تدبر سورہ الرحمٰن ۔۔۔ از استاد نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ 14

 


تدبر سورۃ الرحمن


از استاد نعمان علی خان 


پارٹ 14 آیات(22-23)


بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيم


 يَخۡرُجُ مِنۡهُمَا اللُّـؤۡلُـؤُ وَالۡمَرۡجَانُ‌ۚ‏ ﴿۲۲﴾ 

 فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ‏ ﴿۲۳﴾ 


دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں ﴿۲۲﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ ﴿۲۳﴾


 اللہ نے پہلے بات کی کہ کیسے دو سمندر ٹکرا رہے ہیں۔ اور دونوں اللہ کے حکم سے ایک دوسرے پر چڑھائی نہیں کر رہے۔


 مَرَجَ الۡبَحۡرَيۡنِ يَلۡتَقِيٰنِۙ‏ ﴿۱۹﴾

اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں ﴿۱۹﴾


 اس میں جو لفظ ہے يَلۡتَقِيٰنِۙ‏۔ اس کا روٹ ورڈ ہے التقاء۔

 یہ لفظ قرآن مجید میں استعمال ہوتا ہے ''جب دو فوجیں آپس میں ٹکرا رہی ہوتی ہیں ''۔

یعنی بہت بڑی بڑی طاقتیں ہیں جو آپس میں ٹکرا رہی ہیں۔ ایک جنگ کا سماں کھینچا گیا ہے یعنی دو پانیوں کے درمیان ایک جنگ ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے پر غالب نہیں آ سکتے کیونکہ اللہ نے دونوں کو روکا ہوا ہے۔


 اب اس کے بعد ایک بہت ہی خوبصورت کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ اب اللہ پاک آیت نمبر 22 میں کہتے ہیں کہ اگر دونوں سمندروں میں پانی کی گہرائی میں اترو تو موتی اور مرجان نکلتے ہیں۔یہ نازک سی شے بالکل گہرائی کے اندر ڈوبی ہوئی ہے ۔


 پھر اس کے بعد کہا کہ تمہیں اندازہ ہے کہ کوئی بہت عظیم طاقت ہو اور اس میں تباہ وبرباد کرنے کی قوت ہو۔ بڑے سے بڑے قلعے اور عمارتیں پانی کی طاقت کے آگے کچھ بھی نہیں ہیں ۔اسی طاقتور پانی میں اللہ نے اتنی نازک سی شے کو برقرار رکھا ہوا ہے اور وہ بھی دونوں سمندروں کے اندر..!


 دو سمندروں کے درمیان ایک بہت بڑی جنگ ہو رہی ہے لیکن لُّـؤۡلُـؤُ اور مرجان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ،بالکل محفوظ ہیں۔

سبحان اللہ 


 وہ نازک سے سمندر کی تہہ میں بڑھ رہے ہیں ۔ان کو نقصان نہیں پہنچ رہا یہ اللہ پاک کی'' طاقت کا بیلنس'' ہے ۔ وہ جہاں تک چاہتا ہے اپنی قوت استعمال کرتا ہے اور جہاں تک چاہتا ہے اس کو روک لیتا ہے ۔ باریکی اور لطافت سے کام لیتا ہے۔


 اللہ کہہ رہے ہیں کہ اے انسانو تمہاری کیا حیثیت ہے ؟ تمہاری حیثیت ان موتیوں سے زیادہ نہیں ہے۔ میں تم سے نرمی سے پیش آرہا ہوں ،نرمی کا فائدہ نہ اٹھاؤ۔

 اللہ کے ہاتھ میں بڑی بڑی طاقتیں ہیں وہ چاہتا تو تم بچ نہیں سکتے ۔ اس سے کچھ سیکھو اس کی طاقت اور رعب سے ڈرو۔


تم اللہ کی کون کون سی طاقتوں اور قدرتوں اور عجائب کا انکار کرو گے۔


جاری ہے...

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں