قرآن و حدیث میں وضو کا حکم صرف نماز کیلئے ہے


قرآن و حدیث میں وضو کا حکم صرف نماز کیلئے ہے


قرآن میں وضو کا حکم اور طریقہ بیان کرنے سے قبل اللہ نے یہ واضح کردیا ہے کہ جب تم #نماز_کیلئے (کسی اور کام کے لئے نہیں) کھڑے ہو تب وضو کرلیا کرو۔

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِذَا قُمْتُـمْ اِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِـرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ(المائدہ:6)

اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنے منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لو اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو۔

وضو کے قرآنی حکم کی نبوی تصدیق

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيَّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالُوا أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ فَقَالَ إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول  ﷺ  بیت الخلا سے باہر تشریف لائے اور آپ کو کھانا پیش کیا گیا ۔ صحابہ نے پوچھا کہ ہم آپ کے لیے وضو کا پانی نہ لائیں؟  آپ نے فرمایا ’’مجھے وضو کا حکم صرف اس وقت ہے جب میں نماز کے لئے اٹھوں‘‘ (نسائی: 132)

طواف کعبہ مثل نماز ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَتَكَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَيْرٍ   . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ لَا يَتَكَلَّمَ الرَّجُلُ فِي الطَّوَافِ إِلَّا لِحَاجَةٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يَذْكُرُ اللَّهَ تَعَالَى، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مِنَ الْعِلْمِ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ کے گرد طواف نماز کے مثل ہے۔ البتہ اس میں تم بول سکتے ہو۔ (جب کہ نماز میں تم بول نہیں سکتے)  تو جو اس میں بولے وہ زبان سے بھلی بات ہی نکالے“۔ (ترمذی:960)۔

#وضاحت: چونکہ طواف کعبہ مثل نماز ہے اور نماز کیلئے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے وضو کا حکم دیا ہے، اس لئے طواف کعبہ کیلئے بھی وضو فرض ہے۔ جبکہ صفا و مروا کی سعی سمیت کسی بھی دیگر ارکان عمرہ و حج کیلئے وضو فرض نہیں ہے۔

حائضہ کا مسجد جانا جائز ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ:‏‏‏‏ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏    نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ    قَالَتْ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنِّي حَائِضٌ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏  إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ  . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا فِي ذَلِكَ بِأَنْ لَا بَأْسَ أَنْ تَتَنَاوَلَ الْحَائِضُ شَيْئًا مِنَ الْمَسْجِدِ

 حضرت عائشہ مروی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مسجد سے مجھے جائے نماز اٹھا کر دو“۔ میں نے عرض کیا: میں تو حائضہ ہوں، آپ نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے“۔ (ترمذی:134)

تلاوت قرآن بلا وضو جائز ہے

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ فِي قَوْمٍ وَهُمْ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَسْتَ عَلَی وُضُوئٍ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَنْ أَفْتَاکَ بِهَذَا أَمُسَيْلِمَةُ (موطائ امام مالک:جلد نمبر 1:باب: کلام اللہ بے وضو پڑھنے کی اجازت)

محمد بن سيرین سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں میں بیٹھے اور لوگ قرآن پڑھ رہے تھے۔ پس گئے حاجت کو اور پھر آکر قرآن پڑھنے لگے۔ ایک شخص نے کہا آپ کلام اللہ پڑھتے ہیں بغیر وضو کے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تجھ سے کس نے کہا کہ یہ منع ہے۔ کیا مسیلمہ نے کہا؟ 

وضاحت: مسیلمہ کذاب وہ شخص ہے جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔

حضرت سلمان فارسی کا خیال کہ قرآن چھونے کیلئے وضو ضروری ہے

مسند حاکم  میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا ایک مکالمہ موجود ہے کہ آپ ایک سفر میں تھے۔ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو واپسی پر پانی نہ ہونے کی وجہ سے وضو نہ فرمایا۔ ساتھی کہنے لگے کہ کاش آپ وضو کرلیتے تو ہم قرآن سے متعلق آپ سے کچھ سوال کرسکتے۔ آپ نے فرمایا کہ سوال کرو۔ میں نے کون سا قرآن کو چھونا ہے۔ پھر یہ آیت مبارکہ پڑھی۔ لایمسہ الا المطھرون۔

٣٧٨٢ - أخْبَرَنا أبُو زَكَرِيّا العَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ، ثنا إسْحاقُ، أنْبَأ جَرِيرٌ، عَنِ الأعْمَشِ، عَنْ إبْراهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قالَ: كُنّا مَعَ سَلْمانَ  فانْطَلَقَ إلى حاجَةٍ فَتَوارى عَنّا، ثُمَّ خَرَجَ إلَيْنا ولَيْسَ بَيْنَنا وبَيْنَهُ ماءٌ قالَ: فَقُلْنا لَهُ: يا أبا عَبْدِ اللَّهِ، لَوْ تَوَضَّأْتَ فَسَألْناكَ عَنْ أشْياءَ مِنَ القُرْآنِ. قالَ: فَقالَ: «سَلُوا، فَإنِّي لَسْتُ أمَسُّهُ». فَقالَ: " إنَّما يَمَسُّهُ المُطَهَّرُونَ، ثُمَّ تَلا ﴿إنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتابٍ مَكْنُونٍ لا يَمَسُّهُ إلّا المُطَهَّرُونَ﴾ [الواقعة ٧٨] «هَذا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ ولَمْ يُخَرِّجاهُ» [التعليق- من تلخيص الذهبي] ٣٧٨٢ - على شرط البخاري ومسلم۔

وضاحت: یہ حضرت سلمان فارسی رض کا اپنا ذاتی خیال ہے۔ کیونکہ اس واقعہ میں قرآن چھونے کیلئے وضو کی شرط کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا گیا ہے۔


مؤطا امام مالک کی حدیث کہ قرآن کو طاہر کے سوا کوئی نہ چھوئے

(*) باب لا يمس القرآن إلا طاهر ما جاء في الطهر من قراءة القرآن

٢٣٤ - حَدَّثَنا أبُو مُصْعَبٍ، قالَ: حَدَّثَنا مالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أبِي بَكْرِ بن محمد بن عمرو بْنِ حَزْمٍ، أنَّ فِي الكِتابِ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: أنْ لا يَمَسَّ القُرْآنَ إلّا طاهِرٌ

 نبی کریم ﷺ نے حضرت عمرو بن حزم کو خط لکھا اس میں یہ بھی تحریر فرمایا کہ "قرآن کو طاہر کے سوا کوئی بھی نہ چھوئے"۔

وضاحت: اس حدیث میں قرآن چھونے کیلئے "با وضو ہونے" کی شرط نہیں بلکہ "طاہر" ہونے کی شرط لگائی گئی ہے۔ دیگر احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ مومن ہر حال میں (حتی کہ جنبی حالت میں بھی) "طاہر" ہی ہوتا ہے۔ جبکہ غیر طاہر یعنی نجس و ناپاک تو مشرک ہوتا ہے۔


قرآن چھونے کیلئے وضو کی عدم فرضیت کے دلائل 


۔1۔ قرآن کو چھونے کے لئے اگر وضو فرض ہوتا تو اس فرضیت کا وضو کے ذکر کے ساتھ واضح ثبوت قرآن و سنت میں اسی طرح موجود ہوتا جیسا کہ نماز (اور طواف کعبہ) کیلئے موجود ہے(المائدہ۔6، نسائی:132 اور ترمذی: 960)۔ ایسے کسی واضح حکم کی عدم موجودگی ہی بلا وضو قرآن کو چھونا جائز قرار پاتا ہے۔ 

۔2۔ دور رسالت ﷺ بلکہ ادوار شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم تک میں "مصحف قرآن" کتابی شکل میں موجود ہی نہ تھا کہ اسے چھوننے کیلئے وضو کا حکم دیا جاتا۔ ہمارے پاس موجود کتابی قرآن پہلی مرتبہ دور عثمانی رضی اللہ عنہ میں مدون مصحف ہی کا عکس ہے۔ مصحف عثمانی چمڑے پر لکھا ہوا قرآن مجید کا وہ نسخہ ہے۔ جسے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں تیار کروایا تھا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسی نسخہ پر تلاوت کیا کرتے تھے۔ یہ نسخہ تاشقند، ازبکستان کے میوزیم میں آج بھی موجود ہے۔ یہ نسخہ خط کوفی میں لکھا گیا تھا۔ جب حضرت عثمان غنی کو شہید کیا گیا تو آپ اس وقت اسی نسخہ سے قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے۔ چنانچہ آپ کے خون مبارک کے نشانات ابھی بھی اس نسخہ پر موجود ہیں (مآخذ: وکی پیڈیا)

مشرک نجس اور مومن طاہر

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلاَ يَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـذَا. (التوبه، 9 : 28)

’’اے ایمان والو ! مشرک نرے نجس ہیں، تو اس سال (سن 9 ھ) کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں‘‘۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْبَجَسْتُ أَيْ فَانْخَنَسْتُ فَاغْتَسَلْتُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جِئْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏    أَيْنَ كُنْتَ أَوْ أَيْنَ ذَهَبْتَ ؟   ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا قَالَ:‏‏‏‏    إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ   . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى قَوْلِهِ فَانْخَنَسْتُ يَعْنِي:‏‏‏‏ تَنَحَّيْتُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَخَّصَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مُصَافَحَةِ الْجُنُبِ وَلَمْ يَرَوْا بِعَرَقِ الْجُنُبِ وَالْحَائِضِ بَأْسًا

(ترمذی:121): ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ان سے ملے اور وہ جنبی تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں آنکھ بچا کر نکل گیا اور جا کر میں نے غسل کیا پھر خدمت میں آیا تو آپ نے پوچھا: تم کہاں چلے گئے تھے۔ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا۔ آپ نے فرمایا: مسلمان کبھی نجس نہیں (بلکہ طاہر) ہوتا ہے۔


۔3۔ سورۃ الواقعۃ:اِنَّهٝ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْـمٌ (77)فِىْ كِتَابٍ مَّكْـنُـوْنٍ (78)لَّا يَمَسُّهٝٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ (79)۔ بے شک یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔ یہ ایک پوشیدہ کتاب (لوح محفوظ) میں لکھا ہوا ہے۔ جسے طاہروں کے سوا کوئی اور نہیں چھوتا۔ بالعموم سورہ واقعہ کی آیت۔79 سے قرآن چھونے کے لئے وضو کی فرضیت مراد لی جاتی ہے جو مندرجہ ذیل وجوہات کی وجہ سے درست نہیں:

۔(الف)۔ اس آیت میں وضو کا لفظ ہی موجود نہیں ہے۔ جبکہ نماز کیلئے وضو کی فرضیت کے قرآنی حکم میں وضو کا مکمل طریقہ اور حدیث میں وضو کا لفظ موجود ہے۔

۔(ب)۔ اس آیت میں لفظ مطھرون (واحد طاہر) آیا ہے۔ اور احادیث سے ثابت ہے کہ فی نفسہ مومن نجس نہیں بلکہ طاہر ہوتا ہے، خواہ جنبی ہی کیوں نہ ہو۔ طاہر فرشتوں کو بھی کہتے ہیں۔ طاہر بمعنی "باوضو مسلمان" کی کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے۔

۔(ج)۔ سورت واقعہ ایک مکی سورت ہے جبکہ وضو مدینہ میں فرض ہوا۔ سورت مائدہ ایک مدنی سورت ہے، جس میں آیت وضو نازل ہوئی۔

۔4۔ جب وضو فرض ہوا تو حدیث میں لفظ وضو کے ذکر کے ساتھ واضح طور پر بتلا دیا گیا کہ (الف) مجھے صرف نماز کیلئے وضو کا حکم دیا گیا ہے (ب) اور طواف کعبہ بھی مثل نماز ہی ہے (ج) کسی تیسرے کام یا عبادت کیلئے وضو کی وضاحت کے ساتھ کوئی حکم سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ 

۔5۔ قرآن "سینہ گزٹ" کے ذریعہ نازل ہوا تھا۔ قرآن سب سے پہلے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے سینے سے حضرت محمد ﷺ کے سینے میں منتقل ہوا اور پھر آپ ﷺ کے ذریعہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سینوں کو منتقل ہوا۔ حفاظ کرام کا یہی سلسلہ تب سے اب تک جاری ہے۔ تسلسل سے جاری یہ عمل ہمیں بتلاتا ہے کہ قرآن کے الفاظ و معنی اہم ترین ہیں۔ اس کا لکھا ہوا مصحف کی شکل میں مرتب ہونا "ثانوی درجہ" رکھتا ہے۔ یعنی قرآن اس لئے نازل ہوا کہ (الف) اسے تا قیامت پڑھا جاتا رہے۔خواہ منہ زبانی پڑھا جائے یا لکھا ہوا دیکھ کر پڑھا جائے۔ پڑھنا اہم ہے، طریقہ نہیں۔(ب) اسے پڑھ کر سمجھا جائے (ج) اور اس پر عمل کیا جائے۔ 

قرآن اس لئے نازل نہیں ہوا کہ مس مصحف قرآن کے لئے شارع سے ہٹ کر از خود پروٹوکول بنادیا جائے کہ پہلے لازمی وضو کرو۔ اس کے لئے غلاف بنادیا جائے کہ بلا وضو بلکہ بلا غسل حائضہ طالبات اور خواتین مدرسین غلاف /کپڑے کی مدد سے تو قرآن چھو سکیں، مگر کپڑے کے بغیر نہیں۔ 

سوچنے کی بات یہ ہے کہ قرآن کے بنیادی مقصد یعنی تلاوت تو بلا وضو بلکہ بلا غسل بھی جائز ہو اور قرآن چھونے کیلئے وضو فرض ہو جبکہ "قرآن چھونا" سرے سے کوئی بنیادی مقصد یا ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ تلاوت قرآن زبانی بھی کی جاسکتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بیشتر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زبانی ہی تلاوت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے مصحف قرآن کے چھونے نہ چھونے کو کبھی دینی مسئلہ نہیں بنایا تھا۔

(واللہ اعلم بالصواب) 

قرآن و حدیث میں وضو کا حکم صرف نماز کیلئے ہے قرآن میں وضو کا حکم اور طریقہ بیان کرنے سے قبل اللہ نے یہ واضح کردیا ہے کہ جب تم #نماز_کیلئے (...

پیغام قرآن و حدیث اور اسلامی ضابطہ حیات

 پیغام قرآن و حدیث اور اسلامی ضابطہ حیات

 


آج بڑے بھائی یوسف ثانی کی طرف سے کتب کا تحفہ موصول ہوا، اللہ ان کو اجر عظیم دے۔ کتابوں کا سرسری جائزہ لینے پر اندازہ ہوا کہ یوسف بھائی نے جو محنت 

کی ان شاء اللہ وہ اللہ کے ہاں ان کی نجات کا ذریعہ ہوگی۔


کتابوں کا مختصر تعارف 


🔶 پیغام قرآن و حدیث

یہ کتاب دراصل مضامین قرآن و حدیث کا ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا ہے۔ نو سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب مکمل قرآن اور احادیث کے وسیع ذخیرے کا ایک نچوڑ آپ کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ جس پر یوسف بھائی تعریف کے مستحق ہیں۔ یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے جس میں پہلا حصہ پیغام قرآن اور دوسرا پیغام حدیث ہے جس میں مرتب نے جو اسلوب اختیار کیا ہے وہ ایک مؤثر اور اپنے انداز میں لاجواب ہے۔


🔸 پیغام قرآن

456 صفحات پر مشتمل یہ حصہ مکمل قرآن سے مضامین قرآن کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ہر پارے کے شروع میں اس کے مضامین کو عنوانات کی صورت میں ایک فہرست کی شکل دی گئی ہے اور پھر اگلے ہر صفحے سے ان عنوانات کو واضح کرنے کے لیے آیات کا عربی متن چھوڑ کر صرف آسان اردو میں مفہوم پیش کیا گیا ہے جس کے سکرین شاٹ کمنٹس میں آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں، جس سے عام انسان کو سب کچھ ایک ترتیب سے مل جاتا ہے اور یوں مکمل قرآن اور اس کا پیغام آسان الفاظ میں یوسف بھائی نے ساڑھے چار سو صفحات میں سمو دیا ایسے جیسے سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہو۔ خاص بات یہ کہ ہر عنوان کے تحت آیات کا مفہوم پیش کرتے ہوئے ہر آیت کے مرکزی مضمون کی نشاندہی کرنے والے الفاظ کو جلی اور خط کشیدہ کیا گیا ہے جس سے پڑھنے والے کے لیے ہر آیت کو مضمون سمجھنے میں بہت آسانی ہوجاتی ہے۔ 

سونے پہ سہاگا کتاب کے آخر میں امر و نہی کا ایک بہترین اشاریہ بھی حروف تہجی کے لحاظ سے شامل ہے جس سے آپ بآسانی اس لفظ سے متعلقہ آیت تک پہنچ سکتے ہیں جو کتاب کی افادیت کو دو چند کردیتا ہے۔


🔸 پیغام حدیث

کتاب کا دوسرا حصہ مضامین حدیث پر مشتمل ہے۔ 468 صفحات پر مشتمل یہ مجموعہ تقریباً تمام مجموعہ احادیث کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ کتاب کچھ یوں ترتیب دی گئی ہے کہ سب سے پہلے صحیح بخاری کی مکمل تلخیص ہے جس میں بخاری کی تمام کتب کو مضامین کے لحاظ سے مرتب کیا گیا ہے۔ ہر کتاب سے پہلے اس کا خلاصہ عنوانات کی شکل میں پیش کیا گیا ہے اور پھر انہی عنوانات کے ذیل میں آگے احادیث کے متن کو آسان اردو میں اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ اس میں سند حذف ہے اور صرف متن ہے اور ساتھ ہی متن کے خاص الفاظ کو خط کشیدہ اور جلی کیا گیا ہے جس سے پڑھنے والے کو براہ راست حدیث کے بنیادی مضمون تک رسائی ہو جاتی ہے۔

اس کتاب کا دوسرا خاصہ اس کے چار ضمیمہ جات ہیں۔ جن میں بخاری سے ہٹ کر صحیح مسلم ، سنن اربعہ، مسند احمد ، سنن دارمی ، مؤطا امام مالک، امام طبرانی الاوسط، امام بیہقی کی السنن الکبریٰ اور امام بغوی کی شرح السنہ سے ان اضافی احادیث کو اسی انداز میں مرتب کیا ہے جس طرح بخاری کی تلخیص کی گئی ہے اور ان ضمیمہ جات میں انہی احادیث کو جمع کیا گیا جو بخاری سے ہٹ کر ہیں۔ یہ کام نہ صرف محنت طلب ہے بلکہ اس کے لیے جو عرق ریزی چاہیے وہ بھی ہر انسان کا خاصہ نہیں۔ لیکن یوسف بھائی نے جس طرح اس تمام مجموعے کو مرتب کیا بلاشبہ یہ ان کی قرآن و حدیث سے محبت اور دین کے فروغ کے لیے ان کا خلوص ہے جس پر ان شاء اللہ، وہ اللہ سے خصوصی اجر کے مستحق ہیں۔

پیغام قرآن کی طرح اس کتاب کے آخر میں بھی امر و نہی کا ایک بہترین اشاریہ بھی حروف تہجی کے لحاظ سے شامل ہے جس سے آپ بآسانی اس لفظ سے متعلقہ حدیث تک پہنچ سکتے ہیں۔ جو بلاشبہ اس پوری کتاب کا خلاصہ کہا جاسکتا ہے۔


🔶 اسلامی ضابطہ حیات (Islamic Life Style)

اسلام ہر لحاظ سے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس کتاب میں جو کہ انگریزی میں ہے یوسف بھائی پچاس عنوانات کے تحت قرآنی آیات کا صرف انگریزی ترجمہ کچھ اس انداز میں مرتب کیا ہے کہ ہر عنوان سے متعلق تمام آیات ایک جگہ جمع ہوگئی ہیں اور اس سے اسلام نے زندگی گزارنے کا جو تصور دیا ہے اور جو اصول و ضوابط مسلمانوں کے سامنے رکھے ہیں وہ واضح ہوجاتے ہیں۔ عنوانات جن کے تحت آیات جمع کیے گئے ہیں، وہ پوری زندگی کو محیط ہیں، ان میں عقائد عبادات، معاملات ، اور اچھے برے اعمال سب شامل ہیں۔ جس کی تفصیل کمنٹس میں آپ بطور سکرین شاٹ دیکھ سکتے ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ کتاب اسلامی ضابطہ حیات پر قرآنی آیات کا ایک مکمل ایسا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ 


آخر میں، اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ اللہ یوسف بھائی کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے ذریعہ نجات بنائے۔ ساتھ ہی یوسف بھائی کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں کہ ان انہوں نے کمال محبت و شفقت سے یہ کتب ارسال کیں۔

جزاہ اللہ خیراً کثیرا


  ان کتب کو درج ذیل لنک سے ڈاؤن لوڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔

☆ پیغام قرآن 

☆ پیغام حدیث

☆ اسلامی ضابطہ حیات

☆ اسلامک لائف اسٹائل 

☆ کلیدی پیغامات بخاری

ان تمام کتب کی  فائلز کو اس لنک 👇سے موبائل پر بھی ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔

https://drive.google.com/folderview?id=1MuwMsddF9oN-HJYJLqgoSEi5quqUGtcJ


( ندیم وجدان )

 پیغام قرآن و حدیث اور اسلامی ضابطہ حیات   آج بڑے بھائی یوسف ثانی کی طرف سے کتب کا تحفہ موصول ہوا، اللہ ان کو اجر عظیم دے۔ کتابوں کا سرسری ج...

قرآن و حدیث : رباء اور غیر سودی بنک



رباء  اور غیر سودی  بنک


قرآن:

   ۔ 1) اے ایمان والو! یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو۔ امید ہے کہ فلاح پاؤ گے ۔(آلِ عمران:130)

۔2)  جو لوگ سود کھاتے ہیں، اُن کا حال اُس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھُو کر باؤلا کر دیا ہو۔ اور اس حالت میں اُن کے مُبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ تجارت بھی تو آخر سود ہی جیسی ہے۔ حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ لہٰذا جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سُود خواری سے باز آ جائے، تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا، سو کھا چکا، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔(البقرۃ: 275​)

 

۔3)  اللہ سُود کو مٹاتا اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے۔ اور اللہ کسی ناشکرے بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔(البقرۃ:276)


۔4)  اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو۔ (البقرۃ:278)


۔5)  لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا، تو آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ اب بھی توبہ کر لو (اور سُود چھوڑ دو) تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو۔ نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ (البقرۃ:279)


 سود کی مذمت احادیث میں 

۔ 1)  فرمان رسولﷺ: سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، اس جان کو ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے بھاگنا اور پاک دامن مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔(بخاری:2766)


۔2)  فرمان رسولﷺ: سود ستر گناہوں کے برابر ہے۔ ان میں سے سب سے چھوٹا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح کرے۔

(ابن ماجہ:2274)

۔3)  رسول اللہ ﷺ نے سود کے کھانے والے پر، کھلانے والے پر، اس کی گواہی دینے والے پر، اور اس کا حساب لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے۔(ابن ماجہ:2277)


۔4)  فرمان رسولﷺ: یقیناً لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کوئی ایسا نہ بچے گا جس نے سود نہ کھایا ہو، جو نہیں کھائے گا اسے بھی اس کا غبار لگ جائے گا ۔ (ابن ماجہ؛ 2278)


احادیث میں سود کی پہچان:

۔ 1) حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (کھجور کی ایک عمدہ قسم ) برنی کھجور لے کر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کہاں سے لائے ہو؟ انہوں نے کہا ہمارے پاس خراب کھجور تھی تو اس کے دو صاع  کے بدلہ میں برنی کے ایک صاع لائے ہیں۔ تاکہ ہم یہ آپ کو کھلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: توبہ توبہ! یہ تو سود ہے بالکل سود۔ ایسا نہ کیا کرو۔ البتہ (اچھی کھجور) خریدنے کا ارادہ ہو تو (پہلے خراب)  کھجور بیچ کر (اس کی قیمت سے) عمدہ خرید لیا کرو (بخاری:2312)


۔2) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے عوض سونے کی، چاندی کے عوض چاندی کی، گندم کے عوض گندم کی، جو کے عوض جو کی، کھجور کے عوض کھجور کی اور نمک کے عوض نمک کی بیع سے منع فرما رہے تھے۔ الا یہ کہ برابر برابر، نقد بہ نقد ہو ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود کا لین دین کیا ۔(مسلم:4061)


۔3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کے عوض سونا ، چاندی کے عوض چاندی، گندم کے عوض گندم، جو کے عوض جو، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے عوض نمک ( کی تجارت) مثل بہ مثل (ایک جیسی) ہاتھوں ہاتھ ہو۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا لین دین کیا۔ اس میں لینے والا اور دینے والا برابر ہیں (مسلم:4064)


۔4) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور کے عوض کھجور، گندم کے عوض گندم، جو کے عوض جو اور نمک کے عوض نمک (کی تجارت) مثل بہ مثل (ایک جیسی) دست بدست ہو ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا (لین دین) کیا۔ الا یہ کہ ان کی اجناس الگ الگ ہوں۔(مسلم:4066)


۔5) ابوسعید رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ برنی کھجور لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: یہ کہاں سے لائے ہو؟حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے پاس ردی کھجور تھی۔ میں نے آپ کے کھانے کے لیے اُسے دو صاع کے عوض (اِس کے) ایک صاع سے بیچ دیا ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے افسوس ہوا۔ یہ تو عین سود ہے۔ ایسا نہ کرو بلکہ جب تم اعلی کھجور خریدنا چاہو تو ردی کھجور کو (نقدی وغیرہ کے عوض کی گئی) دوسری بیع کے ذریعے سے بیچ دو۔ پھر اس کی قیمت سے دوسری اعلی قسم کی کھجور خرید لو۔ (مسلم:4083)


۔6) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے سے، چاندی کو چاندی سے، کھجور کو کھجور سے، گیہوں کو گیہوں سے، نمک کو نمک سے اور جو کو جو سے برابر برابر بیچو، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا معاملہ کیا۔ سونے کو چاندی سے نقداً نقد، جیسے چاہو بیچو۔ گیہوں کو کھجور سے نقداً نقد جیسے چاہو بیچو۔ اور جو کو کھجور سے نقداً نقد جیسے چاہو بیچو۔(ترمذی: 1240)


۔7) سیدنا ابو ہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا: گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جو، کھجور کے بدلے کھجور اور نمک کے بدلے نمک ناپ تول کر اور برابر برابر فروخت کیے جائیں گے۔ جو زیادہ دے گا یا جو زیادتی کا مطالبہ کرے گا، وہ سود لے گا۔ ہاں جب اجناس مختلف ہو جائیں تو پھر زیادہ دینے یا لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مسند احمد: 5964)


۔8) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچو، ڈلی ہو یا سکہ۔ چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر بیچو ڈلی ہو یا سکہ۔ گیہوں گیہوں کے بدلے برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں۔ جو جو کے بدلے میں برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں۔ اسی طرح کھجور کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں۔ نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود دیا، سود لیا۔ سونے کو چاندی سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ادھار درست نہیں۔ گیہوں کو جو سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا" نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ادھار بیچنا صحیح نہیں۔ (ابو داؤد:3349)


۔9) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا :’’ کھجور کا کھجور کے ساتھ، گندم کا گندم کے ساتھ، جو کا جو کے ساتھ اور نمک کا نمک کے ساتھ سودا نقد اور برابر ہونا چاہیے۔ جو زیادہ دے یا زیادہ لے، اس نے سود کا لین دین کیا ۔ الا یہ کہ اجناس بدل جائیں۔ (نسائی:4563)


 ان احادیث سے حاصل شدہ نتائج: 

۔1۔ ایک ہی جنس کے لین دین (نقد یا ادھار) میں اگر مقدار کے فرق کی شرط بلا عوض ہو تو یہ اضافہ سود ہے، جو شریعت اسلامی میں حرام ہے۔


۔2۔ اگر دو مختلف اجناس (شئے اور پیسہ بھی دو مختلف جنس ہیں) کا لین دین ہو تو باہمی رضامندی سے کسی بھی مقدار میں لین دین کیا جاسکتا ہے۔


۔3۔ اگر مختلف اجناس کے دو یا دو سےزائد بیع (تجارتی لین دین) کا حاصل بھی وہی ہو، جو ایک ہی جنس کے مختلف مقدار کے بیع (یعنی سود والی بیع) کا ہو تب بھی مختلف اجناس والی بیع عدم سود کے سبب جائز اور ایک ہی جنس کی مختلف مقدار والی بیع سود کی شمولیت کے باعث حرام ہوگی۔ جیسا کہ اوپر حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔


۔4۔ روایتی بنک ایک ہی جنس یعنی روپے کے لین دین (قرض اور ڈپازٹس وغیرہ) میں اضافی رقم کا لین دین کرتے ہیں، جو سود اور حرام ہے۔


۔5۔ غیر سودی یا اسلامی بنک روپیہ قرض نہیں دیتے بلکہ صارف جس چیز (جیسے مکان، گاڑی، مشینری وغیرہ) کے لئے روپیہ قرض لینا چاہتا ہے، بنک وہی چیز خود مارکیٹ سے خرید کر (اپنا منافع رکھ کر) صارف کو قسطوں پر ادائیگی  کی سہولت کے ساتھ فروخت کرتا ہے یا اس شئے کے حصص  ایک ایک کرکے فروخت کرتا ہے اور مکمل حصص کی فروخت تک اس شئے کے استعمال کا کرایہ وصول کرتا ہے۔


۔6۔ روایتی بنکوں کا سودی پراسس اور اسلامی بنکوں کا غیر سودی پراسس کا اینڈ رزلٹ تقریبا" ملتا جلتا ہوتا ہے۔ یعنی روایتی بنک سے سودی قرض لیکر مکان وغیرہ خریدنے کے بعد جتنا کل رقم (قرض+سود) واپس کرنا ہوتا ہے، تقریبا" اتنی ہی رقم اسی مکان کو اسلامی یعنی غیر سودی بنک سے قسطوں یا حصص+کرایہ میں خریدنے پر لگتا ہے۔ 


۔● ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ دونوں قسم کے بنک تجارتی بنک ہیں۔ دونوں کے منافع کی شرح تقریبا" یکساں ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اسلامی بنک چل ہی نہیں سکتا۔


۔● اسلامی بنک اگر مارکیٹ یعنی سودی بنکوں سے کم منافع لے تو اسے نقصان ہوگا اور بنک ہی بند ہوجائے گا۔ زیادہ لے تو کوئی صارف اس کے پاس ہی نہیں آئے گا۔ واضح رہے کہ دونوں قسم کے بنکس کے انتظامی اخراجات یعنی بلڈنگ کرایہ، مینٹیننس، اسٹاف سیلیری سب یکساں ہوتی ہے۔


۔■ اسلامی بنکنگ کوئی خیراتی، ویلفیئر ادارہ نہیں جو عوام کو مارکیٹ سے سستے قرض یا قرض حسنہ دینے کے لئے بنایا گیا ہو۔


۔■ اگر مارکیٹ میں بکرے کے گوشت کی دو دکانیں ہوں۔ ایک دکاندار بکرے کو جھٹکے سے مار کر حرام گوشت بیچتا ہو اور دوسرا ذبیحہ کرکے حلال گوشت بیچتا ہو تو گوشت پراسسنگ مختلف ہونے بلکہ حرام اور حلال ہونے کے باعث دونوں کی قیمتوں میں فرق نہیں ہوجائے گا۔ کیونکہ مال تجارت بھی یکساں ہے اور مارکیٹ بھی وہی ہے، لہٰذا دونوں پروڈکٹ کی لاگت اور قیمت بھی یکساں ہوگی۔


۔7۔ اسلامی بنکنگ کے پراسس کو حرام کہنے والے مندرجہ بالا بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کو غور سے پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کو سود اور حرام قرار دیا ہے اور کس بیع کو جائز قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب


 رباء کی تین لازمی شرائط

ا===============ا

 رباء (اردو اصطلاح سود) نقد یا ادھار بیع (یعنی لین دین، تجارت یا فائنانشیل ڈیلز) میں اس "اضافہ" کو کہتے ہیں جو:

۔1۔ ایک ہی جنس (جیسے درہم، روپیہ، کھجور، گندم، اونٹ وغیرہ وغیرہ) کی بیع میں راس المال (اصل مال) پر ہو۔

۔2۔ اور یہ اضافہ بوقت بیع دونوں میں سے ایک فریق پر مشروط کردیا گیا ہو۔

۔3۔ اور اس اضافے کا کوئی "عوض" (بدلہ) بھی نہ ہو۔


ان تینوں شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی کسی بیع میں موجود نہ ہو تو ایسی بیع میں رباء باقی نہیں رہتا۔ خواہ "اضافہ" باقی رہے۔ جیسے:

۔1۔ بیع میں اگر جنس تبدیل شدہ ہو (رقم سے جنس یا مختلف اجناس جیسے گندم-کھجور وغیرہ) تو کسی بھی قسم کا "اضافہ" رباء نہیں کہلائے گا۔

۔2۔ اگر بوقت بیع اضافہ مشروط نہ کیا گیا ہو تب بھی راس المال میں کسی قسم کا اضافہ رباء نہیں کہلائے گا۔ 

بلکہ ایسا اضافہ مستحسن اور مسنون ہے۔ فرمان رسول ﷺ ہے: تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں بہتر ہے۔متفق علیہ (المصابیح:2906)۔ بہترین مسلمان وہ ہے جو (قرض وغیرہ کی) ادائیگی میں اچھا ہو ۔(نسائی:4621)۔

۔3۔ بیع کے راس المال میں اضافہ کا کوئی عوض (بدلہ) موجود ہو تب بھی یہ اضافہ رباء شمار نہیں ہوگا۔


 ربا کی تعریف فقہا کی نظر میں:

۔■  امام_سرخسی : الربا ھو الفضل الخالی عن العوض المشروط فی البیع۔ (ربا وہ اضافہ ہے جس کے مقابل میں عوض نہ ہو اور جسے مال کے تبادلے میں مشروط کیا گیا ہو۔) 

۔■   امام_مرغینانی(صاحبِ ہدایہ): "الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه۔"(ربا وہ اضافہ ہے جس کا استحقاق عقدِ معاوضہ میں ایک فریق کےلیے مشروط کیا جائے اور اس کے مقابل میں عوض نہ ہو۔ 

۔■  امام_تمرتاشی: فضل خال عن عوض بمعیار شرعی مشروط لاحد  المتعا قدین فی المعاوضۃ۔ (ایسا اضافہ جس کے مقابل میں شرعی معیار  کوئی عوض نہ ہو اور یہ اضافہ عقدِ معاوضہ میں ایک فریق کے لیے مشروط ہو۔)


رباء  اور غیر سودی  بنک قرآن:    ۔ 1) اے ایمان والو! یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو۔ امید ہے کہ فلاح پاؤ گے ۔(آلِ عمر...