اسلامی ضابطہ حیات ۔احادیث

اسلامی ضابطہ حیات (احادیث کی روشنی میں)
بخاری کے جملہ کتب کے علاوہ مسلم، ترمذی، ابی داؤد، ابن ماجہ، نسائی، مسند احمد،
 سنن دارمی، مو طا امام مالک، طبرانی، بیہقی اور شرح السنہ سے اضافی اوامر و نواہی کا انتخاب

احادیث کے اوامر و نواہی : فہرستِ عنوانات

  1. ازدواجی زندگی
  2. تقدیر، نصیب، قسمت
  3. اسلام، دین
  4. تقویٰ اور توبہ
  5. استخارہ : نماز اور دعا
  6.  تکبر ، دکھاوا، خود پسندی
  7. اطاعتِ امیر، حکمران، اور رعیت 
  8. جہالت، رشک اور غیبت
  9. اللہ اوررسول اللہ ﷺ
  10. جنت، دوزخ؛ جنتی اور دوزخی
  11.  اللہ کی پناہ
  12. جہاد اور شہادت کی اقسام
  13. عمال اورنیت
  14. جھاڑ پھونک اور وظائف 
  15. امر بالمعروف ونہی عن المنکر
  16. حج اور ارکان حج
  17. انصاری ، صحابہؓ اور اہل بیت 
  18. حجاب:محرم اور نامحرم
  19. ایمان کی پہچان
  20. حدود اللہ؛ تہمت ، چوری، قتل
  21. برائی،بھلائی ؛ نیکی، گناہ
  22. حرام اور ناپسندیدہ
  23. بہتان، غیبت، چغلی، مذاق 
  24. حسن سلوک
  25. پردہ پوشی، مصیبت 
  26. حیا، بے حیائی،فحاشی اور زنا
  27. پڑوسی کے حقوق 
  28. دائیں طرف سے آغاز کرنا
  29. تجارت، خرید و فروخت، رہن
  30. دعا اور بد دعا
  31. تصویر کشی ، مصور 
  32. دنیا ،ا ٓخرت، قیامت اور میزان
  33.  رزق، اللہ کا فضل؛ مال و دولت اورغربت
  34. قرض اور سوال 
  35. رشتہ دار، اہل و عیال، والدین، اولاد
  36. قسم، کفارہ، گواہی 
  37. روزہ، اعتکاف، تراویح، لیلةالقدر
  38.  کھانے پینے کے آداب
  39. زراعت ، کھیتی باڑی
  40. کفر اور اقسامِ کفر
  41. زکوٰة، نصاب زکوٰة
  42.  گرگٹ اور زہریلے جانور
  43. سانپ اور جنات
  44. گمشدہ، لاوارث اشیائ
  45. سفر ، آدابِ سفر 
  46. لباس ، خضاب اور مہندی
  47. سلام اور مصافحہ
  48. لعنت و ہلاکت کے اسباب 
  49. سود خوری
  50.  مجلس اور راستے کے آداب
  51. سونے کے آداب اور خواب
  52. مسجد کے آداب
  53. شراب اور جوا
  54. مسلمان اور مومن
  55. شرک ،مشرک اور اہل کتاب
  56. مصیبت ، مشکلات اور آزمائش
  57.  شیطان اورشیطانی حرکات
  58. معافی، مغفرت اور خطائیں
  59. صبر و شکر 
  60. مکہ مدینہ:، بیت اللہ اور مسجد بنویﷺ
  61. صدقہ،ہدیہ اور تحفہ
  62. منافق کی پہچان
  63. طب نبویﷺ
  64. میت ،جنازہ، قبر،سوگ 
  65. طہارت اور اقسامِ طہارت
  66.  نام رکھنا اور عقیقہ کرنا
  67. عبادت اور بندگی
  68.  نجات کا آسان طریقہ
  69. عہد، نذراورگواہی
  70.  نعمت، کفرانِ نعمت
  71. عیدین ؛ قربانی، ذبیحہ اور شکار
  72. نماز: اوقات، صفات اور اقسام
  73. غصہ اور علاجِ غصہ
  74. وراثت، ترکہ،وصیت
  75. غلام، لونڈی اور خادم
  76.  وسوسہ، وہم، بد شگونی
  77. غیب کا علم
  78. وظائف اور ذکر الٰہی 
  79. فتنہ اور فرقہ بندی
  80. ہجرت اور نقل مکانی
  81. قتل ، قصاص، دیت؛ ظلم، جھگڑا، بدلہ
  82. یتیم، مسکین اور بیوہ
  83.  قرآن اور الہامی کتب
--------------------------------------
۱۔ازدواجی زندگی
٭عورت پر سب سے بڑا حق اس کے شوہر کا ہے اور مرد پر سب سے بڑا حق اس کی ماں کا ہے۔ (مستدرک حاکم)
٭ اگر میں کسی مخلوق کے لےے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے (ترمذی)
٭ جس عورت کا اس حال میں انتقال ہو کہ اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ جنت میں جائے گی۔ (ترمذی)
٭لوگو! اپنی بیویوں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو۔ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ جس کا گھر میں آناتمہیں ناپسند ہو وہ اس کو گھر آنے کا موقع نہ دیں۔ اگر وہ ایسی غلطی کریں تو ان کو تم سزادے سکتے ہو جو زیادہ سخت نہ ہو۔ تمہارے ذمہ مناسب طریقے پر ان کے کھانے کپڑے کی ضروریات کا بدوبست کرنا ہے (مسلم) 
٭عورتوں سے بھلائی کرتے رہنا کیونکہ عورتوں کی پیدائش پسلی سے ہوئی ہے اور پسلی اوپر ہی کی طرف سے زیادہ ٹیڑھی ہوتی ہے
٭ شوہر کی موجود گی میں اُس کی اجازت کے بغیر کسی عورت کا نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں(نکاح، بخاری)
٭ بخیل شوہر کے مال سے بقدر ضرورت پوشیدہ طور پر کچھ لے لینا جائز ہے (بیوع، بخاری)
 ٭عورتو! صدقہ دو کہ میں نے جہنم میں اکثریت تمہاری ہی دیکھی ہے کیونکہ تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہر کے حسن معاملت کا انکار کرتی ہو
٭تمہارے شوہر اور تمہارے بچے سب سے زیادہ اس امر کے مستحق ہیں کہ تم انہیں صدقہ دو (زکوٰة، بخاری)
٭جہنم میں عورتوں کی کثرت کا سبب شوہر کا کفر کرنا اوراُن کا احسان نہ ماننا ہے(ایمان، بخاری)
 ٭اے عورتو! صدقہ دو اس لئے کہ میں (نبی ﷺ) نے تمہیں معراج میں زیادہ دوزخی دیکھا ہے۔ وہ اس لئے کہ تم لعن طعن کثرت سے کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو(حیض، بخاری)
 ٭ عرصہ دراز تک دور رہنے کے بعد رات کو گھر واپس نہ آیا کرو٭ 
٭کوئی مومن اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح کوڑے سے نہ مارے(تفسیر، بخاری) 
٭جو اپنی بیویوں کے ساتھ عدل نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا ایک دھڑگرا ہوا ہوگا( ترمذی، نسائی )

نکاح:
٭جو نکاح کی قدرت رکھتا ہو تو وہ نکاح کرلے ۔نکاح ا نظر کونیچی رکھنے اور شر مگاہ کو محفوظ رکھنے کا باعث ہے
٭جو نکاح کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو اسے چاہئے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ سے شہوت ختم ہوجاتی ہے(الصوم، بخاری)
٭قریش کی عورتیں بہتر ہیں،اولاد پر بہت مہربان اور شوہر کے مال کا بہت خیال رکھنے والیاں(انبیائ، بخاری)
٭ نبی ﷺ کا ایک صحابی ؓسے سوال:کسی کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟ ٭کسی عورت کا رشتہ طے ہوجانے کے بعد اُسی عورت کو اپنا رشتہ نہ بھجواؤ (بیوع، بخاری) 
٭ نکاح کے وقت عورتوں کے مال، نسب یا خوبصورتی کی بجائے اس کی دینداری کو فوقیت دینی چاہئے
٭ مَردوں پر کوئی فتنہ عورتوں سے زیادہ ضرر رساں نہیں ہے٭
٭ بیوہ عورت کا نکاح ا س کی اجازت کے بغیر کنواری کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر نہ کیا جائے
٭ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے
٭کسی عورت کو اپنے خاوند سے یہ درخواست کرنا درست نہیں کہ وہ اس کی سوکن کو طلاق دےدے 
٭جب کوئی بیوہ عورت پر کنواری سے نکاح کرے تو اُس کے پاس سات دن رہے پھر باری باری رہے
٭ جب کسی کنواری پر بیوہ عورت سے نکاح کرے تو اُس کے پاس تین دن رہے پھر باری باری سے رہے(نکاح، بخاری)
 ٭ تین کام ایسے ہیں جن میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ نماز جب اس کا وقت آجائے۔ جنازہ جب تیار ہوکر آجائے اور بے شوہر والی کا نکاح جب اس کے لےے مناسب جوڑ مل جائے (جامع ترمذی)
٭’جب کوئی کسی عورت کو اپنے نکاح میں لائے تو یہ دعا کرے:”اَلّٰھُمَّ اِنِّی اَس ئَلُکَ تاوَشَرِّمَا جَبَل تَھَا عَلَی ہِ“ اے اﷲ! اس میں اور اس کی فطرت میں جو خیر اور بھلائی ہو، میں تجھ سے اس کی استدعا کرتا ہوں اور اس میں اور اس کی فطرت میں جو شر اور برائی ہو اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں(ابو داو ¿د، ابن ماجہ)
 ٭کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینا ہو تو اسے ایک نظر دیکھ لےنا گناہ نہیں۔ (مسند احمد، سنن ابن ماجہ)
٭شوہر دیدہ (بیوہ یا مطلقہ )عورت کو اپنے نفس پر اپنے ولی سے زیادہ حق اور اختیار ہے۔ (صحیح مسلم)
٭کنواری کے نکاح سے قبل اس سے اجازت حاصل کی جائے، خاموشی بھی اجازت ہے۔ (صحیح مسلم) 
٭وہ نکاح بہت بابرکت ہے جس کا خرچ کم سے کم ہو۔ (بیہقی)

ممنوعہ نکاح: 
٭جو رشتے نسب سے حرام ہیں وہ دودھ پینے سے بھی حرام ہیں
٭ دو بہنوں کوایک وقت میں نکاح میں رکھنا جائز نہیں
٭دودھ کا رضائی رشتہ جب ہی ثابت ہوتا ہے کہ بچے کی غذا دودھ ہو
٭کوئی عورت اپنی پھوپھی یا اپنی خالہ کے شوہر سے نکاح نہ کرے(نکاح، بخاری)
٭ خیبر کے دن متعہ (مخصوص دورانیہ کے لیے عارضی نکاح کرنا) اور گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کردیا گیا تھا(مغازی،بخاری)

ولیمہ:
 ٭جب تم میں سے کسی کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو ضرور جائے(نکاح، بخاری)
٭ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو (بیوع، بخاری) 
٭ ُّ اُم المومنین حضرت صفیہؓ کے ولیمہ میں روٹی یا گوشت نہ تھا بلکہ صرف کھجوریں، پنیر اور گھی ڈال دی گئی تھیں(مغازی،بخاری) 

مہر:
 ٭ نبی ﷺنے اپنی بیویوں کا مہر پانچ سو درہم(مساوی ۰۳۵۱گرام چاندی ) مقرر فرمایا تھا (مسلم)
٭عورت اپنی مرضی سے طلاق لینا چاہے تو اُسے مہر واپس کرنا ہوگا(طلاق، بخاری)

میاں،بیوی تعلقات: 
٭ اﷲ کے ہاں وہ بدترین درجہ میں ہوگا جو بیوی سے ہم بستری کے بعد اس کا راز فاش کرے(مسلم)
 ٭جب خاوند اپنی بیوی کو ہم بستری کے لےے بلائے اور وہ انکار کردے اورخاوند اس پر غصہ ہوکر سوجائے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں (آغازِ خلق،بخاری)
٭ حضرت عائشہؓ نبی ﷺ کو خوشبو لگاتی تھی پھر آپ ﷺ اپنی بیویوں کے پاس جاتے اور ہم بستری فرماتے 
٭جب تم میں سے کوئی جنبی ہوتو وہ وضو کرکے سوئے(غسل، بخاری) 
٭ایک بار نبی ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات سے ایک مہینہ کا ایلاء(بطور شوہربیوی نہ ملنے کی قسم کھانا)کیا(الصوم، بخاری) 

عزل اور اولاد کا قتل: 
٭ عزل کرنے میں نہ کچھ فائدہ ہے اور نہ کچھ خوف ہے۔ کیونکہ جس جان نے پیدا ہونا ہے وہ ضرور پیدا ہوگی(مغازی،بخاری) 
٭دوسرا بڑا گناہ اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرنا کہ اس کو کھلانا پڑے گا(تفسیر، بخاری)
 ٭ اگر چاہو تو عزل (حمل سے بچنے کے لئے مباشرت کے دوران منی فرج سے باہر خارج کرنا)کرلو لیکن جو بات مقدر ہوچکا ہے وہ ہو کے رہے گا۔ (صحیح مسلم)

طلاق: 
٭حلال اور جائز چیزوں میں اﷲ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیزطلاق ہے ( ابی داو ¿د)
٭ سخت تکلیف کے بغیر شوہر سے طلاق کامطالبہ کرنے والی پر جنت کی خوشبو حرام ہے (مسند احمد،ترمذی)
 ٭عورتوں کو طلاق نہ دو ا لّایہ کہ چال چلن مشتبہ ہو۔ ذائقہ چکھنے کے شوقین مردو زن نا پسندیدہ ہیں (طبرانی)
 ٭ کوئی عورت اپنی سوتن مسلمان بہن کو طلاق نہ دلوائے کہ اس کے حصہ کو بھی خود حاصل کرلے(بیوع، بخاری)
٭ نکاح،طلاق اور رجعت(ایک یا دو طلاق کے بعد رجوع کرنا)تین ایسی چیزیں ہیں جن کا ہنسی مذاق کے طور پر کہنا بھی حقیقت ہی کے حکم میں ہے (جامع ترمذی‘سنن ابی داو ¿د)
٭ زبردستی کی طلاق اور زبردستی کے ”عتاق“(غلام آزاد کرنا) کا اعتبار نہیں۔ ( ابی داو د ابن ماجہ) 
٭طلاق دورانِ حیض نہیں بلکہ ایامِ طہر میں مباشرت کئے بغیر دینا چاہئے
٭ طلاق بائنہ (غیر رجعی) کے بعد حلالہ کےے بغیر عورت پہلے شوہر کے پاس لوٹ نہیں جاسکتی(طلاق، بخاری)

بیوہ کی عدت:
٭ بیوہ کے لئے سرمہ لگانا جائز نہیں جب تک چارہ ماہ دس دن کی عدت نہ گزر جائے (طلاق، بخاری) 
٭ دورانِ عدت بیوہ رنگےن کپڑے، زیورات نہ پہنے نہ خضاب ،مہندی یا سرمہ لگائے (ابی داو ¿د‘ نسائی) 
٭تین دن سے زیادہ سوگ منع ہے۔ شوہر کے انتقال پر چار مہینے دس دن سوگ کا حکم ہے( مسلم)

سفر عورت:
٭عورت کے لےے جائز نہیں کہ محرم کے بغیر ایک دن رات کی مسافت کا سفر کرے( بخاری)

۲۔اسلام، دین:
٭ اسلام کی عمارت کے پانچ ستون: (۱) شہادت دینا کہ اﷲتعا لیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ محمد اﷲ کے رسول ہیں(۲) نماز پڑھنا( ۳) زکوٰة دینا (۴) حج کرنا(۵) رمضان کے روزے رکھنا(ایمان، بخاری)
٭اسلام لاؤ گے تو قہرالہٰی سے بچ جاﺅگے(آغازِ وحی، بخاری) 
٭ دین بہت آسان ہے۔ جو شخص دین میں سختی کرے گا تو وہ اس پر غالب آ جائے گا(ایمان، بخاری) 
٭ تم لوگ راست و میانہ روی اختیار کرو اور خوش ہو جاﺅ کہ تمہیں ایسا آسان دین ملا ہے(ایمان، بخاری) 
٭ پانچ باتوں کا حکم دیا: گواہی دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اﷲ کے رسول ہیں، نماز پڑھنا اورزکوٰة دینا۔ رمضان کے روزے رکھنا اور مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال میں دینا (ایمان، بخاری) 
٭دین میں آسانی پیدا کرو ، سختی نہیں۔ لوگوں کو خوشخبری سناﺅ ، انہیں ڈرا ڈرا کرمتنفر نہیں(علم، بخاری) 
٭تم لوگ دین میں آسانی کرنے کے لےے بھیجے گئے ہو اور سختی کرنے کے لےے نہیں بھیجے گئے ہو (کتاب وضو، بخاری) 
٭ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا کیا جاتا ہے مگر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنالیتے ہیں ۔اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں بات یوں ہوئی تو میں یہودی ہوں تو وہ ویسا ہی ہوگا جیسا اس نے کہا ہے(نمازِجنازہ، بخاری)
 ٭ دین کے معاملے میں اُن بندوں پر نظر رکھو جو دین میں تم سے فائق اور بالاتر ہوں(ترمذی)

۳۔استخارہ : نماز اور دعا
رسول اﷲ ﷺ ہمیں تمام کاموںمیں استخارہ کی تعلیم فرمایا کرتے تھے (تہجد، بخاری)
٭جب تم میں سے کوئی شخص کسی بھی کام کا ارادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے(بخاری)٭
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو تمام کاموں میں استخارہ اتنی اہمیت سے سکھاتے تھے جیسے قرآن مجید کی سورت کی تعلیم دیتے تھے
٭ انسان کی سعادت اورنیک بختی یہ ہے کہ اپنے کاموں میں استخارہ کرے اور بدنصیبی یہ ہے کہ استخارہ کو چھوڑ بیٹھے،اور انسان کی خوش نصیبی اس میں ہے کہ اس کے بارے میں کیے گئے اللہ کے ہر فیصلے پر راضی رہے اور بدبختی یہ ہے کہ وہ اللہ کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرے(مشکوة)
٭جو آدمی اپنے معاملات میں استخارہ کرتا ہو وہ کبھی ناکام نہیں ہوگا اور جو شخص اپنے کاموں میں مشورہ کرتا ہو اس کو کبھی شرمندگی یا پچھتاوے کا سامنا نہ کرنا پڑے گا(طبرانی)

استخارہ کا طریقہ: دن رات میں کسی بھی وقت (جونماز کا مکروہ وقت نہ ہو)دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھیں۔سلام پھیر کر استخارہ کی یہ دعا مانگیں جس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی ہے۔

استخارہ کی دعا: اَللّٰھُمَّ اِنِّیٓ اَس تَخِی رُکَ بِعِل مِکَ وَاَس تَق دِرُکَ بِقُد رَتِکَ وَاَس ئَلُکَ مِن فَض لِکَ ال عَظِی مِ فَاِنَّکَ تَق دِرُ وَ لآ اَق دِرُ وَتَع لَمُ وَ لآ اَع لَمُ وَ اَن تَ عَلَّا مُ ال غُیُو بِ ، اَللّٰھُمَّ اِن کُن تَ تَع لَمُ اَنَّ ھٰذَا ال اَم رَ خَی رُ‘ لِّی فِی دِی نِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَةِ اَم رِی فَاق دُھُ لِی وَیَسِّرھُ لِی ثُمَّ بَارِک لِی فِی ہِ وَ اِن کُن تَ تع لَمُ اَنَّ ھٰذَا ال اَم رَ شَرُّ‘ لِّی فِی دِی نِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَةِ اَم رِی فَاص رِف ہُ عَنِّی وَاص رِف نِی عَن ہُ وَاق دُر لِیَ ال خَی رَ حَی ثُ کَانَ ثُمَّ اَر ضِنِی بِہ، 
دعا کامفہوم:”اے اللہ ! بے شک میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے تیری قدرت کے ساتھ طاقت طلب کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا۔ تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو خوب جانتا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ بے شک یہ کام میرے لیے، میرے دین، میرے معاش اور میرے انجام ِکار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اس کا میرے حق میں فیصلہ کردے اور اسے میرے لئے آسان کردے۔ پھر میرے لئے اس میں برکت ڈال دے۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ بے شک یہ کام میرے لیے، میرے دین، میرے معاش اور میرے انجامِ کار کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے دور کردے اور مجھے اس سے دور کردے اور میرے لیے بھلائی کا فیصلہ کردے جہاں بھی وہ ہو، پھر مجھے اس پر راضی کردے“۔(بخاری)

۴۔اطاعتِ امیر، حکمران، اور رعیت 
٭ جب معاملہ نااہل لوگوں کے سپرد کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا(علم، بخاری)
 ٭سنو اور اطاعت کرو اگرچہ کوئی حبشی ہی تم پر حاکم بنادیا جائے (اذان، بخاری) 
٭تم سب لوگ مسئول یعنی ذمہ دار ہو اور تم سب لوگوں سے تمہاری رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ ۔امام بھی مسئول ہے اور اس سے اس کی رعیت کی بابت باز پرس ہوگی۔ ۔مرد اپنے گھر میں مسئول ہے اور اس سے اس کی رعیت کی باز پرس ہوگی ۔۸۔ عورت اپنے شوہر کے گھر میں مسئولہ ہے اور اس سے اس کی رعیت کی بابت باز پرس ہوگی ۔۔ خادم اپنے آقا کے مال میں مسئول ہے اور اس سے اس کی رعیت کی بابت باز پرس ہوگی (جمعہ، بخاری) 
٭جب بہت سے لوگ مشترکہ طریقہ پر کھارہے ہوں تو دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملاکر کھانا منع ہے (مظالم، بخاری) 
٭امام کی بات سننا اور ماننا ہر شخص پر ضروری ہے، جب تک خلاف شرع نہ ہو 
٭حکومت اور سرداری کے زیادہ لائق تم اس کو پاؤگے جو حکومت اور سرداری کو بہت ناپسند کرتا ہو(مناقب، بخاری) ٭مسلمانوں کی جماعت اور برحق امام کے پیچھے رہو۔ اگر جماعت یا امام نہ ہوتو سب فرقوں سے الگ رہو (صحابہؓ ، بخاری) 
٭اطاعت کرنا صرف اچھے کاموں میں لازم ہے ۔ گناہ کے کام میں امام کی فرمانبردار ی ضروری نہیں(مغازی،بخاری) 
٭جو قوم اپنے اوپر عورت کو حکمراں بنائے گی وہ ہرگز فلاح حاصل نہ کرسکے گی(مغازی،بخاری) 
٭خلیفہ کے دو باطنی مشیر ہوتے ہیں۔ ایک اس کو خیر کی طرف اور دوسرا برائی کی طرف راغب کرتا ہے (تقدیر، بخاری) 
٭عہدہ کا مطالبہ کروگے تو ساری ذمہ داری تم پر ہوگی۔لیکن اگر بن مانگے ملی تو پھر تمہاری مدد کی جائے گی(النذور، بخاری) 
 ٭جو شخص اپنے امیر میں کوئی نا پسندیدہ بات دیکھے تو صبر کرے (فتن، بخاری)
٭حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک صاف کفر نہ دیکھ لیں(فتن، بخاری) 
٭سنو اور اطاعت کرو خواہ تم پر کسی حبشی غلام کو ہی عامل بنادیا جائے
٭ جماعت کا ذمہ دار اگر معاملات میں خیانت کرے اور اسی حالت میں مرجائے تو اس پر جنت حرام ہے(احکام، بخاری) 
٭جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دُہرا ثواب ملتا ہے۔(اعتصام، بخاری) 
٭ اولوالامر یعنی خلیفہ یا امیر کا حکم مانو خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی ہو۔ (مسند احمد، ابی داو ¿، ترمذی)
٭ تم میرے اور میرے خلفاءکے طریقے کی پیروی کو اپنے اوپر لازم کرلینا اور دین میں نئی نکالی ہوئی باتوں سے اپنے آپ کو الگ رکھنا (مسند احمد، ابی داو ، ترمذی، ابن ماجہ)

۵۔اللہ اوررسول اللہ ﷺ
٭کسی اچھی بات میں اﷲورسول کی نافرمانی نہ کرنا(ایمان، بخاری) 
٭نماز قائم کرنے ، زکوٰة ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے کے اقرار پر نبی ﷺ سے بیعت کی گئی(ایمان، بخاری) 
٭میرے نام پر اپنا نام رکھ لو مگر میری کنیت یعنی ابوالقاسم پر اپنا نام نہ رکھو(علم، بخاری) 
٭سات قسم کے آدمی اﷲ کے سائے میں ہوں گے ۔ عادل حاکم، عبادت میں بڑا ہونے والا نوجوان، جس کا دل مسجدوں میں لگا رہتا ہو، جوصرف اﷲ کے لےے دوستی کریں ۔ جسے کوئی عورت بدکاری کے لےے بلائے اور وہ اللہ کے خوف سے انکار کردے، جو چھپا کر صدقہ دے ،جو خلوت میں اﷲ کو ایسے یاد کرے کہ آنکھیں آنسوو ¿ں سے تر ہوجائیں(اذان، بخاری) 
٭ جو شخص رسول اللہ ﷺپر جھوٹ بولے اسے چاہیئے کہ دوزخ میں اپنا ٹھکانہ ڈھونڈلے(نمازِجنازہ، بخاری) 
٭اﷲ کے ننانوے (۹۹)ناموں کو یاد کرنے والا جنت میں داخل ہوگا (شروط، بخاری)
٭جس نے نبی ﷺکی اطاعت کی اس نے اﷲ کی اطاعت کی 
٭ جس نے نبی ﷺ کی نافرمانی کی اس نے اﷲ کی نافرمانی کی ۔
٭ جس نے شرعی امیر کی اطاعت کی اس نے نبی ﷺکی اطاعت کی
٭ جس نے شرعی امیر کی نافرمانی کی اس نے نبی ﷺکی نافرمانی کی
٭ نبی ﷺ کے بعد کسی سے شرطِ موت پر بیعت نہ کریں گے (جہاد ، بخاری) 
٭جو شخص قصداً میرے اوپر جھوٹ لگائے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے(انبیائ، بخاری) 
٭رسول اﷲ ﷺ اس طرح جلدی جلدی باتیں نہ کیا کرتے تھے جیسے عام لوگ کرتے ہیں(مناقب، بخاری) 
٭اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : ابن ِآدم زمانہ کو بُرا کہہ کر مجھے ایذا دیتا ہے کیونکہ زمانہ میں ہی تو ہوں(تفسیر، بخاری) 
٭سیدنا ابراہیم ؑکو جب آگ میں ڈالا گیا تھا تو آپ نے کہا تھا: حَس بُنَا اﷲُ وَنِع م ال وَ کِی ل 
٭جو کچھ میں جانتا ہوں اگر اس کو تم جانتے تو ہنستے تھوڑا اور روتے زیادہ، نبی ﷺ(تفسیر، بخاری) 
٭ جو میری سنت سے منہ پھیرے گا وہ مجھ سے نہیں(فضائل قرآن، بخاری) 
٭اگر کوئی اﷲ کی رضا کی بات کہہ کر اسے اہمیت نہ دے تو اﷲ اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے(رقاق، بخاری) 
٭جونبی ﷺکی اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو نافرمانی کرے گا ،گویا اس نے انکار کیا(اعتصام، بخاری) 
٭ میں اللہ اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں۔ جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں (توحید، بخاری) 
٭نبیﷺ اپنے ذاتی کام خود کرتے تھے۔ ضرورت پڑنے پر خود ہی اپنی ٹوٹی جوتی مرمت کر لیتے ، خود ہی اپنا پھٹا ہوا کپڑا سی لیتے ،اپنے کپڑوں میں جوئیں دیکھتے اور بکری کا دودھ بھی آپ خود ہی دوہ لیتے تھے۔( ترمذی) 
٭ نبی ﷺ صحابہ کے اُکتا جانے کے خیال سے ہر روز وعظ نہ فرماتے تھے(علم، بخاری) 

صلوٰة و درود:
 ٭ مجھ پر زیادہ صلوٰة بھیجنے والاقیامت کے دن مجھ سے قریب ترین اور مجھ پر زیادہ حق رکھنے والاہوگا۔ ( ترمذی)
٭جب تک کہ نبیﷺ پر درود نہ بھیجا جائے ، دُعا آسمان اور زمین کے درمیان ہی رکی رہتی ہے ۔ (ترمذی)
٭ جو میری قبرپر مجھ پر درود بھیجتا ہے ،وہ میں خود سنتا ہوں۔ جودُور سے بھیجتا ہے وہ مجھ پرپہنچا یا جاتاہے (بیہقی)

۶۔ اللہ کی پناہ
٭اے اﷲ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخیلی، سُستی،بڑھاپے کی محتاجی زندگی والی بدترین عمر سے
٭اے اﷲ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب، دجال کے فتنے اور زندگی و موت کے دیگر فتنوں سے (تفسیر، بخاری) 
٭اے اﷲ! میں بخیلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں
٭ یا اﷲ میں نامردی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
٭ یا اﷲ میں نکمی عمر تک زندہ رہنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں
٭ اے اﷲ! میں سستی اور بے انتہا بڑھاپے سے تیری پناہ چاہتا ہوں
٭ اور گناہ اور قرض و تاوان سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں
٭قبر کے فتنے اور قبر کے عذاب سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں
٭دوزخ کے فتنے اور دوزخ کے عذاب سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں
٭ مالداری کے فتنے اور غربت کے فتنے سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں
٭ مسیح دجال کے فتنے سے بھی یا اﷲ میں تیری پناہ چاہتا ہوں(دعوات، بخاری) 

۷۔اعمال اورنیت
٭ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور آدمی کونیت ہی کا صلہ ملتا ہے(آغازِ وحی، بخاری)
٭سب سے افضل عمل اﷲ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا ہے، پھر اس کے بعد اﷲ کی راہ میں جہاد کرنا ،اور اس کے بعد حجِ مبرور ہے(ایمان، بخاری) 
٭اعمال کے نتیجے نیت کے موافق ہوتے ہیں، ہر شخص کے لئے وہی ہے جو وہ نیت کرے (ایمان، بخاری) 
٭جب بندہ بیمار ہوجاتا ہے یا سفر کرتا ہے تو جس قدر عبادت وہ گھر میں رہ کر یا حالت ِصحت میں کیا کرتا تھا ، وہ سب اس کے لےے لکھی جاتی ہیں (جہاد ، بخاری) 
٭اﷲ نے مجھے یہ حکم نہیں دیا کہ میں لوگوں کے دلوں میں جھانک کر دیکھوں (مغازی،بخاری) 

۸۔امر بالمعروف ونہی عن المنکر
٭اچھی باتوں کا حکم دینے اوربُری باتوں سے منع کر نے والا اگر خود اِن پر عمل نہ کرے تو اسے آگ میں ڈالا جائے گا جہاں اس کی آنتیں نکل پڑیں گی ۔وہ اس طرح گھومے گا جیسے گدھا اپنی چکی کو لے کر گھومتا ہے(آغازِ خلق،بخاری) 
٭ میرا پیغام لوگوں تک پہنچاو اگرچہ ایک آیت ہی سہی(انبیائ، بخاری) 
٭ خلاف شرع باتوں کو ہاتھ سے اوراگر طاقت نہ ہو تو زبان سے بدلنے کی کوشش کرو (مسلم) 
٭ اﷲاُس بندہ کو شاداب رکھے جومیری حدیث کویاد کرے اور دوسروں تک پہنچائے(ترمذی، ابو داو د)

۹۔انصاری ، صحابہؓ اور اہل بیت 
٭ انصار میں سے نیکو کار کی نیکی کو قبول کرو اور ان میں بدکار کی بدی سے درگذر کرو(جمعہ، بخاری) 
٭نبی ﷺ کی دعا: اے اﷲ! تو حسن ؓسے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے اُس سے بھی محبت فرما(بیوع، بخاری) 
٭نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہؓ کو بُرا نہ کہو(صحابہؓ ، بخاری) 
٭ انصار کے ساتھ سوائے مومن کے کوئی دوستی نہ رکھے گا اور سوائے منافق کے کوئی دشمنی نہ رکھے گا(انصار، بخاری) 
٭انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان کی نیکی کو قبول کرنا اور ان کی برائی سے درگزر کرنا(انصار، بخاری)

۰۱۔ایمان کی پہچان
٭ وہ ایمان کی شیرینی کامزہ پائے گا،جس کے نزدیک اﷲ اور اس کا رسول ﷺسب سے زیادہ محبوب ہو۔جس کسی سے محبت کرے تو اﷲ ہی کے لےے محبت کرے۔ اور کفر میں واپس جانے کو ایسا بُرا سمجھے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو سمجھتا ہے(ایمان، بخاری) 
٭ لا الٰہ الا اﷲ کہنے والے کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو تو وہ دوزخ سے نکال لیا جائے گا(ایمان، بخاری) 
٭جو شخص اﷲ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور نماز پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے، اﷲ کے ذمہ یہ وعدہ ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کردے گا (جہاد ، بخاری) 
٭جس نے کلمہ لا الٰہ الا اﷲ کہا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا(لباس، بخاری) 
٭ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی تو اس کے بارے میں وہ ذمہ داری ختم ہوگئی جو اﷲ کی طرف سے صاحب ایمان بندوں کے لئے ہے(سنن ابن ماجہ)

۱۱۔برائی،بھلائی ؛ نیکی، گناہ
٭ بُرائی کا بدلہ اسی کے موافق دیا جاتا ہے مگر یہ کہ اﷲ تعا لیٰ اس سے درگزر فرمائے(ایمان، بخاری) 
٭ سب سے بُرا اس کو پاؤگے جو ایک طرف ایک طرح بات کرے اور دوسری طرف دوسری طرح کی (مناقب، بخاری) 
٭ اﷲ بدی کو بدی سے نہیں بلکہ بدی کو نیکی سے مٹا تا ہے۔ کیونکہ گندگی کبھی گندگی کو نہیں دھوسکتی۔ (مسند احمد )
٭ نیکی کا بدلہ دس گُنا سے سات سو گُنا تک ہے (ایمان، بخاری) 
٭ اﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب دین کا وہ کام ہے،جسے ہمیشہ کیا جائے(ایمان، بخاری) 
٭بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ۔ ہر ایک صغیرہ گناہ کاکے لےے یہ کفارہ ہے(مواقیةالصلوٰة، بخاری) 
٭راستے میں پڑی کانٹوں کی ایک شاخ کو ہٹانے پر اﷲ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو معاف کردیا (اذان، بخاری) 
٭تم میں بہتر وہ شخص ہے، جن کے اخلاق اچھے ہوں (مناقب، بخاری) 
٭ نیکی کے ارادہ پر ہی پوری نیکی اور عمل بھی کرلیا تو دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں
٭ بُرائی کا ارادہ کر کے خوف سے عمل نہیں کیاتو ایک نیکی کا ثواب ملے گا ۔ اگر برائی کر لی تو ایک ہی گناہ ملے گا
٭جو دکھانے کے لےے کوئی نیک کام کرے گا تو اﷲ قیامت کے دن اس کی بدنیتی سب کو سنادے گا (رقاق، بخاری) 
٭ جو روزے رکھتے ، نمازیں پڑھتے اور صدقہ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ڈرتے ہیں کہ کہیں اُن کی یہ عبادتیں قبول نہ کی جائیں۔ یہی لوگ بھلائیوں کی طرف تیزی سے دوڑتے ہیں (ترمذی وابن ماجہ)
 ٭ہر برائی کے بعد نیکی کرو تو وہ اس کو مٹادے گی اورلوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آو ¿ (ترمذی ) 
٭نماز نور ہے، صدقہ دلیل و برہان ہے اور صبر اُجالا ہے (صحیح مسلم) 
٭ جس نے میری کوئی ایسی سنت زندہ کی جو میرے بعد ختم کردی گئی تھی تو اس شخص کوان پر عمل کرنے والے تمام بندگان خدا کے اجر و ثواب کے برابر اجر و ثواب ملے گا۔(جامع ترمذی)
٭جس نے نیکی کے راستہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی تو اسے ان سب لوگوں کے اجروں کے برابر اجر ملے گا جو اس کی بات مان کراس راستہ پر عمل کریں گے۔ اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی (مسلم) 
٭تمہیں چاہیے کہ میانہ روی اختیار کرو اور اﷲ کا قرب حاصل کرو (مرض، بخاری) 
٭خلوت و جلوت میں خوفِ خدا، خوشی و غصہ میںحق بات کہو، خوشحالی و تنگدستی میں میانہ روی اختیار کرو(بیہقی) 
٭ اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص بھی ہدایت پا جائے تو وہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بڑھ کرہے(جہاد ، بخاری) حق بات:٭ہر موقع پر حق بات کہوخواہ وہ لوگوںکے لےے کڑوی ہی کیوں نہ ہو (مسند احمد) ٭ اﷲ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو(مسند احمد)
گناہ اور گنہگاروں کی اقسام:سب سے بڑا گناہ اﷲ کا کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا (شہادات، بخاری) ٭سات تباہ کن گناہوں سے بچو: اﷲ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی جان کو ناحق مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ سے بھاگنا اور پاک دامن و بے خبرمومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا(وصایا، بخاری) 
٭ کسی کو اﷲ کا شریک بنانا سب سے بڑا گناہ ہے
٭ تیسرا بڑا گناہ اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرنا ہے(تفسیر، بخاری) 
٭زانی زنا کرتے وقت، شرابی شراب پیتے وقت اور چور چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا
٭میری اُمت کی چند قومیں زنا کرنے کو، ریشم پہننے کو، شراب پینے کو اور باجوں کو حلال سمجھیں گی(اشربہ، بخاری) 
٭گنہگار کی مثال صنوبر کے پیڑ کی سی ہے کہ سیدھا سخت کھڑا رہتا ہے اﷲ جب چاہتا ہے اسے اکھیڑ دیتا ہے (مرض، بخاری) 
٭ اے میرے رب! میں نے گناہ کیا ہے، تو مجھے معاف کردے (توحید، بخاری) 
٭اُن گناہوں سے بچنے کی خاص طور سے کوشش کرو جن کو معمولی سمجھا جاتا ہے (ابن ماجہ، بیہقی) 
٭ دنیا دار گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا (بیہقی) 
٭دوسروں کے متعلق بدگمانی سے بچو، کسی کی کمزوریوں کی ٹوہ میں نہ رہا کرو ( مسلم)
٭اور جاسوسوں کی طرح کسی کے عیب معلوم کرنے کی کوشش بھی نہ کیا کرو( مسلم)
٭نہ بغض و کینہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو (مسلم) 
٭ تکلیف اور ناگواری کے باوجود پوری طرح کامل وضو کرنا،مسجدوں کی طرف قدم زیادہ پڑنااور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا منتظر رہنا ،گناہوں کو مٹانے والے اعمال ہیں(صحیح مسلم) 
٭ کوئی گناہ سر زد ہوجائے تو وضو کرکے نمازپڑھو اور معافی مانگو ۔ اﷲ معاف فرمادیتا ہے( ترمذی) 
٭اگر شادی کی عمر کو پہنچ جانے پر بھی اولاد کی شادی کا بندوبست نہیں کیا اور وہ اس کی وجہ سے حرام میں مبتلا ہوگیا تو اس کا باپ اس گناہ کا ذمہ دار ہوگا۔ (بیہقی) 
٭ سات مہلک اور تباہ کن گناہ :اﷲ کی عبادت یا صفات میں کسی کو شریک کرنا، جادو کرنا، قتلِ ناحق،سود کھانا،یتیم کا مال کھانا، جہاد میں لشکر کاساتھ چھوڑ جانا، پاک دامن بندیوں پر زنا کی تہمت لگانا (مسلم) 
٭ جس نے لوگوں کو کسی گمراہی کی دعوت دی تو اس داعی کو ان سب لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا۔ جو اس کی دعوت پر بدعملی کے مرتکب ہوں گے اور ان لوگوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی (مسلم) 
٭ دین میں نکالی ہوئی ہر نئی بات بدعت ہے اور ہربدعت گمراہی ہے(مسند احمد، ابی داو ¿، ترمذی)

۲۱۔بہتان، غیبت، چغلی، مذاق 
 ٭ ایسا بہتان کسی پر نہ باندھنا جس کو تم دیدہ و دانستہ اپنے سامنے بناﺅ(ایمان، بخاری) 
٭لوگوں میں صلح کرانے کی کوشش میں کوئی اچھی بات کی چغلی کھانے والا شخص جھوٹا نہیں ہے (صلح، بخاری) 
٭ غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت اور سنگین ہے (بیہقی)
٭گوز لگانے یعنی ہوا خارج کرنے پر ہنسنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے ( بخاری)

 ۳۱۔ پردہ پوشی، مصیبت 
٭جو شخص مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کرے گا، اﷲ تعالیٰ قیامت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا
٭حشر میں اﷲ تعالیٰ کے سامنے بندہ مومن جب اپنے گناہوں کا اقرار کرلے گاتو اﷲ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں سے پردہ پوشی کی اور آج بھی تمہاری مغفرت کرتا ہوں
٭کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرنے پر اﷲ روزِ حشر اس کی ایک مصیبت کو دور فرمائے گا (مظالم، بخاری)

۴۱۔ پڑوسی کے حقوق 
٭کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی وغیرہ گاڑنے سے نہ روکے(مظالم، بخاری) 
٭اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو تم کامل مومن ہوجاو ¿ گے( ترمذی) 
٭وہ جنت میں داخل نہ ہوسکے گا جس کی ایذاءر سانیوں سے اس کے پڑوسی مامون نہ ہوں (مسلم)

۵۱۔تجارت، خرید و فروخت، رہن
٭ اﷲ اس شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت ، خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی اختیارکرے 
٭بیچنے والے اور خریدار دونوں کو جدا ہو نے سے قبل بیع کو ختم کرنے کا اختیار ہوتا ہے
٭ اگر دونوں گروہ سچ بولیں ، مال کاعیب و ہنرظاہر کردیں تو اس خرید و فروخت میں برکت دی جائے گی
٭اور اگر جھوٹ بولیں گے اور عیب پوشی کریں گے تو ان کی تجارت میں سے برکت ختم کردی جائے گی
٭ جھوٹی قسم مال کو کھوٹا کردیتی ہے اور برکت کو مٹا دیتی ہے 
٭رسول اﷲ ﷺ نے ایک مرتبہ پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اجرت بھی دی 
٭جب تم خرید و فروخت کیا کرو تو کہہ دیا کرو کہ دھوکہ کوئی نہ ہو
٭ خریدے گئے اناج کو مکمل طور پر اپنے قبضہ میں لینے سے قبل اسے فروخت کرنا منع ہے
٭اپنے غلہ کو ناپ لیا کرو۔ تمہارے لےے اس میں برکت ہوگی٭ سونا، سونے کے عوض۔ گندم، گندم کے عوض کھجور، کھجور کے عوض اور جَو، جَو کے عوض فروخت کرنا سود ہے ۔مگر برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہو تو درست ہے۔
٭کوئی شہری کسی دیہاتی آدمی کا مال و اسباب فروخت نہ کرے یعنی اس کا دلال نہ بنے۔
٭کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع (بزنس ڈیل)میں مداخلت نہ کرے
٭دَورِ جاہلیت کی بیع حبل الحبلہ منع ہے۔یعنی کوئی شخص ایک اونٹنی خریدے اور قیمت دینے کی میعادیہ مقرر کر ے کہ یہ اونٹنی بچہ جنے پھر اس کے پیٹ کی اونٹنی بڑی ہوکر بچہ جنے ،تب قیمت دوں گا
٭اونٹنی اور بکری وغیرہ کو فروخت کرنے کی غرض سے اس کا دودھ تھن میں روک کر رکھنا منع ہے۔
٭نبی ﷺ نے پھل کے پک جانے سے قبل ان کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے
٭نبیﷺ نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ ، منابذہ اور مزابنہ(مختلف اقسام کے خرید و فروخت )سے منع فرمایا
٭ قیامت کے دن میں اُس کا دشمن ہوں گا جو میرا نام لے کر عہد کرے مگر پھر اس کے خلاف کرے
٭ قیامت کے دن میں اُس کا دشمن ہوں گاجو کسی مزدورسے اجرت پر کام لے اور پھر مزدوری نہ دے
٭جو شخص کھجور میں سلم کرے اس کو چاہیے کہ ایک معین پیمانہ اور معین وزن کے حساب سے کرے
٭ معین پیمانہ میں اور مدتِ معین تک کے لےے سلم کی کرو(بیوع، بخاری) 
٭کوئی شخص کسی دوسرے کے بھاو ¿ پر بھاو ¿ (بزنس ڈیل) نہ کرے(نکاح، بخاری) 
٭ رسول اﷲ ﷺ نے باغ یا کھیت کو چند سالوں کے لئے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔(صحیح مسلم)
٭ جو چیز پاس موجود نہ ہو، اس کی بیع فروخت کا کسی سے معاملہ کرنا منع ہے۔ (جامع ترمذی)
٭ مہنگا کر کے بیچنے کے لےے غلہ وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے والا تاجر گنہگار ہے۔ (صحیح مسلم)
٭گھر یا جائداد بیچنے میں کوئی برکت یا فائدہ نہیں الّا یہ کہ یہ دام کسی جائداد میں لگادو۔( ابن ماجہ)
٭ رہن جب تک مرہون ہے اس پر ہونے والے اخراجات کے بدلہ میں سوار ہوا جاسکتا ہے۔ اسی طرح دودھ دینے والے جانور کا دودھ بھی اس پر ہونے والے اخراجات کے بدلے میں پیا جاسکتا ہے(رہن، بخاری)

۶۱۔ تصویر کشی ، مصور 
٭ جاندار کی تصویریں بنانے والوں پر قیامت کے روز عذاب کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو صورتیں تم نے بنائی ہیں ان کو زندہ کرو(بیوع، بخاری) 
٭نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں وہاں فرشتے نہیں جاتے(بیوع، بخاری) 
٭نبی ﷺ نے مصور پر بھی لعنت فرمائی ہے(بیوع، بخاری) 
٭رحمت کے فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جہاں کتا ہو یا جانداروں کی تصویریں ہوں (مغازی،بخاری)

۷۱۔ تقدیر، نصیب، قسمت
٭ روح پھونکے جانے سے قبل بچہ کاعمل، اس کا رزق، اس کی عمر، اور خوش بختی یا بدبختی لکھ دی جاتی ہے(آغازِ خلق، بخاری) 
٭نذر ابن آدم کے پاس وہ چیز نہیں لاتی ہے جو میں نے اس کی تقدیر میں نہ رکھی ہو(تقدیر، بخاری) 
٭تقدیر پر ایمان لانا بہت ضروری ہے۔ تقدیر پر ایمان لائے بغیر مرنے والا یقینا دوزخی ہے(ترمذی)
٭ قضا و قدر کے مسئلہ میں ہرگز حجت اور بحث نہ کرنا (ترمذی) 
٭جو تمہاری قسمت میں لکھا ہے اُس پر راضی اور مطمئن ہوجاو ¿ تو تم بڑے دولت مند ہوجاو ¿ گے( ترمذی)

 ۸۱۔تقویٰ اور توبہ
٭جو شخص اﷲ تعالیٰ سے ڈرے اُس کے لئے مالداری میں کوئی مضائقہ نہیں(مسند احمد)
٭صاحب تقویٰ کے لئے صحت مندی ،دولت مندی سے بھی بہتر ہے(مسند احمد)
٭ اﷲ تعالیٰ اُس متقی دولت مند بندہ سے محبت کرتا ہے جو غیرمعروف اور چھپا ہوا ہو (مسلم) 
٭جن کو اﷲ نے مال اور زندگی کا علم دیا ہے۔ وہ اس مال کے استعمال میں اﷲ سے ڈرتے ہیںاور اس کے ذریعہ صلہ ¿ رحمی کرتے ہیں۔ایسے بندے سب سے اعلیٰ و افضل مرتبہ پر فائز ہیں (ترمذی) 
٭ خواہش نفس کی پیروی، بخل کی اطاعت اور خود پسندی کی عادت ہلاک کرنے والی چیزیں ہیں (بیہقی)
٭خطا کاروں میں وہ بہت اچھے ہیں جو خطا کے بعد مخلصانہ تو بہ کریں اور اﷲکی طرف رجوع ہوجائیں( ترمذی)

۹۱۔ تکبر ، دکھاوا، خود پسندی
٭ہر جاندار کی خدمت میں ثواب ملتا ہے
٭ فخر و ریا کی غرض سے یا اہل اسلام سے دشمنی کے لیے گھوڑا پالنے والے پر وہی گھوڑا وبال ہوگا(الشرب، بخاری)
٭ فخر اورتکبر گھوڑے والوں، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتاہے(آغازِ خلق،بخاری) 
٭ ایک شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین سے گھسٹتا ہوا جارہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا (انبیائ، بخاری) 
٭ غرورو تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا لٹکانے والے کو اﷲ تعالیٰ قیامت کے روز رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا(صحابہؓ ، بخاری) 
٭قتل بڑھ جائے گا، تمہارے پاس مال کی کثرت ہوجائے گی بلکہ بہہ پڑے گا 
٭لوگ بڑی بڑی عمارتوں میں اکڑیں گے (فتن، بخاری) 
٭ جو دکھاوے کے لیے کام کرے گا، اللہ قیامت کے دن اسے رسوا کردے گا(احکام، بخاری)

۰۲۔ جہالت، رشک اور غیبت
٭لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا کر ان سے دینی مسائل پوچھیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے ۔ایسے لوگ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے(علم، بخاری) 
٭رشک کرناصرف دو قسم کے افراد پر جائز ہے۔ایک وہ مالدار جو اپنا مال راہِ حق میں صرف کرتا ہو اور دوسرا وہ صاحبِ علم و حکمت جولوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہو(علم، بخاری) 

غیبت:
٭ غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت اور سنگین ہے (بیہقی)

۱۲۔جنت، دوزخ؛ جنتی اور دوزخی
٭ جو شخص نبی ﷺ جھوٹ بولے تو اسے چاہیئے کہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے(علم، بخاری) 
٭کلمہ لاحول ولا قوة الا باﷲ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے(مغازی،بخاری) 
٭جو کوئی جان بوجھ کراپنے اصلی باپ کے سِوا کسی اور کا بیٹا بنے تو اس پر جنت حرام ہے(مغازی،بخاری) 
٭جنتی دنیا والوں کی نظر میں حقیر و ذلیل ہے مگر وہ اﷲ کے بھروسے پر کسی بات کی قسم کھالے تو اﷲ اس کو پورا کرتا ہے(تفسیر، بخاری)٭دوزخی شریر، مغرور اور متکبر لوگ ہوتے ہیں(تفسیر، بخاری) 
٭اسی طرح کوئی بات اﷲ کی ناراضگی کی کہہ کر اسے کوئی بڑا گناہ نہیں سمجھتا حالانکہ اس کی وجہ سے جہنم گر جاتا ہے
٭دوزخ نفسانی خواہشات سے اور جنت نفس کو بُری معلوم ہونے والی باتوں سے ڈھانک دی گئی ہے
٭جنت اور دوزخ انسان کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے (رقاق، بخاری) 
٭جو اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے تو میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں (رقاق، بخاری) 
٭ دوزخ میں عذاب پانے کے بعد جنت میں داخل ہو نے والوں کو اہل جنت جہنمی کہہ کر پکاریں گے (رقاق، بخاری) 
٭ جس نے جان بوجھ کر اپنے باپ دادا کے سِوا کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا تواس پر جنت حرام ہے۔(فرائض، بخاری) 
٭ اگر کسی مسلمان کے تین بچے فوت ہوجائیں اور اسے اپنے اعمال کے سبب جہنم میں جانا ہوا تو آگ صرف قسم پوری کرنے کے لےے اسے چھوئے گی(النذور، بخاری) 
٭کنجوس شخص اﷲ،انسان اور جنت سے دورجبکہ دوزخ سے قریب ہے (جامع ترمذی)۔
 ٭چھ باتوں پر جنت کی گارنٹی: ہمیشہ سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، امانت کی ٹھیک ٹھیک ادائیگی، حرام کاری سے شرمگاہوں کی حفاظت، منع کردہ چیزوں کی طرف نظر نہ کرنا، ہاتھ روک لیناجہاں حکم ہو(مسند احمد ،بیہقی) 
٭اس کے لےے دوزخ واجب کردی گئی جس نے قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق ناجائز طور پر مار لیا (مسلم) 
٭ بہادری کے چرچے کی خاطر مرنے والا جھوٹا شہید ہے،اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا (مسلم) 
٭نام و شہرت کے لئے علم دین حاصل کرنے والا عالم، قاری اور عابد بھی جہنمی ہے (مسلم)
٭ سخی مشہور ہو نے کے لئے فیاضی کرنے والا جھوٹا سخی دوزخ میں ڈال دیا جائے گا(صحیح مسلم) 
٭ اگرکوئی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو اُس کی نہیں تو اس کو چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے ( مسلم) 
٭دوآنکھیں ایسی ہیں جن کو دوزخ کی آگ چھو بھی نہیں سکے گی۔ ایک وہ آنکھ جو اﷲ کے خوف سے روئی ہو اور دوسری وہ آنکھ جس نے جہاد میں جاگ کر پہرہ داری کی ہو (جامع ترمذی) 
٭ سابقہ امتوں میں ایک زخمی شخص نے چھری لے کر اپنا ہاتھ کاٹ ڈالااور مرگیا تو اﷲ نے فرمایا کہ اس شخص نے جلدی کرکے جان دی۔ میں نے بھی جنت اس پر حرام کردی(انبیائ، بخاری) 

۲۲۔جہاد اور شہادت کی اقسام
٭ میں یقینا اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اﷲ کی راہ میں مارا جاﺅں پھر زندہ کیا جاﺅں، پھر مارا جاﺅں (ایمان، بخاری)
 ٭ جو شخص اس لئے لڑے کہ اﷲ کا کلمہ بلند ہو جائے اور اسی کا بول بالا ہو تو وہی اﷲ کی راہ میں لڑتا ہے(علم، بخاری) 
٭ جس کے دونوں پیر اﷲ کی راہ میں غبار آلود ہو جائیں تو اس کو اﷲ نے دوزخ کی آگ پر حرام کردیا ہے (جمعہ، بخاری) 
٭ اگر دشمن زیادہ ہوں تو مسلمان سپاہی پیادہ اور سوار جس طرح ممکن ہو نماز پڑھ لیں (صلاة الخوف، بخاری) 
٭ جو کوئی جہاد کرنے والوں میں سے ہوگا تو وہ جہاد کے دروازے سے جنت میں داخل ہو گا(الصوم، بخاری) 
٭جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کردیا گیا ،وہ شہید ہے۔ (مظالم، بخاری) 
٭ سب لوگوں میں افضل مومن وہ ہے جو اپنی جان سے اور اپنے مال سے اﷲ کی راہ میں جہاد کرتاہو
٭ طاعون ہر مسلمان کی شہادت کا سبب ہے
٭ جو شخص اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان تیار کردے تو گویا اس نے خود جہاد کیا 
٭ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے 
٭نبی ﷺ کے پاس مشرکوں کا ایک جاسوس آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اسے پکڑلو اور اس کو قتل کردو 
٭ اﷲ کے راستے میں دشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن کا پہرہ دینا دنیا و ما فیہاسے بہتر ہے(جہاد ، بخاری) 
٭ جس نے نہ تو کبھی جہاد کیا اور نہ ہی جہاد کی تمنا کی تو وہ نفاق کی ایک صفت میں مرا ( مسلم) 
٭ ظالم حکمراں کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل جہاد ہے۔( ترمذی، ابو داو د ، ابنِ ماجہ) 
٭جو راہِ خدا میں مارا گیا وہ شہید ہے۔ جس کا طاعون میں انتقال ہوا، وہ بھی شہید ہے اور جس کا پیٹ کے امراض ( ہیضہ، اسہال وغیرہ) میں مبتلا ہوکر انتقال ہوا ، وہ بھی شہید ہے (صحیح مسلم)

 ۳۲۔جھاڑ پھونک اور وظائف 
٭اُجرت لے کر سانپ کے کاٹے کا علاج سورہ فاتحہ کی جھاڑ پھونک سے کیا گیا اور نبی ﷺ نے پسند کیا(اجارہ، بخاری)
٭آیة الکرسی پڑھ کر سونے سے اﷲ کی طرف سے ایک نگہبان صبح تک پاس رہتا ہے جو شیطان کو قریب نہیں آنے دیتا(وکالہ، بخاری)

۴۲۔حج اور ارکان حج
٭دورانِ حج کسی نے بھولے سے قربانی سے پہلے سر منڈوالیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اب ذبح کرلے (علم، بخاری) 
٭حج و عمرہ کے لئے مدینہ کے لوگ ذوالحلیفہ سے، شام کے لوگ حجفہ سے، نجد کے لوگ مقامِ قرن سے اوریمن کے لوگ یلملم سے احرام باندھیں(علم، بخاری)
٭حج یا عمرہ کرنے والا محرم نہ کرتا پہنے، نہ عمامہ۔ نہ پائجامہ پہنے، نہ ٹوپی اور نہ ایسا کپڑا جس میں زعفران (خوشبو) لگی ہو۔ اگر چپلیں نہ ملیں تو موزے پہن کر انہیں کاٹ دے تاکہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں(علم، بخاری) 
٭رسول اﷲ ﷺ نے کعبہ کے دونوں یمانی رکنوں کے سوا اور کسی رکن کو مَس نہیں کیا (وضو، بخاری) 
٭کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی برہنہ ہوکر طواف کرے 
٭نبی ﷺ مدینہ سے تشریف لائے تو سات مرتبہ کعبہ کا طواف کیا، مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی۔ اور صفا و مروہ کے درمیان سعی فرمایا 
٭نبی ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے تو اس کے تمام گوشوں میں دعا کی اور نماز نہیں پڑھی 
٭ اگر تم بیمار ہو تو سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرو 
٭ نبی ﷺ نے کعبہ کے اندر دونوں ستونوں کے درمیان میں نماز پڑھی(الصلوٰة، بخاری)
٭ سب سے افضل جہاد ”حجِ مقبول“ ہے
٭ضعیف والدین کی طرف سے حج بدل کیاجاسکتا ہے
٭حج کے دوران کوئی گناہ نہ کرے تو اس طرح واپس لوٹے گا جیسے اس کی ماں نے اسے بے گناہ جنم دیاہو 
٭نبی ﷺ کو عقیق کی مبارک وادی میں نماز پڑھنے کا حکم ملا
٭خوشبو لگے احرام کو تین مرتبہ دھو نا ہی کافی ہے
٭نبی ﷺ نے احرام باندھا اورمسجدذوالحلیفہ کے قریب پہنچے تو تلبیہ پڑھی
٭ صحابہ ؓ نے قربانی کے جانوروں کے گلے میں ہار ڈالے
٭ کعبہ اور صفا مروہ کا طواف کریں، اس کے بعد اپنے بال کتروا ڈالیں اور احرام کھول دیں
٭سیدنا عبداﷲ بن عمرؓ جب حج کے لئے مکہ جانے کا ارادہ کرتے تو بغیر خوشبو والا تیل لگاتے
٭بعض لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور بعض لوگوں نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا اور بعض لوگوں نے صرف حج کا احرام باندھا تھا 
٭نبی ﷺ نے فرمایا کہ حطیم بھی کعبہ کا حصہ ہے
٭ رمضان میں روزہ فرض ہوا تونبی ﷺ نے فرمایا:عاشورے کا روزہ رکھنا چاہو تو رکھ لو اور نہ چاہو تو نہ رکھو
٭ اگرنبی ﷺ کو حجر اَسود کوبوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی بوسہ نہ دیتا۔ حضرت عمر ؓ
٭کوئی مشرک حج نہ کرے نیز کوئی برہنہ شخص بھی کعبہ کا طواف نہ کرے
٭رسول اﷲﷺ نے زم زم کا پانی کھڑے ہوکر نوش فرمایا(حج، بخاری) 
٭رسول اﷲ ﷺ طوافِ کعبہ کرتے تو اس کے تین چکروں میں رمل یعنی دوڑ کر چلا کرتے تھے اور اگلے چار چکروں میں مشی یعنی معمولی چال سے چلا کرتے تھے
٭رسول اﷲ ﷺ صفاومروہ کے درمیان سعی کرتے تو بطن المسیل میں تیزدوڑا کرتے تھے
٭عرفہ یعنی نویں ذوالحجہ کے دن نبی ﷺ روزہ سے نہیں ہی تھے
٭ جب رسول اﷲ ﷺ حجةالوداع میں عرفات سے روانہ ہوئے تو ہجوم میں بھی تیز تیز چل رہے تھے
 ٭مزدلفہ میں مغرب اور عشاءکی نمازیں ایک ساتھ پڑھیں ۔ ہر نماز کے صرف فرض پڑھے
٭ قربانی کے دن جمرةالعقبہ کو کنکریاں مار نے کے بعد تلبیہ پڑھناموقوف کردیا
٭سیدنا عمرؓ نے فجر کی نماز مزدلفہ میں پڑھی اور آفتاب کے نکلنے سے پہلے ہی کوچ کردیا
٭ پوچھا:یہ تو قربانی کا جانور ہے اس پرکیسے سوار ہوسکتا ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ
٭جسے قربانی میسر نہ ہوتو تین روزے حج کے دنوں میں اور سات روزے گھر واپس لوٹ کر رکھے 
٭جب ذوالحلیفہ پہنچے تو نبی ﷺ نے قربانی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالا 
٭ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے قربانی کے جانوروں کے لیے ہار بنائے تھے
٭رسول اﷲ ﷺ نے قربانی کے جانوروں کے جھولوں اور ان کی کھالوں کو خیرات کر نے کا حکم دیا
٭ رسول اﷲ ﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے قربانی کی
٭ اونٹ کو نحر کرنے کے لیے کھڑا کرکے اس کا پیر باندھ دو پھر اس کو نحر کرو کیونکہ یہی سنت نبوی ﷺ ہے
٭ قربانی کے جانوروں کی بنوائی کی اجرت میں قصاب کو گوشت یا کھال وغیرہ نہ دینے کا حکم ہے(حج، بخاری)
٭رسول اللہ ﷺنے دو مرتبہ فرمایا:اے اﷲ! سر منڈوانے والوں پر اپنی رحمت فرما۔ اور تیسری بار فرمایا کہ اے اﷲ!بال کتروانے والوں پر بھی رحمت فرما
٭بڑے جمرے کے پاس کعبہ کو بائیں جانب اور منیٰ کو داہنی طرف کرکے سات کنکریوں سے رمی کی
٭پہلے جمرے کو سات کنکریاں مارتے تھے۔ ہر کنکری کے بعد تکبیر کہتے تھے
٭مکہ سے واپسی کے وقت کعبہ کا طواف کرکے جانا چاہئے ۔تاہم حائضہ عورت کو یہ معاف ہے
٭نبی ﷺ نے مقامِ محصب میں ظہر، عصر، مغرب، اور عشاءکی نماز پڑھی اس کے بعد تھوڑی دیر تک نیند فرمائی
٭محصب میں اترنا حج کے ارکان میں سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی عبادت ہے
٭طوافِ زیارت کے بعد حائضہ ہونے والی کے لیے جائز ہے کہ وہ طوافِ وداع کیے بغیرمکہ سے چلی جائے
٭نبی ﷺجب مکہ جاتے تو ذی طویٰ میں اترتے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی پھر مکہ میں داخل ہوتے اور جب مکہ سے واپس ہوتے تب بھی ذی طویٰ میں اترتے اور رات پھر وہاں ٹھہرتے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی(حج، بخاری) 
٭ مہاجر کو منیٰ سے لوٹنے کے بعد جب حج ختم ہوجائے توتین دن تک مکہ میں رہنا درست ہے(انصار، بخاری) 
٭حجة الوداع میں بعض اصحاب نے اپنا سر منڈوایا اوربعض نے قصر کیا یعنی سرکے کچھ بال کٹوائے(مغازی،بخاری)
٭جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان اور بیت اللہ تک پہنچنے کی سواری میسر ہو اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر(جامع ترمذی)
٭ حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو کیونکہ حج اور عمرہ دونوں فقرو محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور رکردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے اور سونے چاندی کا میل کچیل دور کردیتی ہے (جامع ترمذی، سنن نسائی)
٭حاجی کے اپنے گھر میں پہنچنے سے پہلے اس کو سلام و مصافحہ کرو اور اس سے مغفرت کی دعا کے لئے کہو۔کیونکہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا فیصلہ ہوچکا ہے (مسند احمد)

منیٰ میں قیام:
 ٭منیٰ میں قیام کے تین دنوں ( ۱۱، ۲۱، ۳۱ ذی الحجہ کوجمرات کی رمی کی جاتی ہے) میں اگر کوئی صرف دو دن یعنی۱۱، ۲۱ ذی الحجہ کو رمی کرکے منیٰ سے چل دے تو بھی کوئی گناہ نہیں ہے( ترمذی، ابی داو د، نسائی)

وقوفِ عرفہ: 
٭حج وقوف عرفہ ہے۔ جو حاجی مزدلفہ والی رات یعنی ۹اور۰۱ ذی الحجہ کی درمیانی شب میں بھی صبح صادق سے پہلے عرفات میں پہنچ جائے تو اس نے حج پالیا اور اس کا حج ہوگیا 
٭اﷲ تعالیٰ عرفہ کے دن سب سے زیادہ بندوں کے لئے جہنم سے آزادی کا فیصلہ کرتا ہو(مسلم)

طواف کعبہ:
 ٭بیت اﷲ کا طواف نماز جیسی عبادت ہے البتہ طواف میں باتیں کرنے کی اجازت ہے۔ جو کوئی طواف کی حالت میں کسی سے بات کرے تو نیکی اور بھلائی کی بات کرے۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی) 
٭حالتِ طواف میں رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھنا مسنون ہے : رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّن یَا حَسَنَةً وَّفِی ال ا خِٰرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ (سنن ابی داو د) 
٭حج یا عمرہ کرنے والے کی آخری حاضری بیت اﷲ پر ہو اور آخری عمل طواف ہو۔ (مسند احمد) 
٭ طواف زیارت کو دسویں ذی الحجہ کی رات تک موخر کرنے کی اجازت ہے(مسند احمد)

حجرہ اسود ، رکن یمانی: 
٭ حجر اسود اور رکن یمانی ان دونوں پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کے کفار ہ کا ذریعہ ہے(ترمذی)

عمرہ:
٭ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان تمام گناہوں کے لیے کفارہ ہے جو دونوں عمروں کے درمیان ہوگئے ہوں
٭رسول اﷲ ﷺ نے حج سے پہلے عمرہ ادا فرمایا تھا
٭عمرہ کا ثواب تمہارے خرچ اور تمہاری مشقت کے مطابق ملے گا
٭نبی ﷺ جب جہاد یا عمرہ سے لوٹتے تو ہر بلند زمین پر تین مرتبہ تکبیر کہتے تھے
٭نبی ﷺ سفر سے واپسی پر رات کوگھر والوں کے پاس نہ جاتے۔ صبح کے وقت تشریف لاتے یا زوال کے بعد
٭سفر توایک طرح کا عذاب ہے۔ آدمی کو کھانے، پینے اور سونے کا آرام نہیں ملتا (عمرہ، بخاری) 
٭رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے (شکار،بخاری)

احرام: 
٭ احرام کی حالت میں موذی جانور جیسے بچھو، چوہا ، کاٹنے والا کتا اور چھپکلی وغیرہ مارے جاسکتے ہیں
٭نبی ﷺ نے احرام کی حالت میں اپنے سر کے بیچ میں مقامِ لحی جمل میں پچھنا لگوایا تھا
٭ نبی ﷺ نے حضرت میمونہؓ سے احرام میں نکاح کیا ( احرام میں صرف ہم بستری کرنامنع ہے)(شکار،بخاری) 
٭حالت احرام میں قمیض، پاجامہ، عمامہ اورموزے نہ پہنو۔ احرام میں خوشبو بھی نہ لگا ہو۔ (صحیح مسلم) 
٭عورتوں کو احرام کی حالت میں دستانے ، نقاب اور خوشبو کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ ان کے علاوہ جو وہ چاہیں،پہن سکتی ہیں۔ وہ زیور، شلوار، قمیض اور موزے بھی پہن سکتی ہیں (سنن ابی داو د)

۵۲۔حجاب:محرم اور نامحرم
٭ کوئی عورت بغیر اپنے شوہر یا محرم کے دو دن تک کا سفر نہ کرے(شکار،بخاری) 
٭کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے اور نہ کوئی عورت بغیر اپنے محرم رشتہ دار کے سفر کرے (جہاد ، بخاری) 
٭نہ دی ہوئی چیز کا ظاہر کرنا ایسا ہے جیسے کوئی دو کپڑے مکر و فریب کے پہنے ہوئے ہو
٭ غیرعورتوں کے پاس تنہائی میں جانے سے پرہیز کرو
٭ کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی غیر عورت کی تعریف ایسے نہ کرے جیسے وہ اسے کھلم کھلا دیکھ رہا ہو
٭ کوئی عورت شوہر کی مرضی کے بغیر کسی کو اپنے گھر میں آنے نہ دے(نکاح، بخاری) 
٭ عورت سترکی مانند ہے ۔ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیاطین اس کو اپنی نظروں کا نشانہ بناتے ہیں (ترمذی)

ستر، برہنگی: 
٭ نہ خوداپنی ران کھولو اور نہ کسی زندہ یا مردہ آدمی کی ران کی طرف نظر کرو۔ (ابی داو د‘ابن ماجہ)
٭مر د دوسرے مرد کے ستر کی طرف اور عورت دوسری عورت کے ستر کی طرف نظر نہ کرے (مسلم)
 ٭رفع حاجت اور میاں بیوی کی صحبت کے علاوہ تنہائی میں بھی برہنگی سے پرہیز کرو۔ فرشتے تمہارے ساتھ برابر رہتے ہیں لہٰذا ان سے شرم کرو اور ان کا احترام کرو۔ (ترمذی)

غیر عورت:
 ٭ کسی نامحرم پر پہلی بلا ارادہ نظرتو جائز ہے لیکن دوسری نظر جائز نہیں (مسند احمد‘ ترمذی‘ ابی داو د)
٭مومن مرد کی کسی عورت کے حسن و جمال پر نظر پڑجائے پھر وہ اپنی نگاہ نیچی کرلے تو اﷲ تعالیٰ اس کو ایسی عبادت نصیب فرمائے گا جس کی وہ لذت و حلاوت وہ محسوس کرے گا(مسند احمد)
٭ غیر عورت اچھی لگے تو آدمی کو چاہئے کہ اپنی بیوی کے پاس جاکر اپنی نفسانی خواہش پوری کرے(مسلم)
٭اُن خواتین کے گھروں میں نہ جایا کرو جن کے شوہر کہیں باہرگئے ہوئے ہوں۔ کیونکہ شیطان سب میں اس طرح جاری ساری رہتے ہیں جس طرح رَگوں میں خون رَواں دَواں رہتا ہے( ترمذی)

۶۲۔ حدود اللہ؛ تہمت ، چوری، قتل
٭حدود اللہ میں سے کسی حد کے علاوہ کسی اور جرم کی سزا میں مجرم کودس کوڑے سے زیادہ نہ مارے جائیں(مہاربین، بخاری)
 ٭ جس نے اپنے غلام پر جھوٹی تہمت لگائی تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگا ئے جائیں گے(مہاربین، بخاری) 
٭قاتل ، شادی شدہ زانی اورمرتد کے علاوہ کسی اور مسلمان کا خون حلال نہیں ہے(الدیات، بخاری)
٭ کسی کے گھر میں بلا اجازت جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی جائے تو اس کی کوئی سزا نہیں ہے (الدیات، بخاری) 
٭بنی اسرائیل کا کوئی بااثر شخص چوری کرتا تو چھوڑ دیتے اور کوئی عام شخص چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتے (صحابہؓ ، بخاری) 
٭ چوتھائی دینار یا اس سے زائد کی چوری پر ہاتھ کاٹ لیا جائے (حدود، بخاری)

 سنگسار کرنا: 
٭تیرے بیٹے پر سودُرے اور ایک سال کی جلاوطنی کا حکم دیا جائے گااور اے انیس تم اس شخص کی عورت کے پاس جاو اگر وہ اقرار کرلے تو اسے سنگسار کردینا (شروط، بخاری)

۷۲۔حرام اور ناپسندیدہ
٭ حلال اور حرام دونوں ظاہر ہیں۔ ان دونوں کے درمیان شبہ کی چیزیں ہیں کہ جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جو شخص شبہ کی چیزوں سے بچ گیا تو اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا (ایمان، بخاری) 
٭چار قسم کے برتنوں میں پانی یا مشروب نہ پینا(۱) سبز لاکھی مرتبان (حنتم) ( ۲) کدو کے تونبے (الُّدبَّا) (۳) کریدے ہوئے لکڑی کے برتن (النَّق ±یِر)( ۴) اور روغنی برتن (الَمزَفتَّ یامقیر) (ایمان، بخاری) 
٭ گھی میں چوہا وغیرہ گر جائے تو چوہا اور اس کے گرنے کی جگہ کے اردگرد کا گھی نکال دو اورباقی گھی کھالو (وضو، بخاری) 
٭جس نے اس چیز کو ترک کردیا جس میں گناہ کا شبہ ہوتو وہ اس کو بھی چھوڑ دے گا جو صاف اور کھلا ہوا گناہ ہو
٭ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس بات کی پرواہ نہ ہوگی کہ مال حلال طریقہ سے حاصل کیا ہے یا حرام طریقہ سے (بیوع، بخاری) 
٭ شراب، مردہ جانور اور بتوں کو فروخت کرنا حرام کردیا ہے٭کتے کی قیمت، زنا کی اُجرت اور کہانت کی اُجرت لینے سے منع فرمایا گیاہے 
٭کتے اور خون کی قیمت لینا منع ہے (بیوع، بخاری) نبی ﷺ نے نر جانور کا مادہ جانور سے ملاپ کرانے کی اُجرت لینے سے منع فرمایا۔(اجارہ، بخاری)
٭ اﷲ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کرنا اور لڑکیوں کا زندہ درگور کرنا حرام کردیا ہے(الشرب، بخاری)
٭ اور حق ادا نہ کرنا اور ناحق چیز کا لینا بھی حرام کردیا ہے(الشرب، بخاری)

ناپسندیدہ: 
٭ فضول بحث کرنے، کثرت سے سوال کرنے اورمال کے ضائع کرنے کو ناپسند کیا گیاہے (الشرب، بخاری) 
٭اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم بہت بڑے عبادت گذار ہوگے( ترمذی)
 ٭ عجمی لوگوں کی طرح ایک دوسرے کی تعظیم کے لئے کھڑے نہ ہو۔ (سنن ابی داو ¿د)
٭ ایسی چھت پر سونا منع ہے جو دیواروں سے گھری ہوئی نہ ہو (جامع ترمذی) 
٭ آدمی چت لیٹنے کی حالت میں اپنی ایک ٹانگ اُٹھا کے دوسری ٹانگ پرنہ رکھے (مسلم) پیٹ کے بل اوندھا لیٹنے کا طریقہ اﷲ تعالیٰ کو ناپسند ہے(جامع ترمذی) 
٭جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ سائے میں ہوجائے تو ایسی جگہ سے اُٹھ جاﺅ(ابو داو ¿د)
٭ جب تم بہت زیادہ تعریف کرنے والے مداحین کو دیکھو تو ان کے مُنہ پر خاک ڈال دو(مسلم) 

حرام:
٭ نجاست کھانے والے جانوروں کا گوشت کھانااور دودھ پینا منع ہے (جامع ترمذی)
٭کسی زندہ جانور میں سے کاٹا گیا گوشت مردار ہے، اس کا کھانا جائز نہیں (ترمذی‘ ابو داو د) 
٭بلی کا گوشت اور اس کی قیمت کھانا منع ہے ( ابی داو د، ترمذی) 
٭ اﷲ کے رسولﷺ کی حرام کردہ چیزیںبھی انہیں چیزوں کی طرح حرام ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے قرآن میں حرام قرار دیا ہے( ابی داو د، مسند دارمی، سنن ابن ماجہ)

 حرمت والے مہینے:
٭ذیقعدہ، ذی الحجہ ،محرم اور ر جب حرمت والے چار مہینے ہیں(مغازی،بخاری)

 ۸۲۔حسن سلوک
٭صاحبِ ایمان بندہ اپنے اچھے اخلاق سے رات بھر نفلی نمازیں پڑھنے والے اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھنے والے لوگوں کا سا درجہ حاصل کرلیتا ہے (ابوداو د)
٭تم زمین پر رہنے والی مخلوق پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا(سنن ابی داو د،ترمذی) 
٭بلاشبہ ایک سخی آدمی اﷲ تعالیٰ کو عبادت گذار کنجوس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے (جامع ترمذی) 
٭ حسن سلوک کی کسی قسم کو بھی حقیر نہ جانو ۔اِس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے شگفتہ روئی کے ساتھ ملو اور یہ بھی کہ تم اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں پانی ڈال دو(جامع ترمذی)

۹۲۔ حیا، بے حیائی،فحاشی اور زنا
٭زنا کار مردوں اور عورتوں کو تنور جیسے گڑھے کی آگ میں برہنہ جلا یا جائے گا(نمازِجنازہ، بخاری) 
٭حدوداﷲ پر قائم رہنے والے منحرف ہوجانے والوں کو نہ روکیں تو ساری قوم تباہ ہوجائے گی (شرکہ، بخاری) 
٭اﷲ سے بڑھ کر غیرت مند کوئی نہیں۔اسی لئے اُس نے ظاہری اور باطنی سب فحش باتوں کو حرام کیا (تفسیر، بخاری) ٭نظر بد آنکھ کا زنا اور زنا کی بات کرنا زبان کا زنا ہے۔ نفس خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے(اجازت، بخاری)
٭حیا ایمان کی ایک شاخ ہے اورا یمان کا مقام جنت ہے (مسند احمد، ترمذی)
٭بے حیائی و بے شرمی بدکاری میں سے ہے جو دوزخ میں لے جانے والی ہے (مسند احمد، ترمذی)

 ۰۳۔دائیں طرف سے آغاز کرنا
 ٭جوتی پہننے ،کنگھی کرنے، وضو اور غسل میں دا ہنی جانب سے ابتداءکرنا اچھاہے (غسل، بخاری) 
٭ مجلس میں اشیا کی تقسیم دائیں طرف سے کرو(الشرب، بخاری) 
٭ پہلے د ا ہنی طرف کا جوتا پہنیں اور جب اتار یں تو پہلے بائیں طرف کا جوتااتاریں(لباس، بخاری) 
٭ لباس پہننے یا وضو کرنے میں داہنے اعضاءسے ابتداءکرو(مسند احمد، ابی داو د) 
٭بسم اﷲ پڑھ کر داہنے ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھاﺅ (اطعمہ، بخاری)

۱۳۔دعا اور بد دعا
٭نبی ﷺ اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کسی دعا میں نہ اٹھاتے تھے جتنے دعا استسقاءمیں
٭ اے اﷲ! فائدہ دینے والا پانی برسا (استسقائ، بخاری) 
٭ہمارا پروردگار ہر رات کو آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے تاکہ میں اس کی دعا قبول کرلوں (تہجد، بخاری) 
٭مظلوم کی بددعا سے بچوکیونکہ اس کی بددعا اور اﷲ تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا (زکوٰة، بخاری) 
٭جب تم اﷲ سے دعا مانگو تو اس سے فردوس طلب کرو کیونکہ وہ جنت کا افضل اور اعلیٰ حصہ ہے(جہاد ، بخاری)
 ٭جب کوئی دعا کرے تو یوں نہ کہے کہ اگر تو چاہے تو معاف فرما ۔ اﷲ سے قطعی طور پر مانگنا چاہئے
٭ ہر کسی کی دعاقبول ہوتی ہے اگر وہ جلدی نہ کرے۔ یوں نہ کہو کہ میں نے دعا مانگی تھی لیکن وہ قبول نہیں ہوئی(دعوات، بخاری) 
٭یا اﷲ میرے اگلے پچھلے چھپے اورکھلے سب گناہوں کو معاف فرمادے(دعوات، بخاری) 
٭ اے اﷲ! میرا حساب آسان فرما کیونکہ جس کے حساب میں جرح ہوئی وہ ہلاک ہوگیا (مسند احمد) 
٭جو اﷲ سے نہ مانگے اس سے اﷲ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے (جامع ترمذی)
٭عافیت اور خوش حالی کے زمانہ میں زیادہ دعا کیا کرو (جامع ترمذی)
٭اپنی اولاد اور مال و جائیداد کے حق میں کبھی بد دعا نہ کرو۔ مباد اوہ وقت دعا کی قبولیت کا ہو (مسلم)
٭ ہاتھ اُٹھاکے دُعا مانگنے کے بعد ہاتھوں کو چہرہ پر پھیر لینا مسنون ہے(سنن ابی داو د ) 

۲۳۔دنیا ،ا ٓخرت، قیامت اور میزان
٭ سیاہ اونٹوں کو چرانے والے اونچی اونچی عمارتوں میں رہنے لگیں تو سمجھ لینا کہ قیامت قریب ہے (ایمان، بخاری) 

٭ قیامت کی علامات:
 علم اُٹھ جائے، جہالت باقی رہ جائے۔ شراب نوشی کی کثرت اور زنا کا اعلانیہ ہونا(علم، بخاری) 
٭قربِ قیامت میں عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت ہوگی ۔پچاس عورتوں پر صرف ایک مرد ہوگا(علم، بخاری) 
٭ عالم بے عمل کو قیامت تک اس کا سر بار بار پھوڑے جانے کا عذاب دیا جاتا رہے گا (نمازِجنازہ، بخاری) 
٭ تو روزِ قیامت انہی کے ساتھ ہوگا جن سے محبت رکھتا ہے(صحابہؓ ، بخاری) 
٭جو شخص دنیا میںجس کی عبادت کرتا ہے، آخرت میں اسی کے ساتھ ہوگا 
٭ قیامت کے دن سب سے پہلے خون خرابے کا فیصلہ کیا جائے گا (رقاق، بخاری) 
٭ جو لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کرے گا، اللہ قیامت کے دن اسے تکلیف میں مبتلا کرے گا(احکام، بخاری) 
٭ دنیا مومنوں کے لئے قید خانہ اور کافروں کے لئے جنت ہے (مسلم) 
٭دنیا کی طرف سے بے رُخی اختیار کرلو تو اﷲ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا(ترمذی وابن ماجہ) 
٭جب اﷲ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو دنیا سے پرہیز کراتا ہے (مسند احمد، جامع ترمذی) 
٭ فنا ہوجانے والی دنیا کے مقابلہ میں باقی رہنے والی آخرت اختیار کرو(مسند احمد،بیہقی) 
٭ دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تراور خستہ حال بندوں پر نظر رکھواور اﷲ کا شکر ادا کرو (ترمذی) 
٭دنیا کے ہاتھ نہ آنے میں کوئی مضائقہ اور کوئی گھاٹا نہیں۔ اگر امانت کی حفاظت، باتوں میں سچائی، حسن اخلاق اور کھانے میں احتیاط اور پرہیز گاری ہو۔ (مسند احمد‘ بیہقی) 
٭روز قیامت کے پانچ سوال : 
زندگی کن کاموں میں گذاری،
 جوانی کی توانائی کن مشاغل میں خرچ کی، 
مال کن طریقوں سے حاصل کیا اور کن کاموں میں صرف کیا 
اور جو کچھ معلوم تھا اُس پرکتنا عمل کیا؟ (جامع ترمذی) 
٭ دنیا میں اپنے سے نچلے درجہ کے لوگوں پر نظررکھو، اُن پر نظر نہ کرو جو اوپر کے درجہ میں ہیں(مسند احمد) 
٭روزِ حشر میزانِ عمل میں سب سے زیادہ وزنی چیزمومن کے اچھے اخلاق ہوں گے (ابو داو د، ترمذی) 
٭ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس عالم کو ہوگا جس کو اس کے علم دین نے نفع نہیں پہنچایا یعنی اس نے اپنی عملی زندگی کو علم کے تابع نہیں بنایا۔ (مسند ابو داو د،بیہقی) 
٭میں نے تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑی ہیں۔ ایک کتاب اﷲ اور دوسری میری سنت۔ تم جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ (مو طا امام مالک)

 عذاب:
٭اللہ کے سوا کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی جاندار کو آگ کا عذاب دے (سنن ابو داو د) 
٭ بوڑھا زانی ، جھوٹا فرماں روا اور نادار متکبر کے لئے آخرت میں درد ناک عذاب ہے(صحیح مسلم)

۳۳۔ رزق، اللہ کا فضل؛ مال و دولت اورغربت
٭ مرغ کوبانگ دیتے سنو تو اﷲ سے اس کے فضل کی دعا کرو کیونکہ مرغ فرشتے کو دیکھ کر بانگ دیتا ہے
٭کسی شخص نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ پاک کھانا نہیں کھایا(بیوع، بخاری)
٭مالداروں کے پاس نیکیاں بہت کم ہیں سوائے اُس شخص کے جو مال کو فراخدلی سے خرچ کرے (الشرب، بخاری)
٭ کسی امام سے محض مالِ دنیا کے لیے بیعت کرنے والے کو سخت عذاب ملے گا(الشرب، بخاری) 
٭مالداروں کو رزق کمزوروں اور غریبوں کی وجہ سے دی جاتی ہے(جہاد ، بخاری)
٭درہم و دینار کا غلام ہلاک ہو۔ اسے کچھ دیا جائے تو خوش اور اگر نہیں دیا جائے تو ناخوش ہوجاتا ہے 
٭نبی ﷺ نے مالِ غنیمت میں خیانت کو سخت گناہ بتلایا(جہاد ، بخاری) 
٭جب کوئی اپنے سے زیادہ امیر کی طرف دیکھے تو پھر اپنے سے غریب کی طرف بھی خیال کرے(رقاق، بخاری) 
٭ زیادہ مال والے ہی سب سے زیادہ نامراد ہیں الّا یہ کہ جو اس مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں(النذور، بخاری) ٭انسان کا مال صرف وہی ہے جو اُس نے کھا کے ختم کردیا۔ دوسرے وہ جو پہن کر پُرانا کر ڈالا اور تیسرے وہ جو اُس نے راہِ خدا میں دے کر اپنی آخرت کے واسطے ذخیرہ کرلیا (مسلم) 
٭ لوگوں کے مال سے بے رُخی ختیار کرلو تو لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے(ترمذی وابن ماجہ) 
٭میری اُمت کی خاص آزمائش مال ہے (ترمذی) 
٭ انسان مال کی کمی کو پسند نہیں کرتاحالانکہ مال کی کمی آخرت کے حساب کو ہلکا کرتی ہے 
٭ اﷲ کووہ مومن بہت محبوب ہے جو غریب اور عیال دار ہو نے کے باوجود باعفّت ہو ( ابن ماجہ) 
٭جو اپنی حاجت لوگوں سے چھپائے تو اﷲ اس کو حلال طریقے سے ایک سال کا رزق عطا فرماتاہے (بیہقی) 
٭اصل زُہد یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے تمہارے پاس ہے ،اِس سے زیادہ اُس پر بھروسہ جو اﷲ کے پا س ہے(ترمذی ) 
٭جو سوال سے بچنے،اہل و عیال کے لئے رزق و آسائش کا سامان فراہم کرنے اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی غرض سے حلال دولت حاصل کرنا چاہے تو روزِقیامت اُس کا چہرہ منور ہوگا(بیہقی)
٭ جو حلال دولت اس مقصد سے حاصل کرنا چاہے کہ وہ بہت بڑا مالدار ہوجائے اوردوسروں کے مقابلے میں اپنی شان اونچی دکھاسکے تو قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اس پر سخت غضبناک ہوگا (بیہقی) 
٭ جن کو اﷲ نے مال کے بغیرصحیح علم دیا ہے اور وہ اپنے دل و زبان سے کہتے ہیں کہ ہمیں مال مل جائے ۔تو ہم بھی فلاں نیک بندے کی طرح اس کو کام میں لائیں۔ پس ان دونوں کا اجر برابر ہے (ترمذی)
٭ جو اﷲ کے عطا کردہ مال کو نادانی کے ساتھ اور خدا سے بے خوف ہوکر اندھا دُھندغلط راہوں میں خرچ کرتے ہیں ، یہ لوگ سب سے بُرے مقام پر ہیں(ترمذی)
٭ کسی نعمت یا خوش حالی کی وجہ سے کسی بدکار پر کبھی رشک نہ کرنا (شرح السنة) 
٭ کوئی متنفس اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنا رزق پورا نہ کرلے( بیہقی)
٭ تلاشِ رزق کے سلسلہ میں نیکی اور پرہیزگاری کا رویہّ اختیار کرو(شرح السنة، بیہقی)
 ٭اﷲ تعالیٰ تمہارے مال کو نہیں بلکہ اعمال کو دیکھتا ہے (صحیح مسلم)
٭اﷲ کو یہ بات پسند ہے کہ کسی بندے پر اس کی طرف سے جو انعام ہو تو اس کا اثر نظر آئے۔ ( ترمذی) 
٭ حلال روزی حاصل کرنے کی فکر ا ور کوشش فرض (نماز روزہ وغیرہ)کے بعد فریضہ ہے۔ (بیہقی)
٭ اﷲ کے صالح بندہ کے لئے جائز مال و دولت اچھی چیز ہے۔ (مسند احمد)
٭حرام مال سے کیا گیا صدقہ قبول نہیں ہوتا۔(مسند احمد )
٭ جو مرنے کے بعد حرام مال پیچھے چھوڑ کے جائے گا ۔وہ اس کے لئے جہنم کا توشہ ہوگا۔(مسند احمد)

۴۳۔رشتہ دار، اہل و عیال، والدین، اولاد
٭جب مرد اپنے اہل و عیال پر ثواب سمجھ کر خرچ کرے تو وہ اس کے حق میں صدقہ کا حکم رکھتا ہے(ایمان، بخاری) 
٭اپنے قرابت داروں کے ساتھ نیک سلوک کرے (بیوع، بخاری) 
٭ مشرک والدین کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرو
٭ اﷲ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف کو قائم رکھو(ہبہ، بخاری) 
٭ خالہ ماں کی طرح ہوتی ہے (صلح، بخاری) 
٭ اپنے اہل و عیال پر اﷲ کا حکم ادا کرنے کی نیت سے خرچ کرنے والے کو اس میں صدقہ کا ثواب ملے گا(نفقات، بخاری)
٭ نبی ﷺ اپنے اہل و عیال کے لیے سال بھر کا سامان لے کر جمع کرلیتے (نفقات، بخاری) 
٭ اہل قرابت کے ساتھ صلہ رحمی کرو، قرابتی رشتوں کو جوڑو خواہ وہ تمہارے ساتھ ایسا نہ کریں(مسند احمد) 
٭ جو اپنے ہاں پیدا ہونے والی لڑکی کی توہین اور ناقدری نہ کرے اور برتاو میں لڑکوں کو اس پر ترجیح نہ دے تو اﷲ تعالیٰ لڑکی کے ساتھ اس حسنِ سلوک کے صِلے میں اس کو جنت عطا فرمائے گا۔ (مسند احمد)
٭جس بندے نے تین بیٹیوں یا تین بہنوں یا دو ہی بیٹیوں یا بہنوں کا بار اٹھایا اور ان کی اچھی تربیت کی اور ان کا نکاح بھی کردیا تو اﷲ کی طرف سے اُس بندے کے لیے جنت کا فیصلہ ہے( ابو داو د، ترمذی)
٭ماں کی خدمت کرتے رہو کہ ان کے قدموں میں تمہاری جنت ہے۔(مسند احمد‘ سنن نسائی)
٭ ماں باپ کی خدمت و فرمانبرداری کروتو تمہاری اولاد تمہاری فرمانبردار اور خدمت گزار ہوگی۔ (طبرانی) 
٭قرابت داروں کی حق تلفی سے ڈرواور ہمیشہ سیدھی بات بولو۔ ( ابی داو د،ترمذی نسائی،ابن ماجہ)

۵۳۔ روزہ، اعتکاف، تراویح، لیلةالقدر
٭ رسول اﷲ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں مزید سخی ہو جایا کرتے تھے (آغازِ وحی، بخاری) 
٭شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب جان کرعبادت کرنے سے گزشتہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں (ایمان، بخاری) 
٭ماہِ رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب سمجھ کر روزے رکھنے سے گزشتہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں(ایمان، بخاری) 
٭ شب قدر کو رمضان کی۵۲ویں، ۷۲ ویں اور ۹۲ ویں تاریخوں میں تلاش کرو(ایمان، بخاری) 
٭ رمضان کے روزے رکھا کرو (زکوٰة، بخاری)
٭ماہِ رمضان میں آسمان یعنی جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں
٭ رمضان میں شیاطین مضبوط ترین زنجیروں سے جکڑ دیئے جاتے ہیں
٭ رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور عیدا لفطر کا چاند دیکھ کر روزہ رکھنا ترک کردو
 ٭روزہ دار بیہودہ بات اور جاہلانہ افعال سے بازرہے
٭روزہ دار کے منہ کی بو اﷲ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ عمدہ ہے
٭روزہ دار اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لئے چھوڑتا ہے لہٰذا میں ہی اس کا بدلہ دوں گا 
٭جنت میں ایک دروازہ ”ریان“ صرف روزہ داروں کے لیے مختص ہے 
٭ روزہ میں جھوٹ بولنا ، دھوکہ دینا نہ چھوڑا تو اﷲ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تو اپنا کھانا پینا چھوڑدے 
٭ جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو ۔ اگر مطلع ابرآلود ہو اور چاند نہ دیکھ سکو تو تیس دن کی گنتی پوری کرو
 ٭کوئی شخص رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھے
٭سحری اور اذان کا درمیانی وقفہ پچاس آیتوں کی تلاوت کے دورانیہ جتنا تھا
٭روزہ کے لئے سحری کھاو اس لئے کہ سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے 
٭مشرق کی طرف آ ثارِ شب نمودار ہو جائیں تو روزہ افطار کردو
٭لوگ ہمیشہ نیکی پر رہیں گے جب تک کہ وہ جلدمیں افطار کیا کریں گے
٭نبیﷺ شعبان سے بڑھ کر کسی اور مہینہ میں نفلی روزے نہ رکھتے تھے(الصوم، بخاری) 
٭ رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھو۔ ۹۲ شعبان کو چاند دکھائی نہ دے تو ۰۳ دن کا شمار پورا کرو(ابی داو د)
٭اﷲ تعالیٰ کو اپنے بندوں میں وہ بندہ زیادہ محبوب ہے جو روزہ کے افطار میں جلدی کرے ( ترمذی)
٭ کھجور سے افطار کرو ، کھجور نہ ملے تو پھر پانی ہی سے افطار کرو(مسند احمد، ابی داو د، ترمذی، ابن ماجہ)
٭روزہ دار کو افطار کرانے اور مجاہد کو جہادی سامان دینے سے روزہ دار اور مجاہد کے مثل ہی ثواب ملے گا (بیہقی )
 ٭ہر چیز کی زکوٰة ہے اور جسم کی زکوٰة روزہ ہے۔(سنن ابن ماجہ)

روزہ نہ رکھنا:
٭اسی قدر عبادتیں اپنے ذمہ لو جنہیں تم برداشت کرسکو
٭جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے گویا روزہ رکھا ہی نہیں
٭صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا منع ہے۔ جمعرات یا سنیچر کا دن ملا کر دو دن روزہ رکھ سکتے ہیں
٭عید الضحیٰ کے فوراََ بعد اگلے دو تین دن (ایام تشریق) میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے
٭جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشورے کا روزہ چھوڑدیا گیا جس کا جی چاہا اس نے عاشورہ کا روزہ رکھ لیا اور جس نے چاہا اس نے نہ رکھا (بخاری)
٭ رسول اﷲ ﷺ نے عید ین کے دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے (اضاحی، بخاری) 

سفر میں روزہ:
٭ سفر میں اگر چاہو تو روزہ رکھو اور نہ چاہو تو نہ رکھو
٭حالت میں سفر میں روزہ رکھ کر تکلیف اٹھانا کوئی نیکی نہیں ہے
٭ سفر میں روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے کو بُرا نہیں سمجھتا تھا اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو بُرا نہیں سمجھتا تھا(الصوم، بخاری)

روزہ نہیں ٹوٹتا:
٭نبی ﷺ روزہ کی حالت میں ازواجِ مطہرات کے بوسے لے لیا کرتے اور معانقہ بھی کرلیتے تھے 
٭جب کوئی شخص بھول کر کھالے یا پی لے تو وہ اپنے روزہ کو پورا کرلے 
٭کبھی کبھی اس حالت میں صبح ہوجاتی تھی کہ نبی ﷺ جنبی ہوتے تھے حالانکہ آپ روزہ سے ہوتے تھے(الصوم، بخاری) 
٭روزہ کی حالت میں بھول کر کچھ کھا پی لیااپنا روزہ پورا کروکیونکہ اﷲ نے کھلایا پلایا ہے ( صحیح مسلم)
٭ پچھنے لگوانے، قے ہوجانے اور احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا ( ترمذی)
٭روزہ کی حالت میں سرمہ لگا یا جاسکتا ہے(جامع ترمذی)
٭روزے کی حالت میں پیاس یا گرمی کی شدت کی و جہ سے نہانا جائز ہے (مو طا امام مالک ، ابی داو د)
٭روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینے سے روزہ میں کوئی فرق نہیں آئے گا (سنن ابی داو د)

قضا روزہ : 
٭حیض کے دنوں کے قضا شدہ روزے رکھنے کاحکم ہے لیکن قضا نماز پڑھنے کا حکم نہیں(مسلم)

روزہ کاکفارہ:
٭روزہ میں بیوی سے ہم بستری کرنے والے کونبی ﷺ نے فرمایا : ایک غلام آزاد کریا پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا (الصوم، بخاری)

نفلی روزہ: 
٭ رمضان کے روزوں کے بعد شوال کے چھ نفلی روزے بھی رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے ( مسلم)
٭عاشورہ ،یکم تا نو ذی الحج اور ہر مہینے کے تین روزے نبی ﷺ کا معمول تھا(نسائی)
٭ ایام بیض یعنی ہر ماہ کی تیرھویں، چودھویں، پندرھویں کو روزے رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے (ابی داو د) ٭شعبان کی پندرھویں رات میں اﷲ کے حضور میں نوافل پڑھو اور اس دن کو روزہ رکھو( ابن ماجہ)

 لیلة القدر:
 ٭ لیلة القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو 
٭رمضان کے آخری عشرہ میں نبی ﷺ خود بھی شب بیداری فرماتے اور گھر والوں کو بھی بیدار رکھتے(الصوم، بخاری)

اعتکاف: 
٭نبیﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے
 ٭جب نبی ﷺ اعتکاف میں ہوتے تو بلا ضرورت گھر میں تشریف نہ لاتے 
٭نبی ﷺ نے فرمایا تم اپنی (جائز) نذر وںکو پورا کرو(اعتکاف، بخاری) 
٭ معتکف نہ تو مریض کی عیادت کو جائے اور نہ نماز جنازہ میں شرکت کے لئے باہر نکلے(ابی داو د)
٭معتکف عورت سے صحبت کرے نہ بوس و کنار(سنن ابی داو ¿د)
٭ رفع حاجت وغیرہ کے علاوہ معتکف اپنی دیگر ضرورتوں کے لئے بھی مسجد سے باہر نہ جائے( ابی داو د)
٭اعتکاف روزہ کے ساتھ ہونا چاہئے کیونکہ بغیر روزہ کے اعتکاف نہیں ہوتا (سنن ابی داو د) 

۶۳۔زراعت ، کھیتی باڑی 
٭کسی فصل سے اگر کوئی پرندہ، مویشی یا انسان کچھ کھا لے توکاشتکار کو صدقہ دینے کے برابر ثواب ملتا ہے
٭ بیل سواری کرنے کے لیے نہیں بلکہ کھیتی کے لیے پیدا کیا گیاہے
٭کسی دوسرے کے باغ میں محنت کر کے پھلوں میں شریک ہونا جائز ہے
٭ کھیت کے کسی متعین حصہ کی پیداوار مالک کے لیے مقرر کرکے کھیت کو کاشتکاری کے لیے دینامنع ہے
٭نبی ﷺ نے اہل خیبر سے کھیتی اور پھل کی نصف پیداوار پر معاملہ کیا تھا 
٭نبی ﷺ نے مزارعت سے منع نہیں فرمایا
٭ لیکن اگر کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو مفت ہی دیدے تو اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر کچھ کرایہ لے
٭ جس شخص نے کوئی ایسی زمین آباد کی جس پر کسی کا حق نہیں تھاتو آباد کرنے والا اس کا زیادہ حق دار ہے
٭ کھیتوں کو کرایہ پر نہ دو۔خود زراعت کرویا کسی سے ان کی زراعت کروالو یا ان کو اپنے پاس روک رکھو(مزارعة، بخاری) 
٭ اپنی ضرورت سے زیادہ پانی نہ روکا جائے کہ گھاس اور دیگر پودوں کی نمو بھی رکی رہے(الشرب، بخاری)

۷۳۔زکوٰة صدقات اور ہدیہ
 فرض زکوٰة:
٭ اﷲ نے ان کے مال پر زکوٰة فرض کیا ہے
٭حضرت بو بکر ؓ کا فرمان:اﷲ کی قسم میں اس شخص سے ضرور جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰة میں فرق سمجھے گا
٭جو اپنے مال کی زکوٰة نہ دے تو اس کامال روزِ قیامت گنجے سانپ کے ہم شکل کردیا جائے گا (زکوٰة، بخاری)٭
٭صدقہ(زکوٰة) کے خوف سے متفرق مال یکجا نہ کیا جائے اور یکجا مال متفرق نہ کیا جائے
٭ جو مال دو شراکت داروں کا ہو وہ دونوں زکوٰة دینے کے بعد آپس میں برابر برابر سمجھ لیں خدمت گزار غلام اور اس کی سواری کے گھوڑے پر زکوٰة فرض نہیں(زکوٰة، بخاری) 
٭ گھوڑوں اور غلاموں پر زکوٰة واجب نہیں ہے (جامع ترمذی، سنن ابی داو د) 
٭ صدقہ مال داروں سے لیں اور اسے مستحقین پر تقسیم کریں(علم، بخاری) 

نصاب زکوٰة:
٭پانچ اوقیہ چاندی(مساوی دوسو درہم چاندی کے سکے یاساڑھے باون تولے یا ۲۱۶ گرام چاندی) سے کم پر زکوٰة فرض نہیں ہے(زکوٰة، بخاری) 
٭ ہر بیس دینار سونے کے سکوں( مساوی ۵۷ تولہ یا ۵۸ گرام سونا) پر نصف دینار(چالیسواں حصہ یا ۵۲ فیصد) زکوٰة ہے (ابن ماجہ) 
٭ پانچ وسق (ساڑھے چار یا پانچ من) سے کم کھجور پر بھی زکوٰة فرض نہیں ہے 
٭ دوسو درہم چاندی کے سکوں(مساوی ساڑھے باون تولے یا ۲۱۶ گرام چاندی) میں چالیسواں حصہ زکوٰة ہے ۔ اگر ایک سونوے درہم ہیں تو اس میں کچھ زکوٰة نہیں(زکوٰة، بخاری) 
٭ دو سودرہم پورے ہوجائیں تو چاندی کی ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم زکوٰةادا کرو (ترمذی، ابی داو د)
٭ہر اس چیز میں زکوٰة نکالیں جو تجارت کے لےے مہیا ہو(سنن ابی داو د)
٭ زکوٰة اس وقت تک واجب نہ ہوگی جب تک مال پر سال نہ گزر جائے ( ترمذی)

مویشیوں کی زکوٰة: 
٭زکوٰة صرف ان ہی اونٹوں، گائے اور بکریوں پر فرض ہے جو چھ ماہ سے زیادہ جنگل میں چرتی ہوں
٭اگر چھ ماہ سے زیادہ اپنے پاس سے چارہ وغیرہ کھلانا ہوتو ان پر زکوٰة نہیں ہے
٭ان تین جانوروں کے علاوہ کسی اور جانور پر زکوٰة فرض نہیں ،البتہ بھینس گائے ہی کی ایک قسم ہے 
٭پانچ اونٹ سے کم پر زکوٰة فرض نہیں ہے
٭چوبیس یا اس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹوں کی زکوٰة ایک بکری ہے (پانچ سے کم پر زکوٰة نہیں)
 ٭ پچیس سے پینتیس اونٹوں کی زکوٰة ایک برس کی ایک اونٹنی ہے
٭چھتیس سے پینتالیس اونٹوں پر دو برس کی ایک اونٹنی اور چھیالیس سے ساٹھ اونٹوں تک کی زکوٰة میں تین برس کی اونٹنی جفتی کے لائق دینا ہوگی
٭ اکسٹھ سے پچھتر اونٹوں کی زکوٰة میں چار برس کی ایک اونٹنی دینا ہوگی
٭چھہتر سے نوے اونٹوں کی زکوٰة میں دو دو برس کی دو اونٹنیاں دینا ہوگی
٭ اکیانوے سے ایک سو بیس اونٹوں کے لئے تین تین برس کی دو اونٹنیاں جفتی کے لائق دینا ہوں گی
٭۰۲۱ سے زیادہ پر ہر ۰۴ اونٹوں پر دو برس کی ایک اونٹنی اور ہر پچاس پر تین برس کی ایک اونٹنی دینی ہوگی
٭ جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں زکوٰة فرض نہیں 
٭ جنگل میں چرنے والی بکریوں کی زکوٰة : 
٭چالیس سے ایک سو بیس بکریوں پر ایک بکری فرض ہے 
٭ ایک سو بیس سے دو سو بکریوں تک دو بکریاں فرض ہیں
٭ دو سو سے تین سو بکریوں تک تین بکریاں فرض ہیں
٭ تین سو سے زیادہ پر ہر سو میں ایک بکری فرض ہے 
٭چالیس سے کم چرنے والی بکریوں پر کچھ زکوٰة فرض نہیں، ہاں اگر ان کامالک دینا چاہے تو دیدے
٭ زکوٰة میں بوڑھا، عیب دار اور نر جانور نہ لیا جائے (زکوٰة، بخاری)

عشر: 
٭جس چیز کوبارش کا پانی سینچے اور چشمے سینچیں یا خودبخود پیدا ہو اس میں عُشر واجب ہوتا ہے
٭ جو چیز کنوئیں کے پانی سے سینچی جائے اس میں نصف عُشر ہے (زکوٰة، بخاری)

خمس:
٭ معدنیات میں خمس یعنی پانچواں حصہ زکوٰة ہے (زکوٰة، بخاری)

نفلی صدقہ:
 اے لوگو! صدقہ دو۔ ہر شخص کو چاہیئے کہ آگ سے بچے اگرچہ کھجور کے ٹکڑے کے صدقہ دینے سے سہی۔ پھر اگر کھجور کا ٹکڑا بھی میسر نہ ہوتو عمدہ بات کہہ کر
٭غریب صحابہ ؓمزدوری کرتے اور مزدوری کے عوض ملنے والے غلہ وغیرہ کو صدقہ میں دے دیتے(زکوٰة، بخاری) 

عورت اور صدقہ:
٭نبی ﷺ نے عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے صدقہ دینے کا حکم دیا(علم، بخاری) 
٭جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں دو گے تواس کا بھی ثواب ملے گا(نمازِجنازہ، بخاری)۔ 
٭صدقہ دینے میں اتنی دیر مت کرکہ جان حلق میں پہنچ جائے
٭گھر کو بگاڑنے کی نیت کے بغیر اگر کوئی عورت گھر کے کھانے میں سے صدقہ دے تو اسے ثواب ملے گا

صدقہ اور رشتہ دار:
٭صدقہ کی ابتداءاہل و عیال اور قریبی رشتہ داروںسے کرو(زکوٰة، بخاری)
٭ عمدہ صدقہ وہ ہے جو فاضل مال سے دیا جائے
٭ جو شخص سوال کرنے سے بچے گا تو اﷲ بھی اسے سوال کرنے سے بچائے گا
٭ صدقہ دینے والا ہاتھ، صدقہ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے (زکوٰة، بخاری) 

خیرات اور رزق:
٭ خیرات کو مت روکو، ورنہ تمہارے رزق میں سے خیر و برکت کو بھی روک لیا جائے گا(زکوٰة، بخاری)
٭مال و دولت کو گن گن کرمت رکھوورنہ اﷲ بھی تجھے گن گن کردے گا(زکوٰة، بخاری)
٭فرشتوں کی ندا:”اے اﷲ !ہر خرچ کرنے والے کو اس کے خرچ کرنے کا نعم البدل عنایت فرما“(زکوٰة، بخاری)
٭فرشتے ندا دیتے ہیں:”اے اﷲ! ہر بخل کرنے والے کے مال کو تباہ و برباد کردے“(زکوٰة، بخاری)
٭ہر مسلمان پر صدقہ دینا ضروری ہے(زکوٰة، بخاری)
٭ صاحب ِ حاجت مظلوم کی فریاد رسی بھی صدقہ ہے(زکوٰة، بخاری)
٭ اچھی بات پر عمل کرنا اور برائی سے باز رہنا بھی صدقہ ہے(زکوٰة، بخاری)
 ٭اپنے صدقہ کا واپس لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی قے کا کھانے والا (زکوٰة، بخاری)
٭صدقہ میں ملے مال و اسباب کو آگے ہدیہ کرنا جائز ہے (زکوٰة، بخاری)
٭نبی ﷺ اس سے صدقہ کے اونٹوں کو داغ رہے تھے(زکوٰة، بخاری) 
٭ جو کوئی صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا وہ صدقہ کے دروازے سے جنت میں داخل ہو گا(الصوم، بخاری) 
٭پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ مستحق ہے ۔ جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو، ا سے تحفہ تحائف بھیجنے میں اولیت دو۔(بیوع، بخاری)

غیر مالیاتی صدقہ: 
٭لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ و مامون کردوکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے (رہن، بخاری) 
٭کسی کاریگر کی مدد کرویا کسی بے ہنر کو کوئی کام سکھا دو(رہن، بخاری) 
٭بحالت ِ صحت جب مالداری کی خواہش اور تنگدستی کا خوف ہو، اس وقت صدقہ دو اور صدقہ میں تاخیر نہ کرو(وصایا، بخاری) 
٭ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو خرچ کر تو میں بھی تجھ پر خرچ کروں گا(تفسیر، بخاری) 
٭ جسے اﷲ نے مال عطا کیا ہو اور وہ اسے راہِ حق میں خرچ کرتا ہو، ایسے فرد پر بھی رشک کرنا جائز ہے(فضائل قرآن، بخاری) 
٭ زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کسی کو فی سبیل اللہ دودھ پینے کے لیے دینا عمدہ صدقہ ہے (اشربہ، بخاری) 
٭کسی بندہ کا مال صدقہ کی وجہ سے کم نہیں ہوتا(ترمذی) 
٭ ضرورت سے فاضل دولت کو راہِ خدا میں صرف کرنا بہتر اور روکنا برا ہے۔البتہ گزارے کے بقدر رکھنے پر کوئی ملامت نہیں اور سب سے پہلے ان پر خرچ کرو جن کی تم پر ذمہ داری ہے(صحیح مسلم)
٭ صدقہ اﷲ کی غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت کو دفع کرتا ہے (جامع ترمذی)
٭ قیامت کے دن مومن پر اس کے صدقہ کا سایہ ہوگا (مسند احمد)
٭ صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی اور قصور معاف کردینے سے آدمی نیچا نہیں ہوتا (صحیح مسلم)
٭ ضرورت مندمسلمان بھائی کو کپڑا پہنانے والے کو اﷲ جنت کا سبز لباس پہنائے گا( ابی داو ¿د ، ترمذی)
٭بھوکے مسلمان بھائی کوکھانا کھلا نے والے کو اﷲ جنت کے پھل ومیوے کھلائے گا۔( ابی داو ¿د ، ترمذی)
٭پیاسے مسلمان کو پانی پلانے والے کواﷲ جنت کی سر بمہر شراب طہور پلائے گا ( ابی داو ¿د ، ترمذی)
٭پہلے اپنے بیوی بچوں کی ضروریات پر خرچ کرو،پھرملازمین پر پھر مستحق اہل قرابت پر (ابی داو ¿د، نسائی)
٭ قریبی عزیز کوکچھ دینے میں دو طرح کا ثواب ہے۔ ایک صدقہ ہے اور دوسرے صلہ رحمی۔ (ترمذی)

صدقہ فطر:
٭صدقہ فطر مسلمانوں میں سے ہر غلام و آزاد، مرد، عورت اور بچے سب پر فرض ہے 
٭صدقہ فطر نمازِ عید کے لےے نکلنے سے پہلے اسے اداکردینے کا حکم ہے
٭صدقہ فطر کھجور یا ”جو“ کا ایک ”صاع“ (تقریباََ دو کلو گرام) ہے 

 ہبہ، ہدیہ، تحفہ:
٭کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے لیے معمولی ہدیہ کو بھی حقیر نہ سمجھے (ہبہ، بخاری)
٭اگر مجھے دست یا پائے کے گوشت پر بھی بلایا جائے تو میں قبول کرلوں گا، نبی ﷺ
٭ایک خرگوش شکار کرکے ذبح کیاگیا تونبی ﷺ نے بھی اس کا گوشت تناول بھی فرمایا 
٭رسول اﷲ ﷺ کے دسترخوان پر گوہ کا گوشت بھی کھایا گیا
٭ صدقہ وصول کرنے والا اسے دوسروں کو ہدیہ بھی کرسکتا ہے
٭ نبی کریم ﷺ خوشبو کا تحفہ کبھی واپس نہیں کیا کرتے تھے
٭رسول اﷲ ﷺ ہدیہ قبول فرمالیا کرتے تھے لیکن ہدیہ کا بدلہ بھی دے دیا کرتے تھے
٭ حضرت علی ؓنے ہدیہ میں ملا ریشمی لباس پہن لیا تو نبیﷺ کا غصہ دیکھ کر عورتوں میں پھاڑ کر تقسیم کردیا
٭ نبی ﷺ نے عمریٰ کے متعلق فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس کا ہوجاتا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہو(عمریٰ میں کوئی شخص اپنا گھر وغیرہ کسی کو تا حیات استعمال کے لیے دیتا ہے جب کہ رقبیٰ میں یوں کہا جاتا ہے کہ یہ گھر میرا ہے لیکن اگر میں پہلے مرگیا تو تمہارا ہوگا اور تم پہلے مرگئے تو میرا ہی رہے گا)
٭سب سے اعلیٰ و ارفع خصلت دودھ دینے والی بکری کا ہدیہ کرنا ہے(ہبہ، بخاری)
 ٭ آپس میں ہدیے تحفے بھیجا کرو۔ ہدےے تحفے دِلوں کے کینے ختم کردیتے ہیں۔ (ترمذی)

۸۳۔ سانپ اور جنات
٭ سانپ جہاں دیکھو مار ڈالو۔ دو سفید دھاری والے اور دُم کٹے سانپ کو زندہ نہ چھوڑو کیونکہ یہ آنکھ کی بینائی ختم کردیتے ہیں اور پیٹ والی عورت کا حمل گرادیتے ہیں
٭گھروں میں رہنے والے سانپ میں جنات بھی ہوسکتے ہیں۔ ابو سعید خدریؓ کی روایت کردہ ایک حدیث کے مطابق انہیں پہلے تین مرتبہ وارننگ دینی چاہیے پھر بھی اگر وہ نہ جائیں تو انہیں مار دینا چاہیے(آغازِ خلق،بخاری) 

۹۳۔ سفر ، آدابِ سفر 
٭ سفرمیں موجود فاضل پانی کے استعمال سے کسی دوسرے مسافر کو روکنے پر سخت عذاب ملے گا(الشرب، بخاری)
٭نبی ﷺ جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج کے لیے قرعہ اندازی کرتے (ہبہ، بخاری) 
٭اگر تمہیں معلوم ہوجائے کہ تنہائی میں کیا خرابی ہے تو کوئی رات کے وقت تنہا سفر نہ کرے (جہاد ، بخاری)

۰۴۔سلام اور مصافحہ 
٭سب کو سلام کرو خواہ تم اسے جانتے ہویا نہیں جانتے ہو(ایمان، بخاری) 
٭نبی ﷺ جب چند لوگوں کے پاس تشریف لاتے اور ان کو سلام کرتے تو تین مرتبہ سلام کرتے(علم، بخاری) 
٭کم عمر والا بڑی عمر والے کو، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم لوگ زیادہ آدمیوں کی جماعت کو سلام کریں۔ 
٭ اسلام میں بہتر کام محتاجوں کوکھانا کھلانا اور ہر جاننے نہ جاننے والوں کو سلام کرنا ہے 
٭نبی ﷺ کھیلتے ہوئے بچوں کے سامنے سے گزر تے تو انہیں سلام کیاکرتے تھے (اجازت، بخاری) 
٭ کسی کے گھر جاو تو گھر والوں کو سلام کرو اور جب گھر سے نکلو تو وداعی سلام کرکے نکلو۔ (بیہقی)
٭ سلام کی تکمیل مصافحہ ہے۔ ( ترمذی) 
٭تم باہم مصافحہ کیا کرو اس سے کینہ کی صفائی ہوتی ہے ۔ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو اس سے تم میں باہم محبت پیدا ہوگی اوردشمنی دور ہوگی۔ (موطا امام مالک) 

۱۴۔سود خوری
٭سود خور شخص کو خون کی نہر میں عذاب دیا جائے گا(نمازِجنازہ، بخاری) 
٭ دو صاع گھٹیاکھجوروں کے بدلہ ایک صاع عمدہ کھجوریں خریدنا بھی سود ہے(وکالہ، بخاری) 
٭ سود خور لوگوں کے پیٹ میں سانپ بھرے ہوں گے۔(مسند احمد، ابن ماجہ)
٭سود خوری کے ستّر حصوں میں ادنیٰ ترین ایسا ہے کہ جیسے اپنی ماں کے ساتھ منہ کالا کرنا (ابن ماجہ، بیہقی)
٭نبی ﷺ نے سود لینے، سود دینے، سودی دستاویز لکھنے اور اس کے گواہوں پر لعنت فر مائی۔ (مسلم)

۲۴۔سونے کے آداب اور خواب
٭کوئی بُرے خواب سے ڈر جائے توجاگتے ہی بائیں طرف تھوکے اور اس بُرائی سے اﷲ کی پناہ مانگے
٭ سوکر جاگو اور وضو کر نے لگو تو ناک میں تین بار پانی ڈالو (آغازِ خلق،بخاری) 
٭ جب تم لیٹو تو ۳۳ مرتبہ سبحان اﷲ، ۳۳ مرتبہ الحمدﷲ اور ۴۳ مرتبہ اﷲ اکبر پڑھو(صحابہؓ ، بخاری) 
٭جو کوئی رات کو سورة البقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے وہ اسے کفایت کرتی ہیں(مغازی،بخاری) 
٭ رسول اﷲﷺ بستر پر دا ہنی کروٹ پر لیٹتے(دعوات، بخاری) 
٭کسی نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے(تعبیر، بخاری) 
٭ناپسندیدہ خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ اس کے شر سے پناہ مانگواور ایسے خواب کا ذکر نہ کرو(تعبیر، بخاری) 
٭جب قیامت قریب ہوگی تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا(تعبیر، بخاری) 
٭جھوٹا خواب بیان کرنے والے کو روزِ قیامت دو جَو کے دانوں کو جوڑنے کے لےے کہا جائے گا (تعبیر، بخاری)

۳۴۔شراب اور جوا
٭نبی ﷺ نے شراب کی تجارت حرام کردی (الصلوٰة، بخاری) 
٭ نبی ﷺ کی موجودگی میں شرابی کی جوتیوں اور چھڑیوں سے پٹائی کی گئی (وکالہ، بخاری) 
٭ شہد اور جوکی شرابوں سمیت ہر نشہ کرنے والی چیز حرام ہے(مغازی،بخاری)
 ٭ اگر کوئی جواءکھیلنے کی دعوت دے تو وہ اپنے اِس گناہ کے کفارہ کے طور پر صدقہ دے(تفسیر، بخاری) 
٭جس نے دنیا میں شراب پی لی پھر توبہ نہ کی تو اُس کو آخرت میں شرابِ طہور سے محروم کردیا جائے گا
٭ نبی ﷺ نے کچی اور پکی کھجوروں کو یا کھجور اور انگور کو ملاکر شربت بنانے سے منع فرمایا ہے (اشربہ، بخاری) ٭ ایک شخص کوشراب پینے پر نبی کریم ﷺ نے مارا ۔مگر لوگوں کو اُس شرابی پر لعنت کرنے سے منع کیا(حدود، بخاری) 
٭ خبردار شراب کبھی نہ پینا کیونکہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے(سنن ابن ماجہ) 
٭ہر نشہ آور چیز خمر اور حرام ہے۔ توبہ کئے بغیر مرنے والا شرابی جنت کی شرابِ طہور سے محروم رہے گا (مسلم)
٭شرابی کو آخرت میں ”طِی نَةُ ال خَبَال“ (دو زخیوں کے جسم کا پسینہ، لہو یا پیپ ) پلایا جائے گا۔ (مسلم)
٭شراب دوا نہیں بلکہ بیماری ہے (صحیح مسلم)

۴۴۔شرک ،مشرک اور اہل کتاب
٭اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور چوری نہ کرنا اور زنانہ کرنا اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا(ایمان، بخاری) 
٭جب کوئی نیک آدمی مرجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے اور اس میں تصویریں بنادیتے۔ یہ لوگ اﷲ کے نزدیک قیامت کے دن بدترین خلق ہیں
٭یہود و نصاریٰ پر اﷲ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا (الصلوٰة، بخاری) 
٭ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو دنیا میں جس کی پرستش کرتا تھا وہ اس کے پیچھے ہولے(صفت الصلوٰة، بخاری) 
٭جو شخص اس حال میں مرجائے کہ وہ ا ﷲکے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ دوزخ میں داخل ہوگا (نمازِجنازہ، بخاری) 
٭اﷲ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے کیونکہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا، محمدﷺ(نمازِجنازہ، بخاری) 
٭ رسول اﷲ ﷺ جس بات میں کوئی حکم نہ آتا تو مشرکوں کے مقابلہ میں اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے پھر اس کے بعد آپﷺ سر میں مانگ نکالنے لگے(مناقب، بخاری) 
٭ مشرکوں کے پاس کوئی مسلمان جاتا تو فتنہ میں پڑجاتا(تفسیر، بخاری) 
٭ دکھاوے کی نماز، دکھاوے کا روزہ رکھااور دکھاوے کا صدقہ بھی شرک ہے (مسند احمد)
٭ شرکِ خفی دجّال سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔جیسے لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز کولمباکرنا( ابن ماجہ) 
٭ اﷲ کے ساتھ کبھی کسی چیز کو شریک نہ کرنا (سنن ابن ماجہ)

۵۴۔ شیطان اورشیطانی حرکات
٭ شیطان وسوسہ ڈالے تو اعوذ باﷲ پڑھے اور شیطانی خیال چھوڑدے
٭ اعوذ باﷲ من الشیطان الرجیم پڑھے تو اس کا غصہ جاتا رہے
٭جمائی شیطانی حرکات میں سے ہے۔لہٰذاجب کسی کوانگڑائی آئے تو وہ اسے حتی الامکان روکے
٭ جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اﷲ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر چیختاہے(آغازِ خلق،بخاری) 
٭جلد بازی کرنا شیطان کے اثر سے ہوتا ہے( ترمذی) 

 ۶۴۔صبر و شکر 
٭ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہوئے دیکھو تو صبر کرنا(الشرب، بخاری)
 ٭اپنے ساتھ حق تلفی ہوتا دیکھو تو صبر کئے رہنا یہاں تک کہ تم روزِ قیامت مجھ سے حوضِ کوثر پر ملو(انصار، بخاری) 
٭اگر مظلوم بندہ صبر کرے تو اﷲ تعالیٰ اس ظلم کے بدلہ اُس کی عزت بڑھادیتا ہے (ترمذی) 
٭خوشی ملنے پر رب کا شکر ادا کرو اور رنج پہنچنے پر صبر کرو تو یہ سراسر خیر اور موجبِ برکت ہے۔(مسلم)
٭اللہ کی رضا اور ثواب کی نیت سے آغازِ صدمہ میں ہی صبرا کرنے کا اجر جنت ہے(ابن ماجہ)

 ۸۴۔طب نبویﷺ
٭زخم کے علاج کے لئے چٹائی جلاکر اس کی راکھ کو زخم میں بھردینا (وضو، بخاری)
٭بخار جہنم کے جوش سے پیدا ہوتا ہے لہٰذا تم اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو
٭مکھی کے ایک پَر میں بیماری اور دوسرے میں شفاءہے۔پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اس کو ڈبوکرنکال دو(آغازِ خلق،بخاری)۔ 
٭جہاں طاعون پھیلا ہو ،وہاں مت جاو ۔ اگر تمہارے ملک میں پھیلے تو وہاں سے مت نکلو(انبیائ، بخاری) 
٭ نبی ﷺ جب بیمار ہوتے تو معوذات یعنی سورة اخلاص،سورة الفلق اورسورة الناس پڑھ کر اپنے اوپر دَم کیاکرتے اور اپنے بدن پرہاتھ پھیرتے۔ (مغازی،بخاری) 
٭کھمبی جوایک خودرَو پودا ”مَنّ“ کی قسم میں سے ہے ، اس کا پانی آنکھ کے لیے دوا ہے (تفسیر، بخاری)
٭شہد پینے، پچھنے لگوانے اور آگ سے داغ لگوانے میں شفا ہے مگر میں داغ دلوانے سے منع کرتا ہوں
٭ پیٹ کی تکلیف میںآپ ﷺ نے فرمایا کہ شہد پلادو
٭کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے
٭تم عود ہندی کا استعمال کیا کرو کیونکہ یہ سات بیماریوں کی دوا ہے۔ حلق کے ورم یعنی خناق کے لےے ناک میں ڈالی جاتی ہے اور پسلی کے درد کے لیے منہ میں رکھی جاتی ہے
٭اُمت محمدیہ میں سے ایسے ستر ہزار افراد بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ جو نہ دَم کریں، نہ کسی شے میں بدفالی سمجھیں اور نہ علاج کے لیے آگ سے داغیں بلکہ اﷲ ہی پر بھروسہ رکھیں
٭ایک کی بیماری دوسرے کو لگنا، بدشگونی لینا، اُلو کو منحوس سمجھنا اور صفر کو منحوس سمجھنا لغو خیالات ہیں
٭البتہ جذام والے سے اس قدر علیحدہ رہنا چاہیے جیسے شیر سے جدا رہتے ہیں
٭بخار کو پانی سے ٹھنڈا کیا کرو
٭جو مسلمان طاعون کی وبا سے فوت ہوجائے وہ بھی شہید ہے
٭نظر بد کا دَم کیا جائے تو جائز ہے
٭نبی ﷺ نے سانپ، بچھو اور دیگر زہریلے جانور کے کاٹنے میں دَم کرنے کی اجازت دی ہے
٭کھانے میں مکھی پڑ جائے تو اسے ڈبو کر پھینک دو۔ ا س کے ایک پَر میں بیماری ہے تو دوسرے میں شفا ہے (طب، بخاری) 

۹۴۔طہارت اور اقسامِ طہارت
 ٭طہارت و پاکیزگی جزو ایمان ہے (صحیح مسلم)
٭کسی برتن میں سے کتا پانی وغیرہ پی لے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھو ڈالو 
٭مومن کسی حال میں نجس نہیں ہوتا (غسل، بخاری)
 ٭مونچھوں کو ترشوانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈال کر صفائی کرنا، ناخن ترشوانا، انگلیوں کے جوڑوں کودھونا، بغل اور زیر ناف بالوں کی صفائی اور پانی سے استنجا کرنا امور فطرت میں سے ہیں (مسلم) 
٭حیاء، خوشبو،،مسواک اورنکاح پیغمبروں کی سنتوں میں سے ہیں (جامع ترمذی) 
٭ مونچھیں ترشوانے، ناخن لینے، بغل اور زیرِ ناف کی صفائی کے لئے ۰۴ دن کی حد مقرر ہے۔ ( مسلم)

مسواک: 
٭میں اپنی امت پر اگر شاق نہ سمجھتا تو بے شک انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا(جمعہ، بخاری)
٭ نبی ﷺ رات کو اٹھتے تو اپنے دانتوں کو مسواک سے رگڑکر صاف کرتے تھے(کتاب وضو، بخاری)
٭ جبرئیل ؑ نے ہر ملاقات میں نبی ﷺکو مسواک کے لئے ضرور کہا(مسند احمد، ابی داو د)
٭نبی ﷺ جب بھی سوکراٹھتے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک ضرور فرماتے (مسند احمد، سنن ابی داو د)
 ٭وہ نماز جس کے لیے مسواک کی جائے، بلا مسواک نماز کے مقابلہ میں ستر گنی فضیلت رکھتی ہے (بیہقی)

وضو:
٭ مجھے صرف نماز کے لئے وضو کا حکم دیا گیا ہے (ابو داو ¿د، ترمذی، نسائی) 
٭وضو میں خشک رہ جانے والے پیروں کے ٹخنوں کو آگ کے عذاب سے خرابی ہونے والی ہے(علم، بخاری) 
٭جریانِ مذی (پیشاب کے ساتھ منی نکلنے)سے صرف وضو فرض ہوتا ہے، غسل نہیں(علم، بخاری) 
٭حَدَث یعنی پیشاب پاخانہ یا ہوا خارج ہونے کے بعد نماز کے لئے وضو کرنا
٭ وضو کر نے والوں کے اعضاءمثلاً ہاتھ پاو ں وغیرہ قیامت کے دن چمک رہے ہوں گے
٭محض شک کی وجہ سے کوئی نماز نہ توڑے یہاں تک کہ ریح کی آواز سن لے یا بو پائے 
٭وضو میں اعضاءکو تین تین بار دھونا۔ کلی اور ناک صاف کرنا۔ چہرے کو تین مرتبہ اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھونا۔ پھر سرکا مسح کرنا اور پھردونوں پیر ٹخنوں تک تین بار دھونا 
٭دور رسالت میں میاں بیوی ایک برتن سے اکٹھے وضو کرلیتے تھے٭
 ٭ نبی کریم ﷺ وضو صرف ایک مد ( سَوالٹر)پانی سے کرلیا کرتے تھے
 ٭جب تم اپنی خواب گاہ میں آو ¿ تو نماز کی طرح وضو کرلیا کرو۔ پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاﺅ(کتاب وضو، بخاری)
 ٭ جو کوئی مکمل وضو کرے، پھر کہے”اَش ھَدُاَن لَّا اِلٰہَ الاﷲُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَب دُہ‘ وَرَسُو لُہ“ تو لازمی طور پراُس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جائیں گے(صحیح مسلم)
٭وضو کی پوری نگہداشت بس مومن ہی کرسکتا ہے(مو ¿طا امام مالک)
 ٭جب تم وضو کرو تو”بسم اﷲ و الحمدﷲ“ کہہ لیا کرو (طبرانی)
 ٭ وضو سے فارغ ہونے والا گناہوں سے بالکل پاک صاف ہوجاتا ہے (صحیح مسلم)

بیت الخلاء:
٭بیت الخلاءمیں داخل ہونے کی دُعا: ”اے اﷲ میں خبیث جنوں اور جنّیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں“ 
٭کوئی پاخانے میں جائے تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ اس کی طرف اپنی پشت کرے (بخاری) 
٭رفع حاجت کے لےے قبلہ کی طرف منہ یا پُشت کرکے نہ بیٹھو( ابن ماجہ و دارمی) 
٭بیت الخلاءجانے کی دُعا: میں اﷲ کی پناہ لیتا ہوں نر و مادہ خبیث مخلوقات سے۔( ابی داو د و ابن ماجہ)
٭بیت الخلاءسے باہر آکر پڑھو ”اَل حَم دُ ﷲِ الَّذِی “ (سنن نسائی)

استنجا:
٭ نبی کریم ﷺپانی سے استنجاءفرماتے تھے
٭ مٹی کے ڈھیلے سے استنجا کرنا لیکن ہڈی اور گوبر سے نہیں
٭جو کوئی پتھر سے استنجاءکرے تو اُسے چاہیئے کہ طاق پتھروں سے کرے (کتاب وضو، بخاری) 
٭ استنجے کے لئے تین پتھروں کو استعمال کرو( ابن ماجہ و دارمی)
٭استنجے میں لید یا ہڈی استعمال نہ کرو نہ ہی داہنے ہاتھ سے استنجا کرو ( ابن ماجہ و دارمی)

پیشاب:
٭اپنے پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے اور چغلی کھا نے پر قبرمیں عذاب ہوتا ہے
 ٭ دودھ پیتابچہ نے کپڑے پر پیشاب کردیاتو آپ ﷺ نے کپڑے پر پانی چھڑک دیا، اسے دھویا نہیں
٭نبی ﷺ کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ کے قریب تشریف لائے اور وہاں کھڑے ہوکر پیشاب کیا 
٭کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا ہوا نہ ہو، پیشاب نہ کرے (کتاب وضو، بخاری) 
٭تم میں سے کوئی کسی سوراخ میں پیشاب نہ کرے (سنن ابی داو د و سنن نسائی)

حیض و استحاضہ:
٭کپڑے میں حیض آئے تو اسے کھرچ ڈالے۔ پانی ڈال کر رگڑے اور مزید پانی سے دھو ڈالے
٭جب حیض کا زمانہ آجائے تو نماز چھوڑ دو اور جب گزر جائے تو اپنے جسم کو دھو ڈالو
٭ استحاضہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ کا خون ہے ، لہٰذا مستحاضہ نماز نہ چھوڑے (کتاب وضو، بخاری) 
٭ جو مناسک حج کرنے والا ادا کرتا ہے، حیض میں تم بھی کرو مگر کعبہ کا طواف نہ کرنا 
٭نبی ﷺ کے ہمراہ آپ کی کسی بیوی نے بھی اعتکاف کیا حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں
 ٭دورانِ حیض نہ پڑھی جانے والی نمازکی قضا نہیں ہے (البتہ اس دوران کے روزوں کی قضا ہے)
٭ اُمُّ المومنین اُمّ ِسلمہؓ حالتِ حیض ہوتیں اور نبیﷺ روزہ کی حالت میں آپ ؓ کے بوسے لیتے تھے 
٭ عورتیں باہر نکل کر مجالسِ خیر اوراجتماعی دعا میں شریک ہوں۔ البتہ حائضہ نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں
٭حضرت میمونہؓ حالتِ حیض میں نماز نہ پڑھتی تھیں اور نبی ﷺ کی نمازکی جگہ کے سامنے برابر لیٹی ہوتی تھیں(حیض،بخاری)

غسل:
٭احتلام کی وجہ سے اگر کوئی عورت اپنے کپڑے یا شرمگاہ پر پانی دیکھے تو اس پر غسل فرض ہوجاتا ہے(علم، بخاری) 
٭نبی ﷺ ایک صاع سے پانچ مد(۶لٹر) پانی سے غسل فرما لیا کرتے تھے (کتاب وضو، بخاری) 
٭ نبی ﷺ جنابت کا غسل فرماتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر وضو فرماتے
٭جنابت سے غسل فرماتے تو کوئی چیز مثل حلاب (خوشبو) وغیرہ لگاتے تھے 
٭ایک دن موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور اپنا لباس پتھر پر رکھ دیا
٭ایک مرتبہ حضرت ایوب علیہ السلام برہنہ نہا رہے تھے 
٭ نبی ﷺ غسل فرما رہے تھے اور سیدہ فاطمہ الزہرہؓ آپﷺ پر پردہ کئے ہوئے تھیں ۔ جماع کی کوشش کے دوران جب ختان، ختان سے تجاوز کرجائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے
٭ غسل کی فرضیت کے لیے صرف دخولِ ذکر کافی ہے، انزالِ منی ضروری نہیں (غسل، بخاری) 
٭حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں اور نبی ﷺ ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور ہم دونوں جنبی ہوتے تھے (حیض، غسل)

تیمم:
٭تیمم کے لئے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارو۔ ہاتھوں میں پھونک دو پھر ان سے اپنے منہ اور ہاتھوں پر مسح کرلو
٭حالتِ جنابت میں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمّم کر لو ،یہی کافی ہے۔ (تیمم، بخاری)

۰۵۔عبادت اور بندگی
٭ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراﺅ، نماز قائم کرو، فرض زکوٰة ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو(ایمان، بخاری) 
٭ اﷲ کی عبادت اس خشوع و خضوع سے کرو کہ گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو۔ اور اگریہ حالت نصیب نہ ہو تو یہ خیال کرو کہ وہ تو تمہیں دیکھتا ہی ہے(ایمان، بخاری) 
٭اﷲ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر و(زکوٰة، بخاری)
٭ نماز پڑھا کرو، زکوٰة دیا کرو اور صلہ رحمی کیا کرو(زکوٰة، بخاری)
 ٭عبادت اور بندگی کرتے رہو صرف اﷲ کی اور کسی چیز کو اُس کے ساتھ کسی طرح بھی شریک نہ کرو ( مسلم) 
٭نماز قائم کرتے رہو، زکوٰاة ادا کرتے رہواور صلہ رحمی کرو ( مسلم)
 ٭ اگر کوئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے موت کے دن تک برابر اﷲ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے سجدہ میں پڑا رہے تب بھی قیامت کے دن اپنے اس عمل کو وہ حقیر ہی سمجھے گا (مسند احمد) 

۱۵۔ عہد، نذراورگواہی
٭جس نے اللہ کی معصیت کی نذر مانی ہو اسے معصیت نہ کرنی چاہئے(النذور، بخاری)
٭ مرحوم والدین کی مانی گئی نذروں کو پورا کیا جانا چاہئے(النذور، بخاری)
٭ایسی کوئی بات زبان سے نہ نکالو جس کی کل تم کو معذرت اور جواب دہی کرنی پڑے(مسند احمد)

گواہی:
٭ نبی ﷺ نے فرمایا: میرے عہد کے لوگ سب سے بہترہیں۔ پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے۔ پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے
٭ اگر کسی کے لیے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنا ناگزیر ہی ہوجائے تو یوں کہنا چاہیئے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں ۔ویسے اﷲ اس کے لیے کافی ہے(بخاری)

۲۵۔عیدین ؛ قربانی، ذبیحہ اور شکار
٭ عیدالفطر اور عیدالضحیٰ کے دن روزہ نہ رکھا جائے(شکار،بخاری)
٭ عیدالفطر کی نماز کےلئے کچھ کھاکے جانااور عیدالاضحی کے دن نماز پڑھنے تک کچھ نہ کھانا (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)
٭ عیدالاضحی کے دن فرزند آدم کا کوئی عمل اﷲ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں(جامع ترمذی)
٭ قربانی کا گوشت خودکھانا، دوسروں کو کھلانا اور جمع کرکے رکھنا سب جائز ہے(اضاحی، بخاری)
 ٭ قربانی کرنے والا یکم ذی الحجہ سے قربانی کرنے تک اپنے بال یا ناخن بالکل نہ تراشے (صحیح مسلم) 
٭ اﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن۰۱ ذی الحجہ (عید الاضحیٰ) کا دن ہے(مسند احمد)

ذبیحہ:
٭ مرتے ہوئے بکری کونوکدار پتھر سے ذبح کیا گیا تونبی ﷺ نے اس ذبیحہ کو حلال قرار دیا(وکالہ، بخاری) 
٭جو چیز بھی کاٹنے کے قابل ہو اور خون بہادے اور ذبیحہ پر اﷲ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ دانت اور ناخن سے نہ ذبح کرنا چاہئے(شرکہ، بخاری) 

شکار:
٭جس جانور کو تیر دھار کی طرف سے لگے، صرف وہی حلال ہے۔جسے تیر عرضاً لگے وہ حلال نہیں
٭ اہل کتاب کے برتنوں کے سوا اور برتن نہ ملیں تب انہی برتنوں کو دھو کر اُن میں کھا سکتے ہیں
 ٭ کتاپالنے سے نیکی کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی ہے اگر کتا شکاری یا مویشیوں کا رکھوالا نہ ہو
٭ صحابہ کرام ؓ نبی ﷺ کے ساتھ ٹڈیاں کھایا کرتے تھے
٭ نبی ﷺ نے مرغی وغیرہ کو باندھ کر نشانہ لگانے والے پر لعنت فرمائی ہے
٭ رسول اﷲ ﷺ نے کیچلیوں والے ہر درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے (ذبائح و شکار، بخاری) 
٭مری ہوئی بکری ، مویشی وغیرہ کے کھال سے فائدہ ٹھانا جائز ہے(زکوٰة، بخاری)

۳۵۔ غصہ اور علاجِ غصہ
٭جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو چاہئے کہ بیٹھ جائے ، پس اگر بیٹھنے سے غصہ فرو ہوجائے تو فبہا اور اگر پھر بھی غصہ باقی رہے تو چاہئے کہ لیٹ جائے (مسند احمد، جامع ترمذی)
٭ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اس کو چاہئے کہ وہ وضو کرلے (ابو داو د)
٭طاقت رکھنے کے باجود اپنے غصہ کو پی جانے والے کو اﷲروزِ قیامت سب کے سامنے اسے یہ اختیار دیں گے کہ حور انِ جنت میں سے جسے چاہے اپنے لئے منتخب کرلے (جامع ترمذی، سنن ابی داو د) 
٭کوئی ثالث دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرے جب وہ غصہ میں ہو(احکام، بخاری)

۴۵۔غلام، لونڈی اور خادم
٭ غلاموں سے ایسا کام کرنے کو نہ کہو جوان پر شاق ہو۔ اگر کبھی ایسا کرو تو خود بھی ان کی مدد کرو (ایمان، بخاری) 
٭اُس غلام کے لئے دُ گنا ثواب ہے جب کہ وہ اﷲ کے حق کو اور اپنے مالکوں کے حق کو ادا کرتا رہے(علم، بخاری)
٭جس نے لونڈی کو اچھی تعلیم و تربیت دی پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلیا، اُس کے لئے دُ گنا ثواب ہے(علم، بخاری) 
٭جب لونڈی زنا کرے اورزناثابت ہوجائے تواسے ملامت نہیں بلکہ کوڑے لگوانے چاہیے۔ اگر وہ تیسری بار بھی زنا کرے تو اس کو فروخت کردے اگرچہ ایک رسی کے بدلے ہی سہی 
٭ قیامت کے دن میں اُس کا دشمن ہوں گا جو کسی آزاد آدمی کو (غلام بنا کر)فروخت کرکے اس کی قیمت کھا جائے(بیوع، بخاری) 
٭غلام مسلمان کو آزادکرنے والے شخص کے ایک ایک عضو کو دوزخ سے آزاد کردیاجائے گا
٭افضل ترین عمل اﷲ پر ایمان لانا، اس کے راستے میں جہاد کرنا اور پسندیدہ غلام کو آزاد کرنا ہے
٭کوئی شخص یہ نہ کہے ”میرا بندہ، میری بندی“ بلکہ یوں کہنا چاہئے:”میرا آدمی، میری لونڈی“
٭ خادم کھانا لائے اور وہ اسے اپنے ساتھ کھاناکھلا نہ سکے تو ایک یا دو لقمہ ضرور کھلانا چاہئے(رہن، بخاری) 
٭اُمُّ المومنین حضرت میمونہ ؓ نے اپنی ایک باندی نبی کریم ﷺ سے اجازت لئے بغیر آزاد کردی تو آپ نے فرمایا: اگر تم نے یہ باندی اپنے ماموں کو دے دی ہوتی تو تمہیں اس سے بھی زیادہ اجر ملتا(ہبہ، بخاری) 
٭ اپنی باندیوں کو برتن توڑنے پر سزا نہ وو کیونکہ برتنوں کی بھی عمریں مقرر ہیں ۔(مسند الفردوس للدیلمی)
٭اپنے غلاموں میں زِیردستوں کے بارے میں خدا سے ڈرو (ابو داو د)

۵۵۔ غیب کا علم
٭غیب کی پانچ کنجیاں اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتاکہ کل کیا ہوگا؟ عورتوں کے رحموں میں کیا چیز ہے؟ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور وہ کس مقام میں مرے گا؟ کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب ہوگی؟ (استسقائ، بخاری)
 ٭اﷲ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، حالانکہ میں اﷲ کا رسول(ﷺ) ہوں (نمازِجنازہ، بخاری)

۶۵۔فتنہ اور فرقہ بندی
٭میں فتنوں سے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں (الصلوٰة، بخاری) 
٭ نماز، روزہ، صدقہ ، امرباالمعروف و نہی عن المنکر، بیوی بچوں اور مال میں موجود فتنہ کو مٹا دیتا ہے (مواقیةالصلوٰة، بخاری)
 ٭ وہ خوش نصیب ہے جو فتنوں سے دور رکھا گیا قابل مبارک ہے وہ جو بندہ فتنوں میں مبتلا ہوا اور ثابت قدم رہا (ابو داو د) 
٭میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی۔یہ سب فرقے جہنمی ہوں گے سوائے ایک فرقہ کے جو اُس راستے پر ہوگا جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب ہیں۔(جامع ترمذی)

۷۵۔قتل ، قصاص، دیت؛ ظلم، جھگڑا، بدلہ
٭جانور سے جو زخم پہنچے اس پر کچھ بدلہ نہیں
٭ کنویں میں گر کر اور معدنیات کے کان میں کام کرتے ہوئے مرجائے تو کچھ بدلہ نہیں(زکوٰة، بخاری) 
٭کسی یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا تو قصاص میں اس یہودی کا سر بھی دوپتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا (خصومات، بخاری)
 ٭جب مومنوں کو حساب کے بعددوزخ سے نجات مل جائے گی تو انہیں جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دوسرے پلِ صراط پر ان مظالم کا بدلہ دے دیا جائے گا جو وہ دنیا میں کرتے تھے
٭ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے پس اس پر نہ ظلم کرے اور نہ ظلم ہونے دے
٭ظالم کی مدد اس طرح کرو کہ اسے ظلم کر نے سے روکنے کے لےے اس کا ہاتھ پکڑلو
٭ اگر کسی شخص نے کسی پر ظلم کیاہو تو اسے چاہیے کہ آج ہی معاف کرالے
٭ جس نے کسی کی زمین ظلماً لے لی اسے سات زمین کا طوق پہنا یا جائے گا(مظالم، بخاری)
 ٭اﷲ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ مبغوض وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو(مظالم، بخاری) 
٭جب کوئی کسی سے جھگڑا کرے تو چہرے پر مارنے سے بہر حال پرہیز کرنا چاہئے (رہن، بخاری) 
٭ جو شخص کسی ذمی کافر کو ناحق قتل کرے گا وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا(جہاد ، بخاری)
 ٭نبی نے اپنی ذات کے لیے کبھی بدلہ نہیں لیا ۔ جب کوئی اﷲ کے حکم کو ذلیل کرتاتو اس سے بدلہ لیتے (مناقب، بخاری) 
٭ اﷲ ظالموں کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا(تفسیر، بخاری) 
٭حاملہ عورت کے پیٹ پر پتھر مارا جس سے بچہ مرگیا تو آپ ﷺ نے دیت میں باندی یا غلام دینے کا حکم دیا (طب، بخاری)

۸۵۔ قرآن اور الہامی کتب
٭ جو بھی ایسی شرط لگائے گا جس کی اصل کتاب اﷲ میں موجود نہ ہو تو وہ ناقابل عمل ٹھہرے گی (ہبہ، بخاری) ٭
جو لوگ متشابہ آیتوں کے پیچھے لگے رہتے ہیں ، ان کی صحبت سے بچتے رہو (تفسیر، بخاری) 
٭موجودہ تو راة کو بالکل سچ بھی نہ مان لواور بالکل جھوٹ بھی نہ کہو (تفسیر، بخاری) 
٭جسے اﷲ نے قرآن دیا اور وہ اسے رات اور دن میں پڑھتا رہتا ہو، ایسے فرد پر رشک کرنا جائز ہے
٭بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے
٭ یوں نہ کہوکہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یہ کہو کہ وہ آیت مجھے بھلادی گئی
٭جب تک تمہارا دل لگا رہے تم قرآن مجید پڑھتے رہو(فضائل قرآن، بخاری) 
٭قرآن کو پھیلاؤ اور اس کو دلچسپی اور مزہ لے لے کر پڑھا کرو(بیہقی)
٭ قرآن کے ایک حرف پڑھنے پر دس نیکی ملتی ہے اور ”الٓم“ ایک نہیں بلکہ تین حروف ہیں (ترمذی‘ دارمی)
 ٭وہ علم (کتاب و سنت کا)جس سے اﷲ کی رضا چاہی جاتی ہے، اگر اسے کوئی دنیا کی دولت کمانے کے لئے حاصل کرے تو وہ قیامت میں جنت کی خوشبو سے محروم رہے گا۔ (مسند احمد،ابی داو د، ابن ماجہ)

۹۵۔قرض اور سوال 
٭قرض سے پناہ مانگو۔جب آدمی قرض دار ہوجاتا ہے تو تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے(صفت الصلوٰة، بخاری) 
٭لکڑیاں توڑ کراور انہیں اپنی پیٹھ پر لادکر فروخت کرنا کسی سے سوال کرنے سے بہتر ہے
٭تم اسے لے لو جب اس مال میں سے کچھ تمہارے پاس آئے اور تم کو لالچ نہ ہو
٭ قیامت کے دن مسلسل سوال کر نے والے کے منہ پر گوشت کی کوئی بوٹی نہ ہوگی (زکوٰة، بخاری) 
٭ تنگ دست کو ادائے قرض معاف کرے اور مالدار سے تقاضہ کرنے میں نرمی اختیار کرے (بیوع، بخاری) 
٭ مالدار کی جانب سے قرض ادا کرنے میں دیر کرنا ظلم ہے
٭ نبی ﷺ کا مقروض کی نمازِ جنازہ ادا کرنے سے گریز کرنا 
٭ابو بکر صدیق ؓ نے فرمایا:جس سے نبی ﷺ کا کچھ وعدہ ہو یا آپ پر کسی کا کچھ قرض ہو وہ میرے پاس آئے (حولات، بخاری) 
٭تم میں اچھا شخص وہ ہے جو قرض کو اچھے طور پر ادا کرے یعنی اصل قرض سے کچھ بہترادا کرے(وکالہ، بخاری) 
٭اگرکوئی قرض لے کر اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اﷲ تعالیٰ اس سے ادا کرادے گا 
٭اگر کوئی قرض لے کر اسے ضائع کردینے کا ارادہ رکھتا ہو تو اﷲ تعالیٰ اس کو ضائع کر دے گا
٭نبی ﷺ نے قرض ادا کیا اور قرض سے زیادہ دیا(الشرب، بخاری) 
٭ اگر کوئی بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اﷲ اُس پر فقر کا دروازہ کھول دےتا ہے(ترمذی) ۔
 ٭کسی آدمی سے کوئی چیز نہ مانگو(مسند احمد) 
٭ غنی آدمی کو اور توانا و تندرست آدمی کوسوال کرنا جائز نہیں ہے(ترمذی)
٭ اُسے سوال کرنا جائز ہے جو افلاس زدہ ہو یا قرض و تاوان وغیرہ کا کوئی بوجھ پڑگیا ہو(ترمذی)
٭ ممکنہ حد تک سوال نہ کرو۔ اگر مجبور ہی ہوجاو تو اﷲ کے نیک بندوں سے سوال کرو ( ابی داو د، نسائی)
٭جو اﷲ کے بندوں سے اپنی کوئی حاجت نہ مانگنے کا عہد کرے تو اس کے لئے جنت کی ضمانت ہے( ابی داو د) 
٭صدقہ کا ثواب دس گنا اور قرض دینے کا اجراٹھارہ گناہے ۔ ( طبرانی)
٭ قرض کی ادائیگی کا سامان چھوڑے بغیر مقروض مرناسب سے بڑا گناہ ہے۔ (مسند احمد،ابی داو د)
٭مومن کی رو ح قرضہ ادا نہ ہونے تک بیچ میں معلق رہتی ہے۔(مسند شافعی، ترمذی، ابی داو د)
٭ مقروض کی نیت اگرقرض ادا کرنے کی ہو تو اﷲاس کا قرضہ دنیا ہی میں ادا کرادے گا۔ (سنن نسائی)
٭نبیﷺ نے قرض اداکیا تو واجبی رقم سے زیادہ عطا فرمایا۔( یہ جائز بلکہ مستحب ہے) (ابو داو د)

۰۶۔ قسم، کفارہ، گواہی 
٭جھوٹی قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارنا اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے(الشرب، بخاری) 
٭ ’اﷲ کی قسم مجھے اس مال کی اتنی قیمت مل رہی تھی‘ کہہ کر مال بیچنے والے پرعذاب ہوگا(الشرب، بخاری)
٭اگر مدعی گواہی پیش نہ کرسکا تومدعی علیہ سے صرف قسم لی جائے گی٭(رہن، بخاری) 
٭گر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو وہ اﷲ کی قسم کھائے ورنہ پھر اسے خاموش رہنا چاہئے۔ (شہادات، بخاری) 
٭ اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاو ¿ کیونکہ اﷲ کے سوا اور کسی کی قسم کھا نا منع ہے(انصار، بخاری) 
٭ کسی بات پر قسم کھالینے کے بعد اگر دوسری بات مناسب لگے تو دوسری بات پر عمل کرو اور قسم کا کفارہ ادا کرو(مغازی، بخاری) 
٭قسم مدعی علیہ پر ہے (تفسیر، بخاری) 
٭ نبی ﷺ اکثر یہ قسم کھایا کرتے تھے لَا وَ مُقَلِّبِ ال ±قُلُو ±بِ یعنی قسم ہے دلوں کے پھیرنے والے کی (تقدیر، بخاری) 
٭ قسم کھا نے کے بعد کسی اور چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بھلائی کا ہو
٭ بعض اوقات قسم توڑ کر اس کا کفارہ دینے سے زیادہ گناہ کی بات اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا ہے(النذور، بخاری)

۱۶۔ کھانے پینے کے آداب
٭ جب مجھے بھوک لگے تواللہ کویاد کر کے عاجزی اور گریہ و زاری کروں اور جب آپ کی طرف سے مجھے کھانا ملے اور میرا پیٹ بھرے تو میں آپ کی حمد اور آپ کا شکر کروں (مسند احمد، ترمذی) 
٭ کھانے سے پہلے اور اس کے بعد ہاتھ اور منہ کا دھونا باعث برکت ہے۔ (جامع ترمذی‘ ابوداو د)
٭کھانے سے پہلے بسم اﷲ پڑھو ،اگر بھول جاﺅ تو بعد میں بِس مِ اﷲِ اَوَّلَہ وَآخِرَہ پڑھ لو۔(ابو داو د ،ترمذی)
٭ جوتے اُتار کر کھانا کھایا کرو۔ اس طرح پاو ں کو زیادہ راحت ملے گی۔ (مسند دارمی)
٭کچھ ٹھنڈا کرکے کھانا زیادہ برکت کا باعث ہوتا ہے۔ (مسند دارمی)
٭ خوب کھاو پیو ، صدقہ کرو یا کپڑے بناکر پہنوبس اسراف اورتکبر نہ ہو۔ (مسند احمد نسائی‘ابن ماجہ) 
٭حلال کو اپنے اوپر حرام کرنے اور اپنے مال کو برباد کرنے کا نام زُہد نہیں ہے(ترمذی وابن ماجہ) 
٭ مردہ مچھلی اور مردہ ٹڈی حلال ہیں۔ خون کی دواقسام کلیجی اور تلی بھی حلال ہیں۔ (مسند احمد، ابن ماجہ ) 
٭رسول اﷲ ﷺ کو کدو بہت پسند تھے(بیوع، بخاری) 
٭نبیﷺ نے کبھی کسی کھانے کو بُرا نہیں کہا۔ اگر دل چاہتا تو اسے کھالیتے ورنہ چھوڑ دیتے(مناقب، بخاری) 
٭بسم اﷲ پڑھ کر داہنے ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھاﺅ
٭ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے
٭نبی ﷺ نے کھانے کو کبھی بُرا نہیں کہا اور کبھی تکیہ لگا کر نہیں کھا نا نہیں کھایا
٭ریشم اور دیباج نہ پہنو اور کھانے پینے کے لئے سونے چاندی کے برتن استعمال نہ کرو
٭تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے جب تک انگلیاں نہ چاٹ لے (اطعمہ، بخاری)
 ٭ نبی ﷺ نے آبِ زم زم کھڑے ہوکر پیا۔ آپ ﷺ پانی پیتے ہوئے تین دفعہ سانس لیا کرتے تھے(اشربہ، بخاری) 

۲۶۔کفر اور اقسامِ کفر
٭ اے لوگو! تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے لگو(علم، بخاری) 
٭جس شخص نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کوجان بوجھ کر اپنا باپ بنایا وہ کافر ہوگیا اور جو شخص اپنے آپ کو کسی دوسری قوم کا بتلائے، جس میں سے وہ نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے (مناقب، بخاری)

۳۶۔ گرگٹ اور زہریلے جانور
٭رسول اﷲﷺ نے گرگٹ کے مارنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ ابراہیم ؑ کی آگ پر پھونکتا تھا (انبیائ، بخاری)
٭اﷲ تعالیٰ کے پورے کلموں کے ذریعے سے ہر شیطان اور زہریلے، ہلاک کرنے والے جانور سے اور ہر نظر لگانے والی آنکھ سے پناہ مانگتا ہوں(انبیائ، بخاری)

۴۶۔گمشدہ، لاوارث اشیاء
٭ لاوارث چیز کا حکم:
سال بھر اس کی تشہیر کرکے اس کے اصل مالک کو تلاش کرنا۔ پھر اگر مالک نہ ملے تو اس چیزسے فائدہ اٹھا سکتاہے ۔لیکن اگر سال بھر بعد بھی مالک آجائے تو اس کے حوالے کرنا ہوگا(علم، بخاری) 
٭ ابی بن کعبؓ کو سو دینار کی ایک تھیلی پڑی ہوئی ملی تو آپ ﷺنے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے واپس کردینا ورنہ اپنے خرچ میں اسے استعمال کرلو(لقطہ،بخاری)

۵۶۔لباس ، خضاب اور مہندی
ریشمی کپڑے کا تانا بانا دونوں ریشمی ہوں تو قطعاََ حرام ہے۔ اگر صرف تانا ریشمی ہو تو حلال اور اگر صرف باناریشمی ہو تو مجبوراََ اجازت ہے (جہاد ، بخاری) 
٭یہود اور نصاریٰ بالوں میں خضاب نہیں کرتے تم ان کے خلاف کرو یعنی خضاب لگایاکرو(انبیائ، بخاری) 
٭جس نے ٹخنوں سے نیچا کپڑا پہنا تو وہ کپڑا اپنے پہننے والے کو جہنم میں لے جائے گا
٭ جس مردنے دنیا میں ریشمی لباس پہنا وہ آخرت میں نہ پہنے گا
٭ سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا منع ہے
٭ ریشمی کپڑا حریر اور دیباج وغیرہ پہننایا ان کو بستر بنانا منع ہے
٭نبی ﷺ نے مرد کو زعفرانی رنگ کا کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے
٭آپ ﷺ جوتے سمیت نماز پڑھ لیتے تھے
٭ایک پاو ں میں جوتا پہن کر نہ چلویا تو دونوں جوتے پہنو یا دونوں اتاردو
٭ داڑھی بڑھاو اور مونچھیں کترواو کیونکہ مشرکین داڑھی کاٹتے ہیں اور مونچھیں بڑھاتے ہیں 
٭ آپ ﷺ نے سر کے بعض حصہ کے بال کٹوانے اور بعض کے نہ کٹوانے سے منع فرمایا
٭حضرت عائشہ ؓ نبی ﷺ کو اس وقت کی سب سے عمدہ خوشبو لگایا کرتی تھی (لباس، بخاری)۔ 

مہندی:
 ٭ عورت مہندی لگاکر اپنے ہاتھو ں کی صورت بدلے( ابی داو ¿د)

۶۶۔ لعنت و ہلاکت کے اسباب 
٭ گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت ہے(بیوع، بخاری) 
٭ نبی ﷺ نے زنانے مخنث مَردوں پر اور مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ فرمایا کہ ان کو گھر سے نکال دو(لباس، بخاری) 
٭بلا وجہ اختلاف نہ کرو۔ تم سے پہلے لوگوں نے اختلاف کیا تھا، اسی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئے(خصومات، بخاری)

۷۶۔ مجلس اور راستے کے آداب
٭مجلس میں کسی دوسرے کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنا منع ہے
٭جب تین آدمی ایک جگہ جمع ہوں تو تیسرے کو بغیر شریک کئے آپس میں آہستہ کوئی بات نہ کرو(اجازت، بخاری)
 ٭زیادہ مت ہنسا کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے ( ترمذی) 
٭راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔ اگر بیٹھو توراستے پر بیٹھنے کے حقوق ادا کرو۔نگاہ نیچی رکھو، ایذارسانی سے بچو، سلام کا جواب دو، اچھی باتوں کی تلقین اور بری باتوں سے روکو
٭جب راستے کی زمین کے بارے میں جھگڑا کھڑا ہوجائے تو سات ہاتھ چھوڑ دینا چاہئے(مظالم، بخاری) 
٭جو مسجدوں یا بازاروں میں تیر (ہتھیار) کے ساتھ گزرے تو اسے چاہیے کہ اس کی پیکانوں کو پکڑلے (الصلوٰة، بخاری) ٭کوئی شخص اپنے دینی بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے(فتن، بخاری)

۸۶۔مسجد کے آداب
٭مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا دفن کردینا اس کا کفارہ ہے 
٭جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہوتو اسے چاہیئے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز (تحیة المسجد) پڑھ لے 
٭جو اﷲ کی رضا کے حصول کے لئے مسجد بنائے، اﷲ اس کے لیے جنت میں مکان بنا دیتا ہے
 ٭سیدنا عبداﷲ بن زید انصاریؓ نے نبی ﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا (الصلوٰة، بخاری) 
٭ پوری زمین مسجد اور پاک بنادی گئی ہے کہ جہاں بھی نماز کا وقت آجائے وہیں نماز پڑھ لی جائے(تیمم، بخاری) 
٭مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت تحیة المسجد پڑھو 
٭ کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ پر نہ بیٹھے(جمعہ، بخاری) 
٭ مسلمان یہود و نصاریٰ کی طرح مسجدوں کی آرائش و زیبائش کرنے لگیںگے (سنن ابی داو د)

۹۶۔مسلمان اور مومن
٭ پکامسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان ایذانہ پائیں(ایمان، بخاری) 
٭ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے (ایمان، بخاری) 
٭مسلمانوں کے خون، مال اور عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں(علم، بخاری) 
٭جو کوئی ہمارے جیسی نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہی مسلمان ہے 
٭مومن، مومن کے لئے عمارت کے مثل ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت دیتا ہے (الصلوٰة، بخاری) 
٭مومن کی مثال تازہ کھیتی کے مانند ہے کہ جس طرف سے ہوا آتی ہے اسے جھکا دیتی ہے اور ہوا کے نہ ہونے کے وقت سیدھی ہوجاتی ہے۔ پس مومن اس طرح بلا سے بچا رہتا ہے (مرض، بخاری)
 ٭ دوسروں کے لےے بھی وہی پسند کرو، جو اپنے لئے پسند کرتے ہو(مسند احمد)
٭دوسروں کے لےے بھی اُنہی چیزوں کو ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو(مسند احمد)
٭مسلم وہ ہے جس کی زبان درازیوں اور دست درازیوں سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں(ترمذی ، نسائی)
٭ مومن وہ ہے جس کی طرف سے لوگوں کے جان و مال کو کوئی خوف و خطرہ نہ ہو(ترمذی ، نسائی)
٭مسلمان بزدل اوربخیل ہوسکتا ہے لیکن مسلمان کذاب یعنی بہت جھوٹا نہیں ہوسکتا(رواہ مالک و بیہقی )
 ٭مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے۔ ضرر کو اس سے دفع کرتا ہے، اس کے پیچھے اس کی پاسبانی کرتا ہے ( ترمذی) 
٭ مسلمان کو ستانے اور اُنہیں شرمندہ کرنے سے بازرہو(جامع ترمذی)

۰۷۔مصیبت ، مشکلات اور آزمائش
٭جو شخص بیٹیوں کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہواتو وہ بیٹیاں اس کے لیے دوزخ سے حجاب ہوجاتی ہیں(بخاری) 
٭ اپنے کسی بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار مت کرو ۔اگر تم ایسا کرو گے تو ہوسکتا ہے کہ اﷲ اُس کو اِس مصیبت سے نجات دیدے اور تمہیں اس میں مبتلا کردے۔ ( ترمذی) 
٭ جب کوئی تکلیف پیش آئے تو اس تکلیف کے اُخروی ثواب کی رغبت تمہارے دل میں زیادہ ہو بہ نسبت اس خواہش کے کہ وہ تکلیف دہ بات تم کو پیش ہی نہ آتی (ترمذی وابن ماجہ)

۱۷۔ معافی، مغفرت اور خطائیں
٭اپنے خادم کا قصور دن میں ستر دفعہ بھی معاف کرنا پڑے تو معاف کرو ( ترمذی) 
٭ کینہ و دشمنی ختم کرکے دلوں کے صاف ہونے تک مومن کی معافی کا فیصلہ روک لیا جاتا ہے ( مسلم)
٭جو مسلمان عام اہلِ ایمان کے لئے اﷲ تعالیٰ سے مغفرت مانگے گا ،اس کے لئے ہر مومن مرد و عورت کے حساب سے ایک ایک نیکی لکھی جائے گی ۔ (طبرانی)
٭جو نبیﷺ پر ایک صلوٰة بھیجے اﷲ تعالیٰ اس پر دس صلوٰاتیں بھیجتا ہے، اس کی دس خطائیں معاف کردی جاتی ہیں اور اس کے دس درجے بلند کردئیے جاتے ہیں۔ (نسائی)

۲۷۔مکہ مدینہ:، بیت اللہ اور مسجد بنویﷺ
٭مکہ میں جنگ و جدل وغیرہ کو اﷲ نے حرام کیا ہے(علم، بخاری)
٭ یہ جائز نہیں کہ مکہ میں خون ریزی کی جائے اور نہ یہ جائز ہے کہ وہاں کوئی درخت کاٹا جائے(علم، بخاری) 
٭مکہ میں قتال کرنا نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا ہے اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا
٭مکہ کا کانٹا نہ توڑا جائے اورنہ اس کا درخت کاٹا جائے(علم، بخاری) 
٭ مکہ میں گری ہوئی لاوارث چیز کوسوائے اعلان کرنے والے کے کوئی اورنہ اٹھائے(علم، بخاری)
 ٭نبی ﷺ کعبہ کے اندر ایک ستون کو بائیں جانب ، ایک ستون کو داہنی جانب اور تین ستونوں کو پیچھے کر کے نماز پڑھی (سترہ، بخاری) 
٭مسجد نبوی ﷺ کی نمازبیت اللہ کے سوا باقی تمام مسجدوں کی نماز ایک ہزار درجے افضل ہے
٭رسول اﷲ ﷺ مسجدِ قبا کی زیارت کو سوار اور پیدل جایا کرتے تھے
٭میرے گھر اور منبر کے درمیان ایک جنت کا ٹکڑا (ریاض الجنہ) ہے
٭ میرا منبر میرے حوض پر ہے(فضائل مساجد مکہ مدینہ، بخاری) 
٭کعبة اللہ،مسجد نبوی اور بیت المقدس کے علاوہ کسی اور مسجد کی زیارت کے لےے سفر (شدر حال ) نہ کیا جائے
٭ اہلِ مدینہ کے ساتھ فریب کرنے والا اس طرح گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے(شکار،بخاری) 
٭ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے۔ (صحیح مسلم)
٭ مدینہ کے دونوں طرف کے دروں کے درمیان پورا رقبہ واجب الاحترام ہے۔ اس میں خوں ریزی کرونہ ہتھیاراٹھاﺅ۔ چارے کی ضرورت کے سوا درختوں کے پتے بھی نہ جھاڑو۔ ( مسلم)
٭جو اس کی کوشش کرسکے کہ مدینہ میں اس کی موت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ مدینہ میں مرے ۔میں ان لوگوں کی ضرور شفاعت کروں گا جو مدینہ میں مریں گے (مسند احمد، جامع ترمذی) 
٭ جس نے حج کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی۔ (بیہقی) 
٭روئے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اپنی قبرکا ہونا مجھے مدینہ سے زیادہ محبوب ہو۔(موطا امام مالک)۔

۳۷۔منافق کی پہچان
٭ پکے منافق کی چار پہچان: جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب لڑے تو بےہودہ گوئی کرے(ایمان، بخاری)

۴۷۔میت ،جنازہ، قبر،سوگ 
٭ کسی مسلمان کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت پر اُحد پہاڑ کے برابر کادو حصہ ثواب ملتا ہے(ایمان، بخاری) 
٭ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کی ممانعت کی جاتی تھی
٭ شوہر کی وفات پر چار مہینہ دس دن تک سوگ ہے۔اس دوران سرمہ، خوشبو اور رنگین کپڑوں سے اجتناب کرناچاہئے ٭عورتوں کو جنازوں کے ہمراہ جانے کی ممانعت کردی گئی تھی(حیض، بخاری)
 ٭ نجاشی کی وفات پر آپ ﷺ نے لوگوں کو کھڑا کرکے چار تکبیریں کہیں اور غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی
٭جس مسلمان کے تین نابالغ بچے وفات پاجائیں تو اﷲاسے جنت عطا کرے گا
٭میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ مرتبہ غسل دو اور اخیر میں کافور ملادو
٭ رسول اﷲﷺ کو یمن کے تین سفیدسوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا
٭ہم عورتوں کو جنازوں کے ہمراہ جانے سے منع کردیا گیا تھا ، اُمّ ِعطیہؓ 
٭ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں مگر بیوی شوہر کا سوگ چار مہینے اور دس د ن کرے
٭صبر شروع صدمہ کے وقت معتبر ہوتا ہے
٭اگر کسی نے مرنے والے پر نوحہ کیا تو نوحہ کرنے کی وجہ سے اُس پر عذاب کیا جائے گا
٭ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو غم میں اپنے رخساروں پر طمانچے مارے اور گریبان پھاڑے 
٭نبی ﷺ نے غم میں چِلا نے ، سر منڈوانے اور گریبان وغیرہ پھاڑنے والی عورت سے برا ت ظاہر فرمائی
٭اﷲ تعالیٰ آنسو بہانے پر عذاب نہیں کرتا اور نہ ہی دل کے رنج کی وجہ سے عذاب کرتا ہے
 ٭میت پر اس کے اقربا کے ناجائز طور پر رونے کی وجہ سے عذاب کیا جاتا ہے
٭ رسول اﷲ ﷺ نے ہم لوگوں سے بیعت کے وقت یہ عہد لیا تھا کہ ہم نوحہ نہ کریں گی،اُمّ ِعطیہؓ 
٭جب تم میں سے کوئی شخص جنازہ کو دیکھے تو اگر اس کے ساتھ نہ جارہا ہوتو کم از کم کھڑا ہوجائے
٭ جو شخص جنازہ کے ہمراہ جائے اس کو ایک قیراط ثواب ملے گا 
٭ مُردوں کو برابھلا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جیسا بھی عمل کیا تھا اس کا بدلہ پالیا 
٭سورہ فاتحہ کا نمازِ جنازہ میں پڑھنا سنت ہے(نمازِجنازہ، بخاری) 
٭تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے کہ اس کی نیکی میں اضافہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے رُک جائے۔(تمنی، بخاری) 
٭ جس مسلمان کی نماز جنازہ چالیس ایسے آدمی پڑھیں جن کی زندگی شرک سے پاک ہو اور وہ نماز میں اس میت کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا کریں تو اﷲان کی دعاضرور قبول فرماتا ہے (مسلم) 
٭ کسی مسلم میت کی نماز جنازہ میں تین صفیں ہوںتو اﷲ اس کی مغفرت اور جنت واجب کردیتا ہے (ابی داو د)

موت:
 ٭ لذتوں کو توڑدینے والی موت کو زیادہ یاد کرو تو وہ تمہیں غفلت میں مبتلا نہ ہونے دے(ترمذی) 
٭انسان موت کو پسند نہیں کرتا حالانکہ موت اس کے لئے فتنہ سے بہتر ہے(مسند احمد) 
 ٭ موت مومن کا تحفہ ہے۔ (بیہقی)
٭مرنے والوں کو کلمہ لا الٰہ الا اﷲ کی تلقین کیا کرو (صحیح مسلم)
٭تم اپنے مرنے والوں پر سورة یٰسین پڑھا کرو (مسند احمد، سنن ابو داو د، سنن ابن ماجہ)
٭جب کسی کا بچہ انتقال کر جاتا ہے ا ور وہ بندہ اللہ کی حمد بیان کرکے انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہے تو اﷲ اس کے لئے جنت میں بیت الحمد نامی ایک عالیشان گھر تیار کرواتا ہے (مسند احمد، ترمذی)
٭انسان کے دل پربھی زنگ چڑھ جاتا ہے جسے موت کی یاداورتلاوتِ قرآن سے دور کیا جاسکتا ہے (بیہقی)

قبر:
٭ قبر کے سوالات:
 تیرا رب کون ہے؟
 تیرا دین کیا ہے ؟
یعنی حضرت محمد کون ہیں؟ (مسند احمد، ابوداو د)
٭ نیک مردہ کی قبر میںجنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے جہاں سے جنت کی خوشبو دار ہوائیں آتی ہیں اوراس کے لئے منتہائے نظرتک کشادگی کردی جاتی ہے(مسند احمد، ابوداو د)
٭کافر مردہ کے لئے دوزخ کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے دوزخ کی گرمی اور جلانے جھلسانے والی ہوائیں اس کے پاس آتی رہیں گی اور اس کی قبر اس پر نہایت تنگ کردی جائے گی(مسند احمد، ابوداو د)
٭ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے۔یہاں سے نجات پاگیا تو آگے کی منزلیں نسبتاََآسان ہیں(ترمذی)
٭ قبر و دوزخ کے عذاب ،ظاہری و باطنی فتنوں اوردجال کے فتنے سے اﷲ کی پناہ مانگو (مسلم) 
٭ قبروں کو پختہ کر نے، اس پر عمارت بنانے یا اس پر بیٹھنے کی ممانعت ہے (مسلم)
٭ نہ تو قبروں کے اوپر بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کرکے نماز پڑھو ( مسلم) 

ایصال ثواب: 
٭ مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لئے کنواں کھدوانااحسن کام ہے۔ ( ابو داو د،سنن نسائی)

۵۷۔ نام رکھنا اور عقیقہ کرنا
٭اﷲ کو سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نام عبداﷲ اور عبدالرحمن ہیں( مسلم) 
٭ جسے ا ﷲ تعالیٰ اولاد دے تو چاہئے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو اچھی تربیت کرے(بیہقی) 
٭عقیقہ میں لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرو۔ ( ابی داو د، نسائی)
٭ نبی نے حسنؓ کے عقیقہ میں ایک بکری کی قربانی اور بالوں کے وزن بھر چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا(ترمذی)
٭نبی ﷺ نے کھجور چبا کر نومولود کے منہ (تالو) میں لگادی اور اس کے لےے برکت کی دعا کی
٭لڑکے کا عقیقہ کرنا لازم ہے۔ اس کی طرف سے خون گراو اور تکلیف دُور کرو (عقیقہ، بخاری)

۶۷۔ نجات کا آسان طریقہ
٭جو چُپ رہا وہ نجات پاگیا (مسند احمد، جامع ترمذی، مسند دار می،بیہقی)
٭نجات حاصل کرنے کا گُر :
زبان پر قابو رکھنا اور اپنے گناہوں پر اﷲ کے حضور میں رونا(جامع ترمذی)

۷۷۔ نعمت، کفرانِ نعمت
٭دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے۔ صحت و تندرستی اور فرصت کے لمحات
 ٭ جس کو اﷲ نے لمبی عمر عطا کی حتیٰ کہ ساٹھ برس کی عمر کو پہنچ گیا۔ پھر اﷲ اس کے کسی عذر کو قبول نہیں کرتا(رقاق، بخاری) 
٭جوانی کو بڑھاپا آنے سے پہلے، تندرستی کو بیمار ہونے سے پہلے ،خوشحالی کو تنگدستی سے پہلے، فراغت کو،مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت آنے سے پہلے غنیمت جانو(جامع ترمذی)

۸۷۔نماز: اوقات، صفات اور اقسام
٭ دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں(ایمان، بخاری) 
٭اﷲ نے رات اور دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں (زکوٰة، بخاری)
٭ نماز یوں کے امام کو چاہےے کہ ہر رکن کے ادا کرنے میں تخفیف کرکے لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرے(علم، بخاری) 
٭معراج میں پانچ نمازیںمقرر کی گئیں جو ثواب میں پچاس نمازوں کے برابر ہیں
٭کوئی بھی شخص ایسے ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس میں اس کے شانے پر کچھ نہ ہو
٭نماز کے لئے اگر کپڑا وسیع ہوتو اس سے التحاف کرلیا کرو اور اگر تنگ ہوتو اس کی ازار یعنی تہبند بنالو 
٭ نبیﷺ بچھونے پر نماز پڑھتے اورحضرت عائشہؓ آپ کے اور سجدہ کی جگہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھیں
٭صحابہ کرام ؓ گرمی کی شدت کی وجہ سے سجدہ کی جگہ پر اپنے کپڑے کا کنارہ بچھالیتے تھے
٭رسول اﷲﷺ اپنے جوتوں سمیت بھی نماز پڑھ لیتے تھے
٭نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان کشادگی رکھتے تھے
 ٭نبی ﷺ اپنی سواری پر جس سمت بھی وہ رخ کرتی ،اسی سمت نفل نماز پڑھتے رہتے اور جب فرض نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو اتر پڑتے اور قبلہ کی طرف منہ کرلیتے
٭ نماز میں شک ہوجائے تو ٹھیک بات سوچ کر اسی پر نماز مکمل کرلو اور سلام پھیر کردو سجدہ سہو کرلو۔
٭دورانِ نماز اپنے قبلہ کے سامنے نہ تھوکو۔ تھوکنا ہو تو اپنے بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے تھوکو 
٭جس جگہ نماز کا وقت آجائے وہیں نماز پڑھ لو۔نبیﷺ بکریوں کے رہنے کی جگہ میں بھی نماز پڑھ لیتے 
٭اپنی کچھ نمازیں اپنے گھروں میں ادا کیا کرو اور انہیں قبریں نہ بناؤ 
٭نمازِتہجد کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ دو دو رکعت کر کے پڑھنی چاہیئے
٭رات کو اپنی آخری نماز وتر کو بناو  
٭جماعت کی نماز، اپنے گھراور بازار کی نماز سے ثواب میں پچیس درجے فوقیت رکھتی ہے (الصلوٰة، بخاری) 
٭ اﷲ کے نزدیک زیادہ محبوب عمل وہ نماز ہے جو اپنے وقت پر پڑھی جائے پھر اس کے بعد والدین کی اطاعت کرنا اور اس کے بعد اﷲ کی راہ میں جہاد کرنا۔ 
٭ اللہ پانچوں نمازوں کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹادیتا ہے
٭نماز میں کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے 
٭ جس کی نمازِ عصر جاتی رہے، وہ ایسا ہے گویا کہ اس کا گھر اور مال ضائع ہوگیا 
٭جو شخص کسی نماز کو بھول جائے تو اسے چاہےے کہ جب یاد آئے، پڑھ لے(مواقیةالصلوٰة، بخاری) 
٭اورجو تم میں سے سب سے بڑا ہو وہ تمہارا امام بنے (اذان، بخاری) 
٭جب اذان کہو تو اپنی آواز بلند کرو۔ مو ذن کی آواز سننے والا جن یا انسان روزِ قیامت گواہی دے گا
٭جو شخص اذان سن کر اذان کی دعا پڑھے تو اس کو قیامت کے دن نبی ﷺکی شفاعت نصیب ہوگی
٭اگر اذان اور پہلی صف کا ثواب معلوم ہوجائے اورلوگ قرعہ ڈالے بغیر اسے نہ پائیں تو ضرور قرعہ ڈالیں
٭جب صبح کی اذان ہوجاتی تو دو رکعتیں ہلکی سی فرض کے قائم ہونے سے پہلے پڑھ لیتے تھے
٭ہر دو اذانوں یعنی اذان و اقامت کے درمیان ایک نماز ہے۔ اگر کوئی چاہے تو پڑھ سکتا ہے
٭ اچھی باتوں کا حکم دو اور نماز قائم کرو
٭جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے
 ٭ نماز کے لیے نہایت اطمینان سے آو ۔ جس قدر نماز پاؤ پڑھ لو، جس قدر جاتی رہے اس کو پورا کرلو
٭جماعت کی نماز ،تنہا نماز پر ستائیس درجہ ثواب میں زیادہ ہے
٭منافقوں پر فجر اور عشاءکی نماز سے زیادہ کوئی نماز گراں نہیں گزرتی 
٭ نفل نمازوں میں افضل نماز وہ ہے جو اپنے گھر میں ادا ہو
 ٭جب کھانا آگے رکھ دیا جائے تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانا کھالو
٭اگر باجماعت نماز میں کوئی بات پیش آجائے تو سبحان اﷲ کہے ۔ تالی بجانا صرف عورتوں کے لئے ہے
٭کیانماز میں اپنا سر امام سے پہلے اٹھا لینے والے کویہ خوف نہیں کہ اﷲ اس کے سر کو گدھے کا سا سر بنادے؟ 
٭ بستی میں تین آدمی ہوں اور وہ نماز باجماعت نہ پڑھتے ہوں تو ان پر شیطان یقینا قابو پالے گا (مسند احمد)
٭ جس کی چالیس دن تک ہربا جماعت نماز کی تکبیر اولیٰ فوت نہ ہو تو اس کے لئے دو برا تیں لکھ دی جاتی ہیں(ترمذی)
٭ کھاناسامنے ہوتو نماز کا حکم نہیں ہے اور نہ ایسی حالت میں کہ پائخانے یا پیشاب کا تقاضا ہو (مسلم)
٭ حضرت انسؓ اور اُن کے بھائی نے رسول اﷲ ﷺ کے پیچھے اپنے گھر میں اس طرح نماز پڑھی کہ اُن کی والدہ اُم سلیم اُن دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئیں (صحیح مسلم)
٭ جب تم نماز کو آو اورامام سجدے میں ہو تو تم سجدے میں شریک ہوجاو اور اس کو کچھ شمار نہ کرو۔ جس نے امام کے ساتھ رکوع پالیااُس نے نماز کی وہ رکعت پالی (سنن ابی داو د)
٭ نبیﷺ دونوں سجدوں کے درمیان رَبِّ اغ فِر لِی(اے اﷲ!میری مغفرت فرما) کہا کرتے تھے(نسائی)
٭ آخری تشہد پڑھ کر جہنم و قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کی آزمائش سے اور دجال کے شر سے پناہ مانگو ( مسلم)
٭ جوفرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھے گا اس کےلئے جنت میں ایک گھر تیار کیا جائے گا
٭۴ رکعات ظہر سے پہلے، ۲ رکعات ظہر کے بعد، ۲ رکعات مغرب کے بعد، ۲رکعات عشاءکے بعد اور ۲رکعات فجر سے پہلے ( ترمذی)
٭ اگر نماز کے دوران اونگھ آ جائے تو نماز توڑ کر سو جانا چاہیئے( بخاری)۔
٭امام کو نماز میں تخفیف کرناچاہیے۔ مقتدیوں میں ضعیف، بوڑھے اور صاحبِ حاجت بھی ہوتے ہیں
٭صفوں کو بَرابَر کرلو ورنہ اﷲ تعالیٰ تمہارے چہروں میں تغیر کردے گا (اذان، بخاری) 
٭کھڑے ہو نے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اوراگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھو
٭ جب عمر مبارک زیادہ ہوگئی تونبی ﷺ بیٹھ کر قرا ت کرتے پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہوجاتے اور تقریباً تیس یا چالیس آیتیں پڑھ کر رکوع کرتے۔ (تقصیر الصلاة، بخاری) 
٭ نماز میں اﷲ کے ساتھ مشغولی ہوتی ہے اس لئے نماز میں اور کسی طرف مشغول نہ ہونا چاہیئے
٭سجدہ کرتے وقت مٹی وغیرہ برابر کرنا ہو تو ایک مرتبہ سے زیادہ نہ کرو
٭نبی ﷺ نے نماز کے دوران سلام کا جواب نہیں دیا
٭ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی کولہے پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے
٭ آپ ﷺ نے غلطی سے پانچ رکعتیں پڑ ھ لیں تو سلام کے بعد دو سجدے سہوکے کئے۔(عمل فی الصلاة، بخاری)
٭ جو کوئی نماز قائم کرنے والوں میں سے ہو گا تو وہ نماز کے دروازے سے جنت میں داخل ہو گا(الصوم، بخاری) 
٭ سب سے بہتر عمل نماز ہے (مو طا امام مالک) 
٭ جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی طہور یعنی وضو ہے (مسند احمد)

اذان:
٭اذان دو تو آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کردیا کرو اور جب اقامت کہو تو رواں کہا کرو(جامع ترمذی)
٭ اذان دیتے وقت اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں دے لیا کرو۔(سنن ابن ماجہ)
٭قاعدہ یہ ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داو د، سنن ابن ماجہ)
٭اﷲاور اپنے آقا کا حق ادا کرنے والا نیک غلام،کسی جماعت کا وہ امام جس سے لوگ خوش رہے اور پانچوں وقت اذان دینے والا قیامت کے دن مشک کے ٹیلوں پر ٹھہرائے جائیں گے۔ (جامع ترمذی)
٭جس نے سات سال تک اﷲ کے واسطے اور ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے آتش دوزخ سے برا ت لکھ دی جاتی ہے ۔(جامع ترمذی، سنن ابی داو د، سنن ابن ماجہ)

اوقاتِ نماز:
٭ گرمی کی شدت ہو تو ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے یعنی ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔
٭نبی ﷺ فجرکی نماز ایسے وقت پڑھتے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے پاس بیٹھنے والے کو پہچان لیتا تھا
٭ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے جب آفتاب ڈھل جاتا تھا
٭ عصر کی نمازایسے وقت کہ کوئی مدینہ کے کنارے تک جاکر لوٹ آئے اور آفتاب متغیر نہ ہو
٭عشاءکی تاخیر میں تہائی رات تک آپﷺ کچھ پرواہ نہ کرتے تھے
٭عشاءکی نماز سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات کرنے کو بُرا جانتے تھے
٭نمازِ عصر کا ایک سجدہ آفتاب کے غروب ہونے سے پہلے پالے تو اسے چاہیے کہ اپنی نماز پوری کرلے
٭ نمازِ فجر کا ایک سجدہ طلوعِ آفتاب سے پہلے پالے تو اسے بھی چاہیئے کہ اپنی نماز پوری کرلے
٭مغرب کی نماز پڑھ کے ایسے وقت لوٹ آتے کہ تیر کے گرنے کے مقام کو دیکھ سکتے۔ 
٭نماز فجرکے بعد آفتاب نکلنے سے پہلے اورنماز عصر کے بعد غروب آفتاب سے پہلے نماز پڑھنا منع ہے
٭ جب آفتاب کا کنارہ نکل آئے تو نماز موقوف کردو یہاں تک کہ آفتاب بلند ہوجائے
٭ جب آفتاب کا کنارہ چھپ جائے تو نماز موقوف کردو یہاں تک کہ پورا آفتاب چھپ جائے(مواقیةالصلوٰة، بخاری) 
٭عصر کی نماز کے بعد جب تک کہ آفتاب غروب ہوجائے، کوئی نمازنہ پڑھی جائے
٭فجرکی نماز کے بعد جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہوجائے، کوئی نمازنہ پڑھی جائے(شکار،بخاری) 
٭جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے وہیں فوراََ ادا کرلو کہ فضیلت اسی میں ہے(انبیائ، بخاری)

سترہ: 
٭نبی ﷺ نے بطحا میں اس حالت میں نماز پڑھائی کہ آپ ﷺ کے سامنے ایک نیزہ گڑا ہوا تھا اور آپﷺ کے سامنے سے عورتیں اور گدھے نکل رہے تھے
٭ کسی چیز کی آڑ میں نماز پڑھنے والے کے سامنے سے کوئی نکلنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ اسے ہٹا دے
٭اگر نماز ی کے سامنے سے نکلنے والا یہ جان لیتا کہ اس پر کس قدر گناہ ہے تو بے شک اسے چالیس دن تک کھڑا رہنا بھلا معلوم ہوتا اس بات سے کہ اس کے سامنے سے نکل جائے
٭نبی ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور حضرت عائشہؓ عرضاً آپ کے سامنے بستر پر سو رہی ہوتی تھیں
٭نبیﷺ اس حالت میں نماز پڑھ رہے ہوتے کہ اپنی نواسی امامہ بنت زینبؓ کو گود میں اٹھائے ہوتے ۔ (سترہ، بخاری)

نماز کی صفتیں: 
٭نبیﷺ جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی رفع الیدین کرتے
٭ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھیں
٭نماز میں ادھر ادھر دیکھنا شیطان کی جھپٹ ہے
٭ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورة فاتحہ نہ پڑھے
٭ نبی ﷺ پہلی رکعت میں لمبی قرا ت کرتے تھے اور دوسری میں اس سے چھوٹی سورت پڑھتے
٭ نماز میں اگر سورہ فاتحہ سے زیادہ نہ پڑھو تو بھی کافی ہے۔ اور اگر زیادہ پڑھ لو تو بہتر ہے
٭ پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں مزید پڑھتے۔ آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ پڑھتے
٭ امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ جس کی آمین ملائکہ کی آمین سے مل جائے اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے
٭سجدہ، سجدوں کے درمیان کی نشست اوررکوع سے اپنا سر اٹھانے کی حالت تقریباً برابر برابر ہوتے تھے
٭امام سَمِعَ اﷲُ لِمَن حَمِدَہ کہے تو تم اَللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ ال حَم د کہو
٭ فجرو مغرب کی نماز کی آخری رکعت میں سَمِعَ اﷲُ لِمَن حَمِدَہ کے بعد قنوت نازلہ پڑھا جاتا تھا
٭ اﷲ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ پر حرام کردیا ہے کہ وہ سجدے کے نشان کو کھائے۔ 
٭سجدہ سات ہڈیوں پر کرو: پیشانی بمعہ ناک کی نوک ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پاو ں
٭نبی ﷺ نماز کی طاق رکعت میں جب تک سیدھے نہ بیٹھ جاتے تھے، کھڑے نہ ہوتے تھے
٭نماز میں بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ تم اپنا داہنا پیر کھڑا کرلو اور بایاں دہرا کر لو
٭آپ ﷺ نے اپنا سر رکوع سے اٹھایا تو سیدھے ہوگئے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی اپنی جگہ پر چلی گئی 
٭ جب سجدہ کیا تو دونوں ہاتھ زمین پر رکھ دیئے نہ ان کو بچھایا اور نہ سمیٹا ،پیر کی انگلیاں قبلہ رخ کرلیں
٭پھر جس وقت دو رکعتوں میں بیٹھے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھے اور داہنے پیر کو کھڑا کرلیا
٭جب آخری رکعت میں بیٹھے تو بائیں پیر کو آگے کردیا، داہنے پیر کو کھڑا کرلیا اور اپنی سرین پر بیٹھ گئے۔
٭پہلی دو رکعتوں کے اختتام پر بھولے سے کھڑے ہوگئے، بیٹھے نہیں تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدہ سہو کئے 
٭ فرض نماز سے فراغت کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا نبیﷺ کے دَورِ اقدس میں رائج تھا
٭ ہر نماز کے بعد ۳۳، ۳۳ مرتبہ سُب حَانَ اﷲِ، ال حَم دُﷲِ اور ۴۳ مرتبہ اﷲ ُ اَک بَرُ پڑھا کرو (صفت الصلوٰة، بخاری)

نماز فجر:
 ٭ نبی ﷺ فجر کی دو رکعات سنتوں کی بڑی حفاظت فرمایا کرتے تھے
٭رسول اﷲ ﷺ نمازِ فجر سے پہلے پڑھی جا نے والی دونوں رکعتیں بہت ہلکی پڑھتے تھے 
٭سونے والے کی گردن کے پیچھے گدی پر شیطان تین گرہ دے دیتا ہے۔ بیدار ہونے، وضو کرنے اور نماز فجر پڑھنے سے یہ تینوں گرہیں کھل جاتی ہیں
٭ جو نمازکے لیے اٹھنے کی بجائے صبح تک سوتا ر ہے تو شیطان اس کے کان میں پیشاب کردیتا ہے (تہجد، بخاری)

 نماز وتر:
٭ نمازِ شب کی دو دو رکعتیں ہیں
٭رات کے ہر حصہ میں نبیﷺ نے نمازِ وتر پڑھی ہے
٭تم رات کے وقت اپنی آخری نماز وتر کو بناو
٭ نبی ﷺ سفر میں نمازِ وتر اپنی سواری پر پڑھا کرتے تھے (وتر، بخاری) 
٭ نماز و ترحق ہے۔ جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے(سنن ابی داو د)

تہجد:
 ٭ تم تہجد ضرور پڑھا کرو (جامع ترمذی)

نماز جمعہ:
٭ ہر بالغ پر جمعہ کے دن نہانا ضروری ہے 
٭ اچھی طرح غسل کرکے نماز جمعہ کے لیے پہلی گھڑی میں چلے تو گویا اس نے ایک اونٹ کا صدقہ کیا
٭جمعہ کے دن غسل کرے ، بالوں کو تیل لگائے ، خوشبو استعمال کرے پھر اس کے بعد جمعہ کی نماز کے لیے نکلے۔ تو اس کے اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیان کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے 
٭ امام خطبہ پڑھ رہا ہو اور تو اپنے پاس والے سے یہ کہے کہ چپ رہ تو بے شک تونے لغو حرکت کی 
٭ جب خوب سردی ہوتی تھی تو نبی ﷺ جمعہ کی نماز سویرے پڑھتے تھے
٭اور جب گرمی زیادہ ہوتی تھی تو جمعہ کی نماز کو ٹھنڈا کرکے یعنی ٹھنڈے وقت پڑھتے تھے (جمعہ، بخاری) 
٭ تم لوگ جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو (بہیقی)
٭ جمعہ کی باجماعت نماز غلام، عورت، کمسن اور بیمار کے علاوہ ہر مسلمان پر لازم ہے (ابو داو ¿د)

بچوں کی نماز: 
٭ بچے سات سال کے ہوجائیں تو نماز کی تاکید کرو اور جب دس سال کے ہوجائیں تو نماز میں کوتاہی کرنے پر ان کو سزا دو اور ان کے بستر بھی الگ کردو (سنن ابی داو ¿د)

عورتوں کی نماز: 
٭ گھر کے اندرونی حصے میں پڑھی جانے والی عورتوں کی نماز، اُس نماز سے بہتر ہے جو بیرونی دالان یا صحن میں پڑھی جائے۔ گھر میں پڑھی جانے والی عورتوں کی نماز، مسجد میں پڑھی جانے والی نماز سے بہتر ہے( مسند احمد)
٭ اگرنبی ﷺ عورتوں کی موجودہ حالت دیکھ لیتے توانہیں مسجدوں میں جانے سے روک دیا جاتا جیسے سابق انبیاؑ نے بنی اسرائیل کی عورتوں کو عبادت گاہوں میں جانے سے روک دیا تھا، حضرت عائشہ ؓ (مسلم)

نماز عیدین:
٭ نمازِ عید سے پہلے رسول اللہ ﷺ طاق کھجوریں کھاتے تھے
٭عید الاضحیٰ کے دن سب سے پہلے نماز پڑھیں۔ اس کے بعد واپس آکر قربانی کریں
٭ جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو اس کی قربانی نہیں ہوئی
٭ رسول اﷲ ﷺ کے عہد میں عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن نمازِ عید کی اذان نہ کہی جاتی تھی
٭ یہ سب لوگ خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھتے تھے
٭ ایّام تشریق (ماہ ذی الحجہ) کے دس دنوں کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں
٭ تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہہ لیتا تھا اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہہ لیتا تھا ۔ کسی کو بھی ممانعت نہ کی جاتی تھی
٭نبی ﷺ ایک راستے سے عیدگاہ جاتے اور دوسرے راستے سے واپس آتے (عیدین، بخاری)

نماز گرہن:
٭جب گرہن کو دیکھو تو نماز پڑھو اور اﷲ سے دعا کرو
٭ گرہن دیکھو تو اﷲ سے دعا کرو اور اس کی بڑائی بیان کرو اور نماز پڑھو اور صدقہ دو 
٭نبی ﷺ نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا تھا
٭ سورج گرہن دیکھو تو اﷲ کا ذکر کرو، اُس سے دعا مانگو اور استغفار کے لیے جھک جاو
٭نمازِ کسوف یعنی گرہن کی نماز میں آپ ﷺ نے دو رکعتوں کے اندر چار رکوع اور چار سجدے کئے(کسوف، بخاری)

ٓآیت سجدہ: 
٭جب نبی ﷺ آیت سجدہ پڑھتے تو سجدہ کرتے تھے اور ہم بھی اسی وقت سجدہ کرتے تھے
٭ہجوم کی وجہ سے آیت سجدہ پر سجدہ کرنے کے لئے ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ پاتا تھا(سجود القرآن، بخاری)

نماز سفر:
٭ نبی ﷺنے مکہ میں اُنیس دن قیام فرمایا اور برابر قصر کرتے رہے۔(اڑتالیس میل یا ۷۷ کلو میٹرسے زائد کی مسافت ہو تو نماز قصر پڑھی جاتی ہے) 
٭رسول اﷲ ﷺ ، امیر المومنین سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر بن خطابؓ نے منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں
٭عورت کے لےے جائز نہیں کہ محرم کے بغیر ایک دن رات کی مسافت کا سفر کرے
٭نبی ﷺ سفر میں عجلت کے سبب مغرب کی تین رکعات کی نماز میں تاخیر کرتے اور پھر تھوڑی ہی دیر ٹھہر کر عشاءکی نماز پڑھ لیتے اور اس کی دو رکعتیں پڑھتے
 ٭نبی ﷺ نفل نماز سواری پرپڑھ لیتے تھے حالانکہ آپ ﷺ قبلہ کی سمت نہیں جا رہے ہوتے۔ آپ ﷺ کو سفر میں سنتیں پڑھتے کبھی نہیں دیکھا
٭ نبی ﷺ سفر میں ہوتے تو ظہر اور عصر جمع کرلیتے اور مغرب اور عشاءکو بھی جمع کرکے ادا فرماتے تھے۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اول نماز آخری وقت میں اور ثانی نماز اول وقت میں اس طرح پڑھی کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ملا کر پڑھی گئیں ہیں) (تقصیر الصلاة، بخاری) 

نماز تہجد:
٭نبی ﷺ جب بیمار ہوئے تو ایک رات یا دو رات آپ ﷺ تہجد کے لیے نہیں اٹھے
٭ رسول اﷲ ﷺ نے نمازِ چاشت کبھی نہیں پڑھی اور میں اسے پڑھتی ہوں، حضرت عائشہ
 ؓ٭ رسول اﷲ ﷺ کو وہ عمل پسند تھاجو ہمیشہ کیا جائے 
٭نبی ﷺ رات کو تیرہ رکعت پڑھتے تھے ، جس میں وتر اور سنتِ فجر کی دو رکعتیں بھی ہوتی تھیں
٭ نبی ﷺ کو رات کے وقت نماز پڑھتے بھی دیکھا جاسکتا تھا اور سوتے ہوئے بھی۔
٭ رسول اللہ ﷺ شروع رات میں سوتے تھے اور اخیر رات میں اٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔ نماز کے بعد پھر اپنے بستر کی طرف لوٹ آتے تھے پھر جب مو ذن اذان فجردیتا تو آپ ﷺ اٹھتے 
٭رسول اﷲﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہ پڑھتے تھے
٭ ہر ایک اپنی طبیعت کے خوش رہنے تک نماز پڑھے پھر جب تھک جائے تو چاہیئے کہ بیٹھ جائے
٭تم اُس شخص کی طرح نہ ہوجاناجو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا تھا پھر اُس نے رات کا اٹھنا اور نماز پڑھنا ترک کردیا (تہجد، بخاری)

۹۷۔وراثت، ترکہ،وصیت
٭اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ جاو ۔ یہ اُس سے بہتر ہے کہ انہیں فقیر چھوڑ جاو اور وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائیں(نمازِجنازہ، بخاری) 

٭نبی ﷺ کی وصیت:
 ہر مہینے میں تین روزے رکھنا، نماز چاشت پڑھنا۔ اور وتر پڑھ کر سونا۔ (تہجد، بخاری)
٭ کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ دو شب بھی اس طرح رہے کہ وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو
٭وصیت کے وقت دو انصاف والے تم میں سے یا تمہارے غیروں میں گواہ ہونے چاہئیں (وصایا، بخاری) 
٭ میراث اس کے مستحقوں تک پہنچا دو ۔ جو کچھ بچے وہ سب سے زیادہ قریبی مرد عزیز کا حصہ ہے(فرائض، بخاری) 
٭ جوانتقال سے قبل وصیت کر گیا تو اس کا انتقال ٹھیک راستہ پر اور شریعت پر چلتے ہوئے ہوا۔لہٰذا اس کی موت تقویٰ اور شہادت والی موت ہوئی اور اس کی مغفرت ہوگئی۔ (سنن ابنِ ماجہ)
٭ ساٹھ سال تک اﷲ کی فرمانبرداری والی زندگی گزارنے والا اگر موت کے وقت وصیت میں حق داروں کو نقصان پہنچاد ے تواُس کے لئے دوزخ واجب ہوجاتی ہے (مسند احمد، ترمذی،ابی داو د،)

۰۸۔ وسوسہ، وہم، بد شگونی
دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسے معاف ہیں جب تک کہ انہیں عمل یا زبان پر نہ لائے (رہن، بخاری) 
٭ دل کے برے خیالات اور وسوسوں پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا جب تک اُن پر عمل نہ کیا جائے ( مسلم) 
٭اللہ پر توکل کرواور شگونِ بدومنتر وںسے گریز کرو ( صحیح مسلم) 

۱۸۔وظائف اور ذکر الٰہی 
٭ جس نے سُب حَانَ اﷲِ وَبَحَم دِ ہِ ایک دن میں سو مرتبہ پڑھا اس کے تمام گناہ مٹا دیئے جائیں گے
٭جو شخص اﷲ کا ذکر کرے اور جو ذکر نہ کرے ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔(دعوات، بخاری)
 ٭سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم زبان پر ہلکے لیکن قیامت کے دن ترازو پر بھاری ہوں گے۔(توحید، بخاری) 
٭حَس بُنَا اﷲُ وَنِع مَ ال وَکِی لُ“ اور اَللّٰھُمَّ حَا سِب نِی حِسَاباً یَّسِی رًاکہتے رہا کرو(ترمذی) 
٭ کلمہ لَا حَو لَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ کثرت سے پڑھا کرو(مسند احمد)
 ٭ کلمہ الحمدﷲ میزان عمل کو بھردیتا ہے (صحیح مسلم)
٭سبحان اﷲ والحمدﷲ آسمان کو اور زمین کو بھر دیتے ہیں(صحیح مسلم) 
٭جب بندگانِ خدا، اﷲ کا ذکر کرتے ہیں تو رحمت الہٰی ان کو اپنے سایہ میں لے لیتی ہے ۔(صحیح مسلم)
٭جب لوگ زمین پر اللہ کی حمدو ثناءکرتے ہیں تو اﷲ فخر کے ساتھ فرشتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرماتا ہے۔ (مسلم)
٭اﷲ کا ذکرراہِ خدا میں سونا چاندی خرچ کرنے اور جہاد سے بھی زیادہ افضل ہے (مسند احمد،ترمذی، ابن ماجہ)
٭ اﷲ کا ذکر اتنا اور اس طرح کرو کہ لوگ کہیں کہ یہ دیوانہ ہے (رواہ احمد )
٭”سُب حَانَ اﷲِ“ اور ”اَل حَم دُﷲِ ِ“اور ”لاَ اِلہ اِلَّا اﷲُ“ اور ”اَﷲُ اَک بَرُ“ افضل ترین کلمے ہیں (مسلم)
٭روزانہ سو دفعہ سُب حَانَ اﷲِ وَبِحَم دِہ  کہنے والے کے قصور معاف کردیئے جائیں گے خواہ کثرت میں سمندر کے جھاگوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں(مسلم)
٭سب سے افضل ذکر”لَا اِلہ اِلَّا اﷲُ“ ہے (جامع ترمذی‘ سنن ابن داو د)
٭ کلمہ لَا حَو لَ وَلَا قُوَّةَ اِلَا بِاﷲ جنت کے خزانوں میں سے ہے( مسلم)
٭جس نے اﷲ کے نناوے نام کو محفوظ کیا اور ان کی نگہداشت کی وہ جنت میں جائے گا(جامع ترمذی)
٭جب اﷲ سے اُس کے اِسم اعظم کے وسیلہ سے مانگا جائے تو وہ دیتا ہے۔ (جامع ترمذی ابی داو د)
٭اِسم اعظم آیت”والٰھُکُم اِلٰہ واحِد لاَ اِلٰہَ الّا ھُوَالرَّح مٰنُ الرّحِی م“ اور ”اٰل عمران کی ابتدائی آیت ”الٓمّٓ اَﷲُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ال حَیُّ ال قَیُّو م“ میں موجود ہے( ترمذی ، ابو داو د، ابن ماجہ ، دارمی)
٭جو جمعہ کے دن سورہ ¿ کہف پڑھے اس کے لئے نور روشن ہوجائے گا دو جمعوں کے درمیان (بیہقی)
٭جس نے اﷲ کی رضا کے لئے سورہ یٰسین پڑھی اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے (بیہقی)
٭جو ہر رات سورہ واقعہ پڑھے اسے کبھی فقرو فاقہ کی نوبت نہیں آئے گی(بیہقی)
٭ سورة”الھٰکم التکاثر“ پڑھنے کا ثواب ایک ہزار آیتیں پڑھنے کے برابر ہے(بیہقی)
٭ثواب میں سورة ”اذازلزلت“ نصف قرآ ن ، ”قل ھو اﷲ احد“ تہائی قرآن اور ”قل یٰٓا یھا الکٰفرون“ چوتھائی قرآن کے برابر ہے (جامع ترمذی)
٭اﷲ کے یہاں کوئی چیز اور کوئی عمل دعا سے زیادہ عزیز نہیں۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) 
٭نمازِ مغرب کے بعد کوئی بات چیت کئے بغیر سات دفعہ یہ دعا کرو۔”اللّٰھُمَّ اَجِر نِی مِنَ النَّار“
٭نماز فجر کے بعد پڑھوکوئی بات چیت کئے بغیر سات دفعہ یہ دعا کرو”اَللّٰھُمَّ اَجِر نِی مِنَ النَّارِ“
٭اگر اُس رات یا دن تمہاری موت مقدر میں ہوئی تو اس وظیفہ(اے اﷲ! مجھے دوزخ سے پناہ دے) کی بدولت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تم کو دوزخ سے بچانے کا حکم ہوجائے گا (سنن ابی داو د)
٭صبح وشام قل ھواﷲ احد ، قل اعوذ برب الفلق اورقل اعوذ برب الناس تین بار پڑھ لیا کروتو یہ ہر چیزکے واسطے تمہارے لئے کافی ہوں گی (سنن ابی داو د) 
٭جب کوئی گھر سے نکلتے وقت پڑھے:”بِس مِ اﷲِ تَوَکَّل تُ عَلَی اﷲِ‘ لَا حَو لَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲ۔“ تو عالمِ غیب میں کہا جاتا ہے :”تیرا یہ عرض کرنا تیرے لئے کافی ہے۔ تیری حفاظت کا فیصلہ ہوگیا۔“ اور شیطان مایوس و نامراد ہوکر اس سے دور ہوجاتا ہے۔ (جامع ترمذی ، سنن ابی داو د) 
٭ رسول اﷲ ﷺ کو فکر اور پریشانی لاحق ہوتی تو یہ دعا پڑھتے۔”یَاحَیُّ یَاقَیُّو مُ بِرَ ح مَتِکَ اَس تَغِی ثُ‘ اے حی وقیوم! بس تیری رحمت سے مدد چاہتا ہوں۔(جامع ترمذی)

۲۸۔ہجرت اور نقل مکانی
٭جس کی ہجرت حصول دنیا کی خاطر ہو یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لئے ہو تو اس کی ہجرت اسی مد میں شمار ہوگی(آغازِ وحی، بخاری) 

۳۸۔یتیم، مسکین اور بیوہ
٭مسلمان کا کہ وہ مال اچھا ہے جس میں سے مسکین کو اور یتیم کو اور مسافر کودیا جائے(زکوٰة، بخاری) 
٭ یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں نبی سے ایسے قریب ہوگا جیسے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی(طلاق، بخاری) 
٭ بیوہ اور مسکین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والاا یسا ہے جیسا کہ اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والا (نفقات، بخاری)
 ٭مساکین اور غرباءسے محبت رکھنے اور اُن سے قریب رہنے کا حکم ہے(مسند احمد) 
٭بہترین گھرانہ وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو اوربدترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے۔ (سنن ابن ماجہ)

....تمت بالخیر....

تبصرے

زیادہ دیکھی گئی تحاریر

پیغامِ حدیث ۔ 5 : ضمیمہ

پیغام حدیث-1 کتاب بدء الوحی تا کتاب صدقۃ الفطر

پیغام حدیث ۔ 3: کتاب بدء الخلق تا کتاب المغازی

پیغام قرآن و حدیث: ڈاؤن لوڈ کیجئے

قرآنی ضابطہ حیات ۔۔ حصہ اول