تلاوت قرآن کا ثواب - پیغام قرآن و حدیث

اتوار، 30 ستمبر، 2018

تلاوت قرآن کا ثواب

Image result for ‫قرآن‬‎

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

"اگر کوئی انسان بنا سمجھے قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو کیا اسے ثواب بھی ملے گا؟"

اس پر انہوں نے جواب دیا کہ: 
"قرآن کریم با برکت کتاب ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 {كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ}
جو کتاب آپ کی جانب نازل کی ہے بابرکت ہے، تا کہ وہ اس کی آیات پر تدبر کریں اور اہل دانش ان سے نصیحت حاصل کریں۔ [ص: 29]

 تو اس لیے انسان کو قرآن پڑھنے پر ثواب ملے گا، چاہے وہ معنی سمجھے یا نہ سمجھے، تاہم کسی بھی مکلف مسلمان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ قرآن کریم کو سمجھے بغیر ہی پڑھتا جائے؛ کیونکہ اگر کوئی انسان مثال کے طور پر علم طب حاصل کرنا چاہتا ہے، اور اس نے طب کی کتاب بھی پڑھ لی، تو اس شخص کو اس وقت تک فائدہ نہیں ہو گا جب تک وہ اس کا معنی نہ سمجھے، اور اسے اس کی تفصیل نہ سمجھائی جائے، بلکہ وہ خود پوری کوشش کرے گا کہ اس کتاب کو سمجھے تا کہ اسے اپنی پیشہ ورانہ عملی زندگی میں نافذ کر سکے۔

تو ایسے میں قرآن کریم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ جو کہ سینوں کے لیے شفا اور لوگوں کے لیے وعظ ہے، تو کیا یہ عمل اچھا ہے کہ انسان اسے سمجھے بغیر پڑھے، اور اس پر تدبر نہ کرے؟! یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم دس آیتوں سے بھی آگے نہیں بڑھتے تھے جب تک ان تمام آیات کا علم  حاصل نہ کر لیتے ، اور ان پر عمل نہ کر لیتے، اس طرح انہوں نے قرآن کریم کا علم اور عمل دونوں یکساں حاصل کئے۔

تو انسان کو قرآن کریم کی تلاوت پر ثواب ملتا ہے، چاہے وہ معنی سمجھے یا نہ سمجھے، تاہم  قرآن کریم کا معنی سمجھنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے، نیز قرآن کریم سمجھنے کے لیے علم اور دیانت داری رکھنے والے معتمد علمائے کرام سے رجوع کرے، اگر کوئی عالم دین قرآن کریم سمجھانے کے لیے میسر نہ ہو تو معتمد تفسیر کی کتابوں کو پڑھے، مثلاً: ابن جریر طبری، تفسیر ابن کثیر اور دیگر تفاسیر جن میں صحابہ اور تابعین سے منقول تفسیر ذکر کی گئی ہے"

1 تبصرہ: