجارت کی غرض سے بیرونِ شہر جانے والے ایک شخص نے احتیاتاً اپنی بیوی کو ہدایت کی کہ جب تک میں واپس نہ آ جاؤں، تم گھر سے باہر نہ نکلنا۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ شوہر کی غیر موجودگی میں خاتون کے والد کا انتقال ہو گیا۔ جب اس کے میکہ والے اسے لینے آئے تو اُس نے جانے سے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ میرے شوہر نے کہا تھا کہ جب تک وہ واپس نہ آ جائے، میں گھر سے باہر نہ نکلوں۔ یوں وہ اپنے والد کے آخری دیدار سے محروم رہ گئیں۔ بعد ازاں خاتون نے دربارِ رسالت میں اپنے شوہر کی شکایت کرتے ہوئے اپنا دکھ پیش کیا تورحمۃاللعالمین ﷺنے فرمایا کہ تمہارے اس عمل سے تمہارا رب اتنا خوش ہوا کہ اُس نے تمہارے والد کی مغفرت کر دی۔ کیا تم اپنے رب کی اس بات سے خوش نہیں۔ چنانچہ خاتون نے اپنی شکایت واپس لے لی۔
اسلام نے جہاں بیوی کو شوہر کی فرمانبرداری کا حکم دیا ہے، وہیں گھر کی جملہ ضروریات کی فراہمی کا ذمہ دار شوہر کو قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے حق میں بہتر ہو۔ اللہ کے رسول ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عورتیں کمان کی مانند ہیں جنہیں پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔ اگر تم انہیں سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو تم اُنہیں توڑدو گے۔ آپ ﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ بیوی کو ناراض ہونے سے بچانے کے لیے اُس سے (بے ضر ر) جھوٹ بھی بولا جاسکتا ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے شوہر اور بیوی دونوں کو اپنا اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ ہمارے اعمال کہیں قرآن و سنت سے متصادم تو نہیں۔ یہاں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ میاں بیوی میں فطرتاً کون تیز و طرار ہے اور کون خاموش طبع۔ آپ غصہ ور ہوں یا خاموش طبع، مظلوم ہونے کی صورت میں اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیے کہ ظلم خواہ شوہر کی طرف سے ہو یا بیوی کی طرف سے، ظالم کو اس کی سزا ضرور ملتی ہے۔ بیویاں تیزی و طراری سے شوہروں پرحاوی ہونے والی ہوں یا خاموش طبع چُپ چاپ رہنے والی، وہ یہ بات ہرگز نہ بھولیں کہ اس دنیا میں شوہروالی خاتون کی حیثیت بے شوہر والی خاتون سے بہر حال بہترہوتی ہے۔ ہمارے ہاں شوہربڑی مشکل سے ملتے ہیں، اسے پا کر گنوانا کوئی عقلمندی نہیں۔
ایک شوہر جسے تو گراں سمجھتی ہے
ہزار شوہروں سے دیتا ہے عورت کو نجات
Reading Time:
خاندانی منصوبہ بندی کیجیے
ستمبر 30, 20180 Comments
ہم لوگ ہر قسم کی منصوبہ بندی کرتے ہیں لیکن اگر نہیں کرتے توحقیقی خاندانی منصوبہ بندی نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی ہیں توخاندانی منصوبہ بندی کے نام پر ایک ایسی غلط العام منصوبہ بندی کرتے ہیں جسے عرفِ عام میں"چھوٹا خاندان، زندگی آسان" کہتے ہیں۔ "خاندانی منصوبہ بندی" کا مطلب اگر "چھوٹا خاندان" لیا جائے تو مستقبل کی منصوبہ بندی (فیوچر پلاننگ)، وقت کی منصوبہ بندی (ٹائم مینجمنٹ)، تعلیمی منصوبہ بندی (ایجو کیشن پلاننگ) وغیرہ کا بھلاکیا مطلب ہوگا؟
ایک نئے خاندان کا آغازایک نئی شادی سے ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں حقیقی خاندانی منصوبہ بندی کا آغاز بھی شادی ہی سے کرنا ہوگا۔ شادی میں بنیادی طور پر دو فریق یعنی لڑکا اور لڑکی جب کہ سماجی طور پردو خاندان شریک ہوتے ہیں، جو ایک نئے خاندان کو جنم دینے کا سبب بنتے ہیں۔ شادی ایک سماجی ضرورت ہونے کے علاوہ ہر بالغ مرد و زن کی دوسری بنیادی ضرورت بھی ہے۔ انسان کی پہلی بنیادی ضرورت غذا ہے۔ باقی دیگر مادّی ضروریات کی حیثیت یا توثانوی ہے یا پھر انہی دونوں بنیادی ضرورتوں کا ضمیمہ۔ ایک بالغ انسان یہ دونوں بنیادی ضرور یات پوری ہونے تک غیر مطمئن ہی رہتا ہے اور ایک غیر مطمئن انسان نہ تو خود اپنا بھلا کرسکتا ہے اور نہ ہی اپنے خاندان یا معاشرہ کے لیے کوئی مفید کردار ادا کرسکتا ہے۔اسلام انسان کی ان دونوں ضرورتوں کا نہ صرف یہ کہ احترام کرتا ہے بلکہ انہیں پورا کرنے کا فطری راستہ بھی دکھاتا ہے۔ابتدائی ذمہ داری والدین کی ہے کہ وہ اپنے اپنے بچوں کو حلال اور اس قدر وافر خوراک کی فراہمی کو یقینی بنائیں کہ جب ان کا بچہ گھر سے باہر نکلے تو دوسروں کو کھاتا پیتا دیکھ کر اس کا جی نہ للچائے اور نہ ہی آس پاس موجود کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھ کر پہلے بھوک کے ہاتھوں مجبوراَ اور بعد ازاں عادتاَ چوری چکاری کی جانب مائل ہوجائے۔ اسی طرح بالغ ہوتے ہی بچے کی دوسری بنیادی ضرورت کی ایسی منصوبہ بندی کی جائے کہ لڑکا ہو یا لڑکی ، اخلاقی بے راہ روی کی طرف مائل ہی نہ ہو سکیں۔
ایک چینی کہاوت ہے کہ تجربہ ایک ایسی کنگھی ہے، جو انسان کو اس وقت ملتی ہے جب وہ گنجا ہوچکا ہوتا ہے۔ شادی بیاہ ہی کے معاملہ کو لے لیجیے۔ والدین جب تک شادی کے نشیب و فراز سے بخوبی آگاہ یعنی تجربہ کار ہوتے ہیں، وہ ذاتی طور پر شادی سے بے نیاز ہوچکے ہوتے ہیں۔ عقلمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ تجربہ کی اس کنگھی کو ضائع کرنے کی بجائے اپنے بچوں کی زندگی کے زلفِ پریشاں کو سنوارنے میں استعمال کریں۔ واضح رہے کہ بچے شادی وغیرہ کے معاملات میں ذاتی طور پر کوئی تجربہ نہیں رکھتے اور اُن کی جملہ معلومات دیکھنے، سننے اور پڑھنے کی حد تک محدود ہوتی ہیں، جو تجربہ کا کبھی بھی نعم البدل نہیں ہوسکتیں۔ بچے اگر والدین کی انگلی پکڑ کر شاہراہِ حیات پر چلنے کا آغاز کریں تو اس دشوار گزار راستے کے نشیب و فراز کی ٹھوکروں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔بچوں کونئی نئی خود مختاری ملتے ہی انہیں والدین کی ضرورت سے بے نیاز ہونے کا احساس دلانے والی معاشرہ کی منفی قوتیں اپنا کام شروع کر دیتی ہیں۔ لہٰذا آپ کو یہ منصوبہ بندی کرنی چاہیے کہ آپ کا بچہ جونہی بالغ ہو جائے، اس کی دوسری بنیادی ضرورت احسن طریقہ سے پوری کر دی جائے اور وہ آپ کے زیر سایہ شاہراہِ حیات پر چلنے کی کچھ مشق بھی کرلے تاکہ وہ خودمختار زندگی کے خطرات و حادثات سے محفوظ رہنا سیکھ لے۔
میٹرک کرتے کرتے آپ کے بچے کی عمرسولہ سال کے لگ بھگ ہو چکی ہوتی ہے، جسے 'سویٹ سکس ٹین' بھی کہتے ہیں۔ امنگیں نئی نئی جوان ہوتی ہیں۔ آگے کا منظر صاف نظر آنے لگتا ہے کہ بچے نے کیا کرنا ہے، کیا پڑھنا ہے اور کہاں تک پڑھنا ہے؟ اگر بچے کا محض سادہ گریجویشن کا ارادہ ہو تو لڑکی کی صورت میں انٹر میں ہی رشتے کی تلاش شروع کردیں اور زیادہ سے زیادہ گریجویشن کے فورا بعد لازماً شادی کردیں۔ البتہ شادی کی راہ میں کوئی حقیقی رکاوٹ موجود ہو تو ماسٹرز تک کی تعلیم کو جاری رکھا جاسکتا ہے۔ ویسے تعلیم کو شادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ جب دیگر سارے امورِ اندگی دورانِ تعلیم سر انجام دئے جاسکتے ہیں تو شادی کیوں نہیں؟ شادی کے بعد اعلیٰ تعلیم کی راہ میں کوئی حقیقی رکاوٹ نہیں ہوتی بلکہ اس طرح ایک نوجوان زیادہ سکون کے ساتھ تعلیمی مدارج طے کرتا ہے۔ تعلیم کی تکمیل اورحصولِ روزگار میں خود کفالت کے بعد شادی کا فلسفہ غیر اسلامی معاشرہ سے درآمد کردہ ہے، جہاں انسان کی دوسری بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے حصار نکاح لازمی نہیں ہے۔ مسلم معاشرہ کو اس فلسفہ پر عمل درآمد کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ آج کل کے حساب سے لڑکی کی شادی زیادہ سے زیادہ 18 سال کی عمر میں اور لڑکے کی شادی زیادہ سے زیادہ 20 سال کی عمر میں کردینی چاہیے، خواہ اس کی تعلیم اپنے آخری مراحل میں ہی کیوں نہ ہو۔ اس عمر میں شادی کے بہت سے سماجی فوائد ہیں۔ اس عمر میں لڑکا مالی طور پر اپنے والدین کے زیر کفالت ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ شادی کے جملہ مراحل میں فطری طور پراپنے والدین کی مرضی کا پابندہوگا۔ ایسی صورت میں والدین کوچونکہ ایک سے زائد بچوں کی شادیاں اپنی ہی آمدنی سے کرنی ہوں گی لہٰذا وہ ہر شادی کو سادگی سے سر انجام دیں گے۔ یہی اسلام کا تقاضہ بھی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ نکاح بہت بابرکت ہے جس کا خرچ کم سے کم ہو (بیہقی)۔بیس سال کی عمر میں شادی کرنے کی صورت میں شادی کے چار پانچ سال تک بیٹے اور اس کے بیوی بچوں کے نان نفقہ کی ذمہ داری بھی والدین پر ہوگی۔یوں نوجوان جوڑا یہ عرصہ اپنے والدین کے زیر سایہ، ان ہی کی کفالت میں، بے فکری سے شادی کو انجوئے کرتے ہوئے تعلیم کو مکمل کرے گا اور حصول روزگار کی جانب قدم بڑھائے گا۔سادہ گریجویشن 20 سال میں اور پیشہ ورانہ تعلیم بائیس، تئیس سال تک مکمل ہوجاتی ہے۔ سادہ گریجویٹ عام طور سے 5 سال کے اندر اندر اور پروفیشنل گریجویٹ تین سال کے اندر اندر ملازمت یا کاروبار کے ذریعہ معاشی طور پر خودکفیل ہوجاتا ہے۔ معاشی خودکفالت کے حصول کے ایک دو سال کے اندر اندر اس کا پہلا بچہ بھی پانچ چھ سال کا ہوکر اسکول جانے کے قابل ہوجاتا ہے۔ یوں پانچ سال تک اپنے والدین کی سرپرستی ، ہدایات اور نگرانی میں ازدواجی زندگی کی خوشیاں گزارتے ہوئے وہ ایک درست راہ پر گامزن ہوچکا ہوتا ہے۔ 25 سال کی عمر میں وہ ایک فیملی کا ذمہ دار شخص بن چکا ہوگا اور اس کا بڑا بچہ اپنی رسمی تعلیم کا آغازکر چکا ہو گا اور جب وہ خود 40 سال کا کڑیل جوان اور اپنے پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے عروج پر ہوگا، اس کی اولاد 20 برس کی ہوچکی ہوگی۔ آپ اس شخص کا تصور کریں جو ابھی صرف 40 سال کا ہے، اس کی ملازمت میں بشرط زندگی ابھی کم از کم 20 سال باقی ہیں،اس کی پہلوٹھی کی اولاد سادہ گریجویشن کرچکی ہے یا پیشہ ورانہ گریجویشن کے آخری مراحل میں ہے۔ ایسے میں اس کے لیے کیا مشکل ہوگی کہ اپنی اولاد کی شادی باری باری کرنا شروع کردے اور بیٹے کی شادی کی صورت میں اس کے بیوی بچوں کا مالی بار بھی اگلے پانچ سال تک اٹھاتا رہے؟ ابھی یہ شخص ریٹائرمنٹ کی رسمی عمر ساٹھ سال کو پہنچا بھی نہ ہوگا کہ اس کے سارے بچے شادی کرکے اپنا اپنا گھر بار الگ سنبھال چکے ہوں گے اور اس کے پوتوں اور نواسوں کی شادی بھی سر پر آن کھڑی ہوگی۔ اور ایسا شخص مالی اعتبار سے ابھی بھی اپنے بچوں میں سے کسی کا محتاج بھی نہ ہوگا۔ریٹائر منٹ سے قبل تک وہ اپنے چند ایک نواسوں،نواسیوں، پوتوں اور پوتیوں کی شادی بھی اپنی نگرانی میں کروانے کا اہل ہوگا۔ ضرورت پڑنے پر وہ اپنے نسبتاً غریب اولاد کی مالی مدد کا بھی اہل ہوگا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اسے کچھ نہ کچھ جمع پونجی بھی ملے گی۔ تھوڑا بہت وہ اپنے اور اپنی بیوی کے لیے بھی رکھ سکتا ہے۔ یعنی ساٹھ سال کی عمر میں عضو معطل بننے سے قبل تک اپنی تیسری نسل کی شادیوں میں بھی فعال کردار ادا کرنے کے قابل ہوگا اور یوں تین نسلیں ایک دوسرے سے جڑی رہیں گی۔ جب خاندانی نظام اس قدرمضبوط اور جڑا ہوا ہوگا تو سماجی برائیاں از خود کم سے کم ہوتی چلی جائیں گی۔ جن بستیوں کے مکین خاندانی ہوتے ہیں اور نسل در نسل ایک دوسرے سے جڑے اور مضبوط ہوتے ہیں، ان بستیوں میں جملہ اقسام کے جرائم کی شرح خاصی حد تک کم پائی جاتی ہے۔
ذرا سوچیے کہ اٹھارہ اور بیس سال کی عمر میں بچوں کی شادیاں کرتے رہنے کے فوائد خاندان سے معاشرے کو کس طرح منتقل ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ "حقیقی خاندانی منصوبہ بندی"ہے، جسے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔سورة روم آیت۔ 21 میں ارشاد ربانی ہے:اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:نکاح میری سنت ہے۔ (ابن ماجہ) تم میں سے جوبیوی کے حقوق ادا کرنے کی طاقت رکھے تو نکاح کر لے کیوں کہ یہ نظر کو جھکاتا اور شرمگاہ کو محفوظ رکھتا ہے۔( ابو داؤد) جب بندہ شادی کرتا ہے تو اس کا آدھا دین مکمل ہو جاتا ہے اور شادی کرنے کے بعد بہت سے گناہوں سے بچ جاتا ہے۔ فقہا کا کہنا ہے کہ غلبہ شہوت کی وجہ سے زنا میں مبتلا ہوجانے کا خوف ہو تو نکاح فرض ہوجاتا ہے۔ البتہ غلبہ شہوت اس قدر نہ ہو اور بیوی کی کفالت کر سکتا ہو تویہ سنت ہے۔ اسی طرح بیوی کے لیے اخراجات نہ ہونے کے سبب بیوی پر ظلم کا اندیشہ ہو تو مکروہ ہے۔ اور اگر کوئی نا مکمل مرد بیوی کے حقوق زوجیت ادا کرنے کے قابل نہ ہو تو اسے نکاح کرنا جائز نہیں۔ (بیہقی )
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ نکلے۔ ہم جوان تھے لیکن نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جوانو! تمہارے لیے نکاح بہت ضروری ہے۔ کیونکہ یہ آنکھوں کو نیچا رکھتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شادی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے اس لیے کہ روزوں سے شہوت ختم ہو جاتی ہے۔ (ترمذی)۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون کو ترک نکاح کی اجازت نہیں دی ورنہ ہم خصی ہو جاتے۔دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح سے بہتر کچھ نہیں یعنی جب کوئی لڑکا لڑکی محبت کرتے ہوں تو ان کے والدین کو ان کا نکاح کر دینا چاہیے۔ (ابن ماجہ) مومن اللہ سے ڈرنے کے بعد جو اپنے لیے بہتر تلاش کرتا ہے وہ نیک بیوی ہے۔(ابن ماجہ) جب تمہیں ایسا شخص تمہاری بہن بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام دے جس کا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو تو اس سے نکاح کر دو اگر ایسا نہ کرو گے تو زمیں میں بہت بڑا فساد پیدا ہو گا۔ (ترمذی ) عورتوں سے ان کے حسن کی وجہ سے شادی نہ کرو ہو سکتا ہے ان کا حسن تمہیں برباد کر دے، نہ ان سے ان کے مال کی وجہ سے شادی کرو ہوسکتا ہے اس کا مال تمہیں گناہوں میں مبتلا کر دے بلکہ عورت سے اس کی دین داری کی وجہ سے شادی کرو (ابن ماجہ)۔دنیا کے سامان میں نیک بیوی سے زیادہ کوئی اچھی چیز نہیں ( ابن ماجہ)۔ کوئی اپنے بھائی کے پیغام ِنکاح پر پیغام نہ بھیجے۔ ( ترمذی) اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیاں انصاف اور عدل نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اس کے بدن کا آدھا حصہ مفلوج ہوگا(ترمذی)۔ کنواری لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر اور بیوہ کا نکاح اس کی منشا کے بغیر نہ کیا جائے۔ (بخاری ) جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے اگر وہ اسے دیکھنا چاہے تو دیکھ لے۔ (ابو داؤد ) کوئی عورت اپنا نکاح خود نہ کرے بلکہ نکاح میں والدین کی مرضی بھی شامل کرے۔ (ابن ماجہ) ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا (ترمذی )۔ عورت کو چاہیے مردِ دین دار ،خوش خلق ،کفالت کے قابل مالدار سخی سے نکاح کرے۔ فاسق بدکار سے نکاح نہ کرے اور نہ کسی بوڑھے سے نکاح کرے (ردالمختار)۔
نوجوانی میں جلد شادی سے آبادی میں اضا فہ اور رزق کی کمی جیسے سوالات اچھے خاصے پڑھے لکھے اور دین دار گھرانوں میں بھی سوچ و فکر کا باعث بنتا ہے۔ حالانکہ قرآن و حدیث کی تعلیمات تو یہ ہے کہ اس دنیا میں آنے والے تمام انسانوں کو ہر حال میں آنا ہی ہے۔ کسی بھی قسم کی مروجہ منصوبہ بندی تمام انسانی روحوں کو اس دنیا میں آنے سے نہیں روک سکتی کیونکہ وہ عالمِ ارواح میں پہلے سے موجود ہیں۔"اور اے نبیﷺ! لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پُشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا "کیا میں تمہارارب نہیں ہوں؟" انہوں نے کہا "ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں"۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ "ہم تو اس بات سے بے خبر تھے" (الاعراف۔ 172)۔
ایک زمانہ تھا جب کسی بستی یا قبیلہ میں زیادہ بچوں والا گھرانہ زیادہ طاقتور اور زیادہ خوشحال تصور کیا جاتا تھا کہ ہر آنے والا کھانے کے لیے ایک منہ کے ساتھ حصول ِرزق کے لیے دو ہاتھ بھی لے کر پیداہوتا ہے۔ مگر جب سے نام نہادجدید تہذیب و تعلیم نے"کم بچے خوشحال گھرانا" کے گمراہ کن نعرہ کو فروغ دینا شروع کیا ہے، تب سے اس تعلیم سے بہرہ ور صاحب حیثیت اور مالدار مگرخود غرض انسانوں نے اپنے اپنے گھروں میں بچوں کی آمد کو روکنا شروع کردیا اور یوں سوسائٹی میں آبادی کا تناسب"غیر متوازن" ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان کی غرض سے حاصل شدہ "خود مختاری" کے اس غلط استعمال کے نتیجہ میں صاحب حیثیت اور مالدار گھرانوں اور معاشروں میں بچوں کی تعداد کم اور غریب و کم پڑھے لکھے لوگوں کے گھروں، بستیوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہونے لگی ہے۔ اس عمل کے ارتقاءکے نتیجہ میں زیادہ مالی وسائل والے ملکوں میں آبادی کم سے کم اور غریب ملکوں میں آبادی کا دباوؤ زیادہ ہونا شروع ہوگیا۔ اس بات کو اس مثال سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر کسی ریلوے پلیٹ فارم پر موجود چند ہزار مسافر وں نے ایک ہی ٹرین پر سوار ہو کر ایک ہی منزل پر جانا ہے اور ٹرین کے آنے پر طاقتور اور صاحب حیثیت لوگ اپنی جسمانی، مالی اور اقتدارکے طاقت کے بل بوتے پر ٹرین کے ڈبوں میں داخل ہوکر ٹرین کے کھڑکی دروازے بند کرنا شروع کردیں تاکہ ان کے ڈبے میں زیادہ لوگ سوارنہ ہوں اور وہ آرام و آسائش کے ساتھ اپنا سفر کر سکیں تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کے نچلے درجوں، غیر بکنگ والی بوگیوں کے اندربلکہ چھتوں پر بھی مسافروں کا رش خطرناک حد تک بڑھ جائے گا۔ لیکن اگر تمام ڈبے مسافروں کی آمد کے لیے یکساں طور پر کھلے رہیں تو تمام مسافر ایک توازن کے ساتھ ہر ڈبے میں سما جائیں گے۔ اسی طرح اگردنیا میں بچوں کی پیدائش کے قدرتی نظام کو مصنوعی طریقوں سے غیر متوازن نہ کیا جائے بلکہ زیادہ وسائل والے انسان زیادہ سے زیادہ بچوں کی پرورش پر آمادہ ہوجائیں تو غریب گھر انوں اور ملکوں میں آبادی کا دباو¿ خود بخودکم ہوجائے گا۔ اسلام ویسے بھی یہ تلقین کرتا ہے کہ زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت سے شادی کی جائے تاکہ دنیا میں بھی امت مسلمہ کی تعداد میں اضافہ ہو اور آخرت میں بھی۔
جہاں تک رزق کی کمی بیشی کا تعلق ہے تو کیا ہمیں یہ معلوم نہیں کہ مال و دولت کی حقیقت چند روزہ سامانِ زندگی سے زیادہ کچھ نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے:لوگوں کے لیے مرغوبات نفس-عورتیں، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر،گھوڑے، مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوش آئند بنا دی گئی ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں۔اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے (آلِ عمران۔14)۔ ہمیں اس بات سے بھی آگاہ ر ہنا چاہیے کہ ہمیں مفلسی سے ڈرانے والا اصل میں کون ہے؟: شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرزِ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی اُمید دلاتاہے۔ (البقرة۔ 8 26) چنانچہ نہ تو ہمیں افلاس کے ڈر سے شاد ی میں تاخیر کرنی چاہیے نہ ہی شادی کے بعد کم سے کم بچوں والی "خاندانی منصوبہ بندی" کو اپنانا چاہیے کہ ہمیں بھی اور انہیں بھی رزق دینے والا اللہ ہی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ بے شک ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے ( بنی اسرائیل۔31) اپنے بچوں کے رازق ہم نہیں بلکہ ہمارا رب ہے:زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسانہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔ (سورة ہود۔ 6) اسی طرح شادی کی راہ میں غربت یا مال کی کمی کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے کیونکہ خود اللہ اس بات کی ضمانت د ے رہا ہے کہ اگر غریب اللہ پر بھر وسہ کرتے ہوئے نکاح کرے تو اللہ اسے غنی کر دیتا ہے:تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کردو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے۔(النور۔32)
ایک مومن کو تو ویسے ہی اپنے رزق کے بارے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی پیدائش سے قبل ہی اس کے رزق اور عمر کا تعین ہوچکا ہوتا ہے:سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں تمام کی جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتو ں کے لکھنے کاحکم دیا جاتا ہے۔ اس کاعمل، اس کا رزق، اس کی عمر اور اس کی خوش بختی یا بدبختی۔ ( بخاری)۔ہمارا یہ بھی ایمان ہونا چاہیے کہ ہم اپنا رزق پورا کیے بغیر مر نہیں سکتے: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی متنفس اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنا رزق پورا نہ کرلے۔ ( بیہقی) اللہ نے رزق کے بارے میں قرآن میں بار بار مختلف انداز میں یاد دہانی کروائی ہے جیسے:کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ ان کو رزق دیتا ہے۔ اور تمہارا رازق بھی وہی ہے،وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔(العنکبوت۔ 60 )۔ اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں رزق دیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا۔ (الروم۔ 40) . اور کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے؟ اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ (سورة الزُمر۔52)
Reading Time:
 ایک مثالی خاتونِ خانہ کا انٹرویو
ستمبر 30, 20180 Comments
مشاہیر کے مفید اور پرمغز انٹرویوز تو آپ نے بارہاپڑھے ہوں گے لیکن کسی گھریلو خاتون خانہ کا ایسا انٹرویو شاید کبھی نہ پڑھا ہو، جس کی ہر سطر میں ازدواجیات سےمتعلق دانش اور افادیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہو۔ایسے مردوں کو جنہیں یہ شکایت ہےکہ وہ عورت کو سمجھ نہیں سکے، ان کے لیے یہ ایک عمدہ موقع ہے کہ وہ اس انٹرویوکے ذریعہ ایک عام عورت کی سوچ و فکر تک رسائی حاصل کرسکیں۔کیونکہ خواتین بالعموم اپنی سوچ و فکر کے نہاں خانے تک مردوں کو آسانی سے رسائی نہیں دیا کرتی ہیں۔ اسی طرح اگر کسی لڑکی یا عورت کو یہ سمجھنا ہو کہ مردوں کے اس معاشرہ میں مردوں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ روا رکھا جائے کہ وہ ساری زندگی پرسکون رہتے ہوئے اپنی دنیا اور آخرت محفوظ بناسکے تو اسے یہ انٹرویو درسی سبق کی طرح پڑھنا اور سمجھنا چاہیے۔
مشہور زمانہ سپہ سالار نپولین بونا پارٹ کا ایک تاریخی جملہ ہے کہ" تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمھیں بہترین قوم دوں گا "۔ ذیل کے انٹرویو سےیہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہماری قوم میں اچھی ماؤں کی کمی بالکل بھی نہیں۔ بس ایسی اچھی ماؤں کو قوم کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین ان کے نقش قدم پر چل سکیں اور مرد ان کی قدر کرسکیں۔
پھولوں میں ویسے تو گلاب اور موتیا اچھا لگتا ہے لیکن شاعرانہ انداز میں کنول کا پھول اچھا لگتا ہے کہ جو کیچڑ میں کھلنے کے باوجود خوبصورت ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی قدرت ہے کہ خوبصورتی ایسی جگہ بھی موجود ہوتی ہے جہاں ہماراگمان بھی نہ ہو۔ زندگی کا ایک طویل سفر طے کر لیا اور اب پیچھے مڑکر دیکھتی ہوں تو یوں لگتا ہے کہ ابھی کل کی بات ہے۔ جن بچوں کو کل گود میں اٹھاتے تھے آج وہ شادی کے لائق ہو چکے ہیں۔ اب تو میرے ساس بننے کے دن آگئے ہیں۔ جب ہم بہو بن کر آتی ہیں تو اپنی ساس سے توقعات لگاتی ہیں کہ محبت کرنے والی ہوں زیادہ روک ٹوک نہ کریں اور ہمیں اپنی بیٹی کی طرح سمجھیں وغیرہ وغیرہ۔ میری کوشش ہوگی کہ جو اُمیدیں میں اپنی ساس سے لگاتی تھی اب اپنی بہو کے لیے انہی امیدوں پر پوری اتروں اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ ساس میری سہیلی۔ میرے حق میں دعا کیجئے کہ میں اپنی پیاری ماں جیسی شفیق اور نرم خو ساس بنوں۔ یہ خوبصورت باتیں ایک ایسی گھریلو خاتون کی ہیں جن کی شادی میٹرک کے فوراََ بعد کردی گئی تھی۔ باقی علم و دانش انہوں نے کتابوں کے مطالعہ اور زندگی کے تجربات سے سیکھا۔ مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کی موجودگی میں محترمہ میم جیم کی آن لائن باتیں پڑھتے ہوئے ایسالگ رہا تھا جیسے ع
رنگ باتیں کرے اور باتوں سے خوشبو آئے
کئی دنوں تک جاری رہنے والے اس مکالمہ میں آپ نے علم و دانش کی بہت سی ایسی باتیں کیں جن سے نئی نسل بالخصوص نوجوان لڑکیوں کا آگاہ ہونا بہت ضروری ہے۔ آئیے محترمہ میم جیم کی کہانی، انہی کی زبانی سنتے ہیں:
بچپن ہی سے کم گو اور سنجیدہ ہوں۔ جب پرائمری میں تھی تو پہلی اور آخری بار امی سے ایک جھوٹ بولا تھا جسے امی نے پکڑ لیا تھا۔ اس کے بعد ایسا سبق ملا کہ کبھی جھوٹ بولنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ زندگی آخرت کی کھیتی ہے۔ آج جو بوئیں گے، کل وہی کاٹیں گے۔ اس لیے اس زندگی کو غنیمت سمجھ کر آگے کے لیے اچھا سامان بھیجنا چاہیئے۔ کئی سال پہلے سقوط مشرقی پاکستان کے تناظر میں لکھا گیا ایک ناول ”ذرا نم ہو تو یہ مٹی“ پڑھا تھا۔ اسے پڑھ کر بہت روئی تھی۔ الحمدللہ میں میوزک کا کوئی شوق نہیں رکھتی، صرف نعتیں سننے کا شوق ہے۔ کسی قسم کی فلم نہیں دیکھتی اور نہ ایسا شوق ہے، الحمدللہ۔ اللہ سب کو اس بُرے شوق سے بچائے آمین۔ کبھی کبھی ٹیلی ویژن کے ڈرامے دیکھ لیتی ہوں، حالانکہ یہ بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ مجھے گھریلو اور معاشرتی مسائل پر مبنی ڈرامے اچھے لگتے ہیں لیکن جو ڈرامے آج کل چل رہے ہیں ان میں سے تو شاید پانچ فیصدہی ڈرامے معاشرتی مسائل کو حقیقت پسندانہ انداز میں دکھاتے ہوں گے۔ ہمارے ڈرامے اسلامی ثقافت سے بہت دور ہوتے ہیں۔ ان میں فحاشی، عریانی اور دولت کی نمود و نمائش کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ ایسے ڈرامے دیکھ کر معاشرے کے برے کرداروں کو تحریک ملتی ہے اور ان کے اندر جتنی خباثتیں ہوتی ہیں، وہ ظاہر ہوکر باہر نکل آتی ہیں۔ اللہ ہم سب کو نفس ا ور شیطان کے شر سے بچائے۔ آمین۔ شاعری سے کافی لگاؤ ہے۔ اچھی شاعری مجھے متاثر بھی کرتی ہے اور اچھے شاعروں کا کلام پڑھ کر دل خوش بھی ہوتا ہے۔ دوست بنانے میں ہمیشہ کنجوسی کی، کیونکہ میں بچپن ہی سے کم گو، سنجیدہ اور بہت لیے دیئے رہنے والی تھی۔ اسکول کے زمانے میں جو دوست تھیں وہی آج بھی ہیں۔
ماشاءاللہ میری شادی کو 28 سال ہو چکے ہیں۔ الحمد للہ میرے شوہر بہت محبت کرنے والے اور اپنی فیملی کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے ہیں۔ انہوں نے ہر وقت میرا بہت خیال رکھا اور مجھے کبھی کسی چیز کی تکلیف یا کمی نہیں ہونے دی الحمدللہ۔ البتہ میں شاید اس انداز سے ان کا خیال نہ رکھ سکی ہوں۔ ازدواجی زندگی میں جب کسی ایک فریق کو کسی بھی بات پرغصہ آجائے تو دوسرے فریق کو مکمل خاموشی اختیار کرلینی چاہیے۔ چاہے اُس کی غلطی ہو یا نہ ہو۔ ہر صورت میں مکمل خاموشی بڑے سے بڑے طوفان کو ٹال دیتی ہے۔ اگر ایک بات کو دونوں ہی انا کا مسئلہ بنالیں تو بات ختم ہونے کے بجائے بگڑتی ہی چلی جاتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دلوں میں گنجائش ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔حدیث مبارکہ ہے کہ من صمت فقد نجا یعنی جو خاموش رہا، وہ نجات پاگیا (سنن ترمذی۔1052)۔ بالخصوص عورت کو حتی الامکان خلاف مرضی بات پر بھی اپنے شدید ردعمل کے اظہار سے گریز کرکے سب کچھ رب کریم کے سپرد کرکے خاموشی اختیا کرلینا چاہیے۔ کامیاب ازدواجی زندگی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے۔ مجھے اپنے مسلمان عورت ہونے پر بہت بہت فخر ہے کیونکہ اسلام نے عورت کو جو مرتبہ دیا ہے وہ کچھ کم نہیں ہے۔ کسی اورمذہب نے ایسا مقام عورت کو دیا ہی نہیں۔ اور دوسری باعث فخر بات یہ ہے کہ ماں کو جو بلند مقام ملا ہے اس کی وجہ سے بھی مجھے عورت ہونے پر فخر ہے۔ میرا رواں رواں رب کریم کا شکر گزار ہے کہ اس نے ہمیں یہ عزت بخشی ہے۔ ہم ساری زندگی اس رب ذوالجلال کے حضور سجدے میں گزار دیں تب بھی اس کا شکر ادا نہ کرسکیں گے۔ الحمدللہ رب العالمین
جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے بہت سی روایات اور لوگوں کی عادات بدلتی جاتی ہیں جو کل تھیں وہ آج ناپید ہیں اور جو آج رائج ہیں وہ شاید کل نہ ہونگی۔ یہی ریت صدیوں سے چلی آرہی ہے اور شاید صدیوں تک چلتی رہے گی۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے گذرے کل میں زندہ رہنا چاہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ دوسرے بھی ہمارے ساتھ ہمارے کل میں زندہ رہیں۔ ہمارے والدین بھی یہی چاہتے تھے کہ ہم ان کے ماضی کی طرح زندگی گزاریں۔ لیکن ہم زمانے کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ پھرجب ہمارے بچوں کا دور آتا ہے تو ہم ڈکٹیٹر بن کر یہ چاہتے ہیں کہ وہ بھی ویسا ہی کریں جیسا ہمارے ماضی میں ہوتا تھا۔ حالانکہ ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ پھر ہم ایسی توقعات کیوں لگاتے ہیں؟ ہمیں اپنے رویے میں لچک رکھنی چاہیے تاکہ زندگی پرسکون رہے اور ہمارے بچے بھی ہم سے خوش رہیں۔ لہٰذا میں ایسی امیدیں نہیں لگاتی جو کبھی پوری نہ ہوں۔ زندگی کا توازن بھی اسی بات میں ہے کہ ماضی کے بجائے حال میں زندہ رہنے کی کوشش کی جائے۔
آپ لوگوں کو یہ سن کر بڑی حیرت ہوگی کہ میں نے اپنے کپڑے کبھی خود نہیں خریدے۔ وجہ یہ ہے کہ مجھے خریداری کرنا نہیں آتی۔ ہمیشہ میرے شوہر نے ہی میری خریداری کی ہے کیونکہ وہ بہت اچھی خریداری کرتے ہیں۔ گھر کی ساری خریداری ہمیشہ سے وہی کرتے ہیں اور میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے گھر بیٹھے ہی سب کچھ مل جاتا ہے۔ سوچتی ہوں کہ اگر ان کو بھی خریداری کرنا نہ آتا تو میرا کیا ہوتا؟ اللہ کا شکر ہے کہ ان کی پسند بھی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے، ہے نا مزے کی بات ! میرے اندر قوت فیصلہ بالکل بھی نہیں ہے۔ میں فیصلہ کرنے میں ہمیشہ تذبذب کا شکار رہتی ہوں اس لیے جب بھی ایسا وقت آیا تو میں نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا۔ ایسے وقت میں مجھے ان کی مکمل معاونت حاصل رہی۔ عید بقرعید ہو یا کوئی اور موقع، ہمیشہ انہوں نے میری بھرپور مدد کی ہے اور مجھے گھر بیٹھے ہی بہترین چیزیں مل جاتی ہیں تو مجھے بازار کے چکر لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر تو مجھے اُن کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو پھر مرتی کیا نہ مرتی خود ہی بازار کے چکر کاٹ کاٹ کر خریداری کرنا آجاتی، لیکن اُن کی اس مدد نے مجھے اس معاملے میں بالکل نکما کر دیا ( اچھا ہی ہے نا، جان چھٹی سو لاکھوں پائے)۔ مجھے خریداری کا بالکل بھی شوق نہیں ہے۔ کوئی اگر مجھ سے بازار چلنے کا کہہ دے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ میری سزا ہو۔ لیکن اگر مارے باندھے کسی کے ساتھ بازار جانا بھی پڑ جائے تو بس جو لینا ہو لے کر جلد سے جلد گھر واپسی کی فکر ہوتی ہے بس ہے نا مزے کی بات۔
عورت ہر رنگ میں بے مثال ہے۔ مرد حضرات اس کو میری خوش فہمی کہیں گے، مگر مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ لیکن سب سے خوبصورت رشتہ " ماں " کا ہے سب سے پیارا اور سب رشتوں سے اچھا، خالص محبت کرنے والا رشتہ صرف ماں کا ہی رشتہ ہے، ہر جذبے میں ملاوٹ اور کھوٹ ہو سکتا ہے لیکن اس رشتے میں نہیں۔ ماں جیسی کوئی اورہستی اس دنیا میں ہے کہاں؟ نہیں ملے گا بدل اس کا، چاہے ڈھونڈ لیں سارا جہاں۔ مردوں میں باپ کا رشتہ سب سے پیارا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنی اولاد کے لیے بہت مخلص ہوتا ہے اور اپنی زندگی میں توازن رکھنے والے مرد بھی قابل احترام ہوتے ہیں۔ یہ زندگی ہے ہمیں یہاں قدم قدم پر ہر قسم کے لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کچھ بہت اچھے بھی ہوتے اور کچھ بہت برے بھی ہوتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم یہ توقع رکھیں کہ سب لوگ ہمیں اچھے ملیں، ہمیں دوسروں کے لیے اچھا بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیا پتہ کہ وہ ہمارے اچھے طرز عمل سے ہمارے لیے اچھا بن جائے۔ بس ہمیشہ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی کوشش کرنی چاہیے یہ سوچ کر کہ اچھوں کے ساتھ اچھا بننا کوئی خوبی نہیں بلکہ بُروں کے ساتھ اچھا بننا خوبی ہے۔ ویسے مجھے تعمیری سوچ کے حامل مذہبی لوگ متاثر کرتے ہیں۔ پہلی ہی ملاقات میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتی ہوں کہ یہ شخص مذہب سے کتنا قریب ہے؟ باقی باتیں بعد میں دیکھتی ہوں۔ نمود و نمائش کی بڑی وجہ اپنی مذہبی اقدار سے دوری ہے اور ذرائع ابلاغ کا بھی اس میں اہم کردار ہے۔
میں نے زندگی میں بہت کچھ پایا ہے، اپنی بساط سے بھی بڑھ کر۔ مجھے میرے رب کریم نے اتنا نوازا ہے کہ اب تو دامن بھی تنگ پڑ گیا ہے۔ بے شک ہماری ہی جھولی تنگ ہے، اللہ کے ہاں کمی نہیں۔ انسان خواہشات کا غلام ہے، جتنی بھی پوری ہو جائیں پھر بھی یہی سوچتا ہے کہ یہ نہیں ملا، وہ نہیں ملا۔ ایک قول ہے کہ ضرورتیں تو فقیر کی بھی پوری ہو جاتی ہیں لیکن خواہشات بادشاہوں کی بھی باقی رہتی ہیں۔ اسی لیے میں نے اپنی زندگی میں بہت زیادہ خواہشات نہیں پالیں اور ہمیشہ اطمینان قلب حاصل رہا الحمدللہ۔ بس پایا ہی پایا ہی کچھ نہیں کھویا۔ ہاں ایک احساس شدت سے ہوتا ہے کہ زندگی غفلت میں گزار دی اور اللہ کی بندگی کا حق کماحقہ ادا نہ کر سکی۔ پتہ نہیں میں رب کریم کو راضی بھی کر سکی ہوں کہ نہیں اور آخرت میں میرا کیا ہوگا۔ جب اللہ کے حضور میں پیش ہوں گی تو میرے اعمال کے پیش نظر جو ہوگا وہ سوچ کر ہی لرز جاتی ہوں۔ استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ۔ ماضی کو یاد رکھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کریں اور اپنے حال کو اچھا بنانے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ یہی کامیاب زندگی کا راز ہے۔ اللہ ہمارے بچوں کو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنائے آمین۔
عورتوں پر مردوں کے تشدد کے تو خلاف ہوں لیکن میرا مشاہدہ یہ ہے کہ ایسے پچانوے فیصد واقعات میں کہیں نہ کہیں عورتوں کا قصور ضرور ہوتا ہے۔ اس بات سے کہیں کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ میں شتر بے مہار مَردوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہوں۔ مرد کو اللہ نے حاکمیت بخشی ہے تو اس کی حدود بھی مقرر فرمادی ہیں۔ اسی طرح عورتوں کو اگر کمزور بنایا ہے تو ان کے لیے بھی بہت سی رعایتیں عطا فرمائی ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ شوہر کی اطاعت اور خوشنودی کو ہم پر واجب قرار دیا ہے۔ اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کے سواجس کام میں شوہرکی خوشنودی ہو، اس کو کرنا ہم پر واجب اور جس میں ناراضگی ہواس سے بچنا لازم ہے۔ لیکن اکثر ہوتا کچھ یوں ہے کہ کہیں ہماری انا، کہیں ہمارے والدین کی انا اس کام میں بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے اور یوں پھر پہلے ایک سرد جنگ کا آغاز ہوتا ہے اور ہوتے ہوتے یہ جنگ توتکار میں بدل جاتی ہے۔یہ سب مرد کی انا پر کاری ضرب لگاتی ہیں اور پھر یہ سارا لاوا ابل پڑتا ہے۔ مرد اپنی طاقت کے بل پر عورت کو دبانا چاہتا ہے تو عورت اسے اپنی توہین سمجھ کر اپنی صفائیاں دیتی ہے جو مرد برداشت نہیں کرتا۔ نتیجہ پھر ذہنی جسمانی تشدد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے ہم صرف مرد کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے۔ اگر عورت اپنی انا کو ہمیشہ کے لیے دفن کردے اور شوہر کی خوشنودی کو ہی اپنی زندگی کا مقصد بنالے تو شوہر کو ہاتھ اٹھانے کا موقعہ بھی نہیں ملے گا۔ اس طرح صرف خاموشی ہی سے اس تشدد کا راستہ روکا جاسکتا ہے اور دوسرا راستہ تو تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو یہی پیغام دینا چاہوں گی کہ آزمائشوں کی بھٹی میں پک کر ہی کندن بنا جاسکتا ہے اور اللہ کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے بھی یہی ایک راستہ ہے۔ آج کی تکلیفیں کل کی راحتوں میں بدل جائیں گی ان شا ءاللہ۔
مجھے درس و تدریس کا بہت شوق تھا۔ خیال تھا کہ اسی شعبہ کو اختیار کروں گی۔ لیکن پھر میٹرک کے فوراً بعد ہی شادی ہوگئی۔ مجھے اپنی پیاری امی کی شخصیت نے بہت زیادہ متاثر کیا اور تا زندگی ان کی شخصیت کا عکس میرے دل پر نقش رہے گا۔ کراچی میں تو مجھے بس اپنا گوشئہ عافیت اپنا پیارا گھر سب سے زیادہ اچھا لگتا ہے۔ اس کے علاوہ ساحل سمندر بہت اچھا لگتا ہے۔ اپنا ملک پاکستان بڑا ہی خوبصورت ہے لیکن ابھی تک اس کی سیر کا ٹھیک سے موقع نہیں ملا۔ بہت مختصر قیام لاہور، ملتان اور حیدرآباد میں رہا۔ لیکن کراچی تو کراچی ہے اس کے علاوہ کہیں دل نہیں لگتا۔ میرے بچے ماشاءاللہ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور انکی مطالعہ کی عادت مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔ اچھائی اور برائی اس دنیا میں موجود ایسی حقیقتیں ہیں کہ جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ سب ہماری آزمائشیں ہیں کہیں ہم اس میں پورے اترتے ہیں اور کہیں ہم شیطان کا آلہ کار بن جاتے ہیں۔ ہر خاندان میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں، پہلے کے مقابلے میں اس وقت برائی کا تناسب زیادہ ہوگیا ہے یا پہلے لوگ ڈھکے چھپے برے کام کرتے تھے اب کھلم کھلا کرتے ہیں۔ بہرحال شیطان کا مکرو فریب تو صدیوں سے جاری ہے اور قیامت تک کے لیے اس کو اللہ نے چھوٹ بھی دی ہے اور طاقت و قوت بھی۔ لیکن جو اللہ کے نیک بندے ہیں وہ اسکے بہکاوے میں نہیں آتے۔ جہاں تک رشتہ داریوں میں دراڑیں ڈالنے والی بات ہے تو شیطان کا محبوب مشغلہ ہی قریبی عزیزوں میں جدائی ڈالنا ہے۔ اور اس کے آلہ کار یہ کام ہر وقت کرتے ہی رہتے ہیں اور خاندانی سیاست کا بازار ہر جگہ گرم رہتا ہے۔ کبھی کوئی اس کا نشانہ بنتا ہے تو کبھی کوئی۔ ہمارا مذہب ہمیں آپس کے میل جول کی تعلیم دیتا ہے اور بنیادی طور پر ہمیں گناہ سے نفرت کا درس دیتا ہے گناہ گار سے نہیں۔ اس لیے ملنا جلنا بھی بہت ضروری ہے۔ لیکن لوگوں سے ملنے ملانے میں احتیاط لازم ہے اور اپنا رویہ بالکل لیے دیئے رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ ہماری کمزوریوں کو پکڑ کر ہمیں بلیک میل نہ کر سکے اور ہماری خامیاں کسی اور کو بتا کر ہمیں نقصان نہ پہنچا سکے۔
میرا خیال ہے کہ لڑکیوں کو بلا ضرورت ملازمت نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی مجبوری ہو یا معاشی طور پر تنگی ہو تب ایسا کرنا ٹھیک ہے لیکن اگر معاشی الجھنیں نہ ہوں اور بظاہر کوئی مجبوری بھی نہ ہو تو پھر بلاوجہ گھر سے باہر نکل کر اپنے آپ کو مشقت میں ڈالنے سے کیا حاصل ہے؟ عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہی ہے، چاہے وہ ماں باپ کا گھر ہو یا شوہر کا، اسی پر توجہ دینا ہماری زندگی کا نصب العین ہے۔ شوقیہ ملازمت اختیار کرکے ہم اپنے سر دوہری ذمہ داریاں ڈال رہے ہوتے ہیں اور پھر اس زعم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ہم مردوں سے کسی طور کم تھوڑی ہیں۔ یہی زعم تو معاشرتی بگاڑ کا نقطہ آغاز ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہر لڑکی یا عورت اس زعم میں مبتلا نہیں ہوتی لیکن اکثریت اس نظریے کی یا تو حامی ہوتی ہے یا پھر یہ معاشرہ اس کو باغی کردیتا ہے تو وہ ایسا سوچنے میں اپنے آپ کو حق بجانب سمجھنے لگتی ہے۔ بہرحال کچھ مثبت سوچ کی حامل لڑکیاں اور عورتیں اب بھی ہیں مگر ایسی خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔ پیشہ ورانہ شعبہ کا چناؤ اور شادی کے معاملات میں بچوں کی رائے اور مرضی کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ تاہم اپنے بچوں کو صحیح رہنمائی دینا بھی والدین کے فرائض میں شامل ہے۔ بچے عمر کے جس حصے میں ہوتے ہیں وہاں جذبات زیادہ اور عقل کااستعمال کم ہوتا ہے۔ لہٰذابچوں کو زمانے کی اونچ نیچ سمجھا کرانہیں ان کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہیے۔ آگے جو ان کا نصیب۔ البتہ کچھ جگہ پر بچوں کو ان کی مرضی کے مطابق چھوڑ دینا بھی مناسب نہیں ہوتا۔ حتی الا امکان انہیں سمجھانا ہی چاہیے۔ والدین نے ایک طویل عمر گزاری ہوتی ہے اور اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر جو بھی اپنے بچوں کو سمجھائیں گے، وہ غلط نہیں ہوگا۔ اب یہ بچوں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین کے فیصلوں سے استفادہ کرتے ہیں یا نہیں۔
مجھے صبح کا وقت اچھا لگتا ہے اس لیے کہ اس وقت تازگی کا احساس بہت ہوتا ہے۔ جب بہت بوریت ہورہی ہوتی ہے تو کبھی کبھار کوئی سا بھی چینل لگا لیتی ہوں۔ جب سیاستدانوں کو آپس میں باہم دست و گریباں دیکھوں تو طبیعت اور مکدر ہو جاتی ہے۔ پھر کسی کتاب کا مطالعہ کرکے یا نیٹ کھول کر اپنا دھیان بٹاتی ہوں۔ ویسے ٹاک شوزمیں سب ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے ہی میں مصروف ہوتے ہیں۔ قوم کو کیا مسائل درپیش ہیں اس کا تو انہیں رتی برابر بھی احساس نہیں ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ نہ جاننے کا تو ایک ہی دکھ ہے، پر آگہی کے ہزار دکھ ہیں۔ میں کوکنگ شوز شوق سے دیکھتی ہوں اور جو ترکیب اچھی لگے وہ لکھ لیتی ہوں۔ پھراسے آزما کر داد بھی وصول کرتی ہوں۔ کراچی کے حالات ہوں یا پورے ملک کے، اب ان میں سدھار آنا بظاہر بہت مشکل نظر آتا ہے۔ ہم دن بدن اخلاقی پستیوں کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ ہر شخص خود کو غلطیوں سے مبرا سمجھنے لگا ہے۔ حق لینا تو جانتے ہیں لیکن دینا نہیں۔ ہر برائی کی جڑجھوٹ اوربددیانتی ہے، جومعاشرے میں عام ہوتی جارہی ہے۔ اپنے دین کے اصولوں کی خلاف ورزی نے ہمیں کمزور اور رو بہ زوال کر دیا ہے۔ بس اب تو صرف ربِ کریم کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ آہ و زاری کی ضرورت ہے کہ وہی ہمیں ان پستیوں سے نکال سکتا ہے۔ عام خواتین ہوں یا مرد ہم سب ایک ہی جیسے تعصب میں مبتلا ہیں۔ سیاسی پارٹیاں بھی اپنے سوا سب کو غلط سمجھتی ہیں۔ یہی عمومی رویہ ہے جو بد امنی کا سبب ہے اور یہی وجہ ہے کہ خاندان میں بھی آپس کی محبتیں اور اتفاق سرے سے کہیں نظر نہیں آتا اور چھوٹی چھوٹی باتیں رنجشوں کا سبب بن جاتی ہیں اور پھر مدتوں تک ہم اپنے دل میں عداوتوں کو پالتے رہتے ہیں۔ اللہ ہم سب کے حال پر رحم فرمائے آمین
موجودہ پود بہت ذہین و فطین ہے۔ میں اپنی نسل سے نئی نسل کا مقابلہ کرتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ اس عمر میں تو ہم بالکل بدھو اور احمق تھے۔ جس عمر میں ہمارے بچے ہم سے دس گنا زیادہ بہتر سوچ سکتے ہیں اور بہتر طریقے سے چیزوں کو استعمال کرنے کا فن جانتے ہیں ہم تو آج اس عمر میں بھی کورے کے کورے ہی ہیں۔ ویسے ہماری نسل میں سادگی بہت تھی لیکن آج کا زمانہ بہت نمائشی ہو گیا ہے۔ معیارِ زندگی بہت زیادہ بلند ہو گیا ہے جس کی وجہ سے رشتوں کی مٹھاس اور خوبصورتی ختم ہو گئی ہے۔ ہمارے زمانے میں بے شک اتنی زیادہ سہولتیں نہیں تھیں لیکن رشتوں میں خلوص اور محبت تھی۔ اس لیے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ زندگی کی آسائشیں تو مل گئیں لیکن اخلاص رخصت ہو گیا۔ بھئی کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا تو پڑتا ہے۔ پہلے کے مقابلے میں زمانے کے چال چلن بہت بدل گئے ہیں اور ایسا تو ہوتا ہی رہے گا۔ جب تم لوگ ہماری عمروں کو پہنچو گے تو اپنے بچوں سے ایسے ہی کہوگے کہ ہمارے زمانے میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا اور وہ کہیں گے کہ آپ کا زمانہ اور تھا ہمارا زمانہ اور ہے۔ دنیا اسی کا نام ہے یہ اسی طرح بدلتی رہے گی جسے لوگ ترقی کا نام دیتے ہیں۔ ہماری نسل کے لوگ اس کو اپنی اقدار سے دوری کہتے ہیں۔ پتہ نہیں ہم صحیح ہیں یا ہمارے بچے؟
زیادہ بولنے سے صحت پرتو کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن خود ہم اپنے الفاظ کے پھیر میں اکثر پھنس جاتے ہیں۔ جب کھانا پکانا نہیں آتا تھا تو بورنگ لگتا تھا لیکن جب سنجیدگی سے سیکھا تو یہی کام اچھا لگنے لگاہے۔ پرانی چیزوں کو سنبھال کر رکھنے کی عادت ہے۔ اصل میں چیزیں سنبھال کر رکھنے سے ہوتا یہ ہے کہ ہم اپنے ماضی کی یادوں میں رہنا چاہتے ہیں اور پرانی چیزیں ہمیں ماضی کی یاد دلاتی رہتی ہیں۔ جب ہم کئی سال پرانی چیزیں دیکھتے ہیں تو اس سے جڑی کئی خوشگوار باتیں ایک عجیب سی خوشی کا احساس دلاتی ہیں۔ شادی بیاہ میں ایسی کوئی خاص رسم یا چیز نہیں ہے جو نہ ہو تو کوئی بد شگونی کہلائے۔ اس لیے کہ یہ سب بیکار کی باتیں ہیں کہ یہ ہو، وہ نہ ہو۔ جتنی فضول رسموں سے بچیں اتنا ہی اچھا ہے تاکہ کسی پر بلاوجہ کا بار نہ ہو اور کوئی ہماری بے جا خواہشات سے تنگی کا شکار نہ ہو۔ میرا خیال ہے کہ دوسروں میں آسانیاں بانٹنی چاہئیں تاکہ اللہ ہمیں آسانیاں عطا فرمائے۔ صفائی والی سے کام کرانے کا گر یہ ہے کہ اس کے پیچھے پیچھے رہو اور اس کے کاموں پر کڑی نظر رکھو۔ نرمی اور سختی دونوں ہی کی ضرورت ہوتی ہے اگر صرف نرمی سے کام لیں گے تو وہ آہستہ آہستہ کاموں سے غافل ہوتی جائے گی اور اگر صرف سختی ہی کرتے رہیں تو وہ گھبرا کے کام چھوڑ کر چلی جائے گی لہٰذا کبھی نرم اور کبھی گرم۔
شادی جیسے مذہبی فریضہ کو ادا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ تو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے۔ ویسے بھی یہ معاشرہ اکیلی عورت کا جینا محال کردیتا ہے۔ قدم قدم پر ایک تنہا عورت کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور وہ ایک اکیلی اس معاشرے کے ناسوروں سے نہیں نمٹ سکتی۔ عورت چاہے تعلیم یافتہ اور برسرِ روزگار ہوتے ہوئے بظاہر خوش و خرم اور مطمئن ہی کیوں نہ ہو، تب بھی اس کو مرد کے سہارے کی ضرورت رہے گی۔ میری یہ بات آزادی حقوقِ نسواں کی تنظیموں کو بُری لگے گی اور کچھ ایسے مرد حضرات بھی بہت جز بز ہونگے جنہوں نے عورت کو ان کے حقوق کے نام پر مادر پدر آزاد بنادیا ہے۔ ہم عورتیں برابری کے بلند وبانگ دعوے تو کرتی ہیں لیکن مرد کی طرح بوجھ نہیں اٹھا سکتی ہیں۔ جہاں بھاری کام کی بات آجائے تو کسی مرد کو دیکھتی ہیں کہ کوئی ہمارا بوجھ اٹھا کر رکھ دے۔ جیسے گاڑی تو ہم چلالیتی ہیں لیکن راستے میں گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو جائے تو راہ چلتے "بھائیوں " کو آوازیں لگائیں گی کہ ذرا ٹائر بدل دیں اور "بھائی" حضرات فوراً دوڑے چلے آتے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ مرد کے بغیر عورت ادھوری اور عورت کے بغیر مرد۔ لہٰذا عورت کو تنہا رہنے کے بجائے شادی کرلینی چاہیے کہ دنیا کی کڑی دھوپ میں شوہر ایک سائبان کی مانند ہوتا ہے۔
میرے خیال میں لڑکیوں کی شادی کے لیے بہترین عمر بیس سے پچیس کے درمیان ہوتی ہے۔ اِس عمر سے چھوٹی لڑکیاں ذہنی طور پر ناپختہ ہوتی ہیں تو سسرال کے معاملات کو ٹھیک طریقے سے سمجھ نہیں پاتیں۔ اور قدم قدم پر پریشانیوں کا سامنا کرتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جب کہ بیس تا پچیس برس کی لڑکیوں میں ذہنی طور پر پختگی آجاتی ہے اور وہ سسرال کے معاملات کو اچھے طریقے سے سمجھ لیتی ہیں اور پھر سمجھداری سے اپنے گھر کو چلاتی ہیں۔ ویسے سمجھداری کا تعلق صرف عمر سے نہیں ہوتا بلکہ تعلیم و تربیت بھی اس میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم تو ہمیشہ ہی بہت ضروری رہی ہے لیکن آج کے دور میں تو بے حد اہم ہے۔ کم از کم بی اے تو ضرورکرنا چاہیے اور اگر ایم اے کر لیں تو اور بھی اچھا ہے۔ اگر تو لڑکی کی تعلیم ادھوری رہ جائے تو بعد میں اس کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر دوران تعلیم کوئی اچھا رشتہ آجائے تو باہمی مشاورت سے اس بات پر سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے کہ پہلے تعلیم مکمل ہوجائے یا شادی کے بعد لڑکی اپنی تعلیم مکمل کرلے۔ لڑکی کی خود اعتمادی کے لیے تعلیم کی بڑی اہمیت ہے۔ اگر لڑکی پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کر رہی ہو، جیسے، طب، انجینئرنگ یا قانون وغیرہ تو میرا خیال ہے گریجویشن کرتے ہی شادی کرنا مناسب ہوتا ہے کیونکہ لڑکیوں پر جتنی جلدی جوانی آتی ہے تو واپسی کا سفر بھی اسی مناسبت سے شروع ہوجاتا ہے۔ پھر لڑکیوں کے رشتے بھی ایک مناسب وقت تک آتے ہیں اور پھر عمر ذرا بھی زیادہ ہوجائے تو لڑکوں کے تو نہیں پھر "بابوں" کے رشتے آتے ہیں یا پھر آتے ہی نہیں۔ اسپیشلائزیشن، پریکٹس یا کیرئیر میں قدم جماتے جماتے لڑکی کی عمر اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ کبھی قسمت ہی سے کوئی اچھا رشتہ آتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ پھر آڑھے ٹیڑھے رشتے آئیں جو لڑکی اور اس کے گھر والوں کے لیے ذہنی اذیت کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ اچھے رشتوں کو اسپیشلائزیشن یا پریکٹس وغیرہ کا بہانہ بنا کر انکارنہ کیا جائے۔ اللہ کا نام لے کر شادی کردینا ہی اچھا ہوتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر اچھے رشتوں کو ٹھکرانا کفرانِ نعمت بھی ہے۔ البتہ جن لڑکیوں کی کسی بھی وجہ سے شادی نہ ہوسکے توایسی لڑکیوں اور عورتوں کو سماجی بہبود کے کاموں میں تن من دھن سے مشغول ہوجانا چاہیے کہ یہ ہماری زندگی کا بہترین مصرف بھی ہے اور کسی کی فلاح و بہبود کے کاموں میں لگ جانا بذاتِ خود بہت بڑی نیکی بھی ہے۔ ویسے تومعاشرے کے تمام افراد کو بقدرِ استطاعت فلاحی کاموں میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے لیکن چونکہ شادی شدہ افراد اپنے گھر گرہستی میں جڑ جاتے ہیں تو وہ ذمہ داریاں ان کی پہلی ترجیح بن جاتی ہیں۔ اس لیے غیر شادی شدہ لوگ اس کام کو خوش اسلوبی سے نبھا سکتے ہیں تو اس میں وقت کا زیاں بھی نہیں ہے اور دین و دنیا میں فلاح کا باعث بھی ہے۔
Reading Time:
جنت داخلہ ٹیسٹ
ستمبر 30, 20180 Comments
ارسلان نے انجینئرنگ کے شعبہ میں پیشہ ورانہ تعلیم کے ل\0یے این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی کا انتخاب کیا تھا، لہٰذا اُسے ایف ایس سی کے پرچوں کے ختم ہوتے ہی تعلیمی اداروں میں داخلہ کی اہلیت کے امتحان المعروف انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لیے شہر کے مشہور کوچنگ سینٹر کا رُخ کرنا پڑا۔ دو گھنٹوں پر محیط یہ انٹری ٹیسٹ متعلقہ نصاب کے اہم مضامین سے تیار کئے گئے MCQs پر مبنی ہوتے ہیں یعنی ہر سوال کے کئی’ چوائس ‘میں سے درست جواب کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ جامعہ این ای ڈی کے انٹری ٹیسٹ میں پچاس فیصد نمبر حاصل کرنے والا طالب علم ہی اگلے مرحلہ میں میرٹ لسٹ کے لئے منتخب ہوتا ہے۔ این ای ڈی یونیورسٹی میں میرٹ لسٹ صرف ایف ایس سی کے نمبروں کی بنیاد پر مرتب کی جاتی ہے یعنی اس میں داخلہ ٹیسٹ کے نمبروں کو شامل نہیں کیا جاتا۔\n\nارسلان کی بہن عائشہ کو ڈاکٹر بننے کے لئے ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی میں داخل ہونا تھا۔ ہمارے ہاں انجینئرنگ کے مقابلہ میں میڈیکل کالجوں میں داخلہ ٹیسٹ کا معیار جدا اور نسبتاََ مشکل ہے۔ گو کہ یہاں بھی داخلہ ٹیسٹ MCQs پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں منفی مارکنگ بھی کی جاتی ہے۔ یعنی اگرطالب علم نے کسی سوال کا درست جواب دیا تو اسے ایک نمبر ملے گا اور اگر غلط جواب دیا تو اسے منفی ایک چوتھائی نمبر ملے گا۔اس بات کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ پرچہ کے کل ایک سَو سوالوں میں سے اگر کسی طالب علم نے ساٹھ سوالات کے درست اور چالیس سوالات کے غلط جواب دیئے توحاصل کردہ ساٹھ نمبروں میں سے چالیس غلط جوابات کے دَس نمبر منہا بھی ہوں گے اور یوں اُسے عملاََ پچاس نمبر ملیں گے۔ میڈیکل کالجوں میں داخلہ کی میرٹ لسٹ میں انٹری ٹیسٹ کے نمبروں کا پچاس فیصد، ایف ایس سی کے صرف چار مضامین یعنی انگریزی، فزکس، کیمسٹری اور بائیو لوجی کے کل حاصل کردہ مارکس کا چالیس فیصد اور میٹرک کے حاصل کردہ فیصد مارکس کا دس فیصد نمبرشامل کیا جاتا ہے۔ گویا انجینئرنگ کے مقابلہ میں میڈیکل میں داخلہ کا معیار اور بھی سخت ہے۔ اسی لئے عائشہ نے اپنے بھائی سے بھی زیادہ محنت اور لگن سے داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کی۔ دونوں نے مشق کی خاطر دیگر کالجوں اور جامعات کے انٹری ٹیسٹ بھی دیئے۔ الحمد للہ دونوں کی محنتیں رنگ لائیں اور وہ دونوں علی الترتیب جامعہ این ای ڈی اور ڈاؤ یونیورسٹی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واضح رہے کہ ایف ایس سی میں ساٹھ فیصد سے کم نمبر لانے والے طالب علموں کو انجینئرنگ اور میڈیکل کی میرٹ کی دوڑ سے پہلے ہی خارج کردیا جاتا ہے۔\n\nاپنے دونوں بڑے بہن بھائیوں کے بر عکس فرقان کو بزنس ایڈمنسٹریشن کا شوق تھا اور اس کی نگاہِ انتخاب مشہور تعلیمی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن، آئی بی اے پر تھی۔ آئی بی اے کے لئے درکار تعلیمی قابلیت میں کم از کم ۶۵ فیصد مارکس ہونے ضروری ہیں۔ اس ادارے کا انٹری ٹیسٹ پیچیدہ اور مشکل ترین سمجھا جاتا ہے۔ انٹری ٹیسٹ تین حصوں پرمشتمل ہوتاہے۔ تحریری حصہ میں تین ذیلی پرچے ہوتے ہیں اور تینوں پرچوں میں الگ الگ کامیاب ہونے کے علاوہ تینوں پرچوں کا مجموعی نمبر بھی مطلوبہ پاسنگ مارکس کے برابر ہونا لازمی ہے۔ گروپ ڈسکشن میں گروپ کے ہر ممبر کو دئیے گئے عنوان پر مقررہ وقت کے اندر اندر فی البدیہہ تقریر کرنی ہوتی ہے، پھر سارے ممبر مل کر اس موضوع پر اجتماعی بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ اس سارے عمل کو ایک ممتحن مسلسل جانچتا رہتاہے اور گروپ کے ہر ممبر کو اس کی انفرادی کارکردگی کی بنیاد پر نمبر دیتا ہے۔ آئی بی اے کے انٹری ٹیسٹ کے تیسرے مرحلہ میں ہر طالب علم کا پینل انٹرویو لیا جاتا ہے۔ جب تک طالب علم تینوں مرحلوں اور ہر مرحلہ کے تمام ذیلی شعبوں میں علیحدہ علیحدہ کامیابی حاصل نہیں کرتا، آئی بی اے میں داخلہ کا مستحق قرار نہیں پاتا۔ فرقان آئی بی اے کا یہ پیچیدہ اور مشکل ترین داخلہ ٹیسٹ پاس کر لیتا ہے۔\n\nمیٹرک میں اعلیٰ اے ون گریڈ میں کامیاب ہونے والے متذکرہ بالا تینوں بہن بھائیوں کے سب سے چھوٹے بھائی عدنان کو یہ فکر لاحق ہے کہ اُس نے تو میٹرک سائنس میں محض اوسط اے گریڈ حاصل کیا ہے اور مستقبل قریب میں پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے میں داخل ہونے کے لئے اسے بھی انہی میں سے کسی ایک انٹری ٹیسٹ کا سامنا کرنا ہوگا۔\n\nعام انسانوں کے لئے دنیا میں کامیابی کی راہ ہموار کرنے میں مشہور و معروف تعلیمی ادارے اہم اور بنیادی کردار اداکرتے ہیں۔ لیکن ان اداروں میں داخلہ کے لئے درکار تعلیمی قابلیت کے ساتھ ساتھ ان کے انٹری ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنا اولین شرط ہے۔ عموماََ جب بچے انٹر پاس کرلیتے ہیں تب اِن کے والدین پوچھتے ہیں کہ بیٹا آگے کیا کرنا ہے یا آگے کیا پڑھنا ہے۔ اور بچہ اپنے حاصل کردہ نمبروں کی بنیاد پرجواب دیتا ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے، یا وہ کیا کرسکتا ہے۔ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر مبارک کاپڑیا کا کہنا ہے کہ والدین کا یہ رویہ سراسر غلط ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ والدین کو بچہ کے انٹر میں داخل ہونے سے پہلے ہی باہم مشورہ کرکے یہ طے کرلینا چاہئے کہ بچہ انٹر کس مقصد کے تحت کرنا چاہتا ہے اور انٹر کے بعد اسے کس شعبہ یا کس تعلیمی ادارے میں داخل ہونا ہے اور وہاں کے انٹری ٹیسٹ کے قواعد و ضوابط کیا ہیں۔ ارسلان، عائشہ اور فرقان کے معاملہ میں ایسا ہی کیا گیا، چنانچہ انہوں نے مشہور و معروف تعلیمی اداروں کے انٹری ٹیسٹ میں احسن طریقہ سے کامیابی حاصل کرلی۔\n\nعموماََ ہم سب اس حقیقت کو مانتے ہیں کہ معروف تعلیمی اداروں کے انٹری ٹیسٹ میں کامیابی، دنیا میں ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ لیکن بہت کم لوگوں کی توجہ اس جانب ہوتی ہے کہ اوسطاََ پچاس ساٹھ سالہ دُنیوی کیریئر کے اختتام پر ہم سب کو ایک اور انٹری ٹیسٹ ، ’جنت انٹری ٹیسٹ‘ کا بھی سامنا کرنا ہوتاہے ۔کامیاب ترین دُنیوی زندگی کے اختتام پر ہمارے سامنے ایک اور نئی اور خوبصورت دنیا موجود ہوتی ہے، جسے جنت کہتے ہیں۔\nجنت کا عیش و آرام دُنیوی عیش و آرام سے بہت زیادہ ہے۔دنیا میں کامیاب ترین، امیر ترین اور بلند ترین منصب تک پہنچنے والے فرد کی کہانی زیادہ سے زیادہ ایک صدی پرمحیط ہوتی ہے۔ جب کہ مرنے کے بعد والی دنیا کی زندگی لا متناہی یعنی نہ ختم ہونے والی زندگی ہے۔ اور اُس اُخروی دنیا کا سارا عیش و آرام اور مزہ جنت میں رکھ دیا گیا ہے۔ اور جنت میں داخلہ کے لئے جنت انٹری ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہے۔ جو لوگ اس جنت انٹری ٹیسٹ میں ناکام ہوں گے، وہ نہ صرف یہ کہ جنت کی آرام و عیش سے محروم رہیں گے، بلکہ جنت سے محرومی کی صورت میں انہیں لازماََ جہنم میں داخل ہونا پڑے گا۔ جہنم کے بارے میں یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ یہاں جنت کے بالعکس ماحول پایا جاتا ہے۔ اسی لئے کوئی بھی فرد جہنم میں داخل ہونے کو تیار نہیں ملتا۔ لیکن طُرفہ تماشہ یہ ہے کہ جہنم میں داخل نہ ہونے کے خواہشمند افراد بھی جنت انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرنا تو درکنار، جنت انٹری ٹیسٹ کے پرچوں اور قواعد و ضوابط تک سے نا آشنا نظر آتے ہیں۔\n\nابھی ہم نے میڈیکل، انجینئرنگ اور بزنس ایڈمنسٹریشن کے اہم ترین تعلیمی اداروں کے انٹری ٹیسٹ کے طریقہ کار پر تفصیلی گفتگو کی ہے تاکہ ان تعلیمی اداروں میں داخلہ کے خواہشمند انٹر کے طالب علم نہ صرف یہ کہ انٹری ٹیسٹ کے قواعد و ضوابط سے آگاہ ہوجائیں، بلکہ ان قواعد و ضوابط کے عین مطابق متعلقہ انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لئے ذہنی طور پراپنے آپ کو تیار بھی کرلیں۔ کیونکہ انٹری ٹیسٹ میں کامیاب ہوکر ہی وہ دنیا میں کامیابی و کامرانی حاصل کرسکتے ہیں۔\n\nآیئے اب جنت انٹری ٹیسٹ کی بات کرتے ہیں، تاکہ جب عمر کی نقدی ختم ہو جائے اور جنت انٹری ٹیسٹ میں کامیابی کا پروانہ، نامہ اعمال کی صورت میں ہمارے ہاتھ میں ہو تو ہم اِس دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہوتے ہی جنت کی سہولتوں سے استفادہ شروع کرسکیں۔\n\nجنت انٹری ٹیسٹ کے بارے میں سورۃ العصر میں زمانے کی قسم کھاتے ہوئے اللہ تبارک تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ بے شک تمام انسان خسارے میں ہیں ، ماسوائے اُن لوگوں کے جو چار باتوں یعنی ایمان، عمل صالح، حق کی تلقین اور صبر پر عمل پیرا رہے۔ یہ چار باتیں درحقیقت ’ جنت انٹری ٹیسٹ ‘کے چار الگ الگ پرچے ہیں۔ جنت میں داخلہ کے لئے ان چاروں پرچوں میں الگ الگ کامیابی حاصل کرنا لازمی ہے۔ ایمان کے پرچہ میں اللہ اور اُ س کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بتلائی ہوئی تمام باتوں پر اسی طرح ایمان لانا ہے جیسا کہ ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اعمال صالحہ یعنی نیک اعمال والے پرچہ میں وہ سب کچھ لازماََ کرناہے، جس کا قرآن ا ور حدیث میں، امر بالمعروف کے ضمن میں حکم دیا گیا ہے اور ان تمام باتوں سے لازماََ رُکنا ہے ، جس کا ذکر نہی عن المنکر کے ضمن میں کیا گیا ہے۔ اگر ہم اپنے ایمان کا جائزہ لیں تو کم و بیش تمام مسلمان کسی نہ کسی حد تک ایمان والے پرچہ میں کامیاب ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح صالح اعمال والے پرچہ میں بھی ہماری کچھ نہ کچھ کاردگی ضرور ہوتی ہے۔ البتہ اس بات کا جائزہ لیتے رہنے کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے کہ کہیں ہم ان پرچوں میں مطلوبہ پاسنگ مارکس سے بھی کم نمبر والی کارکردگی تو نہیں دکھارہے۔ قرآنی اوامر و نواہی کی کسوٹی سے ہم بخوبی ان دو اولین پرچوں میں اپنی اپنی کارکردگی کا جائزہ لے سکتے ہیں۔\n\nلیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ہم بالعموم ایمان اور عمل صالح کے مرحلہ پر ہی رُک جاتے ہیں۔ اور اپنی ساری کاوشیں ان دونوں پرچوں میں خوب سے خوب تر کارکردگی دکھانے میں صرف کردیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ جنت انٹری ٹیسٹ کے دو مزید مراحل حق کی تلقین اور صبر بھی ہیں۔ ایمان اور عمل صالح کے بعد جب تک ہم ان دو امور پر بھی مطلوبہ توجہ نہیں دیتے،جنت انٹری ٹیسٹ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ کیا آئی بی اے انٹری ٹیسٹ کے تین تحریری، دو بات چیت اور ایک انٹرویو یعنی کُل چھ مراحل میں صرف تین مرحلوں میں اعلیٰ کارکردگی دکھلانے والا طالب علم آئی بی اے میں داخل ہوسکتا ہے، جبکہ بقیہ تین مراحل میں اس نے کوئی کارکردگی ہی ظاہر نہ کی ہو یا ان میں ناکام رہا ہو۔ جب ایک دُنیوی تعلیمی ادارے میں داخل ہونے کے تمام مراحل میں کم از کم کارکردگی دکھانی لازمی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جنت انٹری ٹیسٹ کے کُل چار مراحل میں سے دو میں ہماری کوئی کاردگی ہی نہ ہو اور ہم جنت میں داخل بھی ہوجائیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ صاف صاف کہہ رہے ہیں تمام لوگ خسارے میں ہیں ماسوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لا کر عمل صالح کرتے رہے، حق کی تلقین و تبلیغ کرتے رہے اور ان مراحل کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات پر صبر کرتے رہے۔حق کی تلقین کے بعد خصوصاََ صبر کرنے کا ذکر اس لئے بھی کیا گیاہے کہ حق کی تلقین یعنی فرامینِ قرآن و حدیث کی تبلیغ کا لازمی نتیجہ مشکلات و مصائب کو دعوت دینا ہے۔ حق کی تبلیغ کا سب سے زیادہ کام انبیاء علیہ السلام نے کیا اور انہیں ہی سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ چنانچہ ہر مشکل اور تکلیف پر انہوں نے صبر سے کام لیا۔ اگر کوئی انسان جنت انٹری ٹیسٹ میں کامیاب ہوکر جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو اُس کے لئے لازمی ہے کہ وہ ایمان لا کر عمل صالح اختیارکرے اور ساتھ ساتھ اپنے گرد و پیش میں موجود لوگوں کو حق کی تلقین بھی کرتا رہے اور اس تلقین و تبلیغ کی راہ میں مصائب و مشکلات پیش آئیں تو اس پردل سے صبر بھی کرے۔ اللہ ہر انسان کو جنت انٹری ٹیسٹ کے چاروں پرچوں میں کامیاب کرے تاکہ وہ ابدی خسارے سے بچ کر جنت میں داخلہ کا آئی ڈی کارڈ حاصل کرسکے ۔\n\nعدنان نے اپنے بہن بھائیوں کے برعکس اپنے لئے ایک منفرد راستہ منتخب کیا ۔ اُس نے ایف ایس سی کی بجائے دوپہر کی شفٹ میں ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹس انجینئرنگ میں اور صبح کی شفٹ میں ایک دینی جامعہ میں داخلہ لیا۔ تین سالہ ڈپلومہ کے بعدعدنان کے لئے انجینئرنگ میں گریجویشن اور دینی جامعہ سے مکمل عالم دین بننے کا راستہ کھلا ہے۔ اب آپ یہ بتلائیے کہ جنت انٹری ٹیسٹ میں کامیابی کا راستہ عدنان کے لئے زیادہ آسان ہوگا یا اس کے بہن بھائی کے لئے؟
Reading Time: