سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ ایک اُسی نبی کا انکار کیوں؟ ، جس کی نبوت کے دلائل سب سے مضبوط ہیں



سیرت النبی کریم ﷺ 

ایک اُسی نبی کا انکار کیوں؟، جس کی نبوت کے دلائل سب سے مضبوط ہیں


بُغض کے بھرے عیسائی مبلغین لوگوں کے حضرت محمد ﷺ کی جانب بڑھنے کی راہیں مسدود کردینے کےلئے چند گھسی پٹی باتوں سے بڑھ کر کیا کہہ سکتے ہیں؟ '' قتال ''؟

وہ تو بائبل میں مذکور انبیاء کے ہاں بھی مذکور ہے، کیا پھر یہ موسیٰ اور سموئیل اور داود کو بھی ''تلوار'' کو ہاتھ لگ جانے کے باعث نبی ماننے سے انکار کردیں گے؟ سلیمان کو نبی نہ مانیں مگر ’اَمثال‘ تو ان کی بھی بائبل کا جزولاینفک ہیں، کیا ان سب نبیوں کو اور ان کے صحیفوں کو اور ان کے ذکر کو ’قتال‘ میں ملوث ہونے کے باعث بائبل کے عہد قدیم سے باہر کیا جاسکتا ہے؟ بلکہ عہد جدید کے بھی وہ حصے جن میں ’تلوار‘ کا ذکر ہے، کیا بائبل کے عہدِ جدید کی ان نصوص کی آسمانی نسبت بھی مشکوک ٹھہرا دی جائے گی؟

ایک سے زیادہ شادیاں کرلینے کے باعث محمد ﷺ کو بطور نبی نہیں دیکھا جاسکتا؟ تو پھر ابراہیم، اسحاق، یعقوب اور داود کو بطور نبی دیکھنے پر بھی کیا یہ مبلغین اپنے چرچ میں پابندی عائد کردیں گے؟ ان انبیاء کی کئی کئی شادیوں کا ذکر اسی بائبل میں ہی تو ہے جس کی تقسیمِ عام پر صبح شام محنت ہورہی ہے۔

محمد ﷺ نے عہد شکنی کے مرتکب بنو قریظہ کے سرقلم کروادئیے تھے، بنوقریظہ کے جنگی جرائم تو تاریخ کے ریکارڈ میں ہیں، مگر موسیٰ اور داود نے اپنے قابو آنے والے دشمنوں کے ساتھ جو خوفناک برتاؤ کیا، اپنی ’کتابِ مقدس‘ میں کیا انہوں نے وہ بھی دیکھا ہے؟ بائبل جو ’دکھی انسانیت کی فلاح کےلئے‘ افریقہ کے جنگلوں اور آسٹریلیا کے صحرؤں تک آج مفت پہنچائی جا رہی ہے، خود ہی ان سب سوالوں کا جواب ہے۔

یا تو یہ کہہ دیں کہ خدا نے انسان کی ہدایت کے لئے آج تک کوئی نبی بھیجا ہی نہیں اور نہ ہی کبھی کوئی کتاب اتاری ہے، پھر اس صورت میں بائبل کی ترسیل کے دیوہیکل منصوبے بھی لپیٹ کر رکھ دیں اور عہد قدیم کے انبیاء کی بھی اسی طرح ڈٹ کر مخالفت کریں جس طرح یہ محمد ﷺ کے ساتھ خدا واسطے کا بیر رکھے ہوئے ہیں، بلکہ ’یسوع مسیح ‘ کو اور اس کے کلام کو بھی اسی صف میں کھڑا کریں اور سب پر ایمان کے لئے ایک سا ’علمی معیار‘ بنائیں اور اگر ان کے لئے ایسا ممکن نہیں تو پھر محمد ﷺ کی طرف جانے والے عقل اور دلیل کے ان سب راستوں میں یہ کیونکر اور کب تک جم کر بیٹھ سکتے ہیں؟

اِن کا مقصد یہ تاثر دینا اور ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے کہ محمد ﷺ اگر نبی ہوتے تو آپ کی بابت ایسی غلط غلط باتیں کہی ہی کیونکر جا سکتی تھیں؟ مستشرقین نے اسی لئے حضرت عائشہ اور حضرت زینب بنت جحش کی شادی وغیرہ ایسی باتوں پر بھی لامحدود اوراق سیاہ کئے ہیں تو گویا نبی ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی بابت کبھی کوئی غلط بات نہ کی گئی ہو اور اس کی کسی بات کو کبھی کوئی غلط رنگ نہ پہنایا گیا ہو!!! کیا اس بات کا اطلاق یہ ان نبیوں پر بھی کریں گے جن پر یہ خود بھی ایمان رکھتے ہیں۔۔۔۔!!؟

محمد ﷺ کی نبوت کا ’ثبوت‘ چاہیے تو پھر موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کی نبوت کا بھی ’ثبوت‘ چاہیے اور عین انہی معیاروں پر جن کو ’تحقیق‘ کی بنیاد بنا کر تم محمد ﷺ کی نبوت پر اعتراضات کی بوچھاڑ کرتے رہے ہو! اور پھر دیکھتے ہیں ’دلیل‘ کس کے پاس ہے!!!!!؟

وہ اعتراضات جو تم محمد ﷺ اور قرآن پر کرتے ہو، ’جدید انسان‘ کو ایسے ہی اعتراضات کرنے کا حق اپنے نبیوں اور اپنے صحیفوں پر بھی تو دو! تمہارے پاس تو کچھ بچے گا ہی نہیں!!! خود موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کی نبوت کے ثبوت بھی خدا کے فضل سے آج ہم رکھتے ہیں نہ کہ تم!!!

انبیاء کا آنا اگر سچ ہے تو پھر ایک اُسی نبی کا ہی انکار کیوں جس کی نبوت کے دلائل سب سے مضبوط ہیں؟ جس کی زندگی کے حالات اور جس کی تعلیمات مستند ترین صورت میں آج کے انسان کو سب سے زیادہ اور سب سے وافر اور سب سے روشن صورت دستیاب ہیں؟ جس کا انسانی زندگی پر کسی بھی انسان سے بڑھ کر اثر انداز ہونا تاریخ کا ایک واضح معلوم محسوس واقعہ ہے؟؟؟

کسی مستشرق نے کیا سچ کہا ہے کہ: محمد (ﷺ) ہی ایک وہ نبی ہے جو تاریخ کے نصف النہار میں پیدا ہوا اور سورج کی روشنی میں دیکھا گیا، پچھلے نبیوں کے تو حالات ہی مستند طور پر آج دستیاب نہیں۔

شام کے ایک مصنف نے حال ہی میں مغرب کے کچھ اہم اہم نومسلم مفکروں کے قبول اسلام کے تجربات و محسوسات ایک کتاب میں قلم بند کئے ہیں جس کا عنوان بہت خوبصورت رکھا ہے:

ربحتُ محمداً (ﷺ) ولم اخسر المسیح

یعنی”میں نے محمد ﷺ کو پایا، مگر مسیح کو بھی نہ کھویا

==================> جاری ہے ۔۔۔

*ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ*

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں