سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 242


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 242

مکہ میں خون ریزی کی حرمت کا اعلان اور بیعت:

فتح کے روز تمام مسلمان حضور اکرم ﷺ کے ساتھ عشاء سے فجر تک خانہ کعبہ میں تکبیر وتسبیح اور طواف کعبہ میں مصروف رہے، دوسرے دن حضور ﷺ نے پھر اہل مکہ کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا جس میں نو مسلموں کی بڑی تعداد شامل تھی، حضور ﷺ کی خدمت میں یہ اطلاع پہنچائی گئی کہ بنو خزاعہ نے انتقامی کارروائی کے طور پر بنی لیث کے ایک آدمی کوقتل کر دیا ہے، یہ سنتے ہی آپ ﷺ قصویٰ پر سوار ہوئے اور حمدو ثناء کے بعد ارشاد فرمایا :

" اب ہجرت نہیں رہی لیکن جہاد باقی ہے، ہجرت کی نیت باقی رہے گی، جب تم کو جہاد کے لئے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہو، بے شک اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو اس دن سے حرمت دی ہے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ قیامت تک کے لئے حرم ہے، بے شک اللہ نے مکہ سے ہاتھی والوں کو روک دیا تھا، لیکن اللہ نے اپنے رسول اور مسلمانوں کو اہل مکہ پر تسلط دے دیا، خبر دار ہو جاؤ، نہ مجھ سے پہلے کبھی کسی کے لئے یہاں خونریزی حلال ہوئی اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہو گی، خبر دار ہو جاؤ! میرے لئے بھی کچھ دیر کے لئے حلال ہوئی تھی، اب وہ بدستور قیامت تک کے لئے حرام ہے، نہ یہاں کا کانٹا توڑا جائے، نہ درخت کاٹا جائے، نہ شکار بھگایا جائے، نہ یہاں کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے، البتہ اس کا اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے، جس شخص کا کوئی عزیز قتل ہو جائے اُسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے ، خواہ وہ بدلہ لے لے یا خوں بہا لے لے، حضرت عباسؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اذخر گھاس کے کاٹنے کو مستثنیٰ فرمادیجئے، کیونکہ وہ ہمارے گھروں، لوہاروں اور قبروں کے کام آتی ہے، یہ سن کر حضور اکرم ﷺ خاموش ہوگئے، کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد آپ ﷺ کی زبان سے نکلا: " مگر اذخر مگر اذخر "

جب آپ ﷺ کا خطاب ختم ہوا تو یمن کا ایک شخص ابو شاہ آگے بڑھا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہ! یہ خطبہ مجھے لکھوا دیجئے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ خطبہ لکھ کر دے دو۔

فتح کے دوسرے روز حضوراکرم ﷺ نے خطاب میں حمد و ثناء کے بعد فرمایا :

" یقیناً مکہ کو اللہ نے حرمت دی ہے نہ کہ ان انسانوں نے، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اُس کے لئے حلال نہیں کہ یہاں خون ریزی کرے یا یہاں کا درخت کاٹے، اگر کوئی شخص اللہ کے رسول کے قتال کی بنیاد پر ( یہاں قتال کرنا ) جائز سمجھے تو اس سے کہو کہ یقیناً اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دے دی تھی، اب پھر اس کی حرمت بدستور اسی طرح لوٹ آئی جس طرح ( میرے قتال سے پہلے) تھی، حاضر کو چاہئیے کہ غائب کو یہ حدیث پہنچا دے"

بنو اسد کے لوگوں نے عرض کیا کہ مکہ والوں سے بیعت لی جائے، حضور اکرم ﷺ نے قرن مستقبلہ کے قریب تشریف فرما ہو کر ان سے اسلام کی بیعت لی، جب لوگوں کا ہجوم بڑھ گیا تو کوہ صفا پر ان سے بیعت لی، اس وقت حضرت عمرؓ بن خطاب بائیں جانب کھڑے ہو کر ہر شخص سے بیعت کے الفاظ سن رہے تھے ۔

مردوں سے بیعت لینے کے بعد عورتوں سے بیعت لینے کی باری آئی تو اُن سے اقرار اسلام کے بعد ایک پانی سے بھرے برتن میں حضور اکرم ﷺ اپنا دست مبارک ڈبو کر نکال لیتے، پھر خواتین اس میں اپنا ہاتھ ڈالتیں، عورتوں کے ہجوم میں حضرت ابو سفیان ؓ کی بیوی ہند نقاب پہن کر آئی، اس لئے کہ اس کو اپنے سابقہ کرتوت کی بناء پر اپنی جان جانے کا ڈر تھا اور اس کے قتل کو مباح قرار دے دیا گیا تھا، جب وہ قریب آئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: عہد کرو کہ اللہ کے سوا کسی کو شریک نہ بناؤ گی، عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ میرے پچھلے اعمال پر مؤاخذہ تو نہیں فرمائیں گے؟ فرمایا: ان اعمال پر توبہ کرو اللہ معاف کرنے والا ہے، پھر اس نے نقاب الٹ کر کہا کہ میں ہند ہوں، آپﷺ نے فرمایا: تو مسلمان ہو گئی بہت اچھا ہوا، عرض کیا کہ میں آپ ﷺ کے دست مبارک میں ہاتھ دے کر بیعت کرنا چاہتی ہوں، فرمایا: میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے ایک بکری کا بچہ ہدیہ میں بھیجا، اس کے بعد آپ ﷺ نے حضرت عمرؓ کو حکم دیا کہ بقیہ عورتوں سے بیعت لیں، بیعت کے الفاظ یہ تھے:

" اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک نہ بناؤگی، اپنی اولاد کو قتل نہ کروگی، چوری اور زنا نہ کرو گی"

مکہ سے بتوں کو پاک کرنے کے بعد گرد و نواح میں جتنے بت تھے وہ سب گرا دیئے گئے اور اعلان کر دیا گیا کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والا شخص اپنے گھر میں بت نہ رکھے ۔

مکہ ۲۰ رمضان المبارک کو فتح ہوا، اس کے بعد حضور ﷺ پندرہ دن اور وہاں رہے، حضرت عبداللہ ؓ بن عباس کی روایت ہے کہ (۱۹) روز رہے، جتنے دن رہے قصر نماز پڑھتے رہے، روزوں کی بھی قضاء فرمائی، آپ ﷺ کے قیام سے انصار کے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ اب شاید آپ ﷺ مکّہ ہی میں رہیں گے اور مدینہ واپس نہ جائیں گے۔
(تاریخ اسلام- اکبر شاہ خاں نجیب آبادی)

==================>>  جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 242 مکہ میں خون ریزی کی حرمت کا اعلان اور بیعت: فتح کے روز تمام مسلمان حضور اکرم ﷺ کے ساتھ عشاء س...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 241


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 241

رسول اللہ ﷺ کا قریش سے خطاب:

حضور اکرم ﷺ ابھی بیت اللہ کے اندر ہی تھے کہ مسجد حرام میں لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے اور مسجد کھچا کھچ بھر گئی، وہ سب اپنی قسمتوں کا فیصلہ سننے کے لئے منتظر تھے کہ اتنے میں حضور اکرم ﷺ کعبہ کے دروازہ سے باہر تشریف لائے اور کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا:

" اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندہ کی مدد کی اور دشمنوں کے تمام جتھوں کو تنہا شکست دی، سنو اور آگاہ ہو جاؤ! بجز کلید برداری کعبہ اور سقایت حجاج ( حاجیوں کو پانی پلانا ) ہر موروثی استحقاق، ہر دعویٰ خون و مال دونوں میرے ان دونوں قدموں تلے ہیں"

اے قریش کے لوگو! آج اللہ تعالیٰ نے تمہارے جاہلانہ گھمنڈ، غرور اور نسب کے تفاخر کو خاک میں ملا دیا ہے، سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے ہوئے تھے، پھر سورۂ حجرات کی یہ آیت تلاوت فرمائی:

(ترجمہ ) " اے انسانو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں قوموں اور قبائل میں بانٹ دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ وہی محبوب ہے جو سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہو، بے شک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے"
( سورۂ حجرات : ۱۳ )

اس کے بعد حضور اکرم ﷺ نے مسجد حرام میں جمع ہونے والے افراد سے پوچھا:

 اے گروہ قریش! تمہیں کچھ معلوم ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟ سب نے جواب دیا: آپ ﷺ شریف النفس بھائی اور شریف النفس بھائی کے فرزند ہیں، آپ ﷺ سے خیر ہی کی توقع ہے۔ 

حاضرین میں ظالم، سفاک وقاتل بھی تھے اور حضور ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف دینے والے بھی تھے جو راستہ میں کانٹے بچھایا کرتے، بیت اللہ میں عبادت سے روکنے والے، بے بس مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والے، شعب ابو طالب میں دانہ پانی بند کرنے والے، دوسروں کو لڑائی پر اکسا کر مدینہ پر حملہ کرنے والے غرض کہ ہر طرح کے بد خواہ اور ظالم موجود تھے جو آج بہ حیثیت مجرم سر جھکائے حضور ﷺ کے سامنے کھڑے تھے اور انہیں توقع تھی کہ ان کے مظالم کا جواب ان کا قتل ہی ہوگا، لیکن ہمت کر کے انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ سے خیر ہی کی توقع ہے، یہ جواب سن کر رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا:

 " آج تم سب کے سب آزاد ہو، تم سے کوئی باز پرس نہیں، اللہ تعالیٰ بھی تم کو معاف فرمائے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے، آئندہ کے لئے نہ کوئی قول وقرار، نہ حال کے لئے کوئی شرط، نہ ماضی کا کوئی مواخذہ

اس عفو عام سے سولہ بد قسمت مستثنیٰ تھے جن کے جرائم حضور اکرم ﷺ کی نظر میں نا قابل معافی تھے، ان کی دین اسلام کے خلاف مسلسل مجرمانہ سر گرمیوں کے پیش نظر انہیں قابل گردن زدنی قرار دیا گیا، انہیں عفو عام سے مستثنیٰ قرار دے کر ان کا خون مباح کردیا گیا۔

ارشاد نبوی ہوا کہ انہیں جہاں کہیں ملیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے، چاہے وہ غلاف کعبہ ہی سے لپٹے ہوئے کیوں نہ ہوں۔

مختلف صحابہؓ کی سفارش پر ان میں سے کچھ مردوں اور تین عورتوں کی جان بخشی ہو گئی، کچھ کو قتل کیا گیا، وہ یہ ہیں:

1۔ عبدالعزیٰ بن اخطل۔
مشہور دشمن اسلام، یہ پہلے مسلمان ہوگیا تھا، اس کو حضور ﷺ نے صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجا تھا، اس کے ساتھ ایک انصاری صحابی اور ایک رُومی غلام تھا، راستہ میں رُومی غلام کو اس نے قتل کرڈالا اور مرتد ہوکر مکّہ بھاگ گیا تھا، فتح مکّہ کے موقع پر معافی کے خیال سے کعبہ کا پردہ پکڑ لیا تھا، لیکن اس کو وہاں بھی پناہ نہ ملی، سعد ؓبن حریث مخزومی اور ابو بردہ اسلمی ؓ نے اس کو قتل کردیا۔

2۔ قرنتی یا اُم سعد۔
ہجو گو مغنیہ ابن اخطل کی لونڈیاں، بعض مؤرخوں نے دونوں لونڈیاں لکھی ہیں، ان کے نام ارنب اور اُم سعد تھے، یہ دونوں قتل کی گئیں۔

3۔ مقیس بن صابہ۔
مشہور دشمن اسلام، مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہوگیا تھا، غزوۂ خندق کے موقع پر آیا اور ایک انصاری کو قتل کرکے بھاگ گیاتھا، اس کو حضرت نمیلہؓ بن عبدﷲ لیثی نے قتل کیا۔

4۔ حُویرث بن نضیل بن وہب۔
مشہور دشمن اسلام جو ہجرت سے قبل حضور ﷺ کو بہت ایذائیں دیتا تھا، حضرت علیؓ نے اسے قتل کیا۔

==================>> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 241 رسول اللہ ﷺ کا قریش سے خطاب: حضور اکرم ﷺ ابھی بیت اللہ کے اندر ہی تھے کہ مسجد حرام میں لوگ جم...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 240


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 240

مسجد الحرام میں نبی کریم ﷺ کا داخلہ اور تطہیرِ کعبہ:

اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اُٹھے اور آگے پیچھے اور گرد وپیش موجود انصار ومہاجرین کے جَلو میں مسجد حرام کے اندر تشریف لائے، آگے بڑھ کرحجرِ اسود کو چوما اور اس کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا۔

حضرت عبدﷲ ؓ بن مسعود کی روایت ہے کہ فتح مکّہ کے دن جب آپ ﷺ مکّہ میں داخل ہوئے تو بیت ﷲ میں چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے، آپ ﷺ نے قصویٰ پر سوار ہوکر بیت اللہ کا طواف فرمایا، آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ ﷺ ہر ایک بت کو ٹھوکر لگاتے جاتے تھے اور یہ پڑھتے جاتے تھے:

جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔(بنی اسرائیل:۸۱)

ترجمہ: " حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے والی شے ہے"

تمام مکہ نعرۂ تکبیر کی آوازوں سے گونج رہاتھا، بتوں کے پیٹ کی طرف اشارہ ہوتا تو اوندھے منہ گرتے اور منہ کی طرف چھڑی ہوتی تو پیٹھ کے بل گر جاتے تھے، ایک اور روایت یہ بھی ہے کہ اشارہ کے بجائے بتوں کی آنکھوں میں چھڑی ڈال کر گھماتے، سب سے بڑا بت " ہبل " کعبہ کے سامنے تھا، اسے توڑا گیا، اس وقت حضرت زبیرؓ بن عوام نے ابو سفیان سے پوچھا! اسی پر تم ناز کرکے اُحد کے دن اَحَل ہُبل ( ہُبل اعلیٰ ہے ) کا نعرہ لگا رہے تھے، ابو سفیان نے کہا: یہ کہہ کر اب میری سرزنش نہ کرو، اساف نامی بت کوہ صفا پر نصب تھا اور نائلہ کوہ مروہ پر، ان دونوں کو بھی مسمار کیا گیا۔

اس کے بعد حضور اکرم ﷺ نے مقام ابراہیم پر دوگانہ طواف ادا فرمایا، پھر مسجد حرام کے ایک کنارہ پر تشریف فرما ہوئے اور حضرت بلالؓ سے اشارہ فرمایا کہ عثمانؓ بن طلحہ سے کہو کہ کلید کعبہ لائے، چابی ان کی والدہ سلامہ بنت سعد کے پاس تھی، انہوں نے دینے سے انکار کیا، فرمایا: اگر کلید کعبہ نہ ملی تو تلوار کمر کے آر پار ہو جائے گی، حضرت عثمانؓ بن طلحہ چابی لے کر حاضر ہوئے اور کعبہ کا دروازہ کھولا، دوسری روایت ہے کہ چابی لے کر اپنے دست مبارک سے کعبہ کا قفل کھولا، اس موقع پر حضرت عباسؓ نے عرض کیا: حجاج کو زمزم سے پانی پلانے کی خدمت میرے پاس ہے، اس لئے کلید کعبہ مجھے عطا فرمائیے، ارشاد فرمایا: آج ایفائے عہد کا دن ہے، پھر حضرت عثمانؓ بن طلحہ کو طلب فرمایا اور ارشاد ہوا: اے عثمان! یہ چابی قیامت تک تم سے کوئی نہ لے سکے گا سوائے ظالم کے اور یہ ہمیشہ تمہارے خاندان میں رہے گی، تمہیں یاد ہوگا کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ ایک دن یہ چابی میرے ہاتھ میں ہوگی اور میں جسے چاہوں گا اسے دوں گا، عرض کیا: یا رسول اللہ! بے شک مجھے وہ دن یاد ہے، چنانچہ یہ چابی تاعمر ان کے پاس رہی، وہ لا ولد تھے اس لئے بوقت وفات اپنے بھائی کے سپرد کی جن کا نام شیبہ تھا اور یہ خاندان بنوشیبہ کہلاتا تھا، آج تک یہ چابی ان کی اولاد کے پاس ہے ۔

کعبہ کے اندر بھی بت تھے، دیواروں پر حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسمعٰیل ؑ کی تصاویر بنی ہوئی تھیں، ان کے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر تھے، ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کفار کو غارت کرے، انہیں بھی معلوم ہے کہ ان دونوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں نکالی، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ بن طلحہ کو انہیں دھونے کا حکم دیا، دوسری روایت یہ ہے کہ اسامہؓ سے چاہ زمزم سے پانی منگواکر خود اپنے دست مبارک سے انہیں دھویا، حضور اکرم ﷺ کے ساتھ کعبہ میں حضرت بلالؓ اور حضرت اسامہؓ داخل ہوئے، دروازہ بند کر دیا گیا، حضرت عثمانؓ بن طلحہ اور حضرت عبداللہؓ بن عباس باہر دربانی کرنے لگے، کعبہ کے اندر لکڑی کا کبوتر تھا، حضوراکرم ﷺ نے اسے توڑ دیا، پھر کعبہ کے کونوں میں تکبیر کہی، دعا مانگی اور دو رکعت نماز ادا فرمائی، بوقت نماز آپ ﷺ کی داہنی جانب دو ستون، بائیں جانب ایک اور پیچھے تین ستون تھے، دروازہ پشت مبارک پر تھا، سامنے کی دیوار اور آپ ﷺ کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ تھا، کافی دیر آپ ﷺ اندر رہے اور پھر باہر تشریف لائے، یہاں بھی نماز پڑھی اور فرمایا: " یہ قبلہ ہے۔'' کعبہ سے باہر آنے کے بعد آپ ﷺ حجر اسود کے پاس گئے اور اسے بوسہ دیا، بڑی دیر تک بیت اللہ کی چوکھٹ پکڑے رہے، حضرت خالدؓ بن ولید نے لوگوں کو قریب آنے سے روکے رکھا ۔

==================>> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 240 مسجد الحرام میں نبی کریم ﷺ کا داخلہ اور تطہیرِ کعبہ: اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اُٹھے اور آگے پیچھ...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 239


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 239

حضور ﷺ مکہ میں:

قریش سے کسی بڑی لڑائی کی نوبت نہیں آئی اور حضور ﷺ ۲۰ رمضان کو فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے۔ ارشاد فرمایا:

"جو اللہ کی شہادت دے کر مسلمان ہوجائے اسے امان ہے، جو صحنِ کعبہ میں پناہ لے اسے امان ہے، جو ہتھیار پھینک دے اسے امان ہے، جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اسے امان ہے، بجز سولہ افراد کے جو امان سے محروم ہیں، حضرت عباسؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابو سفیان اپنی قوم کے سردار ہیں ان کے لئے بھی کوئی ایسی خصوصیت ہو جو اعزاز و اکرام کا باعث ہو، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو ابو سفیان کے گھر میں پناہ لے اسے امان ہے اور جو شخص حکیم بن حزام کے مکان میں پناہ لے اسے بھی امان ہے، ابو سفیان کا مکان مکہ کی چوٹی پر اور حکیم بن حزام کا نشیب میں تھا۔

حضور اکرم ﷺ نے ممکنہ تدابیر اختیار فرمائیں کہ معاملات بغیر جنگ کے طے ہو جائیں اور خونریزی نہ ہو، دراصل حضور ﷺ یہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی ہیبت سرداران قریش کے دلوں پر بیٹھ جائے اور وہ اہل مکہ کو سمجھائیں کہ خون خرابے کے بغیر ہتھیار ڈال دیں، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کسی بڑی جنگ کی نوبت نہیں آئی۔

کفار کے ایک گروہ نے جس میں سفیان بن اُمیہ، سہیل بن عمرو اور عکرمہ بن ابو جہل تھے، حضرت خالدؓ بن ولید کی فوج پر تیر برسائے اور معمولی جھڑپ ہوئی، نتیجہ یہ ہواکہ قریش کے چوبیس آدمی اور ہذیل کے چار آدمی قتل ہوئے اور مسلمانوں میں سے تین حضرات یعنی حضرت کرز بن جابری فہری، حضرت جیش بن اشعراء اور حضرت سلمہ بن الیلا نے شہادت پائی، حضرت خالدؓ نے مجبور ہوکر حملہ کیا، یہ لوگ تیرہ لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے، اشرار کے بھاگ جانے کے بعد مسلمان خاموشی کے ساتھ مکہ کی آبادی میں سے گزرنے لگے، مشرک عورتیں بال کھولے راستوں پر کھڑی مجاہدوں کے گھوڑوں کے منہ پر اپنی اوڑھنیاں مارنے لگیں، حضور اکرم ﷺ نے جب یہ منظر دیکھا تو بے اختیار مسکرا کر حضرت ابو بکرؓ صدیق سے فرمایا:

حسّان نے کیا کہا تھا؟ حضرت ابو بکرؓ نے حضرت حسّان ؓبن ثابت کا یہ شعر پڑھا جس کا مطلب ہے: " عنقریب ہمارے گھوڑے دوڑتے چلے آتے ہوں گے اور عورتیں ان کو اوڑھنیوں سے مار رہی ہوں گی"

==================>>  جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 239 حضور ﷺ مکہ میں: قریش سے کسی بڑی لڑائی کی نوبت نہیں آئی اور حضور ﷺ ۲۰ رمضان کو فاتحانہ مکہ میں...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 238


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 238

اسلامی لشکر کا مکہ میں داخلہ:

ادھر رسول اللہ ﷺ مرالظہران سے روانہ ہوکر ذی طویٰ پہنچے، اس دوران میں اللہ کے بخشے ہوئے اعزازِ فتح پر فرطِ تواضع سے آپ نے اپنا سر جھکا رکھا تھا، یہاں تک کہ داڑھی کے بال کجاوے کی لکڑی سے جا لگ رہے تھے، ذی طویٰ میں آپ نے لشکر کی ترتیب وتقسیم فرمائی، حضرت خالد بن ولیدؓ کو داہنے پہلو پر رکھا، اس میں اسلم، سُلَیْم، غِفار، مُزَیْنہ، جُہَینہ اور کچھ دوسرے قبائلِِ عرب تھے اور خالد بن ولید کو حکم دیا کہ وہ مکہ میں زیریں حصے سے داخل ہوں اور اگر قریش میں سے کوئی آڑے آئے تو اسے کاٹ کر رکھ دیں، یہاں تک کہ صفا پر آپ سے آملیں۔

حضرت زبیر بن عوام بائیں پہلو پر تھے، ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا پھریرا تھا، آپ نے انہیں حکم دیا کہ مکے میں بالائی حصے، یعنی کداء سے داخل ہوں اور حجون میں آپ کا جھنڈا گاڑ کر آپ کی آمد تک وہیں ٹھہرے رہیں۔

حضرت ابو عبیدہ پیادے پر مقرر تھے، آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ بطن وادی کا راستہ پکڑیں، یہاں تک کہ مکے میں رسول اللہ ﷺ کے آگے اتریں، ان ہدایات کے بعد تمام دستے اپنے اپنے مقررہ راستوں سے چل پڑے۔

حضرت خالد اور ان کے رفقاء کی راہ میں جو مشرک بھی آیا اسے سلادیا گیا، البتہ ان کے رفقاء میں سے بھی کرزبن جابر فہری اور خُنَیس بن خالد بن ربیعہ نے جامِ شہادت نوش کیا، وجہ یہ ہوئی کہ یہ دونوں لشکر سے بچھڑ کر ایک دوسرے راستے پر چل پڑے اور اسی دوران انہیں قتل کردیا گیا، خندمہ پہنچ کر حضرت خالدؓ اور ان کے رفقاء کی مڈبھیڑ قریش کے اوباشوں سے ہوئی، معمولی سی جھڑپ میں بارہ مشرک مارے گئے اور اس کے بعد مشرکین میں بھگدڑ مچ گئی، حماس بن قیس جو مسلمانوں سے جنگ کے لیے ہتھیار ٹھیک ٹھاک کرتا رہتا تھا، بھاگ کر اپنے گھر میں جا گھسا اور اپنی بیوی سے بولا: دروازہ بند کر لو۔ اس نے کہا: وہ کہاں گیا جو تم کہا کرتے تھے؟ کہنے لگا:

إنک لو شہدت یوم الخندمــہ إذ فــر صـفوان وفر عکرمــۃ
واستقبتنا بالسیوف المسلمــۃ یـقـطعن کل ساعد وجمجمہ
ضرباً فلا یسمع إلا غمغمـــہ لھـم نہیت خلفنـا وہمہمــہ
لـــم تنطقی في اللـوم أدنـی کلمـۃ

''اگر تم نے جنگ خندمہ کا حال دیکھا ہوتا جب کہ صفوان اورعکرمہ بھاگ کھڑے ہوئے اور سونتی ہوئی تلواروں سے ہمارا استقبال کیا گیا، جو کلائیاں اور کھوپڑیاں اس طرح کاٹتی جارہی تھیں کہ پیچھے سوائے ان کے شور وغوغا اور ہمہمہ کے کچھ سنائی نہیں پڑتا تھا ، تو تم ملامت کی ادنیٰ بات نہ کہتیں۔''

اس کے بعد حضرت خالدؓ مکہ کے گلی کوچوں کو روندتے ہوئے کوہِ صفا پر رسول اللہﷺ سے جاملے۔

ادھر حضرت زبیرؓ نے آگے بڑھ کر حجون میں مسجد فتح کے پاس رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا گاڑا۔ اور آپ ﷺ کے لیے ایک قُبہّ نصب کیا، پھر مسلسل وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے۔

==================>>  جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 238 اسلامی لشکر کا مکہ میں داخلہ: ادھر رسول اللہ ﷺ مرالظہران سے روانہ ہوکر ذی طویٰ پہنچے، اس دو...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط:237


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط:237

ابو سفیان کی مکہ واپسی:

حضرت ابو سفیانؓ اور حضرت حکیم ؓبن حزام کے مکانوں کو دارالامن بنانے کا فیصلہ بے وجہ نہیں کیا گیا تھا، مکی دور میں ایک مرتبہ مشرکین نے آنحضرت ﷺ کو بہت ستایا تھا، حضرت ابو سفیانؓ حضور ﷺ کو ان سے بچاکر اپنے گھر لےگئے اور پناہ دی تھی، یہ اسی احسان کا بدلہ تھا جو حضور ﷺ نے دیا اور حضرت ابو سفیانؓ کے گھر کو مامن قرار دیا، ایک اور روایت یہ بھی ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد حضرت زینب ؓ (حضور ﷺ کی صاحبزادی) زوجہ حضرت ابو العاصؓ مکہ سے تشریف لے جا رہی تھیں کہ راستہ میں ہباربن اسود نے آپ کے اونٹ کو روک لیا اور کجاوے کی رسی کو کاٹ دیا جس کی وجہ سے اونٹ گر گیا اور حضرت زینبؓ کا حمل ساقط ہوگیا، اس وقت بھی ابو سفیانؓ نے ان کی مدد کی اور حضرت زینبؓ کو اپنے گھر لے گئے اور ان کی تیمارداری کی اور جب وہ اس قابل ہوگئیں کہ اپنا سفر جاری رکھ سکیں تو انہیں مدینہ روانہ کردیا، ان کے اس احسان کا بدلہ حضور ﷺ نے بہتر طریقہ سے چُکایا۔

اسی طرح حضرت حکیمؓ بن حزام نے بھی شعب ابو طالب کی محصوری کے زمانہ میں جبکہ ابو طالب مع آل بنی ہاشم کے پناہ گزیں تھے اُن سے نہایت ہمدردانہ سلوک کیا تھا، وہ اکثر رات کے وقت اونٹوں پر غلہ لاد کر شعب میں ہانک دیا کرتے تھے، اس کے علاوہ غزوۂ بدر کے موقع پر سپہ سالار عتبہ بن ربیعہ کو لڑائی سے باز رہنے پر حضرت حکیمؓ بن حزام نے راضی کرلیا تھا، حضرت حکیمؓ بن حزام، اُم المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بھتیجے تھے اور ان کا مکان حضرت خدیجہؓ کا آبائی مکان تھا، ان کے ان احسانات کا بدلہ حضور ﷺ نے بہتر طریقہ میں عطا کیا اور ان کے گھر کو دار الامن قرار دیا۔

جب رسول اللہ ﷺ ابو سفیان کے پاس سے گزرچکے تو حضرت عباسؓ نے اس سے کہا: اب دوڑ کر اپنی قوم کے پاس جاؤ، ابو سفیان تیزی سے مکہ پہنچا اور نہایت بلندآواز سے پکارا: قریش کے لوگو! یہ محمد ﷺ ہیں، تمہارے پاس اتنا لشکر لےکر آئے ہیں کہ مقابلے کی تاب نہیں، لہٰذا جو ابو سفیان کے گھر گھس جائے اسے امان ہے، یہ سن کر اس کی بیوی ہند بنت عتبہ اٹھی اور اس کی مونچھ پکڑ کر بولی: مار ڈالو اس چرب دار، کڑے گوشت والے مشک کو۔ بُرا ہو ایسے (لینڈ والے ) پیشتر و خبر رساں کا، ابو سفیان نے کہا: تمہاری بربادی ہو، دیکھو تمہاری جانوں کے بارے میں یہ عورت تمہیں دھوکا میں نہ ڈال دے، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسا لشکر لےکر آئے ہیں جس سے مقابلے کی تاب نہیں، اس لیے جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جائے اسے امان ہے، لوگوں نے کہا: اللہ تجھے مارے، تیرا گھر ہمارے کتنے آدمیوں کے کام آسکتا ہے؟ ابو سفیان نے کہا: اور جو اپنا دروازہ اندر سے بند کرلے، اسے بھی امان ہے اور جو مسجد حرام میں داخل ہوجائے اسے بھی امان ہے، یہ سن کر لوگ اپنے اپنے گھروں اور مسجد حرام کی طرف بھاگے۔

البتہ اپنے کچھ اوباشوں کو لگادیا اور کہا کہ انہیں ہم آگے کیے دیتے ہیں، اگر قریش کو کچھ کامیابی ہوئی تو ہم ان کے ساتھ ہورہیں گے اور اگر ان پر ضرب لگی تو ہم سے جو کچھ مطالبہ کیا جائے گا منظور کرلیں گے، قریش کے یہ احمق اوباش مسلمانوں سے لڑنے کے لیے عِکْرَمَہ بن ابی جہل، صفوان بن اُمیہ اور سُہَیْل بن عَمرو کی کمان میں خندمہ کے اندر جمع ہوئے، ان میں بنو بکر کا ایک آدمی حماس بن قیس بھی تھا، جو اس سے پہلے ہتھیار ٹھیک ٹھاک کرتا رہتا تھا، جس پر اس کی بیوی نے (ایک روز ) کہا: یہ کاہے کی تیاری ہے جو میں دیکھ رہی ہوں؟ اس نے کہا: محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں سے مقابلے کی تیاری ہے، اس پر بیوی نے کہا: اللہ کی قسم! محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کے مقابل کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی، اس نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں ان کے بعض ساتھیوں کو تمہارا خادم بناؤں گا، اس کے بعد وہ کہنے لگا:

إن یقبلوا الیوم فما لي علـۃ ہــذا سـلاح کامـل وألــۃ
وذو غـراریـن سـریع السلـــۃ

''اگر وہ آج مد مقابل آگئے تو میرے لیے کوئی عذر نہ ہوگا، یہ مکمل ہتھیار، دراز انی والا نیزہ اور جھٹ سونتی جانے والی دو دھاری تلوار ہے ''

خندمہ کی لڑائی میں یہ شخص بھی آیا ہوا تھا۔

==================>>  جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط:237 ابو سفیان کی مکہ واپسی: حضرت ابو سفیانؓ اور حضرت حکیم ؓبن حزام کے مکانوں کو دارالامن بنانے کا ...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 236


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 236

اسلامی لشکر مکہ کی جانب:

اسی صبح، یعنی بروز منگل ۱۷/رمضان ۸ ھ کی صبح - رسول اللہ ﷺ مرالظہران سے مکہ روانہ ہوئے اور حضرت عباس کو حکم دیا کہ ابو سفیان کو وادی کی تنگنائے پر پہاڑ کے ناکے کے پاس روک رکھیں، تاکہ وہاں سے گزرنے والی الٰہی فوجوں کو ابو سفیان دیکھ سکے، حضرت عباس نے ایسا ہی کیا، ادھر قبائل اپنے اپنے پھریرے لیے گزر رہے تھے، جب وہاں سے کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا کہ عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ جواب میں حضرت عباس بطورِ مثال کہتے کہ بنو سلیم ہیں تو ابوسفیان کہتا کہ مجھے سلیم سے کیا واسطہ؟ پھر کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا کہ اے عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ وہ کہتے: مُزَیْنَہ ہیں۔ ابو سفیان کہتا: مجھے مزینہ سے کیا مطلب؟ یہاں تک کہ سارے قبیلے ایک ایک کرکے گزر گئے، جب بھی کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان حضرت عباس سے اس کی بابت ضرور دریافت کرتا اور جب وہ اسے بتاتے تو وہ کہتا کہ مجھے بنی فلاں سے کیا واسطہ ؟

یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سبز دستے کے جلو میں تشریف لائے، آپ مہاجرین وانصار کے درمیان فروکش تھے، یہاں انسانوں کے بجائے صرف لوہے کی باڑھ دکھائی پڑ رہی تھی، ابو سفیان نے کہا: سبحان اللہ! اے عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ انصار ومہاجرین کے جلو میں رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہیں، ابو سفیان نے کہا: بھلا ان سے محاذآرائی کی طاقت کسے ہے؟ اس کے بعد اس نے مزید کہا کہ ابو الفضل! تمہارے بھتیجے کی بادشاہت تو واللہ بڑی زبردست ہوگئی، حضرت عباسؓ نے کہا: ابو سفیان! یہ نبوت ہے، ابو سفیان نے کہا: ہاں! اب تو یہی کہا جائے گا۔

اس موقع پر ایک واقعہ اور پیش آیا، انصار کا پھریرا حضرت سعد بن عبادہؓ کے پاس تھا، وہ ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو بولے:

الیوم یوم الملحمۃ، الیوم تستحل الحرمۃ

''آج خونریزی اور مار دھاڑ کا دن ہے، آج حرمت حلال کرلی جائے گی۔''

آج اللہ نے قریش کی ذلت مقدر کردی ہے، اس کے بعد جب وہاں سے رسول اللہ ﷺ گزرے تو ابو سفیان نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے وہ بات نہیں سنی جو سعد نے کہی ہے؟ آپ نے فرمایا: سعد نے کیا کہا ہے؟ ابو سفیان نے کہا: یہ اور یہ بات کہی ہے، یہ سن کر حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمیں خطرہ ہے کہ کہیں سعد قریش کے اندر مار دھاڑ نہ مچا دیں۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ آج کا دن وہ دن ہے جس میں کعبہ کی تعظیم کی جائے گی، آج کا دن وہ دن ہے جس میں اللہ قریش کو عزت بخشے گا، اس کے بعد آپ نے حضرت سعد کے پاس آدمی بھیج کر جھنڈا ان سے لے لیا اور ان کے صاحبزادے قیس کے حوالے کردیا، گویا جھنڈا حضرت سعد کے ہاتھ سے نہیں نکلا۔

=================>>  جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 236 اسلامی لشکر مکہ کی جانب: اسی صبح، یعنی بروز منگل ۱۷/رمضان ۸ ھ کی صبح - رسول اللہ ﷺ مرالظہران س...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 235


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 235

ابو سفیان دربارِ نبوت میں:

مر الظہران میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد حضرت عباسؓ رسول اللہ ﷺ کے سفید خچر پر سوار ہوکر نکلے، ان کا مقصد یہ تھا کہ کوئی لکڑہارا یا کوئی بھی آدمی مل جائے تو اس سے قریش کے پاس خبر بھیج دیں، تاکہ وہ مکے میں رسول اللہ ﷺ کے داخل ہونے سے پہلے آپ کے پاس حاضر ہوکر امان طلب کرلیں۔

ادھر اللہ تعالیٰ نے قریش پر ساری خبروں کی رسائی روک دی تھی، اس لیے انہیں حالات کا کچھ علم نہ تھا، البتہ وہ خوف اور اندیشے سے دوچار تھے اور ابو سفیان باہر جا جاکر خبروں کا پتہ لگاتا رہتا تھا، چنانچہ اس وقت بھی وہ اور حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء خبروں کا پتہ لگانے کی غرض سے نکلے ہوئے تھے۔

حضرت عباسؓ کا بیان ہے کہ واللہ! میں رسول اللہ ﷺ کے خچر پر سوار جا رہا تھا کہ مجھے ابو سفیان اور بدیل بن ورقاء کی گفتگو سنائی پڑی، وہ باہم ردوقدح کررہے تھے، ابو سفیان کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم! میں نے آج رات جیسی آگ اور ایسا لشکر تو کبھی دیکھا ہی نہیں اور جواب میں بدیل کہہ رہا تھا: یہ اللہ کی قسم! بنو خزاعہ ہیں، جنگ نے انہیں نوچ کر رکھ دیا ہے اور اس پر ابو سفیان کہہ رہا تھا: خزاعہ اس سے کہیں کمتر اور ذلیل ہیں کہ یہ ان کی آگ اور ان کا لشکر ہو۔

حضر ت عباس کہتے ہیں کہ میں نے اس کی آواز پہچان لی اور کہا: ابو حنظلہ؟ اس نے بھی میری آواز پہچان لی اور بولا: ابو الفضل؟ میں نے کہا: ہاں! اس نے کہا: کیا بات ہے؟ میرے ماں باپ تجھ پر قربان، میں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ ہیں لوگوں سمیت۔ ہائے قریش کی تباہی۔ واللہ!
اس نے کہا: اب کیا حیلہ ہے؟ میرے ماں باپ تم پر قربان۔ میں نے کہا: واللہ! اگر وہ تمہیں پاگئے تو تمہاری گردن مار دیں گے، لہٰذا اس خچر پر پیچھے بیٹھ جاؤ! میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلتا ہوں اور تمہارے لیے امان طلب کیے دیتا ہوں، اس کے بعد ابو سفیان میرے پیچھے بیٹھ گیا اور اس کے دونوں ساتھی واپس چلے گئے۔

حضرت عباسؓ کہتے ہیں کہ میں ابو سفیان کو لےکر چلا، جب کسی الاؤ کے پاس سے گزرتا تو لوگ کہتے: کون ہے؟ مگر جب دیکھتے کہ رسول اللہ ﷺ کا خچر ہے اور میں اس پر سوار ہوں تو کہتے کہ رسول اللہ ﷺ کے چچا ہیں اور آپ کے خچر پر ہیں، یہاں تک کہ عمر بن خطابؓ کے الاؤ کے پاس سے گزرا، انہوں نے کہا: کون ہے؟ اور اٹھ کر میری طرف آئے، جب پیچھے ابو سفیان کو دیکھا تو کہنے لگے: ابو سفیان؟ اللہ کا دشمن؟ اللہ کی حمد ہے کہ اس نے بغیر عہد وپیمان کے تجھے (ہمارے) قابو میں کردیا، اس کے بعد وہ نکل کر رسول اللہ ﷺ کی طرف دوڑے اور میں نے بھی خچر کو ایڑ لگائی، میں آگے بڑھ گیا اور خچر سے کود کر رسول اللہ ﷺ کے پاس جا گھسا، اتنے میں عمر بن خطاب بھی گھس آئے اور بولے کہ اے اللہ کے رسول! یہ ابو سفیان ہے، مجھے اجازت دیجیے میں اس کی گردن ماردوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے پناہ دے دی ہے، پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ کر آپ کا سر پکڑ لیا اور کہا: اللہ کی قسم! آج رات میرے سوا کوئی اور آپ سے سرگوشی نہ کرے گا، جب ابو سفیان کے بارے میں حضرت عمرؓ نے بار بار کہا تو میں نے کہا: عمر! ٹھہرجاؤ۔ اللہ کی قسم! اگر یہ بنی عدی بن کعب کا آدمی ہوتا تو تم ایسی بات نہ کہتے۔ عمرؓ نے کہا: عباس! ٹھہر جاؤ۔ اللہ کی قسم! تمہارا اسلام لانا میرے نزدیک خطّاب کے اسلام لانے سے'' اگر وہ اسلام لاتے'' زیادہ پسندیدہ ہے اور اس کی وجہ میرے لیے صرف یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک تمہارا اسلام لانا خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عباس! اسے (یعنی ابوسفیان کو ) اپنے ڈیرے میں لے جاؤ، صبح میرے پاس لے آنا، اس حکم کے مطابق میں اسے ڈیرے میں لے گیا اور صبح خدمتِ نبوی ﷺ میں حاضر کیا، آپ ﷺ نے انہیں دیکھ کر فرمایا: ابو سفیان! تجھ پر افسوس ہے، کیا اب بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، عرض کیا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، آپ ﷺ کتنے حلیم اور کریم ہیں، کوئی اور الہٰ ہوتا تو آج ہمارے کام نہ آتا، یہ اقرار ابو سفیان کے لا اِلہٰ الا اللہ کی منزل پر فائز ہونے کی دلیل ہے، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تمہیں اب بھی یقین نہیں آیا کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ عرض کیا: بے شک آپ ﷺ برد بار، شریف النفس اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں، رہ گئی نبوت تو ابھی اس میں ذرا تردد ہے، حضرت عباسؓ بولے: اے ابو سفیان! کیا غضب کر رہے ہو؟ اس سے پہلے کہ عمرؓ تیری گردن مارنے آئیں، شہادت حق اور رسالت کی گواہی دے دے، یہ گھڑی سعادت کی تھی، چنانچہ ابو سفیان نے کلمۂ طیبہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا، اس وقت ان کا ایمان متزلزل تھا، لیکن مؤرخین لکھتے ہیں کہ با لآخر وہ سچے مسلمان بن گئے۔

حضرت عباس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان اعزاز پسند ہے، لہٰذا اسے کوئی اعزاز دے دیجیے۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جائے اسے امان ہے اور جو اپنا دروازہ اندر سے بند کرلے اسے امان ہے اور جو مسجدِ حرام میں داخل ہوجائے اسے امان ہے۔

==================>>  جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 235 ابو سفیان دربارِ نبوت میں: مر الظہران میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد حضرت عباسؓ رسول اللہ ﷺ کے سفید...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 234


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 234

اسلامی لشکر مکہ کی راہ میں:

۱۰ رمضان المبارک ۸ ھ کو رسول اللہ ﷺ نے مدینہ چھوڑ کر مکے کا رخ کیا، آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام تھے، مدینہ پر ابو رھم غفاریؓ کی تقرری ہوئی۔

جحفہ میں یا اس سے کچھ اوپر آپ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب ملے، وہ مسلمان ہوکر اپنے بال بچوں سمیت ہجرت کرتے ہوئے تشریف لارہے تھے، پھر اَبوَاء میں آپ ﷺ کے چچیرے بھائی ابو سفیان بن حارث اور پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن اُمیہ ملے، آپ نے ان دونوں کو دیکھ کر منہ پھیر لیا، کیونکہ یہ دونوں آپ کو سخت اذیت پہنچایا کرتے اور آپ کی ہجو کیا کرتے تھے، یہ صورت دیکھ کر حضرت ام سلمہؓ نے عرض کی کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کے چچیرے بھائی اور پھوپھی زاد بھائی ہی آپ کے یہاں سب سے بدبخت ہوں، ادھر حضرت علیؓ نے ابو سفیان بن حارث کو سکھایا کہ تم رسول اللہ ﷺ کے سامنے جاؤ اور وہی کہو جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان سے کہا تھا کہ:

قَالُوا تَاللَّـهِ لَقَدْ آثَرَ‌كَ اللَّـهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَاطِئِينَ (۱۲:۹۱)

''اللہ کی قسم! اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی اور یقیناً ہم خطا کار تھے۔''

کیونکہ آپ ﷺ یہ پسند نہیں کریں گے کہ کسی اور کا جواب آپ سے عمدہ رہا ہو، چنانچہ ابو سفیان نے یہی کیا اور جواب میں فور اً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

قَالَ لَا تَثْرِ‌يبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ‌ اللَّـهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْ‌حَمُ الرَّ‌احِمِينَ (۱۲:۹۲)

''آج تم پر کوئی سرزنش نہیں، اللہ تمہیں بخش دے اور وہ ارحم الراحمین ہے ۔''

اس پر ابو سفیان نے آپ کو چند اشعار سنائے، جن میں سے بعض یہ تھے:

لـعـمرک إنـي حـین أحمل رأیۃ لـتـغـلب خیــل اللات خیل محمد
لکالمدلج الحیران أظلم لیلــہ فہـذا أوانـي حین أہـدی فأہتـــدی
ہدانی ہاد غیر نفسی ودلـــنی علی اللہ من طردتہ کل مطـــــــرد

''تیری عمر کی قسم! جس وقت میں نے اس لیے جھنڈا اٹھایا تھا کہ لات کے شہسوار محمد کے شہسوار پر غالب آجائیں تو میری کیفیت رات کے اس مسافر کی سی تھی جو تیرہ وتار رات میں حیران وسرگردان ہو، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ مجھے ہدایت دی جائے اور میں ہدایت پاؤں، مجھے میرے نفس کی بجائے ایک ہادی نے ہدایت دی اور اللہ کا راستہ اسی شخص نے بتایا، جسے میں نے ہر موقع پر دھتکار دیا تھا۔ ''

یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے اس کے سینے پر ضرب لگائی اور فرمایا: تم نے مجھے ہر موقع پر دھتکارا تھا، بعد میں ابو سفیان کے اسلام میں بڑی خوبی آگئی، کہا جاتا ہے کہ جب سے انہوں نے اسلام قبول کیا، حیاء کے سبب رسول اللہ ﷺ کی طرف سر اٹھا کر نہ دیکھا، رسول اللہ ﷺ بھی ان سے محبت کرتے تھے اور ان کے لیے جنت کی بشارت دیتے تھے اور فرماتے تھے: مجھے توقع ہے کہ یہ حمزہ کا بدل ثابت ہوں گے، جب ان کی وفات کا وقت آیا تو کہنے لگے: مجھ پر نہ رونا، کیونکہ اسلام لانے کے بعد میں نے کبھی کوئی گناہ کی بات نہیں کہی۔ (زاد المعاد ۲/۱۶۲ ، ۱۶۳)

(واضح رہے کہ یہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے والد محترم حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نہیں ہے، بلکہ آپ ﷺ کے چچا حارث کے بیٹے سفیان ہیں۔ ناقل)

رسول اللہ ﷺ نے اپنا سفر جاری رکھا، آپ اور صحابہ روزے سے تھے، لیکن عسفان اور قُدَید کے درمیان کدید نامی چشمے پر پہنچ کر آپ نے روزہ توڑ دیا۔ ( صحیح بخاری ۲/۶۱۳) اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام نے بھی روزہ توڑ دیا۔

اس کے بعد پھر آپ نے سفر جاری رکھا، یہاں تک کہ رات کے ابتدائی اوقات میں مرالظہران، وادی فاطمہ، پہنچ کر نزول فرمایا، وہاں آپ کے حکم سے لوگوں نے الگ الگ آگ جلائی، اس طرح دس ہزار (چولہوں میں) آگ جلائی گئی، رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کو پہرے پر مقرر فرمایا۔

==================>> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 234 اسلامی لشکر مکہ کی راہ میں: ۱۰ رمضان المبارک ۸ ھ کو رسول اللہ ﷺ نے مدینہ چھوڑ کر مکے کا رخ کی...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 233


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 233

غزوہ کی تیاری اور اخفاء کی کوشش:

طبرانی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عہد شکنی کی خبر آنے سے تین روز پہلے ہی حضرت عائشہ ؓ کو حکم دے دیا تھا کہ آپ کا سازوسامان تیار کر دیں، لیکن کسی کو پتہ نہ چلے، اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ کے پاس حضرت ابو بکرؓ تشریف لائے تو پوچھا: بیٹی! یہ کیسی تیاری ہے؟ انہوں نے کہا: واللہ! مجھے نہیں معلوم۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا: یہ بنو اَصْفر یعنی رومیوں سے جنگ کا وقت نہیں، پھر رسول اللہ ﷺ کا ارادہ کدھر کا ہے؟ حضرت عائشہؓ نے کہا: واللہ مجھے علم نہیں۔

تیسرے روز علی الصباح عمرو بن سالم خزاعی چالیس سواروں کو لے کر پہنچ گیا اور یا رب إني ناشد محمدا ... الخ والے اشعار کہے تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ عہد شکنی کی گئی ہے، اس کے بعد بدیل آیا، پھر ابو سفیان آیا اور لوگوں کو حالات کا ٹھیک ٹھیک علم ہو گیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے تیاری کا حکم دیتے ہوئے بتلایا کہ مکہ چلنا ہے اور ساتھ ہی یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ! جاسوسوں اور خبروں کو قریش تک پہنچنے سے روک اور پکڑلے، تاکہ ہم ان کے علاقے میں ان کے سر پر ایک دم جا پہنچیں۔

پھر کمال اخفاء اور راز داری کی غرض سے رسول اللہ ﷺ نے شروع ماہ رمضان ۸ ھ میں حضرت ابو قتادہ بن ربعی کی قیادت میں آٹھ آدمیوں کا ایک سریہ بطن اضم کی طرف روانہ فرمایا، یہ مقام ذی خشب اور ذی المروہ کے درمیان مدینہ سے ۳۶ عربی میل کے فاصلے پر واقع ہے، مقصد یہ تھا کہ سمجھنے والا سمجھے کہ آپ اسی علاقے کا رخ کریں گے اور یہی خبریں اِدھر اُدھر پھیلیں، لیکن یہ سریہ جب اپنے مقررہ مقام پر پہنچ گیا تو اسے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کے لیے روانہ ہوچکے ہیں، چنانچہ یہ بھی آپ سے جا ملا۔

یہی سریہ ہے جس کی ملاقات عامر بن اضبط سے ہوئی تو عامر نے اسلامی دستور کے مطابق سلام کیا، لیکن محلم بن جثامہ نے کسی سابقہ رنجش کے سبب اسے قتل کردیا اور اس کے اونٹ اور سامان پر قبضہ کرلیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی:

وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ...الآیہ

یعنی ''جو تم سے سلام کرے، اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔''

اس کے بعد صحابہ کرام محلم کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے کہ آپ اس کے لیے دعاء مغفرت کردیں، لیکن جب محلم آپ کے سامنے حاضر ہوا تو آپ نے تین بار فرمایا: اے اللہ! محلم کو نہ بخش، اس کے بعد محلم اپنے کپڑے کے دامن سے آنسو پونچھتا ہوا اٹھا۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کی قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ بعد میں اس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے مغفرت کی دعا کردی تھی۔ دیکھئے : زاد المعاد ۲/۱۵۰ ، ابن ہشام ۲/۶۲۶،۶۲۷،۶۲۸۔

ادھر حاطب ابی بلتعہؓ نے قریش کو ایک رقعہ لکھ کر یہ اطلاع دے بھیجی کہ رسول اللہ ﷺ حملہ کرنے والے ہیں، انہوں نے یہ رقعہ ایک عورت کو دیا تھا اور اسے قریش تک پہنچانے پر معاوضہ رکھا تھا، عورت سر کی چوٹی میں رقعہ چھپا کر روانہ ہوئی، لیکن رسول اللہ ﷺ کو آسمان سے حاطب کی اس حرکت کی خبر دے دی گئی، چنانچہ آپ نے حضرت علی، حضرت مقداد، حضرت زبیر اور حضرت ابو مرثد غنوی کو یہ کہہ کر بھیجا کہ جاؤ روضۂ خاخ پہنچو، وہاں ایک ہودج نشین عورت ملے گی، جس کے پاس قریش کے نام ایک رقعہ ہوگا، یہ حضرات گھوڑوں پر سوار تیزی سے روانہ ہوئے، وہاں پہنچے تو عورت موجود تھی، اس سے کہا کہ وہ نیچے اُترے اور پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی خط ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں، انہوں نے اس کے کجاوے کی تلاشی لی لیکن کچھ نہ ملا، اس پر حضرت علیؓ نے اس سے کہا: میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نہ رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ کہا ہے، نہ ہم جھوٹ کہہ رہے ہیں، تم یا تو خط نکالو، یا ہم تمہیں ننگا کردیں گے، جب اس نے یہ پختگی دیکھی تو بولی: اچھا منہ پھیرو۔ انہوں نے منہ پھیرا تو اس نے چوٹی کھول کر خط نکالا اور ان کے حوالے کردیا، یہ لوگ خط لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے، دیکھا تو اس میں تحریر تھا:

''حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے قریش کی جانب۔ پھر قریش کو رسول اللہ ﷺ کی روانگی کی خبر دی تھی، رسول اللہ ﷺ نے حضرت حاطب کو بلا کر پوچھا کہ حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے محمد ﷺ! میرے خلاف جلدی نہ فرمائیں۔ اللہ کی قسم! اللہ اور اس کے رسول پر میرا ایمان ہے، میں نہ تو مرتد ہوا ہوں اور نہ مجھ میں تبدیلی آئی ہے، بات صرف اتنی ہے کہ میں خود قریش کا آدمی نہیں، البتہ ان میں چپکا ہوا تھا اور میرے اہل وعیال اور بال بچے وہیں ہیں، لیکن قریش سے میری کوئی قرابت نہیں کہ وہ میرے بال بچوں کی حفاظت کریں، اس کے بر خلاف دوسرے لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں وہاں ان کے قرابت دار ہیں جو ان کی حفاظت کریں گے، اس لیے جب مجھے یہ چیز حاصل نہ تھی تو میں نے چاہا کہ ان پر ایک احسان کردوں جس کے عوض وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں۔

اس پر حضرت عمر بن خطابؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے چھوڑیے میں اس کی گردن مار دوں، کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کی ہے اور یہ منافق ہوگیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیکھو! یہ جنگِ بدر میں حاضر ہوچکا ہے اور عمر! تمہیں کیا پتہ؟ ہوسکتا ہے اللہ نے اہلِ بدر پر نمودار ہوکر کہا ہو تم لوگ جو چاہو کرو، میں نے تمہیں بخش دیا۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ ( صحیح بخاری ۱/۴۲۲ ، ۲/۶۱۲ ، حضرت زبیر اور حضرت ابو مرثد کے ناموں کا اضافہ صحیح بخاری کی بعض دوسری روایات میں ہے۔)

==================>>  جاری ہے ۔۔۔

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 233 غزوہ کی تیاری اور اخفاء کی کوشش: طبرانی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عہد شکنی ...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 232


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 232

تجدیدِ صلح حدیبیہ کے لئے ابو سفیان مدینہ میں:

قریش اور ان کے حلیفوں نے جو کچھ کیا تھا وہ کھلی ہوئی بدعہدی اور صریح پیمان شکنی تھی، جس کی کوئی وجہ جواز نہ تھی، اسی لیے خود قریش کو بھی اپنی بدعہدی کا بہت جلد احساس ہوگیا اور انہوں نے اس کے انجام کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مجلس مشاورت منعقد کی، جس میں طے کیا کہ وہ اپنے سپہ سالار ابو سفیان کو اپنا نمائندہ بناکر تجدیدِ صلح کے لیے مدینہ روانہ کریں۔

ادھر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتایا کہ قریش اپنی اس عہد شکنی کے بعد اب کیا کرنے والے ہیں، چنانچہ آپ نے فرمایا کہ: ''گویا میں ابو سفیان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عہد کو پھر سے پختہ کرنے اور مدتِ صلح کو بڑھانے کے لیے آگیا ہے۔ ''

ادھر ابو سفیان طے شدہ قرارداد کے مطابق روانہ ہوکر عُسفان پہنچا تو بُدَیل بن ورقاء سے ملاقات ہوئی، بُدیل مدینہ سے واپس آرہا تھا، ابو سفیان سمجھ گیا کہ یہ نبی ﷺ کے پاس سے ہوکر آرہا ہے، پوچھا: بُدیل! کہاں سے آرہے ہو؟ بُدیل نے کہا: میں خزاعہ کے ہمراہ اس ساحل اور وادی میں گیا ہوا تھا، پوچھا: کیا تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں گئے تھے؟ بُدیل نے کہا: نہیں۔

مگر جب بدیل مکہ کی جانب روانہ ہوگیا تو ابو سفیان نے کہا: اگر وہ مدینہ گیا تھا تو وہاں (اپنے اونٹ کو ) گٹھلی کا چارہ کھلایا ہوگا، اس لیے ابو سفیان اس جگہ گیا جہاں بُدیل نے اپنے اونٹ بٹھایا تھا اور اس کی مینگنی لے کر توڑی تو اس میں کھجور کی گٹھلی نظر آئی، ابو سفیان نے کہا: میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بُدیل، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تھا۔

بہرحال! ابو سفیان مدینہ پہنچا اور اپنی صاحبزادی ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ کے گھر گیا، جب رسول اللہ ﷺ کے بستر پر بیٹھنا چاہا تو انہوں نے بستر لپیٹ دیا، ابو سفیان نے کہا: بیٹی! کیا تم نے اس بستر کو میرے لائق نہیں سمجھا یا مجھے اس بستر کے لائق نہیں سمجھا؟ انہوں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کا بستر ہے اور آپ ناپاک مشرک آدمی ہیں، ابو سفیان کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرے بعد تمہیں شر پہنچ گیا ہے۔

پھر ابو سفیان وہاں سے نکل کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور آپ سے گفتگو کی، آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس کے بعد ابو بکرؓ کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کریں، انہوں نے کہا: میں ایسا نہیں کرسکتا۔

اس کے بعد وہ عمر بن خطابؓ کے پاس گیا اور ان سے بات کی، انہوں نے کہا: بھلا میں تم لوگوں کے لیے رسول اللہ ﷺ سے سفارش کروں گا، اللہ کی قسم! اگر مجھے لکڑی کے ٹکڑے کے سوا کچھ دستیاب نہ ہو تو میں اسی کے ذریعے تم لوگوں سے جہاد کروں گا، اس کے بعد وہ حضرت علی بن ابی طالبؓ کے پاس پہنچا، وہاں حضرت فاطمہ ؓ بھی تھیں اور حضرت حسنؓ بھی تھے، جو ابھی چھوٹے سے بچے تھے اور سامنے پھدک پھدک کر چل رہے تھے، ابوسفیان نے کہا: اے علی! میرے ساتھ تمہارا سب سے گہرا نسبی تعلق ہے، میں ایک ضرورت سے آیا ہوں، ایسا نہ ہو کہ جس طرح میں نامراد آیا، اسی طرح نامراد واپس جاؤں، تم میرے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کردو، حضرت علیؓ نے کہا: ابو سفیان! تجھ پر افسوس، رسول اللہ ﷺ نے ایک بات کا عزم کرلیا ہے، ہم اس بارے میں آپ سے کوئی بات نہیں کرسکتے، اس کے بعد وہ حضرت فاطمہؓ کی طرف متوجہ ہوا اور بولا: کیا آپ ایسا کرسکتی ہیں کہ اپنے اس بیٹے کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کے درمیان پناہ دینے کا اعلان کرکے ہمیشہ کے لیے عرب کا سردار ہوجائے؟ حضرت فاطمہ ؓ نے کہا: واللہ! میرا یہ بیٹا اس درجہ کو نہیں پہنچا ہے کہ لوگوں کے درمیان پناہ دینے کا اعلان کرسکے اور رسول اللہ ﷺ کے ہوتے ہوئے کوئی پناہ دے بھی نہیں سکتا۔

ان کوششوں اور ناکامیوں کے بعد ابو سفیان کی آنکھوں کے سامنے دنیا تاریک ہوگئی، اس نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے سخت گھبراہٹ، کشمکش اور مایوسی ونا امیدی کی حالت میں کہا کہ ابو الحسن! میں دیکھتا ہوں کہ معاملات سنگین ہوگئے ہیں، لہٰذا مجھے کوئی راستہ بتاؤ، حضرت علیؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہارے لیے کوئی کار آمد چیز نہیں جانتا، البتہ تم بنو کنانہ کے سردار ہو، لہٰذا کھڑے ہوکر لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کردو، اس کے بعد اپنی سرزمین میں واپس چلے جاؤ، ابو سفیان نے کہا: کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ میرے لیے کچھ کار آمد ہوگا؟ حضرت علیؓ نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! میں اسے کار آمد تو نہیں سمجھتا، لیکن اس کے علاوہ کوئی صورت بھی سمجھ میں نہیں آتی، اس کے بعد ابو سفیان نے مسجد میں کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ لوگو! میں لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کررہا ہوں، پھر اپنے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ چلا گیا۔

قریش کے پاس پہنچا تو وہ پوچھنے لگے پیچھے کا کیا حال ہے؟ ابو سفیان نے کہا: میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، بات کی تو واللہ! انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر ابو قحافہ کے بیٹے کے پاس گیا تو اس کے اندر کوئی بھلائی نہیں پائی، اس کے بعد عمر بن خطابؓ کے پاس گیا تو اسے سب سے کٹر دشمن پایا، پھر علیؓ کے پاس گیا تو اسے سب سے نرم پایا، اس نے مجھے ایک رائے دی اور میں نے اس پر عمل بھی کیا، لیکن پتہ نہیں وہ کار آمد بھی ہے یا نہیں؟ لوگوں نے پوچھا: وہ کیا رائے تھی؟ ابو سفیان نے کہا: وہ رائے یہ تھی کہ میں لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کردوں اور میں نے ایسا ہی کیا۔

قریش نے کہا: تو کیا محمد نے اسے نافذ قرار دیا؟ ابو سفیان نے کہا: نہیں۔ لوگوں نے کہا: تیری تباہی ہو، اس شخص (علی) نے تیرے ساتھ محض کھلواڑ کیا، ابو سفیان نے کہا: اللہ کی قسم! اس کے علاوہ کوئی صورت نہ بن سکی۔

==================>> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 232 تجدیدِ صلح حدیبیہ کے لئے ابو سفیان مدینہ میں: قریش اور ان کے حلیفوں نے جو کچھ کیا تھا وہ کھلی...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 231


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 231

غزوۂ فتح مکہ - سبب:

امام ابنِ قیمؒ لکھتے ہیں کہ یہ وہ فتح اعظم ہے جس کے ذریعہ اللہ نے اپنے دین کو، اپنے رسول کو، اپنے لشکر کو اور اپنے امانت دار گروہ کو عزت بخشی اور اپنے شہر کو اور اپنے گھر کو، دنیا والوں کے لیے ذریعۂ ہدایت بنایا ہے۔ کفار ومشرکین کے ہاتھوں سے چھٹکارا دلایا، اس فتح سے آسمان والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اس کی عزت کی طنابیں جوزاء کے شانوں پر تن گئیں اور اس کی وجہ سے لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور روئے زمین کا چہرہ روشنی اور چمک دمک سے جگمگا اٹھا۔ ( زاد المعاد ۲/۱۶۰)

صلح حدیبیہ کے ذکر میں ہم یہ بات بتاچکے ہیں کہ اس معاہدے کی ایک دفعہ یہ تھی کہ جو کوئی محمد ﷺ کے عہد و پیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہوسکتا ہے اور جو کوئی قریش کے عہد و پیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہوسکتا ہے اور جو قبیلہ جس فریق کے ساتھ شامل ہوگا اس فریق کا ایک حصہ سمجھا جائے گا، لہٰذا ایسا کوئی قبیلہ اگر کسی حملے یا زیادتی کا شکار ہوگا تو یہ خود اس فریق پر حملہ اور زیادتی تصور کی جائے گی۔

اس دفعہ کے تحت بنو خُزاعہ رسول اللہ ﷺ کے عہد وپیمان میں داخل ہوگئے اور بنو بکر قریش کے عہد وپیمان میں، اس طرح دونوں قبیلے ایک دوسرے سے مامون اور بے خطر ہوگئے، لیکن چونکہ ان دونوں قبیلوں میں دورِ جاہلیت سے عداوت اور کشاکش چلی آرہی تھی، اس لیے جب اسلام کی آمد آمد ہوئی اور صلح حدیبیہ ہوگئی اور دونوں فریق ایک دوسرے سے مطمئن ہوگئے تو بنو بکر نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر چاہا کہ بنو خزاعہ سے پرانا بدلہ چکا لیں۔

چنانچہ نوفل بن معاویہ دیلی نے بنو بکر کی ایک جماعت ساتھ لے کر شعبان ۸ ھ میں بنو خزاعہ پر رات کی تاریکی میں حملہ کردیا، اس وقت بنو خزاعہ وتیر نامی ایک چشمے پر خیمہ زن تھے، ان کے متعدد افراد مارے گئے، کچھ جھڑپ اور لڑائی بھی ہوئی، ادھر قریش نے اس حملے میں ہتھیاروں سے بنو بکر کی مدد کی، بلکہ ان کے کچھ آدمی بھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر لڑائی میں شریک ہوئے، بہرحال! حملہ آوروں نے بنوخزاعہ کو کھدیڑ کر حرم تک پہنچادیا، حرم پہنچ کر بنو بکر نے کہا: اے نوفل! اب تو ہم حرم میں داخل ہوگئے، تمہارا الٰہ! ۔۔۔ تمہارا الٰہ! ۔۔۔ اس کے جواب میں نوفل نے ایک بڑی بات کہی، بولا: بنو بکر! آج کوئی الٰہ نہیں، اپنا بدلہ چکا لو، میری عمر کی قسم! تم لوگ حرم میں چوری کرتے ہو تو کیا حرم میں اپنا بدلہ نہیں لے سکتے۔؟

ادھر بنو خزاعہ نے مکہ پہنچ کر بُدَیْل بن وَرْقَاء خُزاعی اور اپنے ایک آزاد کردہ غلام رافع کے گھروں میں پناہ لی اور عَمرو بن سالم خزاعی نے وہاں سے نکل کر فوراً مدینہ کا رُخ کیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر سامنے کھڑا ہوگیا، اس وقت آپ مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے، عمرو بن سالم نے کہا:

یـارب إنـي نـاشـد محمـــدا حلفـنا وحلف أبـیـہ ألا تـلـدا
قـد کـنـتم ولــداً وکنا والــدا ثمۃ أسـلمنــا ولـم ننزع یـــدا
فـانصر ہداک اللہ نـصـراً أیدا وادع عبــاد اللہ یأتوا مــــددا
فـیـہم رسول اللہ قد تجــردا أبیض مثل البدر یسمو صعـدا
إن سیـم خـسـفا وجہہ تربـدا في فیلـق کالبحر یجری مزبدا
إن قریشاً أخلفـوک الموعــدا ونقضــوا میثـاقک المؤکـــدا
وجعلوا لی فـی کـداء رصـدا وزعـموا أن لست أدعوا أحدا
وہــــــم أذل وأقـل عـــددا ہــم بیتونــا بالوتیر ہجـــدا
وقـتـلـونـــا رکعــــاً وسجـــــــدا

"اے پروردگار! میں محمد ﷺ سے ان کے عہد اور ان کے والد کے قدیم عہد (اشارہ اس عہد کی طرف ہے جو بنو خزاعہ اور بنو ہاشم کے درمیان عبدالمطلب کے زمانے سے چلا آرہا تھا، اس کا ذکر ابتداء کتاب میں کیا جاچکا ہے۔) کی دہائی دے رہا ہوں۔ آپ لوگ اولاد تھے اور ہم جننے والے۔ ( اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ عبد مناف کی ماں، یعنی قصی کی بیوی حبی بنو خزاعہ سے تھیں۔ اس لیے پورا خاندانِ نبوت بنو خزاعہ کی اولاد ٹھہرا) پھر ہم نے تابعداری اختیار کی اور کبھی دست کش نہ ہوئے۔ اللہ آپ کو ہدایت دے۔ آپ پُر زور مدد کیجیے اور اللہ کے بندوں کو پکاریے، وہ مدد کو آئیں گے، جن میں اللہ کے رسول ہوں گے ہتھیار پوش اور چڑھے ہوئے چودھویں کے چاند کی طرح گورے اور خوبصورت۔ اگر ان پر ظلم اور ان کی توہین کی جائے تو چہرہ تمتما اٹھتا ہے۔ آپ ایک ایسے لشکرِ جرار کے اندر تشریف لائیں گے جو جھاگ بھرے سمندر کی طرح تلاطم خیز ہوگا۔ یقینا قریش نے آپ کے عہد کی خلاف ورزی کی ہے اور آپ کا پُختہ پیمان توڑ دیا ہے۔ انہوں نے میرے لیے کداء میں گھات لگائی اور یہ سمجھا کہ میں کسی کو (مدد کے لیے ) نہ پکاروں گا۔ حالانکہ وہ بڑے ذلیل اور تعداد میں قلیل ہیں۔ انہوں نے وتیر پر رات میں حملہ کیا اور ہمیں رکوع وسجود کی حالت میں قتل کیا۔'' (یعنی ہم مسلمان تھے اور ہمیں قتل کیا گیا۔) ''

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عَمرو بن سالم! تیری مدد کی گئی، اس کے بعد آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا دکھائی پڑا، آپ نے فرمایا: یہ بادل بنو کعب کی مدد کی بشارت سے دمک رہا ہے۔

اس کے بعد بُدَیْل بن ورقاء خُزاعی کی سرکردگی میں بنو خزاعہ کی ایک جماعت مدینہ آئی اور رسول اللہ ﷺ کو بتلایا کہ کون سے لوگ مارے گئے اور کس طرح قریش نے بنو بکر کی پشتیبانی کی، اس کے بعد یہ لوگ مکہ واپس چلے گئے۔

==================>>  جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 231 غزوۂ فتح مکہ - سبب: امام ابنِ قیمؒ لکھتے ہیں کہ یہ وہ فتح اعظم ہے جس کے ذریعہ اللہ نے اپنے د...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 230


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 230

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت اور فتح:

انتہائی شجاعت وبسالت اور زبردست جاں بازی وجاں سپاری کے باوجود یہ بات انتہائی تعجب انگیز تھی کہ مسلمانوں کا یہ چھوٹا سا لشکر رُومیوں کے اس لشکرِ جرار کی طوفانی لہروں کے سامنے ڈٹا رہ جائے، لہٰذا اس نازک مرحلے میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے مسلمانوں کو اس گرداب سے نکالنے کے لیے جس میں وہ خود کود پڑے تھے، اپنی مہارت اور کمال ہنرمندی کا مظاہرہ کیا۔

تمام روایات پر نظر ڈالنے سے صورت حال یہ معلوم ہوتی ہے کہ جنگ کے پہلے روز حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ دن بھر رومیوں کے مد مقابل ڈٹے رہے، لیکن وہ ایک ایسی جنگی چال کی ضرورت محسوس کررہے تھے جس کے ذریعہ رومیوں کو مرعوب کرکے اتنی کامیابی کے ساتھ مسلمانوں کو پیچھے ہٹالیں کہ رومیوں کو تعاقب کی ہمت نہ ہو، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے اور رومیوں نے تعاقب شروع کردیا تو مسلمانوں کو ان کے پنجے سے بچانا سخت مشکل ہوگا۔

چنانچہ جب دوسرے دن صبح ہوئی تو انہوں نے لشکر کی ہیئت اور وضع تبدیل کردی اور اس کی ایک نئی ترتیب قائم کی، مقدمہ (اگلی لائن ) کو ساقہ (پچھلی لائن ) اور ساقہ کو مقدمہ کی جگہ رکھ دیا اور میمنہ کو مَیْسَرَہ اور میسرہ کو میمنہ سے بدل دیا، یہ کیفیت دیکھ کر دشمن چونک گیا اور کہنے لگا کہ انہیں کمک پہنچ گئی ہے، غرض رومی ابتدا ہی میں مرعوب ہوگئے۔

ادھر جب دونوں لشکر کا آمنا سامنا ہوا اور کچھ دیر تک جھڑپ ہو چکی تو حضرت خالد بن ولید نے اپنے لشکر کا نظام محفوظ رکھتے ہوئے مسلمانوں کو تھوڑا تھوڑا پیچھے ہٹانا شروع کیا، لیکن رومیوں نے اس خوف سے ان کا پیچھا نہ کیا کہ مسلمان دھوکا دے رہے ہیں اور کوئی چال چل کر انہیں صحرا کی پہنائیوں میں پھینک دینا چاہتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن اپنے علاقہ میں واپس چلا گیا اور مسلمانوں کے تعاقب کی بات نہ سوچی، ادھر مسلمان کامیابی اور سلامتی کے ساتھ پیچھے ہٹے اور پھر مدینہ واپس آگئے۔ (فتح الباری ۷/۵۱۳ ، ۵۱۴ ، زاد المعاد ۲/۱۵۶) معرکے کی تفصیل سابقہ مآخذ سمیت ان دونوں مآخذ سے لی گئی ہے۔

اس جنگ میں بارہ مسلمان شہید ہوئے، رومیوں کے مقتولین کی تعداد کا علم نہ ہوسکا، البتہ جنگ کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں مارے گئے، اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب تنہا حضرت خالد کے ہاتھ میں نو تلوار یں ٹوٹ گئیں تو مقتولین اور زخمیوں کی تعداد کتنی رہی ہوگی۔

موتہ کے معرکے کا اثر :

اس معرکے کی سختیاں جس انتقام کے لیے جھیلی گئی تھیں، مسلمان اگرچہ وہ انتقام نہ لے سکے، لیکن اس معرکے نے مسلمانوں کی ساکھ اور شہرت میں بڑا اضافہ کیا، اس کی وجہ سے سارے عرب انگشت بدنداں رہ گئے، کیونکہ رومی اس وقت روئے زمین پر سب سے بڑی قوت تھے، عرب سمجھتے تھے کہ ان سے ٹکرانا خودکشی کے مترادف ہے، اس لیے تین ہزار کی ذرا سی نفری کا دولاکھ کے بھاری بھرکم لشکر سے ٹکرا کر کوئی قابل ذکر نقصان اٹھائے بغیر واپس آجانا عجوبۂ روزگار سے کم نہ تھا اور اس سے یہ حقیقت بڑی پختگی کے ساتھ ثابت ہوتی تھی کہ عرب اب تک جس قسم کے لوگوں سے واقف اور آشنا تھے، مسلمان ان سے الگ تھلگ ایک دوسری ہی طرز کے لوگ ہیں، وہ اللہ کی طرف سے مؤیّد ومنصور ہیں اور ان کے راہنما واقعتاً اللہ کے رسول ہیں، اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ضدی قبائل جو مسلمانوں سے مسلسل برسرِ پیکار رہتے تھے، اس معرکے کے بعد اسلام کی طرف مائل ہوگئے، چنانچہ بنو سلیم، اشجع، غطفان، ذیبان اور فزارہ وغیرہ قبائل نے اسلام قبول کرلیا۔

یہی معرکہ ہے جس سے رومیوں کے ساتھ خونریز ٹکر شروع ہوئی، جو آگے چل کر رومی ممالک کی فتوحات اور دُور دراز علاقوں پر مسلمانوں کے اقتدار کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔

==================>>  جاری ہے ۔۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 230 خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت اور فتح: انتہائی شجاعت وبسالت اور زبردست جاں بازی وجاں سپا...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 229


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 229

جنگ کا آغاز اور سپہ سالاروں کی یکے بعد دیگرے شہادت:

اس کے بعد مُوْتَہ ہی میں فریقین کے درمیان ٹکراؤ ہوا اور نہایت تلخ لڑائی شروع ہوگئی، تین ہزار کی نفری دولاکھ ٹڈی دل کے طوفانی حملوں کا مقابلہ کررہی تھی، عجیب وغریب معرکہ تھا، دنیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی، لیکن جب ایمان کی بادِ بہاری چلتی ہے تو اسی طرح کے عجائبات ظہور میں آتے ہیں۔

سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے چہیتے حضرت زید بن حارثہؓ نے علَم لیا اور ایسی بے جگری سے لڑے کہ اسلامی شہبازوں کے علاوہ کہیں اور اس کی نظیر نہیں ملتی، وہ لڑتے رہے، لڑتے رہے، یہاں تک کہ دشمن کے نیزوں میں گتھ گئے اور خلعتِ شہادت سے مشرف ہوکر زمین پر آرہے۔

اس کے بعد حضرت جعفرؓ کی باری تھی، انہوں نے لپک کر جھنڈا اٹھایا اور بے نظیر جنگ شروع کردی، جب لڑائی کی شدت شباب کو پہنچی تو اپنے سُرخ وسیا ہ گھوڑے کی پشت سے کود پڑے، کوچیں کاٹ دیں اور وار پر وار کرتے اور روکتے رہے، یہاں تک ضرب سے داہنا ہاتھ کٹ گیا، اس کے بعد انہوں نے جھنڈا بائیں ہاتھ میں لے لیا اور اسے مسلسل بلند رکھا، یہاں تک کہ بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا، پھر دونوں باقی ماندہ بازوؤں سے جھنڈا آغوش میں لے لیا اور اس وقت تک بلند رکھا جب تک کہ خلعتِ شہادت سے سرفراز نہ ہوگئے۔

کہا جاتا ہے کہ ایک رومی نے ان کو ایسی تلوار ماری کہ ان کے دوٹکڑے ہوگئے، اللہ نے انہیں ان کے دونوں بازوؤں کے عوض جنت میں دو بازو عطا کیے جن کے ذریعہ وہ جہاں چاہتے ہیں اڑتے ہیں، اسی لیے ان کا لقب جعفر طَیَّار اور جعفر ذُوالجَنَاحین پڑ گیا۔ (طَیّار۔ معنیٰ اڑنے والا اور ذُو الجناحین۔ معنی دو بازوؤں والا)

امام بخاری رحمہ اللہ نے نافع کے واسطے سے ابن عمرؓ کا یہ بیان روایت کیا ہے کہ میں نے جنگ موتہ کے روز حضرت جعفر کے پاس جبکہ وہ شہید ہوچکے تھے، کھڑے ہو کر ان کے جسم پر نیزے اور تلوار کے پچاس زخم شمار کیے، ان میں سے کوئی بھی زخم پیچھے نہیں لگا تھا۔

ایک دوسری روایت میں ابن عمرؓ کا یہ بیان اس طرح مروی ہے کہ میں بھی اس غزوے میں مسلمانوں کے ساتھ تھا، ہم نے جعفر بن ابی طالب کو تلاش کیا تو انہیں مقتولین میں پایا اور ان کے جسم میں نیزے اور تیر کے نوے سے زیادہ زخم پائے۔ (صحیح بخاری ، باب غزوۃ موتہ من ارض الشام ۲/۶۱۱)

نافع سے عمر ہی کی روایت میں اتنا اور اضافہ ہے کہ ہم نے یہ سب زخم ان کے جسم کے اگلے حصے میں پائے۔ فتح الباری ۷/۵۱۲۔ بظاہر دونوں حدیث میں تعداد کا اختلاف ہے، تطبیق یہ دی گئی ہے کہ تیروں کے زخم شامل کرکے تعداد بڑھ جاتی ہے۔

اس طرح کی شجاعت وبسالت سے بھر پور جنگ کے بعدجب حضرت جعفرؓ بھی شہید کردیے گئے تو اب حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ نے پرچم اٹھایا اور اپنے گھوڑے پر سوار آگے بڑھے اور اپنے آپ کو مقابلہ کے لیے آمادہ کرنے لگے، لیکن انہیں کسی قدر ہچکچاہٹ ہوئی، حتیٰ کہ تھوڑا سا گریز بھی کیا، لیکن اس کے بعد کہنے لگے :

أقسمت یــا نفــس لتنزلنــہ کارہــــــۃ أو لتطـاوعـنـــہ
إن أجلب الناس وشدوا الرنہ ما لی أراک تکـرہین الجنـــۃ

''اے نفس! قسم ہے کہ تو ضرور مدِّ مقابل اُتر، خواہ ناگواری کے ساتھ، خواہ خوشی خوشی، اگر لوگوں نے جنگ برپا کر رکھی ہے اور نیزے تان رکھے ہیں تو میں تجھے کیوں جنت سے گریزاں دیکھ رہا ہوں۔''

اس کے بعد وہ مد مقابل میں اترے، اتنے میں ان کا چچیرا بھائی ایک گوشت لگی ہوئی ہڈی لے آیا اور بولا: اس کے ذریعہ اپنی پیٹھ مضبوط کر لو! کیونکہ ان دنوں تمہیں سخت حالات سے دوچار ہونا پڑا ہے، انہوں نے ہڈی لے کر ایک بار نوچی، پھر پھینک کر تلوار تھام لی اور آگے بڑھ کر لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔

جھنڈا، اللہ کی تلوار وں میں سے ایک تلوار کے ہاتھ میں :

اس موقع پر قبیلہ بنو عجلان کے ثابت بن ارقم نامی ایک صحابی نے لپک کر جھنڈا اٹھا لیا اور فرمایا: مسلمانو! اپنے کسی آدمی کو سپہ سالار بنا لو، صحابہ نے کہا: آپ ہی یہ کام انجام دیں۔ انہوں نے کہا: میں یہ کام نہیـں کرسکوں گا۔

اس کے بعد صحابہ نے حضرت خالدؓ بن ولید کو منتخب کیا اور انہوں نے جھنڈا لیتے ہی نہایت پرزور جنگ کی، چنانچہ صحیح بخاری میں خود حضرت خالد بن ولیدؓ سے مروی ہے کہ جنگ موتہ کے روز میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں، پھر میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی بانا (چھوٹی سی تلوار) باقی بچا اور ایک دوسری روایت میں ان کا بیان اس طرح مروی ہے کہ میرے ہاتھ میں جنگ موتہ کے روز نو تلواریں ٹوٹ گئیں اور ایک یمنی بانا میرے ہاتھ میں چپک کر رہ گیا۔

ادھر رسول اللہ ﷺ نے جنگ مُوتہ ہی کے روز جبکہ ابھی میدان جنگ سے کسی قسم کی اطلاع نہیں آئی تھی، وحی کی بناء پر فرمایا کہ جھنڈا زید نے لیا اور وہ شہید کردیے گئے، پھر جعفر نے لیا وہ بھی شہید کردیے گئے، پھر ابنِ رواحہ نے لیا اور وہ بھی شہید کردیے گئے۔ اس دوران آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ یہاں تک کہ جھنڈا اللہ کی ایک تلوار نے لیا۔ (اور ایسی جنگ لڑی کہ ) اللہ نے ان پر فتح عطا کی۔ ( صحیح بخاری ، باب غزوۂ موتہ من ارض الشام ۲/۶۱۱)

==================>>  جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 229 جنگ کا آغاز اور سپہ سالاروں کی یکے بعد دیگرے شہادت: اس کے بعد مُوْتَہ ہی میں فریقین کے درمیان...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 228


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 228

اسلامی لشکر کی پیش رفت:

اسلامی لشکر شمال کی طرف بڑھتا ہوا معان پہنچا، یہ مقام شمالی حجاز سے متصل شامی (اردنی) علاقے میں واقع ہے، یہاں لشکر نے پڑاؤ ڈالا اور یہیں جاسوسوں نے اطلاع پہنچائی کہ ہرقل قیصرِ روم بلقاء کے علاقے میں مآب کے مقام پر ایک لاکھ رومیوں کا لشکر لے کر خیمہ زن ہے اور اس کے جھنڈے تلے لخم وجذام، بلقین وبہرا اور بلی (قبائلِ عرب ) کے مزید ایک لاکھ افراد بھی جمع ہوگئے ہیں۔

مسلمانوں کے حساب میں سرے سے یہ بات تھی ہی نہیں کہ انہیں کسی ایسے لشکر جرار سے سابقہ پیش آئے گا جس سے وہ اس دور دراز سر زمین میں ایک دم اچانک دوچار ہوگئے تھے، اب ان کے سامنے سوال یہ تھا کہ آیا تین ہزار کا ذرا سا لشکر دو لاکھ کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے ٹکرا جائے یا کیا کرے ؟

مسلمان حیران تھے اور اسی حیرانی میں معان کے اندر دو راتیں غور اور مشورہ کرتے ہوئے گزار دیں، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو لکھ کر دشمن کی تعداد کی اطلاع دیں، اس کے بعد یا تو آپ کی طرف سے مزید کمک ملے گی، یا اور کوئی حکم ملے گا اور اس کی تعمیل کی جائے گی،
لیکن حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ نے اس رائے کی مخالفت کی اور یہ کہہ کر لوگوں کو گرما دیا کہ:

لوگو! اللہ کی قسم! جس چیز سے آپ کترا رہے ہیں یہ وہی تو شہادت ہے جس کی طلب میں آپ نکلے ہیں، یاد رہے دشمن سے ہماری لڑائی تعداد، قوت اور کثرت کے بل پر نہیں ہے، بلکہ ہم محض اس دین کے بل پر لڑتے ہیں جس سے اللہ نے ہمیں مشرف کیا ہے، اس لیے چلیے آگے بڑھئے! ہمیں دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی حاصل ہوکر رہے گی، یا تو ہم غالب آئیں گے یا شہادت سے سرفراز ہوں گے۔

بالآخر حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کی پیش کی ہوئی بات طے پاگئی، غرض اسلامی لشکر نے معان میں دو راتیں گزارنے کے بعد دشمن کی جانب پیش قدمی کی اور بلقاء کی ایک بستی میں جس کا نام ''مَشَارِف'' تھا، ہرقل کی فوجوں سے اس کا سامنا ہوا، اس کے بعد دشمن مزید قریب آگیا اور مسلمان ''موتہ'' کی جانب سمٹ کر خیمہ زن ہو گئے، پھر لشکر کی جنگی ترتیب قائم کی گئی، مَیْمَنہ پر قطبہ بن قتادہ عذری مقرر کیے گئے اور مَیْسَرہ پر عبادہ بن مالک انصاریؓ ۔

==================>>  جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 228 اسلامی لشکر کی پیش رفت: اسلامی لشکر شمال کی طرف بڑھتا ہوا معان پہنچا، یہ مقام شمالی حجاز سے م...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 227



سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 227

معرکۂ مُوتہ:

مُوتہ (میم کو پیش اور واو ساکن ) اردن میں بَلْقَاء کے قریب ایک آبادی کا نام ہے، جہاں سے بیت المقدس دو مرحلے پر واقع ہے، زیر بحث معرکہ یہیں پیش آیا تھا۔

یہ سب سے بڑا خونریز معرکہ تھا جو مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں پیش آیا اور یہی معرکہ عیسائی ممالک کی فتوحات کا پیش خیمہ ثابت ہوا، اس کا زمانۂ وقوع جمادی الاولیٰ ۸ھ مطابق اگست یا ستمبر ۶۲۹ء ہے۔

معرکہ کا سبب:

اس معرکے کا سبب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حارث بن عُمیر اَزْدِیؓ کو اپنا خط دے کر حاکم بُصریٰ کے پاس روانہ کیا تو انہیں قیصر روم کے گورنر شرحبیل بن عمرو غسانی نے جو بلقاء پر مامور تھا، گرفتار کرلیا اور مضبوطی کے ساتھ باندھ کر ان کی گردن ماردی۔

یاد رہے کہ سفیروں اور قاصدوں کا قتل نہایت بدترین جرم تھا جو اعلانِ جنگ کے برابر بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سمجھا جاتا تھا، اس لیے جب رسول اللہ ﷺ کو اس واقعے کی اطلاع دی گئی تو آپ ﷺ پر یہ بات سخت گراں گزری اور آپ ﷺ نے اس علاقہ پر فوج کشی کے لیے تین ہزار کا لشکر تیار کیا۔ ( زاد المعاد ۲/۱۵۵، فتح الباری ۷/۵۱۱) اور یہ سب سے بڑا اسلامی لشکر تھا جو اس سے پہلے جنگ احزاب کے علاوہ کسی اور جنگ میں فراہم نہ ہوسکا تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے اس لشکر کا سپہ سالار حضرت زید بن حارثہؓ کو مقرر کیا اور فرمایا کہ اگر زید قتل کردیے جائیں تو جعفر اور جعفر قتل کردیے جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ سپہ لار ہوں گے۔ ( صحیح بخاری باب غزوۂ موتہ من ارض الشام ۲/۶۱۱)

آپ ﷺ نے لشکر کے لیے سفید پرچم باندھا اور اسے حضرت زید بن حارثہؓ کے حوالے کیا، لشکر کو آپ ﷺ نے یہ وصیت بھی فرمائی کہ جس مقام پر حضرت حارث بن عمیرؓ قتل کیے گئے تھے، وہاں پہنچ کر اس مقام کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دیں، اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو بہتر، ورنہ اللہ سے مدد مانگیں اور لڑائی کریں۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نام سے، اللہ کی راہ میں، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے غزوہ کرو اور دیکھو بد عہدی نہ کرنا، خیانت نہ کرنا، کسی بچے اور عورت اور فنا کے قریب بڈھے کو اور گرجے میں رہنے والے تارک الدنیا کو قتل نہ کرنا، کھجور اور کوئی درخت نہ کاٹنا اور کسی عمارت کو منہدم نہ کرنا۔

(مختصر السیرۃ للشیخ عبد اللہ ص ۳۲۷) یہ حدیث واقعہ کے بغیر صحیح مسلم ، سنن ابی داؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ وغیرہ میں مختلف الفاظ سے مروی ہے۔

==================>> جاری ہے ۔۔۔

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 227 معرکۂ مُوتہ: مُوتہ (میم کو پیش اور واو ساکن ) اردن میں بَلْقَاء کے قریب ایک آبادی کا نام ہ...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 226


سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 226

عمرہَ قضاء:

امام حاکم کہتے ہیں: یہ خبرتواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ جب ذی قعدہ کا چاند ہو گیا تو نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ اپنے عمرہ کی قضاء کے طور پر عمرہ کریں اور کوئی بھی آدمی جو حدیبیہ میں حاضرتھا پیچھے نہ رہے، چنانچہ (اس مدت میں ) جو لوگ شہید ہوچکے تھے، انہیں چھوڑ کر بقیہ سب ہی لوگ روانہ ہوئے اور اہلِ حدیبیہ کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی عمرہ کرنے کے لیے ہمراہ نکلے، اس طرح تعداد دو ہزار ہوگئی، عورتیں اور بچے ان کے علاوہ تھے۔ ( فتح الباری ۷/۷۰۰)

رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر ابو رھم غفاریؓ کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا، ساٹھ اونٹ ساتھ لیے اور ناجیہ بن جندب اسلمی کو ان کی دیکھ بھال کا کام سونپا، ذو الحلیفہ سے عمرہ کا احرام باندھا اور لبیک کی صدا لگائی، آپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی لبیک پکارا اور قریش کی جانب سے بد عہدی کے اندیشے کے سبب ہتھیار اور جنگجو افراد کے ساتھ مستعد ہو کر نکلے، جب وادی یَاجِجْ پہنچے تو سارے ہتھیار، یعنی ڈھال، سپر ، نیزے سب رکھ دیے اور ان کی حفاظت کے لیے اوس بن خولی انصاریؓ کی ماتحتی میں دو سو آدمی وہیں چھوڑ دیے اور سوار کا ہتھیار اور میان میں رکھی ہوئی تلواریں لے کر مکہ میں داخل ہوئے۔ ( ایضا مع زاد المعاد ۲/۱۵۱)

رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخلے کے وقت اپنی قصواء نامی اونٹنی پر سوار تھے، مسلمانوں نے تلواریں حمائل کر رکھی تھیں اور رسول اللہ ﷺ کو گھیرے میں لیے ہوئے لبیک پکار رہے تھے۔

مشرکین مسلمانوں کا تماشہ دیکھنے کے لیے (گھروں سے ) نکل کر کعبہ کے شمال میں واقع جبل قعیقعان پر (جا بیٹھے تھے ) انہوں نے آپس میں باتیں کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے پاس ایک ایسی جماعت آرہی ہے جسے یثرب کے بخار نے توڑ ڈالا ہے، اس لیے نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ پہلے تین چکر دوڑ کر لگائیں، البتہ رکن یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان صرف چلتے ہوئے گزریں، کُل (ساتوں ) چکر دوڑ کر لگانے کا حکم محض اس لیے نہیں دیا کہ رحمت وشفقت مقصود تھی، اس حکم کا منشاء یہ تھا کہ مشرکین آپ کی قوت کا مشاہدہ کرلیں۔ ( صحیح بخاری ۱/۲۱۸ ، ۲/۶۱۰ ، ۶۱۱ ، صحیح مسلم ۱/۴۱۲)

اس کے علاوہ آپ نے صحابہ کرام کو اضطباع کا بھی حکم دیا، اضطباع کا مطلب یہ ہے کہ دایاں کندھا کھلا رکھیں (اور چادر داہنی بغل کے نیچے سے گزار کر آگے پیچھے دونوں جانب سے ) اس کا دوسرا کنارہ بائیں کندھے پر ڈال لیں۔

رسول اللہ ﷺ مکے میں اس پہاڑ ی گھاٹی کے راستے سے داخل ہوئے جو حجون پر نکلتی ہے، مشرکین نے آپ ﷺ کو دیکھنے کے لیے لائن لگا رکھی تھی، آپ ﷺ مسلسل لبیک کہہ رہے تھے، یہاں تک کہ (حرم پہنچ کر ) اپنی چھڑی سے حجر اسود کو چھویا، پھر طواف کیا، مسلمانوں نے بھی طواف کیا، اس وقت حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ تلوار حمائل کیے رسول اللہ ﷺ کے آگے آگے چل رہے تھے اور رجز کے یہ اشعار پڑھ رہے تھے:

خـلوا بنی الکفار عن سبـیلـہ خلـوا فکل الخیر فی رسولہ
قد أنزل الرحمـن فـي تـنزیلـہ فی صحف تتلی علی رسولہ
یـا رب إنـي مـؤمــن بـقیـلـہ إني رأیت الحـق فی قبولـــہ
بــان خیـر القتـل فی سبیلــہ الیوم نضـربکــم علی تنزیلہ
ضرباً یزیـل الہـام عن مقیلـہ ویذہــل الخلیـل عن خلیلہ

''کفّار کے پوتو! ان کا راستہ چھوڑ دو، راستہ چھوڑ دو کہ ساری بھلائی اس کے پیغمبر ہی میں ہے،
 رحمان نے اپنی تنزیل میں اتارا ہے، یعنی ایسے صحیفوں میں جن کی تلاوت اس کے پیغمبر پر کی جاتی ہے، 
اے پروردگار! میں ان کی باتوں پر ایمان رکھتا ہوں اور اسے قبول کرنے ہی کو حق جانتا ہوں
 کہ بہترین قتل وہ ہے جو اللہ کی راہ میں ہو۔ آج ہم اس کی تنزیل کے مطابق تمہیں ایسی مار مار یں گے 
کہ کھوپڑی اپنی جگہ سے جھٹک جائے گی اور دوست کو دوست سے بے خبر کردے گی۔''

(روایات کے اندر ان اشعار اور ان کی ترتیب میں بڑا اضطراب ہے۔ ہم نے متفرق اشعار کو یکجا کردیا ہے۔)

حضرت انسؓ کی روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ اس پر حضرت عمر بن خطابؓ نے کہا: اے ابن رواحہ! تم رسول اللہ ﷺ کے سامنے اور اللہ کے حرم میں شعر کہہ رہے ہو؟ نبی ﷺ نے فرمایا: اے عمر! انہیں رہنے دو، کیونکہ یہ ان کے اندر تیر کی مار سے بھی زیادہ تیز ہے۔ ( جامع ترمذی ، ابواب الاستیذان والادب ، باب ماجاء فی انشاد الشعر ۲/۱۰۷)

رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے تین چکر دوڑ کر لگائے، مشرکین نے دیکھا تو کہنے لگے: یہ لوگ جن کے متعلق ہم سمجھ رہے تھے کہ بخار نے انہیں توڑ دیا ہے، یہ تو ایسے اور ایسے لوگوں سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔ ( صحیح مسلم ۱/۴۱۲)

طواف سے فارغ ہوکر آپ ﷺ نے صَفا ومَرَوہ کی سعی کی، اس وقت آ پ ﷺ کی ہدی یعنی قربانی کے جانور مَرَوہ کے پاس کھڑے تھے، آپ ﷺ نے سعی سے فارغ ہوکر فرمایا: یہ قربان گاہ ہے اور مکے کی ساری گلیاں قربان گاہ ہیں، اس کے بعد مَرَوہ ہی کے پاس جانوروں کو قربان کردیا، پھر وہیں سر منڈایا، مسلمانوں نے بھی ایسا ہی کیا، اس کے بعد کچھ لوگوں کو یَاجِجْ بھیج دیا گیا کہ وہ ہتھیاروں کی حفاظت کریں اور جو لوگ حفاظت پر مامور تھے، وہ آکر اپنا عمرہ ادا کرلیں۔

رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں تین روز قیام فرمایا تھا، چوتھے دن صبح ہوئی تو مشرکین نے حضرت علیؓ کے پاس آکر کہا: اپنے صاحب سے کہو کہ ہمارے یہاں سے روانہ ہوجائیں، کیونکہ مدت گزر چکی ہے، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ مکہ سے نکل آئے اور مقام سرف میں اتر کر قیام فرمایا۔

اس عمرہ کا نام عمرۂ قضاء یا تو اس لیے پڑا کہ یہ عمرۂ حدیبیہ کی قضا کے طور پر تھا یا اس لیے کہ یہ حدیبیہ میں طے کردہ صلح کے مطابق کیا گیا تھا۔ (اور اس طرح مصالحت کو عربی میں قضا اور مقاضاۃ کہتے ہیں ) اس دوسری وجہ کو محققین نے راجح قرار دیا ہے، نیز اس عمرہ کو چار نام سے یاد کیا جاتا ہے: عمرۂ قضا، عمرۂ قضیہ، عمرۂ قصاص اور عمرۂ صلح۔ ( زاد المعاد ۲/۱۷۲ ، فتح الباری ۷/۵۰۰)

=================>>> جاری ہے ۔۔۔

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔۔ قسط: 226 عمرہَ قضاء: امام حاکم کہتے ہیں: یہ خبرتواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ جب ذی قعدہ کا چاند ہو گیا تو ...