سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 302



سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 302

جانشینی کا اختلاف اور تجہیز وتکفین:

حضور اکرم ﷺ کی وفات کے ساتھ ہی سقیفۂ بنو ساعدہ میں انصار جمع ہوئے اور حضورﷺ کی جانشینی اور خلافت پر بحث شروع ہوگئی، حضرت سعد ؓ بن عبادہ صدر نشین تھے، اُدھر حضرت فاطمہؓ کے گھر میں حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ بن عوام اور حضرت طلحہؓ بن عبیداللہ آپس میں مشورہ کر رہے تھے، مہاجرین کی بڑی تعداد حضرت ابو بکرؓ کے پاس جمع تھی، جن میں گروہ انصار سے بنو عبدالاشہل کو لے کر حضرت اسیدؓ بن حضیر شامل ہو گئے، اطلاع ملی کہ سقیفہ بنو ساعدہ میں جمع انصار حضرت سعد ؓ بن عبادہ کی بیعت پر مائل ہیں کیونکہ غزوات میں انصار کا علم اکثر ان ہی کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔

یہ اطلاع جب حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمرؓ کو ہوئی تو اس خوف سے کہ کچھ نے اپنی مرضی سے کوئی خلیفہ منتخب کرلیا اور باقیوں نے اپنا تو ملت میں افتراق نہ پیدا ہو جائے، دونوں حضرات ابو عبیدہؓ بن الجراح کو لے کر سقیفہ بنو ساعدہ روانہ ہوئے، راستہ میں دو انصاری حضرت عدیم ؓ بن ساعدہ اور حضرت معن ؓ بن عدی ملے، انھوں نے بتایا کہ انصار ایک معاملہ میں متفق ہو چکے ہیں، تم ان کے پاس نہ جاؤ بلکہ اپنے معاملات خود طے کر لو، حضرت ابو بکرؓ نے کہا نہیں ہم ان سے ضرور ملیں گے، حضرت سعدؓ بن عبادہ بیمار تھے اور چادر اوڑھے سب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے، ان کے خطیب نے حمدو ثنا کے بعد کہا کہ ہم اللہ کے انصار اور اسلام کا لشکر ہیں، مہاجرین ایک جماعت بن کر ہمارے پاس آئے، اب ان کا ارادہ ہماری جڑیں کاٹ کر امارت غصب کرنے کا ہے۔

حضرت عمرؓ اس کا جواب دینے کے لئے اٹھنے والے تھے کہ حضرت ابو بکرؓ نے روک دیا، خود کھڑے ہوئے اور حمد و ثنا ء وصلوٰۃ کے بعد پہلے مہاجرین کے فضائل اور اسلام کے لئے ان کی غیر معمولی قربانیاں اور حضور اکرم ﷺ سے قرابت کا ذکر کیا، اس کے بعد فرمایا، اے انصار ! تم اپنے متعلق جو کچھ کہتے ہو بے شک تم ان فضائل کے حامل ہو، آنحضرت ﷺ سے تمہارا تعلق بھی بہت گہرا ہے، لیکن عرب اس معاملہ میں سوائے قریش کے کسی اور کی اطاعت قبول نہیں کریں گے، انصار نے کہا کہ اچھا ہم میں سے ایک امیر ہو اور تم میں سے ایک، حضرت ابو بکرؓ نے کہا، نہیں بلکہ ہم میں سے امیر ہوں اور تم میں سے وزیر ہو، اس کے بعد حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا، ان میں سے کسی ایک کے ہاتھ پر بیعت کرلو، شور و غل بڑھنے لگا۔

حضرت خبابؓ بن منذر نے اعتراض کیا تو حضرت عمرؓ نے بڑھ کر حضرت ابو بکرؓ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ ہم میں آپ سب سے بہترین ہیں، ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں، حضرت ابو عبیدہؓ نے اس کی تائید کی اور انصار میں سے حضرت بشیرؓ بن سعد کو سب سے پہلے بیعت کا شرف حاصل ہوا، پھر تمام مہاجرین و انصار نے بیعت کی، انتشار و تفریق کا یہ نازک مرحلہ حضرت ابو بکرؓ کے حسنِ تدبر سے سلجھ گیا، اس سے فراغت پا کر لوگ حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین میں مشغول ہوگئے۔

اپنی تجہیز و تکفین کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے ایک ماہ قبل ہی واضح احکامات دے دیے تھے، منگل کے روز آپﷺ کو کپڑے اتارے بغیر غسل دیا گیا۔ غسل دینے والے حضرات یہ تھے۔ حضرت عباسؓ، حضرت علیؓ، حضرت عباس کے دو صاحبزادگان فضل اور قثمؓ، رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام شقران، حضرت اسامہؓ بن زیدؓ اور اوس بن خولی رضی اللہ عنہم ۔ حضرت عباس، فضل اور قثم آپﷺ کی کروٹ بدل رہے تھے۔ حضرت اسامہ اور شقران رضی اللہ عنہما پانی بہا رہے تھے۔ حضرت علیؓ غسل دے رہے تھے اور حضرت اوسؓ نے آپﷺ کو اپنے سینے سے ٹیک رکھا تھا۔
( ابن ماجہ ۱/۵۲۱)

آپ ﷺ کو پانی اور بیر کی پتی سے تین غسل دیا گیا۔ اور قباء میں واقع سعد بن خیثمہ کے غرس نامی کنویں سے غسل دیا گیا۔ آپ ﷺ اس کا پانی پیا کرتے تھے۔( تفصیل طبقات ابن سعد ۲/۲۷۷،۲۸۱ میں ملاحظہ ہو۔)

اس کے بعد آپ ﷺ کو تین سفید یمنی چادروں میں کفنا یا گیا۔ ان میں کرتا اور پگڑی نہ تھی۔ بس آپ ﷺ کو چادروں ہی میں لپیٹ دیا گیا تھا۔ ( صحیح بخاری ۱/۱۶۹ جنائز باب الثیاب البیض للکفن ، فتح الباری ۳/۱۶۲،۱۶۷ ،۱۶۸حدیث نمبر ۱۲۶۴، ۱۲۷۱،۱۲۷۲،۱۲۷۳، ۱۲۷۳، ۱۳۸۷، صحیح مسلم : جنائز ، باب کفن المیت ۱/۳۰۶ حدیث نمبر ۴۵)

آپ ﷺ کی آخری آرام گاہ کے بارے میں بھی صحابہ کرام کی رائیں مختلف تھیں، لیکن حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی نبی بھی نہیں اٹھایا گیا مگر اس کی تدفین وہیں ہوئی جہاں اٹھایا گیا۔ اس فیصلے کے بعد حضرت ابو طلحہؓ نے آپﷺ کا وہ بستر اٹھایا جس پر آپﷺ کی وفات ہوئی تھی۔ اور اسی کے نیچے قبر کھودی۔ مدینہ میں قبر کھود نے میں دو افراد ماہر تھے، ایک حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراح جو مکی طرز پر شق (سیدھی قبر ) کھودتے تھے، دوسرے حضرت ابو طلحہؓ زید بن سہل انصاری جو اہل مدینہ کی طرز کی قبر (بغلی قبر ) کھود تے تھے، مشورہ میں طے ہوا کہ ان میں سے جو پہلے آئے وہ یہ کام انجام دے، حضرت عباسؓ نے دو آدمی روانہ کئے، حضرت ابو طلحہؓ پہلے آئے اور انہیں لحد تیار کرنے کا شرف حاصل ہوا، قبر میں (۹) کچی اینٹیں بچھائی گئیں، یہ بھی لکھا ہے کہ کچی اینٹوں سے لحد کو بند کیا گیا، قبر لحد والی (بغلی) کھودی گئی تھی۔

اس کے بعد باری باری دس دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حجرہ شریف میں داخل ہوکر نماز جنازہ پڑھی۔ کوئی امام نہ تھا۔ سب سے پہلے آپ ﷺ کے خانوادہ ( بنو ہاشم ) نے نماز جنازہ پڑھی۔ پھر مہاجرین نے، پھر انصار نے، پھر مردوں کے بعد عورتوں نے، اور ان کے بعد بچوں نے۔ ( مؤطا امام مالک ، کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی دفن المیت ۱/۲۳۱ طبقات ابن سعد ۲/۲۸۸ - ۲۹۲)

نماز جنازہ پڑھنے میں منگل کا پورا دن گزر گیا اور چہار شنبہ (بدھ) کی رات آگئی۔ رات میں آپ ﷺ کے جسدِ پاک کو سپردِ خاک کیا گیا۔ چنانچہ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ ہمیں رسول اللہﷺ کی تدفین کا علم نہ ہوا، یہاں تک کہ ہم نے بدھ کی رات کے درمیانی اوقات میں (اور ایک روایت کے مطابق، آخر رات میں) پھاؤڑوں کی آواز سنی۔ ( مسند احمد ۶/۶۲، ۲۷۴)

(واقعہ وفات کی تفصیل کے لیے دیکھئے صحیح بخاری باب مرض النبیﷺ اور اس کے بعد کے چند ابواب مع فتح الباری، نیز صحیح مسلم، مشکوٰۃ المصابیح، باب وفاۃ النبیﷺ ، ابن ہشام ۲/۶۴۹ تا ۶۶۵۔ تلقیح فہوم اہل الاثر ص ۳۸، ۳۹۔ رحمۃ للعالمین ۱/۲۷۷ تا ۲۸۶۔ اوقات کی تعیین بالعموم رحمۃ للعالمین سے لی گئی ہے)

==================> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 302 جانشینی کا اختلاف اور تجہیز وتکفین : حضور اکرم ﷺ کی وفات کے ساتھ ہی سقیفۂ بنو ساعدہ میں انصار جم...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 301



سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 301

حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ کی کیفیت:

وفات کی خبر سن کر حضرت عمرؓ کے ہوش جاتے رہے۔ انہوں نے کھڑے ہوکر کہنا شروع کیا : کچھ منافقین سمجھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی وفات ہوگئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی وفات نہیں ہوئی، بلکہ آپ ﷺ اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ جس طرح موسیٰ بن عمران علیہ السلام تشریف لے گئے تھے۔ اور اپنی قوم سے چالیس رات غائب رہ کر ان کے پاس پھر واپس آگئے تھے حالانکہ واپسی سے پہلے کہا جارہا تھا کہ وہ انتقال کرچکے ہیں۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ بھی ضرور پلٹ کر آئیں گے اور ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالیں گے جو سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ کی موت واقع ہوچکی ہے۔ ( ابن ہشام ۲/۶۵۵)

ادھر حضرت ابو بکرؓ سنح میں واقع اپنے مکان سے گھوڑے پر سوار ہو کر تشریف لائے۔ اور اُتر کر مسجد نبوی میں داخل ہوئے۔ پھر لوگوں سے کوئی بات کیے بغیر سیدھے حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے، اور رسول اللہ ﷺ کا قصد فرمایا، آپ ﷺ کا جسدِ مُبارک دھار دار یمنی چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ حضرت ابو بکرؓ نے رُخ انور سے چادر ہٹائی اور اسے چوما اور روئے، پھر فرمایا : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، اللہ آپ ﷺ پر دو موت جمع نہیں کرے گا۔ جو موت آپ ﷺ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ ﷺ کو آچکی۔

اس کے بعد حضرت ابو بکرؓ باہر تشریف لائے۔ اس وقت بھی حضرت عمرؓ لوگوں سے بات کررہے تھے۔ حضرت ابو بکرؓ نے ان سے کہا : عمر ! بیٹھ جاؤ۔ حضرت عمرؓ نے بیٹھنے سے انکار کردیا۔ ادھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت عمرؓ کو چھوڑ کر حضرت ابو بکرؓ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:

أما بعد : من کان منکم یعبد محمداًﷺ فإن محمداً قد مات ومن کان منکم یعبد اللہ فإن اللہ حي لایموت قال اللّٰہ: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَ‌سُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّ‌سُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ‌ اللَّـهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِ‌ينَ (۳: ۱۴۴)

''اما بعد ! تم میں سے جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو (وہ جان لے ) کہ محمد ﷺ کی موت واقع ہوچکی ہے۔ اور تم میں سے جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو یقینا اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔ کبھی نہیں مرے گا، اللہ کا ارشاد ہے۔ محمد(ﷺ ) نہیں ہیں مگر رسول ہی۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرچکے ہیں تو کیا اگر وہ (محمدﷺ) مرجائیں یا ان کی موت واقع ہو جائے یا وہ قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ اپنی ایڑ کے بل پلٹ جاؤ گے ؟ اور جو شخص اپنی ایڑ کے بل پلٹ جائے تو (یاد رکھے کہ ) وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو جزادے گا۔''

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جو اب تک فرطِ غم سے حیران وششدر تھے، انہیں حضرت ابو بکرؓ کا یہ خطا ب سن کر یقین آگیا کہ رسول اللہﷺ واقعی رحلت فرما چکے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ واللہ ! ایسا لگتا تھا گویا لوگوں نے جانا ہی نہ تھا کہ اللہ نے یہ آیت نازل کی ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابو بکرؓ نے اس کی تلاوت کی تو سارے لوگوں نے ان سے یہ آیت اخذ کی۔ اور اب جس کسی انسان کو میں سنتا تو وہ اسی کو تلاوت کررہا ہوتا۔

حضرت سعیدؓ بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا : واللہ ! میں نے جوں ہی ابو بکرؓ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا خاک آلود ہوکر رہ گیا۔ (یا میری پیٹھ ٹوٹ کر رہ گئی ) حتیٰ کہ میرے پاؤں مجھے اٹھا ہی نہیں رہے تھے اور حتیٰ کہ ابو بکرؓ کو اس آیت کی تلاوت کرتے سن کر میں زمین کی طرف لڑھک گیا۔ کیونکہ میں جان گیا کہ واقعی نبی ﷺ کی موت واقع ہوچکی ہے۔
( صحیح بخاری ۲/۶۴۰، ۶۴۱)

==================> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 301 حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ کی کیفیت : وفات کی خبر سن کر حضرت عمرؓ کے ہوش جاتے رہے۔ انہوں نے کھڑے ہوکر کہن...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 300



سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 300

نزع رواں:

پھر نزع کی حالت شروع ہوگئی۔ اور حضرت عائشہ ؓ نے آپ ﷺ کو اپنے اُوپر سہارا دے کر ٹیک لیا۔ ان کا بیان ہے کہ اللہ کی ایک نعمت مجھ پر یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے گھر میں، میری باری کے دن میرے لَبّے اور سینے کے درمیان وفات پائی۔ اور آپ ﷺ کی موت کے وقت اللہ نے میرا لعاب اور آپﷺ کا لعاب اکٹھا کردیا۔

ہوا یہ کہ عبد الرحمن بن ابی بکرؓ آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ ان کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ اور میں رسول اللہﷺ کو ٹیکے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ مسواک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ میں سمجھ گئی کہ آپ ﷺ مسواک چاہتے ہیں۔ میں نے کہا : آپ ﷺ کے لیے لے لوں ؟ آپ ﷺ نے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں ! میں نے مسواک لے کر آپ ﷺ کو دی تو آپ کو کڑی محسوس ہوئی۔ میں نے کہا: اسے آپ ﷺ کے لیے نرم کردوں ؟ آپ ﷺ نے سر کے اشارے سے کہا ہاں ! میں نے مسواک نرم کردی، اور آپ ﷺ نے نہایت اچھی طرح مسواک کی۔ آپ ﷺ کے سامنے کٹورے میں پانی تھا۔ آپﷺ پانی میں دونوں ہاتھ ڈال کر چہرہ پونچھتے جاتے تھے۔ اور فرماتے جاتے تھے۔

لاإلہ إلا اللّٰہ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ موت کے لیے سختیاں ہیں۔
( صحیح بخاری ۲/۶۴۰)

مسواک سے فارغ ہوتے ہی آپ ﷺ نے ہاتھ یا انگلی اٹھا ئی، نگاہ چھت کی طرف بلند کی۔ اور دونو ں ہونٹوں پر کچھ حرکت ہوئی۔ حضرت عائشہ ؓ نے کان لگایا تو آپ ﷺ فرمارہے تھے :

''ان انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ہمراہ جنہیں تو نے انعام سے نوازا۔ اے اللہ ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، اور مجھے رفیقِ اعلیٰ میں پہنچا دے۔ اے اللہ ! رفیق اعلیٰ ۔''

(ایضاً صحیح بخاری باب مرض النبیﷺ وباب آخرما تکلم النبیﷺ ۲/۶۳۸ تا ۶۴۱)
آخری فقرہ تین بار دہرایا ، اور اسی وقت ہاتھ جھک گیا۔ اور آپﷺ رفیقِ اعلیٰ سے جا لاحق ہوئے۔ إناللّٰہ وإنا إلیہ راجعون۔

یہ واقعہ ۱۲/ ربیع الاول ۱۱ھ یوم دوشنبہ کو چاشت کی شدت کے وقت پیش آیا۔ اس وقت نبیﷺ کی عمر تریسٹھ سال چار دن ہوچکی تھی۔

غم ہائے بیکراں:

اس حادثۂ دل فگار کی خبر فوراً پھیل گئی، اہلِ مدینہ پر کوہ غم ٹوٹ پڑا۔ آفاق واطراف تاریک ہوگئے۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ جس دن رسول اللہﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اس سے بہتر اور تابناک دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اور جس دن رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی اس سے زیادہ قبیح اور تاریک دن بھی میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ (دارمی ، مشکوٰۃ ۲/۵۴۷۔)

انہی حضرت انسؓ سے ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت ہے کہ جس دن رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے ہر چیز روشن ہوگئی۔ اور جس دن آپ ﷺ نے وفات پائی ہر چیز تاریک ہوگئی۔ اور ابھی ہم نے رسول اللہﷺ سے اپنے ہاتھ بھی نہ جھاڑے تھے، بلکہ آپﷺ کے دفن ہی میں مشغول تھے کہ اپنے دلوں کو بدلا ہوا محسوس کیا۔ (جامع ترمذی ۵/۵۸۸، ۵۸۹ ))

آپﷺ کی وفات پر حضرت فاطمہ ؓ نے فرطِ غم سے فرمایا:

((یا أبتاہ ، أجاب رباً دعاہ ، یا أبتاہ، من جنۃ الفردوس مأواہ، یا أبتاہ، إلی جبریل ننعاہ ۔)) (صحیح بخاری باب مرض النبیﷺ ۲/۶۴۱)

''ہائے ابا جان ! جنہوں نے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا۔ ہائے ابا جان ! جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔ ہائے اباجان! ہم جبریل علیہ السلام کو آپ ﷺ کے موت کی خبر دیتے ہیں۔''

==================> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 300 نزع رواں: پھر نزع کی حالت شروع ہوگئی۔ اور حضرت عائشہ ؓ نے آپ ﷺ کو اپنے اُوپر سہارا دے کر ٹیک لیا...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 299



سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 299

حیاتِ مبارکہ کا آخری دن:

حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ دو شنبہ کے روز مسلمان نماز فجر میں مصروف تھے۔ اور حضرت ابو بکرؓ امامت فرمارہے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کے حجرے کا پردہ ہٹایا۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جو صفیں باندھے نماز میں مصروف تھے نظر ڈالی، پھر تبسم فرمایا۔ ادھر ابو بکرؓ اپنی ایڑ کے بل پیچھے ہٹے کہ صف میں جا ملیں۔ انہوں نے سمجھا کہ رسول اللہﷺ نماز کے لیے تشریف لانا چاہتے ہیں۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ (کے اس اچانک ظہور سے ) مسلمان اس قدر خوش ہوئے کہ چاہتے تھے کہ نماز کے اندر ہی فتنے میں پڑجائیں۔ (یعنی آپ ﷺ کی مزاج پرسی کے لیے نماز توڑ دیں ) لیکن رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز پوری کر لو، پھر حجرے کے اندر تشریف لے گئے اور پردہ گرالیا۔
( باب مرض النبیﷺ ۲/۲۴۰ مع فتح الباری ۲/۱۹۳ حدیث نمبر ۶۸۰، ۶۸۱،۷۵۴، ۱۲۰۵،۴۴۴۸)
اس کے بعد رسول اللہﷺ پر کسی دوسری نماز کا وقت نہیں آیا۔

دن چڑھے چاشت کے وقت آپ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کو بلا یا اور ان سے کچھ سر گوشی کی، وہ رونے لگیں تو آپ ﷺ نے انہیں پھر بلا یا اور کچھ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں۔ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ بعد میں ہمارے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ (پہلی بار ) نبیﷺ نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ آپ ﷺ اسی مرض میں وفات پا جائیں گے۔ اس لیے میں روئی۔ پھر آپﷺ نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ آپ کے اہل و عیال میں سب سے پہلے میں آپ ﷺ کے پیچھے جاؤں گی۔ اس پر میں ہنسی۔( بخاری ۲/۶۳۸)

نبیﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو یہ بشارت بھی دی کہ آپ ساری خواتینِ عالم کی سَیدہ (سردار ) ہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ گفتگو اور بشارت دینے کا یہ واقعہ حیات مبارکہ کے آخری دن نہیں بلکہ آخری ہفتے میں پیش آیا تھا۔ دیکھئے: رحمۃللعالین ۱/۲۸۲

اس وقت رسول اللہ ﷺ جس شدید کرب سے دوچار تھے اسے دیکھ کر حضرت فاطمہؓ بے ساختہ پکار اٹھیں۔ واکرب أباہ۔ ''ہائے ابّا جان کی تکلیف ۔'' آپﷺ نے فرمایا : تمہارے ابّا پر آج کے بعد کوئی تکلیف نہیں۔ ( صحیح بخاری ۲/۶۴۱)

آپﷺ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بلا کر چُوما اور ان کے بارے میں خیر کی وصیت فرمائی۔ ازاوجِ مطہرات رضی اللہ عنہم کو بلایا اور انہیں وعظ ونصیحت کی۔ ادھر لمحہ بہ لمحہ تکلیف بڑھتی جارہی تھی اور اس زہر کا اثر بھی ظاہر ہونا شروع ہوگیا تھا جسے آپ ﷺ کو خیبر میں کھلایا گیا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ حضرت عائشہ ؓ سے فرماتے تھے : اے عائشہ ! خیبر میں جو کھانا میں نے کھالیا تھا اس کی تکلیف برابر محسوس کررہا ہوں۔ اس وقت مجھے محسوس ہورہا ہے کہ اس زہر کے اثرسے میری رگِ جاں کٹی جارہی ہے۔( صحیح بخاری ۲/۶۳۷)

ادھر چہرے پر آپ ﷺ نے ایک چادر ڈال رکھی تھی۔ جب سانس پھولنے لگتا تو اسے چہرے سے ہٹا دیتے۔ اسی حالت میں آپ ﷺ نے فرمایا : (اور یہ آپ ﷺ کا آخری کلام اور لوگوں کے لیے آپﷺ کی آخری وصیت تھی ) کہ:

"یہود ونصاریٰ پر اللہ کی لعنت۔ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا یا ... ان کے اس کام سے آپ ﷺ ڈرارہے تھے ... سرزمین عرب پر دو دین باقی نہ چھوڑ ے جائیں۔"
( صحیح بخاری مع فتح الباری ۱/۶۳۴ حدیث نمبر ۴۳۵، ۱۳۳۰، ۱۳۹۰، ۳۴۵۳، ۳۴۵۴،۴۴۴۱، ۴۴۴۳، ۴۴۴۴ ، ۵۸۱۵، ۵۸۱۶ ، طبقات ابن سعد ۲/۲۵۴)

آپﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی وصیت فرمائی۔ فرمایا :

((الصلاۃ الصلاۃ وما ملکت أیمانکم))

''نماز، نماز، اور تمہارے زیرِ دست '' (یعنی لونڈی ، غلام )

آپ ﷺ نے یہ الفاظ کئی بار دہرائے۔( صحیح بخاری ۲/۶۳۷)

==================> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 299 حیاتِ مبارکہ کا آخری دن: حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ دو شنبہ کے روز مسلمان نماز فجر میں مصروف تھے۔ او...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 298



سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 298

وفات سے تین دن پہلے:

حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو وفات سے تین دن پہلے سنا آپﷺ فرما رہے تھے:

''یاد رکھو تم میں سے کسی کو موت نہیں آنی چاہیے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو۔''

(طبقات ابن سعد ۲/۲۵۵ ، مسند ابی داود طیالسی ص ۲۴۶ حدیث نمبر ۱۷۷۹ ، مسند ابی یعلی۴/۱۹۳ حدیث نمبر ۲۲۹۰)

ایک دن یا دو دن پہلے:

سنیچر یا اتوار کو نبی ﷺ نے اپنی طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی، چنانچہ دو آدمیوں کے درمیان چل کر ظہر کی نماز کے لیے تشریف لائے۔ اس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھا رہے تھے۔ وہ آپ ﷺ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹیں۔ اور لانے والوں سے فرمایا کہ مجھے ان کے بازو میں بٹھا دو۔ چنانچہ آپﷺ کو حضرت ابوبکرؓ کے دائیں بٹھا دیا گیا۔ اس کے بعد حضرت ابو بکرؓ رسول اللہ ﷺ کی نماز کی اقتداء کرر ہے تھے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تکبیر سنا رہے تھے۔
(صحیح بخاری ۱/۹۸، ۹۹ مع فتح الباری ۲/۱۹۵ ، ۲۳۸، ۲۳۹، حدیث نمبر ۶۸۳، ۷۱۲،۷۱۳)

ایک دن پہلے:

وفات سے ایک دن پہلے بروز اتوار نبی ﷺ نے اپنے تمام غلاموں کو آزاد فرمادیا۔ پاس میں چھ یا سات دینار تھے انہیں صدقہ کردیا۔ اپنے ہتھیار مسلمانوں کو ہبہ فرمادیے۔ رات میں چراغ جلانے کے لیے حضرت عائشہ ؓ نے چراغ پڑوسی کے پاس بھیجا کہ اس میں اپنی کپی سے ذرا سا گھی ٹپکا دیں۔ (طبقات ابن سعد ۲/۲۳۹)

آ پﷺ کی زِرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع (کوئی ۷۵ کلو ) جَو کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی۔صحیح بخاری حدیث نمبر ۲۰۶۸ ، ۲۰۹۶ ، ۲۲۰۰، ۲۲۵۱، ۲۲۵۲،۲۳۸۶، ۲۵۰۹،۲۵۱۳، ۲۹۱۶ ، ۴۱۶۷، مغازی کے آواخر میں ہے کہ رسول اللہﷺ کی وفات ہوئی اور آپﷺ کی زرہ رہن رکھی ہوئی تھی۔ مسند احمد میں ہے کہ آپ ﷺ کو اتنا نہ مل سکا کہ اس زرہ کو چھڑا سکیں۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 298 وفات سے تین دن پہلے: حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو وفات سے تین دن پہلے سنا آپﷺ فر...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 297



سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 297

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت:

رسول اللہ ﷺ مرض کی شدت کے باوجود اس دن تک، یعنی وفات سے چار دن پہلے (جمعرات ) تک تمام نمازیں خود ہی پڑھایا کرتے تھے۔ اس روز بھی مغرب کی نماز آپ ﷺ ہی نے پڑھائی۔ اور اس میں سورۂ والمرسلاتِ عُرْفا پڑھی۔( صحیح بخاری عن ام الفضل ، باب مرض النبیﷺ ۲/۶۳۷)
لیکن عشاء کے وقت مرض کا ثقل اتنا بڑھ گیا کہ مسجد میں جانے کی طاقت نہ رہی۔ نماز عشاء کے وقت دریافت فرمایا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے؟ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا : نہیں آپ ﷺ کا انتظار ہے، یہ سن کر غسل فرمایا ، باہر نکل کھڑے ہوئے تو غش آگیا، افاقہ ہوا تو پھر نماز کے بارے میں دریافت فرمایا، کھڑے ہو ئے تو پھر غشی طاری ہوگئی، فرمایا : ابو بکرؓ سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں، حضرت عائشہؓ نے کہا … وہ بڑے نرم دل ہیں آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھا سکیں گے، روئیں گے اور لوگ کچھ سن نہ سکیں گے، بہتر ہے کہ آپ ﷺ عمرؓ کو حکم دیں، آپﷺ نے وہی حکم دُہرایا، حضرت عائشہؓ نے دوبارہ درخواست کی اور حضرت حفصہؓ سے بھی کہلوایا۔

ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کا حکم آکر سنایا، حضرت ابو بکرؓ نے اپنا حق حضرت عمرؓ کو منتقل کیا، دوسری روایت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ ؓ بن ربیعہ کو حکم دیا کہ باہر لوگوں سے کہہ دیں کہ نماز ادا کریں، وہ باہر نکلے تو حضرت عمرؓ سامنے تھے، ان سے کہا کہ آپ نماز پڑھا دیں، روضتہ الاحباب کی روایت کی بموجب حضرت عمرؓ نے نماز شروع کر دی، حضور ﷺ نے پوچھا … کیا یہ عمرؓ کی آواز ہے ؟ جواب ملا : جی ہاں : ارشاد فرمایا: اللہ اور مومنین اس کو پسند نہیں کریں گے، پھر سرِ مبارک کھڑکی سے باہر نکالا اور فرمایا! نہیں ، نہیں ابو بکرؓ کو چاہیے کہ وہ نماز پڑھائیں، حضرت عمرؓ مُصلّٰی سے پیچھے ہٹ گئے اور حضرت ابو بکرؓ نے پہلی نماز کی امامت فرمائی۔

دوسرے روز مرض میں کچھ افاقہ ہوا تو ظہر کے وقت جب کہ حضرت ابوبکرؓ نے نماز شروع کر دی تھی آپ ﷺ حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کے سہارے پاؤں گھسیٹتے مُصلّٰی تک پہنچے اور حضرت ابو بکرؓ کے بائیں پہلو میں بیٹھ گئے، حضرت ابو بکرؓ آنحضرت ﷺ کی اقتدا کر رہے تھے اور باقی لوگ حضرت ابو بکرؓ کی، حضرت ابو بکرؓ بلند آواز سے تکبیر کہہ رہے تھے تا کہ لوگ سن لیں، اس کے بعد حضرت ابو بکر ہی نماز پڑھاتے رہے اور آپ ﷺ کی وفات سے پہلے (۱۷) نمازیں پڑھائیں، کتاب " اصح السّیر" کی بموجب (۲۱) نمازیں پڑھائیں۔

حضرت عبداللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے کسی امتی کے پیچھے نماز ادا نہیں کی بجز ایک بار پوری نماز حضرت ابو بکرؓ کی اقتداء میں اور ایک دفعہ سفر میں ایک رکعت حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کے پیچھے، حضرت عبدالرحمن ؓبن عوف کے پیچھے ایک رکعت فوت شدہ ادا کرنے کے بعد فرمایا: کسی نبی نے ایسا نہیں کیا ہے کہ اس نے اپنی امت کے ایک صالح فرد کے پیچھے نماز ادا کی ہو۔

نبیﷺ کی حیات مبارکہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پڑھائی ہوئی نمازوں کی تعداد سترہ ہے۔ جمعرات کی عشاء ، دوشنبہ کی فجر اور بیچ کے تین دنوں کی پندرہ نمازیں۔( بخاری مع فتح الباری ۲/۱۹۳ ، حدیث نمبر ۶۸۱ ، مسلم : کتاب الصلاۃ ۱/۳۱۵ حدیث نمبر ۱۰۰ ، مسند احمد ۶/۲۲۹)
حضرت عائشہؓ نے نبیﷺ سے تین یا چار بار مراجعہ فرمایا کہ امامت کا کا م حضرت ابو بکرؓ کے بجائے کسی اور کو سونپ دیں۔ ان کا منشاء یہ تھا کہ لوگ ابو بکرؓ کے بارے میں بد شگون نہ ہوں۔( دیکھئے: بخاری مع فتح الباری ۷/۷۵۷ حدیث نمبر ۴۴۴۵ مسلم کتاب الصلاۃ ۱/۳۱ حدیث نمبر ۹۳، ۹۴)

لیکن نبیﷺ نے ہر بار انکار فرمادیا۔ اور فرمایا : تم سب یوسف والیاں ہو، ابو بکرؓ کو حکم دو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے سلسلے میں جو عورتیں عزیز مصر کی بیوی کو ملامت کررہی تھیں وہ بظاہر تو اس کے فعل کے گھٹیا پن کا اظہار کررہی تھیں۔ لیکن یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر جب انہوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لیں تو معلوم ہوا کہ یہ خود بھی درپردہ ان پر فریفتہ ہیں۔ یعنی وہ زبان سے کچھ کہہ رہی تھیں۔ لیکن دل میں کچھ اور ہی بات تھی۔ یہی معاملہ یہاں بھی تھا۔ بظاہر تو رسول اللہﷺ سے کہا جارہا تھا کہ ابو بکر رقیق القلب ہیں۔ آپﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو گریہ ٔ وزاری کے سبب قراء ت نہ کرسکیں گے یا سنا نہ سکیں گے۔ لیکن دل میں یہ بات تھی کہ اگر خدانخواستہ حضور اسی مرض میں رحلت فرماگئے تو ابوبکرؓ کے بارے میں نحوست اور بدشگونی کا خیال لوگوں کے دل میں جاگزیں ہوجائے گا۔ چونکہ حضرت عائشہ ؓ کی اس گذارش میں دیگر ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہم بھی شریک تھیں۔ اس لیے آپﷺ نے فرمایا: تم سب یوسف والیاں ہو، یعنی تمہارے بھی دل میں کچھ ہے اور زبان سے کچھ کہہ رہی ہو۔( صحیح بخاری ۱/۹۹)

==================> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 297 حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت: رسول اللہ ﷺ مرض کی شدت کے باوجود اس دن تک، یعنی وفات سے چار دن...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 296



سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 296

حدیث قرطاس (وفات سے چار روز قبل بروزجمعرات)

وفات سے چار دن پہلے جمعرات کو جب کہ آپﷺ سخت تکلیف سے دوچار تھے فرمایا :
لاؤ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم لوگ کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ اس وقت گھر میں کئی آدمی تھے۔ جن میں حضرت عمرؓ بھی تھے۔ انہوں نے کہا : آپﷺ پر تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے۔ بس اللہ کی یہ کتاب تمہارے لیے کافی ہے۔ اس پر گھر کے اندر موجود لوگوں میں اختلاف پڑگیا اور وہ جھگڑ پڑے۔ کوئی کہہ رہا تھا :لاؤ رسول اللہﷺ لکھ دیں۔ اور کوئی وہی کہہ رہاتھا جو حضرت عمرؓ نے کہا تھا۔ اس طرح لوگوں نے جب زیادہ شوروشغب اور اختلاف کیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔
( متفق علیہ : صحیح بخاری ۱/۲۲، ۴۲۹ ، ۴۴۹،۲/۶۳۸)

یہ واقعہ جمعرات کے دن کا ہے، اور حضور اکرمﷺ نے پیر کو انتقال فرمایا، یعنی کہ اس واقعہ کے بعد آپ ﷺ چارروز تک حیات رہے، اگر آپﷺ چاہتے تو دوبارہ اس بات کا حکم دے سکتے تھے، یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حاضرین نے وصیت کا لکھوانا یاد دلایا ، آپﷺ نے فرمایا : مجھے چھوڑ دو ، میں اس وقت جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو، پھر آپﷺ نے تین وصیتیں فرمائیں:

(۱) یہود کو عرب سے باہر نکال دو،

(۲) وفود کی رہنمائی کرو اور انہیں زادِ راہ دو ،

(۳) تیسری بات راوی بھول گیا لیکن صحیح بخاری کی کتاب الوصایا میں حضرت عبداللہ ؓ بن ابی اوفی نے کہا کہ قرآن مجید کے متعلق وصیت فرمائی، آپﷺ نے یہ بھی وصیت فرمائی کہ’‘ میرے وارث نہ دینار تقسیم کریں اور نہ درہم، ہم (انبیاء)اپنی بیویوں کے اخراجات اور اپنے عامل کی اجرت کے علاوہ جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے"

کچھ سرخ دینار کہیں سے آئے تھے، صدقہ کے بعد سات یا آٹھ دینار حضرت عائشہؓ کے پاس تھے، بے ہوشی کے بعد جب آپ ﷺ کو ہوش آیا تو پوچھا … ان دینار کا کیا ہوا ؟ عرض کیا : رکھے ہیں، فرمایا : صدقہ کر دو، کیا تمہارا گمان یہ ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے پاس اس حالت میں جائیں کہ یہ سب کچھ ہو، اس روز تک کی تمام نمازیں آنحضرت ﷺ نے خود پڑھائیں، نماز مغرب میں سورۂ والمرسلات کی تلاوت فرمائی، یہ آخری نماز تھی جو صحابہؓ نے آپﷺ کی امامت میں ادا کی۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 296 حدیث قرطاس (وفات سے چار روز قبل بروزجمعرات) وفات سے چار دن پہلے جمعرات کو جب کہ آپﷺ سخت تکلیف سے ...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 295



سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 295

وفات سے پانچ دن پہلے:

وفات سے پانچ دن پہلے روز چہار شنبہ (بدھ) کو جسم کی حرارت میں مزید شدت آگئی۔ جس کی وجہ سے تکلیف بھی بڑھ گئی۔ اور غَشی طاری ہوگئی۔ آپﷺ نے فرمایا : مجھ پر مختلف کنوؤں کے سات مشکیزے بہاؤ تاکہ میں لوگوں کے پاس جاکر وصیت کرسکوں۔ اس کی تکمیل کرتے ہوئے آپﷺ کو ایک لگن میں بٹھا دیا گیا۔ اور آپ ﷺ کے اوپر اتنا پانی ڈالا گیا کہ آپ ''بس۔'' ''بس '' کہنے لگے۔

اس وقت آپ ﷺ نے کچھ تخفیف محسوس کی۔ اور مسجد میں تشریف لے گئے، سر پر پٹی معیالی بندھی ہوئی تھی، منبر پر فروکش ہوئے اور بیٹھ کر خطبہ دیا۔ یہ آخری بیٹھک تھی جو آپﷺ بیٹھے تھے۔ آپﷺ نے اللہ کی حمد وثنا کی، پھر فرمایا:

لوگو! میرے پاس آجاؤ۔ لوگ آپﷺ کے قریب آگئے۔ پھر آپﷺ نے جو فرمایا اس میں یہ فرمایا: ''یہود ونصاریٰ پر اللہ کی لعنت کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنایا۔'' ایک روایت میں ہے کہ ''یہود ونصاریٰ پر اللہ کی مار کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنایا ۔''
(صحیح بخاری ۱/۶۲ مؤطا امام مالک ص ۳۶۰)

آپﷺ نے یہ بھی فرمایا : ''تم لوگ میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پوجا کی جائے۔''
(موطا امام مالک ص ۶۵)

پھر آپ ﷺ نے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کیا اور فرمایا: ''میں نے کسی کی پیٹھ پر کوڑا مارا ہو تو یہ میری پیٹھ حاضر ہے ، وہ بدلہ لے لے۔ اور کسی کی آبرو پر بٹہ لگایا ہوتو یہ میری آبرو حاضر ہے، وہ بدلہ لے لے۔''

اس کے بعد آپﷺ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ ظہر کی نماز پڑھائی، اور پھر منبر پر تشریف لے گئے۔ اور عداوت وغیرہ سے متعلق اپنی پچھلی باتیں دہرائیں۔ ایک شخص نے کہا : آپ کے ذمہ میرے تین درہم باقی ہیں۔ آپﷺ نے فضل بن عباس سے فرمایا : انہیں ادا کردو۔ اس کے بعد انصار کے بارے میں وصیت فرمائی۔ فرمایا :

'' میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں۔ کیونکہ وہ میرے قلب و جگر ہیں۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کردی۔ مگر ان کے حقوق باقی رہ گئے ہیں۔ لہٰذا ان کے نیکوکار سے قبول کرنا۔ اور ان کے بد کار سے درگزر کرنا۔'' ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا : '' لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار گھٹتے جائیں گے۔ یہاں تک کہ کھانے میں نمک کی طرح ہوجائیں گے۔ لہٰذا تمہارا جو آدمی کسی نفع اور نقصان پہنچانے والے کام کا والی ہو تو وہ ان کے نیکوکاروں سے قبول کرے اور ان کے بدکاروں سے درگزر کرے۔''(صحیح بخاری ۱/۵۳۶)

اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا:

'' ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ یاتو دنیا کی چمک دمک اور زیب و زینت میں سے جو کچھ چاہے اللہ اسے دے د ے، یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کرلے تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کو اختیار کرلیا۔''

حضرت ابو سعید خدریؓ کا بیان ہے کہ یہ بات سن کر حضرت ابو بکرؓ رونے لگے۔ اور فرمایا : ہم اپنے ماں باپ سمیت آپ پر قربان۔ اس پر ہمیں تعجب ہوا۔ لوگوں نے کہا : اس بڈھے کو دیکھو ! رسول اللہﷺ تو ایک بندے کے بارے میں یہ بتارہے ہیں کہ اللہ نے اسے اختیار دیا کہ دنیا کی چمک دمک اور زیب و زینت میں سے جو چاہے اللہ اسے دے دے یا وہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کرلے۔ اور یہ بڈھا کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے ماں باپ کے ساتھ آپ پر قربان۔ ( لیکن چند دن بعد واضح ہوا کہ) جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ خود رسول اللہﷺ تھے۔ اور ابو بکرؓ ہم میں سب سے زیادہ صاحب علم تھے۔( متفق علیہ : مشکوٰۃ ۲/۵۴۶، ۵۵۴)

پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: مجھ پر اپنی رفاقت اور مال میں سب سے زیادہ صاحب احسان ابو بکرؓ ہیں۔ اور اگر میں اپنے رب کے علاوہ کسی اور کو خلیل بناتا تو ابو بکرؓ کو خلیل بناتا لیکن (ان کے ساتھ) اسلام کی اخوت و محبت ( کا تعلق ) ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ باقی نہ چھوڑا جائے بلکہ اسے لازما ًبند کردیا جائے، سوائے ابوبکرؓ کے دروازے کے۔( صحیح بخاری ۱/۵۱۶)

==================> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 295 وفات سے پانچ دن پہلے: وفات سے پانچ دن پہلے روز چہار شنبہ (بدھ) کو جسم کی حرارت میں مزید شدت آگئی۔...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 294



سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 294

حیاتِ طیبہ کا آخری باب:

جب دعوت دین مکمل ہوگئی اور عرب کی نکیل اسلام کے ہاتھ میں آگئی تو رسول اللہ ﷺ کے جذبات واحساسات، احوال وظروف اور گفتارو کردار سے ایسی علامات نمودار ہونا شروع ہوئیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ اب آپ ﷺ اس حیاتِ مستعار کو اور اس جہان فانی کے باشندگان کو الوداع کہنے والے ہیں۔ مثلاً:

آپ ﷺ نے رمضان ۱۰ ھ میں بیس دن اعتکاف فرمایا جبکہ ہمیشہ دس ہی دن اعتکاف فرمایاکرتے تھے، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو اس سال دو مرتبہ قرآن کا دَور کرایا جبکہ ہر سال ایک ہی مرتبہ دَور کرایا کرتے تھے، آپ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا: '' مجھے معلوم نہیں غالبا میں اس سال کے بعد اپنے اس مقام پر تم لوگوں سے کبھی نہ مل سکوں گا۔'' جمرۂ عقبہ کے پاس فرمایا: '' مجھ سے اپنے حج کے اعمال سیکھ لو، کیونکہ میں اس سال کے بعد غالباً حج نہ کرسکوں گا۔''

آپ ﷺ پر ایام تشریق کے وسط میں سورۂ نصر نازل ہوئی اور اس سے آپ ﷺ نے سمجھ لیا کہ اب دنیا سے روانگی کا وقت آن پہنچا ہے اور یہ موت کی اطلاع ہے، اوائل صفر ۱۱ ھ میں آپ ﷺ دامنِ اُحد میں تشریف لے گئے اور شہداء کے لیے اس طرح دعا فرمائی گویا زندوں اور مردوں سے رخصت ہو رہے ہیں، پھر واپس آکر منبر پر فروکش ہوئے اور فرمایا: '' میں تمہارا میر کارواں ہوں اور تم پر گواہ ہوں، واللہ! میں اس وقت اپنا حوض ( حوضِ کوثر ) دیکھ رہا ہوں، مجھے زمین اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئی ہیں اور واللہ! مجھے یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کروگے، بلکہ اندیشہ اس کا ہے کہ دنیا کے بارے میں تنافس کروگے۔'' (متفق علیہ۔ صحیح بخاری ۲/۵۸۵، فتح الباری ۳/۲۴۸ حدیث نمبر ۱۳۴۴،۳۵۹۶، ۴۰۴۲، ۴۰۸۵،۶۴۲۶،۶۵۹۰)

ایک روز نصف رات کو آپ ﷺ بقیع تشریف لے گئے اور اہل بقیع کے لیے دعائے مغفرت کی، فرمایا:

'' اے قبر والو! تم پر سلام۔ لوگ جس حال میں ہیں اس کے مقابل تمہیں وہ حال مبارک ہو جس میں تم ہو، فتنے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ایک کے پیچھے ایک چلے آرہے ہیں اور بعد والا پہلے سے زیادہ برا ہے، اس کے بعد یہ کہہ کر اہلِ قبور کو بشارت دی کہ ہم بھی تم سے آ ملنے والے ہیں۔''

۲۹ صفر ۱۱ ھ روز دوشنبہ کو رسول اللہ ﷺ ایک جنازے میں بقیع تشریف لے گئے، واپسی پر راستے ہی میں دردِ سر شروع ہوگیا اور حرارت اتنی تیز ہوگئی کہ سر پر بندھی ہوئی پٹی کے اوپر سے محسوس کی جانے لگی، یہ آپ ﷺ کے مرض الموت کا آغاز تھا، آپ ﷺ نے اسی حالت مرض میں گیارہ دن نماز پڑھائی، مرض کی کل مدت ۱۳ یا ۱۴ دن تھی۔

رسول اللہ ﷺ کی طبیعت روز بروز بوجھل ہوتی جارہی تھی، اس دوران آپ ﷺ ازواج مطہرات سے پوچھتے رہتے تھے کہ میں کل کہاں رہوں گا؟ میں کل کہاں رہوں گا؟ اس سوال سے آپ ﷺ کا جو مقصود تھا ازواج مطہرات اسے سمجھ گئیں، چنانچہ انہوں نے اجازت دے دی کہ آپ ﷺ جہاں چاہیں رہیں، اس کے بعد آپ ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے مکان میں منتقل ہوگئے، منتقلی کے وقت حضرت فضل بن عباس اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے درمیان ٹیک لگا کر چل رہے تھے، سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، اس کیفیت کے ساتھ آپ حضرت عائشہ کے مکان میں تشریف لائے اور پھر حیاتِ مبارکہ کا آخری ہفتہ وہیں گزارا۔

حضرت عائشہ ؓ معوذات اور رسول اللہ ﷺ سے حفظ کی ہوئی دعائیں پڑھ کر آپ ﷺ پر دم کرتی رہتی تھیں اور برکت کی امید میں آپ ﷺ کا ہاتھ آپ ﷺ کے جسم مبارک پر پھیرتی رہتی تھیں۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 294 حیاتِ طیبہ کا آخری باب: جب دعوت دین مکمل ہوگئی اور عرب کی نکیل اسلام کے ہاتھ میں آگئی تو رسول اللہ...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 293



سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 293

آخری فوجی مہم۔ سریہ اسامہ بن زیدؓ:

رومن امپائر کی کبریائی کو گوارا نہ تھا کہ وہ اسلام اور اہل اسلام کے زندہ رہنے کا حق تسلیم کرے۔ اسی لیے اس کے قلمرو میں رہنے والا کوئی شخص اسلام کا حلقۂ بگوش ہوجاتا تو اس کے جان کی خیر نہ رہتی، جیسا کہ معان کے رومی گورنر حضرت فروہ بن عمرو جذامیؓ کے ساتھ پیش آچکا تھا۔
اس جرأت بے محابا اور اس غرورِ بےجا کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ نے صفر ۱۱ ھ میں ایک بڑے لشکر کی تیاری شروع فرمائی اور حضرت اسامہ بن زید بن حارثہؓ کو اس کاسپہ سالار مقرر فرماتے ہوئے حکم دیا کہ بلقاء کا علاقہ اور داروم کی فلسطینی سر زمین سواروں کے ذریعہ روند آؤ۔

اس کارروائی کا مقصد یہ تھا کہ رومیوں کو خوف زدہ کرتے ہوئے ان کی حدود پر واقع عرب قبائل کا اعتماد بحال کیا جائے۔ اور کسی کو یہ تصور کرنے کی گنجائش نہ دی جائے کہ کلیسا کے تشدد پر کوئی باز پرس کرنے والا نہیں۔ اور اسلام قبول کرنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اپنی موت کو دعوت دی جارہی ہے۔

اس موقع پر کچھ لوگوں نے سپہ سالار کی نو عمری کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا۔ اور اس مہم کے اندر شمولیت میں تاخیر کی۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر تم لوگ ان کی سپہ سالاری پر طعنہ زنی کر رہے ہو تو ان سے پہلے ان کے والد کی سپہ سالاری پر طعنہ زنی کرچکے ہو۔ حالانکہ وہ اللہ کی قسم ! سپہ سالاری کے اہل تھے۔ اور میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے تھے۔ اور یہ بھی ان کے بعد میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ہیں۔( صحیح بخاری :باب بعث النبیﷺ اُسامۃ ۲/۶۱۲)

بہر حال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت اسامہ ؓ کے گردا گرد جمع ہوکر ان کے لشکر میں شامل ہوگئے۔ اور لشکر روانہ ہوکر مدینہ سے تین میل دور مقام جرف میں خیمہ زن بھی ہوگیا لیکن رسول اللہ ﷺ کی بیماری کے متعلق تشویشناک خبروں کے سبب آگے نہ بڑھ سکا بلکہ اللہ کے فیصلے کے انتظار میں وہیں ٹھہرنے پر مجبور ہوگیا۔ اور اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ یہ لشکر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت کی پہلی فوجی مہم قرار پائے۔ ( ایضا صحیح بخاری ، وابن ہشام ۲/۶۰۶ ، ۶۵۰)

==================> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 293 آخری فوجی مہم۔ سریہ اسامہ بن زیدؓ: رومن امپائر کی کبریائی کو گوارا نہ تھا کہ وہ اسلام اور اہل اسل...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 292



سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 292

آپ ﷺ کے دور نبوت کی آخری وحی:

حضرت عبداللہ ؓ بن عمر سے روایت ہے کہ سورۂ نصر ایام تشریق کے وسط میں منٰی کے مقام پر نازل ہوئی، اس کے بعد حضور ﷺ نے اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہوکر وہ مشہور خطبہ ارشاد فرمایا جس کے اختتام پر لوگوں کی شہادت پر اللہ کو گواہ بنایا، جس وقت یہ سورت نازل ہوئی تو بعض صحابہؓ یہ سمجھ گئے کہ اب نبی ﷺ کا آخری وقت آگیا ہے، اس سے چند دن قبل ہی سورۂ مائدہ کی آیت ۳ نازل ہوچکی تھی جس میں فرمایا گیا:

'' آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا " ( سورۂ مائدہ : ۳ )

تکمیل دین کی آیت کا نزول اس بات کا اشارہ تھا کہ کارِ نبوت اختتام کو پہنچ چکا ہے، چنانچہ مزاج دانِ رسول حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ مضطرب ہوگئے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے، حضرت عبداللہؓ بن عمر کی روایت ہے کہ سورۂ نصر مکمل نازل ہونے والی آخری سورت ہے جس طرح سورۂ فاتحہ مکمل نازل ہونے والی پہلی سورت تھی حالانکہ اس سے پہلے سورہ ٔ اقراء اور سورۂ مدثر کی چند آیات نازل ہوچکی تھیں، تکمیل دین کی آیت کے نزول کے بعد حضور اکرم ﷺ اس دنیا میں کل (۸۰) دن رہے۔

سورۂ نصر کا ایک نام سورۃ التوریع بھی ہے، ( کسی کو رخصت کرنے کو توریع کہا جاتا ہے ) اس کے بعد آیت کلالہ (جو سورۂ نساء کی آخری سورت ہے ) نازل ہوئی جب کہ حضورﷺ کے اس دنیا کے قیام کے پچاس دن باقی رہ گئے تھے، حضرت براءؓ بن عازب نے اسے سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت بیان کیا ہے، حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ کے ابھی ۳۵ دن باقی تھے کہ سورۂ توبہ کی آیات ۱۲۸ اور ۱۲۹ نازل ہوئیں جنھیں حضرت ابیؓ بن کعب سب سے آخر نازل ہونے والی آیت کہتے ہیں :

" تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں، ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں(۱۲۸ ) پھر اگر وہ رو گردانی کریں تو آپﷺ کہہ دیجئے کہ میرے لئے اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے''
( سورۂ توبہ: ۱۲۹ )

حضرت عبداللہؓ بن عباس کا قول ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۲۸۱ قرآن میں نازل ہونے والی آخری آیت ہے۔

" اور اس دن سے ڈرو جبکہ تم اللہ کے حضورلوٹ جاؤگے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا '' ( سورۂ بقرہ ۲۸۱ )

حضرت سعیدؓ بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے (۹) دن بعد حضورﷺ کی وفات ہوئی، حضرت عبداللہؓ بن عباس سے روایت ہے کہ جب سورۂ نصر نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے میری وفات کی خبر دے دی گئی ہے، اس سورۃ کے نزول کے بعد آپﷺ ہر نماز کے بعد دعا فرماتے :

" سبحٰنک اللھم و بحمدک اللھم اغفرلی"

حضرت اُم سلمہؓ فرماتی ہیں کہ آخری زمانہ میں آپ ﷺ اُٹھتے بیٹھتے " سبحان اللہ و بحمدہ " پڑھا کرتے تھے، حضرت عبداللہؓ بن عباس فرماتے ہیں کہ سورۂ نصر کے نزول کے بعد آنحضرت ﷺ آخرت کے لئے ریاضت میں حد درجہ مشغول ہوگئے، حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ عبادت میں اتنا مجاہدہ فرمایا کہ پاؤں متورم ہوگئے تھے۔

حضرت عبداللہؓ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وصال سے ایک مہینہ پہلے چند خاص صحابہؓ کو حضرت عائشہؓ کے حجرہ میں طلب فرمایا، جب سب حاضر ہوئے تو آپ ﷺ اشکبار ہوئے، یہ کیفیت دیکھ کر سب پر گریہ کی حالت طاری ہوگئی، آپﷺ نے فرمایا :

" میں تم کو تقویٰ اور اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، تم کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور اپنا خلیفہ مقرر کرتا ہوں، تم کو اللہ کے عذاب سے ڈ راتا ہوں، میں نذیر مبین ہوں، تم کو ہر گز تکبر نہیں کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ نے تم کو امر فرمایا ہے کہ " یہ دارِ آخرت ہم انہیں کو دیں گے جو زمین میں نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ فساد مچاتے ہیں اور انجام کار متقیوں کے لئے ہے اور دوزخ متکبرین کا ٹھکانہ ہے "

ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپﷺ کو بھی موت آئے گی ؟ فرمایا: جدائی کا وقت قریب ہے، عرض کیا آپ ﷺ کو غسل کون دے گا؟ فرمایا ! میرے اہل بیت کے مرد جو میرے قریبی عزیز ہیں، عرض کیا: آپ ﷺ کو کن کپڑوں میں کفنائیں؟ فرمایا: جو میرے جسم پر ہو، یا چاہو تو مصری، یا یمنی حُلہ، یا سفید کپڑے میں۔ پوچھا … کیا ہم آپ ﷺ پر نماز پڑھیں؟ اس کے بعد سب پر گریہ طاری ہوگیا، فرمایا! صبر کرو، اللہ تعالیٰ تم کو اپنے نبی کی جانب سے خیر عطا فرمائے گا۔
ارشاد ہوا:

" کفن میں لپیٹ کر قبر کے کنارے رکھ دو، تھوڑی دیر کے لئے وہاں سے ہٹ جاؤ تاکہ سب سے پہلے جبرئیل ؑ نماز پڑھیں، پھر میکائیل ؑ پھر اسرافیل ؑ پھر ملک الموت تمام فرشتوں کے ساتھ ، پھر تمام لوگ گروہ در گروہ، ابتداء میرے اہل بیت کریں پھر اہل بیت کی عورتیں، اس کے بعد تمام اصحاب، نوحہ و فریاد سے مجھے اذیت نہ دینا، میرا سلام ان لوگو ں تک پہنچا دینا جو غائب ہیں، جو میرے دین کی پیروی کر ے اور میری سنت کی اتباع کرے قیامت تک میرا ان پر سلام ہو "

عرض کیا :
یا رسول اللہ ! آپ ﷺ کو قبر میں کون اُتارے گا ؟ فرمایا: میرے اہل بیت تمام فرشتوں کے ساتھ جنھیں تم دیکھ نہ سکو گے مگر وہ تمہیں دیکھتے ہوں گے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کوئی نبی دنیا سے رخصت ہی نہیں ہوتا جب تک جنت میں اپنا گھر نہ دیکھ لے، اس کے بعد اسے اختیار دیا جاتا ہے، حضرت عائشہؓ یہ بھی کہتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا ، " میں نے رفیق اعلیٰ کو اختیار کیا " ، حجتہ الوداع سے واپسی کے بعد آپ ﷺ نے محرم اور صفر کے مہینوں میں مدینہ ہی میں قیام فرمایا۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 292 آپ ﷺ کے دور نبوت کی آخری وحی: حضرت عبداللہ ؓ بن عمر سے روایت ہے کہ سورۂ نصر ایام تشریق کے وسط می...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 291



سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 291

رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے والا آخری وفد:

یہ وفد محرم ۱۱ ہجری میں آیا تھا جس میں (۲۰۰ ) افراد تھے، اس وفد کو حضرت رملہ ؓ بنت حارث کے مکان میں ٹھہرایا گیا تھا جو حضرت معاذؓ بن عفرا کی زوجہ تھیں اور بنی نجار کی صحا بیہ تھیں، اس وفد کے لوگوں نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کے ہاتھ پر یمن میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا، یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے والا آخری وفد تھا، یہ لوگ یمن کے مذحج قبیلہ کی شاخ تھے۔

اس وفد کے ایک شخض زرارہؓ بن عمرو نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! میں نے راستہ میں عجیب خواب دیکھے، فرمایا: بیان کرو، عرض کیا میں نے قبیلہ میں ایک گدھی چھوڑ رکھی ہے، اس نے سیاہ اور سرخ رنگ کا بچہ جنا ہے، فرمایا: کیا تمہاری کوئی لونڈی حاملہ تھی؟ کہا : ہاں، ارشاد ہوا: اس نے لڑکا جنا ہے تو تیرا ہی ہے، عرض کیا: اور اس کا رنگ ایسا کیوں ہے؟ فرمایا: قریب آجاؤ، آہستہ سے پوچھا، کیا تمہیں برص ہے جسے چھپاتے ہو؟ عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اس کا کسی کو علم نہیں، فرمایا: اسی کا اثر ہے۔

ایک اور خواب کا ذکر کرتے ہوئے کہا، میں نے زمین سے آگ نکلتے دیکھی، پھر وہ آگ میرے اور میرے بیٹے عمرو کے درمیان حائل ہوگئی، تعبیر میں فرمایا: یہ وہ فتنہ ہے جو آخر میں ظاہر ہوگا، پوچھا … فتنہ کیا ہے؟ ارشاد ہوا: لوگ اپنے امام کو قتل کر دیں گے، آپس میں خونریزی ہوگی، خون پانی کی طرح ارزاں ہوجائے گا، اگر تم مر گئے تو تمہارا بیٹا اسے دیکھے گا اور اگر وہ مر گیا تو تم اس فتنہ کو دیکھو گے، عرض کیا: دعا فرمائیے کہ میں اس زمانہ کو نہ پاؤں، آپ ﷺ نے دعا فرمائی، چند دنوں بعد وہ انتقال کر گئے، ان کا بیٹا زندہ رہا، بعد میں جب امیر المومنین حضرت عثمان ؓبن عفان کی شہادت کا فتنہ برپا ہوا تو حضرت زرارہؓ کا بیٹا بیعت توڑ کر باغیوں کے ساتھ تھا۔
(سیرت احمد مجتبیٰ ﷺ)

==================> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 291 رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے والا آخری وفد: یہ وفد محرم ۱۱ ہجری میں آیا تھا جس میں (۲۰۰ ) افراد ت...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 290


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 290

حدیثِ جبریل:

حجتہ الوداع سے واپسی کے بعد ایک دن آنحضرتﷺ صحابہؓ کرام کے درمیان مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے، حضرت عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ اچانک ایک اجنبی حاضر ہوا، اس کے کپڑے نہایت سفید اور بال بے حد سیاہ تھے، لباس سے خوشبو کی مہک آرہی تھی، اجنبی ہونے کے باوجود اس پر سفر کے کچھ آثار نہ تھے، ہم میں سے کوئی اس نو وارد کو جانتا نہیں تھا، وہ آپﷺ کے قریب نہایت ادب سے دو زانو ہوکر بیٹھ گیا اور گھٹنے حضورﷺ کے گھٹنوں سے ملا دیئے، اس شخص نے دریافت کیا …

اے محمد ﷺ ! اسلام کیا ہے ؟

حضور ﷺ نے فرمایا:

اسلام یہ ہے کہ تم شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی اِلہٰ نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کر و، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر حج بیت اللہ کی استطاعت ہے تو حج کرو۔

نو وارد نے جواب سن کر کہا، آپ ﷺ نے سچ کہا، اس نے پھر پوچھا …

مجھے بتلائیے کہ ایمان کیا ہے ؟

آپ ﷺ فرمایا :

ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو، اس کے فرشتوں کو، اس کی کتاب کو، اس کے رسولوں اور یوم آخر یعنی قیامت کو حق جانو اور حق مانو اور ہر خیر و شر کی تقدیر کو بھی حق جانو اور حق مانو۔

یہ سن کر بھی اس نے کہا کہ آپ ﷺ نے سچ کہا۔

حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ مجھے بڑا تعجب ہوا کہ یہ شخص سوال بھی کرتا ہے اور خود ہی اس کی تصدیق کرتا ہے، پھر اس نے پوچھا …

احسان کس چیز کا نام ہے؟

آپ ﷺ فرمایا :

احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت ایسی دل لگا کر کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو اگر یہ نہ ہوسکے تو یہ خیال رہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

نو وارد نے سوال کیا …

قیامت کب آئے گی؟

آپ ﷺ فرمایا:

جس سے یہ بات پوچھی جا رہی ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔

نو وارد نے عرض کیا:

مجھے اس کی کچھ نشانیاں ہی بتلائیے۔

آپ ﷺ فرمایا:

میں تمہیں اس کی علامتیں بتائے دیتا ہوں

(۱) جب لونڈی اپنے آقا اور مالک کو جنے گی۔
(۲) تم دیکھو گے کہ جن کے پاؤں میں جوتا اور تن پر کپڑا نہیں جو تہی دست اور بکریاں چرانے والے ہیں وہ بڑی بڑی عمارتیں بنائیں گے اور ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کریں گے، صحیح بخاری کے بموجب قیامت غیب کی ان پانچ باتوں میں سے ایک ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پھر آنحضرت ﷺ نے سورۂ لقمان کی آیت نمبر ۳۴ تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ یہ ہے :

" اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی (حاملہ کے ) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (نر ہے یا مادہ ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کس سر زمین میں اُسے موت آئے گی، بے شک اللہ ہی جاننے والا ہے، خبر دار ہے "
(سورۂ لقمان : ۳۴ )

پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا گیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! اس کو پھر لے آؤ ، لوگوں نے جاکر دیکھا تو وہاں کسی کو نہ پایا۔ حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ اس واقعہ کو کچھ عرصہ بیت گیا، ایک دن حضور ﷺ نے فرمایا: اے عمر! کیا تمہیں پتہ ہے کہ وہ شخص جو سوالات کر رہا تھا کون تھا ؟
حضرت عمرؓ نے عرض کیا! اللہ اور اُس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، فرمایا، وہ جبرئیلؑ تھے، تمہاری مجلس میں اس لئے آئے تھے کہ تمہیں تمہارا دین سکھائیں۔

یہ بہت مشہور حدیث ہے جو عام طور پر حدیث جبرئیل ؑ کے نام سے مشہور ہے، اسے " اُم الاحادیث " بھی کہا جاتا ہے، اسے حیات طیبہ کی ۲۳ سالہ جد وجہد کا نچوڑ کہا جاسکتا ہے، یہ واقعہ تکمیل دین کی آیت کے نزول کے بعد اس وقت ہوا جبکہ اس دنیا میں آپ ﷺ کی عمر مبارک میں صرف تین دن باقی رہ گئے تھے۔

حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں جبرئیل کو ہر شکل میں پہچان لیتا ہوں لیکن اس دفعہ نہ پہچان سکا کیونکہ وہ ایک بدو سائل کے بھیس میں آئے تھے، امین وحی نہیں بلکہ ملائکہ کے نمائندہ بن کر آئے تھے، میں نے انھیں افق اور سدرۃالمنتہیٰ پر ہیٔت اصلی میں بھی دیکھا، یہ موقع عینی مخلوق کی نمائندگی کا تھا لہٰذا پردہ بعد میں اٹھا، دین مکمل ہوگیا، اب قیامت تک اس میں نہ کوئی کمی ہوسکتی ہے اور نہ بیشی، زمین وآسمان کی مخلوق نے گواہی دی.
(سیرت احمد مجتبی ﷺ ٰ)

==================>> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 290 حدیثِ جبریل: حجتہ الوداع سے واپسی کے بعد ایک دن آنحضرتﷺ صحابہؓ کرام کے درمیان مسجد نبوی میں ت...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 289


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 289

طوافِ وداع اور مکہ سے واپسی:

بوقت سحر بیدار ہو کر سواری پر طواف وداع کے لئے مسجد حرام میں تشریف لے گئے، طواف کے بعد ملتزم پر وقوف فرمایا (ملتزم، حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان ہے ) یہاں سے چاہ زم زم پر جا کر خود اپنے دست مبارک سے ڈول کھینچا اور قبلہ رو ہو کر پانی نوش فرمایا اور بچاہوا پانی کنویں میں ڈال دیا، حضورﷺ کے اسی عمل کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے زم زم کو چشمہ بقا بنا دیا، آپﷺ نے دس دن مکہ میں قیام فرمایا اور قصر نمازیں ادا کیں، سلام کے بعد ارشاد فرماتے، مکہ والے سنو ! اپنی نمازیں پوری کرو، ہم تومسافر ہیں۔

طواف وداع کے بعد آپ ﷺ مغموم، آب دیدہ اور حزن و ملال سے مغلوب تھے، مکہ سے واپسی کے وقت کدا ( اسفل) والا راستہ اختیار فرمایا، یہ سمِت اس راستہ کے بالکل مخالف تھی جس سے مکہ میں داخل ہوئے تھے، کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہی سنت تھی کہ بیت اللہ کی تعظیم کی خاطر علو ( بلندی) کی طرف سے مکہ میں داخل ہوتے او ر اسفل ( نشیب) والے راستہ سے باہر نکلتے، ابن حزم کے قول کے مطابق اسی پر عمل فرماتے ہوئے آپﷺ مع صحابہ ؓ ۱۴ ذی الحجہ بروز بدھ  سورج نکلنے سے پہلے مکہ سے روانہ ہوگئے، مقام ذی طویٰ میں پڑاؤ کیا اور وہیں رات گزاری اور صبح کو مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوگئے۔

راستہ میں ایک مقام خم آیا جو حجفہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے، یہاں ایک تالاب ہے ، عربی میں تالاب کو غدیر کہتے ہیں اور اس لئے اس کا نام عام روایتوں میں غدیر خُم آتا ہے، یہاں آپﷺ نے نماز ظہر کے بعد صحابہؓ کو جمع کر کے ایک مختصر خطبہ ارشاد فرمایا:

" حمد و ثنا کے بعد، اے لوگو ! میں بھی بشر ہوں، ممکن ہے کہ خدا کا فرشتہ جلد آجائے اور مجھے (موت) قبول کرنا پڑے، میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑتا ہوں، ایک اللہ کی کتاب جس کے اندر ہدایت اور روشنی ہے، اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے رہو، دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں خدا کو یاد دلاتا ہوں، آخری جملہ کو آپ ﷺ نے تین دفعہ مکرر فرمایا، یہ صحیح مسلم (مناقب حضرت علیؓ ) کی روایت ہے، نسائی، مسند احمد وغیرہ میں کچھ فقرے بھی ہیں جن میں حضرت علیؓ کی منقبت ظاہر کی گئی ہے، ان روایتوں میں ایک فقرہ اکثر مشترک ہے۔

" جس کو میں محبوب ہوں علیؓ بھی اس کو محبوب ہونا چاہیے، الٰہی جو علیؓ سے محبت رکھے اس سے تو بھی محبت رکھ اور جو علیؓ سے عداوت رکھے تو بھی عداوت رکھ"

احادیث میں خاص یہ تصریح نہیں کہ ان الفاظ کے کہنے کی ضرورت کیا پیش آئی ؟ بخاری میں ہے کہ اسی زمانہ میں حضرت علیؓ یمن بھیجے گئے تھے، جہاں سے واپس آکر حج میں شامل ہوئے تھے، قیام یمن کے زمانہ میں حضرت بریدہؓ اسلمی کو حضرت علیؓ سے کچھ شکایت ہوگئی تھی، جو حضرت بریدہؓ کا قصور فہم تھا، چونکہ یہ بات لوگوں میں پھیل گئی تھی اس لئے آنحضرت ﷺ نے بطور خاص حضرت علیؓ کا ذکر کر کے فرمایا:" علیؓ کو اس سے زیادہ کا حق تھا"
(سیرت النبی جلد اول )

مدینہ کے قریب پہنچ کر ذوالحلیفہ میں قیام فرمایا ، معرس جو مدینہ سے چھ میل دور پر ہے اس راستہ کو اختیار فرمایا اور مدینہ منورہ میں داخل ہوئے، ثنیہ یا مقام قد پر پہنچے تو زبان مبارک پر یہ دعا تھی:

"خدا بزرگ و برتر ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں، کوئی اس کا شریک نہیں، بس اسی کی سلطنت ہے، اس کے لئے مدح و ستائش ہے، وہ ہر بات پر قادر ہے، ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، سجدہ کرنے والے ہیں، اپنے رب کی ثنا کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا، اس نے اپنے بندہ کی مدد کی اور اس نے تمام لشکروں کو تنہا شکست دی"

==================>> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 289 طوافِ وداع اور مکہ سے واپسی: بوقت سحر بیدار ہو کر سواری پر طواف وداع کے لئے مسجد حرام میں تش...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 288


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 288

طوافِ افاضہ:

زوال آفتاب سے پہلے مکہ مکرمہ کے لئے راونہ ہوئے ، قصویٰ ہی پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف فرمایا، حضرت اُسامہؓؓ آپ ﷺ کے پیچھے اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تھے ، حجر اسود کو اپنے ہاتھ سے چھوتے اور اس کا بوسہ لیتے، طواف کے بعد آپ ﷺ سبیل پر تشریف لائے، حضرت عباسؓ نے اپنے بیٹے فضل سے کہا کہ اپنی والدہ سے پانی مانگ لاؤ، حضور ﷺ نے فرمایا: اسی میں سے پلادو، عرض کیا: اس میں لوگ ہاتھ ڈالتے ہیں ، فرمایا: اسی میں سے پلادو ، پانی پلانے کے بعد حضرت عباسؓ نے کھجور کا شربت پیش کیا ، آپﷺ نے نوش فرمایا اور کچھ بچا کر اسامہ ؓ کو عطا فرمایا۔

وہاں سے آپ ﷺ چاہ زم زم پر تشریف لائے، چاہ زمزم سے حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت خاندان عبدالمطلب سے متعلق تھی، چنانچہ اس وقت اس خاندان کے لوگ پانی نکال کر لو گوں کو پلا رہے تھے، آپﷺ نے فرمایا : " یا بنی مطلب! اگرمجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ مجھے ایسا کرتے دیکھ کر اور لوگ بھی تمہارے ہاتھ سے ڈول چھین کر خود اپنے ہاتھ سے پانی نکال کر پئیں گے تو میں خود جا کر اپنے ہاتھ سے پانی نکال کر پیتا، " حضرت عباس ؓ نے ڈول میں پانی نکال کر پیش کیا ، آپﷺ نے قبلہ رخ ہو کر کھڑے کھڑے پانی پیا، حضرت عباسؓ نے سقایہ کی خدمت ( یعنی پانی پلانے کی خدمت) کی خاطر ۱۱/ ۱۲ اور ۱۳ ذی الحجہ کی راتوں میں منیٰ کی بجائے مکہ میں رہنے کی اجازت طلب کی، آپﷺ نے اجازت دے دی۔

یہاں سے آپ منیٰ تشریف لے گئے اور وہیں نماز ظہر ادا فرمائی، ۱۱/ ۱۲ ذی الحجہ کو تینوں جمروں پر کنکریاں ماریں ، جمرۂ اولیٰ پر کنکریاں مارتے ہوئے اللہ اکبر کہا، آگے بڑھ کر قبلہ رو ہو کر بڑی دیر تک دعا مانگی، اتنی دیر کہ ایک آدمی اس میں سورۂ بقرہ پڑھ لے، جمرۂ وسطیٰ پر بھی ایسا ہی کیا ، جمرۂ عقبہ پر کنکریاں ماریں لیکن ٹھہرے نہیں واپس چلے آئے، ان ایام تشریق کے وسط میں ( یعنی ۱۱ /۱۲ اور ۱۳ ذی الحجہ) سورۂ نصر ( جسے سورۂ فتح بھی کہتے ہیں) کا نزول ہوا، ایام تشریق میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا کہ یہ کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں، آخری روز زوال کے وقت رمی فرمائی اور منیٰ سے محصب روانہ ہوئے ، مکہ کے باہر ایک مکان جہاں سنگریزے بہت ہیں قیام فرمایا، مکہ کا نام ابطح اور بطحا اسی لئے ہے کہ یہاں سنگریزے بہت تھے، حجتہ الوداع کے موقع پر خانہ کعبہ پر دھاری دار کپڑے کا غلاف چڑھایا گیاتھا۔

دعا کے مقامات:

حجتہ الوداع کے موقع پر حضور اکرم ﷺ نے ٹھہر کر دعا مانگی تھی، وہ مقامات حسب ذیل ہیں: -

(۱) صفا کی پہاڑی
(۲) مروہ کی پہاڑی
(۳) عرفہ
(۴) مزدلفہ
(۵) جمرۂ اولیٰ
(۶) جمرۂ وسطیٰ

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حج یوم عرفہ ہے اور بہترین دعا عرفہ کی دعا ہے، پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا : " ان شاء اللہ کل ہم خیف بنی کنانہ میں منزل کریں گے، محصب اور ابطح بھی اس کے نام ہیں، یہ وہی گھاٹی تھی جو شعب بنی ہاشم یا شعب ابی طالب کے نام سے مشہور تھی اور جہاں تین سال تک حضور اکرم ﷺ مع خاندان محصور رہے تھے، یہاں حضور ﷺ کے غلام ابو رافع نے پہلے ہی سے خیمے نصب کر دیئے تھے، وہاں رات کو کچھ دیر آرام فرمایا۔

==================>> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 288 طوافِ افاضہ: زوال آفتاب سے پہلے مکہ مکرمہ کے لئے راونہ ہوئے ، قصویٰ ہی پر سوار ہو کر بیت الل...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 287


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 287

جانوروں کی قربانی:

آپ ﷺ کے ساتھ قربانی کے سو اونٹ تھے، کچھ تو آپﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے ذبح کئے اور باقی حضرت علیؓ کے سپرد کر دیئے کہ وہ ذبح کریں اور حکم دیا کہ ہر اونٹ سے گوشت کا پارچہ لے کر شوربا پکایا جائے، پکنے کے بعد اسے حضرت علیؓ کے ساتھ تناول فرمایا، حکم دیا کہ کھالیں اور گوشت لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے یہاں تک کہ قصاب کی مزدوری بھی اس سے ادا نہ کی جائے بلکہ الگ سے دی جائے۔

حضرت جابرؓ بن عبداللہ کی روایت کے مطابق ازواج مطہرات کی جانب سے ایک گائے ذبح فرمائی، ایک اور روایت کے مطابق حضرت عائشہؓ کی جانب سے ایک اونٹ یا بھیڑ کی قربانی کا ذکر ہے ، ابن سعد نے لکھا ہے کہ آپﷺ نے چتکبرے اور سینگ والے دو مینڈھوں کی قربانی کی اور کچھ بکریاں قربانی کے لئے صحابہ میں تقسیم فرمائیں۔

حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ۶۳ اونٹ نحر فرمائے، بظاہر ان میں تضاد معلوم ہوتا ہے؛ لیکن حضرت عروہ ؓ بن حارث کندی کے بیان سے بات صاف ہوجاتی ہے کہ آپ ﷺ نے تنہا سات اونٹ نحر فرمائے، اس کے بعد حضرت علی ؓ بھی شامل ہوگئے ، اوپر سے حضور ﷺ چھری چلاتے اور نیچے سے حضرت علی ؓ ، دونوں نے مل کر ۵۶ اونٹ نحر کئے ، اس طرح ۶۳ اونٹ نحر کرنے کی عام روایات درست ہیں ، اس میں ایک لطیف اشارہ آپ ﷺ کی عمر سے اونٹوں کی مطابقت ہے یعنی ہر سال کے بدلے ایک اونٹ باقی ۳۷ اونٹ حضرت علی ؓ نے نحر کئے۔ ( سیرت احمد مجتبیٰ)

سال گزشتہ یعنی ۹ ہجری میں قحط سالی کی وجہ سے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی ممانعت تھی تا کہ محتاجوں کو ملے لیکن اس سال آپﷺ نے فرمایا: " کھاؤ ، کھلاؤ اور ذخیرہ کرو، " قربانی سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے عمر بن عبداللہ کو بلوایا ور سر کے بال منڈوائے اور فرط محبت سے کچھ بال خود اپنے دست مبارک سے ابو طلحہؓ انصاری اور ان کی بیوی اُم سلیم اور بعض لوگوں کو جو پاس بیٹھے ہوئے تھے عنایت فرمائے اور باقی ابو طلحہؓ نے اپنے ہاتھ سے تمام لوگوں میں ایک ایک دو دو کر کے تقسیم کر دئیے۔ (سیر ت النبی۔۔۔ شبلی نعمانی)

==================>> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 287 جانوروں کی قربانی: آپ ﷺ کے ساتھ قربانی کے سو اونٹ تھے، کچھ تو آپﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے ذبح کئ...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 286


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 286

١۰ ذی الحجہ کا خطبہ:

حضورﷺ کے الفاظ حضرت ربیعہؓ بن امیہ بن خلف بلند آواز سے دُہراتے تھے چاروں طرف مکبر موجود تھے، آپﷺ نے فرمایا :ابراہیم ؑ خلیل اللہ کے طریق عبادت(حج) کا موسم اپنی جگہ سے ہٹ گیا تھا، اس کا سبب یہ ہے کہ اس زمانہ میں کسی قسم کی خونریزی جائز نہیں تھی اس لئے عربوں کے خوں آشام جذبات حیلۂ جنگ کے لئے اس کو کبھی گھٹا اور کبھی بڑھا دیتے تھے، آج وہ دن آیا کہ اس اجتماع عظیم کے اشہر حرم کی تعین کر دی جائے، آپ نے فرمایا ، سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں چار مہینے قابل احترام ہیں، تین تو متواترمہینے ہیں یعنی ذیقعدہ ، ذی الحجہ، اور محرم اور چوتھا رجب کا مہینہ جمادی الثانی اور شعبان کے بیچ میں ہے۔ دنیا میں عدل و انصاف اور جور و ستم کا محور صرف تین چیزیں ہیں، جان، مال اور آبرو۔

آنحضرت ﷺ گزشتہ خطبہ میں گو ان کے متعلق ارشاد فرماچکے تھے لیکن عرب کے صدیوں کے زنگ کو دور کرنے کے لئے مکرر تاکید کی ضرورت تھی، آپﷺ نے اس کے لئے عجیب بلیغ انداز اختیار فرمایا، لوگوں سے مخاطب ہو کر پوچھا … کچھ معلوم ہے کہ آج کونسا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ خدا اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے، آپﷺ دیر تک خاموش رہے ، لوگ سمجھے کہ شاید آپﷺ اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے، دیر تک سکوت اختیار فرمایا اور پھرکہا ! کیا آج قربانی کا دن نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا: ہاں بے شک ہے، پھر ارشاد ہوا : یہ کونسا مہینہ ہے؟ لوگوں نے پھر اسی طریقہ سے جواب دیا ، آپ ﷺ نے دیر تک سکوت اختیار کیا اور پھر فرمایا: کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں بے شک ہے ، پھر پوچھا : یہ کونسا شہر ہے؟ لوگوں نے بدستور جواب دیا، آپﷺ نے دیر تک سکوت کے بعد فرمایا : کیا یہ بلدۃ الحرام نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا ہاں بے شک ہے ، تب لوگوں کے دل میں یہ خیال پوری طرح جا گزیں ہو چکا کہ آج کا دن بھی ‘ مہینہ بھی اور خود شہر بھی محترم ہے یعنی اس دن اور اس مقام میں خوں ریزی جائز نہیں ، تب فرمایا :

" تو تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری آبرو ( تاقیامت) اس طرح محترم ہے جس طرح یہ دن اس مہینہ میں اور شہر میں محترم ہے، "

قوموں کی بربادی ہمیشہ آپس کے جنگ و جدال اور باہمی خوں ریزیوں کا نتیجہ رہی ہے ، وہ پیغمبر جو ایک لازوال قومیت کا بانی بن کر آیا تھا اس نے اپنے پیروؤں سے بہ آواز بلند کہا :

" ہاں میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ خود ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو، تم کو خدا کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس کرے گا "

ظلم و ستم کا ایک عالمگیر پہلو یہ تھا کہ اگر خاندان میں کسی شخص سے کوئی گناہ سرزد ہوتا تو اس خاندان کاہر شخص اس جرم کا قانونی مجرم سمجھا جاتا تھا اور اکثر اصلی مجرم کے روپوش ہونے یا فرار ہو جانے کی صورت میں بادشاہ کا اس خاندان میں سے جس پر قابو چلتا تھا اس کو سزا دیتا تھا، باپ کے جرم میں بیٹے کو سولی دی جاتی تھی اور بیٹے کے جرم کا خمیازہ باپ کو بھگتنا پڑتا تھا، یہ سخت ظالمانہ قانون تھا جو مدت سے دنیا میں نافذ تھا، اگر چہ قرآن مجید نے اس ظلم کی ہمیشہ بیخ کنی کر دی تھی، لیکن خاتم النبینﷺ نے اسے یاد دلاتے ہوئے فرمایا :

" ہاں مجرم اپنے جرم کا آپ ذمہ دار ہے، باپ کے جرم کا ذمہ دار بیٹا نہیں اور بیٹے کے جرم کا جواب دہ باپ نہیں"

عرب کی بد امنی اور نظام ملک کی بے ترتیبی کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ ہر شخص اپنی خداوندی کا آپ مدعی تھا اور دوسرے کی ماتحتی اور فرمانبرداری کو اپنے لئے ننگ و عار جانتا تھا، آپﷺ نے ارشاد فرمایا :

" اگر کوئی حبشی بریدہ غلام بھی تمہارا امیر ہو اور وہ تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو"

ریگستان عرب کا ذرہ ذرہ اس وقت اسلام کے نور سے منور ہو چکا تھا اور خانہ کعبہ ہمیشہ کے لئے ملت ِابراہیم کا مرکز بن چکا تھا اور فتنہ پرداز قوتیں پامال ہو چکی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا :

" ہاں شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا تھا کہ اب تمہارے اس شہر میں اس کی پرستش قیامت تک نہ کی جائے گی، لیکن البتہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں اس کی پیروی کروگے اور وہ اس پر خوش ہو گا"

سب سے آخر میں آپﷺ نے اسلام کے فرض اولین یاد دلائے:

" اپنے پرورگار کا حکم مانو، پانچوں وقت کی نماز پڑھو، ماہ رمضان کے روزے رکھو اور میرے احکام کی اطاعت کرو، خدا کی جنت میں داخل ہو جاؤگے "

یہ فرما کر آپﷺ نے مجمع کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا :

" کیوں میں نے پیغام خداوندی سنا دیا" سب بول اٹھے، بے شک بے شک، آپﷺ نے اللہ کا پیغام ہم تک پہنچا دیا، آپ ﷺ نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف جھکا کر تین بار فرمایا : " اے اللہ تو بھی گواہ رہیو ، گواہ رہیو ، گواہ رہیو"

خطبہ سے فار غ ہو کر حضور اکرم ﷺ نے ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعت یکے بعد دیگرے ادا فرمائیں، نماز کے بعد دامن کوہ میں تشر یف لانے اور عجز وانکسار کے ساتھ دعا میں مصروف ہو گئے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی :

الیوم اکمَلتُ لَکُم دینکُم وَ اتمَمْتُ عَلیکُم نعمتی وَ رَضِیت ُ لَکُم الا سلَامَ دِیناًط ( سورہ المائدہ :۳)

" آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لئے اسلام کا دین ہونا پسند کیا "

اس آیت کو سن کر حضرت عمرؓ بے اختیار رونے لگے، لوگوں نے پوچھا، آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمایا ! اس لئے کہ کمال کے بعد زوال ہی ہوتا ہے، مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ تکمیل دین اور اتمام نعمت کی آیت سن کر رونے والے حضرت ابوبکر ؓ صدیق تھے اس لئے کہ یار غار کی فراست نے بھانپ لیا تھا کہ اب خاتم الانبیاء کے دنیا سے رخصت ہونے کے دن قریب ہیں۔ حضورﷺ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار کے مجمع سے ارشاد فرمایا:

"حاضر کو چاہیے کہ وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے اس لئے کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ پہنچانے والا کسی ایسے شخص کو پہنچا دیتا ہے جو اس سے زیادہ اس کو محفوظ کرنے والا ہوتا ہے۔"

خطبہ کے وقت آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ نحر ( قربانی) ‘ ر می جمار ( کنکریاں مارنے) حلق ( بال منڈوانے) میں تقدیم و تاخیر ہو جائے تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا ! لا حرج، لا حرج، کوئی مضائقہ نہیں، خطبہ کے اختتام پر آپ ﷺ نے تمام مسلمانوں کو الوداع کہا، اس کے بعد آپﷺ قربان گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا کہ قربانی کے لئے منیٰ کی کچھ تخصیص نہیں ہے، بلکہ منیٰ اور مکہ کی ایک ایک گلی میں قربانی ہو سکتی ہے۔ ( سیرت النبی جد اول)

==================>> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 286 ١۰ ذی الحجہ کا خطبہ: حضورﷺ کے الفاظ حضرت ربیعہؓ بن امیہ بن خلف بلند آواز سے دُہراتے تھے چارو...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 285


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 285

حجۃ الوداع ۔۔۔ عرفات روانگی:

آنحضرت ﷺ قصویٰ (اونٹنی) پر سوار ہو کر عرفات تشریف لے گئے، اونٹنی کا پیٹ صخرات(چٹانوں) کی طرف کیا، پیدل چلنے والوں کا راستہ اپنے سامنے رکھا ، جبل المشاۃ کے سامنے قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوئے، عرفہ کے دن زیادہ سے زیادہ دعائیں مانگیں، امت کی مغفرت کی دعا کے جو اب میں فرمایا گیا کہ سوائے ظالم کے جس سے مظلوم کا انتقام لیا جائے گا، عرض کیا ! اے اللہ ! تو مالک ہے ، تو چاہے تو مظلوم کا جنت میں درجہ بلند کر دے اور ظالم کو معاف فرما دے، یہ دعا اس وقت قبول نہیں ہوئی یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا، نجد والوں کے استفسار پر منادی کرائی گئی کہ حج عرفات کے قیام کا نام ہے، جو شخص طلوع فجر سے قبل مزدلفہ پہنچ گیا وہ حج پا گیا۔

حضرت اسامہؓ بن زید کو اپنے پیچھے سوار کر لیا اور مزدلفہ کی طرف چل پڑے، دائیں ہاتھ سے لوگوں کو اشارہ فرماتے کہ آرام اور سکون سے چلو، آپﷺ ناقہ کی زمام کھینچے ہوئے تھے یہاں تک کہ اس کی گردن کجاوے میں آ کر لگتی تھی، اثنائے راہ میں ایک جگہ اتر کر طہارت سے فارغ ہوئے پھر وضو کئے، حضرت اسامہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نماز کا وقت تنگ ہو رہا ہے، فرمایا : آگے جا کر پڑھیں گے، مزدلفہ پہنچ کر پھر وضو کیا اور ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازجمع کر کے عشاء کے وقت ادا فرمائی، یہ " جمع تاخیر" کہلاتی ہے، دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی گئی البتہ برابر لبیک کہتے رہے، نماز سے فارغ ہو کر آپﷺ لیٹ گئے اور صبح تک آرام فرمایا، بیچ میں روزانہ دستور کے مطابق تہجد کے لئے بھی بیدار نہیں ہوئے ، محدثین نے لکھا ہے کہ یہی ایک شب ہے جس میں آپﷺ نے نماز تہجد ادا نہیں فرمائی ، سویرے اٹھ کر با جماعت نماز پڑھی ، فرمایا : پورا مزدلفہ وقوف کا مقام ہے سوائے بطن محسر کے۔

۱۰ ذی الحجہ کی رات مزدلفہ میں گزاری، صبح کی نماز کے بعد مظلوم و ظالم کے بارے میں اپنی دعاء دُہرائی، کچھ دیر بعدچہرے پر تبسّم کے آثار نمودار ہوئے، حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ نے پوچھا … یا رسول اللہ! اللہ آپﷺ کو ہمیشہ مسکراتا رکھے ، اس تبسّم کا سبب کیا ہے؟ فرمایا ! ابلیس کو اب یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی ہے تو وہ روتے ہوئے اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا، اس کی یہ کیفیت دیکھ کر مجھے ہنسی آئی، حضرت سودہؓ اور اہل بیت کے کمزور افراد کو رات ہی میں منیٰ جانے کی اجازت دے دی، ان میں حضرت عبداللہؓ بن عباس بھی تھے، قریش مزدلفہ سے اس وقت کوچ کرتے تھے جب آفتاب پورا نکل آتا تھا اور آس پاس کے پہاڑیوں کی چوٹیوں پر دھوپ چمکنے لگتی تھی، اس وقت بہ آواز بلند کہتے تھے، " کوہ شبیر ! دھوپ سے چمک جاؤ" آنحضرت ﷺ نے اس رسم کے ابطال کے لئے سورج نکلنے سے پہلے یہاں سے کوچ فرمایا، یہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ اور سنیچر کا دن تھا۔ ( سیرت النبی جلد اول )

آپ قصویٰ پر سوار ہوکر مشعر حرام آئے جو مزدلفہ میں ایک ٹیلہ ہے، یہاں خو ب روشنی پھیلنے تک قبلہ رو ہو کر تسبیح ، تہلیل ، تکبیر اور دعاؤں میں مشغول رہے، طلوع آفتاب کے بعد مزدلفہ سے منیٰ روانہ ہوئے، حضرت عائشہؓ ساتھ تھیں ، آپ ﷺ کے برادر عم زاد حضرت فضلؓ بن عباس ناقہ پر سوار تھے، لوگ داہنے بائیں حج کے مسائل دریافت کرنے کے لئے آرہے تھے، آپﷺ جواب دیتے تھے اور زور زور سے مناسک حج کی تعلیم دیتے جاتے تھے۔ ( صحیح بخاری بحوالہ سیرت النبی جلد اول)

اس قدر ہجوم تھا کہ حضرت عائشہؓ نے کہا: کاش! حضرت سودہؓ کی طرح میں بھی اجازت لے کر منیٰ چلی جاتی، حضور ﷺ لوگوں کو تلقین فرما رہے تھے کہ سکون سے چلو، کبھی کوڑے سے اشارہ فرماتے ہوئے کہتے، اے لوگو ! اطمینان اختیار کرو ، اونٹوں کو دوڑانا کوئی اچھی بات نہیں، قبیلہ غثم کی ایک عورت نے قریب آکر پوچھا کہ حج ایسے موقع پر فرض ہوا ہے کہ میرا باپ ضعیف ہے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں ؟ فرمایا: ہاں ، حضرت فضلؓ بن عباس اس عورت کو اور وہ انہیں دیکھنے لگے، حضور ﷺ نے فضلؓ کا منہ دوسری طرف پھیر دیا، حضرت اسامہؓ کہتے ہیں کہ میں عرفہ سے مزدلفہ تک اور فضلؓ بن عباس مزدلفہ سے منیٰ تک حضور ﷺ کے پیچھے اونٹنی پر بیٹھے رہے، وادیٔ محسّر میں آئے تو رمی جمار کے لئے چنے سے بڑے اور چھوٹے بیر سے کم کسی قدر کم کنکریاں جمع کرنے کا حکم ہوا، لوگوں نے تعمیل کی، وادیٔ محسّر میں جو اصحاب فیل پر اللہ کے غضب کی جگہ ہے اونٹنی کو تیزی سے دوڑایا۔

حضرت عبداللہ ؓ بن عباس نے آپ ﷺ کے لئے بھی کنکریاں چنیں ، پھر آپﷺاونٹنی کو دوڑاتے درمیانی راستہ سے جمرۂ کبریٰ کی طرف چلے اسے جمرۂ عقبہ اور جمرۂ اولیٰ بھی کہتے ہیں، نزدیک جا کر ایک درخت کے نیچے رک گئے، اس وقت آپﷺ وادی کے نشیب میں تھے، آپﷺ کی بائیں جانب منیٰ داہنی طرف مکہ تھا، آپﷺ نے قصویٰ ہی پر سے ہر بار اللہ اکبر کہہ کر کنکریاں جمرۂ کبریٰ پر ماریں ، یہ رمی جمار آپﷺ نے آفتاب طلوع ہونے کے بعد فرمایا اور تلبیہ موقوف کیا، چاشت کا وقت تھا، اونٹنی پر بیٹھ کر فرمایا : مجھ سے مناسک حج سیکھ لو ، مجھے معلوم نہیں کہ اس حج کے بعد دوسرا حج کر سکوں گا کہ نہیں، یہاں سے منیٰ کے لئے روانہ ہوئے ، حضرت اسامہؓ ساتھ بیٹھے دھوپ سے بچنے کے لئے چادر تانے ہوئے تھے، حضر ت بلالؓ قصویٰ کی مہار تھامے ہوئے تھے، داہنے بائیں‘ آگے پیچھے تقریباً ایک لاکھ مسلمانوں کا مجمع تھا، مہاجرین قبلہ کے داہنے ‘ انصار بائیں اور بیچ میں عام مسلمانوں کی صفیں تھیں، آپﷺ نے نظر اٹھا کر اس عظیم الشان مجمع کی طرف دیکھا تو فرائض نبوت کے (۲۳) سالہ نتائج نگاہوں کے سامنے تھے، زمین سے آسمان تک قبول و اعتراف حق کا نور ضو فشاں تھا، دیوان قضا میں انبیاء سابق کے فرائض تبلیغ کے کارناموں پر ختم رسالت کی مہر ثبت ہو رہی تھی اور دنیا اپنی تخلیق کے لاکھوں برس بعد دین فطرت کی تکمیل کا مژدہ کائنات کے ذرہ ذرہ کی زبان سے سن رہی تھی، اسی عالم میں قصویٰ پر سوار ہو کر افصح العرب و العجم نے خطبہ دیا ۔

==================>> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 285 حجۃ الوداع ۔۔۔ عرفات روانگی: آنحضرت ﷺ قصویٰ (اونٹنی) پر سوار ہو کر عرفات تشریف لے گئے، اونٹن...