حدیث ۔ اوامر و نواہی ۔ موضوعاتی درجہ بندی۔1 - پیغام قرآن و حدیث

پیر، 27 مئی، 2013

حدیث ۔ اوامر و نواہی ۔ موضوعاتی درجہ بندی۔1

 اوامر و نواہی ۔ موضوعاتی درجہ بندی۔1


۱۶۔ کھانے پینے کے آداب
٭ جب مجھے بھوک لگے تواللہ کویاد کر کے عاجزی اور گریہ ¿ و زاری کروں اور جب آپ کی طرف سے مجھے کھانا ملے اور میرا پیٹ بھرے تو میں آپ کی حمد اور آپ کا شکر کروں (مسند احمد، ترمذی) 
٭ کھانے سے پہلے اور اس کے بعد ہاتھ اور منہ کا دھونا باعث برکت ہے۔ (جامع ترمذی‘ ابوداو ¿د)
٭کھانے سے پہلے بسم اﷲ پڑھو ،اگر بھول جاﺅ تو بعد میں بِسمِ اﷲِ اَوَّلَہ وَآخِرَہ پڑھ لو۔(ابو داو ¿د ترمذی)
٭ جوتے اُتار کر کھانا کھایا کرو۔ اس طرح پاو ں کو زیادہ راحت ملے گی۔ (مسند دارمی)
٭کچھ ٹھنڈا کرکے کھانا زیادہ برکت کا باعث ہوتا ہے۔ (مسند دارمی)
٭ خوب کھاو پیو ، صدقہ کرو یا کپڑے بناکر پہنو بس اسراف اورتکبر نہ ہو۔ (مسند احمد نسائی‘ابن ماجہ) 
٭حلال کو اپنے اوپر حرام کرنے اور اپنے مال کو برباد کرنے کا نام زُہد نہیں ہے(ترمذی وابن ماجہ) 
٭ مردہ مچھلی اور مردہ ٹڈی حلال ہیں۔ خون کی دواقسام کلیجی اور تلی بھی حلال ہیں۔ (مسند احمد، ابن ماجہ ) 
٭رسول اﷲ ﷺ کو کدو بہت پسند تھے(بیوع، بخاری) 
٭نبی ﷺ نے کبھی کسی کھانے کو بُرا نہیں کہا۔ اگر دل چاہتا تو اسے کھالیتے ورنہ چھوڑ دیتے(مناقب، بخاری)
 ٭بسم اﷲ پڑھ کر داہنے ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھاﺅ
٭ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے
٭نبی ﷺ نے کھانے کو کبھی بُرا نہیں کہا اور کبھی تکیہ لگا کر نہیں کھا نا نہیں کھایا
٭ریشم اور دیباج نہ پہنو اور کھانے پینے کے لئے سونے چاندی کے برتن استعمال نہ کرو
٭تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے جب تک انگلیاں نہ چاٹ لے (اطعمہ، بخاری)
٭ نبی ﷺ نے آبِ زم زم کھڑے ہوکر پیا۔ آپ ﷺ پانی پیتے ہوئے تین دفعہ سانس لیا کرتے تھے(اشربہ، بخاری)

۲۶۔کفر اور اقسامِ کفر
٭ اے لوگو! تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے لگو(علم، بخاری) 
٭جس شخص نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کوجان بوجھ کر اپنا باپ بنایا وہ کافر ہوگیا اور جو شخص اپنے آپ کو کسی دوسری قوم کا بتلائے، جس میں سے وہ نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے (مناقب، بخاری)

۳۶۔ گرگٹ اور زہریلے جانور
٭رسول اﷲﷺ نے گرگٹ کے مارنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ ابراہیم ؑ کی آگ پر پھونکتا تھا (انبیائ، بخاری)
٭اﷲ تعالیٰ کے پورے کلموں کے ذریعے سے ہر شیطان اور زہریلے، ہلاک کرنے والے جانور سے اور ہر نظر لگانے والی آنکھ سے پناہ مانگتا ہوں(انبیائ، بخاری)

۴۶۔گمشدہ، لاوارث اشیائ
٭ لاوارث چیز کا حکم:سال بھر اس کی تشہیر کرکے اس کے اصل مالک کو تلاش کرنا۔ پھر اگر مالک نہ ملے تو اس چیزسے فائدہ اٹھا سکتاہے ۔لیکن اگر سال بھر بعد بھی مالک آجائے تو اس کے حوالے کرنا ہوگا(علم، بخاری) 
٭ ابی بن کعبؓ کو سو دینار کی ایک تھیلی پڑی ہوئی ملی تو آپ ﷺنے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے واپس کردینا ورنہ اپنے خرچ میں اسے استعمال کرلو(لقطہ،بخاری)

۵۶۔لباس ، خضاب اور مہندی
ریشمی کپڑے کا تانا بانا دونوں ریشمی ہوں تو قطعاََ حرام ہے۔ اگر صرف تانا ریشمی ہو تو حلال اور اگر صرف باناریشمی ہو تو مجبوراََ اجازت ہے (جہاد ، بخاری) 
٭یہود اور نصاریٰ بالوں میں خضاب نہیں کرتے تم ان کے خلاف کرو یعنی خضاب لگایاکرو(انبیائ، بخاری) 
٭جس نے ٹخنوں سے نیچا کپڑا پہنا تو وہ کپڑا اپنے پہننے والے کو جہنم میں لے جائے گا
٭ جس مردنے دنیا میں ریشمی لباس پہنا وہ آخرت میں نہ پہنے گا
٭ سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا منع ہے
٭ ریشمی کپڑا حریر اور دیباج وغیرہ پہننایا ان کو بستر بنانا منع ہے
٭نبی ﷺ نے مرد کو زعفرانی رنگ کا کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے
٭آپ ﷺ جوتے سمیت نماز پڑھ لیتے تھے
٭ایک پاو ¿ں میں جوتا پہن کر نہ چل ویا تو دونوں جوتے پہنو یا دونوں اتاردو
٭ داڑھی بڑھاو ¿ اور مونچھیں کترواو ¿ کیونکہ مشرکین داڑھی کاٹتے ہیں اور مونچھیں بڑھاتے ہیں 
٭ آپ ﷺ نے سر کے بعض حصہ کے بال کٹوانے اور بعض کے نہ کٹوانے سے منع فرمایا
٭حضرت عائشہ ؓ نبی ﷺ کو اپنے ہاتھوں سے اس وقت کی سب سے عمدہ خوشبو لگایا کرتی تھی (لباس، بخاری) مہندی: 
٭ عورت مہندی لگاکر اپنے ہاتھو ں کی صورت بدلے(سنن ابی داو ¿د)

۶۶۔ لعنت و ہلاکت کے اسباب
٭ گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت ہے(بیوع، بخاری) 
٭ نبی ﷺ نے زنانے مخنث مَردوں پر اور مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ فرمایا کہ ان کو گھر سے نکال دو(لباس، بخاری)
 ٭بلا وجہ اختلاف نہ کرو۔ تم سے پہلے لوگوں نے اختلاف کیا تھا، اسی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئے(خصومات، بخاری)


۷۶۔ مجلس اور راستے کے آداب
٭مجلس میں کسی دوسرے کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنا منع ہے
٭جب تین آدمی ایک جگہ جمع ہوں تو تیسرے کو بغیر شریک کئے آپس میں آہستہ کوئی بات نہ کرو(اجازت، بخاری) 
٭زیادہ مت ہنسا کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے ( ترمذی) 
٭راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔ اگر بیٹھو توراستے پر بیٹھنے کے حقوق ادا کرو۔نگاہ نیچی رکھو، ایذارسانی سے بچو، سلام کا جواب دو، اچھی باتوں کی تلقین اور بری باتوں سے روکو
٭جب راستے کی زمین کے بارے میں جھگڑا کھڑا ہوجائے تو سات ہاتھ چھوڑ دینا چاہئے(مظالم، بخاری) 
٭جو مسجدوں یا بازاروں میں تیر (ہتھیار) کے ساتھ گزرے تو اسے چاہیے کہ اس کی پیکانوں کو پکڑلے (الصلوٰة، بخاری) 
٭کوئی شخص اپنے دینی بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے(فتن، بخاری)


۸۶۔مسجد کے آداب
٭مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا دفن کردینا اس کا کفارہ ہے
 ٭جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہوتو اسے چاہیئے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز (تحیة المسجد) پڑھ لے
 ٭جو اﷲ کی رضا کے حصول کے لئے مسجد بنائے، اﷲ اس کے لیے جنت میں مکان بنا دیتا ہے 
٭سیدنا عبداﷲ بن زید انصاریؓ نے نبی ﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا (الصلوٰة، بخاری) 
٭ پوری زمین مسجد اور پاک بنادی گئی ہے کہ جہاں بھی نماز کا وقت آجائے وہیں نماز پڑھ لی جائے(تیمم، بخاری) ٭مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت تحیة المسجد پڑھو 
٭ کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ پر نہ بیٹھے(جمعہ، بخاری)
 ٭ مسلمان یہود و نصاریٰ کی طرح مسجدوں کی آرائش و زیبائش کرنے لگیں گے (سنن ابی داو ¿د)

۹۶۔مسلمان اور مومن
٭ پکامسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان ایذانہ پائیں(ایمان، بخاری) 
٭ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے (ایمان، بخاری) 
٭مسلمانوں کے خون، مال اور عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں(علم، بخاری) 
٭جو کوئی ہمارے جیسی نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہی مسلمان ہے 
٭مومن، مومن کے لئے عمارت کے مثل ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت دیتا ہے (الصلوٰة، بخاری) 
٭مومن کی مثال تازہ کھیتی کے مانند ہے کہ جس طرف سے ہوا آتی ہے اسے جھکا دیتی ہے اور ہوا کے نہ ہونے کے وقت سیدھی ہوجاتی ہے۔ پس مومن اس طرح بلا سے بچا رہتا ہے (مرض، بخاری) 
٭ دوسروں کے لےے بھی وہی پسند کرو، جو اپنے لئے پسند کرتے ہو(مسند احمد)
٭دوسروں کے لےے بھی اُنہی چیزوں کو ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو(مسند احمد)
٭مسلم وہ ہے جس کی زبان درازیوں اور دست درازیوں سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں(ترمذی ، نسائی)
٭ مومن وہ ہے جس کی طرف سے لوگوں کے جان و مال کو کوئی خوف و خطرہ نہ ہو(ترمذی ، نسائی)
٭مسلمان بزدل اوربخیل ہوسکتا ہے لیکن مسلمان کذاب یعنی بہت جھوٹا نہیں ہوسکتا۔(رواہ مالک و بیہقی ) 
٭مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے۔ ضرر کو اس سے دفع کرتا ہے، اس کے پیچھے اس کی پاسبانی کرتا ہے ( ترمذی) 
٭ مسلمان کو ستانے اور اُنہیں شرمندہ کرنے سے بازرہو(جامع ترمذی)


۰۷۔مصیبت ، مشکلات اور آزمائش
٭جو شخص بیٹیوں کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہواتو وہ بیٹیاں اس کے لیے دوزخ سے حجاب ہوجاتی ہیں(بخاری) 
٭ اپنے کسی بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار مت کرو ۔اگر تم ایسا کرو گے تو ہوسکتا ہے کہ اﷲ اُس کو اِس مصیبت سے نجات دیدے اور تمہیں اس میں مبتلا کردے۔ ( ترمذی) 
٭ جب کوئی تکلیف پیش آئے تو اس تکلیف کے اُخروی ثواب کی رغبت تمہارے دل میں زیادہ ہو بہ نسبت اس خواہش کے کہ وہ تکلیف دہ بات تم کو پیش ہی نہ آتی (ترمذی وابن ماجہ)

۱۷۔ معافی، مغفرت اور خطائیں
٭اپنے خادم کا قصور دن میں ستر دفعہ بھی معاف کرنا پڑے تو معاف کرو ( ترمذی) 
٭ کینہ و دشمنی ختم کرکے دلوں کے صاف ہونے تک مومن کی معافی کا فیصلہ روک لیا جاتا ہے ( مسلم)
٭جو مسلمان عام اہلِ ایمان کے لئے اﷲ تعالیٰ سے مغفرت مانگے گا ،اس کے لئے ہر مومن مرد و عورت کے حساب سے ایک ایک نیکی لکھی جائے گی ۔ (طبرانی)
٭جو نبیﷺ پر ایک صلوٰة بھیجے اﷲ تعالیٰ اس پر دس صلوٰاتیں بھیجتا ہے، اس کی دس خطائیں معاف کردی جاتی ہیں اور اس کے دس درجے بلند کردئیے جاتے ہیں۔ (نسائی)


۲۷۔مکہ مدینہ:، بیت اللہ اور مسجد بنویﷺ
٭مکہ میں جنگ و جدل وغیرہ کو اﷲ نے حرام کیا ہے(علم، بخاری)
٭ یہ جائز نہیں کہ مکہ میں خون ریزی کی جائے اور نہ یہ جائز ہے کہ وہاں کوئی درخت کاٹا جائے(علم، بخاری) 
٭مکہ میں قتال کرنا نہ مجھ سے پہلے کسی کے لےے حلال ہوا ہے اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا
٭مکہ کا کانٹا نہ توڑا جائے اورنہ اس کا درخت کاٹا جائے(علم، بخاری) 
٭ مکہ میں گری ہوئی لاوارث چیز کوسوائے اعلان کرنے والے کے کوئی اورنہ اٹھائے(علم، بخاری) 
٭نبی ﷺ کعبہ کے اندر ایک ستون کو بائیں جانب ، ایک ستون کو داہنی جانب اور تین ستونوں کو پیچھے کر کے نماز پڑھی (سترہ، بخاری) 
٭مسجد نبوی ﷺ کی نمازبیت اللہ کے سوا باقی تمام مسجدوں کی نماز ایک ہزار درجے افضل ہے
٭رسول اﷲ ﷺ مسجدِ قبا کی زیارت کو سوار اور پیدل جایا کرتے تھے
٭میرے گھر اور منبر کے درمیان ایک جنت کا ٹکڑا (ریاض الجنہ) ہے
٭ میرا منبر میرے حوض پر ہے(فضائل مساجد مکہ مدینہ، بخاری) 
٭کعبة اللہ، مسجد نبوی اور بیت المقدس کے علاوہ کسی اور مسجد کی زیارت کے لیے سفر (شدر حال ) نہ کیا جائے
٭ اہلِ مدینہ کے ساتھ فریب کرنے والا اس طرح گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے(شکار،بخاری) 
٭ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے۔ (صحیح مسلم)
٭ مدینہ کے دونوں طرف کے دروں کے درمیان پورا رقبہ واجب الاحترام ہے۔ اس میں خوں ریزی کرو نہ ہتھیاراٹھاﺅ۔ چارے کی ضرورت کے سوا درختوں کے پتے بھی نہ جھاڑو۔ ( مسلم)
٭جو اس کی کوشش کرسکے کہ مدینہ میں اس کی موت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ مدینہ میں مرے میں ان لوگوں کی ضرور شفاعت کروں گا جو مدینہ میں مریں گے ۔ (مسند احمد، جامع ترمذی) 
٭ جس نے حج کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی۔ (بیہقی) 
٭روئے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اپنی قبرکا ہونا مجھے مدینہ سے زیادہ محبوب ہو۔(موطا امام مالک)

۳۷۔منافق کی پہچان
٭ پکے منافق کی چار پہچان: جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب لڑے تو بےہودہ گوئی کرے(ایمان، بخاری)

۴۷۔میت ،جنازہ، قبر،سوگ
٭ کسی مسلمان کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت پر اُحد پہاڑ کے برابر کادو حصہ ثواب ملتا ہے(ایمان، بخاری) 
٭ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کی ممانعت کی جاتی تھی
٭ شوہر کی وفات پر چار مہینہ دس دن تک سوگ ہے۔اس دوران سرمہ، خوشبو اور رنگین کپڑوں سے اجتناب کرناچاہئے 
٭عورتوں کو جنازوں کے ہمراہ جانے کی ممانعت کردی گئی تھی(حیض، بخاری) 
٭ نجاشی کی وفات پر آپ ﷺ نے لوگوں کو کھڑا کرکے چار تکبیریں کہیں اور غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی
٭جس مسلمان کے تین نابالغ بچے وفات پاجائیں تو اﷲاسے جنت عطا کرے گا
٭میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ مرتبہ غسل دو اور اخیر میں کافور ملادو
٭ رسول اﷲﷺ کو یمن کے تین سفید سوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا
٭ہم عورتوں کو جنازوں کے ہمراہ جانے سے منع کردیا گیا تھا ، اُمّ ِعطیہؓ 
٭ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں مگر بیوی شوہر کا سوگ چار مہینے اور دس د ن کرے
٭صبر شروع صدمہ کے وقت معتبر ہوتا ہے
٭اگر کسی نے مرنے والے پر نوحہ کیا تو نوحہ کرنے کی وجہ سے اُس پر عذاب کیا جائے گا
٭ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو غم میں اپنے رخساروں پر طمانچے مارے اور گریبان پھاڑے ٭نبی ﷺ نے غم میں چِلا نے ، سر منڈوانے اور گریبان وغیرہ پھاڑنے والی عورت سے برا ¿ت ظاہر فرمائی
٭اﷲ تعالیٰ آنسو بہانے پر عذاب نہیں کرتا اور نہ ہی دل کے رنج کی وجہ سے عذاب کرتا ہے 
٭میت پر اس کے اقربا کے ناجائز طور پر رونے کی وجہ سے عذاب کیا جاتا ہے
٭ رسول اﷲ ﷺ نے ہم لوگوں سے بیعت کے وقت یہ عہد لیا تھا کہ ہم نوحہ نہ کریں گی،اُمّ ِعطیہؓ 
٭جب تم میں سے کوئی شخص جنازہ کو دیکھے تو اگر اس کے ساتھ نہ جارہا ہوتو کم از کم کھڑا ہوجائے
٭ جو شخص جنازہ کے ہمراہ جائے اس کو ایک قیراط ثواب ملے گا ٭ مُردوں کو برابھلا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جیسا بھی عمل کیا تھا اس کا بدلہ پالیا 
٭سورہ ¿ فاتحہ کا نمازِ جنازہ میں پڑھنا سنت ہے(نمازِجنازہ، بخاری) 
٭تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے کہ اس کی نیکی میں اضافہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے رُک جائے۔(تمنی، بخاری) 
٭ جس مسلمان کی نماز جنازہ چالیس ایسے آدمی پڑھیں جن کی زندگی شرک سے پاک ہو اور وہ نماز میں اس میت کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا کریں تو اﷲان کی دعاضرور قبول فرماتا ہے (مسلم) 
٭ کسی مسلم میت کی نماز جنازہ میں تین صفیں ہوںتو اﷲ اس کی مغفرت اور جنت واجب کردیتا ہے (ابی داو ¿د)

موت:
 ٭ لذتوں کو توڑدینے والی موت کو زیادہ یاد کرو تو وہ تمہیں غفلت میں مبتلا نہ ہونے دے(ترمذی) 
٭انسان موت کو پسند نہیں کرتا حالانکہ موت اس کے لئے فتنہ سے بہتر ہے(مسند احمد) (مسند احمد) 
٭ موت مومن کا تحفہ ہے۔ (بیہقی)
٭مرنے والوں کو کلمہ لا الٰہ الا اﷲ کی تلقین کیا کرو (صحیح مسلم)
٭تم اپنے مرنے والوں پر سورة یٰسین پڑھا کرو (مسند احمد، سنن ابو داو ¿د، سنن ابن ماجہ)
٭جب کسی کابچہ انتقال کر جاتا ہے اور وہ بندہ اللہ کی حمد بیان کرکے انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہے تو اﷲ اس کے لئے جنت میں بیت الحمد نامی ایک عالیشان گھر تیار کرواتا ہے (مسند احمد، ترمذی)
٭انسان کے دل پربھی زنگ چڑھ جاتا ہے جسے موت کی یاد اور تلاوتِ قرآن سے دور کیا جاسکتا ہے (بیہقی)

قبر:
 ٭ قبر کے سوالات: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے ؟یعنی حضرت محمد کون ہیں؟ (مسند احمد، ابوداو ¿د)
٭ نیک مردہ کی قبر میں جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے جہاں سے جنت کی خوشبو دار ہوائیں آتی ہیں اوراس کے لئے منتہائے نظرتک کشادگی کردی جاتی ہے(مسند احمد، ابوداو ¿د)
٭کافر مردہ کے لئے دوزخ کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے دوزخ کی گرمی اور جلانے جھلسانے والی ہوائیں اس کے پاس آتی رہیں گی اور اس کی قبر اس پر نہایت تنگ کردی جائے گی(مسند احمد، ابوداو ¿د)
٭ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے۔یہاں سے نجات پاگیا تو آگے کی منزلیں نسبتاََآسان ہیں(ترمذی)
٭ قبر و دوزخ کے عذاب ،ظاہری و باطنی فتنوں اوردجال کے فتنے سے اﷲ کی پناہ مانگو (مسلم) 
٭ قبروں کو پختہ کر نے، اس پر عمارت بنانے یا اس پر بیٹھنے کی ممانعت ہے (مسلم)
٭ نہ تو قبروں کے اوپر بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کرکے نماز پڑھو ( مسلم)


ایصال ثواب: 
٭ مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لئے کنواں کھدوانااحسن کام ہے۔ ( ابو داو ¿د،سنن نسائی)


۵۷۔ نام رکھنا اور عقیقہ کرنا
٭اﷲ کو سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نام عبداﷲ اور عبدالرحمن ہیں( مسلم) 
٭ جسے ا ﷲ تعالیٰ اولاد دے تو چاہئے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو اچھی تربیت کرے(بیہقی) 
٭عقیقہ میں لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرو۔ ( ابی داو ¿د، نسائی)
٭ نبی نے حسنؓ کے عقیقہ میں ایک بکری کی قربانی اور بالوںکے وزن بھر چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا(ترمذی)
٭نبی ﷺ نے کھجور چبا کر نومولود کے منہ (تالو) میں لگادی اور اس کے لےے برکت کی دعا کی
٭لڑکے کا عقیقہ کرنا لازم ہے۔ اس کی طرف سے خون گراو ¿ اور تکلیف دُور کرو (عقیقہ، بخاری)


۶۷۔ نجات کا آسان طریقہ
٭جو چُپ رہا وہ نجات پاگیا (مسند احمد، جامع ترمذی، مسند دار می،بیہقی)
٭نجات حاصل کرنے کا گُر :زبان پر قابو رکھنا اور اپنے گناہوں پر اﷲ کے حضور میں رونا(جامع ترمذی)


۷۷۔ نعمت، کفرانِ نعمت
٭دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے۔ صحت و تندرستی اور فرصت کے لمحات 
٭ جس کو اﷲ نے لمبی عمر عطا کی حتیٰ کہ ساٹھ برس کی عمر کو پہنچ گیا۔ پھر اﷲ اس کے کسی عذر کو قبول نہیں کرتا(رقاق، بخاری) 
٭جوانی کو بڑھاپا آنے سے پہلے، تندرستی کو بیمار ہونے سے پہلے ،خوشحالی کو تنگدستی سے پہلے، فراغت کو،مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت آنے سے پہلے غنیمت جانو(جامع ترمذی)

۸۷۔ نماز: اوقات، صفات اور اقسام
٭ دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں(ایمان، بخاری) 
٭اﷲ نے رات اور دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں (زکوٰة، بخاری)
٭ نماز یوں کے امام کو چاہیے کہ ہر رکن کے ادا کرنے میں تخفیف کرکے لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرے(علم، بخاری) 
٭معراج میں پانچ نمازیں مقرر کی گئیں جو ثواب میں پچاس نمازوں کے برابر ہیں
٭کوئی بھی شخص ایسے ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس میں اس کے شانے پر کچھ نہ ہو
٭نماز کے لئے اگر کپڑا وسیع ہوتو اس سے التحاف کرلیا کرو اور اگر تنگ ہوتو اس کی ازار یعنی تہبند بنالو 
٭ نبیﷺ بچھونے پر نماز پڑھتے اورحضرت عائشہؓ آپ کے اور سجدہ کی جگہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھیں
٭صحابہ کرام ؓ گرمی کی شدت کی وجہ سے سجدہ کی جگہ پر اپنے کپڑے کا کنارہ بچھالیتے تھے
٭رسول اﷲﷺ اپنے جوتوں سمیت بھی نماز پڑھ لیتے تھے
٭نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان کشادگی رکھتے تھے 
٭نبی ﷺ اپنی سواری پر جس سمت بھی وہ رخ کرتی ،اسی سمت نفل نماز پڑھتے رہتے اور جب فرض نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو اتر پڑتے اور قبلہ کی طرف منہ کرلیتے
٭ نماز میں شک ہوجائے تو ٹھیک بات سوچ کر اسی پر نماز مکمل کرلو اور سلام پھیر کردو سجدہ سہو کرلو۔
٭دورانِ نماز اپنے قبلہ کے سامنے نہ تھوکو۔ تھوکنا ہو تو اپنے بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے تھوکو 
٭جس جگہ نماز کا وقت آجائے وہیں نماز پڑھ لو۔نبیﷺ بکریوں کے رہنے کی جگہ میں بھی نماز پڑھ لیتے 
٭اپنی کچھ نمازیں اپنے گھروں میں ادا کیا کرو اور انہیں قبریں نہ بناو ¿ 
٭نمازِتہجد کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ دو دو رکعت کر کے پڑھنی چاہیئے
٭رات کو اپنی آخری نماز وتر کو بناو ¿ ٭جماعت کی نماز، اپنے گھراور بازار کی نماز سے ثواب میں پچیس درجے فوقیت رکھتی ہے (الصلوٰة، بخاری) 
٭ اﷲ کے نزدیک زیادہ محبوب عمل وہ نماز ہے جو اپنے وقت پر پڑھی جائے پھر اس کے بعد والدین کی اطاعت کرنا اور اس کے بعد اﷲ کی راہ میں جہاد کرنا۔ 
٭ اللہ پانچوں نمازوں کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹادیتا ہے
٭نماز میں کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے 
٭ جس کی نمازِ عصر جاتی رہے، وہ ایسا ہے گویا کہ اس کا گھر اور مال ضائع ہوگیا 
٭جو شخص کسی نماز کو بھول جائے تو اسے چاہےے کہ جب یاد آئے، پڑھ لے(مواقیةالصلوٰة، بخاری) اورجو تم میں سے سب سے بڑا ہو وہ تمہارا امام بنے (اذان، بخاری) ٭جب اذان کہو تو اپنی آواز بلند کرو۔ مو ¿ذن کی آواز سننے والا جن یا انسان روزِ قیامت گواہی دے گا
٭جو شخص اذان سن کر اذان کی دعا پڑھے تو اس کو قیامت کے دن نبی ﷺکی شفاعت نصیب ہوگی
٭اگر اذان اور پہلی صف کا ثواب معلوم ہوجائے اورلوگ قرعہ ڈالے بغیر اسے نہ پائیں تو ضرور قرعہ ڈالیں
٭جب صبح کی اذان ہوجاتی تو دو رکعتیں ہلکی سی فرض کے قائم ہونے سے پہلے پڑھ لیتے تھے
٭ہر دو اذانوں یعنی اذان و اقامت کے درمیان ایک نماز ہے۔ اگر کوئی چاہے تو پڑھ سکتا ہے
٭ اچھی باتوں کا حکم دو اور نماز قائم کرو٭جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے٭ 
٭ نماز کے لےے نہایت اطمینان سے آو ¿ ۔ جس قدر نماز پاو ¿ پڑھ لو، جس قدر جاتی رہے اس کو پورا کرلو
٭جماعت کی نماز ،تنہا نماز پر ستائیس درجہ ثواب میںزیادہ ہے
٭منافقوں پر فجر اور عشاءکی نماز سے زیادہ کوئی نماز گراں نہیں گزرتی 
٭ نفل نمازوں میں افضل نماز وہ ہے جو اپنے گھر میں ادا ہو 
٭جب کھانا آگے رکھ دیا جائے تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانا کھالو
٭اگر باجماعت نماز میں کوئی بات پیش آجائے تو سبحان اﷲ کہے ۔ تالی بجانا صرف عورتوں کے لئے ہے
٭کیانماز میں اپنا سر امام سے پہلے اٹھا لینے والے کویہ خوف نہی ںکہ اﷲ اس کے سر کو گدھے کا سا سر بنادے؟ 
٭ بستی میں تین آدمی ہوں اور وہ نماز باجماعت نہ پڑھتے ہوں تو ان پر شیطان یقینا قابو پالے گا (مسند احمد)
٭ جس کی چالیس دن تک ہربا جماعت نماز کی تکبیر اولیٰ فوت نہ ہو تو اس کے لئے دو برا ¿ تیں لکھ دی جاتی ہیں(ترمذی)
٭ کھاناسامنے ہوتو نماز کا حکم نہیں ہے اور نہ ایسی حالت میں کہ پائخانے یا پیشاب کا تقاضا ہو (مسلم)
٭ حضرت انسؓ اور اُن کے بھائی نے رسول اﷲ ﷺ کے پیچھے اپنے گھر میں اس طرح نماز پڑھی کہ اُن کی والدہ اُم سلیم اُن دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئیں (صحیح مسلم)
٭ جب تم نماز کو آو ¿ اورامام سجدے میں ہو تو تم سجدے میں شریک ہوجاو ¿ اور اس کو کچھ شمار نہ کرو۔ جس نے امام کے ساتھ رکوع پالیااُس نے نماز کی وہ رکعت پالی (سنن ابی داو ¿د)
٭ نبی دونوں سجدوں کے درمیان رَبِّ اغفِر لِی(اے اﷲ!میری مغفرت فرما) کہا کرتے تھے(نسائی)
٭ آخری تشہد پڑھ کر جہنم و قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کی آزمائش سے اور دجال کے شر سے پناہ مانگو ( مسلم)٭ جوفرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھے گا اس کےلئے جنت میں ایک گھر تیار کیا جائے گا
٭۴ رکعات ظہر سے پہلے، ۲ رکعات ظہر کے بعد، ۲ رکعات مغرب کے بعد، ۲رکعات عشاءکے بعد اور ۲رکعات فجر سے پہلے ( ترمذی)
٭امام کو نماز میں تخفیف کرناچاہےے۔ مقتدیوں میں ضعیف، بوڑھے اور صاحبِ حاجت بھی ہوتے ہیں
٭صفوں کو بَرابَر کرلو ورنہ اﷲ تعالیٰ تمہارے چہروں میں تغیر کردے گا (اذان، بخاری) 
٭کھڑے ہو نے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اوراگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھو
٭ جب عمر مبارک زیادہ ہوگئی تونبی ﷺ بیٹھ کر قرا ¿ت کرتے پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہوجاتے اور تقریباً تیس یا چالیس آیتیں پڑھ کر رکوع کرتے۔ (تقصیر الصلاة، بخاری) 
٭ نماز میں اﷲ کے ساتھ مشغولی ہوتی ہے اس لئے نماز میں اور کسی طرف مشغول نہ ہونا چاہیئے
٭سجدہ کرتے وقت مٹی وغیرہ برابر کرنا ہو تو ایک مرتبہ سے زیادہ نہ کرو
٭نبی ﷺ نے نماز کے دوران سلام کا جواب نہیں دیا
٭ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی کولہے پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے
٭ آپ ﷺ نے غلطی سے پانچ رکعتیں پڑ ھ لیں تو سلام کے بعد دو سجدے سہوکے کئے۔(عمل فی الصلاة، بخاری)
٭ جو کوئی نماز قائم کرنے والوں میں سے ہو گا تو وہ نماز کے دروازے سے جنت میں داخل ہو گا(الصوم، بخاری) 
٭ سب سے بہتر عمل نماز ہے (مو ¿طا امام مالک) 
٭ جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی طہور یعنی وضو ہے (مسند احمد)

اذان: 
٭اذان دو تو آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کردیا کرو اور جب اقامت کہو تو رواں کہا کرو(جامع ترمذی)
٭ اذان دیتے وقت اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں دے لیا کرو۔(سنن ابن ماجہ)
٭قاعدہ یہ ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داو ¿د، سنن ابن ماجہ)
٭اﷲاور اپنے آقا کا حق ادا کرنے والا نیک غلام،کسی جماعت کا وہ امام جس سے لوگ خوش رہے اور پانچوں وقت اذان دینے والا قیامت کے دن مشک کے ٹیلوں پر ٹھہرائے جائیں گے۔ (جامع ترمذی)
٭جس نے سات سال تک اﷲ کے واسطے اور ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے آتش دوزخ سے برا ت لکھ دی جاتی ہے ۔(جامع ترمذی، سنن ابی داو ¿د، سنن ابن ماجہ)

اوقاتِ نماز:
 ٭ گرمی کی شدت ہو تو ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے یعنی ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔
٭نبی ﷺ فجرکی نماز ایسے وقت پڑھتے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے پاس بیٹھنے والے کو پہچان لیتا تھا
٭ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے جب آفتاب ڈھل جاتا تھا
٭ عصر کی نمازایسے وقت کہ کوئی مدینہ کے کنارے تک جاکر لوٹ آئے اور آفتاب متغیر نہ ہو
٭عشاءکی تاخیر میں تہائی رات تک آپﷺ کچھ پرواہ نہ کرتے تھے
 ٭عشاءکی نماز سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات کرنے کو بُرا جانتے تھے
٭نمازِ عصر کا ایک سجدہ آفتاب کے غروب ہونے سے پہلے پالے تو اسے چاہیے کہ اپنی نماز پوری کرلے
٭ نمازِ فجر کا ایک سجدہ طلوعِ آفتاب سے پہلے پالے تو اسے بھی چاہیئے کہ اپنی نماز پوری کرلے
٭مغرب کی نماز پڑھ کے ایسے وقت لوٹ آتے کہ تیر کے گرنے کے مقام کو دیکھ سکتے۔ 
٭نماز فجرکے بعد آفتاب نکلنے سے پہلے اورنماز عصر کے بعد غروب آفتاب سے پہلے نماز پڑھنا منع ہے
٭ جب آفتاب کا کنارہ نکل آئے تو نماز موقوف کردو یہاں تک کہ آفتاب بلند ہوجائے
٭ جب آفتاب کا کنارہ چھپ جائے تو نماز موقوف کردو یہاں تک کہ پورا آفتاب چھپ جائے(مواقیةالصلوٰة، بخاری) 
٭عصر کی نماز کے بعد جب تک کہ آفتاب غروب ہوجائے، کوئی نمازنہ پڑھی جائے
٭فجرکی نماز کے بعد جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہوجائے، کوئی نمازنہ پڑھی جائے(شکار،بخاری) 
٭جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے وہیں فوراََ ادا کرلو کہ فضیلت اسی میں ہے(انبیائ، بخاری)

سترہ:
  ٭نبی ﷺ نے بطحا میں اس حالت میں نماز پڑھائی کہ آپ ﷺ کے سامنے ایک نیزہ گڑا ہوا تھا اور آپﷺ کے سامنے سے عورتیں اور گدھے نکل رہے تھے
٭ کسی چیز کی آڑ میں نماز پڑھنے والے کے سامنے سے کوئی نکلنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ اسے ہٹا دے
٭اگر نماز ی کے سامنے سے نکلنے والا یہ جان لیتا کہ اس پر کس قدر گناہ ہے تو بے شک اسے چالیس دن تک کھڑا رہنا بھلا معلوم ہوتا اس بات سے کہ اس کے سامنے سے نکل جائے
٭نبی ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور حضرت عائشہؓ عرضاً آپ کے سامنے بستر پر سو رہی ہوتی تھیں
٭نبیﷺ اس حالت میں نماز پڑھ رہے ہوتے کہ اپنی نواسی امامہ بنت زینبؓ کو گود میں اٹھائے ہوتے ۔ (سترہ، بخاری)

نماز کی سنتیں:
٭نبیﷺ جب رکوع کے لےے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی رفع الیدین کرتے
٭ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھیں
٭نماز میں ادھر ادھر دیکھنا شیطان کی جھپٹ ہے
٭ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورة فاتحہ نہ پڑھے
٭ نبی ﷺ پہلی رکعت میں لمبی قرا ت کرتے تھے اور دوسری میں اس سے چھوٹی سورت پڑھتے٭ نماز میں اگر سورہ ¿ فاتحہ سے زیادہ نہ پڑھو تو بھی کافی ہے۔ اور اگر زیادہ پڑھ لو تو بہتر ہے
٭ پہلی دو رکعتوں میں سورہ ¿ فاتحہ اور دو سورتیں مزید پڑھتے۔ آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ پڑھتے
٭ امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ جس کی آمین ملائکہ کی آمین سے مل جائے اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے
٭سجدہ، سجدوں کے درمیان کی نشست اوررکوع سے اپنا سر اٹھانے کی حالت تقریباً برابر برابر ہوتے تھے
٭امام سَمِعَ اﷲُ لِمَن حَمِدَہ کہے تو تم اَللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الحَمد کہو
٭ فجرو مغرب کی نماز کی آخری رکعت میں سَمِعَ اﷲُ لِمَن حَمِدَہ ¾ کے بعد قنوت نازلہ پڑھا جاتا تھا
٭ اﷲ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ پر حرام کردیا ہے کہ وہ سجدے کے نشان کو کھائے۔ 
٭سجدہ سات ہڈیوں پر کرو: پیشانی بمعہ ناک کی نوک ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پاو ¿ں٭نبی ﷺ نماز کی طاق رکعت میں جب تک سیدھے نہ بیٹھ جاتے تھے، کھڑے نہ ہوتے تھے
٭نماز میں بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ تم اپنا داہنا پیر کھڑا کرلو اور بایاں دہرا کر لو
٭آپ ﷺ نے اپنا سر رکوع سے اٹھایا تو سیدھے ہوگئے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی اپنی جگہ پر چلی گئی 
٭ جب سجدہ کیا تو دونوں ہاتھ زمین پر رکھ دیئے نہ ان کو بچھایا اور نہ سمیٹا ،پیر کی انگلیاں قبلہ رخ کرلیں
٭پھر جس وقت دو رکعتوں میں بیٹھے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھے اور داہنے پیر کو کھڑا کرلیا
٭جب آخری رکعت میں بیٹھے تو بائیں پیر کو آگے کردیا، داہنے پیر کو کھڑا کرلیا اور اپنی سرین پر بیٹھ گئے۔
٭پہلی دو رکعتوں کے اختتام پر بھولے سے کھڑے ہوگئے، بیٹھے نہیں تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدہ سہو کئے 
٭ فرض نماز سے فراغت کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا نبیﷺ کے دَورِ اقدس میں رائج تھا
٭ ہر نماز کے بعد ۳۳، ۳۳ مرتبہ سُبحَانَ اﷲِ، الحَمدُﷲِ اور ۴۳ مرتبہ اﷲ ُ اَکبَرُ پڑھا کرو (صفت الصلوٰة، بخاری)

نماز فجر:
 ٭ نبی ﷺ فجر کی دو رکعات سنتوں کی بڑی حفاظت فرمایا کرتے تھے
٭رسول اﷲ ﷺ نمازِ فجر سے پہلے پڑھی جا نے والی دونوں رکعتیں بہت ہلکی پڑھتے تھے 
٭سونے والے کی گردن کے پیچھے گدی پر شیطان تین گرہ دے دیتا ہے۔ بیدار ہونے، وضو کرنے اور نماز فجر پڑھنے سے یہ تینوں گرہیں کھل جاتی ہیں
٭ جو نمازکے لےے اٹھنے کی بجائے صبح تک سوتا ر ہے تو شیطان اس کے کان میں پیشاب کردیتا ہے (تہجد، بخاری)

نماز وتر:
٭ نمازِ شب کی دو دو رکعتیں ہیں
٭رات کے ہر حصہ میں نبیﷺ نے نمازِ وتر پڑھی ہے
٭تم رات کے وقت اپنی آخری نماز وتر کو بناو
٭ نبی ﷺ سفر میں نمازِ وتر اپنی سواری پر پڑھا کرتے تھے (وتر، بخاری) 
٭ نماز و ترحق ہے۔ جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے(سنن ابی داو ¿د)

تہجد
٭ تم تہجد ضرور پڑھا کرو (جامع ترمذی)

نماز جمعہ:
 ٭ ہر بالغ پر جمعہ کے دن نہانا ضروری ہے 
٭ اچھی طرح غسل کرکے نماز جمعہ کے لےے پہلی گھڑی میں چلے تو گویا اس نے ایک اونٹ کا صدقہ کیا
٭جمعہ کے دن غسل کرے ، بالوں کو تیل لگائے ، خوشبو استعمال کرے پھر اس کے بعد جمعہ کی نماز کے لےے نکلے۔ تو اس کے اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیان کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے 
٭ امام خطبہ پڑھ رہا ہو اور تو اپنے پاس والے سے یہ کہے کہ چپ رہ تو بے شک تونے لغو حرکت کی 
٭ جب خوب سردی ہوتی تھی تو نبی ﷺ جمعہ کی نماز سویرے پڑھتے تھے
٭اور جب گرمی زیادہ ہوتی تھی تو جمعہ کی نماز کو ٹھنڈا کرکے یعنی ٹھنڈے وقت پڑھتے تھے (جمعہ، بخاری) 
٭ تم لوگ جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو (بہیقی)
٭ جمعہ کی باجماعت نماز غلام، عورت، کمسن اور بیمار کے علاوہ ہر مسلمان پر لازم ہے (ابو داو ¿د)


بچوں کی نماز:
  ٭ بچے سات سال کے ہوجائیں تو نماز کی تاکید کرو اور جب دس سال کے ہوجائیں تو نماز میں کوتاہی کرنے پر ان کو سزا دو اور ان کے بستر بھی الگ کردو (سنن ابی داو ¿د)

عورتوں کی نماز:
 ٭ گھر کے اندرونی حصے میں پڑھی جانے والی عورتوں کی نماز، اُس نماز سے بہتر ہے جو بیرونی دالان یا صحن میں پڑھی جائے۔ گھر میں پڑھی جانے والی عورتوں کی نماز، مسجد میں پڑھی جانے والی نماز سے بہتر ہے( مسند احمد)
٭ اگرنبی ﷺ عورتوں کی موجودہ حالت دیکھ لیتے توانہیں مسجدوں میں جانے سے روک دیا جاتا جیسے سابق انبیاؑ نے بنی اسرائیل کی عورتوں کو عبادت گاہوں میں جانے سے روک دیا تھا، حضرت عائشہ ؓ (مسلم)

نماز عیدین:
٭ نمازِ عید سے پہلے رسول اللہ ﷺ طاق کھجوریں کھاتے تھے
٭عید الاضحیٰ کے دن سب سے پہلے نماز پڑھیں۔ اس کے بعد واپس آکر قربانی کریں
٭ جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو اس کی قربانی نہیں ہوئی
٭ رسول اﷲ ﷺ کے عہد میں عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن نمازِ عید کی اذان نہ کہی جاتی تھی
٭ یہ سب لوگ خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھتے تھے
٭ ایّام تشریق (ماہ ذی الحجہ) کے دس دنوں کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں
٭ تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہہ لیتا تھا اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہہ لیتا تھا ۔ کسی کو بھی ممانعت نہ کی جاتی تھی
٭نبی ﷺ ایک راستے سے عیدگاہ جاتے اور دوسرے راستے سے واپس آتے (عیدین، بخاری)

نماز گرہن:
٭جب گرہن کو دیکھو تو نماز پڑھو اور اﷲ سے دعا کرو
٭ گرہن دیکھو تو اﷲ سے دعا کرو اور اس کی بڑائی بیان کرو اور نماز پڑھو اور صدقہ دو 
٭نبی ﷺ نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا تھا
٭ سورج گرہن دیکھو تو اﷲ کا ذکر کرو، اُس سے دعا مانگو اور استغفار کے لیے جھک جاو
٭نمازِ کسوف یعنی گرہن کی نماز میں آپ ﷺ نے دو رکعتوں کے اندر چار رکوع اور چار سجدے کئے(کسوف، بخاری)

ٓآیت سجدہ: 
٭جب نبی ﷺ آیت سجدہ پڑھتے تو سجدہ کرتے تھے اور ہم بھی اسی وقت سجدہ کرتے تھے
٭ہجوم کی وجہ سے آیت سجدہ پر سجدہ کرنے کے لئے ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ پاتا تھا(سجود القرآن، بخاری)

نماز سفر:
 ٭ نبی ﷺنے مکہ میں اُنیس دن قیام فرمایا اور برابر قصر کرتے رہے۔(اڑتالیس میل سے زائد کی مسافت ہو تو نماز قصر پڑھی جاتی ہے)
 ٭رسول اﷲ ﷺ ، امیر المومنین سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر بن خطابؓنے منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں٭عورت کے لےے جائز نہیں کہ محرم کے بغیر ایک دن رات کی مسافت کا سفر کرے
٭نبی ﷺ سفر میں عجلت کے سبب مغرب کی تین رکعات کی نماز میں تاخیر کرتے اور پھر تھوڑی ہی دیر ٹھہر کر عشاءکی نماز پڑھ لیتے اور اس کی دو رکعتیں پڑھتے 
٭نبی ﷺ نفل نماز سواری پرپڑھ لیتے تھے حالانکہ آپ ﷺ قبلہ کی سمت نہیں جا رہے ہوتے۔ آپ ﷺ کو سفر میں سنتیں پڑھتے کبھی نہیں دیکھا
٭ نبی ﷺ سفر میں ہوتے تو ظہر اور عصر جمع کرلیتے اور مغرب اور عشاءکو بھی جمع کرکے ادا فرماتے تھے۔ (امام ابو حنیفہ کی رائے کے مطابق اول نماز آخری وقت میں اور ثانی نماز اول وقت میں اس طرح پڑھی جاسکتی ہے ۔گویا دونوں نمازیں الگ الگ پڑھی جاتی ہیں مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ملا کر پڑھی گئیں ہیں) (تقصیر الصلاة، بخاری)

نماز تہجد:
 ٭نبی ﷺ جب بیمار ہوئے تو ایک رات یا دو رات آپ ﷺ تہجد کے لےے نہیں اٹھے
٭ رسول اﷲ ﷺ نے نمازِ چاشت کبھی نہیں پڑھی اور میں اسے پڑھتی ہوں، حضرت عائشہ ؓ
٭ رسول اﷲ ﷺ کو وہ عمل پسند تھاجو ہمیشہ کیا جائے 
٭نبی ﷺ رات کو تیرہ رکعت پڑھتے تھے ، جس میں وتر اور سنتِ فجر کی دو رکعتیں بھی ہوتی تھیں
٭ نبی ﷺ کو رات کے وقت نماز پڑھتے بھی دیکھا جاسکتا تھا اور سوتے ہوئے بھی۔
٭ رسول اللہ ﷺ شروع رات میں سوتے تھے اور اخیر رات میں اٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔ نماز کے بعد پھر اپنے بستر کی طرف لوٹ آتے تھے پھر جب مو ¿ذن اذان فجردیتا تو آپ ﷺ اٹھتے 
٭رسول اﷲﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہ پڑھتے تھے
٭ ہر ایک اپنی طبیعت کے خوش رہنے تک نماز پڑھے پھر جب تھک جائے تو چاہیئے کہ بیٹھ جائے
٭تم اُس شخص کی طرح نہ ہوجاناجو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا تھا پھر اُس نے رات کا اٹھنا اور نماز پڑھنا ترک کردیا (تہجد، بخاری)

۹۷۔وراثت، ترکہ،وصیت
٭اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ جاو ۔ یہ اُس سے بہتر ہے کہ انہیں فقیر چھوڑ جاو اور وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائیں(نمازِجنازہ، بخاری) 
٭نبی ﷺ کی وصیت: ہر مہینے میں تین روزے رکھنا، نماز چاشت پڑھنا۔ اور وتر پڑھ کر سونا۔ (تہجد، بخاری)
٭ کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ دو شب بھی اس طرح رہے کہ وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔
٭وصیت کے وقت دو انصاف والے تم میں سے یا تمہارے غیروں میں گواہ ہونے چاہئیں (وصایا، بخاری) 
٭ میراث اس کے مستحقوں تک پہنچا دو ۔ جو کچھ بچے وہ سب سے زیادہ قریبی مرد عزیز کا حصہ ہے(فرائض، بخاری) 
٭ جوانتقال سے قبل وصیت کر گیا تو اس کا انتقال ٹھیک راستہ پر اور شریعت پر چلتے ہوئے ہوا۔لہٰذا اس کی موت تقویٰ اور شہادت والی موت ہوئی اور اس کی مغفرت ہوگئی۔ (سنن ابنِ ماجہ)
٭ ساٹھ سال تک اﷲ کی فرمانبرداری والی زندگی گزارنے والا اگر موت کے وقت وصیت میں حق داروں کو نقصان پہنچاد ے تواُس کے لئے دوزخ واجب ہوجاتی ہے (مسند احمد، ترمذی،ابی داو ¿د،)

۰۸۔ وسوسہ، وہم، بد شگونی
دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسے معاف ہےں جب تک کہ انہیں عمل یا زبان پر نہ لائے (رہن، بخاری) ٭ دل کے برے خیالات اور وسوسوں پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا جب تک اُن پر عمل نہ کیا جائے ( مسلم) ٭اللہ پر توکل کرواور شگونِ بدومنتر وںسے گریز کرو ( صحیح مسلم)


۱۸۔وظائف اور ذکر الٰہی
٭ جس نے سُبحَانَ اﷲِ وَبَحَمدِ ہِ ایک دن میں سو مرتبہ پڑھا اس کے تمام گناہ مٹا دیئے جائیں گے
٭جو شخص اﷲ کا ذکر کرے اور جو ذکر نہ کرے ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔(دعوات، بخاری) 
٭سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم زبان پر ہلکے لیکن قیامت کے دن ترازو پر بھاری ہوں گے۔(توحید، بخاری)
٭حَسبُنَا اﷲُ وَنِعمَ الوَکِیلُ“ اور اَللّٰھُمَّ حَا سِبنِی حِسَاباً یَّسِیرًا کہتے رہا کرو(ترمذی) 
٭ کلمہ لَا حَو لَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ کثرت سے پڑھا کرو(مسند احمد) 
٭ کلمہ الحمدﷲ میزان عمل کو بھردیتا ہے (صحیح مسلم)
٭ سبحان اﷲ والحمدﷲ آسمان کو اور زمین کو بھر دیتے ہیں(صحیح مسلم) 
٭جب بندگانِ خدا، اﷲ کا ذکر کرتے ہیں تو رحمت الہٰی ان کو اپنے سایہ میں لے لیتی ہے ۔(صحیح مسلم)
٭جب لوگ زمین پر اللہ کی حمد و ثناءکرتے ہیں تو اﷲ فخر کے ساتھ فرشتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرماتا ہے۔ (مسلم)
٭اﷲ کا ذکرراہِ خدا میں سونا چاندی خرچ کرنے اور جہاد سے بھی زیادہ افضل ہے (مسند احمد،ترمذی، ابن ماجہ)
٭ اﷲ کا ذکر اتنا اور اس طرح کرو کہ لوگ کہیں کہ یہ دیوانہ ہے (رواہ احمد )
٭”سُبحَانَ اﷲِ“ اور ”اَلحَمدُ ﷲِ ِ“اور ”لاَ اِلہ اِلَّا اﷲُ“ اور ”اَﷲُ اَکبَرُ“ افضل ترین کلمے ہیں (مسلم)
٭روزانہ سو دفعہ سُبحَانَ اﷲِ وَبِحَمدِہ کہنے والے کے قصور معاف کردیئے جائیں گے خواہ کثرت میں سمندر کے جھاگوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں(مسلم)
٭سب سے افضل ذکر”لَا اِلہ اِلَّا اﷲُ“ ہے (جامع ترمذی‘ سنن ابن داو ¿د)
٭ کلمہ لَا حَو لَ وَلَا قُوَّةَ اِلَا بِاﷲ جنت کے خزانوں میں سے ہے( مسلم) 
٭جس نے اﷲ کے نناوے نام کو محفوظ کیا اور ان کی نگہداشت کی وہ جنت میں جائے گا(جامع ترمذی)
٭جب اﷲ سے اُس کے اِسم اعظم کے وسیلہ سے مانگا جائے تو وہ دیتا ہے۔ (جامع ترمذی ابی داو ¿د)
٭اِسم اعظم آیت”والٰھُکُم اِلٰہ واحِد لاَ اِلٰہَ الّا ھُوَالرَّحمٰنُ الرّحِیم“ اور ”اٰل عمران کی ابتدائی آیت ”الٓمّٓ اَﷲُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ال حَیُّ القَیُّو م“ میں موجود ہے (ترمذی ، ابو داو ¿د، ابن ماجہ ، دارمی) 
٭جو جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھے اس کے لئے نور روشن ہوجائے گا دو جمعوں کے درمیان (بیہقی)
٭جس نے ﷲ کی رضا کے لئے سورہ یٰسین پڑھی اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے (بیہقی)
٭جو ہر رات سورہ واقعہ پڑھے اسے کبھی فقرو فاقہ کی نوبت نہیں آئے گی(بیہقی)
٭ سورة”الھٰکم التکاثر“ پڑھنے کا ثواب ایک ہزار آیتیں پڑھنے کے برابر ہے(بیہقی)
٭ثواب میں سورة ”اذازلزلت“ نصف قرآ ن ، ”قل ھو اﷲ احد“ تہائی قرآن اور ”قل یٰٓایھا الکٰفرون“ چوتھائی قرآن کے برابر ہے (جامع ترمذی)
٭اﷲ کے یہاں کوئی چیز اور کوئی عمل دعا سے زیادہ عزیز نہیں۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) 
٭نمازِ مغرب کے بعد کوئی بات چیت کئے بغیر سات دفعہ یہ دعا کرو۔”اللّٰھُمَّ اَجِر نِی مِنَ النَّار“ 
 ٭نماز فجر کے بعد پڑھو کوئی بات چیت کئے بغیر سات دفعہ یہ دعا کرو”اَللّٰھُمَّ اَجِر نِی مِنَ النَّارِ“٭اگر اُس رات یا دن تمہاری موت مقدر میں ہوئی تو اس وظیفہ(اے اﷲ! مجھے دوزخ سے پناہ دے) کی بدولت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تم کو دوزخ سے بچانے کا حکم ہوجائے گا (سنن ابی داو ¿د)
٭صبح و شام قل ھواﷲ احد ، قل اعوذ برب الفلق اورقل اعوذ برب الناس تین بار پڑھ لیا کروتو یہ ہر چیزکے واسطے تمہارے لئے کافی ہوں گی (سنن ابی داو ¿د) 
٭جب کوئی گھر سے نکلتے وقت پڑھے:”بِسمِ اﷲِ تَوَکَّلتُ عَلَی ﷲِ‘ لَا حَو لَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲ۔“ تو عالمِ غیب میں کہا جاتا ہے :”تیرا یہ عرض کرنا تیرے لئے کافی ہے۔ تیری حفاظت کا فیصلہ ہوگیا۔“ اور شیطان مایوس و نامراد ہوکر اس سے دور ہوجاتا ہے۔ (جامع ترمذی ، سنن ابی داو ¿د) 
٭ رسول اﷲ ﷺ کو فکر اور پریشانی لاحق ہوتی تو یہ دعا پڑھتے۔”یَاحَیُّ یَاقَیُّو مُ بِرَ حمَتِکَ اَستَغِیثُ‘ اے حی وقیوم! بس تیری رحمت سے مدد چاہتا ہوں۔(جامع ترمذی)

۲۸۔ہجرت اور نقل مکانی
٭جس کی ہجرت حصول دنیا کی خاطر ہو یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لئے ہو تو اس کی ہجرت اسی مد میں شمار ہوگی(آغازِ وحی، بخاری) 
٭ اگر کسی کو نماز کے دوران اونگھ آ جائے تواسے چاہیئے کہ نماز توڑ کر سو جائے(وضو، بخاری)

۳۸۔یتیم، مسکین اور بیوہ
٭مسلمان کا کہ وہ مال اچھا ہے جس میں سے مسکین کو اور یتیم کو اور مسافر کودیا جائے(زکوٰة، بخاری)
٭ یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں نبی سے ایسے قریب ہوگا جیسے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی(طلاق، بخاری) 
٭ بیوہ اور مسکین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والاا یسا ہے جیسا کہ اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والا (نفقات، بخاری) 
٭مساکین اور غرباءسے محبت رکھنے اور اُن سے قریب رہنے کا حکم ہے(مسند احمد) 
٭بہترین گھرانہ وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو اوربدترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے۔ (سنن ابن ماجہ)

کوئی تبصرے نہیں: