سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط نمبر: 7


سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط نمبر: 7


واقعہ اصحاب الفیل 

قریش اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبہ کو بچانے کی طاقت نہ رکھتے تھے، لہذا حضرت عبدالمطلب نے انہیں کہا کہ سب اپنے بال بچوں اور مال مویشی لےکر پہاڑوں میں چلے جائیں تاکہ ان کا قتل عام نہ ہو۔

پھر وہ قریش کے چند سرداروں کے ساتھ حرم کعبہ پہنچے اور اللہ کے حضور اپنی کمزوری کا اظہار کرکے دعائیں مانگیں کہ وہ اپنے گھر کی خود حفاظت فرمائے، مؤرخین نے حضرت عبدالمطلب کے جو دعائیہ اشعار نقل کیے وہ یہ ہیں:

لہی! بندہ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے، تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما! کل ان کی صلیب اور ان کی تدبیر تیری تدبیر پر غالب نہ آنے پائے، صلیب کی آل کے مقابلے پر آج اپنی آل کی مدد فرما!

اے میرے رب! تیرے سوا میں ان کے مقابلے میں کسی سے امید نہیں رکھتا، اے میرے رب! ان سے اپنے حرم کی حفاظت فرما.."

یہ دعائیں مانگ کر حضرت عبدالمطلب بھی سرداران قریش کے ساتھ باقی اہل مکہ کے پاس پہاڑوں میں چلے گئے ۔۔۔

ابرھہ کا مکہ پر حملہ کا حکم:

دوسرے روز ابرھہ نے مکہ پر حملہ کا حکم دیا اور وہ مکہ میں داخل ہونے کے لیے آگے بڑھا، مگر حیرت انگیز طور پر اس کا خاص ہاتھی "محمود" مکہ کی طرف چلنے کی بجائے یکایک وہیں بیٹھ گیا اور بےپناہ کوشش کے باوجود بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا، مگر جب اس کا منہ شام کی طرف کیا گیا تو اٹھ کر چلنے لگا اور یمن کی طرف رخ ہوا تو ادھر بھی دوڑنے لگا، مگر مکہ کی طرف اسے چلانے کی کوشش کی جاتی تو ایک انچ ادھر نہ بڑھتا، نتیجتاً باقی ہاتھیوں سمیت سارا لشکر بھی اپنی جگہ انتظار میں رکا ہوا تھا ۔۔۔

اور جب ابابیل نے لشکر ابرھہ پر سنگریزے گرانا شروع کردیا۔

ابھی وہ اسی چکر میں پھنسے تھے کہ اللہ کے قہر نے ان کو آ لیا اور اللہ کے حکم سے ابابیلوں کے جھنڈ کے جھنڈ ان پر نازل ہوگئے، ہر ابابیل کے چونچ اور دونوں پنجوں میں سنگریزے دبے ہوئے تھے، ابرھہ اور اس کے لشکر کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، ابابیلوں نے عین ان کے اوپر آ کر وہ سنگ ریزے گرانا شروع کردیے ۔۔۔

وہ سنگ ریزے، سنگ ریزے کہاں تھے، وہ تو اللہ کا عذاب تھے، جس پر جہاں گرتے، بجائے صرف زخمی کرنے کے کسی چھوٹے بم کی سی تباہی مچا دیتے، اللہ کے گھر پر حملہ کرنے کی جرآت کرنے والوں کے لیے کہیں کوئی جائے پناہ نہ تھی ۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں ابرھہ اپنے 60 ہزار کے لشکر اور 13 ہاتھیوں سمیت سنگریزوں کی اس بارش میں اپنے انجام کو پہنچا اور یوں پہنچا کہ جیسے کھایا ہوا بھوسہ ہو، ہر طرف انسانی لاشیں چیتھڑوں کے روپ میں پڑیں تھیں ۔۔۔

یہ واقعہ 571 عیسوی میں محرم کے مہینہ میں مزدلفہ اور منی' کے درمیان وادی محصب کے قریب محسر کے مقام پر پیش آیا، جس سال یہ واقعہ پیش آیا اہل عرب اسے عام الفیل کہتے ہیں، جبکہ اسی سال اس واقعہ کے 50 دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارک ہوئی ۔۔۔

======> جاری ہے ۔۔۔

مرتب کردہ: الہدی انٹر نیشنل
سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی..
تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنھایہ)..
سیرت ابن ھشام..

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط نمبر: 7 واقعہ اصحاب الفیل  قریش اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبہ کو بچانے کی طاقت ن...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 6



سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط: 6 
=================

واقعہ اصحاب الفیل ۔۔۔ :

''کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا۔؟ کیا اس نے ان کی تدبیر کو نامراد نہیں بنا دیا؟ اللہ نے ان پر پرندوں (ابابیل) کے جھنڈ بھیجے جو ان پر (کنگر مٹی کی) کنکریاں پھینکتے تھے۔ اس طرح اللہ نے ان کو کھاۓ ہوۓ بھوسے کی طرح کردیا۔'' (سورہ الفیل، آیت 1 تا 5)

واقعہ اصحاب الفیل حضرت محمد مصطفی' صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت مبارکہ والے سال یعنی 571 عیسوی میں پیش آیا، جب یمن کا حبشی نژاد عیسائی حکمران "ابرھہ بن اشرم" 60 ہزار فوج اور 13 ہاتھی لےکر خانہ کعبہ کو گرانے کے ارادے سے مکہ پر حملہ آور ہوا۔

ابرھہ بن اشرم آغاز میں اس عیسائی فوج کا ایک سردار تھا جو شاہ حبشہ نے یمن کے حِمیری نسل کے یہودی فرماں روا "یوسف ذونواس" کے عیسائیوں پر ظلم و ستم کا بدلہ لینے کو بھیجی، جس نے 525 عیسوی تک اس پورے علاقے پر حبشی حکومت کی بنیاد رکھ دی ۔۔۔ ابرھہ بن اشرم رفتہ رفتہ ترقی کی منازل طے کرتا ہوا بالآخر یمن کا خود مختار بادشاہ بن بیٹھا، لیکن کمال چالاکی سے اس نے براۓ نام شاہ حبشہ کی بالادستی بھی تسلیم کیے رکھی اور اپنے آپ کو نائب شاہ حبشہ کہلواتا رہا۔

ابرھہ ایک کٹر متعصب عیسائی تھا ۔۔۔ اپنا اقتدار مضبوط کرلینے کے بعد اس نے عربوں میں عیسائیت پھیلانے کی سوچی، جبکہ اس کا دوسرا ارادہ عربوں کی تجارت پر قبضہ جمانا تھا۔

اس مقصد کےلئے اس نے یمن کے دارالحکومت "صنعاء" میں ایک عظیم الشان کلیسا (گرجا) تعمیر کرایا جسے عرب مؤرخین "القلیس" اور یونانی "ایکلیسیا" کہتے ہیں، اس کلیسا کی تعمیر سے اس کے دو مقاصد تھے، ایک تو عیسائیت کی تبلیغ کرکے عربوں کے حج کا رخ کعبہ سے اپنے کلیسا کی طرف موڑنا تھا اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتا تو اس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلتا کہ عربوں کی ساری تجارت جو ابھی تک خانہ کعبہ کی وجہ سے عربوں کے پاس تھی، وہ یمن کے حبشی عیسائیوں کے ہاتھ آ جاتی ۔۔۔

ابرھہ نے پہلے شاہ حبشہ کو اپنے اس ارادے کی اطلاع دی اور پھر یمن میں علی الاعلان منادی کرادی کہ " میں عربوں کا حج کعبہ سے اکلیسیا کی طرف موڑے بغیر نہ رہوں گا۔"

اس کے اس اعلان پر غضبناک ہوکر ایک عرب (حجازی) نے کسی نہ کسی طرح ابرھہ کے گرجا میں گھس کر رفع حاجت کر ڈالی، اپنے کلیسا کی اس توہین پر ابرھہ نے قسم کھائی کہ میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک کعبہ کو گرا نہ دوں۔

اس کے بعد سنہ 570 عیسوی کے آخر میں وہ 60 ہزار فوج اور 13 جسیم ہاتھی لےکر یمن سے مکہ پر حملہ آور ہونے کے ارادے سے نکلا، راستے میں دو عرب سرداروں نے اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی، مگر شکست کھائی اور ابرھہ کسی طوفان کی طرح مکہ کے مضافاتی مقام "المغمس" میں پہنچ گیا۔

یہاں ابرھہ کے لشکر نے پڑاؤ ڈالا، جبکہ چند دستوں نے اس کے حکم پر مکہ کے قریب میں لوٹ مار کی اور اہل تہامہ اور قریش کے بہت سے مویشی بھی لوٹ لیے گئے، جن میں مکہ کے سردار اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب بن ہاشم کے دو سو اونٹ بھی تھے، اس کے بعد ابرھہ نے ایک ایلچی مکہ کے سردار حضرت عبدالمطلب کے پاس بھیجا اور اس کے ذریعے اہل مکہ کو پیغام دیا کہ میں تم سے لڑنے نہیں آیا ہوں، بلکہ اس گھر (کعبہ) کو گرانے آیا ہوں، اگر تم نہ لڑو تو میں تمھاری جان و مال سے کوئی تعرض نہ کروں گا ۔۔۔

حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا: "ہم میں ابرھہ سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے، کعبہ اللہ کا گھر ہے، وہ چاہے گا تو اپنے گھر کو بچا لے گا۔"

ایلچی نے کہا: "آپ میرے ساتھ ابرھہ کے پاس چلیں" وہ اس پر راضی ہوگئے۔

حضرت عبدالمطلب بہت خوبصورت اور شاندار شخصیت کے مالک تھے، ابرھہ ان کی مردانہ وجاہت سے اتنا متأثر ہوا کہ اپنے تخت سے اتر کر ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا، پھر آپ سے پوچھا: "آپ کیا چاہتے ہیں؟"

انہوں نے کہا: "میرے جو اونٹ پکڑ لیے گئے ہیں، میں اپنے ان اونٹوں کی واپسی چاہتا ہوں۔"

ابرھہ ان کی بات سن کر سخت متعجب ہوا اور کہا: "آپ مجھ سے اپنے دوسو اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ تو کررہے ہیں، مگر اس بیت اللہ کا ذکر نہیں کرتے جو آپ کے اور آپ کے آباؤ اجداد کے دین کی بنیاد ہے، میں اسے گرانے آیا ہوں، مگر آپ کو اس کی کوئی فکر ہی نھیں۔"

یہ سن کر حضرت عبدالمطلب نے کہا: "ان اونٹوں کا مالک میں ہوں، اس لیے آپ سے ان کی واپسی کی درخواست کررہا ہوں، رہا یہ گھر تو اس گھر کا مالک اللہ ہے، وہ اس کی حفاظت خود کرے گا۔"

ابرھہ نے متکبرانہ انداز میں کہا: "کعبہ کو اب آپ کا اللہ بھی مجھ سے نہیں بچا سکے گا۔"

حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا: "یہ معاملہ آپ جانیں اور اللہ، لیکن یہ اس کا گھر ہے اور آج تک اس نے کسی کو اس پر مسلط نہیں ہونے دیا: " یہ کہہ کر وہ ابرھہ کے پاس سے اٹھ گئے اور ابرھہ سے واپس لیے گئے اونٹ لےکر مکہ آگئے۔

========> جاری ہے ۔۔۔

مرتب کردہ: الہدی انٹر نیشنل
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی.
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری.

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط: 6  ================= واقعہ اصحاب الفیل ۔۔۔ : '' کیا آپ نے ...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 5



*سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط: 5*
ا======================ا

*حضرت عبداللہ کی قربانی اور ان کی دِیت:*

حضرت ھاشم نے قیصر روم کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات قائم کرلیے تھے، چنانچہ اسی سلسلے میں شام کی طرف سفر کے دوران ان کی شادی بنو نجار کی ایک معزز خاتون سلمیٰ سے ہوئی، مگر بدقسمتی سے اسی سفر کے دوران حضرت ہاشم کا انتقال ہوگیا ۔۔۔

ان کی وفات کے بعد ان کا ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام " شیبہ " رکھا گیا، مگر چونکہ شیبہ کو ان کے چچا مطلب بن عبد مناف نے پالا پوسا تو شیبہ کو عبدالمطلب (مطلب کا غلام) کہا جانے لگا اور پھر انہیں تاریخ نے ہمیشہ اسی نام سے یاد رکھا۔

حضرت عبدالمطلب بے حد حسین جمیل، وجیہہ اور شاندار شخصیت کے مالک تھے، اللہ نے انہیں بےحد عزت سے نوازا اور وہ قریش مکہ کے اہم ترین سردار بنے، ایک مدت تک ان کی اولاد میں ایک ہی بیٹا تھا جن کا نام حارث تھا ۔۔۔ حضرت عبدالمطلب کو بہت خواہش تھی کہ وہ کثیر اولاد والے ہوں، چنانچہ انہوں نے منت مانی کہ اگر اللہ ان کو دس بیٹے عطا کرے گا اور وہ سب نوجوانی کی عمر تک پہنچ گئے تو وہ اپنا ایک بیٹا اللہ کی راہ میں قربان کردیں گے ۔۔۔

اللہ نے ان کی دعا اور منت کو شرف قبولیت بخشا اور ان کے دس یا بارہ بیٹے پیدا ہوئے جن میں سے ایک جناب حضرت عبداللہ تھے ۔۔۔ آپ حضرت عبدالمطلب کے سب سے چھوٹ بیٹے تھے اور نہ صرف اپنے والد کے بلکہ پورے خاندان کے بہت چہیتے تھے، حضرت عبدالمطلب کو ان سے بہت محبت تھی، 
دس بیٹوں کی پیدائش کے بعد جب تمام کے تمام نوجوانی کی عمر کو پہنچے تو حضرت عبدالمطلب کو اپنی منت یاد آئی، چنانچہ وہ اپنے سب بیٹوں کو لےکر حرم کعبہ میں پہنچ گئے، جب عربوں کے مخصوص طریقے سے قرعہ اندازی کی گئی تو قرعہ حضرت عبداللہ کے نام نکلا۔

حضرت عبدالمطلب یہ دیکھ کر بہت پریشان ہوئے، کیونکہ شدت محبت کی وجہ سے ان کا دل نہ چاہتا تھا کہ حضرت عبداللہ کو قربان کردیں، مگر چونکہ وہ منت مان چکے تھے تو اس کی خلاف ورزی بھی نہیں کرنا چاہتے تھے، چنانچہ حضرت عبداللہ کو لےکر قربان گاہ کی طرف بڑھے۔

یہ دیکھ کر خاندان بنو ہاشم کے افراد جن کو حضرت عبداللہ سے بہت لگاؤ تھا، بہت پریشان ہوئے، وہ حضرت عبدالمطلب کے پاس آۓ اور انہیں اس سلسلے میں یثرب (مدینہ) کی ایک کاہنہ عورت سے مشورہ کرنے کو کہا، چنانچہ جب اس کاہنہ عورت سے رابطہ کیا گیا تو اس نے اس کا حل یہ نکالا کہ حضرت عبداللہ کی جگہ خون بہا ادا کیا جائے، عربوں کے دیت (خون بہا) میں دس اونٹ دیے جاتے ہیں تو حضرت عبداللہ کے ساتھ دس دس اونٹوں کی قرعہ اندازی کی جاۓ اور یہ قرعہ اندازی تب تک جاری رکھی جاۓ جب تک قربانی کا قرعہ اونٹوں کے نام نہیں نکلتا۔

چنانچہ ایسے ہی کیا گیا اور بالآخر دسویں بار قرعہ حضرت عبداللہ کے بجاۓ اونٹوں پر نکلا، اس طرح ان کی جگہ سو اونٹوں کو قربان کیا گیا۔ حضرت عبداللہ کی شادی بنو زھرہ کے سردار وہب بن عبدمناف کی بیٹی جناب حضرت آمنہ سے ہوئی جن کے بطن سے تاجدار دوجہان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ ہوئی۔

اس سے پہلے کہ ہم کا باقاعدہ آغاز کریں، ضروری ہے کہ پیج میمبرز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے وقت قریش مکہ کے مذہبی، سیاسی، معاشرتی، معاشی اور تمدنی حالات سے روشناس کرایا جاۓ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش مبارکہ سے صرف پچاس دن پہلے ظہور پزیر ہونے والے واقعہ "عام الفیل" سے بھی آگاہ کیا جاۓ، جب حبشی نژاد "ابرھہ" خانہ کعبہ کو گرانے کے ارادے سے مکہ پر حملہ آور ہوا۔


=> جاری ہے ۔۔۔

مرتب کردہ: الہدی انٹر نیشنل
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی.
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری.

* سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط: 5 * ا======================ا *حضرت عبداللہ کی قربانی اور ان کی دِیت:* ...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 4


*سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط: 4* 
ا======================ا

*خانۂ کعبہ کی تولیت اور جملہ انتظام وانصرام:* 

پچھلی قسط میں قصی بن کلاب کا ذکر کیا گیا.. ایک روایت کے مطابق انہی کا لقب قریش تھا جس کی وجہ سے ان کی آل اولاد کو قریش کہا جانے لگا، جبکہ ایک دوسری روایت کے مطابق قصی بن کلاب سے چھ پشت پہلے بنی اسماعیل میں "فہر بن مالک" ایک بزرگ تھے جن کا لقب قریش تھا..

خانہ کعبہ کی تولیت ایک ایسا شرف تھا جس کی وجہ سے قصی بن کلاب اور ان کی اولاد کو نہ صرف مکہ بلکہ پورے جزیرہ نما عرب میں ایک خصوصی عزت و سیادت حاصل ہوگئی تھی اور پھر اس قریش (آل قصی بن کلاب) نے خود کو اس کے قابل ثابت بھی کیا۔

قصی بن کلاب نے نہ صرف خانہ کعبہ کا جملہ انتظام و انصرام کا بندوبست کیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مکہ کو باقاعدہ ایک ریاست کا روپ دے کر چھ مختلف شعبے قائم کیے اور انہیں قابل لوگوں میں تقسیم کیا، جسے ان کی وفات کے بعد ان کے پوتوں نے باہمی افہام و تفہیم سے چھ شعبوں سے بڑھا کر دس شعبوں میں تقسیم کرکے آپس میں بانٹ لیا اور یہی نظام بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک بڑی کامیابی سے چلایا گیا۔

اس تقسیم کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد امجد حضرت ہاشم کو سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانے کا کام)، عمارۃ البیت (حرم میں نظم و ضبط قائم رکھنا اور احترام حرم کا خیال رکھنا) اور افاضہ (حج کی قیادت کرنا) کی خدمات سونپی گئیں جو ان کے بعد بنو ہاشم کے خاندان میں نسل در نسل چلتی رہیں۔

حضرت ہاشم بن عبد مناف قصی بن کلاب کے پوتے تھے، نہایت ہی جلیل القدر بزرگ تھے، انہوں نے شاہ حبشہ اور قیصر روم سے بھی اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرلیے تھے، جبکہ مختلف قبائل عرب سے بھی معاہدات کرلیے، ان کی اس پالیسی کی وجہ سے قریش کے باقی قبائل میں بنو ہاشم کو ایک خصوصی عزت و احترام کا مقام حاصل ہوگیا تھا۔

ان کے علاوہ میدان جنگ میں فوج کی قیادت اور عَلم برداری کا شعبہ خاندان بنو امیہ کے حصے میں آیا، لشکر قریش کا سپہ سالار بنو امیہ سے ہی ہوتا تھا، چنانچہ "حرب" جو حضرت ہاشم کے بھتیجے امیہ کے بیٹے تھے، ان کو اور ان کے بیٹے حضرت ابوسفیان کو اسی وجہ سے قریش کے لشکر کی قیادت سونپی جاتی تھی۔

جبکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خاندان بنو تیم بن مرہ کو اشناق یعنی دیوانی و فوجداری عدالت، دیت و جرمانے کی وصولی اور تعین کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس کے علاوہ شعبہ سفارت حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے قبیلہ بنو عدی کے حصے میں آیا، ان کا کام دوسرے قبائل کے ساتھ مذاکرات، معاہدات اور سفارت کاری تھا۔

بنو مخزوم جو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا قبیلہ تھا، ان کے حصے میں "قبہ و اعنہ" کا شعبہ آیا، ان کا کام قومی ضروریات کے لیے مال و اسباب اکٹھا کرنا اور فوجی سازو سامان اور گھوڑوں کی فراہمی تھا، قریش کے گھڑ سوار دستے کا کمانڈر بھی اسی قبیلے سے ہوتا تھا، اپنا وقت آنے پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مدتوں شہہ سوار دستوں کی کمان نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالی۔

اسی طرح باقی پانچ شعبوں کی ذمہ داری مختلف قبائلِ قریش کے حوالے کردی گئی۔
(جاری)


استفادہ اور مرتب کردہ: الہدی انٹر نیشنل 
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی.
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری.

*سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط: 4*  ا======================ا * خانۂ کعبہ کی تولیت اور جملہ انتظام وانصرام ...

سیرت النبی ﷺ ۔۔۔ قسط نمبر: 3



*سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط نمبر: 3* 


*حضرت ابراہیم ؑ کی حجاز آمد کے بعد وقوع پزیر ہونے والے چند اہم واقعات:*

پچھلی قسط میں خانوادہ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت اور پھر ننھے اسماعیل علیہ السلام کے مبارک قدموں کے نیچے سے زم زم کے چشمے کے پھوٹ پڑنے کا ذکر کیا گیا، یہ چشمہ دراصل مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں زندگی کی نوید تھا، پہلے قبیلہ جرھم جو پانی کی تلاش میں عرب کے صحراؤں میں پھر رہا تھا، زم زم کے چشمہ کے پاس قیام پزیر ہوا اور پھر کچھ عرصہ بعد ایک اور قبیلہ بنی قطورا بھی حضرت ہاجرہ کی اجازت سے وہاں آباد ہوگیا۔

اور یوں مکہ جس کا قدیم اور اصل نام بکہ تھا (سورہ آل عمران) ایک باقاعدہ آبادی کا روپ اختیار کرگیا۔

اگلے 15، 20 سال میں چند اہم واقعات ظہور پزیر ہوئے، ان میں سے ایک تو حضرت ابراییم علیہ السلام کا وہ خواب ہے جس میں انہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم ہوا، یقیناً یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایک عظیم آزمائش تھی.

حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کا حکم پاکر مکہ تشریف لائے اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے اپنے خواب کا ذکر کیا، سعادت مند اور فرماں بردار بیٹے نے جو اس وقت لڑکپن کی عمر میں تھے یہ کہہ کر اپنی رضامندی ظاہر کردی کہ اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو پھر مجھے قبول ہے، آپ حکم ربی کو پورا کریں اور پھر عین اس وقت جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلانے والے تھے، اللہ نے ان کو آزمائش میں کامیاب پاکر حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ایک مینڈھے سمیت زمین پر بھیجا اور پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اس مینڈھے کی قربانی کی گئی۔

اللہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا یہ فعل اتنا پسند آیا کہ پھر تا قیامت اس قربانی کی یاد میں حج پر قربانی فرض کردی اور تب سے ہر سال یہ سنت ابراھیمی جاری ہے اور عید الاضحی' کے دن لاکھوں مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کرکے اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتے ہیں، حضرت اسماعیل مکہ میں ہی فوت ہوئے اور ایک روایت کے مطابق وہ اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ بیت اللہ کے ساتھ حجر (حطیم) میں مدفون ہیں۔ واللہ اعلم۔

دوسرا اہم واقعہ خانہ کعبہ کی ازسرنو تعمیر تھی، خانہ کعبہ حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا اور یہ زمین پر اللہ کا پہلا گھر تھا، مگر پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خانہ کعبہ کی عمارت بھی سطح زمین سے معدوم ہوگئی اور حضرت ابراھیم علیہ السلام کے زمانہ میں اس کا کوئی نشان تک ظاہر نہ تھا، لیکن پھر اللہ کے حکم پر حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی خانہ کعبہ کی بنیادوں کی طرف نشاندہی کی اور آپ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی پرانی بنیادوں پر تعمیر کی، اللہ کا یہ گھر ایسا سادہ تعمیر ہوا کہ اس کی نہ چھت تھی، نہ کوئی کواڑ اور نہ ہی کوئی چوکھٹ یا دروازہ۔

کعبہ کو "کعبہ" اس کی ساخت کے مکعب نما ہونے کی بنا پر کہا جاتا ہے، عربی میں چھ یکساں پہلوؤں والی چیز مکعب کہلاتی ہے، چونکہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کی تعمیر مکعب حالت میں تھی تو اسے کعبہ کہا جانے لگا، یاد رہے کہ موجودہ خانہ کعبہ چار کونوں والا ہے، جسے قریش مکہ نے اس وقت تعمیر کیا جب ایک سیلاب میں خانہ کعبہ کی عمارت منہدم ہوگئی تھی، اس کا ذکر آگے آۓ گا۔

تیسرا اہم واقعہ قبائل جرھم اور بنی قطورا کا حضرت ابراھیم علیہ السلام کی تبلیغ پر دین حنیف یعنی دین ابراھیمی قبول کرلینا تھا، خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد حضرت ابراھیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تولیت یعنی سارا مذہبی انتظام قبیلہ جرھم کے حوالے کردیا، بعد ازاں اسی قبیلہ کے سردار کی بیٹی سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شادی ہوئی۔

جب کچھ پشتوں بعد نسل اسماعیل علیہ السلام پھلی پھولی تو پھر خانہ کعبہ کا سارا انتظام خود آل اسماعیل نے سنبھال لیا، کچھ عرصہ گزرا تو ایک اور قبیلہ "ایاد" مکہ پر حملہ آور ہوا اور شھر پر زبردستی قبضہ کرلیا اور اس دوران بنی اسماعیل کے بہت سے قبائل کو مکہ سے نکلنا بھی پڑا، تاہم بعد میں یمن سے آنے والے ایک اور قبیلہ بنو خزاعہ نے مکہ کو بنی ایاد سے آزاد کرالیا۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے "قصی بن کلاب" وہ نامور بزرگ گزرے ہیں (جن کی شادی بنو خزاعہ کے رئیس کی بیٹی سے ہوئی تھی) جنہوں نے خانہ کعبہ کی تولیت واپس لینے کے لیے جدو جہد شروع کی اور بالآخر بنو خزاعہ کی بہت مخالفت کے باوجود اس مقصد میں کامیاب ہوئے، انہوں نے خانہ کعبہ کی تولیت کا انتظام پھر سے ملنے پر قدیم عمارت گرا دی اور خانہ کعبہ کو نئے سرے سے تعمیر کرایا اور پہلی بار کجھور کے پتوں کی چھت بھی ڈالی۔

درحقیقت قصی بن کلاب ہی وہ بزرگ تھے جنہوں نے مکہ کو ایک خانہ بدوشانہ شھر سے بدل کر ایک منظم ریاست کی شکل دی، انہیں بجا طور پر مکہ کا مطلق العنان بادشاہ کہا جاسکتا ہے، جن کا ہر لفظ قانون کی حیثیت رکھتا تھا، تاہم انہوں نے دیگر قبائل کے سرکردہ افراد کو اپنی مشاورت میں شامل رکھا، جبکہ مکہ کا انتظام و انصرام چلانے کے لیے مختلف انتظامی امور کو چھ شعبوں میں تقسیم کیا اور اپنی اولاد میں ان عہدوں کی تقسیم کی، یہ نظام بڑی کامیابی سے اگلے 150 سال سے زائد عرصہ تک چلا اور پھر بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جب مکہ فتح ہوا تو اسے اسلامی اصولوں اور بنیادوں پر تبدیل کردیا گیا۔
(جاری ہے)
=======/===========/========/==========

استفادہ اور مرتب کردہ: الہدی انٹر نیشنل
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی.
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری.

*سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط نمبر: 3*  * حضرت ابراہیم ؑ کی حجاز آمد کے بعد وقوع پزیر ہونے والے چند اہم واقعات :* ...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 2


*سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط: 2*


*عربوں کی تاریخ '' عرب اقوام ''*

مؤرخین عرب قوم کو تین گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں:

*عرب بائدہ:*

یہ قدیم عرب لوگ ہیں جو اس ملک میں آباد تھے، ان میں قوم عاد و ثمود کا نام آپ میں سے اکثر نے سن رکھا ہوگا، ان کے علاوہ عمالقہ، طسم، جدیس، امیم وغیرہ بھی اہم ہیں۔ ان لوگوں نے عراق سے لےکر شام اور مصر تک سلطنتیں قائم کرلی تھیں، بابل اور اشور کی سلطنتوں اور قدیم تمدن کے بانی یہی لوگ تھے۔

یہ قومیں کیسے صفحہ ہستی سے مٹ گئیں، اس کے متعلق تاریخ ہمیں تفصیل سے کچھ بتانے سے قاصر ہے، لیکن اب بابل، مصر، یمن اور عراق کے آثار قدیمہ سے انکشافات ہورہے ہیں اور کتابیں لکھی جارہی ہیں، جبکہ قوم عاد و ثمود کے حوالے سے قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ یہ قومیں اللہ کی نافرمانی اور سرکشی میں جب حد سے بڑھ گئیں تو ان کو عذاب الہی نے گھیر لیا اور یہ نیست و نابود ہوگئیں۔

*عرب عاربہ:*

عرب عاربہ کو بنو قحطان بھی کہا جاتا ہے، یہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام بن نوح کی اولاد سے ہیں اور یہ لوگ قدیم عرب (عاد ثمود وغیرہ) کی تباہی اور جزیرہ نما عرب سے مٹ جانے کے بعد یہاں آباد ہوئے۔

قحطان حضرت نوح علیہ السلام کا پوتا تھا جس کے نام پر یہ لوگ بنو قحطان کہلائے، پہلے پہل یہ لوگ یمن کے علاقے میں قیام پزیر ہوئے، مشھور ملکہ سبا یعنی حضرت بلقیس کا تعلق بھی بنو قحطان کی ایک شاخ سے تھا، پھر ایک دور آیا کہ بنو قحطان کو سرزمین عرب کے دوسرے علاقوں میں نقل مکانی بھی کرنا پڑی، اس کی ایک وجہ تووہ مشھور سیلاب ہے جو "مارب بند " ٹوٹ جانے کی وجہ سے آیا، جس کے نتیجے میں ان لوگوں کو جان بچانے کے لیے دوسرے علاقوں کا رخ کرنا پڑا، اس سیلاب کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔

اور دوسری وجہ یہ کہ جب ان کی آبادی پھیلی تو مجبوراً ان کے مختلف قبائل کو یمن سے نکل کر اپنے لیے نئے علاقے ڈھونڈنا پڑے جس کے نتیجے میں یہ لوگ جزیرہ نما عرب کے طول و عرض میں پھیل گئے، جبکہ کچھ قبائل شام و ایران اور عرب کے سرحدی علاقوں کی طرف بھی نکل گئے اور وہاں اپنی آبادیاں قائم کیں، جبکہ ایک قبیلہ بنو جرھم مکہ کی طرف جا نکلا اور زم زم کے چشمے کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے وہاں آباد ہوگیا۔

بنو قحطان کا ہی ایک قبیلہ آزد کا سردار ثعلبہ اپنے قبیلہ کے ساتھ یثرب (مدینہ ) کی طرف آیا اور یہاں جو چند خاندان بنی اسرائیل کے رہتے تھے انہیں مغلوب کرلیا، قلعے بناۓ اور نخلستان لگاۓ، اسی کی اولاد سے اوس اور خزرج مدینہ کے دو مشہور قبیلے تھے، جن کا تاریخ اسلام میں بہت اونچا مقام ہے۔

*عرب مستعربہ:*

سرزمین عرب پر سب سے آخر میں آباد ہونے والے بنو اسماعیل تھے، انہی کو عرب مستعربہ بھی کہا جاتا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنی زوجہ حضرت ہاجرہ اور شیرخوار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں لا بسایا اور خود واپس چلے گئے۔

یاد رہے کہ اس وقت نہ مکہ کی آبادی تھی اور نہ ہی خانہ کعبہ کا وجود، خانہ کعبہ ویسے تو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت تعمیر ہوا، مگر خانوادہ ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت کے وقت وہ تعمیر معدوم ہوچکی تھی اور پھر بعد میں جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر 15 سال کی تھی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ تشریف لاۓ تھے اور ان دونوں باپ بیٹے نے مل کر اللہ کے حکم پر اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کی رہنمائی اور نگرانی میں خانہ کعبہ کو انہی بنیادوں پر ازسر نو تعمیر کیا جن پر کبھی حضرت آدم علیہ السلام نے بنایا تھا۔

جب شدت گرمی اور پیاس سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی حالت خراب ہونا شروع ہوئی تو حضرت ہاجرہ۔ ایک عظیم ماں کی وہ بے قرار دوڑ شروع ہوئی جو آج بھی حج کا ایک لازم حصہ ہے۔

آپ پانی کی تلاش میں کبھی صفا پہاڑی پر چڑھ کر دور دور تک دیکھتیں کہ شاید کہیں پانی نظر آۓ اور کبھی صفا کی مخالف سمت میں مروہ پہاڑی پر چڑھ کر دیکھتیں، مگر وہاں پانی ہوتا تو نظر آتا، اس دوران جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کے رونے کی آواز ماں کے کانوں میں پڑتی تو بے قرار ہوکر ان کے پاس دوڑی دوڑی جاتیں اور جب ان کو پیاس سے جاں بلب اور روتا بلکتا دیکھتیں تو پھر دیوانہ وار پانی کی تلاش میں جاتیں۔

اسی اثناء میں کیا دیکھتی ہیں کہ جہاں ننھے اسماعیل علیہ السلام اپنی ایڑھیاں رگڑ رہے تھے وہاں سے پانی کسی چشمہ کی صورت ابل رہا ہے، بھاگ کر بیٹے کے پاس پہنچیں، اللہ کا شکر ادا کرتے ہوۓ بیٹے کو پانی پلایا، خود بھی پیا اور پھر اس چشمہ کے ارد گرد تالاب کی صورت میں مٹی کی منڈھیر بنادی، لیکن جب پانی مسلسل بڑھتے بڑھتے تالاب کے کناروں سے باہر نکلنے لگا تو بے اختیار آپ کے مونہہ سے نکلا:

*" زم زم " (ٹھہر جا ٹھہر جا)*

اور ان کے یہ فرماتے ہی پانی یکدم ٹھہر گیا۔

*زم زم قدرت کا کرشمہ:*

یہاں آپ سے زم زم کے کنویں کے متعلق ایک معجزاتی بات شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ موجودہ دور میں اس کنواں میں بڑی بڑی موٹریں لگا کر پانی نکالا جاتا ہے، کنویں میں پانی کا لیول خانہ کعبہ کی بنیادوں سے ہمیشہ 6 فٹ نیچے رہتا ہے، کنویں سے 24 گھنٹے لگاتار پانی نکالا جاتا ہے، جس کی مقدار ملیئنز آف ملیئنز گیلنز میں ہوتی ہے۔

اب دو بہت ہی عجیب باتیں ظہور پزیر ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ 24 گھنٹے میں مسلسل پانی نکالنے کی وجہ سے کنویں کا جو لیول کم ہوتا ہے وہ بہت تیزی سے محض گیارہ منٹوں میں اپنی اصل جگہ پر واپس آجاتا ہے اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اتنی تیزی سے اوپر چڑھنے والا پانی ہمیشہ ہی اپنے لیول یعنی خانہ کعبہ کی بنیادوں سے 6 فٹ نیچے پہنچ کر خود بخود رک جاتا ہے۔

*یہ اوپر کیوں نہیں چڑھتا؟*

اور اگر یہ پانی خود بخود نہ رک جاۓ تو تب غور کریں کہ اگر 24 گھنٹے نکالا جانے والا پانی صرف 11 منٹوں میں پورا ہوجاتا ہے تو اگر یہ پانی نہ رکے اور اوپر چڑھ کر باہر بہنا شروع کردے تو تب کیا صورت پیدا ہوگی..؟

یقیناً یہ حضرت ہاجرہ کے مبارک فرمان یعنی "زم زم۔ ٹھہرجا ٹھہرجا" کی برکت ہے کہ یہ اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتا اور جتنا بھی اس سے پانی نکال لیا جاۓ یہ بس اپنے اسی لیول تک آ کر خود بخود رک جاتا ہے، جہاں کبھی اسے حضرت ہاجرہ نے روکا تھا۔

اب اصل موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔

اوپر بنو قحطان کے ایک قبیلہ جرھم کا ذکر کیا گیا۔ سرزمین عرب کیونکہ زیادہ تر صحرا اور لق و دق پہاڑی علاقہ پر مشتمل ہے اور پانی بہت نایاب ہے تو کسی جگہ آبادی کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہاں پانی میسر ہو، قبیلہ جرھم جب اپنے علاقہ یمن سے نئے وطن کی تلاش میں نکلا تو دوران سفر جب مکہ کی وادی میں پہنچا تو وہاں ان کو زم زم کے چشمہ کی وجہ سے ٹھہرنا مناسب لگا، کیونکہ چشمہ کی مالک حضرت ہاجرہ تھیں تو انہوں نے بی بی ہاجرہ کی اجازت سے چشمہ کے ساتھ میں ڈیرے ڈال دیئے اور آباد ہوگئے، یوں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک مضبوط عربی قبیلہ کا ساتھ میسر آیا، بعد ازاں اسی قبیلہ کے سردار کی بیٹی کے ساتھ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شادی ہوئی جبکہ خانہ کعبہ بھی ازسر نو تعمیر ہوا۔

یوں مکہ بے آب وگیاہ وادی سے ایک آباد شھر کا روپ اختیار کر گیا۔


مرتب کردہ: الہدی انٹر نیشنل
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی.
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری.

(جاری)

*سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط: 2* * عربوں کی تاریخ '' عرب اقوام ''* مؤرخین عرب قوم کو تین ...

سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 1


*سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط: 1* 



*سرزمینِ عرب اور قومِ عرب کا مختصر جائزہ:*

آج سے سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پاک کے تذکرہ سے پہلے بہت ضروری ہے کہ آپ کو سرزمین عرب اور عرب قوم اور اس دور کے عمومی حالات سے روشناس کرایا جائے، تاکہ آپ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے وقت عرب اور دنیا کے حالات کیسے تھے۔

ملک عرب ایک جزیرہ نما ہے، جس کے جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں خلیج فارس و بحیرہ عمان، مغرب میں بحیرہ قلزم ہے، تین اطراف سے پانی میں گھرے اس ملک کے شمال میں شام کا ملک واقع ہے، مجموعی طور پر اس ملک کا اکثر حصہ ریگستانوں اور غیر آباد، بےآب و گیاہ وادیوں پر مشتمل ہے، جبکہ چند علاقے اپنی سرسبزی اور شادابی کے لیے بھی مشھور ہیں۔ طبعی لحاظ سے اس ملک کے پانچ حصے ہیں۔

*یمن:*

یمن جزیرہ عرب کا سب سے زرخیز علاقہ رہا ہے، جس کو پر امن ہونے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا، آب وہوا معتدل ہے اور اس کے پہاڑوں کے درمیان وسیع و شاداب وادیاں ہیں، جہاں پھل و سبزیاں بکثرت پیدا ہوتے ہیں، قوم "سبا" کا مسکن عرب کا یہی علاقہ تھا جس نے آبپاشی کے لیے بہت سے بند (ڈیم) بنائے جن میں "مأرب" نام کا مشھور بند بھی تھا، اس قوم کی نافرمانی کی وجہ سے جب ان پر عذاب آیا تو یہی بند ٹوٹ گیا تھا اور ایک عظیم سیلاب آیا جس کی وجہ سے قوم سبا عرب کے طول و عرض میں منتشر ہوگئی۔

*حجاز:*

یمن کے شمال میں حجاز کا علاقہ واقع ہے، حجاز ملک عرب کا وہ حصہ ہے جسے اللہ نے نور ہدایت کی شمع فروزاں کرنے کے لیے منتخب کیا، اس خطہ کا مرکزی شھر مکہ مکرمہ ہے جو بے آب و گیاہ وادیوں اور پہاڑوں پر مشتمل ایک ریگستانی علاقہ ہے، حجاز کا دوسرا اہم شھر یثرب ہے، جو بعد میں مدینۃ النبی کہلایا، جبکہ مکہ کے مشرق میں طائف کا شھر ہے جو اپنے سرسبز اور لہلہاتے کھیتوں اور سایہ دار نخلستانوں اور مختلف پھلوں کی کثرت کی وجہ سے عرب کے ریگستان میں جنت ارضی کی مثل ہے، حجاز میں بدر، احد، بئر معونہ، حدیبیہ اور خیبر کی وادیاں بھی قابل ذکر ہیں۔

*نجد:*

ملک عرب کا ایک اہم حصہ نجد ہے، جو حجاز کے مشرق میں ہے اور جہاں آج کل سعودی عرب کا دارالحکومت "الریاض" واقع ہے۔

*حضرموت:*

یہ یمن کے مشرق میں ساحلی علاقہ ہے، بظاہر ویران علاقہ ہے، پرانے زمانے میں یہاں "ظفار" اور "شیبان" نامی دو شھر تھے۔

*مشرقی ساحلی علاقے (عرب امارات):*

ان میں عمان، الاحساء اور بحرین کے علاقے شامل ہیں، یہاں سے پرانے زمانے میں سمندر سے موتی نکالے جاتے تھے، جبکہ آج کل یہ علاقہ تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔

*وادی سَیناء:*

حجاز کے شمال مشرق میں خلیج سویز اور خلیج ایلہ کے درمیان وادی سیناء کا علاقہ ہے، جہاں قوم موسی' علیہ السلام چالیس سال تک صحرانوردی کرتی رہی، طور سیناء بھی یہیں واقع ہے، جہاں حضرت موسی' علیہ السلام کو تورات کی تختیاں دی گئیں۔

*نوٹ:* 
ایک بات ذہن میں رکھیں کہ اصل ملک عرب میں آج کے سعودی عرب، یمن، بحرین، عمان کا علاقہ شامل تھا جبکہ شام، عراق اور مصر جیسے ممالک بعد میں فتح ہوئے اور عربوں کی ایک کثیر تعداد وہاں نقل مکانی کرکے آباد ہوئی اور نتیجتاً یہ ملک بھی عربی رنگ میں ڈھل گئے، لیکن اصل عرب علاقہ وہی ہے جو موجودہ سعودیہ، بحرین، عمان اور یمن کے علاقہ پر مشتمل ہے اور اس جزیرہ نما کی شکل نقشہ میں واضح طور دیکھی جاسکتی ہے۔

*عرب کو "عرب" کا نام کیوں دیا گیا؟*

اس کے متعلق دو آراء ہیں۔ ایک رائے کے مطابق عرب کے لفظی معنی "فصاحت اور زبان آوری" کے ہیں۔ عربی لوگ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے دیگر اقوام کو اپنا ہم پایہ اور ہم پلہ نہیں سمجھتے تھے، اس لیے اپنے آپ کو عرب (فصیح البیان) اور باقی دنیا کو عجم (گونگا) کہتے تھے۔

دوسری رائے کے مطابق لفظ عرب "عربہ" سے نکلا ہے، جس کے معنی صحرا اور ریگستان کے ہیں، چونکہ اس ملک کا بیشتر حصہ دشت و صحرا پر مشتمل ہے، اس لیے سارے ملک کو عرب کہا جانے لگا۔ (جاری)


استفادہ اور مرتب کردہ: الہدی انٹر نیشنل 
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی.
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری.

*سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قسط: 1*  * سرزمینِ عرب اور قومِ عرب کا مختصر جائزہ :* آج سے سیرت النبی کریم ...