سورة الکہف : عبرت و نصیحت کے چار قصے

 



بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم

 نزول قرآن کا مقصد:

الله تعالی نے قرآن مجید کو نازل کیا تاکہ اس کی تلاوت کی جائے، اس کی آیات میں غور و فکر کیا جائے اور اس سے عبرت و نصیحت حاصل کی جائے جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے :

( كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الألباب )

یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں ۔ (ص - الآية 29)

سورة الکہف کی فضیلت:

سورة الکہف قرآن کریم کی ایک عظیم سورت ہے جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ كے روز پڑھنے کی ترغیب دلائی ہے چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من قرأ سورة الكهف في يوم الجمعة سطع له نور من تحت قدمه إلى عنان السماء يضيء له يوم القيامة ، وغفر له ما بين الجمعتين ".

ترجمہ : - ابن عمر رضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے قدموں کے نیچے سے لیکر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا اور اس دونوں جمعوں کے درمیان والے گناہ معاف کردیۓ جاتے ہیں ۔

( منذری کا کہنا ہے کہ : ابوبکر بن مردویہ نے اسے تفسیر میں روایت کیا ہے جس کی سند میں کوئ حرج نہیں ، لاباس بہ کہا ہے ۔ الترغیب والترھیب، 1 / 298 ) ۔


پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ یہ سورت فتنوں سے حفاظت کرنے والی ہے چنانچہ صحیح مسلم کی روایت ہے :

ِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْف عُصِمَ مِنْ الدَّجَّالِ.

ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے سورہ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کرلیں، اسے دجال کے فتنے سے محفوظ کرلیا گیا۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 809)

صحیح مسلم ميں دجال کے متعلق ایک دوسری لمبی روایت میں ہے :

.. فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ .

تم میں سے جو اسے یعنی دجال کو پائے تو اس کے سامنے سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے. ( صحیح مسلم حدیث نمبر 2937 )

سوره کہف چار قصوں پر مشتمل ہے جو بڑے ہی قابل عبرت و نصیحت ہیں:

1- غار والوں کا قصہ

2 - دو باغ والے کا قصہ

3- موسی اور خضر علیہما السلام کا قصہ

4- ذوالقرنین کا قصہ

ان میں سے ہر ایک قصے میں ان فتنوں سے حفاظت اور بچاؤ کا طریقہ موجود ہے جن فتنوں میں بہت سارے لوگ مبتلا نظر آتے ہیں.

1- غار والوں کا قصہ

اس سورت میں سب سے پہلے دین و ایمان میں پیش آنے والے فتنے کا ذکر ہے وه اس طرح کہ ایک ظالم و جابر بادشاہ تھا جو اپنی قوم کو غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا چنانچہ کچھ نوجوان جو اللہ پر ایمان رکھنے والے اور عقیدہ توحید پر قائم تھے اس بادشاہ کی دعوت کے خلاف کھڑے ہوئے اور انهوں نے توحید و حق کی آواز بلند کی، اس سلسلے ميں انهوں نے اللہ سے دعا کی اور اپنے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے اللہ کی پناہ طلب کی جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے :

( إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا)

جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اے پروردگار ! ہم کو اپنی رحمت خاص سے نواز اور ہمارا معاملہ درست کردے. ( الكهف - الآية 10)

چنانچہ اللہ تعالی نے ان کو پناہ دی اور وه غار میں 309 سال تک پڑے رہے، ایک طویل عرصے کے بعد جب اللہ نے انہیں نیند سے بیدار کیا تو ماحول بدل چکا تھا ، لوگ بدل چکے تھے، جس بستی کے لوگ شرک و بت پرستی میں ڈوبے ہوئے تھے وه اب عقیدہ توحید کے پرستار بن گئے تھے .

اس واقعے سے یہ نصیحت ملتی ہے کہ انسان اپنے دین و ایمان کے بارے میں فتنے اور آزمائش میں ڈالا جا سکتا ہے مگر اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہے کیونکہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے :

( وَمَن يَعْتَصِم بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ )

جو شخص اللہ تعالیٰ ( کے دین ) کو مضبوط تھام لے تو بلاشُبہ اسے راہ راست دکھا دی گئی. ( آل عمران - الآية 101)

اس سلسلے ميں ایک اور طریقہ اور وسیلہ جو بہت ہی معاون اور مددگار ثابت ہوتا ہے وه یہ ہے کہ انسان نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے تاکہ غفلت و نسیان کی صورت میں وه اس کی تنبیہ کریں، یاد دہانی کی صورت میں وه اس کی مدد کریں اور راستہ بهٹکنے کی صورت میں اسے راہ راست پر لائیں ـ

2- دو باغ والے کا قصہ

سوره کہف کا دوسرا قصہ مال کے فتنے کے بارے میں ہے، دو باغ والے کا قصہ جسے اللہ نے بہت ساری نعمتوں سے نوازا تھا، اس کے پاس رزق کی فراوانی تھی، ان سارے انعامات و اکرامات پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس نے ناشکری اور ناقدری کا راستہ اختیار کرتے ہوئے یوم آخرت کا انکار کر دیا اور اپنے مال و دولت پر ناز و غرور کرتے ہوئے کہا :

( وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِ أَبَدًا وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا )

پھر وہ اپنی جنت (باغ) میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی ، اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی ۔ تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کے حضور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاؤں گا ۔(الكهف - الآية35- 36)

اس ناسمجھ نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ اللہ کے نزدیک اس کا بڑا مقام و مرتبہ ہے اسی لئے اللہ تعالی نے اسے رزق کی کشادگی اور مال و دولت کی فراوانی سے نوازا ہے حالانكہ اس کا یہ وہم و گمان غلط تھا بلکہ یہ سب اسے فتنے اور آزمائش کے لئے ملا ہوا تھا، اللہ تعالى فرماتا ہے :

(وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ )

اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں. آخرکار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے . (الأنبياء - الآية 35)

اس باغ والے کو اللہ کا ایک نیک بنده ملا جو اسے نصیحت کرتا اور اللہ سے ڈراتا تھا اسے بھلائی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا تھا، اس بندے نے اسے اللہ کی نعمتوں کو یاد دلا کر اللہ کا شکر ادا کرنے کی نصیحت کی اور کہا :

( وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ۚ )

اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوة الا باللٰہ؟ (الكهف - الآية 39)

مگر وه شخص دولت کے نشے اور طاقت و قوت کے غرور میں اندھا ہو گیا تھا اس نے نصیحت کرنے والے بندے کو یہ جواب دیا :

(أَنَا أَكْثَرُ مِنكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا )

میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں۔ (الكهف - الآية 34 )

چنانچہ مال و دولت پر اس فخر و مباہات کی پاداش اور لوگوں کے سامنے غرور و تکبر کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالی نے اس کے باغات کو تباہ و برباد کر دیا اور اسے لوگوں کے لیے سامان عبرت بنا دیاـ

3- موسی اور خضر علیہما السلام کا قصہ

 تیسرے قصے میں علم کے فتنے کا ذکر ہے یعنی انسان کو علم کی دولت ملے اور وه اس علم کے فتنے ميں مبتلا ہو جائے، اللہ تعالى نے اپنے نبی موسی عليہ السلام کو اس فتنے سے محفوظ رکھنا چاہا جب بنی اسرائیل نے ان سے پوچھا : سب سے بڑا عالم کون ہے؟ تو موسی عليہ السلام نے جواب دیا : میں ہوں، ان کا یہ جواب بر حق تھا اس اعتبار سے کہ وه الو العزم رسولوں میں سے تھے، اللہ سے انہیں کلام کا شرف حاصل تھا، اللہ تعالى نے انہیں نور و ہدایت کی کتاب تورات عطا فرمائی تھی، اللہ کی طرف سے نو واضح نشانیاں (معجزات) ملی تھیں نیز وه اپنے وقت کے سب سے بڑے ظالم و جابر بادشاہ فرعون سے برسر پیکار تھے جس نے دعوی کیا تھا : أنا ربكم الأعلى،

لیکن ان سب کے باوجود اللہ نے ان کی سرزنش کی کیونکہ سائل کے جواب میں انهوں نے یہ نہیں کہا : اللہ ہی بہتر جانتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے انهیں بتایا ہمارا ایک بنده خضر ہے جو دو دریاؤں کے سنگم پر رہتا ہے اس کے پاس جو علم ہے وه تمہارے پاس نہیں.

چونکہ موسی عليہ السلام کو اللہ نے تواضع و خاکساری، تقوی و پرہیزگاری اور حسن اخلاق کی دولت سے مالامال کیا تھا اس لیے انهوں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے اس بندے خضر کی ضرورت نہيں بلکہ دریافت کیا : اے میرے رب! اس بندے سے ملاقات کا راستہ کیا ہے؟ اللہ نے انھیں حکم دیا کہ ایک ٹوکری میں مچھلی لے کر سفر کرو جہاں مچھلی تم سے غائب ہو جائے تو سمجھ لو کہ اس بندے سے ملنے کی جگہ وہی ہے.

چنانچہ موسی عليہ السلام اس بندے سے ملاقات کے لئے نکل پڑے اور اپنے نوجوان سے کہتے رہے :

( وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَاهُ لَا أَبْرَحُ حَتَّىٰ أَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا )

اور جبکہ موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ میں تو چلتا ہی رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچوں ، خواہ مجھے سالہا سال چلنا پڑے ۔ ( الكهف - الآية 60 )

مفسرین اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں : موسی عليہ السلام اس عالم سے ملاقات کے لئے 80 سال تک چلتے رہے .

لہذا علم کے فتنے سے محفوظ رہنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے لئے تواضع و خاکساری اختیار کرے اور ہمیشہ اللہ کے اس فرمان کو یاد رکھے :

( وَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ اِلَّا قَلِیۡلًا )

اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے ۔

(الإسراء - الآية 85 )

4- ذوالقرنین کا قصہ

چوتھے قصے میں بادشاہت و سلطنت اور جاه و منصب کے فتنے کا ذکر ہے، کتنے لوگ ایسے ہیں کہ جب اللہ نے انہیں بادشاہت یا جاه و منصب سے نوازا اور لوگوں کے اوپر حکمرانی کا موقع ملا تو انہوں نے ظلم و ستم ڈھائے اور زمین میں فساد مچایا.

اللہ تعالى نے اس سورت میں اپنے ایک نیک بندے کا قصہ بیان کیا ہے جس کے پاس مشرق سے لے کر مغرب تک کی حکمرانی اور اسباب و وسائل کی فراوانی تھی مگر اس بندے نے زمين پر فساد کے بجائے اصلاح کا کام کیا اور غرور و تکبر کرنے کے بجائے تواضع و خاکساری کا راستہ اختیار کیا.

یہ نیک بنده ذوالقرنین ہے جس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم ذوالقرنین نبی تھے یا نهيں. ( رواه الحاكم (104) والبيهقي (18050 / یہ روایت امام بخاری وغیرہ کے نزدیک صحیح نہیں ہے )

اس بندے نے اصلاح و ترقی کا کام کیا، ظالموں کا قلع قمع کیا، شر پسندوں کے شر سے عوام کو محفوظ کیا، ایک قوم کے لوگوں نے ان سے شکایت کی کہ یاجوج ماجوج زمین پر فساد پھیلا رہے ہیں اس لئے آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند تعمیر کر دیجئے تاکہ ہم لوگ یاجوج ماجوج کے فتنے و فساد سے محفوظ رہیں اور اس کام کے لئے آپ کو اجرت بھی دیں گے مگر اس نیک بندے نے مال کی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے کہا : مجھے آپ لوگوں کے مال کی ضرورت نہيں اور نہ ہى مجھے اس کی لالچ ہے کیونکہ اللہ نے جو کچھ مجھے نوازا ہے وه افضل اور بہتر ہے جیسے نبی سلیمان عليہ السلام نے ملکہ سبا کے بھیجے ہوئے تحفے کے جواب میں کہا تھا. انبیائے کرام اور اسی طرح اللہ کے نیک بندے رشوت نہيں لیتے اور نہ دوسروں کے مال و دولت کی طرف للچائی نظروں سے دیکھتے ہیں اس لئے ذوالقرنین نے پورے یقین کے ساتھ بڑے واضح طور پر کہا :

( قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا )

" اس نے کہا" جو کچھ میرے رب نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے ۔ تم بس محنت سے میری مدد کرو ، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں ۔(الكهف - الآية 95)

چنانچہ وه لوگ بند کی تعمیر میں پورے طور پر شریک رہے یہاں تک کہ یاجوج ماجوج قید ہو گئے، اسی طرح وه تا قیامت قید رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالی انهیں نکلنے کی اجازت دے ـ

خلاصہ کلام: اللہ تعالى نے اس سورت میں قصے کی شکل میں چار قسم کے فتنوں کو بیان کیا ہے اور ان سے بچنے کا طریقہ بھی بتایا ہے.

1- دین میں فتنہ : اس سے حفاظت کا طریقہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنا اور نیک لوگوں کی صحبت و رفاقت اختیار کرنا.

2- مال کا فتنہ : اس سے حفاظت کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اس دنیا کی حقیقت کو جانے پہچانے کہ یہ بہت ہی معمولی اور حقیر شے ہے، آخرت کے بالمقابل اس کی کوئی وقعت نہيں جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے:

( قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡیَا قَلِیۡلٌ ۚ وَ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰی ۟ وَ لَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا )

آپ کہہ دیجئے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لئے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی سِتَم روانہ رکھا جائے گا ۔ ( آل عمران الآية 77)

3- علم کا فتنہ : اس سے حفاظت کا طریقہ اللہ اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ تواضع و خاکساری اپنانا.

4- سلطنت اور جاه و منصب کا فتنہ : اس سے حفاظت کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی خاطر اخلاص کو اپنائے اور یہ یقین رکھے کہ ایک دن یہ سب ختم ہو جائے گا، اگر یہ حکومت و سلطنت کسی کو ہمیشہ کے لئے ملتی تو آج اسے نہ ملی ہوتی.


اس لئے اس سورت کی قدر و منزلت کو سمجھنا چاہئے، اس کی آیات میں غور و فکر کرنا چاہیے اور اس میں مذکور واقعات سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا چاہئے بالخصوص اس لئے بھی کیونکہ ہر جمعہ کو یہ سورت پڑھی جاتی ہے، بلکہ اسے حفظ کر لینا چاہئے اگر مکمل نہ سہی تو کم از کم شروع کی دس آیات کو ضرور یاد کر لینا چاہیے تاکہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہیں کیونکہ دجال کا فتنہ آنے والے فتنوں میں بہت بڑا فتنہ ہے.

اللہ تعالى ہم سب کو قرآن کریم پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین


[عربی سے ترجمہ : محمد شاہد يار محمد سنابلى]

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں