سسرال مرے پیچھے ہے تو میکہ مرے آگے

تحریر: یوسف ثانی (مدیر پیغام قرآن و حدیث)


سسرال مرے پیچھے ہے تو میکہ مرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے



گھر کسی بھی معاشرے کا اہم ترین بنیادی ادارہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا پیداواری ادارہ ہےجو سوسائٹی کو بہتر انسان کی مسلسل فراہمی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ گھر کے اس اہم ترین ادارے کا آغاز دو بنیادی ارکان یعنی شوہر اور بیوی سے ہوتا ہے۔ اس ادارے کو کامیابی سے چلانے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تین باتوں کا پیشگی تعین کر لیا جائے۔ پہلی بات اس ادارہ کے قیام کا بنیادی مقصد، دوسرا اس مقصد کو حاصل کرنے کا لائحہ عمل یا طریقہ کار اور تیسرا مقصد کے حصول کی غرض سے طے کردہ طریقہ کار پر عمل درآمد کے لیے ورکنگ ٹیم کے سربراہ کی تقرری۔ گھر کے ادارہ کے قیام کا بنیادی مقصد تو سوسائٹی کو بہتر انسانوں کی فراہمی ہے۔ جبکہ اس مقصد کے حصول کے لیے لائحہ عمل ہمیں مختلف دنیوی نظام ہائے زندگی یا مذاہب عطا کرتا ہے۔ ہم مسلمانوں کے لیے یہ لائحہ عمل اسلام عطا کرتا ہے۔ ایک نئے گھر کے تاسیسی ارکان چوں کہ میاں بیوی ہی ہوتے ہیں، لہٰذا گھر کا سربراہ بھی انہی میں سے کسی ایک کو ہونا چاہیے۔ عقل و شعور، منطق، تاریخی شواہد، دیگر مذاہب اور اسلام سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ گھر کا سربراہ شوہر کو ہی ہونا چاہیے۔ خود خواتین بھی اُصولی طور پر اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ اللہ نے مردوں کو نسبتاً برتر جسمانی و دانائی کی قوت اسی لیے عطا کی گئی ہے کہ وہ گھر میں ایک لیڈنگ رول کردار ادا کرے۔ شریعتِ اسلامی میں اسی لیے شوہر کا رُتبہ و درجہ بلند رکھا گیا ہے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ مرد کی صنف کو مجموعی طور پر عورت کی صنف پر برتری حاصل نہیں۔


جس طرح مرد کے چار بنیادی روپ ہیں یعنی بیٹا،بھائی، شوہر اور باپ۔ اسی طرح عورت کے بھی چار ہی روپ ہیں یعنی بیٹی، بہن، بیوی اور ماں۔ مستثنیات کے علاوہ بیٹا بیٹی یا بہن بھائی عمومی طور پر مساوی حیثیت و مرتبے کے حامل ہوتے ہیں یعنی ان میں سے کوئی مطلقاًحاکم یا محکوم نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس بیٹی اور باپ کے رشتے میں باپ(مرد) کو بطور ولی اور بیٹا اورماں کے رشتے میں ماں (عورت) کوحاکمیت کا درجہ عطا کیا گیا ہے۔ دوسری طرف شوہر اور بیوی کے تناظر میں دونوں ایک دوسرے کے لائف پارٹنرہوتے ہوئے نہ صرف یہ کہ دونوں کی ذمہ داریاں یکسر مختلف اور علیحدہ ہیں بلکہ باہمی ورکنگ ریلیشن شپ کو مؤثر بنانے کے لیے شوہر کا ایک درجہ بلندبھی رکھا گیا ہے تاکہ اختلافِ رائے کی صورت میں شوہر کی ا تھارٹی پر عمل درآمد کیا جاسکے۔ جس طرح اپنی ماں (ایک عورت) کا نافرمان بیٹا (ایک مرد) جہنم کا مستحق ٹھہرسکتا ہے۔ اسی طرح اپنے شوہر (ایک مرد) کی نافرمان بیوی (عورت) بھی داخلِ جہنم ہو سکتی ہے۔


حدیث میں آتا ہے کہ دورِ رسالت ﷺ میں ایک نافرمان بیٹا عذابِ مرگ میں تڑپ رہا تھا اور اس کی جان نہیں نکل رہی تھی۔ جب حضور ﷺ کو اس بات کی خبر ملی تو آپﷺ نے نافرمان بیٹے کی ماں سے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی خطا بخش دے تاکہ اس کی جان آسانی سے نکل سکے۔ لیکن ماں نے اپنے بیٹے کو اس بنیاد پر معاف کرنے سے انکار کر دیا کہ بیٹے نے ماں کو اپنی زندگی میں بہت ستایا تھا۔ چنانچہ رسولِ ا کرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکڑیاں جمع کر کے الاؤ جلانے کا حکم دیا تاکہ اس الاؤ میں اس نافرمان بیٹے کو جلایا جاسکے۔ جب اس بات کی اطلاع اُس ماں کو ملی تو اس نے احتجاج کیا کہ میرے بیٹے کو کیوں جلایا جا رہا ہے۔ حضور ﷺنے فرمایا کہ جب اسے جہنم کی آگ میں جلنا ہی ہے توکیوں نہ اسے یہاں بھی جلا ہی دیا جائے۔ یہ بات سنتے ہی اس دکھیاری ماں نے فورااًپنے بیٹے کی خطا معاف کر دی۔ ماں کے معاف کرتے ہی وہ شخص جان کنی کے عذاب سے نجات پا گیا اور اس کی روح پرواز کرگئی۔ اس واقعہ سے عورت کی بہ حیثیت ماں کے درجہ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر ماں بیٹے سے ناراض ہو تواللہ اُسے جہنم کے آگ میں اور اللہ کے رسول ﷺ اسی دنیا میں جلانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ آپ ﷺ رحمۃاللعالمین ہیں اور اللہ تو رحمٰن بھی ہے اور رحیم بھی۔


اگرکوئی فرد (جیسے جمہوری انتخابات میں جیتنے والی سیاسی پارٹی کا سربراہ) کسی بھی رکن اسمبلی کو وزیر اعظم جیسا بلند مرتبہ عطا کرنے کی اہلیت رکھتا ہو تو اس بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتی ہے کہ خود وہ شخص وزیراعظم سے بلندتر درجہ کا حامل ہوگا۔ عورت بیٹی اور بہن کی حیثیت سے تو اپنے مدمقابل بیٹا اور بھائی سے کم و بیش برابری کا درجہ ہی رکھتی ہے۔ لیکن جب ایک اور مرد (شوہر) اِسے ماں بناتا ہے تو اس (ماں ) عورت کا درجہ ایک یا ایک سے زائد مردوں (بیٹوں ) سے اس درجہ بلند ہو جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ بھی ان مرَدوں (بیٹوں ) سے اس وقت تک راضی نہیں ہوتا جب تک یہ (ماں ) عورت راضی نہیں ہو جاتی۔ اب آپ خود سوچئے کہ جو مرد (شوہر) اسے اس بلند تر درجہ پر فائز کرنے کا سبب بنتا ہے، خود اس کا درجہ (کسی کو وزیر اعظم بنانے والے کی طرح) اس سے لازما" بلند ہو گا۔ ایک حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میرے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا رَوا ہوتا تو میں بیویوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ ایک اور حدیث کے مطابق فرشتے رات بھر اُس بیوی پر لعنت کرتے رہتے ہیں جو اپنے شوہر سے روٹھ کر شوہر اور اُس کے بستر سے دور رات بسر کرے۔ شادی سے قبل عورت باپ کے حکم کے تابع ہوتی ہے تو شادی کے بعدباپ سے برتر درجہ شوہر کا ہو جاتا ہے اورباپ کے گھر (میکہ) سے شوہر کا گھر (سسرال)مقدم ٹھہرتا ہے۔


جو عورتیں اس فطری اور عین اسلامی حدود و قیود کو دل سے قبول نہیں کرتیں، وہ نہ گھر کی رہتی ہیں نہ گھاٹ کی۔ یعنی پھر اُن کی عزت نہ میکہ میں ہوتی ہے نہ سسرال میں۔ سسرال کو اپنے پیچھے اورمیکہ کو اپنے آگے رکھنے والی بیویوں کے سامنے شب و روز تماشہ تو ہو اہی کرتا ہے۔ لیکن ایسی بیویوں کا اُخروی انجام بھی بُرا ہی ہوا کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں نے معراج میں جہنم میں عورتوں کی کثرت کو دیکھا جو محض اس وجہ سے جہنم میں ڈالی گئیں تھیں کہ وہ اپنے شوہر کی ناشکرگذار تھیں۔ شوہر کی فرمانبرداری کی اہمیت کا اندازہ عہدِ نبوی کے اس واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔


تجارت کی غرض سے بیرونِ شہر جانے والے ایک شخص نے احتیاتاً اپنی بیوی کو ہدایت کی کہ جب تک میں واپس نہ آ جاؤں، تم گھر سے باہر نہ نکلنا۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ شوہر کی غیر موجودگی میں خاتون کے والد کا انتقال ہو گیا۔ جب اس کے میکہ والے اسے لینے آئے تو اُس نے جانے سے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ میرے شوہر نے کہا تھا کہ جب تک وہ واپس نہ آ جائے، میں گھر سے باہر نہ نکلوں۔ یوں وہ اپنے والد کے آخری دیدار سے محروم رہ گئیں۔ بعد ازاں خاتون نے دربارِ رسالت میں اپنے شوہر کی شکایت کرتے ہوئے اپنا دکھ پیش کیا تورحمۃاللعالمین ﷺنے فرمایا کہ تمہارے اس عمل سے تمہارا رب اتنا خوش ہوا کہ اُس نے تمہارے والد کی مغفرت کر دی۔ کیا تم اپنے رب کی اس بات سے خوش نہیں۔ چنانچہ خاتون نے اپنی شکایت واپس لے لی۔


اسلام نے جہاں بیوی کو شوہر کی فرمانبرداری کا حکم دیا ہے، وہیں گھر کی جملہ ضروریات کی فراہمی کا ذمہ دار شوہر کو قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے حق میں بہتر ہو۔ اللہ کے رسول ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عورتیں کمان کی مانند ہیں جنہیں پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔ اگر تم انہیں سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو تم اُنہیں توڑدو گے۔ آپ ﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ بیوی کو ناراض ہونے سے بچانے کے لیے اُس سے (بے ضر ر) جھوٹ بھی بولا جاسکتا ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے شوہر اور بیوی دونوں کو اپنا اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ ہمارے اعمال کہیں قرآن و سنت سے متصادم تو نہیں۔ یہاں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ میاں بیوی میں فطرتاً کون تیز و طرار ہے اور کون خاموش طبع۔ آپ غصہ ور ہوں یا خاموش طبع، مظلوم ہونے کی صورت میں اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیے کہ ظلم خواہ شوہر کی طرف سے ہو یا بیوی کی طرف سے، ظالم کو اس کی سزا ضرور ملتی ہے۔ بیویاں تیزی و طراری سے شوہروں پرحاوی ہونے والی ہوں یا خاموش طبع چُپ چاپ رہنے والی، وہ یہ بات ہرگز نہ بھولیں کہ اس دنیا میں شوہروالی خاتون کی حیثیت بے شوہر والی خاتون سے بہر حال بہترہوتی ہے۔ ہمارے ہاں شوہربڑی مشکل سے ملتے ہیں، اسے پا کر گنوانا کوئی عقلمندی نہیں۔



ایک شوہر جسے تو گراں سمجھتی ہے

ہزار شوہروں سے دیتا ہے عورت کو نجات

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں