حقیقی خاندانی منصوبہ بندی کیجیے - پیغام قرآن و حدیث

اتوار، 30 ستمبر، 2018

حقیقی خاندانی منصوبہ بندی کیجیے

Image result for muslim family
حقیقی خاندانی منصوبہ بندی
تحریر: یوسف ثانی (مدیر پیغام قرآن و حدیث)


ہم لوگ ہر قسم کی منصوبہ بندی کرتے ہیں لیکن اگر نہیں کرتے توحقیقی خاندانی منصوبہ بندی نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی ہیں توخاندانی منصوبہ بندی کے نام پر ایک ایسی غلط العام منصوبہ بندی کرتے ہیں جسے عرفِ عام میں"چھوٹا خاندان، زندگی آسان" کہتے ہیں۔ "خاندانی منصوبہ بندی" کا مطلب اگر "چھوٹا خاندان" لیا جائے تو مستقبل کی منصوبہ بندی (فیوچر پلاننگ)، وقت کی منصوبہ بندی (ٹائم مینجمنٹ)، تعلیمی منصوبہ بندی (ایجو کیشن پلاننگ) وغیرہ کا بھلاکیا مطلب ہوگا؟



ایک نئے خاندان کا آغازایک نئی شادی سے ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں حقیقی خاندانی منصوبہ بندی کا آغاز بھی شادی ہی سے کرنا ہوگا۔ شادی میں بنیادی طور پر دو فریق یعنی لڑکا اور لڑکی جب کہ سماجی طور پردو خاندان شریک ہوتے ہیں، جو ایک نئے خاندان کو جنم دینے کا سبب بنتے ہیں۔ شادی ایک سماجی ضرورت ہونے کے علاوہ ہر بالغ مرد و زن کی دوسری بنیادی ضرورت بھی ہے۔ انسان کی پہلی بنیادی ضرورت غذا ہے۔ باقی دیگر مادّی ضروریات کی حیثیت یا توثانوی ہے یا پھر انہی دونوں بنیادی ضرورتوں کا ضمیمہ۔ ایک بالغ انسان یہ دونوں بنیادی ضرور یات پوری ہونے تک غیر مطمئن ہی رہتا ہے اور ایک غیر مطمئن انسان نہ تو خود اپنا بھلا کرسکتا ہے اور نہ ہی اپنے خاندان یا معاشرہ کے لیے کوئی مفید کردار ادا کرسکتا ہے۔اسلام انسان کی ان دونوں ضرورتوں کا نہ صرف یہ کہ احترام کرتا ہے بلکہ انہیں پورا کرنے کا فطری راستہ بھی دکھاتا ہے۔ابتدائی ذمہ داری والدین کی ہے کہ وہ اپنے اپنے بچوں کو حلال اور اس قدر وافر خوراک کی فراہمی کو یقینی بنائیں کہ جب ان کا بچہ گھر سے باہر نکلے تو دوسروں کو کھاتا پیتا دیکھ کر اس کا جی نہ للچائے اور نہ ہی آس پاس موجود کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھ کر پہلے بھوک کے ہاتھوں مجبوراَ اور بعد ازاں عادتاَ چوری چکاری کی جانب مائل ہوجائے۔ اسی طرح بالغ ہوتے ہی بچے کی دوسری بنیادی ضرورت کی ایسی منصوبہ بندی کی جائے کہ لڑکا ہو یا لڑکی ، اخلاقی بے راہ روی کی طرف مائل ہی نہ ہو سکیں۔


ایک چینی کہاوت ہے کہ تجربہ ایک ایسی کنگھی ہے، جو انسان کو اس وقت ملتی ہے جب وہ گنجا ہوچکا ہوتا ہے۔ شادی بیاہ ہی کے معاملہ کو لے لیجیے۔ والدین جب تک شادی کے نشیب و فراز سے بخوبی آگاہ یعنی تجربہ کار ہوتے ہیں، وہ ذاتی طور پر شادی سے بے نیاز ہوچکے ہوتے ہیں۔ عقلمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ تجربہ کی اس کنگھی کو ضائع کرنے کی بجائے اپنے بچوں کی زندگی کے زلفِ پریشاں کو سنوارنے میں استعمال کریں۔ واضح رہے کہ بچے شادی وغیرہ کے معاملات میں ذاتی طور پر کوئی تجربہ نہیں رکھتے اور اُن کی جملہ معلومات دیکھنے، سننے اور پڑھنے کی حد تک محدود ہوتی ہیں، جو تجربہ کا کبھی بھی نعم البدل نہیں ہوسکتیں۔ بچے اگر والدین کی انگلی پکڑ کر شاہراہِ حیات پر چلنے کا آغاز کریں تو اس دشوار گزار راستے کے نشیب و فراز کی ٹھوکروں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔بچوں کونئی نئی خود مختاری ملتے ہی انہیں والدین کی ضرورت سے بے نیاز ہونے کا احساس دلانے والی معاشرہ کی منفی قوتیں اپنا کام شروع کر دیتی ہیں۔ لہٰذا آپ کو یہ منصوبہ بندی کرنی چاہیے کہ آپ کا بچہ جونہی بالغ ہو جائے، اس کی دوسری بنیادی ضرورت احسن طریقہ سے پوری کر دی جائے اور وہ آپ کے زیر سایہ شاہراہِ حیات پر چلنے کی کچھ مشق بھی کرلے تاکہ وہ خودمختار زندگی کے خطرات و حادثات سے محفوظ رہنا سیکھ لے۔

میٹرک کرتے کرتے آپ کے بچے کی عمرسولہ سال کے لگ بھگ ہو چکی ہوتی ہے، جسے 'سویٹ سکس ٹین' بھی کہتے ہیں۔ امنگیں نئی نئی جوان ہوتی ہیں۔ آگے کا منظر صاف نظر آنے لگتا ہے کہ بچے نے کیا کرنا ہے، کیا پڑھنا ہے اور کہاں تک پڑھنا ہے؟ اگر بچے کا محض سادہ گریجویشن کا ارادہ ہو تو لڑکی کی صورت میں انٹر میں ہی رشتے کی تلاش شروع کردیں اور زیادہ سے زیادہ گریجویشن کے فورا بعد لازماً شادی کردیں۔ البتہ شادی کی راہ میں کوئی حقیقی رکاوٹ موجود ہو تو ماسٹرز تک کی تعلیم کو جاری رکھا جاسکتا ہے۔ ویسے تعلیم کو شادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ جب دیگر سارے امورِ اندگی دورانِ تعلیم سر انجام دئے جاسکتے ہیں تو شادی کیوں نہیں؟ شادی کے بعد اعلیٰ تعلیم کی راہ میں کوئی حقیقی رکاوٹ نہیں ہوتی بلکہ اس طرح ایک نوجوان زیادہ سکون کے ساتھ تعلیمی مدارج طے کرتا ہے۔ تعلیم کی تکمیل اورحصولِ روزگار میں خود کفالت کے بعد شادی کا فلسفہ غیر اسلامی معاشرہ سے درآمد کردہ ہے، جہاں انسان کی دوسری بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے حصار نکاح لازمی نہیں ہے۔ مسلم معاشرہ کو اس فلسفہ پر عمل درآمد کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ آج کل کے حساب سے لڑکی کی شادی زیادہ سے زیادہ 18 سال کی عمر میں اور لڑکے کی شادی زیادہ سے زیادہ 20 سال کی عمر میں کردینی چاہیے، خواہ اس کی تعلیم اپنے آخری مراحل میں ہی کیوں نہ ہو۔ اس عمر میں شادی کے بہت سے سماجی فوائد ہیں۔ اس عمر میں لڑکا مالی طور پر اپنے والدین کے زیر کفالت ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ شادی کے جملہ مراحل میں فطری طور پراپنے والدین کی مرضی کا پابندہوگا۔ ایسی صورت میں والدین کوچونکہ ایک سے زائد بچوں کی شادیاں اپنی ہی آمدنی سے کرنی ہوں گی لہٰذا وہ ہر شادی کو سادگی سے سر انجام دیں گے۔ یہی اسلام کا تقاضہ بھی ہے۔


حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ نکاح بہت بابرکت ہے جس کا خرچ کم سے کم ہو (بیہقی)۔بیس سال کی عمر میں شادی کرنے کی صورت میں شادی کے چار پانچ سال تک بیٹے اور اس کے بیوی بچوں کے نان نفقہ کی ذمہ داری بھی والدین پر ہوگی۔یوں نوجوان جوڑا یہ عرصہ اپنے والدین کے زیر سایہ، ان ہی کی کفالت میں، بے فکری سے شادی کو انجوئے کرتے ہوئے تعلیم کو مکمل کرے گا اور حصول روزگار کی جانب قدم بڑھائے گا۔سادہ گریجویشن 20 سال میں اور پیشہ ورانہ تعلیم بائیس، تئیس سال تک مکمل ہوجاتی ہے۔ سادہ گریجویٹ عام طور سے 5 سال کے اندر اندر اور پروفیشنل گریجویٹ تین سال کے اندر اندر ملازمت یا کاروبار کے ذریعہ معاشی طور پر خودکفیل ہوجاتا ہے۔ معاشی خودکفالت کے حصول کے ایک دو سال کے اندر اندر اس کا پہلا بچہ بھی پانچ چھ سال کا ہوکر اسکول جانے کے قابل ہوجاتا ہے۔ یوں پانچ سال تک اپنے والدین کی سرپرستی ، ہدایات اور نگرانی میں ازدواجی زندگی کی خوشیاں گزارتے ہوئے وہ ایک درست راہ پر گامزن ہوچکا ہوتا ہے۔ 25 سال کی عمر میں وہ ایک فیملی کا ذمہ دار شخص بن چکا ہوگا اور اس کا بڑا بچہ اپنی رسمی تعلیم کا آغازکر چکا ہو گا اور جب وہ خود 40 سال کا کڑیل جوان اور اپنے پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے عروج پر ہوگا، اس کی اولاد 20 برس کی ہوچکی ہوگی۔ آپ اس شخص کا تصور کریں جو ابھی صرف 40 سال کا ہے، اس کی ملازمت میں بشرط زندگی ابھی کم از کم 20 سال باقی ہیں،اس کی پہلوٹھی کی اولاد سادہ گریجویشن کرچکی ہے یا پیشہ ورانہ گریجویشن کے آخری مراحل میں ہے۔ ایسے میں اس کے لیے کیا مشکل ہوگی کہ اپنی اولاد کی شادی باری باری کرنا شروع کردے اور بیٹے کی شادی کی صورت میں اس کے بیوی بچوں کا مالی بار بھی اگلے پانچ سال تک اٹھاتا رہے؟ ابھی یہ شخص ریٹائرمنٹ کی رسمی عمر ساٹھ سال کو پہنچا بھی نہ ہوگا کہ اس کے سارے بچے شادی کرکے اپنا اپنا گھر بار الگ سنبھال چکے ہوں گے اور اس کے پوتوں اور نواسوں کی شادی بھی سر پر آن کھڑی ہوگی۔ اور ایسا شخص مالی اعتبار سے ابھی بھی اپنے بچوں میں سے کسی کا محتاج بھی نہ ہوگا۔ریٹائر منٹ سے قبل تک وہ اپنے چند ایک نواسوں،نواسیوں، پوتوں اور پوتیوں کی شادی بھی اپنی نگرانی میں کروانے کا اہل ہوگا۔ ضرورت پڑنے پر وہ اپنے نسبتاً غریب اولاد کی مالی مدد کا بھی اہل ہوگا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اسے کچھ نہ کچھ جمع پونجی بھی ملے گی۔ تھوڑا بہت وہ اپنے اور اپنی بیوی کے لیے بھی رکھ سکتا ہے۔ یعنی ساٹھ سال کی عمر میں عضو معطل بننے سے قبل تک اپنی تیسری نسل کی شادیوں میں بھی فعال کردار ادا کرنے کے قابل ہوگا اور یوں تین نسلیں ایک دوسرے سے جڑی رہیں گی۔ جب خاندانی نظام اس قدرمضبوط اور جڑا ہوا ہوگا تو سماجی برائیاں از خود کم سے کم ہوتی چلی جائیں گی۔ جن بستیوں کے مکین خاندانی ہوتے ہیں اور نسل در نسل ایک دوسرے سے جڑے اور مضبوط ہوتے ہیں، ان بستیوں میں جملہ اقسام کے جرائم کی شرح خاصی حد تک کم پائی جاتی ہے۔


ذرا سوچیے کہ اٹھارہ اور بیس سال کی عمر میں بچوں کی شادیاں کرتے رہنے کے فوائد خاندان سے معاشرے کو کس طرح منتقل ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ "حقیقی خاندانی منصوبہ بندی"ہے، جسے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔سورة روم آیت۔ 21 میں ارشاد ربانی ہے:اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:نکاح میری سنت ہے۔ (ابن ماجہ) تم میں سے جوبیوی کے حقوق ادا کرنے کی طاقت رکھے تو نکاح کر لے کیوں کہ یہ نظر کو جھکاتا اور شرمگاہ کو محفوظ رکھتا ہے۔( ابو داؤد) جب بندہ شادی کرتا ہے تو اس کا آدھا دین مکمل ہو جاتا ہے اور شادی کرنے کے بعد بہت سے گناہوں سے بچ جاتا ہے۔ فقہا کا کہنا ہے کہ غلبہ شہوت کی وجہ سے زنا میں مبتلا ہوجانے کا خوف ہو تو نکاح فرض ہوجاتا ہے۔ البتہ غلبہ شہوت اس قدر نہ ہو اور بیوی کی کفالت کر سکتا ہو تویہ سنت ہے۔ اسی طرح بیوی کے لیے اخراجات نہ ہونے کے سبب بیوی پر ظلم کا اندیشہ ہو تو مکروہ ہے۔ اور اگر کوئی نا مکمل مرد بیوی کے حقوق زوجیت ادا کرنے کے قابل نہ ہو تو اسے نکاح کرنا جائز نہیں۔ (بیہقی )


حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ نکلے۔ ہم جوان تھے لیکن نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جوانو! تمہارے لیے نکاح بہت ضروری ہے۔ کیونکہ یہ آنکھوں کو نیچا رکھتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شادی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے اس لیے کہ روزوں سے شہوت ختم ہو جاتی ہے۔ (ترمذی)۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون کو ترک نکاح کی اجازت نہیں دی ورنہ ہم خصی ہو جاتے۔دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح سے بہتر کچھ نہیں یعنی جب کوئی لڑکا لڑکی محبت کرتے ہوں تو ان کے والدین کو ان کا نکاح کر دینا چاہیے۔ (ابن ماجہ) مومن اللہ سے ڈرنے کے بعد جو اپنے لیے بہتر تلاش کرتا ہے وہ نیک بیوی ہے۔(ابن ماجہ) جب تمہیں ایسا شخص تمہاری بہن بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام دے جس کا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو تو اس سے نکاح کر دو اگر ایسا نہ کرو گے تو زمیں میں بہت بڑا فساد پیدا ہو گا۔ (ترمذی ) عورتوں سے ان کے حسن کی وجہ سے شادی نہ کرو ہو سکتا ہے ان کا حسن تمہیں برباد کر دے، نہ ان سے ان کے مال کی وجہ سے شادی کرو ہوسکتا ہے اس کا مال تمہیں گناہوں میں مبتلا کر دے بلکہ عورت سے اس کی دین داری کی وجہ سے شادی کرو (ابن ماجہ)۔دنیا کے سامان میں نیک بیوی سے زیادہ کوئی اچھی چیز نہیں ( ابن ماجہ)۔ کوئی اپنے بھائی کے پیغام ِنکاح پر پیغام نہ بھیجے۔ ( ترمذی) اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیاں انصاف اور عدل نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اس کے بدن کا آدھا حصہ مفلوج ہوگا(ترمذی)۔ کنواری لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر اور بیوہ کا نکاح اس کی منشا کے بغیر نہ کیا جائے۔ (بخاری ) جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے اگر وہ اسے دیکھنا چاہے تو دیکھ لے۔ (ابو داؤد ) کوئی عورت اپنا نکاح خود نہ کرے بلکہ نکاح میں والدین کی مرضی بھی شامل کرے۔ (ابن ماجہ) ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا (ترمذی )۔ عورت کو چاہیے مردِ دین دار ،خوش خلق ،کفالت کے قابل مالدار سخی سے نکاح کرے۔ فاسق بدکار سے نکاح نہ کرے اور نہ کسی بوڑھے سے نکاح کرے (ردالمختار)۔


نوجوانی میں جلد شادی سے آبادی میں اضا فہ اور رزق کی کمی جیسے سوالات اچھے خاصے پڑھے لکھے اور دین دار گھرانوں میں بھی سوچ و فکر کا باعث بنتا ہے۔ حالانکہ قرآن و حدیث کی تعلیمات تو یہ ہے کہ اس دنیا میں آنے والے تمام انسانوں کو ہر حال میں آنا ہی ہے۔ کسی بھی قسم کی مروجہ منصوبہ بندی تمام انسانی روحوں کو اس دنیا میں آنے سے نہیں روک سکتی کیونکہ وہ عالمِ ارواح میں پہلے سے موجود ہیں۔"اور اے نبیﷺ! لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پُشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا "کیا میں تمہارارب نہیں ہوں؟" انہوں نے کہا "ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں"۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ "ہم تو اس بات سے بے خبر تھے" (الاعراف۔ 172)۔


ایک زمانہ تھا جب کسی بستی یا قبیلہ میں زیادہ بچوں والا گھرانہ زیادہ طاقتور اور زیادہ خوشحال تصور کیا جاتا تھا کہ ہر آنے والا کھانے کے لیے ایک منہ کے ساتھ حصول ِرزق کے لیے دو ہاتھ بھی لے کر پیداہوتا ہے۔ مگر جب سے نام نہادجدید تہذیب و تعلیم نے"کم بچے خوشحال گھرانا" کے گمراہ کن نعرہ کو فروغ دینا شروع کیا ہے، تب سے اس تعلیم سے بہرہ ور صاحب حیثیت اور مالدار مگرخود غرض انسانوں نے اپنے اپنے گھروں میں بچوں کی آمد کو روکنا شروع کردیا اور یوں سوسائٹی میں آبادی کا تناسب"غیر متوازن" ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان کی غرض سے حاصل شدہ "خود مختاری" کے اس غلط استعمال کے نتیجہ میں صاحب حیثیت اور مالدار گھرانوں اور معاشروں میں بچوں کی تعداد کم اور غریب و کم پڑھے لکھے لوگوں کے گھروں، بستیوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہونے لگی ہے۔ اس عمل کے ارتقاءکے نتیجہ میں زیادہ مالی وسائل والے ملکوں میں آبادی کم سے کم اور غریب ملکوں میں آبادی کا دباوؤ زیادہ ہونا شروع ہوگیا۔ اس بات کو اس مثال سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر کسی ریلوے پلیٹ فارم پر موجود چند ہزار مسافر وں نے ایک ہی ٹرین پر سوار ہو کر ایک ہی منزل پر جانا ہے اور ٹرین کے آنے پر طاقتور اور صاحب حیثیت لوگ اپنی جسمانی، مالی اور اقتدارکے طاقت کے بل بوتے پر ٹرین کے ڈبوں میں داخل ہوکر ٹرین کے کھڑکی دروازے بند کرنا شروع کردیں تاکہ ان کے ڈبے میں زیادہ لوگ سوارنہ ہوں اور وہ آرام و آسائش کے ساتھ اپنا سفر کر سکیں تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کے نچلے درجوں، غیر بکنگ والی بوگیوں کے اندربلکہ چھتوں پر بھی مسافروں کا رش خطرناک حد تک بڑھ جائے گا۔ لیکن اگر تمام ڈبے مسافروں کی آمد کے لیے یکساں طور پر کھلے رہیں تو تمام مسافر ایک توازن کے ساتھ ہر ڈبے میں سما جائیں گے۔ اسی طرح اگردنیا میں بچوں کی پیدائش کے قدرتی نظام کو مصنوعی طریقوں سے غیر متوازن نہ کیا جائے بلکہ زیادہ وسائل والے انسان زیادہ سے زیادہ بچوں کی پرورش پر آمادہ ہوجائیں تو غریب گھر انوں اور ملکوں میں آبادی کا دباو¿ خود بخودکم ہوجائے گا۔ اسلام ویسے بھی یہ تلقین کرتا ہے کہ زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت سے شادی کی جائے تاکہ دنیا میں بھی امت مسلمہ کی تعداد میں اضافہ ہو اور آخرت میں بھی۔


جہاں تک رزق کی کمی بیشی کا تعلق ہے تو کیا ہمیں یہ معلوم نہیں کہ مال و دولت کی حقیقت چند روزہ سامانِ زندگی سے زیادہ کچھ نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے:لوگوں کے لیے مرغوبات نفس-عورتیں، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر،گھوڑے، مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوش آئند بنا دی گئی ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں۔اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے (آلِ عمران۔14)۔ ہمیں اس بات سے بھی آگاہ ر ہنا چاہیے کہ ہمیں مفلسی سے ڈرانے والا اصل میں کون ہے؟: شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرزِ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی اُمید دلاتاہے۔ (البقرة۔ 8 26) چنانچہ نہ تو ہمیں افلاس کے ڈر سے شاد ی میں تاخیر کرنی چاہیے نہ ہی شادی کے بعد کم سے کم بچوں والی "خاندانی منصوبہ بندی" کو اپنانا چاہیے کہ ہمیں بھی اور انہیں بھی رزق دینے والا اللہ ہی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ بے شک ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے ( بنی اسرائیل۔31) اپنے بچوں کے رازق ہم نہیں بلکہ ہمارا رب ہے:زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسانہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔ (سورة ہود۔ 6) اسی طرح شادی کی راہ میں غربت یا مال کی کمی کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے کیونکہ خود اللہ اس بات کی ضمانت د ے رہا ہے کہ اگر غریب اللہ پر بھر وسہ کرتے ہوئے نکاح کرے تو اللہ اسے غنی کر دیتا ہے:تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کردو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے۔(النور۔32)


ایک مومن کو تو ویسے ہی اپنے رزق کے بارے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی پیدائش سے قبل ہی اس کے رزق اور عمر کا تعین ہوچکا ہوتا ہے:سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں تمام کی جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتو ں کے لکھنے کاحکم دیا جاتا ہے۔ اس کاعمل، اس کا رزق، اس کی عمر اور اس کی خوش بختی یا بدبختی۔ ( بخاری)۔ہمارا یہ بھی ایمان ہونا چاہیے کہ ہم اپنا رزق پورا کیے بغیر مر نہیں سکتے: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی متنفس اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنا رزق پورا نہ کرلے۔ ( بیہقی) اللہ نے رزق کے بارے میں قرآن میں بار بار مختلف انداز میں یاد دہانی کروائی ہے جیسے:کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ ان کو رزق دیتا ہے۔ اور تمہارا رازق بھی وہی ہے،وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔(العنکبوت۔ 60 )۔ اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں رزق دیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا۔ (الروم۔ 40) . اور کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے؟ اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ (سورة الزُمر۔52)

کوئی تبصرے نہیں: