تدبر سورہ الرحمٰن ۔۔۔ از استاد نعمان علی خان ۔۔۔ حصہ 25

 


تدبر سورۃ الرحمن

از استاد نعمان علی خان

پارٹ 25 آیت(46-47)


 وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّـتَانِ 

 اور اس کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے دو باغ ہوں گے.  

 اگر کوئی ڈرتا ہے اللہ سے، تو اس کے لیے دو باغ ہیں. اس سے پہلے اس سورۃ میں اللہ کا شکر ادا کرنے پہ زور دیا گیا تھا. اس آیت میں اللہ سے ڈرنے پر انعام کا ذکر ہے. اس میں اور پچھلی آیات میں کیا فرق ہے؟ پہلی چیز جو ایک اچھے انسان کو اللہ کا معبود بننے پر ابھار سکتی ہے وہ ہے اللہ کا فضل و کرم. لیکن ایک ضدی نافرمان شخص کو اللہ کی طرف خوف لے کر جاتا ہے. 

 یہ نیکی کی طرف اکسانے والی آیات ہیں ، آیات البر، اللہ تعالٰی نے ہمیں ہمارے اعمال کے نتائج بتا دیے ہیں. اولین وجہ جو اللہ کی بندگان اختیار کرنے کے لیے ہونی چاہیے وہ ہے اللہ کا فضل و کرم. اللہ اسی قابل ہے کہ اس کی عبادت کی جائے. نیک اعمال کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہونی چاہیے کہ آپ اللہ کے شکر گزار بندے ہیں. ہر کوئی اس مقام پہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر کسی پہ اللہ کا یہ احسان ہے. 

 اللہ تعالٰی کہتے ہیں کہ اللہ کی بندگی اختیار کرنے کی  اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جیسے کہ روزِ قیامت. جو دو اور  بڑی وجوہات ہیں اللہ کی بندگی اختیار کرنے کے لیے وہ ہیں جنت کی خواہش، اور جہنم کا خوف. یہ دونوں اللہ تعالٰی کی طرف جانے کے لیے انسان کو ابھارتی ہیں. اس سورۃ کا آغاز اللہ تعالٰی نے ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کیا تھا. آپ کو اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنی چاہیے اور یہ کافی ہے آپ کے لیے. بعد میں جب مجرموں کا ذکر کیا گیا تو بہتر یہی ہے کہ آپ اللہ سے ڈریں.  اللہ تعالٰی جانتے ہیں کہ اس دنیا میں مختلف قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں. 

 دو جنتوں کا وعدہ کیوں کیا گیا؟ عام خیال یہی ہے کہ ایک انسانوں کے لیے اور ایک جنت ان جنات کے لیے جنہوں نے اللہ کی خاطر اپنی خواہشات کو دبا ڈالا. دوسرے علماء کا خیال ہے کہ شاید دو جنتوں کا ذکر اس لیے کیا گیا کیونکہ دو چیزیں انسان کو کامیاب کراتی ہیں. اللہ کا شکر اور اللہ کا خوف. کچھ لوگ نیک کام کرتے ہیں اور کچھ لوگ برائی سے دور رہتے ہیں. کچھ لوگ نیک اعمال میں مصروف رہتے ہیں، اللہ کی عبادت کرتے ہیں لیکن برے کاموں سے دور نہیں رہ پاتے.  جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ ہیں جو زیادہ برے کام نہیں کرتے لیکن نیک اعمال کرنے میں سستی برتتے ہیں. 

 اگر آپ واقعی اللہ تعالٰی سے ڈرتے ہیں تو آپ کو دو چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے، نیک اعمال میں خود کو مصروف رکھیں اور برے کاموں سے خود کو دور رکھیں. کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے نیک اعمال ان کے برے کاموں کو ڈھانپ لیں گے لیکن یہ ان کی خام خیالی ہے. آپ کو محنت کرنی  لازمی ہے. آپ کو مجرم نہیں بننا اور آپ کو ایک اچھا انسان بننا لازم ہے.( خود کو ان کاموں میں مصروف کرنا جن کا اللہ نے حکم دیا ہے. )

 فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ 

پھر( اے گرہ جن و انس ) تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے.

 اس آیت میں کن لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے؟ پچھلی کچھ آیات جہنمیوں کے متعلق تھیں. لیکن یہ آیت مختلف ہے. وہ انسان جو جنت میں داخل ہو گیا اس نے دین کو شاید ترجیح دی ہو لیکن جنت میں داخل ہونے کے بعد اسے یہی لگے گا کہ اس نے اللہ کی عبادت کا حق ٹھیک سے نہیں ادا کیا. اللہ کے دین کی خدمت، نیک اعمال، توبہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہمارے لیے مواقع تھے. جتنا کچھ انہیں جنت میں ملے گا وہ اس قدر ہی اس پر اللہ کا اتنا زیادہ شکر ادا کریں گے اس کے لیے بھی جو کچھ انہیں دنیا میں ملا. انہیں جنت میں کیا چیز لے گئی؟ ان کا دین، ان کے اساتذہ، وہ مسلمان جنہوں نے اس راہ میں ان کی مدد کی، جو ان کے لیے اللہ کا تحفہ تھے.

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں