پیغامِ حدیث ۔ 5 : ضمیمہ - پیغام قرآن و حدیث

بدھ، 21 مارچ، 2012

پیغامِ حدیث ۔ 5 : ضمیمہ


۱۔اعمال کا دارومدار نیت پر ہے

خلیفۂ راشد سیدنا عمر بن خطابؓ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت دولتِ دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض سے ہو، پس اُس کی ہجرت انہی چیزوں کے لیے شمار ہو گی جن کو حاصل کرنے کے لیے اُس نے ہجرت کی ہے۔

۲۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کس طرح آتی تھی؟

اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام کے پوچھنے پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبھی تو میرے پاس گھنٹی کی آواز کی طرح کی آواز آتی ہے،جو مجھ پر زیادہ دشوار ہے۔ جب فرشتے کی کہی بات کو اخذ کر چکتا ہوں تو یہ حالت مجھ سے دور ہو جاتی ہے۔کبھی فرشتہ میرے سامنے آدمی کی صورت میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے تو جو کچھ وہ کہتا ہے اس کو میں حفظ کر لیتا ہوں۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے سخت سردی والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتے ہوئے دیکھی۔جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا تھا۔


ضمیمہ پیغامِ حدیث


ضمیمہ۔۱: کتب: الایمان،الرقاق، الاخلاق


۱۔ جنت سے قریب اور دوزخ سے دور رہنے کا نسخہ

حضرت ابو ایوبؓ راوی ہیں کہ ایک سفر میں ایک بدوی رسول اﷲﷺ کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اُس نے آپ کے ناقہ کی مُہار پکڑ لی اور آپ کا نام لے کر کہا اے محمد!(ﷺ ) مجھے وہ بات بتاؤ جو جنت سے مجھے قریب اور آتش دوزخ سے دور کر دے ؟ آپﷺ جواب دینے کے لئے رُک گئے اور اپنے رفقاء کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کو اچھی توفیق ملی۔ پھر بدوی کو جواب دیتے ہوئے فرمایا ’’عبادت اور بندگی کرتے رہو صرف اﷲ کی اور کسی چیز کو اُس کے ساتھ کسی طرح بھی شریک نہ کرو۔ اور نماز قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ اور صلۂ رحمی کرو۔ ( مسلم)

۲۔ اچھے کام سے خوشی ایمان کی نشانی ہے

حضرت ابُو امامہ سے روایت ہے کہ کسی نے رسول اﷲﷺ سے پوچھاکہ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جب تم کو اپنے اچھے عمل سے مسرت ہو اور بُرے کام سے رنج و قلق ہو تو تم مومن ہو۔ (مسند احمد)

۳۔ایمان کی حلاوت کے لیے تین باتیں

حضرت انسؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جس شخص میں یہ تین باتیں پائی جائیں گی، ایمان کی حلاوت اُسی کو نصیب ہو گی۔ ایک یہ کہ اﷲا ور رسول کی محبت اُس کو تمام ماسو اسے زیادہ ہو۔ دوسرے یہ کہ جس آدمی سے بھی اُس کو محبت ہو صرف اﷲ ہی کے لئے ہو۔ تیسرے یہ کہ ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹنے سے اُس کو اتنی نفرت اور ایسی اذیت ہو جیسی کہ آگ میں ڈالے جانے سے ہوتی ہے۔ (مسلم)

۴۔اچھے کام سے خوشی ایمان کی نشانی ہے

حضرت معاذ بن جبلؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ سے افضل ایمان کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ’’ بس اﷲ ہی کے لیے کسی سے تمہاری محبت ہو، اور اﷲ ہی کے واسطے بغض و عداوت ہو۔ دوسرے یہ کہ اپنی زبان کو تم اﷲ کی یاد میں لگائے رکھو۔ اور یہ کہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی وہی پسند کرو، جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ اور ان کے لیے بھی اُن چیزوں کو ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔‘‘ (مسند احمد)

۵۔مسلم اور مومن کی پہچان

حضرت ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ہے کہ:’’مسلم وہ ہے جس کی زبان درازیوں اور دست درازیوں سے مسلمان محفوظ رہیں۔ اور مومن وہ ہے جس کی طرف سے اپنی جان و مال کے بارے میں لوگوں کو کوئی خوف و خطرہ نہ ہو‘‘۔ (ترمذی، نسائی)

۶۔بُرائی کو روکنے کے تین مدارج

حضرت ابو سعید خدریؓ مروی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جو کوئی تم میں سے کوئی بُری اور خلاف شرع بات دیکھے تو اگر طاقت رکھتا ہو تو لازم ہے کہ اپنے ہاتھ سے اس کو بدلنے کی کوشش کرے۔ اگر طاقت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنی زبان سے اس کو بدلنے کی کوشش کرے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل ہی میں اسے بُرا جانے مگر یہ ایمان کا ضعیف ترین درجہ ہے۔ (مسلم)

۷۔مسلمان بزدل و بخیل ہو سکتا ہے، جھوٹا نہیں

حضرت صفوان بن سلیمؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ سے عرض کیا گیا کہ کیا مسلمان بزدل ہو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا، ہاں ! پھر عرض کیا گیا کہ کیا مسلمان بخیل ہو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا:’’ہاں ! پھر عرض کیا گیا : کیا مسلمان کذاب یعنی بہت جھوٹا ہو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں !(رواہ مالک و بیہقی )

۸۔جہاد کی عدم تمنا، نفاق کی علامت ہے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ نہ تو اُس نے کبھی جہاد کیا اور نہ اپنے جی میں اُس کی تجویزیں سوچیں اور تمنا کی تو وہ نفاق کی ایک صفت میں مرا۔ ( مسلم)

۹۔بُرے خیالات اور وسوسے معاف ہیں

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:اﷲ تعالیٰ نے میری اُمت سے دل کے برے خیالات اور وسوسوں کو معاف کر دیا ہے۔اُن پر کوئی مواخذہ نہ ہو گا جب تک اُن پر عمل نہ ہو اور زبان سے نہ کہا جائے۔ ( مسلم)

۱۰۔بُرے خیالات کو بُرا جاننا ایمان کی علامت

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے دریافت کیا کہ ہمارا حال یہ ہے کہ بعض اوقات ہم اپنے دلوں میں ایسے بُرے خیالات اور وسوسے پاتے ہیں کہ اُن کو زبان سے کہنا بھی بہت بُرا اور بہت بھاری معلوم ہوتا ہے۔ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا واقعی تمہاری یہ حالت ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں ! یہی حال ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: یہ تو خالص ایمان ہے۔ ( مسلم)

۱۱۔تقدیر پر ایمان نہ رکھنے والا جہنمی ہے

ابن دیلمی کہتے ہیں کہ میں صحابی رسول ابی بن کعبؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور تقدیر کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: سنو! تقدیر پر ایمان لانا اس قدر ضروری ہے کہ اگر تم اُحد پہاڑ کے برابر سونا راہِ خدا میں خرچ کر دو تو اﷲ کے یہاں وہ قبول نہ ہو گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ۔ اور تمہارا پختہ اعتقاد یہ نہ ہو کہ جو کچھ تمہیں پیش آتا ہے تم کسی طرح اُس سے چھوٹ نہیں سکتے تھے۔ اور جو حالات تم پر پیش نہیں آتے وہ تم پر آہی نہیں سکتے تھے۔ اور اگر تم اس کے خلاف اعتقاد رکھتے ہوئے مر گئے تو یقیناً تم دوزخ میں جاؤ گے۔ ابن دیلمی کہتے ہیں کہ ابن بن کعبؓ سے یہ سننے کے بعد میں عبداﷲ بن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے بھی مجھ سے یہی فرمایا۔ اس کے بعد میں حذیفہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے بھی مجھ سے یہی فرمایا۔ پھر میں زید بن ثابتؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے بھی یہی بات رسول اﷲﷺ کی حدیث کے طور پر مجھ سے بیان فرمائی۔ (مسند احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ)

۱۲۔قضا و قدر پر حجت و بحث ہلاکت ہے

ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ ایک دفعہ ہم لوگ قضا و قدر کے مسئلہ میں بحث کر رہے تھے کہ نبیﷺ تشریف لے آئے۔ہمیں یہ بحث کرتے دیکھ کر آپﷺ بہت غضبناک ہوئے یہاں تک کہ چہرۂ مبارک سُرخ ہو گیا۔ پھر آپ نے ہم سے فرمایا: خبردار! تم سے پہلی اُمتیں اُسی وقت ہلاک ہوئیں جب اُنہوں نے اس مسئلہ میں حجت و بحث کو اپنا طریقہ بنا لیا۔ میں تم کو قسم دیتا ہوں اور تم پر لازم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں ہرگز حجت اور بحث نہ کرنا۔ (ترمذی)

۱۳۔ مخلوقات کی تقدیر تخلیق سے قبل لکھ دی گئی ہے

عبداﷲ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسو ل اﷲﷺ نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار برس پہلے تمام مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی ہیں۔ اور فرمایا کہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ ( مسلم)

۱۴۔قبر میں مردہ سے تین سوال کئے جا ئیں گے

حضرت براء بن عازبؓ رسول اﷲﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ (اﷲ کا مو من بندہ جب قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے تو) اس کے پاس اﷲ کے دو فرشتے آ کراس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اﷲ ہے۔ پھر پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے۔ پھر پوچھتے ہیں کہ یہ آدمی جو تمہارے اندر نبی کی حیثیت سے کھڑا کیا گیا تھا (یعنی حضرت محمدﷺ ) ان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ وہ کہتا ہے وہ اﷲ کے سچے رسول ہیں۔ وہ فرشتے کہتے ہیں کہ تمہیں یہ بات کس نے بتلائی ؟ وہ کہتا ہے کہ میں نے اﷲ کی کتاب پڑھی تو میں ایمان لایا اور میں نے ان کی تصدیق کی۔رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں کہ مومن بندہ کا یہی جواب ہے جس کے متعلق قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:اﷲ تعالیٰ ایمان والوں کو سچی پکی بات کی برکت سے ثابت رکھے گا، دنیا میں اور آخرت میں۔یعنی وہ گمراہی سے، اور اس کے نتیجہ میں آنے والے عذاب سے محفوظ رکھے جائیں گے۔(مسند احمد، ابوداؤد)

۱۵۔نیک مردہ قبر سے جنت کا نظارہ کرتا ہے

اس کے بعد رسول اﷲﷺ نے فرمایا:پھر ایک ندا دینے والا آسمان سے ندا دیتا ہے کہ میرے بندے نے ٹھیک بات کہی۔ اور صحیح صحیح جوابات دیئے۔ لہٰذا اس کے لئے جنت کا فرش کرو اور جنت کا اس کو لباس پہناؤ۔ اور جنت کی طرف اس کے لئے ایک دروازہ کھول دو۔ چنانچہ وہ دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اس سے جنت کی خوشگوار ہوائیں اور خوشبوئیں آتی ہیں۔ اور جنت میں اس کے لئے منتہائے نظرتک کشادگی کر دی جاتی ہے۔(مسند احمد، ابوداؤد)

۱۶۔قبر میں کافر مُردہ پر عذاب کا احوال

اس کے بعدآپﷺ نے ایمان نہ لانے والے کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے۔ اور اس کے پاس بھی دو فرشتے آ کر اس کو بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے :’’ہائے ہائے میں کچھ نہیں جانتا‘‘ پھر فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ دین تیرا کیا تھا؟ وہ کہتا ہے کہ ’’ہائے ہائے میں کچھ نہیں جانتا‘‘۔ پھر فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ یہ آدمی جو تمہارے اندر بحیثیت نبی کے مبعوث ہوا تھا، تمہارا اس کے بارے میں کیا خیال تھا؟ وہ پھر بھی یہی کہتا ہے :’’ہائے ہائے میں کچھ نہیں جانتا‘‘۔ پس اﷲ تعالیٰ کی طرف سے منادی ہو گی کہ دوزخ کا اس کو لباس پہناؤ اور اس کے لئے دوزخ کا ایک دروازہ کھول دو۔رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں کہ :’’دوزخ کی گرمی اور جلانے جھلسانے والی ہوائیں اس کے پاس آتی رہیں گی اور اس کی قبر اس پر نہایت تنگ کر دی جائے گی۔ جس کی وجہ سے اس کی پسلیاں اِدھر سے اُدھر ہو جائیں گی۔ پھر اس پر عذاب کا ایک ایسا فرشتہ اس پر مسلط کیا جائے گاجس کے پاس لوہے کی ایسی مونگری ہو گی کہ اگر اُس کی ضرب کسی پہاڑ پر لگائی جائے تو وہ بھی مٹی کا ڈھیر ہو جائے۔ وہ فرشتہ اس مونگری سے اس پر ایک ضرب لگائے گا جس سے وہ اس طرح چیخے گا جس کو جن وانس کے علاوہ وہ سب چیزیں سنیں گی جو مشرق اور مغرب کے درمیان ہیں۔ (مسند احمد، ابوداؤد)

۱۷۔قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل

حضرت عثمانؓ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو بہت روتے یہاں تک کہ آنسو وں سے ان کی ڈاڑھی تر ہو جاتی۔ان سے پوچھا گیا کہ آپ جنت و دوزخ کو یاد کرتے ہیں تو نہیں روتے اور قبر کی وجہ سے اِس قدر روتے ہیں ؟ آپ نے جواب دیا کہ رسول اﷲﷺ فرماتے تھے کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔ پس اگر بندہ اس سے نجات پا گیا تو آگے کی منزلیں اس سے زیادہ آسان ہیں اور اگر قبر کی منزل سے بندہ نجات نہ پاسکا تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے اور زیادہ سخت اور کٹھن ہیں۔ رسُول اﷲﷺ یہ بھی فرماتے تھے کہ میں نے قبر کے منظر سے زیادہ خوفناک اور شدید کوئی منظر نہیں دیکھا ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

۱۸۔قبر پر میّت کی مغفرت کی دعا کرنا

حضرت عثمانؓ سے روایت ہے کہ رسُول اﷲﷺ کا طریقہ تھا کہ جب میّت کے دفن سے فارغ ہو جاتے تو قبر کے پاس کھڑے ہوتے اور فرماتے : اپنے اِس بھائی کے لئے اﷲ تعالیٰ سے مغفرت کی دُعا کرو۔ اور یہ بھی استدعا کرو کہ اﷲ تعالیٰ اس کو سَوالوں کے جواب میں ثابت قدم رکھے۔ کیونکہ اس وقت اس سے پوچھ گچھ ہو گی۔ (ابوداؤد)

۱۹۔رسول اللہﷺ کا عذابِ قبر کو سننا

حضرت زید بن ثابت انصاری راوی ہیں کہ ایک دفعہ رسول اﷲﷺ اپنی خچری پر سوار قبیلۂ بنی نجار کے ایک باغ میں سے گزر رہے تھے۔ اچانک آپ کی خچری راستے سے ہٹی اور اس طرح ٹیڑھی ہوئی کہ قریب تھا کہ آپ کو گرا دے۔قریب ہی پانچ چھ قبریں دیکھ کر رسول اﷲﷺ نے پوچھا کہ یہ لوگ کس زمانے میں مرے تھے ؟ اس شخص نے عرض کیا: زمانۂ شرک میں۔ آپﷺ نے فرمایا: یہ لوگ اپنی قبروں میں عذاب میں مبتلا ہیں۔ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ تم مردوں کو دفن نہ کر سکو گے تو میں اﷲ سے دعا کرتا کہ قبر کے عذاب میں جتنا کچھ میں سن رہا ہوں وہ اس میں سے کچھ تم کو بھی سُنا دے۔ (مسلم)

۲۰۔ظاہری و باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگنا

… یہ فرمانے کے بعد آپﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: دوزخ کے عذاب سے اﷲ سے پناہ مانگو۔ سب کی زبان سے نکلا: ہم دوزخ کے عذاب سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: قبر کے عذاب سے اﷲ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: سب فتنوں سے اﷲ کی پناہ مانگو۔ ظاہری فتنوں سے بھی، اور باطنی فتنوں سے بھی۔ سب نے کہا: ہم سب ظاہری و باطنی فتنوں سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ : دجال کے فتنے سے اﷲ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا:’’ہم دجالی فتنہ سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں ‘‘۔ (مسلم)

۲۱۔عیسیٰؑ دجال کا خاتمہ کریں گے

حضرت عبداﷲ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: قیامت سے پہلے دجال کا خروج ہو گا۔ پھر اﷲ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو اس دنیا میں بھیجیں گے۔وہ دجال کو تلاش کریں گے اور اس کا خاتمہ کر دیں گے۔ دجال کا خاتمہ کر دینے کے بعدوہ سات سال تک اس دنیا کے لوگوں اور ان کے ساتھ رہیں گے۔ اور ان کی برکت سے لوگوں میں ایسا اتحاد و اتفاق ہو جائے گا کہ دو آدمی بھی ایسے نہیں رہیں گے جن میں باہم عداوت اور دشمنی ہو۔ (مسلم)

۲۲۔صاحبِ ایمان لوگوں کا خاتمہ

… پھر اﷲ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک خاص قسم کی ٹھنڈی ہوا چلائے گا جس کا اثر یہ ہو گا کہ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی نیکی ہویا ذرہ برابر بھی ایمان ہو۔یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی پہاڑ کے اندر چلا جائے گا تو یہ ہوا وہیں پہنچ کر اس کا خاتمہ کر دے گی۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اس کے بعد صرف خراب آدمی ہی دنیا میں رہ جائیں گے۔ ان میں پرندوں والی تیزی اور پھرتی، اور درندوں والا ذہن جمع ہو گا۔ نیکی اور بھلائی سے وہ مانوس نہ ہوں گے اور برائی کو وہ برائی نہ سمجھیں گے۔پس شیطان ایک شکل بنا کر ان کے سامنے آئے گا اور انہیں بتوں کی پرستش کا حکم دے گا۔ اور وہ اس حال میں ہوں گے کہ رزق کی افراط اور بارش ہو گی اور دنیوی زندگی بظاہر بڑی اچھی ہو گی۔ پھر صور پھونکا جائے گا۔ سب سے پہلے جو شخص صور کی آواز سنے گا وہ اپنے اونٹ کے حوض کو مٹی سے درست کر رہا ہو گا۔ پس وہ بے ہوش اور بے جان ہو کر گر جائے گا اور دوسرے سب لوگ بھی اسی طرح بے جان ہو کر گر جائیں گے۔ (مسلم)

۲۳۔ حشر کا دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا

…، پھر اﷲ تعالیٰ شبنم جیسی بارش بھیجے گاجس کے اثر سے انسانوں کے جسموں میں روئیدگی آ جائے گی۔ پھر دوسری مرتبہ صور پھُونکا جائے گا تو ایک دم سب کے سب کھڑے ہو جائیں گے۔پھر فرشتوں کو حکم ہو گا کہ انہیں حساب کے میدان میں کھڑا کرو۔ ان کے اعمال کا حساب کتاب ہو گا پھر حکم ہو گا کہ ان میں سے دوزخ کی فوج نکالو۔ عرض کیا جائے گا کہ کتنے میں سے کتنے ؟ حکم ہو گا کہ ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ رسول اﷲﷺ فرماتے ہیں کہ یہ وہ دن ہو گا جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔(مسلم)

۲۴۔ حَسْبُنَا اﷲُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ کہتے رہا کرو

ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ میں خوش اور بے غم ہو کر کیسے رہ سکتا ہوں جب صورتحال یہ ہو کہ صور والا فرشتہ صور کو اپنے منہ میں لئے ہوئے ہے اور وہ انتظار کر رہا ہے کہ کب اس کو صُور کے پھونک دینے کا حکم ہو، اور وہ پھونک دے۔صحابہؓ نے عرض کیا:’’یا رسول اﷲ! تو ہمیں آپ کا کیا حکم ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا : کہتے رہا کرو ’’حَسْبُنَا اﷲُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ‘‘۔ (ترمذی)

۲۵۔قیامت کے دن اللہ کو دیکھنا ممکن ہو گا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ بعض صحابہؓ نے عرض کیا:’’یا رسول اﷲ !کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھ سکیں گے ؟‘‘ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔تم جس طرح چاند اور سورج کو بلا کسی کشمکش اور بغیر کسی اختلاف اور نزاع کے دیکھتے ہو اسی طرح قیامت میں اپنے پروردگار کو دیکھو گے۔‘‘ (مسلم)

۲۶۔ منافقین کے اعضاء اعمال کی گواہی دیں گے

…اس کے بعد رسول اﷲﷺ نے فرمایا: کہ قیامت کے دن بعد اﷲ تعالیٰ ایک بندہ سے ملے گا۔یہ بندہ عرض کرے گا کہ اے پروردگار میں تجھ پر ایمان لایا۔ اور تیری کتاب پر، اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا۔ اور میں نے نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور صدقہ بھی ادا کیا۔ پھر اسکے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء کو حکم دیا جائے گا کہ بول! تو اس کے اعضاء اور اس کا گوشت، اور اس کی ہڈیاں اُس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ اﷲ تعالیٰ یہ اس لیے کرے گا کہ اس کا عذر باقی نہ رہے۔ یہ منافق ہو گا اور اﷲ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا۔ (مسلم)

۲۷۔حشر کے تین جگہ کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ انہیں ایک دفعہ دوزخ کا خیال آیا تو وہ رونے لگیں۔ رسول اﷲﷺ نے پوچھا، تمہیں کس چیز نے رُلایا؟ عرض کیا کہ مجھے دوزخ یاد آئی اور اسی کے خوف نے مجھے رُلایا ہے۔ کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد رکھیں گے ؟ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: ’’تین جگہ تو کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا۔ایک وزنِ اعمال کے وقت، جب تک کہ یہ نہ معلوم ہو جائے کہ اس کے اعمال کا وزن ہلکا ہے یا بھاری۔ دوسرے اعمالناموں کے ملنے کے وقت یہاں تک کہ معلوم ہو جائے کہ کس ہاتھ میں دیا جاتا ہے اس کا اعمال نامہ۔ آیا داہنے ہاتھ میں یا پیچھے کی جانب سے بائیں ہاتھ میں۔ اور تیسرے پُل صراط پر جبکہ وہ رکھا جائے گا جہنم کے اوپر اور سب کو اس پر سے گزرنے کا حکم دیا جائے گا۔ (ابو داؤد)

۲۸۔اے اللہ میرا حساب آسان فرما

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے بعض نمازوں میں رسول اﷲﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سُنا: اَللّٰھُمَّ حَا سِبْنِیْ حِسَاباً یَّسِیْراً (اے اﷲ! میرا حساب آسان فرما)میں نے عرض کیا ’’حضرت! آسان حساب کا کیا مطلب ہے ؟‘‘ آپ نے فرمایا:’’ آسان حساب یہ ہے کہ بندہ کے اعمال نامہ پر نظر ڈالی جائے اور اس سے درگذر کی جائے۔بات یہ ہے کہ جس کے حساب میں اس دن جرح کی جائے گی، اے عائشہؓ ! وہ ہلاک ہو جائے گا۔ (مسند احمد)

۲۹۔کوثر کا پانی دودھ سے سفید مشک سے خوشبودار

عبداﷲ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: میرے حوض کی مسافت ایک مہینہ کی ہے۔ اور اسکے زاویے بالکل برابر ہیں۔اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے۔ اس کی خوشبو مشک سے بھی بہتر ہے۔ اور اس کے کوزے آسمان کے تاروں کی طرح ہیں۔ جو اس کا پانی پئے گا وہ کبھی پیاس میں مبتلا نہیں ہو گا۔ (مسلم)

۳۰۔حوضِ کوثر پر پہلے فقراء و مہاجرین آئیں گے

حضرت ثوبانؓ رسول اﷲﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ میرے حوض کی مسافت اتنی ہے جتنی کہ عَدَنْ سے عَمّانِ بَلْقَاء تک۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے۔ اس کے گلاس گنتی میں آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں۔ جو اس میں سے ایک دفعہ پی لے گا، اسے بعد میں کبھی پیاس کی تکلیف نہیں ہو گی۔ اس حوض پر سب لوگوں سے پہلے میرے پاس پہنچنے والے فقراء مہاجرین ہوں گے۔ پریشان و پراگندہ سروں والے، میلے کچیلے کپڑوں والے، جن کا نکاح خوش حال و خوش عیش عورتوں سے نہیں ہو سکتا اور جن کے لیے دروازے نہیں کھولے جاتے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ)

۳۱۔آخرت میں ہر نبی کا ایک حوض ہو گا

حضرت سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ آخرت میں ہر نبی کا ایک حوض ہو گا۔ اور ان کے درمیان اس پر فخر ہو گا کہ ان میں سے کس کے پاس پینے والے زیادہ آتے ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ سب سے زیادہ لوگ پینے کے لیے میرے پاس آئیں گے۔ (ترمذی)

۳۲۔حشر میں نبیؐ صراط، میزان اور کوثر پرہوں گے ؟

خادم رسولﷺ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضورﷺ سے عرض کیا کہ قیامت کے روز آپ میری سفارش فرمائیے گا! آپ نے فرمایا کہ میں تمہارا یہ کام کروں گا۔ میں نے عرض کیا تو میں آپ کو کہاں تلاش کروں ؟ آپﷺ نے فرمایا سب سے پہلے جب تمہیں میری تلاش ہو تو پلِ صراط پر مجھے دیکھنا۔ میں نے عرض کیا اگر میں آپ کو پل صراط پر نہ پاسکوں تو پھر کہاں تلاش کروں ؟ آپﷺ نے فرمایا تو پھر مجھے میزان کے پاس تلاش کرنا! میں نے عرض کیا اور اگر میں میزان کے پاس بھی آپ کو نہ پاسکوں تو پھر کہاں تلاش کروں ؟ آپ نے فرمایا پھر مجھے حوضِ کوثر کے پاس دیکھنا! کیونکہ میں اس وقت ان تین مقامات سے دور کہیں نہیں جاؤں گا۔ (ترمذی)

۳۳۔جنت میں بول و براز کی حاجت نہ ہو گی

حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جنتی جنت میں کھائیں گے بھی اور پئیں گے بھی لیکن نہ تو انہیں تھوک آئے گا اور نہ پیشاب پاخانہ ہو گا۔ اور نہ ان کی ناک سے ریزش آئے گی۔ ان اہل جنت کی زبانوں پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اﷲ کی حمدو تسبیح اس طرح جاری ہو گی جس طرح تمہارا سانس جاری رہتا ہے۔‘‘ (مسلم)

۳۴۔جنت میں کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا

حضرت ابو سعیدؓ اور ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ایک پکارنے والا جنت میں جنتیوں کو مخاطب کر کے پکارے گا کہ یہاں تمہارے لئے زندگی اور حیات ہی ہے۔ اس لیے اب تمہیں موت کبھی نہ آئے گی اور تمہارے واسطے جوانی اور شباب ہی ہے۔ اس لیے اب کبھی تمہیں بڑھاپا نہیں آئے گا اور تمہارے واسطے یہاں چین اور عیش ہی ہے۔ اس لیے اب کبھی تمہیں کوئی تنگی اور تکلیف نہ ہو گی۔ (مسلم)

۳۵۔جنت سونے چاندی اور زعفران سے بنی ہے

حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ سے عرض کیا کہ مخلوق کس چیز سے پیدا کی گئی؟ آپؐ نے فرمایا پانی سے۔ پھر ہم نے عرض کیا کہ جنت کس چیز سے بنی؟ آپﷺ نے فرمایا: اس کی تعمیر اس طرح ہے کہ ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی اور اس کا مسالہ تیز خوشبودار مشک ہے۔ وہاں کے سنگریزے جو بچھے ہوئے ہیں وہ موتی اور یاقوت ہیں۔ وہاں کی خاک گویا زعفران ہے۔ جو لوگ اس جنت میں پہنچیں گے ہمیشہ عیش اور چین سے رہیں گے۔ کوئی تنگی یا تکلیف ان کو نہ ہو گی۔وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے کہ وہاں ان کو موت نہیں آئے گی۔ کبھی ان کے کپڑے پرانے اور خستہ نہ ہوں گے اور نہ ہی ان کی جوانی کبھی زائل ہو گی۔(مسند احمد و ترمذی )

۳۶۔جہنم: اونٹ و خچر سائز کے سانپ اور بچھو

عبداﷲ بن الحارث سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے بیان فرمایا: جہنم میں سانپ ہیں، جو اپنی جسامت میں بختی اونٹوں کے برابر ہیں اور وہ اس قدر زہریلے ہیں کہ ان میں کا کوئی سانپ جس دوزخی کو ایک دفعہ ڈسے گا تو چالیس سال کی مدت وہ اس کے زہر کا اثر پائے گا۔ اسی طرح دوزخ میں بچھو ہیں جو خچروں کی مانند ہیں۔ ان میں سے کوئی کسی دوزخی کو ایک دفعہ ڈنک مارے گا تو چالیس سال تک وہ اس کے زہر کی تکلیف پائے گا۔ (مسند احمد)

۳۷۔حدیث کو دوسروں تک پہنچانے کا اجر

رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: اﷲ تعالیٰ اپنے اُس بندہ کو شاد و شاداب رکھے جو میری بات سُنے پھر اُسے یاد کر لے اور محفوظ رکھے اور دوسروں تک اُسے پہنچائے۔ پس بہت سے لوگ فقہ کے حامل ہوتے ہیں مگر خود فقیہ نہیں ہوتے اور بہت سے علمِ دین کے حامل اُس کو ایسے بندوں تک پہنچا دیتے ہیں جو اُن سے زیادہ فقیہ ہوں۔ (ترمذی و سنن ابی داؤد)

۳۸۔آسمان میں ہر جگہ فرشتے سر بہ سجود ہیں

حضرت ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: میں علمِ غیب کی وہ چیزیں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ آوازیں سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان چر چرا رہا ہے اور حق ہے کہ وہ چرچرائے۔ قسم ہے اُس ربِّ ذّوالجلال کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ آسمان میں چار انگل جگہ بھی نہیں ہے جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ اﷲ کے حضور میں اپنا ما تھا رکھے سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر تم وہ باتیں جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔ بستروں پر بیویوں سے بھی لطف اندوز نہ ہو سکتے اور اﷲ سے نالۂ فریاد اور گریۂ و زاری کرتے ہوئے بیابانوں اور جنگلوں کی طرف نکل جاتے۔ اس حدیث کو نقل کر کے ابوذرؓ فرماتے ہیں کہ کاش! میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

۳۹۔موت کی یاد غفلت سے بچاتی ہے

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ ایک دن نماز کے لئے گھر سے مسجد تشریف لائے تو آپ نے لوگوں کو اس حال میں دیکھا کہ کھِل کھلا کر ہنس رہے ہیں۔رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم لوگ لذتوں کو توڑ دینے والی موت کو زیادہ یاد کرو تو وہ تمہیں اس غفلت میں مبتلا نہ ہونے دے۔ حقیقت یہ ہے کہ قبر ہر روز پکارتی ہے کہ میں مسافرت اور تنہائی کا گھر ہوں۔ میں مٹی اور کیڑوں کا گھر ہوں۔(ترمذی)

۴۰۔ قبر مومن کو خوش آمدید کہتی ہے

جب وہ بندہ زمین کے سپرد کیا جاتا ہے جو حقیقی مومن و مسلم ہو تو زمین کہتی ہے مرحبا! خوب آئے اور اپنے ہی گھر آئے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جتنے لوگ میرے اوپر چلتے تھے ان میں سب سے زیادہ محبوب اور چہیتے مجھے تم ہی تھے۔ پھر وہ زمین اُس بندۂ مومن کے لئے حد نگاہ تک وسیع ہو جاتی ہے اور اُس کے واسطے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ (ترمذی)

۴۱۔قبر جنت کا باغیچہ ہے یا دوزخ کا خندق

…جب کوئی سخت بدکار قسم کا آدمی یا ایمان نہ لانے والا آدمی زمین کے سپرد کیا جاتا ہے تو زمین اُس سے کہتی ہے کہ جتنے آدمی میرے اوپر چلتے پھرتے تھے تو مجھے ان سب سے زیادہ نا پسندیدہ تھا اور آج جب تو میرے حوالہ کر دیا گیا ہے اور میرے قبضے میں آ گیا ہے تو ابھی تو دیکھے گا کہ میں تیرے ساتھ کیا کرتی ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ زمین ہر طرف سے اُس کو بھینچتی اور دباتی ہے یہاں تک کہ اس دباؤ سے اس کی پسلیاں ادھر اُدھر ہو جاتی ہیں۔پھر اس پر ستر اژدھے مسلط کر دیئے جاتے ہیں جن میں سے ایک اگر زمین میں پھنکار مارے تو رہتی دنیا تک وہ زمین کوئی سبزہ نہ اگاسکے۔ پھر یہ اژدھے اسے برابر کاٹتے نوچتے رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت اور حشر کے بعد وہ حساب کے مقام تک پہنچا دیا جائے۔ حضورؐ نے یہ بھی فرمایا کہ قبر یا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا دوزخ کے خندقوں میں سے ایک خندق۔ (جامع ترمذی)

۴۲۔دور اندیش وہ ہے جو موت کو یاد کرے

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ راوی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اﷲﷺ سے دریافت کیا : اے اﷲ کے پیغمبر! بتلائیے کہ آدمیوں میں کون زیادہ ہوشیار اور دور اندیش ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا: وہ جو موت کو زیادہ یاد کرتا ہے اور موت کے لئے زیادہ سے زیادہ تیاری کرتا ہے۔جو لوگ ایسے ہیں وہی دانشمند اور ہوشیار ہیں۔ انہوں نے دنیا کی عزت بھی حاصل کی اور آخرت کا اعزاز و اکرام بھی۔ (طبرانی)

۴۳۔ نیکی کرنا اور عدم قبولیت سے ڈرتے رہنا

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲﷺ سے قرآن مجید کی آیت ’’وَالَّذِیْنَ یُوْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْ بُھُمْ وَجِلَۃ‘‘ کے بارے میں دریافت کیا کہ : کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: اے میرے صدّیق کی بیٹی! نہیں، بلکہ وہ اﷲ کے وہ خدا ترس بندے ہیں جو روزے رکھتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور اس کے باوجود وہ اس سے ڈرتے ہیں کہ کہیں اُن کی یہ عبادتیں قبول نہ کی جائیں۔ یہی لوگ بھلائیوں کی طرف تیزی سے دوڑتے ہیں۔ (ترمذی و ابن ماجہ)

۴۴۔اپنی عبادتوں کو ناکافی سمجھنا

عتبہ بن عبید سے رسول اﷲﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے موت کے دن تک برابر اﷲ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے سجدہ میں پڑا رہے تب بھی قیامت کے دن اپنے اس عمل کو وہ حقیر ہی سمجھے گا۔ (مسند احمد)

۴۵۔معمولی گناہوں سے بچنے کی فکر کرنا

حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے ان سے فرمایا: اے عائشہؓ ! اُن گناہوں سے بچنے کی خاص طور سے کوشش اور فکر کرو جن کو حقیر اور معمولی سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ان کی بھی بازپرس ہونے والی ہے۔ (سنن ابن ماجہ، بیہقی)

۴۶۔رحمتِ الٰہی کی اُمید اور عذاب کا خوف

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ ایک جوان کے پاس اُس کے آخری وقت میں تشریف لے گئے اور دریافت فرمایا کہ اس وقت تم اپنے کو کس حال میں پاتے ہو؟ اس نے عرض کیا کہ : یا رسول اﷲ (ﷺ ) ! میرا حال یہ ہے کہ میں اﷲ تعالیٰ سے رحمت کی امید بھی رکھتا ہوں اور اسی کے ساتھ مجھے اپنے گناہوں کی سزا اور عذاب کا ڈر بھی ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: یقین کرو جس دل میں امید اور خوف کی یہ دونوں کیفیتیں ایسے عالم میں (یعنی موت کے وقت میں ) جمع ہوں تو اﷲ تعالیٰ اس کو وہ ضرور عطا فرما دیں گے جس کی اس کو اﷲ کی رحمت سے امید ہے۔ اور اس عذاب سے اُس کو ضرور محفوظ رکھیں گے جس کا اس کے دل میں خوف و ڈر ہے۔ (جامع ترمذی)

۴۷۔اللہ کے خوف سے بہنے والا آنسو

حضرت عبداﷲ بن مسعود سے راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: اﷲ کے خوف اور ہیبت سے جس بندۂ مومن کی آنکھوں سے کچھ آنسو نکلیں اگرچہ وہ مقدار میں بہت کم مثلاً مکھی کے سر کے برابر ہی ہوں پھر وہ آنسو بہہ کر اس کے چہرہ پر پہنچ جائیں تو اﷲ تعالیٰ اس چہرہ کو آتش دوزخ کے لئے حرام کر دے گا۔ (سنن ابن ماجہ)

۴۸۔دنیا اور آخرت کا موازنہ

مستورد بنِ شدّاد راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ فرماتے تھے کہ دنیا کی مثال آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنی ایک انگلی دریا میں ڈال کر نکال لے اور پھر دیکھے کہ پانی کی کتنی مقدار اس میں لگ کر آئی ہے۔ (مسلم)

۴۹۔ دنیا کی وقعت ہوتی تو کافروں کو نہ ملتی

سہل بنِ سعد سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: اگر اﷲ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت مچھّر کے پَر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر منکر کو وہ ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔ (مسند احمد، ترمذی، سنن ابن ماجہ)

۵۰۔دنیا مومن کا قید خانہ، کافروں کی جنت

حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: دنیا مومن کا قید خانہ یہ اور کافر کی جنت ہے۔ (مسلم)

۵۱۔ دنیا و آخرت میں سے ایک کا نقصان لازمی ہے

حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جو شخص دنیا کو اپنا محبوب و مطلوب بنائے گا وہ اپنی آخرت کا ضرور نقصان کرے گا۔ اور جو کوئی آخرت کو محبوب بنائے گا وہ اپنی دنیا کا ضرور نقصان کرے گا۔ پس فنا ہو جانے والی دنیا کے مقابلہ میں باقی رہنے والی آخرت اختیار کرو۔ (مسند احمد،بیہقی)

۵۲۔دنیا پر خدا کی پھٹکار ہے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے رسول اﷲﷺ نے فرمایا: خبردار! دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اُس پر خدا کی پھٹکار ہے۔ اور اس کے لئے رحمت سے محرومی ہے سوائے خدا کی یاد کے اور اُس چیزوں کے جن کا خدا سے کوئی تعلق اور واسطہ ہے، سوائے عالم اور متعلّم کے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

۵۳۔دنیا دار گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا

حضرت انسؓ راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے ایک دن فرمایا: کیا کوئی ایسا ہے کہ پانی پر چلے اور اُس کے پاؤں نہ بھیگیں؟ عرض کیا گیا: حضرتؐ ! ایسا تو نہیں ہو سکتا۔ آپ نے فرمایا: اسی طرح دنیا دار گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۵۴۔اللہ محبوب بندہ کو دنیا سے پرہیز کراتا ہے

قتادہ بن نعمانؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جب اﷲ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو دنیا سے اُس کو اس طرح پرہیز کراتا ہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی اپنے مریض کو پانی سے پرہیز کراتا ہے۔ (جبکہ اُسکو پانی سے نقصان پہنچتا ہو)۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)

۵۵۔اُمت محمدیہ کی خاص آزمائش مال ہے

کعب بن عیاض راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرما یا: ہر اُمّت کے لئے کوئی خاص آزمائش ہوتی ہے اور میری امت کی خاص آزمائش مال ہے۔ (ترمذی)

۵۶۔حقیقت میں میرا مال کون سا ہے ؟

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ : بندہ کہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ اُس کے مال میں سے جو واقعی اُس کاہے وہ بس تین مدیں ہیں۔ایک وہ جو اُس نے کھا کے ختم کر دیا۔ دوسرے وہ جو پہن کر پُرانا کر ڈالا اور تیسرے وہ جو اُس نے راہِ خدا میں دے کر اپنی آخرت کے واسطے ذخیرہ کر لیا۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ دوسروں کے لئے اُس کو چھوڑ جانے والا ہے اور خود یہاں سے ایک دن رخصت ہو جانے والا ہے۔ (مسلم)

۵۷۔مرنے والے نے آگے کیا بھیجا؟

حضرت ابو ہریرہؓ رسول اﷲﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: جب مرنے والا مرتا ہے تو فرشتے کہتے پوچھتے ہیں کہ اس نے اپنے واسطے آگے کیا بھیجا اور عام انسان آپس میں کہتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس نے کتنا مال چھوڑا؟ (شعب الایمان للبیہقی)

۵۸۔بندۂ دینار خدا کی رحمت سے محروم ہو

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ بندۂ دینار خدا کی رحمت سے محروم ہو اور بندۂ درہم خدا کی رحمت سے دُور رہے۔ (ترمذی)

۵۹۔بھوک لگے تو عاجزی، پیٹ بھرے تو شکر

ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے بیان فرمایا: اﷲ تعالیٰ نے میرے سامنے یہ بات رکھی کہ میرے لئے وہ مکہ کی وادی کو سونا بنا دے اور سونے سے بھر دے تو میں نے عرض کیا کہ میرے پروردگار! میں اپنے لئے یہ نہیں مانگتا بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ایک دن پیٹ بھر کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ تا کہ جب مجھے بھوک لگے تو آپ کو یاد کروں۔ آپ کے سامنے عاجزی اور گریۂ و زاری کروں اور جب آپ کی طرف سے مجھے کھانا ملے اور میرا پیٹ بھرے تو میں آپ کی حمد اور آپ کا شکر کروں۔ (مسند احمد، ترمذی)

۶۰۔مال و منصب والوں کی مشکلات

حضرت اُم الدرداءؓ کہتی ہیں کہ جب میں نے ابو الدرداءؓ سے کہا کہ تم مال و منصب کیوں طلب نہیں کرتے جیسا کہ فلاں اور فلاں طلب کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبیﷺ کو کہتے سنا ہے کہ تمہارے آگے ایک بڑی دشوار گذار گھاٹی ہے۔ اُس کو گراں بار اور زیادہ بوجھ والے آسانی سے پار نہ کر سکیں گے۔ اس لیے میں یہی پسند کرتا ہوں کہ اُس گھاٹی کو عبور کرنے کے لئے ہلکا پھلکا رہوں۔( بیہقی)

۶۱:ناداری آخرت کے حساب کو ہلکا کرتی ہے

محمود لبیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: دو چیزیں ایسی ہیں جن کو آدمی ناپسند ہی کرتا ہے۔ ایک تو وہ موت کو پسند نہیں کرتا حالانکہ موت اس کے لئے فتنہ سے بہتر ہے۔ دوسرے وہ مال کی کمی اور ناداری کو نہیں پسند کرتا حالانکہ مال کی کمی آخرت کے حساب کو مختصر اور ہلکا کرنے والی ہے۔ (مسند احمد)

۶۲۔غریب عیال دار جو با عفت بھی ہو

عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: اﷲ تعالیٰ کو اپنا وہ مومن بندہ بہت پیارا اور محبوب ہے جو غریب اور عیال دار ہو اور اس کے باوجود با عفّت ہو۔ ( ابن ماجہ)

۶۳:اپنی حاجت کو لوگوں سے چھپانا افضل ہے

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جو شخص بھوکا ہو یا اُس کو کوئی اور خاص حاجت ہو اور وہ اپنی اس بھوک اور حاجت کو لوگوں سے چھپائے تو اﷲ عزّوجل کے ذمہ ہے کہ اس کو حلال طریقے سے ایک سال کا رزق عطا فرمائے۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۶۴۔دنیا سے بے رُخی اللہ محبت کرے گا

سہل بن سعدؓ راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اﷲﷺ ! مجھے ایسا کوئی عمل بتلائیے جس سے اﷲ بھی مجھ سے محبت کرے اور اﷲ کے بندے بھی مجھ سے محبت کریں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ دنیا کہ طرف سے اعراض اور بے رُخی اختیار کر لو تو اﷲ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا اور جو مال و دولت لوگوں کے پاس ہے اس سے اعراض اور بے رُخی اختیار کر لو تو لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ (ترمذی و ابن ماجہ)

۶۵۔زُہد کا اصل معیار اور تقاضہ کیا ہے ؟

حضرت ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ دنیا کے بارے میں زہد اور اس کی طرف سے بے رغبتی حلال کو اپنے اوپر حرام کرنے اور اپنے مال کو برباد کرنے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ زہد کا اصل معیار اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس اور تمہارے ہاتھ میں ہو اس سے زیادہ اعتماد اور بھروسہ تم کو اس پر ہو جو اﷲ کے پا س اور اﷲ کے قبضہ میں ہے۔ جب تم کو کوئی تکلیف اور ناخوش گواری پیش آئے تو اس کے اُخروی ثواب کی چاہت اور رغبت تمہارے دل میں زیادہ ہو بہ نسبت اس خواہش کے کہ وہ تکلیف اور ناگواری کی بات تم کو پیش ہی نہ آتی۔ (ترمذی و ابن ماجہ)

۶۶۔متقی کے لیے مالداری میں کوئی حرج نہیں

رسول اﷲﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ ہم چند آدمی ایک مجلس میں بیٹھے تھے۔ آنحضرتﷺ بھی وہیں ہمارے پاس تشریف لے آئے تو ہم میں سے کسی نے عرض کیا: یا رسول اﷲﷺ ! ہم محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت حضور کا مزاج بہت اچھا اور دل بہت خوش ہے ؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں !پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اﷲ تعالیٰ سے ڈرے اُس کے لئے مالداری میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور صحت مندی صاحب تقویٰ کے لئے دولت مندی سے بھی بہتر ہے اور خوش دلی بھی اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہے۔ (مسند احمد)

۶۷۔غیر معروف متقی دولت مند

حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ محبت کرتا ہے اُس متقی دولت مند بندہ سے جو تقویٰ اور دو لت مندی کے باوجود نا معروف اور چھپا ہوا ہو۔ (مسلم)

۶۸۔حلال دولت کا جائز اور ناجائز مقصد

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو شخص دنیا کی دولت حلال طریقے سے اس مقصد سے حاصل کرنا چاہے تاکہ اُس کو دوسروں سے سوال کرنا نہ پڑے اور اپنے اہل و عیال کے لئے روزی اور آرام و آسائش کا سامان مہیا کر سکے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بھی وہ احسان اور سلوک کر سکے تو قیامت کے دن وہ اﷲ کے حضور میں اس شان کے ساتھ حاضر ہو گا کہ اُس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن اور چمکتا ہو گا۔ اور جو شخص دنیا کی دولت حلال ہی ذریعہ سے اس مقصد سے حاصل کرنا چاہے کہ وہ بہت بڑا مالدار ہو جائے اور اس دولت مندی کی وجہ سے وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنی شان اونچی دکھاسکے اور لوگوں کی نظروں میں بڑا بن سکے تو قیامت کے دن وہ اﷲ کے حضور اس حال میں حاضر ہو گا کہ اﷲ تعالیٰ اس پر سخت غضبناک ہو گا۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۶۹۔صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا

ابو کبشہ انماریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں پس تم اس کو یاد کر لو!ایک تو یہ ہے کہ کسی بندہ کا مال صدقہ کی وجہ سے کم نہیں ہوتا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی بندہ پر ظلم ہو اور وہ مظلوم بندہ صبر کرے تو اﷲ تعالیٰ اس ظلم کے بدلہ اُس کی عزت بڑھا دیتا ہے۔ اور تیسری بات یہ کہ اگر کوئی بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اﷲ اُس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے،(ترمذی)

۷۰۔ مالدار کا اللہ سے ڈرتے ہوئے مال خرچ کرنا

…اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا: دنیا میں چار قسم کے آدمی ہیں۔ایک وہ جن کو اﷲ نے مال دیا ہے اور صحیح طریقِ زندگی کا علم بھی ان کو دیا ہے۔ پس وہ اس مال کے استعمال میں اﷲ سے ڈرتے ہیں اور اس کے ذریعہ صلۂ رحمی کرتے ہیں۔ایسے بندے سب سے اعلیٰ و افضل مرتبہ پر فائز ہیں۔ دوسری قسم کے بندے وہ ہیں جن کو اﷲ نے صحیح علم تو عطا فرمایا ہے لیکن اُن کو مال نہیں دیا۔مگر وہ اپنے دل و زبان سے کہتے ہیں کہ ہمیں مال مل جائے تو ہم بھی فلاں نیک بندے کی طرح اس کو کام میں لائیں۔ پس ان دونوں کا اجر برابر ہے۔تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو اﷲ نے مال تو دیا ہے مگر وہ نادانی کے ساتھ اور خدا سے بے خوف ہو کر اس مال کو اندھا دُھند غلط راہوں میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ لوگ سب سے بُرے مقام پر ہیں۔چوتھی قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو اﷲ نے مال بھی نہیں دیا اور صحیح علم بھی نہیں دیا۔ اُن کا حال یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں مال و دولت مل جائے تو ہم بھی فلاں شخص کی طرح اُسی کے طریقے پر خرچ کریں۔اسی نیت کی وجہ سے ان دونوں گروہوں کا گناہ برابر ہے۔(ترمذی)

۷۱۔ نافرمان بندوں کو نعمتیں ملنے کا سبب

عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جب تم دیکھو کہ اﷲ تعالیٰ کسی بندہ کو اُس کی نافرمانی کے باوجود دنیا کی نعمتیں دے رہا ہے جن کا وہ بندہ طالب ہے تو سمجھ لو کہ وہ اُس کے حق میں استدراج ہے۔ پھر آپ نے بطور شہادت قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْابِہ الایۃ‘‘ (ترجمہ ): جب انہوں نے بھلا دیا اُن باتوں کو جن کی اُن کو نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے کھول دیئے اُن پر دنیا کی سب نعمتوں کے دروازے۔ جب وہ ان نعمتوں کے ملنے پر خوب مست ہوئے اور اترائے تو ہم نے ایک دم ان کو اپنی سخت پکڑ میں لے لیا۔ پس وہ حیران و ششدر اور آئندہ کے لیے بالکل نا اُمید ہو کر رہ گئے (مسند احمد)

۷۲۔ کسی بدکار کی خوشحالی پر رشک نہ کرنا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: تم کسی بدکار پر کسی نعمت اور خوش حالی کی وجہ سے کبھی رشک نہ کرنا۔ تم کو نہیں معلوم کہ مرنے کے بعد اُس پر کیا کیا مصیبتیں پڑنے والی ہیں۔ اﷲ کے یہاں اُس کے لئے ایک ایسا قاتل ہے جس کو کبھی موت نہیں۔ اس حدیث کو حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کرنے والے راوی عبداﷲ بن ابی مریم کہتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کا مطلب اس قاتل سے دوزخ کی آگ ہے۔ (شرح السنۃ)

۷۳۔ دینی ودنیوی معاملات میں بر تر و کمتر کو دیکھنا

عمرو بن شعیب اپنے والد شعیب سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے دادا عبداﷲ بن عمرو بن العاص سے راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جس شخص میں دو خصلتیں ہوں گی، اﷲ تعالیٰ اس کو شاکرین اور صابرین میں لکھیں گے۔پہلی عادت یہ ہو کہ وہ دین کے معاملے میں تو اﷲ کے اُن بندوں پر نظر رکھے جو دین میں اُس سے فائق اور بالاتر ہوں اور وہ اُن کی پیروی اختیار کرے۔ اور دنیا کے معاملے میں اُن غریب و مسکین اور خستہ حال بندوں پر نظر رکھے جو دنیوی حیثیت سے اُس سے کمتر ہوں اور اِس پر اﷲ کا شکر ادا کرے کہ اُس نے محض اپنے فضل و کرم سے اِن بندوں سے زیادہ دنیا کی نعمتیں اس کو دے رکھی ہیں۔ (ترمذی)

۷۴۔ اچھے اعمال کے ساتھ طویل عمر

حضرت ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کی یا رسول اﷲﷺ ! آدمیوں میں بہتر کون ہے ؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ جس کی عمر لمبی ہوئی اور اُس کے اعمال اچھے رہے۔ پھر اُسی سائل نے عرض کیا کہ آدمیوں میں زیادہ بُرا کون ہے ؟ آ پ نے ارشاد فرمایا جس کی عمر لمبی ہوئی اور اعمال اُس کے بُرے رہے۔ (مسنداحمد)

۷۵۔ ہر بُرائی کے بدلہ نیکی کرو

حضرت ابو ذر غفاریؓ راوی ہیں کہ مجھ سے رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم جہاں اور جس حال میں ہو خدا سے ڈرتے رہو۔ ہر برائی کے پیچھے نیکی کرو تو وہ اس کو مٹا دے گی۔ اور اﷲ کے بندوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ (مسند احمد،ترمذی )

۷۶۔نبیﷺ کی تین مختصر ترین نصیحتیں

حضرت ابو ایوب انصاریؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے مختصر نصیحت فرمائیے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اُس شخص کی سی نماز پڑھو جو سب سے رخصت ہونے والا ہو۔ ایسی کوئی بات زبان سے نہ نکالو جس کی کل تم کو معذرت اور جواب دہی کرنی پڑے۔ دوسرے لوگوں کے پاس جو کچھ نظر آتا ہے اس سے خود کو قطعاً مایوس کر لو۔ (مسند احمد)

۷۷۔نجات اور ہلاک کرنے والی تین چیزیں

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا تین چیزیں ہیں جو نجات دلانے والی ہیں اور تین ہی چیزیں ہیں جو ہلاک کر دینے والی ہیں۔ نجات دلانے والی تین چیزیں یہ ہیں : ایک خدا کا خوف خلوت میں اور جلوت میں اور دوسرے حق بات کہنا خوشی میں اور غصہ میں اور تیسرے میانہ روی اختیار کرنا خوشحالی میں اور تنگدستی میں۔ہلاک کرنے والی تین چیزیں یہ ہیں : وہ خواہش نفس جس کی پیروی کی جائے۔وہ بخل جس کی اطاعت کی جائے اور آدمی کی خود پسندی کی عادت۔ اور یہ ان میں سب سے زیادہ سخت ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۷۸۔حسنِ اخلاق اور کھانے میں پرہیزگاری

حضرت عبداﷲ بن عمروؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار عادتیں ایسی ہیں کہ اگر وہ تم کو نصیب ہو جائیں تو پھر دنیا کے ہاتھ نہ آنے میں کوئی مضائقہ اور کوئی گھاٹا نہیں۔ امانت کی حفاظت، باتوں میں سچائی، حسن اخلاق اور کھانے میں احتیاط اور پرہیز گاری۔ (مسند احمد، بیہقی)

۷۹۔جوانی، تندرستی، خوشحالی اور فراغت

عمرو بن میمون اودی سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کرنے ہوئے ارشاد فرمایا :پانچ حالتوں کو دوسری پانچ حالتوں کے آنے سے پہلے غنیمت جانو۔جوانی کو بڑھاپا آنے سے پہلے، تندرستی کو بیمار ہونے سے پہلے،خوشحالی کو تنگدستی سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت آنے سے پہلے۔ (جامع ترمذی)

۸۰۔عمل کے لیے آنے والے دنوں کا انتظار کرنا

حضرت ابو ہریرہؓ مروی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا، تم عمل کے لیے انتظار کرتے ہو اُس خوشحالی اور دولت مندی کا جو آدمی کو سرکش کر دیتی ہے یا پھر انتظار کرتے ہو اُس ناداری اور محتاجی کا جو سب کچھ بھلا دیتی ہے۔ تم انتظار کرتے ہو حالت بگاڑ دینے والی بیماری کا یا پھر عقل و حواس کھو دینے والے بڑھاپے کا یا اچانک آنے اور فنا کر دینے والی موت کا۔ تم منتظر ہو دجال کے جو بدترین غائب ہے یا منتظر ہو قیامت کے اور قیامت بڑا سخت حادثہ اور بڑا کڑوا گھونٹ ہے۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی)

۸۱۔روزِ حشر کے پانچ لازمی سوالات

حضرت عبداﷲ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن کوئی آدمی اُس وقت تک آگے نہ جا سکے گا جب تک کہ اُس سے پانچ چیزوں کا سوال نہ کر لیا جائے۔ ایک یہ کہ زندگی کن کاموں میں ختم کی۔ دوسرا جوانی کی توانائی کوکن مشاغل میں خرچ کیا۔ تیسرا اور چوتھا یہ کہ مال و دولت کن طریقوں سے حاصل کیا اور کن کاموں میں صرف کیا۔ اور پانچواں سوال یہ ہو گا کہ جو کچھ معلوم تھا اُس پر کتنا عمل کیا؟ (جامع ترمذی)

۸۲۔قسمت کے لکھے پر مطمئن ہونا

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: کون ہے جو مجھ سے سیکھ لے یہ چند خاص باتیں پھر وہ خود ان پر عمل یا دوسرے عمل کرنے والوں کو بتائے ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اﷲﷺ ! میں حاضر ہوں تو آپ نے گن کر یہ پانچ باتیں بتائیں :(۱) جو چیزیں اﷲ نے حرام قرار دی ہیں اُن سے بچو اور پورا پورا پرہیز کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم بہت بڑے عبادت گذار ہو گے۔ (۲)اﷲ نے جو تمہاری قسمت میں لکھا ہے اُس پر راضی اور مطمئن ہو جاؤ۔اگر ایسا کرو گے تو تم بڑے بے نیاز اور دولت مند ہو جاؤ گے۔(۳) اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو تم مومن کامل ہو جاؤ گے۔(۴) جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی دوسرے لوگوں کے لیے پسند کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو پورے مسلمان ہو جاؤ گے۔ (۵) زیادہ مت ہنسا کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)

۸۳۔اللہ کے راستے میں کسی کی ملامت سے نہ ڈرنا

حضرت ابو ذر غاریؓ نے فرمایا کہ مجھے میرے محبوب دوست یعنی نبی کریمﷺ نے سات باتوں کا خاص طور سے حکم فرمایا ہے :(۱)مساکین اور غرباء سے محبت رکھنے اور اُن سے قریب رہنے کا۔(۲) دنیا میں اُن لوگوں پر نظر رکھوں جو مجھ سے نچلے درجہ کے ہیں اور اُن پر نظر نہ کروں جو مجھ سے اوپر کے درجہ کے ہیں۔ (۳)میں اپنے اہل قرابت کے ساتھ صلہ رحمی کروں، اور قرابتی رشتہ کو جوڑوں اگرچہ وہ میرے ساتھ ایسا نہ کریں۔ (۴) کسی آدمی سے کوئی چیز نہ مانگوں۔ (۵)میں ہر موقع پر حق بات کہوں خواہ وہ لوگوں کے لیے کڑوی ہی کیوں نہ ہو (۶) میں اﷲ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں۔(۷) میں کلمۂلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ کثرت سے پڑھا کروں کیونکہ یہ سب باتیں اُس خزانے سے ہیں جو عرش کے نیچے ہے۔(مسند احمد)

۸۴:اچھا اخلاق میزانِ عمل میں سب پر بھاری ہو گا

حضرت ابو الدرداءؓ راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن مومن کی میزانِ عمل میں سب سے زیادہ وزنی اور بھاری چیز جو رکھی جائے گی وہ اُس کے اچھے اخلاق ہوں گے۔ (ابو داؤد، ترمذی)

۸۵:اچھا اخلاق ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے

حضرت عائشہ صدیقہؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: صاحبِ ایمان بندہ اپنے اچھے اخلاق سے اُن لوگوں کا درجہ حاصل کر لیتا ہے جو رات بھر نفلی نمازیں پڑھتے ہوں اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھتے ہوں۔ (ابوداؤد)

۸۶:زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کریگا

حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رحم کرنے والوں اور ترس کھانے والوں پر بڑی رحمت والا اللہ رحم کرے گا۔ تم زمین پر رہنے والی مخلوق پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ (سنن ابی داؤد،ترمذی)

۸۷۔پرندوں کے ساتھ نبیﷺ کی شفقت

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کے صاحبزادے عبدالرحمٰن اپنے والد ماجدسے روایت کرتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم نبیﷺ کے ساتھ تھے کہ ہماری نظر ایک سرخ چڑیا پر پڑی جس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے اُس کے دو بچے بھی تھے۔ ہم نے اُن بچوں کو پکڑ لیا تو وہ چڑیا ہمارے سروں پر منڈلانے لگی۔ یہ دیکھ کر آپﷺ نے فرمایا: کس نے اس کے بچے پکڑ کے اسے ستایا ہے ؟ اس کے بچے اس کو واپس کر دو۔(سنن ابو داؤد)

۸۸۔کسی جاندار کو آگ کا عذاب نہ دینا

… پھر آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جہاں ہم نے آگ لگا دی تھی۔ آپ نے فرمایا: کس نے ان کو آگ سے جلایا ہے ؟ ہم نے عرض کیا: یا رسول اﷲﷺ !ہم نے ہی آگ لگائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: آگ کے پیدا کرنے والے خدا کے سوا کسی کے لئے یہ سزاوار نہیں ہے کہ وہ کسی جاندار کو آگ کا عذاب دے۔ (سنن ابو داؤد)

۸۹۔سخی آدمی عبادت گذار کنجوس سے بہتر ہے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا سخی بندہ اﷲ سے قریب اور اﷲ کے بندوں سے بھی قریب ہے۔ایسا شخص جنت سے قریب اور دوزخ سے دور ہے۔ اس کے برعکس کنجوس آدمی اﷲ سے دور اور اﷲ کے بندوں سے بھی دور ہے۔ایسا شخص جنت سے دور اور دوزخ سے قریب ہے۔ بلاشبہ ایک سخی آدمی اﷲ تعالیٰ کو عبادت گذار کنجوس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ (جامع ترمذی)

۹۰۔حرص و بخل اور ایمان ایک دل میں نہیں سماسکتے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: حرص و بخل اور ا یمان کبھی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ (سنن نسائی)

۹۱۔ملازم کے قصور کو کتنی دفعہ معاف کروں ؟

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اﷲ! میں اپنے خادم کا قصور کتنی دفعہ معاف کروں ؟ آپ نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش رہے۔ اُس نے اپنا سوال پھر دُہرایا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہر روز ستر دفعہ۔ ( ترمذی)

۹۲۔حسنِ سلوک کو کبھی حقیر نہ سمجھو

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا تم حسن سلوک کی کسی قسم کو بھی حقیر مت سمجھو۔اِس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے شگفتہ روئی کے ساتھ ملو اور یہ بھی کہ تم اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں پانی ڈال دو۔ (جامع ترمذی)

۹۳۔اللہ کے لیے اللہ کے بندہ سے محبت کرنا

حضرت ابو ہریرہؓ رسول اﷲﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص دوسری بستی میں رہنے والے اپنے ایک بھائی سے ملاقات کے لیے چلا تو اﷲ تعالیٰ نے اس کی راہ گذر پر ایک فرشتہ کو منتظر بنا کے بٹھا دیا۔ فرشتہ کے پوچھنے پراُس نے کہا کہ میں اپنے ایک بھائی سے ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتہ نے پوچھا کیا اُس کا تم پر کوئی احسان ہے جس کو تم پورا کرنے کے لئے جا رہے ہو۔ اُس بندہ نے کہا نہیں۔میرے جانے کا باعث اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اﷲ کے لئے مجھے اس بھائی سے محبت ہے۔ تب فرشتہ نے کہا کہ مجھے اﷲ تعالیٰ نے تمہارے پاس یہ بتانے کے لئے بھیجا ہے کہ اﷲ تم سے محبت کرتا ہے، جیسا کہ تم اﷲ کے لئے اُس کے بندہ سے محبت کرتے ہو۔ (صحیح مسلم)

۹۴۔کسی کے عیب معلوم کرنے کی کوشش نہ کرو

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم دوسروں کے متعلق بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ تم کسی کی کمزوریوں کی ٹوہ میں نہ رہا کرو اور جاسوسوں کی طرح راز دارانہ طریقے سے کسی کے عیب معلوم کرنے کی کوشش بھی نہ کیا کرو۔ نہ ایک دوسرے سے بڑھنے کی بے جاہوس کرو، نہ آپس میں حسد کرو۔ نہ بغض و کینہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو۔ بلکہ اے اﷲ کے بندو! اﷲ کے حکم کے مطابق بھائی بھائی بن کر رہو۔ ( مسلم)

۹۵۔مسلمان بھائی کے چھپے عیبوں کو ظاہر نہ کرو

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اﷲﷺ منبر پر چڑھے اور آپؐ نے بلند آواز سے پکارا: اے وہ لوگو جو زبان سے اسلام لائے ہو اور اُن کے دلوں میں ابھی ایمان پوری طرح اترا نہیں ہے۔ مسلمان بندوں کو ستانے، اُن کو شرمندہ کرنے اور اُن کے چھپے ہوئے عیبوں کے پیچھے پڑنے سے باز رہو۔ کیونکہ اﷲ کا قانون ہے کہ جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کے چھپے عیبوں کے پیچھے پڑے گا اور اس کو رسوا کرنا چاہے گا تو اﷲ تعالیٰ اُس کے عیوب کے پیچھے پڑے گا۔ اور جس کے عیوب کے پیچھے اﷲ تعالیٰ پڑے گا وہ اس کو ضرور رسوا کرے گا اگرچہ اپنے گھر کے اندر ہی ہو۔ (جامع ترمذی)

۹۶۔ایک دوسرے سے کینہ رکھنے والوں کا معاملہ

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ہر ہفتہ میں دو دن سوموار اور جمعرات کو لوگوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں تو ہر بندۂ مومن کی معافی کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ سوائے اُن دو آدمیوں کے جو ایک دوسرے سے کینہ رکھتے ہوں۔ اُن کے بارے میں حکم ہوتا ہے کہ ان دونوں کے معاملہ کو روکے رکھو جب تک کہ یہ آپس کے اس کینہ اور باہم دشمنی سے باز نہ آ جائیں اور دلوں کو صاف نہ کر لیں۔ (صحیح مسلم)

۹۷۔مسلمان بھائی کی مصیبت پر خوش نہ ہونا

ترجمہ : حضرت واثلہ ابن الاسقع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: تم اپنے کسی بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار مت کرو۔اگر تم ایسا کرو گے تو ہو سکتا ہے کہ اﷲ اُس کو اِس مصیبت سے نجات دے دے اور تمہیں اس میں مبتلا کر دے۔ ( ترمذی)

۹۸۔غصہ شیطان کے اثر سے آتا ہے

حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو چاہئے کہ بیٹھ جائے، پس اگر بیٹھنے سے غصہ فرو ہو جائے تو فبہا اور اگر پھر بھی غصہ باقی رہے تو چاہئے کہ لیٹ جائے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)

عطیہ بن عروہ سعدیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا غصہ شیطان کے اثر سے آتا ہے۔ شیطان کی پیدائش آ گ سے ہوئی ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے۔ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اس کو چاہئے کہ وہ وضو کر لے۔ ( ابو داؤد)

۹۹۔غصہ کو برداشت کرنے کا اجر

سہل بن معاذ اپنے والد ماجد حضرت معا ذؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو شخص طاقت رکھنے کے باجود اپنے غصہ کو پی جاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اس کو بلائیں گے اور اس کو اختیار دیں گے کہ حور انِ جنت میں سے جس حور کو چاہے اپنے لئے انتخاب کر لے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

۱۰۰۔جلد بازی شیطان کے اثر سے ہوتا ہے

حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کاموں کو متانت اور اطمینان سے انجام دینا اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی کرنا شیطان کے اثر سے ہوتا ہے ( ترمذی)

۱۰۱۔زبان راہِ راست پر تو سارے اعضاء ٹھیک

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ رسول اﷲﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب آدمی صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء عاجزی اور لجاجت کے ساتھ زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارے بارے میں خدا سے ڈر کیونکہ ہم تو تیرے ہی ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ تو ٹھیک رہی تو ہم ٹھیک رہیں گے اور اگر تو نے غلط روی اختیار کی تو ہم بھی غلط روی کریں گے۔(جامع ترمذی)

۱۰۲۔جو چُپ رہا وہ نجات پا گیا

حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جو چُپ رہا وہ نجات پا گیا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، مسند دار می،بیہقی)

۱۰۳:نجات حاصل کرنے کا گُر:زبان پر قابو رکھنا

حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضرت نجات حاصل کرنے کا گُر کیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا پنی زبان پر قابو رکھو اور اپنے گناہوں پر اﷲ کے حضور میں رویا کرو۔ (جامع ترمذی)

۱۰۴۔غیبت زنا سے بھی زیادہ سنگین ہے

حضرت ابو سعید خدری اور حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت اور سنگین ہے۔ بعض صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت ! غیبت زنا سے زیادہ سنگین کیونکر ہے ؟ آپ نے فرمایا آدمی اگر بدبختی سے زنا کر لیتا ہے تو صرف توبہ کرنے سے اس کی معافی اور مغفرت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے۔ مگر غیبت کرنے والے کو جب تک خود وہ شخص معاف نہ کر دے جس کی اُس نے غیبت کی ہے، اس کی بخشش اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو گی۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۱۰۵۔چھ باتوں کی ضمانت، جنت کی ضمانت

حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: تم چھ باتوں کی ذمہ داری لے لو تو میں تمہارے لئے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ ہمیشہ سچ بولو۔وعدہ کرو تو اس کو پورا کرو۔ جب کوئی امانت سپرد کی جائے تو اس کو ٹھیک ٹھیک ادا کرو۔، اور حرام کاری سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔ جن چیزوں کی طرف نظر کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، کوشش کرو کہ ان پر نظر نہ پڑے۔ جن موقعوں پر ہاتھ روکنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں ہاتھ روک لو۔(مسند احمد،بیہقی )

۱۰۶۔قسم کھا کر کسی کا حق مارنے والا جہنمی ہے

حضرت ابو امامہ باہلیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:جس شخص نے قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق ناجائز طور پر مار لیا تو اﷲ نے ایسے آدمی کے لیے دوزخ واجب کر دی ہے اور جنت کو اس پر حرام کر دیا ہے۔حاضرین میں سے کسی شخص نے عرض کیا کہ : یا رسول اﷲﷺ !اگرچہ وہ کوئی معمولی ہی چیز ہو تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں ! اگرچہ جنگلی درخت پیلو کی ٹہنی ہی ہو۔ ( مسلم)

۱۰۷۔تین طرح کے آدمیوں کو عذاب ہو گا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: تین طرح کے آدمی ہیں جن سے اﷲ قیامت کے دن کلام نہیں فرمائے گا اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اُن کی طرف نگاہ بھی نہیں کرے گا۔ ایسے لوگوں کے لئے آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔ ایک بوڑھا زانی،دوسرا جھوٹا فرما نروا، اور تیسرا نادار و غریب متکبر۔ (صحیح مسلم)

۱۰۸:حیا جنت میں بے حیائی دوزخ میں لے جائے گی

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: حیا ایمان کی ایک شاخ ہے اور ا یمان کا مقام جنت ہے۔ بے حیائی و بے شرمی بدکاری میں سے ہے اور بدی دوزخ میں لے جانے والی ہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)

۱۰۹۔مومن کے لیے غمی خوشی دونوں میں خیر ہے

حضرت صہیبؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا، بندۂ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اس کے ہر معاملہ اور ہر حال میں اس کے لئے خیر ہی خیر ہے۔ خوشی اور راحت ملنے پر وہ اپنے رب کا شکر ادا کرے تو یہ اس کے لئے خیر ہی خیر ہے۔ اور اگر وہ کوئی دکھ اور رنج پہنچنے پر صبر کرے تو یہ صبر بھی اس کے لئے سراسر خیر اور موجبِ برکت ہوتا ہے۔ (مسلم)

۱۱۰۔شروع صدمہ میں صبر کا اجر جنت ہے

حضرت ابو امامہؓ راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے فرزندِ آدم! اگر تو نے شروع صدمہ میں صبر کیا ا ور میری رضا اور ثواب کی نیت کی تو میں جنت سے کم کوئی اور ثواب دینے پر راضی نہیں ہوں گا۔(ابن ماجہ)

۱۱۱۔نبی کریمﷺ کا تعزیت نامہ

حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ اُن کے ایک لڑکے کا انتقال ہو گیا تو رسول اﷲﷺ نے ان کو یہ تعزیت نامہ لکھوایا:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔ اﷲ کے رسول محمدﷺ کی طرف سے معاذ بن جبلؓ کے نام ! میں پہلے اﷲ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور دعا کرتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ تم کو اس صدمہ کا اجر عظیم دے۔ تمہارے دل کو صبر عطا فرمائے اور ہم سب کو نعمتوں پر شکر کی توفیق دے۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری جانیں اور ہمارے مال اور ہمارے اہل و عیال یہ سب اﷲ تعالیٰ کے مبارک عطیے ہیں اور اس کی سونپی ہوئی امانتیں ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے جب تک چاہا خوشی اور عیش کے ساتھ تم کو اُس سے نفع اٹھانے اور جی بہلانے کا موقع دیا۔ جب اُس کی مشیت ہوئی، اپنی اس امانت کو تم سے واپس لے لیا۔ وہ تم کو اس کا بڑا اجر دینے والا ہے۔اگر تم نے ثواب اور رضاء الٰہی کی نیت سے صبر کیا تو اﷲ کی خاص نوازش اور اس کی رحمت اور اس کی طرف سے ہدایت کی تم کو بشارت ہے۔ پس اے معاذؓ ! صبر کرو، اور ایسا نہ ہو کہ آہ و زاری تمہارے اجر کو غارت کر دے، اور پھر تمہیں ندامت ہو۔ یقین رکھو کہ آہ و زاری سے کوئی مرنے والا واپس نہیں آتا اور نہ ہی اس سے دل کا رنج و غم دور ہوتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے جو حکم اترتا ہے وہ ہو کر رہنے والا ہے بلکہ یقیناً ہو چکا ہے۔ والسلام(معجم کبیرو معجم اوسط، طبرانی)

۱۱۲۔منتر اور شگون کی بجائے اللہ پر توکل کرنا

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اُمت میں سے ستر ہزار افراد بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ یہ وہ بندگانِ خدا ہوں گے جو منتر نہیں کراتے، شگونِ بد نہیں لیتے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں۔ ( صحیح مسلم)

۱۱۳۔اپنا رزق پورا کئے بغیر کوئی مر نہیں سکتا

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا : کوئی متنفس اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنا رزق پورا نہ کر لے۔ لہٰذا اے لوگو! خدا سے ڈرو اور تلاشِ رزق کے سلسلہ میں نیکی اور پرہیزگاری کا رویہّ اختیار کرو۔ اور روزی میں کچھ تاخیر تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم اﷲ کی نافرمانیوں اور غیر شرعی طریقوں سے اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگو۔ (شرح السنۃ، بیہقی)

۱۱۴۔چکی آٹے سے اور تنور روٹی سے بھر گیا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ اﷲ کے ایک بندے نے اپنے اہل و عیال کو فقر و فاقہ کی حالت میں دیکھا تو اﷲ سے دعا کرنے کے لیے جنگل کی طرف چل دیا۔ جب اس کی بیوی نے یہ دیکھا کہ شوہر اﷲ تعالیٰ سے مانگنے کے لیے گئے ہیں تو اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم پر بھروسہ کر کے اس نے تیاری شروع کر دی۔ آٹا پیسنے کی چکی کو تیار کر کے تنور گرم کیا۔ اور خود بھی اللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ اے مالک ہمیں رزق عطا کر۔ دُعا کے بعد اس نے دیکھا کہ چکی آٹے سے بھر چکی ہے۔ پھر وہ تنور کے پاس گئی تو دیکھا کہ تنور بھی روٹیوں سے بھرا ہوا ہے۔ جب اس کے شوہر واپس آئے اور بیوی سے ساراماجرا سن کر چکی کے پاس گئے اور تعجب اور شوق میں اس کا پاٹ اٹھا کر دیکھا۔ جب یہ ماجرا رسول اﷲﷺ سے ذکر کیا گیا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر وہ شخص چکی کے پاٹ کو اُٹھا کر نہ دیکھتا تو چکی قیامت تک یوں ہی چلتی رہتی اور اس سے ہمیشہ آٹا نکلتا رہتا۔ (مسند احمد)

۱۱۵؛اللہ تمہارے مال کو نہیں اعمال کو دیکھتا ہے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ’’اﷲ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا۔وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحیح مسلم)

۱۱۶۔دکھاوے کی نماز، روزہ، صدقہ شرک ہے

شداد بن اوسؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبیﷺ کو فرماتے سنا:جس نے دکھاوے کے لیے نماز پڑھی اُس نے شرک کیا۔ جس نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا اُس نے شرک کیا۔ جس نے دکھاوے کے لیے صدقہ خیرات کیا اُس نے شرک کیا۔ (مسند احمد)

۱۱۷۔شرکِ خفی دجال سے زیادہ خطرناک ہے

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اﷲﷺ اپنے حجرۂ مبارک سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے۔ اُس وقت ہم لوگ آپس میں دجّال کا تذکرہ کر رہے تھے تو آپ نے ہم سے فرمایا: کیا میں تم کو وہ چیز بتاؤں جو میرے نزدیک تمہارے لیے دجّال سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ ہم نے عرض کیا: حضور! ضرور بتلائیں وہ کیا چیز ہے ! آپ نے فرمایا، وہ شرک خفی ہے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو۔ پھر اپنی نماز کو اس لئے لمبا کر دے کہ کوئی آدمی اس کو نماز پڑھتا دیکھ رہا ہے۔ (سنن ابن ماجہ)

۱۱۸۔دکھاوے کے عبادت گذار جہنمی ہیں

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا تم لوگ ’’جب الحزن‘‘ (غم کے خندق) سے پناہ مانگا کرو۔ بعض صحابہؓ نے عرض کیا: جب الحزن کیا چیز ہے ؟ آپؐ نے فرمایا، جہنم میں ایک وادی ہے، جس سے خود جہنم دن بھر میں چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔ پوچھا گیا: یا رسول اﷲﷺ ! اُس میں کون لوگ جائیں گے ؟ آپؐ نے فرمایا : وہ بڑے عبادت گذار اور زیادہ قرآن پڑھنے والے جو دوسروں کو دکھانے کے لیے اچھے اعمال کرتے ہیں۔ (ترمذی)

۱۱۹۔ جہنم میں جانے والا جھوٹا شہید

حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلا شخص جس کے خلاف عدالتِ خداوندی کی طرف سے فیصلہ دیا جائے گا، ایک ایساآدمی ہو گا جسے شہید کیا گیا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی عطا کردہ نعمتوں کا اقرار کروانے کے بعد پوچھے گا کہ تو نے ان نعمتوں سے کیا کام لیا؟وہ کہے گا کہ میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ میں شہید کر دیا گیا۔ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹ کہتا ہے تو نے جہاد میں حصہ اس لیے لیا تھا کہ تیری بہادری کے چرچے ہوں سو تیری بہادری کے چرچے ہو لئے۔ پھر اُس کے لیے حکمِ خداوندی ہو گا اور وہ اوندھے منہ گھسیٹ کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(مسلم)

۱۲۰۔ جہنم میں جانے والا جھوٹا عالم و قاری

… اور اسی کے ساتھ ایک دوسرا شخص ہو گا جس نے علم دین حاصل کیا ہو گا اور دوسروں کو اس کی تعلیم بھی دی ہو گی اور قرآن بھی خوب پڑھا ہو گا۔اﷲ تعالیٰ اس کو اپنی بخشی ہوئی نعمتیں بتائے گا وہ سب کا اقرار کرے گا۔ پھر اﷲاُس سے پوچھے گا کہ بتا تو نے میری ان نعمتوں سے کیا کام لیا؟ وہ کہے گا خداوندا! میں نے آپ کا علم حاصل کیا اور دوسروں کو سکھایا اور آپ ہی کی رضا کے لیے قرآن میں مشغول رہا۔ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا تو نے یہ بات جھوٹ کہی۔ تو نے تو علم دین اس لیے حاصل کیا تھا تاکہ تجھ کو عالم و قاری اور عابد کہا جائے، سو تیرے عالم و عابد اور قاری قرآن ہونے کا چرچا خوب ہولیا۔ پھر اُسے بھی اللہ کے حکم سے اوندھے منہ گھسیٹ کے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم)

۱۲۱۔ جہنم میں جانے والا جھوٹا سخی

… اور اسی کے ساتھ ایک تیسرا شخص ہو گا جس کو اﷲ تعالیٰ نے دنیا میں بھر پور دولت دی ہو گی۔اﷲ تعالیٰ اس کو بھی اپنی نعمتیں بتلائے گا اور وہ سب نعمتوں کا اقرار کرے گا۔ پھر اﷲ تعالیٰ اُس سے پوچھے گا کہ تو نے میری ان نعمتوں سے کیا کام لیا؟ وہ عرض کرے گا: خداوندا! جن کاموں میں خرچ کرنا تجھے پسند ہے میں نے تیرا دیا ہوا مال اُن سب ہی میں خرچ کیا ہے، اور صرف تیری رضا جوئی کے لیے خرچ کیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا تو نے یہ جھوٹ کہا۔ درحقیقت یہ سب کچھ تو نے اس لئے کیا تھا کہ دنیا میں تو سخی مشہور ہو سو تیری فیاضی کے چرچے خوب ہو لئے۔ پھر اﷲ تعالیٰ کے حکم سے اسے بھی اوندھے منہ گھسیٹ کے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم)


٭٭٭

ضمیمہ۔۲ : ۱۔ کتاب الطہارت ۲۔ کتاب الصلوٰۃ ۳۔ کتاب الزکوٰۃ ۴۔کتاب الصوم ۵۔ کتاب الحج


۱۔قرآن حجت ہے، ہمارے حق میں یا ہمارے خلاف

ابو مالک اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ طہارت و پاکیزگی جزو ایمان ہے۔ کلمہ الحمد ﷲ میزان عمل کو بھر دیتا ہے۔ سبحان اﷲ و الحمد ﷲ بھر دیتے ہیں آسمان کو اور زمین کو۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل و برہان ہے اور صبر اجالا ہے۔ قرآن یا تو حجت ہے تمہارے حق میں یا حجت ہے تمہارے خلاف۔ہر آدمی صبح کرتا ہے پھر وہ اپنی جان کا سودا کرتا ہے پھر یا تو اسے نجات دلا دیتا ہے یا اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم)

۲۔رفع حاجت کے آداب

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تم لوگوں کے لئے مثل ایک باپ کے ہوں اپنی اولاد کے لیے۔لہٰذا میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو نہ قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھو نہ اس کی طرف پشت۔ آپﷺ نے استنجے میں تین پتھروں کے استعمال کرنے کا حکم دیا۔آپﷺ نے استنجے میں لید اور ہڈی استعمال کرنے داہنے ہاتھ سے استنجا کرنے سے بھی منع فرمایا۔ (سنن ابن ماجہ و دارمی)

۳۔طہارت و پاکیزگی کی بنیادی شرائط

حضرت ابو ایوب انصاریؓ ، حضرت جابرؓ اور حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جب مسجد قبا کے بارے میں سورۂ توبہ کی یہ آیت نازل ہوئی ’’فِیْہِ رِجَال یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْ ا وَاﷲُ یُحِبُّ الْمُطَّھِّرِیْنَ‘‘ (اس مسجد میں ہمارے ایسے بندے ہیں جو پاکیزگی پسند کرتے ہیں اور اﷲ ایسے پاکیزگی پسند لوگوں سے محبت کرتا ہے ) تو رسول اﷲﷺ نے اس مسجد نمازیں پڑھنے والوں سے فرمایا: اے گروہ انصار اﷲ! تعالیٰ نے طہارت و پاکیزگی کے بارے میں تمہاری تعریف فرمائی ہے تو وہ تمہاری کیا صفائی اور پاکیزگی؟ انھوں نے عرض کیا کہ نماز کے لیے وضو کرتے ہیں۔ جنابت کا غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں۔آپﷺ نے فرمایا کہ بس یہی بات ہے۔ تم انہی باتوں کو اپنے اوپر لازم کر لو۔ (سنن ابن ماجہ)

۴۔بیت الخلاء میں خبیث مخلوقات سے پناہ مانگنا

حضرت عبداﷲ بن سر جس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی ہرگز کسی سوراخ میں پیشاب نہ کرو۔ (سنن ابی داؤد و سنن نسائی) حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا حاجت کے ان مقامات میں خبیث مخلوق شیاطین وغیرہ رہتے ہیں۔لہٰذا جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء جائے تو اُسے چاہئے کہ پہلے یہ دُعا کرے : میں اﷲ کی پناہ لیتا ہوں نر و مادہ خبیث مخلوقات سے۔ (سنن ابی داؤد و سنن ابن ماجہ)

۵۔ حاجت سے فارغ ہونے کے بعد کی دعا

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کا دستور تھا کہ جب آپؐ حاجت سے فارغ ہو کر بیت الخلاء سے باہر آتے تو اﷲ تعالیٰ سے عرض کرتے ’’غُفْرَانَکَ‘‘ (اے اﷲ تیری مغفرت کا طالب ہوں )(ترمذی و سنن ابن ماجہ) حضرت ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے جب قضاء حاجت سے فارغ ہو کر بیت الخلاء سے باہر تشریف لاتے تو کہتے ’’اَلْحَمْدُ ﷲِ الَّذِیْ‘‘ (سنن نسائی)

۶۔وضو سے اعضاء کے گناہ دھُل جاتے ہیں

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی مسلم بندہ وضو کرتا ہے اور اس میں اپنے چہرہ کو دھوتا ہے اور اس پر پانی ڈالتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے چہرہ سے وہ سارے گناہ دُھل جاتے ہیں، جو اس کی آنکھ سے ہوئے تھے۔ اس کے بعد جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو وہ سارے گناہ اس کے ہاتھوں سے دُھل جاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں سے ہوئے تھے۔ جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو وہ سارے گناہ اس کے پاؤں سے خارج ہو جاتے ہیں جن کے لئے اس کے پاؤں استعمال ہوئے۔ یہاں تک کہ وضو سے فارغ ہونے کے ساتھ وہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہو جاتا ہے۔ (صحیح مسلم)

۷۔مکمل وضو کر نے کا اَجر جنت ہے

حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا’’ تم میں سے جو کوئی مکمل وضو کرے، پھر کہے ’’اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ الاﷲُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْ لُہ‘‘ تو لازمی طور پر اُس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جائیں گے وہ جس دروازے سے بھی چاہے گا جنت میں جاسکے گا۔ (صحیح مسلم)

۸۔گناہوں کو مٹانے والے اعمال

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: کیا میں تم کو وہ اعمال نہ بتاؤں جن کی برکت سے اﷲ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا ہے اور درجے بلند فرمایا ہے ؟ صحابہؓ نے عرض کیا: حضرت ضرور بتلائیں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا(۱) تکلیف اور ناگواری کے باوجود پوری طرح کامل وضو کرنا۔ (۲) مسجدوں کی طرف قدم زیادہ پڑنا (۳) ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا منتظر رہنا۔(صحیح مسلم)

۹۔صراطِ مستقیم پر پورا پرا چلنا ممکن نہیں

حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا۔ ٹھیک ٹھیک چلو اور صراط مستقیم پر قائم رہو۔ چونکہ یہ استقامت بہت مشکل ہے اس لئے تم اس پر پورا پورا ہر گز نہ پاسکو گے۔ اچھی طرح جان لو کہ تمہارے سارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے اور وضو کی پوری پوری نگہداشت بس بندہ مومن ہی کر سکتا ہے۔ (موطا امام مالک، مسند احمد، سنن ابن ماجہ)

۱۰۔مسواک کے لیے جبرئیلؑ کی تاکید

ترجمہ: حضرت ابو امامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’اﷲ کے فرشتے جبرئیلؑ جب بھی میرے پاس آئے ہر دفعہ انہوں نے مجھے مسواک کے لئے ضرور کہا۔ خطرہ ہے کہ بار بار کی اس تاکید کی وجہ سے میں اپنے منہ کے اگلے حصہ کو مسواک کرتے کرتے گھس نہ ڈالوں۔‘‘ (مسند احمد) حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ کا معمول تھا کہ دن یا رات میں جب بھی آپؐ سوتے تو اٹھنے کے بعد وضو کرنے سے پہلے مسواک ضرور فرماتے۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد)

۱۱:انبیاء کی سنت،حیا، خوشبو، مسواک اور نکاح

حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا چار چیزیں پیغمبروں کی سنتوں میں سے ہیں۔ ایک حیاء دوسرے خوشبو لگانا، تیسرے مسواک کرنا اور چوتھے نکاح کرنا۔ (جامع ترمذی)

۱۲۔طہارت و صفائی اَمور فطرت ہیں

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: مونچھوں کا ترشوانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی لے کر اس کی صفائی کرنا، ناخن ترشوانا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، بغل کے بال لینا، موئے زیر ناف کی صفائی کرنا اور پانی سے استنجا کرنا، امور فطرت میں سے ہیں۔ (صحیح مسلم)

۱۳۔مسواک کر کے نماز پڑھنا، ستر گنا افضل ہے

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا وہ نماز جس کے لیے مسواک کی جائے اس نماز کے مقابلہ میں جو بلا مسواک کے پڑھی جائے ستر گنی فضیلت رکھتی ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۱۴۔نماز جنت کی کنجی ہے

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی طہور یعنی وضو ہے۔ (مسند احمد)

۱۵۔اللہ کا نام لے کر وضو کرنا

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص وضو کرے اور اس میں اﷲ کا نام لے تو یہ وضو اس کے سارے جسم کو پاک کر دیتا ہے۔ اور جو کوئی وضو کرے اور اس میں اﷲ کا نام نہ لے تو وہ وضو اس کے صرف اعضائے وضو ہی کو پا ک کرتا ہے۔ (سنن دار قطنی)

۱۶۔بسم اللہ والحمدللہ کہہ کر وضو کی فضیلت

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایا: اے ابو ہریرہؓ جب تم وضو کرو تو’’بسم اﷲ و الحمد ﷲ‘‘ کہہ لیا کرو۔ جب تک تمہارا یہ وضو باقی رہے گا، اس وقت تک تمہارے محافظ فرشتے تمہارے لئے برابر نیکیاں لکھتے رہیں گے۔ (معجم سغیر طبرانی)

۱۷۔ داہنے طرف سے لباس پہننا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: جب تم لباس پہنو یا وضو کرو تو اپنے داہنے اعضاء سے ابتداء کرو۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد)

۱۸۔شراب ہر برائی کی کنجی ہے

حضرت ابوالد رداءؓ سے روایت ہے کہ میرے خلیل و محبوبﷺ نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ اﷲ کے ساتھ کبھی کسی چیز کو شریک نہ کرنا اگرچہ تمہارے ٹکڑے کر دئیے جائیں یا تمہیں آگ میں بھون دیا جائے۔ اور خبردار کبھی بالارادہ نماز نہ چھوڑنا کیونکہ جس نے دیدہ و دانستہ نماز چھوڑ دی تو اس کے بارے میں وہ ذمہ داری ختم ہو گئی جو اﷲ کی طرف سے صاحب ایمان بندوں کے لئے ہے۔ خبردار شراب کبھی نہ پینا کیونکہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ)

۱۹۔نماز اہتمام کے ساتھ ادا کرنا

حضرت عبداﷲ بن العاصؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اﷲﷺ نے نماز کے بارے میں گفتگو فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو بندہ نماز اہتمام سے ادا کرے گا تو وہ قیامت کے دن اس کے واسطے نور ہو گی اور اس کے لیے نجات کا ذریعہ بنے گی۔ جس شخص نے نماز کی ادائیگی کا اہتمام نہیں کیا تو وہ اس کے واسطے نہ نور بنے گی، نہ برہان اور نہ ذریعہ نجات۔ اور وہ بدبخت قیامت میں قارون، فرعون، ہامان اور مشرکین مکہ کے سرغنہ ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔ (مسند احمد، مسند داری، شعب الایمان بیہقی)

۲۰۔نماز، جنازہ اور نکاح میں تاخیر نہ کرنا

حضرت علی مرتضیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا، علیؓ ! تین کام وہ ہیں جن میں تاخیر نہ کرنا۔ نماز جب اس کا وقت آ جائے۔ جنازہ جب تیار ہو کر آ جائے اور بے شوہر والی کا نکاح جب اس کے لیے مناسب جوڑ مل جائے۔ (جامع ترمذی)

۲۱۔اذان اور اقامت کے آداب

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ جب تم اذان دو تو آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر دیا کرو اور جب اقامت کہو تو رواں کہا کرو۔ اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ کیا کرو کہ جو شخص کھانے پینے میں مشغول ہے وہ فارغ ہو جائے اور جس کو استنجے کا تقاضا ہے وہ جا کر اپنی ضرورت سے فارغ ہولے۔ (جامع ترمذی)

۲۲۔اذان دیتے ہوئے کانوں میں انگلیاں دینا

مسجد قبا میں رسول اﷲﷺ کے مقرر کئے ہوئے موذن حضرت سعد قرظ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے بلالؓ کو حکم دیا کہ اذان دیتے وقت وہ اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں دے لیا کریں۔ آپﷺ نے ان سے فرمایا کہ ایسا کرنے سے تمہاری آواز زیادہ بلند ہو جائے گی۔ (سنن ابن ماجہ)

۲۳۔جو اذان دے، وہی اقامت پڑھے

حضرت زیاد بن حارث صدائی ؓ راوی ہیں کہ ایک دفعہ نبیﷺ کے حکم سے میں نے فجر کی اذان دی۔ اس کے بعد جب حضرت بلالؓ نے ارادہ کیا کہ وہ اقامت کہیں تو حضورؐ نے فرمایا:قاعدہ یہ ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)

۲۴۔پانچ وقت اذان دینے والے کی فضیلت

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن تین قسم کے آدمی مشک کے ٹیلوں پر ٹھہرائے جائیں گے۔ ایک وہ نیک غلام جس نے دنیا میں اﷲ کا حق بھی ادا کیا اور اپنے آقا کا بھی۔ دوسرا وہ آدمی جو کسی جماعت کا امام بنا اور لوگ اس سے خوش رہے۔ تیسرا وہ بندہ جو پانچوں نمازوں کے لیے روزانہ اذان دیا کرتا تھا۔ (جامع ترمذی)

۲۵۔سات سال تک اذان دینے کا اجر

حضرت عبداﷲ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا، اﷲ تعالیٰ کے جس بندہ نے سات سال تک اﷲ کے واسطے اور ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے آتش دوزخ سے برات لکھ دی جاتی ہے۔(جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)

۲۶۔مسجدوں کو شاندار بنانے کا حکم نہیں

حضرت عبداﷲ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: مجھے خدا کی طرف سے مسجدوں کو بلند اور شاندار بنانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ حدیث کے راوی عبداﷲ بن عباسؓ بطور پیشین گوئی فرماتے ہیں کہ یقیناً تم لوگ اپنی مسجدوں کی آرائش و زیبائش اسی طرح کرنے لگو گے جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنی عبادت گاہوں میں کی ہے۔ (سنن ابی داؤد)

۲۷۔خواتین کا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے

مشہور صحابی ابو حمید ساعدیہؓ کی بیوی اُم حمید ساعدیہؓ کہتی ہیں کہ وہ رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں چاہتی ہوں کہ آپ کے ساتھ جماعت سے مسجد میں نماز ادا کیا کروں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: مسئلہ شریعت کا یہ ہے کہ تمہاری وہ نماز جو تم اپنے گھر کے اندرونی حصے میں پڑھو و ہ اس نماز سے افضل اور بہتر ہے جو تم اپنے بیرونی دالان میں پڑھو۔ بیرونی دالان میں تمہارا نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم اپنے گھر کے صحن میں پڑھو۔اسی طرح اپنے گھر کے صحن میں تمہارا نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم اپنے گھر کے قریب والی مسجدمیں نماز پڑھو۔ اور قریب والی مسجد میں تمہارا نماز پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ تم میری مسجد میں آ کر نماز پڑھو۔ ( مسند احمد)

۲۸۔عورتوں کا مسجد جانا، حضرت عائشہؓ کا موقف

حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ اگر رسول اﷲﷺ ان باتوں کو دیکھتے جو عورتوں نے اب پید ا کر لی ہیں تو آپﷺ خود ان کو مسجدوں میں جانے سے منع فرما دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو ان کی عبادت گاہوں میں جانے سے اگلے پیغمبروں کے زمانہ میں روک دیا گیا تھا۔ ( صحیح مسلم)

۲۹۔باجماعت نماز کی تاکید

حضرت ابو الدرداءؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: کسی بستی میں میں تین آدمی ہوں اور وہ نماز با جماعت نہ پڑھتے ہوں تو ان پر شیطان یقیناً قابو پالے گا۔ تم جماعت کی پابندی کو اپنے پر لازم کر لو کیونکہ بھیڑیا اسی بھیڑ کو اپنا لقمہ بناتا ہے جو گلہ سے الگ رہتی ہے۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، سنن نسائی)

۳۰۔چالیس دن تک تکبیر اولیٰ سے نماز پڑھنا

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جو شخص چالیس دن تک ہر نماز جماعت کے ساتھ اس طرح پڑھے کہ اس کی تکبیر اولیٰ بھی فوت نہ ہو تو اس کے لئے دو برا تیں لکھ دی جاتی ہیں۔ ایک آتش دوزخ سے برات اور دوسری نفاق سے برات۔ (جامع ترمذی)

۳۱۔کھانا سامنے ہو تو نماز کا حکم نہیں ہے

حضرت عائشہ صدیقہؓ راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: کھانے کے سامنے ہوتے ہوئے نماز کا حکم نہیں ہے اور نہ ایسی حالت میں جب کہ آدمی کو پائخانے یا پیشاب کا تقاضا ہو۔ (صحیح مسلم)

۳۲۔نماز میں عورتوں کی صف مَردوں کے پیچھے

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲﷺ کے پیچھے اپنے گھر میں نماز پڑھی۔ میرے ساتھ میرے بھائی یتیم نے بھی۔ اور ہماری والدہ اُم سلیم ہم دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ (صحیح مسلم)

۳۳۔امام کو مقتدیوں کے نماز کا ثواب بھی ملے گا

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جماعت کی امامت کرے اس کو چاہئے کہ خدا سے ڈرے اور یقین رکھے کہ وہ مقتدیوں کی نماز کا بھی ذمہ دار ہے اور اس سے اس ذمہ داری کے بارے میں بھی سوال ہو گا۔ اگر اس نے اچھی نماز پڑھائی تو پیچھے نماز پڑھنے والے سب مقتدیوں کے مجموعی ثواب کے برابر اس کو ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ مقتدیوں کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔ اور نماز میں جو نقص اور قصور رہا ہو گا اس کا بوجھ تنہا امام پر ہو گا۔ (معجم اوسط للطبرانی)

۳۴۔ امام کے ساتھ رکوع ملی تو رکعات ملی

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کو آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو تم سجدے میں شریک ہو جاؤ اور اس کو کچھ شمار نہ کرو۔ جس نے امام کے ساتھ رکوع پا لیا اُس نے نماز کی وہ رکعت پالی۔ (سنن ابی داؤد)

۳۵۔سجدوں کے درمیان رَبِّ اغْفِرْلِی پڑھنا

حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں رَبِّ اغْفِرْلِی(اے اﷲ!میری مغفرت فرما) کہا کرتے تھے۔(سنن نسائی۔ مسند دارمی)

۳۶۔آخری تشہد کے بعد چار چیزوں سے پناہ مانگنا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:۔ جب تم میں سے کوئی آخری تشہد پڑھ کر فارغ ہو جائے تو اسے چاہئے کہ چار چیزوں سے اﷲ کی پناہ مانگے۔ (۱) جہنم کے عذاب سے (۲) قبر کے عذاب سے (۳) زندگی اور موت کی آزمائش سے (۴) دجال کے شر سے۔ (صحیح مسلم)

۳۷۔نماز کے بعد تین متربہ استغفار پڑھنا

حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ کلمہ استغفار پڑھ کر اﷲ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے اور اس کے بعد کہتے۔ اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذوالجلال والا کرام۔ (صحیح مسلم)

۳۸۔بارہ رکعات سنت نمازوں کا اجر

اُم المومنین حضرت اُم حبیبہؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا : جو شخص دن رات میں فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھے گا اس کے لئے جنت میں ایک گھر تیار کیا جائے گا۔ ۴ رکعات ظہر سے پہلے، ۲ رکعات ظہر کے بعد، ۲ رکعات مغرب کے بعد اور ۲رکعات عشاء کے بعد اور ۲رکعات فجر سے پہلے۔ (جامع ترمذی)

۳۹۔وتر نماز کی اہمیت

حضرت بریدہ اسلمیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: ’’نماز وتر حق ہے۔ جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔یہ بات آپﷺ نے تین دفعہ ارشاد فرمائی۔ (سنن ابی داؤد)

۴۰۔تہجد قربِ الٰہی کا خاص وسیلہ ہے

حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: تم تہجد ضرور پڑھا کرو۔ کیونکہ یہ صالحین کا شعار رہا ہے اور قرب الٰہی کا خاص وسیلہ ہے۔ تہجد گناہوں کے بُرے اثرات کو مٹانے والی اور معاصی سے روکنے والی چیز ہے۔ (جامع ترمذی)

۴۱۔گناہ کے بعد نماز پڑھنا اور معافی مانگنا

حضرت علی مرتضیٰؓ سے روایت ہے کہ ابو بکرؓ نے فرمایا: میں نے رسول اﷲﷺ کو فرماتے سُنا کہ جس شخص سے کوئی گناہ سر زد ہو جائے پھر وہ اٹھ کر وضو کرے، نماز پڑھے اور پھر اﷲ سے معافی طلب کرے تو اﷲ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیتا ہے۔(جامع ترمذی)

۴۲۔دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:سارے دنوں میں سب سے بہتر اور برتر جمعہ کا دن ہے۔ جمعہ ہی کے دن آدم ؑ کو اﷲ تعالیٰ نے پیدا کیا اور جمعہ ہی کے دن وہ جنت میں داخل کئے گئے۔ جمعہ ہی کے دن وہ جنت سے باہر کر کے اس دنیا میں بھیجے گئے اور قیامت بھی خاص جمعہ ہی کے دن قائم ہو گی۔ (صحیح مسلم)

۴۳۔انبیاء کے جسم قبروں میں محفوظ رہتے ہیں

حضرت اوس بن اوس ثقفیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کا دن افضل ترین دنوں میں سے ہے۔ تم لوگ جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے اور پیش ہوتا رہے گا۔ صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اﷲﷺ !ہمارا درود آپﷺ پر کیسے پیش ہو گا؟ آپؐ کا جسداطہر تو قبر میں ریزہ ریزہ ہو چکا ہو گا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے پیغمبروں کے جسموں کو زمین پر حرام کر دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند داری، دعوات کبیر للبہیقی)

۴۴۔جمعہ کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا

طارق بن شہابؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جمعہ کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا غلام، عورت، کمسن لڑکے اور بیمار کے علاوہ ہر مسلمان پر لازم ہے۔ (سنن ابی داؤد) حضرت عبداﷲ بن عمرؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ دونوں سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ برسر منبر فرما رہے تھے : جمعہ چھوڑنے والے لوگ اپنی اس حرکت سے باز آ جائیں ورنہ ان کے اس گناہ کی سزا میں اﷲ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا۔ (صحیح مسلم)

۴۵۔ مسنون کھانا: قبل نماز عید الفطر و بعد نماز عید الالضحیٰ

حضرت بریدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپﷺ عیدالفطر کی نماز کے لئے کچھ کھا کے تشریف لے جاتے تھے اور عید الاضحی کے دن نماز پڑھنے تک کچھ نہیں کھاتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی)

۴۶۔عید الاضحی کے دن قربانی کی فضیلت

حضرت عائشہ صدیقہؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: عید الاضحی کے دن فرزند آدم کا کوئی عمل اﷲ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اﷲ تعالیٰ کی رضا کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ پس اے خدا کے بندو دل کی پوری خوشی سے قربانیاں کرو۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ نے ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں دس سال قیامت فرمایا اور آپؐ ہرسال قربانی کرتے تھے۔ (جامع ترمذی)

۴۷۔قربانی کرنے تک بال اور ناخن نہ تراشنا

اُم المومنین حضرت اُم سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ نے فرمایا: جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کسی کا قربانی کا ارادہ ہو تو اس کو چاہئے کہ اب قربانی کرنے تک اپنے بال یا ناخن بالکل نہ تراشے۔ (صحیح مسلم)

۴۸۔موت مومن کے لیے تحفہ ہے

حضرت عبداﷲ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن کا تحفہ موت ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۴۹۔مصیبتوں سے مومنوں کا گناہ ختم ہونا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کے بعض ایمان والے بندوں یا ایمان والی بندیوں پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مصائب اور حوادث آتے رہتے ہیں۔ کبھی اس کی جان پر کبھی اس کے مال پر اور کبھی اس کی اولاد پر۔ اس کے نتیجہ میں اس کے گناہ جھڑتے رہتے ہیں یہاں تک کہ مرنے کے بعد وہ اﷲ کے حضور میں اس حال میں پہنچتا ہے کہ اس کا ایک گناہ بھی باقی نہیں رہتا۔ (جامع ترمذی)

۵۰۔مرتے وقت لا الٰہ الا اللہ کہنا

حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ: مرنے والوں کو کلمہ لا الٰہ الا اﷲ کی تلقین کیا کرو۔ (صحیح مسلم) حضرت معاذ ابن جبلؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: جس شخص کا آخری کلام لا الٰہ الا اﷲ ہو وہ جنت میں جائے گا۔ (سنن ابو داؤد)

۵۱۔مرنے والوں پر سورۃ یٰسین پڑھنا

حضرت معقل بن یسارؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: تم اپنے مرنے والوں پر سورۃ یٰسین پڑھا کرو۔ (مسند احمد، سنن ابو داؤد، سنن ابن ماجہ)

۵۲۔بچوں کی وفات پر صبر کرنے کا اجر

حضرت ابو موسی اشعریؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: جب اﷲ کے کسی بندے کا بچہ انتقال کر جاتا ہے۔ تو اﷲ تعالیٰ روح قبض کرنے والے فرشتے سے فرماتا ہے تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی؟۔ وہ عرض کرتے ہیں۔ جی ہاں ! پھر فرماتا ہے، تم نے اس کے دل کا پھل اس سے لے لیا؟۔ وہ عرض کرتے ہیں جی ہاں ! پھر فرماتا ہے کہ اس بندہ نے اس حادثہ پر کیا کہا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اس بندے نے آپ کی حمد کی، آپ کا شکر کیا اور انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر اس کے لئے جنت میں ایک عالیشان گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)

۵۳۔میت کے حق میں ۴۰نمازیوں کی دعا

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام اور خادم خاص کریب تابعی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ کے ایک صاحبزا دے کا انتقال ہو گیا۔ حضرت ابن عباسؓ نے مجھ سے فرمایا کہ جو لوگ جمع ہو گئے ہیں ذرا تم ان پر نظر ڈالو کہ آیا وہ چالیس ہوں گے ؟ کریب نے کہا ہاں ۴۰ ضرور ہوں گے۔ ابن عباسؓ نے فرمایا کہ اب جنازہ باہر لے چلو۔ میں نے رسول اﷲﷺ سے سنا تھا کہ جس مسلمان کا انتقال ہو جائے اور اس کے جنازے کی نماز چالیس ایسے آدمی پڑھیں جن کی زندگی شرک سے بالکل پاک ہو اور وہ نماز میں اس میت کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا کریں تو اﷲ تعالیٰ ان کی دعا اس میت کے حق میں ضرور قبول فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم) حضرت مالک بن ہبیرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو کہتے سنا کہ جس مسلمان بندے کا انتقال ہو جائے اور مسلمانوں کی تین صفیں اس کی نماز جنازہ پڑھیں تو ضرور ہی اﷲ تعالیٰ اس بندے کے واسطے مغفرت اور جنت واجب کر دیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد)

۵۴۔قبر کی طرف رُخ کر کے نماز نہ پڑھنا

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے قبروں کو پختہ کر نے، اس پر عمارت بنانے یا اس پر بیٹھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ حضرت ابو مرثد غنویؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: نہ تو قبروں کے اوپر بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو ( مسلم)

۵۵۔گھوڑوں اور غلاموں پر زکوٰۃ واجب نہیں

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ گھوڑوں اور غلاموں پر زکوٰۃ واجب نہیں کی گئی ہے۔ زکوٰۃادا کرو چاندی کی ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم جبکہ دو سو پورے ہو جائیں۔ ۱۹۹ درہم تک کچھ واجب نہیں ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

۵۶۔زکوٰۃ ہر تجارتی مال پر ہے

حضرت سمرہ بن جندبؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کا ہم کو حکم تھا کہ ہم ہر اس چیز میں زکوٰۃ نکالیں جو ہم نے تجارت کے لیے مہیا کی ہو۔ (سنن ابی داؤد)

۵۷۔زکوٰۃ سال گذرنے پر ہی واجب ہے

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا : جس کسی کو کسی راہ سے مال حاصل ہو تو اس پر اس کی زکوٰۃ اس وقت تک واجب نہ ہو گی جب تک اس مال پر سال نہ گزر جائے۔ ( ترمذی)

۵۸۔مستحقین زکوٰۃ کا تعین اللہ نے کر دیا ہے

زیاد بن حارث صدائی ؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ زکوٰۃ کے مال میں سے کچھ مجھے عنایت فرمائیے۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصارف کو نہ تو کسی نبی کی مرضی پر چھوڑا ہے اور نہ کسی غیر نبی کی مرضی پر بلکہ خود ہی فیصلہ فرما کر مستحقین زکوٰۃ کی آٹھ قسمیں کر دی ہیں۔ (قرآن :یہ صدقات تو دراصل(۱) فقیروں اور (۲) مسکینوں کے لیے ہیں اور (۳)ان لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں اور (۴) اُن کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو۔ نیز یہ(۵) گردنوں کے چھڑانے اور (۶) قرضداروں کی مدد کرنے میں اور (۷) راہِ خدا میں اور (۸)مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں۔ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے۔ توبہ:۶۰)۔اگر تم ان قسموں میں سے کسی قسم کے آدمی ہو تو میں زکوٰۃ میں سے تم کو دے دوں گا۔ (سنن ابی داؤد)

۵۹۔غنی اور تندرست آدمی کو سوال کرنا جائز نہیں

حبشی بن جنادہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: غنی آدمی کو اور توانا و تندرست آدمی کوسوال کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ ایسے آدمی کو جائز ہے جس کو ناداری و افلاس نے زمین پر گرا دیا ہو۔ یا جس پر قرض یا کسی تاوان وغیرہ کا کوئی بھاری بوجھ پڑگیا ہو۔ جو آدمی اپنے مال میں اضافہ کے لئے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور سوال کرے تو قیامت کے دن اس کا یہ سوال اس کے چہرے پر ایک زخم اور گھاؤ کی شکل میں نمایاں ہو گا اور جہنم کا گرم جلتا ہوا پتھر ہو گا، جس کو وہاں وہ کھائے گا۔اس کے بعد جس کا جی چاہے سوال کم کرے اور جس کا جی چاہے زیادہ کرے (ترمذی)

۶۰۔مانگنا ہی پڑے تو نیک بندوں سے مانگو

ابن الفراسی تابعی اپنے والد فراسی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ سے دریافت کیا کہ میں اپنی ضرورت کے لئے لوگوں سے سوال کر سکتا ہوں ؟ آپﷺ نے فرمایا: جہاں تک ممکن ہو سوال نہ کرو، اور اگر تم سوال کے لئے مجبور ہی ہو جاؤ تو اﷲ کے نیک بندوں سے سوال کرو۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی)

۶۱۔بندوں کے مقابلہ میں اللہ سے مدد مانگو

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جس آدمی کو کوئی سخت حاجت پیش آئی اور اس نے بندوں سے مدد چاہی تو اسے اس مصیبت سے مستقل نجات نہیں مل سکتی۔ اور جس آدمی نے اسے اﷲ کے سامنے رکھا اور اس سے دعا کی تو پوری امید ہے کہ اﷲ تعالیٰ جلد ہی اس کی یہ حاجت ختم کر دے گا یا تو جلدی موت دے کر یا کچھ تاخیر سے خوشحالی دے کر۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)

۶۲۔اللہ کے بندوں سے نہ مانگنے پر جنت کی ضمانت

حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جو مجھ سے اس بات کا عہد کرے کہ وہ اﷲ کے بندوں سے اپنی کوئی حاجت نہ مانگے گا تو میں اس کے لئے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ ثوبانؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: حضرت (ﷺ )! میں یہ عہد کرتا ہوں۔راوی کا بیان ہے کہ اس وجہ سے حضرت ثوبانؓ کا یہ دستور تھا کہ وہ کسی آدمی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی)

۶۳۔محنت مزدوری کرنا مانگنے سے بہتر ہے

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مدد طلب کی۔ آپؐ نے پوچھا : کیا تمہارے گھر میں کوئی چیز بھی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا:بس ایک کمبل اور ایک پیالہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ۔ جب وہ دونوں چیزیں لے آئے تو آپؐ نے حاضرین سے فرمایا: کون ان دونوں چیزوں کو خرید نے پر تیار ہے ؟ ایک صاحب نے عرض کیا:میں ایک درہم میں ان کو لے سکتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: کون ایک درہم سے زیادہ لگاتا ہے۔ایک دوسرے صاحب نے عرض کیا: میں انہیں دو درہم میں لے سکتا ہوں۔ آپؐ نے دونوں چیزیں ان صاحب کو دے دیں اور ان سے دو درہم لے کر ان صاحب کے حوالے کئے اور فرمایا: ان میں سے ایک درہم کا توتم کچھ کھانے کا سامان لے کر اپنی بیوی بچوں کو دے دو اور دوسرے درہم سے ایک کلہاڑی خرید کر میرے پاس لے آؤ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور کلہاڑی لے کر آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ آپؐ نے اپنے دست مبارک سے اس کلہاڑی میں لکڑی کا ایک دستہ لگا دیا اور ان سے فرمایا: جاؤ اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر بیچو اور اب میں پندرہ دن تک تم کو نہ دیکھوں۔چنانچہ وہ صاحب چلے گئے اور آپﷺ کی ہدایت کے مطابق جنگل کی لکڑیاں کاٹ کاٹ کر بیچتے رہے۔ پھر ایک دن آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے اپنی محنت اور لکڑی کے اس کاروبار میں دس بارہ درہم کما لئے تھے جن میں کچھ کا انہوں نے کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ وغیرہ۔ رسول اﷲﷺ نے ان سے فرمایا: اپنی محنت سے یہ کمانا تمہارے لئے اس سے بہت ہی بہتر ہے کہ قیامت کے دن لوگوں سے مانگنے کا داغ تمہارے چہرے پر ہو۔پھر آپﷺ نے فرمایا: سوال کرنا صرف تین قسم کے آدمیوں کے لئے درست ہے۔ ایک وہ آدمی جسے فقر و فاقہ نے زمین سے لگا دیا ہو۔ دوسرے وہ جس پر قرض یا کسی جرمانے کا بھاری بوجھ ہو۔تیسرے وہ جس کو کوئی خون بہا ادا کرنا ہو اور وہ اسے ادا نہ کر سکتا ہو۔ (سنن ابی داؤد)

۶۴۔پہلے اُن پر خرچ کرو جن کی تم پر ذمہ داری ہے

حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: اے آدم ؑ کے فرزندو ! اﷲ کی دی ہوئی دولت جو اپنی ضرورت سے فاضل ہو،اُسے راہِ خدا میں صرف کر دینا تمہارے لئے بہتر ہے اور اس کا روکنا تمہارے لئے برا ہے۔ ہاں گزارے کے بقدر رکھنے پر کوئی ملامت نہیں۔ اور سب سے پہلے ان پر خرچ کرو جن کی تم پر ذمہ داری ہے۔ (صحیح مسلم)

۶۵۔مال جمع کرنے کی بجائے خرچ کرتے رہو

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ ایک دن حضرت بلالؓ کا قیام گاہ پہنچے اور دیکھا کہ ان کے پاس چھواروں کا ایک ڈھیر ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: بلالؓ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس کو آئندہ کے لئے ذخیرہ بنایا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: بلالؓ ! کیا تمہیں اس کا ڈر نہیں ہے کہ کل قیامت کے دن آتش دوزخ میں تم اس کی تپش اور سوزش دیکھو۔ اے بلالؓ ! جو ہاتھ پاس آئے اس کو اپنے پر اور دوسروں پر خرچ کرتے رہو اور عرش عظیم کے مالک سے قلت کا خوف نہ کرو۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۶۶۔صدقہ بُری موت کو دفع کرتا ہے

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ: صدقہ اﷲ کی غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت کو دفع کرتا ہے۔ (جامع ترمذی)

۶۷۔روزِ حشر مومن پر صدقہ کا سایہ ہو گا

مرثد بن عبداﷲ تابعی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے بعض صحابہ کرامؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اﷲﷺ سے یہ بات سنی ہے کہ قیامت کے دن مومن پر اس کے صدقہ کا سایہ ہو گا۔ (مسند احمد)

۶۸۔قصور معاف کرنے سے عزت بڑھتی ہے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی اور قصور معاف کر دینے سے آدمی نیچا نہیں ہوتا بلکہ اس کی عزت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور جو بندہ اﷲ کے لئے فروتنی اور خاکساری کا رویہ اختیار کرے اﷲ تعالیٰ اس کو رفعت اور بالاتری بخشے گا۔ (صحیح مسلم)

۶۹۔ضرورت مندوں کو کھلانا اور پلانا

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جس کسی نے اپنے مسلمان بھائی کو ضرورت کے وقت پہننے کو کپڑا دیا، اﷲ تعالیٰ اس کو جنت کا سبز لباس پہنائے گا۔ جس مسلمان نے اپنے مسلمان بھائی کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلایا اﷲ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل اور میوے کھلائے گا۔ اور جس مسلمان نے پیاس کی حالت میں مسلمان بھائی کو پانی پلایا تو اﷲ تعالیٰ اس کو جنت کی سر بمہر شراب طہور پلائے گا۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)

۷۰۔مال خرچ کرنے کی مسنون ترتیب

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اﷲﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک دینار ہے، اسے کہاں خرچ کروں ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ اپنی ضرورتوں پر خرچ کرو۔ اس نے کہا کہ اس کے لئے میرے پاس اور ہے۔ آپﷺ نے فرمایا تو اس کو اپنی اولاد کی ضروریات پر خرچ کرو۔ اس نے کہا کہ اس کے لئے میرے پاس اور ہے۔ آپﷺ نے فرمایا تو اس کو اپنی بیوی کی ضروریات پر خرچ کرو۔ اس نے کہا کہ اس کے لئے میرے پاس اور ہے۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ پھر اس کو اپنے غلام اور خادم پر صرف کر دو۔ اس نے کہا کہ اس کے لئے میرے پاس اور ہے۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ تم زیادہ واقف ہو کہ تمہارے اہل قرابت میں کون زیادہ ضرورت مند اور مستحق ہے۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی)

۷۱۔رشتہ داروں کو صدقہ دینے کا دُہرا اجر ہے

حضرت سلیمان بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: کسی اجنبی مسکین کو اﷲ کے لئے کچھ دینا صرف صدقہ ہے اور اپنے کسی قریبی عزیز کو اﷲ کے لئے کچھ دینے میں دو طرح کا ثواب ہے۔ ایک یہ کہ وہ صدقہ ہے اور دوسرے یہ کہ وہ صلہ رحمی ہے جو بجائے خود بڑی نیکی ہے۔(مسند احمد،جامع ترمذی، سنن نسائی، ابن ماجہ، سنن دارمی)

۷۲۔ رمضان میں شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنات جکڑ دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے سارے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بھی کھلا نہیں رہتا اور جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔جنت کا کوئی دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا۔ اﷲ کا منادی پکارتا ہے کہ اے خیر اور نیکی کے طالب قدم بڑھا و۔ اور اے بدی اور بد کر داری کے شائق رک جاؤ۔ اﷲ کی طرف سے بہت سے گناہ گار بندوں کو دوزخ سے رہائی دی جاتی ہے۔ اور یہ سب رمضان کی ہر رات میں ہوتا رہتا ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

۷۳۔رمضان کا ایک فرض ستر فرضوں کے برابر ہے

حضرت سلمانؓ سے روایت ہے کہ ماہ شعبان کی آخری تاریخ کورسول اﷲﷺ نے ایک خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک برکت والا مہینہ سایہ افگن ہو رہا ہے۔ اس مبارک مہینہ کی ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس مہینے کے روزے اﷲ تعالیٰ نے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہونے کو نفل عبادت مقرر کیا ہے۔اس مہینے میں غیر فرض عبادت کا ثواب دوسرے زمانہ کے فرضوں کے برابر ہے اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کاثواب دوسرے زمانے کے ستر فرضوں کے برابر ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اس کے لئے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہو گا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔ اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلا دے اس کو اﷲ تعالیٰ میرے حوض کوثر سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی حتیٰ کہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا۔اس ماہ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے۔(بیہقی)

۷۴۔شبِ قدر میں مانگنے کی دُعا

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲﷺ سے عرض کیا کہ مجھے بتائیے کہ اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات شب قدر ہے تو میں اس رات اﷲ سے کیا عرض کروں اور کیا دعا مانگوں ؟ آپ نے فرمایا یہ عرض کرو: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوَّ کَرِیْمً تُحِبُّ الْْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ اے میرے اﷲ!تو بہت معاف فرمانے والا اور بڑا کرم فرما ہے، اور معاف کر دینا تجھے پسند ہے۔ پس تو میری خطائیں معاف فرما دے۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ)

۷۵۔ اعتکاف کے شرعی قواعد و ضوابط

حضرت عائشہ صدیقہؓ معتکف کے لئے شرعی دستور اور ضابطہ روایت کرتی ہیں کہ وہ نہ تو مریض کی عیادت کو جائے اور نہ ہی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے باہر نکلے۔ عورت سے صحبت کرے نہ بوس و کنار۔ سوائے رفع حاجت وغیرہ کے معتکف اپنی دیگر ضرورتوں کے لئے بھی مسجد سے باہر نہ جائے۔ اور اعتکاف جامع مسجد میں روزہ کے ساتھ ہونا چاہئے کیونکہ بغیر روزہ کے اعتکاف نہیں ہوتا (سنن ابی داؤد)

۷۶۔معتکف گناہوں سے بچا رہتا ہے

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ وہ گناہوں سے بچار ہتا ہے۔ اس کا نیکیوں کا حساب ساری نیکیاں کرنے والے بندے کی طرح جاری رہتا ہے اور نامہ اعمال میں لکھا جاتا رہتا ہے۔(ابن ماجہ)

۷۷۔رمضان کے چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ ماہ شعبان کے دن اور اس کی تاریخیں جتنے اہتمام سے یاد رکھتے تھے اتنے اہتمام سے کسی دوسرے مہینے کی تاریخیں یاد نہیں رکھتے تھے۔ پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے تھے۔ اور اگر ۲۹ شعبان کو چاند دکھائی نہ دیتا تو ۳۰ دن کا شمار پورا کر کے پھر روزے رکھتے تھے۔(سنن ابی داؤد)

۷۸۔روزہ افطار میں تاخیر نہ کرنا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اپنے بندوں میں مجھے وہ بندہ زیادہ محبوب ہے جو روزہ کے افطار میں جلدی کرے۔ یعنی غروب آفتاب کے بعد بالکل دیر نہ کرے۔ (جامع ترمذی)

۷۹۔کھجور یا پانی سے روزہ افطار کرنا

حضرت سلمان بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ کھجور سے افطار کرے۔ اگر کھجور نہ پائے تو پھر پانی ہی سے افطار کرے۔ اس لیے کہ پانی کو اﷲ تعالیٰ نے طہور بنایا ہے۔(مسند احمد، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی)

۸۰۔مجاہد کی مدد کا ثواب

حضرت زید بن خالدؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جس کسی نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، یا کسی مجاہد کو جہاد کا سامان دیا تو اس کو روزہ دار اور مجاہد کے مثل ہی ثواب ملے گا۔ (شعب الایمان للبیہقی و شرح السنۃ للبغوی)

۸۱۔ حیض کے روزوں کی قضا ہے، نماز کی نہیں

ایک تابعی خاتون معاذہ عدویہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے کہ ایام حیض میں جو روزے قضا ہوتے ہیں ان کی تو قضا ہو جاتی ہے اور جو نمازیں قضا ہوتی ہیں ان کی قضا نہیں پڑھی جاتی؟ ام المومنین نے فرمایا کہ رسول اﷲﷺ کے زمانے میں جب ہم اس میں مبتلا ہوتے تھے تو ہم کو ان دنوں کے قضا شدہ روزے رکھنے کا حکم دیا جاتا تھا اور قضا نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ (صحیح مسلم)

۸۲۔بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جس نے روزہ کی حالت میں بھول کر کچھ کھا لیا یا پی لیا تو وہ قاعدہ کے مطابق اپنا روزہ پورا کرے۔ کیونکہ اس کو اﷲ نے کھلایا اور پلایا ہے۔ ( صحیح مسلم)

۸۳۔ احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: ان تین چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ پچھنے لگوانا، قے ہو جانا اور احتلام۔ ( ترمذی)

۸۴۔روزہ کی حالت میں سرمہ لگانا

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ میری آنکھ میں تکلیف ہے تو کیا میں روزہ کی حالت میں سرمہ لگاسکتا ہوں ؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں ! لگاسکتے ہو۔ (جامع ترمذی)

۸۵۔روزہ میں گرمی کی شدت کی وجہ سے نہانا

رسول اﷲﷺ کے بعض اصحاب سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اﷲﷺ کو روزے کی حالت میں دیکھا کہ آپﷺ پیاس یا گرمی کی شدت کی و جہ سے سر مبارک پر پانی بہار ہے تھے۔ (موطا امام مالک، سنن ابی داؤد)

۸۶۔بوس و کنار سے روزہ میں فرق نہیں پڑتا

حضرت جابر بن عبداﷲ انصاریؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ روزے کی حالت میں میں نے اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا۔ جب میں نے رسول اﷲﷺ سے عرض کیا کہ میں نے روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا ہے ؟ تو آپﷺ نے فرمایا: بتاؤ اگر تم پانی منہ میں لے کر کلی کروتو کیا اس سے تمہارے روزہ میں خرابی آئے گی؟ میں نے عرض کیا اس سے تو کوئی خرابی نہ آئے گی۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ پھر خالی بوسہ لینے سے بھی کچھ نہیں ہوا۔ (سنن ابی داؤد)

۸۷۔روزے جسم کی زکوٰۃ ہیں

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: ہر چیز کی کوئی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ)

۸۸۔ رمضان اور شوال کے چھ روزے

حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جس نے ماہ رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد ماہ شوال میں چھ نفلی روزے رکھے تو اس کا یہ عمل ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہو گا۔ ( مسلم)

۸۹۔عاشورہ اور عشرہ ذی الحجہ کے روزے

حضرت حفصہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ چار چیزوں کو کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔(۱) عاشورہ کا روزہ (۲) عشرۂ ذی الحجہ یعنی یکم ذی الحجہ سے یوم العرفہ نویں ذی الحجہ تک کے روزے (۳) ہر مہینے کے تین روزے (۴) اور قبل فجر کی دو رکعتیں۔(سنن نسائی)

۹۰۔ تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں کا روزہ

حضرت قتادہ بن ملحانؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ ہم لوگوں کو حکم فرماتے تھے کہ ہم ایام بیض یعنی مہینہ کی تیرھویں، چودھویں، پندرھویں کو روزہ رکھا کریں۔ اور فرماتے تھے کہ مہینے کے ان تین دنوں کے روزے رکھنا اجر و ثواب کے لحاظ سے ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی)

۹۱۔عشرۂ ذی الحج: روزے اور نوافل کی فضیلت

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: دنوں میں سے کسی دن میں بھی بندے کا عبادت کرنا اﷲ تعالیٰ کو اتنا محبوب نہیں جتنا کہ عشرۂ ذی الحجہ میں۔اس عشرہ کے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے۔ اس کی ہر رات کے نوافل شب قدر کے نوافل کے برابر ہیں (ترمذی)

۹۲۔شبِ برات کی اہمیت و فضیلت

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جب شعبان کی پندرھویں رات آئے تو اس رات میں اﷲ کے حضور میں نوافل پڑھو اور اس دن کو روزہ رکھو کیونکہ اس رات میں آفتاب غروب ہوتے ہی اﷲ تعالیٰ کی خاص تجلی اور رحمت پہلے آسمان پر اتر آتی ہے اور وہ ارشاد فرماتا ہے کہ: کوئی بندہ ہے جو مجھ سے مغفرت اور بخشش طلب کرے اور میں اس کی مغفرت کا فیصلہ کروں۔ کوئی بندہ ہے جو روزی مانگے اور میں اس کی روزی دینے کا فیصلہ کروں۔ کوئی مبتلائے مصیبت بندہ ہے جو مجھ سے صحت و عافیت کا سوال کرے اور میں اس کو عافیت عطا کروں۔ اسی طرح مختلف قسم کے حاجت مندوں کو اﷲ پکارتا ہے کہ وہ اس وقت مجھ سے اپنی حاجتیں مانگیں اور میں عطا کروں۔ غروب آفتاب سے لے کر صبح صادق تک اﷲ تعالیٰ کی رحمت اسی طرح اپنے بندوں کو اس رات میں پکارتی رہتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ)

۹۳۔ نفلی روزہ توڑنے پر قضا واجب ہے

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں اور حفصہ رضی اﷲ عنہا دونوں نفلی روزے سے تھیں۔ ہمارے سامنے کھانا پیش کیا گیا جس کو کھانے کا ہمارا جی چاہا اور ہم نے اس کو کھا لیا۔ پھر حفصہؓ نے رسول اﷲﷺ سے سارا معاملہ عرض کیا تو آپﷺ نے فرمایا: اس کی جگہ کسی دن قضا روزہ رکھو۔( امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک یہ قضا واجب ہے جب کہ امام شافعیؒ کے نزدیک صرف مستحب ہے ) (جامع ترمذی)

۹۴۔فرض حج ادا نہ کرنے پر نبیؐ کا اظہار ناراضگی

حضرت علی مرتضیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان ہو اور اس کو سواری میسر ہو جو بیت اﷲ تک اس کو پہنچا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔ایسا اس لئے ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :’’اﷲ کے لئے بیت اﷲ کا حج فرض ہے ان لوگوں پر جو اس تک جانے کی استطاعت رکھتے ہوں ‘‘۔ (جامع ترمذی)

۹۵۔ حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو

حضرت عبداﷲ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو کیونکہ حج اور عمرہ دونوں فقر و محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جس طرح لوہا اور سنا ر کی بھٹی لوہے اور سونے چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے۔ اور ’’حج مبرور ‘‘ کا صلہ اور ثواب تو بس جنت ہی ہے۔(جامع ترمذی، سنن نسائی)

۹۶۔حج کر کے آنے والے سے دعا کروانا

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جب کسی حج کرنے والے سے تمہاری ملاقات ہو تو اس کے اپنے گھر میں پہنچنے سے پہلے اس کو سلام کرو اور مصافحہ کرو اور اس سے مغفرت کی دعا کے لئے کہو۔ کیونکہ وہ اس حال میں ہے کہ اس کے گناہوں کی مغفرت کا فیصلہ ہو چکاہے (مسند احمد)

۹۷۔حج یا جہاد کے راستے میں مرنے پر اجر

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ اﷲ کا جو بندہ حج یا عمرہ کی نیت سے یا راہ خدا میں جہاد کے لئے نکلا۔پھر راستہ ہی میں اس کو موت آ گئی تو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اس کے واسطے وہی اجر و ثواب لکھ دیا جاتا ہے جو حج و عمرہ کرنے والوں کے لئے یاراہ جہاد کرنے والے کے لیے مقرر ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۹۸۔مرد حالتِ احرام میں کیا پہنیں

حضرت عبداﷲ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اﷲﷺ سے دریافت کیا کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والا کیا کیا کپڑے پہن سکتا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ حالت احرام میں نہ تو قمیض پہنو اور نہ پاجامہ۔ نہ ہی سر پر عمامہ پہنو اور نہ پاؤں میں موزے پہنو۔ ایسا کوئی کپڑا بھی نہ پہنو جس کو زعفران یا خوشبو لگا ہو۔ (صحیح مسلم)

۹۹۔عورتیں حالتِ احرام میں کیا پہنیں

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: عورتوں کو احرام کی حالت میں دستانے پہننے اور چہرے پر نقاب ڈالنے اور زعفران یا خوشبو لگے کپڑوں کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ ان کے علاوہ جو رنگین کپڑے وہ چاہیں پہن سکتی ہیں۔ اسی طرح وہ چاہیں تو زیور بھی پہن سکتی ہیں اور شلوار اور قمیض اور موزے بھی پہن سکتی ہیں۔ (سنن ابی داؤد)

۱۰۰۔تلبیہ بلند آواز سے پڑھنے کا حکم

خلاد بن سائب تابعی اپنے والد سائب بن خلاد انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ: میرے پاس جبرئیلؑ آئے اور انہوں نے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مجھے حکم پہنچایا کہ میں اپنے ساتھیوں کو حکم دوں کہ تلبیہ بلند آواز سے پڑھیں۔ (موطا امام مالکؒ، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی)

۱۰۱۔حاجی کا تلبیہ پڑھنا، دیگر مخلوق بھی لبیک کہتی ہیں

حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: اﷲ کا مومن و مسلم بندہ جب حج یا عمرہ کا تلبیہ پکارتا ہے۔تو اس کے داہنی طرف اور بائیں طرف اﷲ کی جو بھی مخلوق ہوتی ہے خواہ وہ بے جان پتھر اور درخت یا ڈھیلے ہی ہوں وہ بھی اس بندے کے ساتھ لبیک کہتی ہیں۔ ( ترمذی، ابن ماجہ)

۱۰۲۔ تلبیہ کے بعد جنت کی دعا اور دوزخ سے پناہ مانگنا

عمارہ بن خزیمہ بن ثابت انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ جب احرام باندھ کر تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اﷲ تعالیٰ سے اس کی رضا اور جنت کی دعا کرتے اور اس کی رحمت سے دوزخ سے خلاصی اور پناہ مانگتے (مسند شافعی)

۱۰۳۔طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرنا

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ مکہ پہنچے تو سب سے پہلے حجر اسود پر آئے اور اس کا استلام کیا۔ پھر آپ نے داہنی طرف طواف شروع کیا۔ پہلے تین چکروں میں آپﷺ نے رمل کیا اور اس کے بعد چار چکروں میں آپ اپنی عام رفتار سے چلے۔ ( مسلم)

۱۰۴۔طواف میں گفتگو کی اجازت ہے

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ بیت اﷲ کا طواف نماز کی طرح کی عبادت ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ طواف میں تم کو باتیں کرنے کی اجازت ہے۔ جو کوئی طواف کی حالت میں کسی سے بات کرے تو نیکی اور بھلائی کی بات کرے۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن دارمی)

۱۰۵۔حجر اسود اور رکن یمانی پر ہاتھ پھیرنا

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲﷺ سے سنا کہ حجر اسود اور رکن یمانی ان دونوں پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کے کفار ہ کا ذریعہ ہے۔ جس نے اﷲ کے اس گھر کا سات بار طواف کیا اور اہتمام اور فکر کے ساتھ کیا تو اس کا یہ عمل ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا۔ بندہ طواف کرتے ہوئے جب ایک قدم رکھ کر دوسرا قدم اٹھائے گا تو اﷲ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلہ ایک گناہ معاف کرے گا اور ایک نیکی کا ثواب اس کے لئے لکھا جائے گا (ترمذی)

۱۰۶۔ حشر میں حجر اسود استلام کرنے والوں کی شہادت دے گا

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا: خدا کی قسم! قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اس کو نئی زندگی دے کر اس طرح اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا۔ اور زبان ہو گی جس سے وہ بولے گا۔ جن بندوں نے اس کا استلام کیا ہو گیا ان کے حق میں سچی شہادت دے گا۔ ( ترمذی، ابن ماجہ، سنن دارمی)

۱۰۷۔رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان کی دعا

حضرت عبداﷲ بن السائبؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو حالتِ طواف میں رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْا خِٰرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ (سنن ابی داؤد)

۱۰۸۔رکن یمانی پر ستر فرشتے دعاؤں پر آمین کہتے ہیں

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ: رکن یمانی پر ستر فرشتے مقرر ہیں جوہر اس بندے کی دعا پر امین کہتے ہیں جو اسکے پاس یہ دعا کرے کہ : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ ا الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْا خِٰرَۃِ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْا خِٰرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ (اے اﷲ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت مانگتا ہوں۔ اے پروردگار! ہم کو دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی، اور دوزخ کے عذاب سے ہم کو بچا!)۔ (سنن ابن ماجہ)

۱۰۹۔منیٰ میں رَمی دو دن بھی جائز ہے

عبدالرحمن بن یعمر دئلی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو فرماتے سنا: حج وقوف عرفہ ہے۔ جو حاجی مزدلفہ والی رات یعنی ۹اور۱۰ ذی الحجہ کی درمیانی شب میں بھی صبح صادق سے پہلے عرفات میں پہنچ جائے تو اس نے حج پا لیا اور اس کا حج ہو گیا۔منیٰ میں قیام کے تین دن میں (جن میں تینوں جمروں کی رمی کی جاتی ہے ۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ) اگر کوئی آدمی صرف دو دن میں یعنی۱۱، ۱۲ ذی الحجہ کو رمی کر کے منیٰ سے چل دے تو اس میں بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ ( ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی)

۱۱۰۔ یومِ عرفہ: اللہ کی رحمت قریب آ جاتی ہے

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں اﷲ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ اپنے بندوں کے لئے جہنم سے آزادی اور رہائی کا فیصلہ کرتا ہو۔ اس دن اﷲ تعالیٰ اپنی صفت ر حمت کے ساتھ عرفات میں جمع ہونے والے اپنے بندوں کے بہت ہی قریب ہو جاتا ہے اور ان پر فخر کرتے ہوئے فرشتوں سے کہتا ہے کہ دیکھتے ہو!میرے یہ بندے کس مقصد سے یہاں آئے ہیں ؟(صحیح مسلم)

۱۱۱۔یومِ عرفہ پر رحمتِ الٰہی اور شیطان کی پریشانی

تابعی حضرت طلحہ بن عبید اﷲ کریز سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ: شیطان کسی دن بھی اتنا ذلیل خوار، پھٹکارا ہوا اور جلا بھنا ہوا نہیں دیکھا گیا جتنا وہ عرفہ کے دن دیکھا جاتا ہے۔ ایسا صرف اس لیے ہے کہ وہ اس دن رحمتِ الٰہی کوبرستے ہوئے اور بڑے بڑے گناہوں کی معافی کا فیصلہ ہوتے دیکھتا ہے۔(موطا امام مالک)

۱۱۲۔جمرات کی رَمی اور صفا و مروہ کی سعی

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جمرات پر کنکریاں پھینکنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا ذکر اﷲ کی گرم بازاری کے وسائل ہیں۔(جامع ترمذی، سنن دارمی)

۱۱۳۔یومِ نحر سب سے عظمت والا دن ہے

حضرت عبداﷲ بن قرطؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: اﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن یوم النحر(۱۰ ذی الحجہ) ہے۔ اس کے بعد اس سے اگلا دن یوم القر(۱۱ذی الحجہ) کا درجہ ہے۔ اس کے بعد (یعنی ۱۲ ذی الحجہ) اگر کی جائے تو ادا تو ہو جائے گی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ پانچ یا چھ اونٹ کے لئے رسول اﷲﷺ کے قریب لائے گئے تو ان میں سے ہر ایک آپ کے قریب ہونے کی کوشش کرتا تھا، تاکہ پہلے اسی کو آپ ذبح کریں۔ (سنن ابی داؤد)

۱۱۴۔ ۱۰؍ ذی الحجہ کی رات کوطوافِ زیارت کرنا

حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے طواف زیارت کو دسویں ذی الحجہ کی رات تک موخر کرنے کی اجازت دی۔(گو طوافِ زیارت ۱۰؍ ذی ا لحجہ کے دن افضل ہے تاہم اس دن کے ختم ہونے کے بعد رات میں بھی کیا جاسکتا ہے )۔حضرت حارث ثقفیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جو شخص حج یا عمرہ کرے تو چاہئے کہ اس کی آخری حاضری بیت اﷲ پر ہو اور آخری عمل طواف ہو۔ (مسند احمد)

۱۱۵۔مکہ میں ہتھیار اٹھانا جائز نہیں

حضرت جابرؓ سے راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے۔ (صحیح مسلم)

۱۱۶۔حرمِ مکہ اور حرمِ مدینہ کے آداب

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: حضرت ابراہیمؑ نے مکہ کے ’’حرم‘‘ ہونے کا اعلان کیا تھا اور میں مدینہ کے ’’حرم‘‘ قرار دیئے جانے کا اعلان کرتا ہوں۔ اس کے دونوں طرف کے دروں کے درمیان پورا رقبہ واجب الاحترام ہے۔ اس میں خوں ریزی کی جائے اور نہ کسی کے خلاف ہتھیار اٹھایا جائے۔ جانوروں کے چارے کی ضرورت کے سوا درختوں کے پتے بھی نہ جھاڑے جائیں۔ (صحیح مسلم)

۱۱۷:ابراہیمؑ نے مکہ اور محمدؐ نے مدینہ کے لیے دعا کی

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ لوگوں کا دستور تھا کہ جب وہ درخت پر نیا پھل دیکھتے تو اس کو لا کر رسول اﷲﷺ کی خدمت میں پیش کرتے۔ آپ اس کو قبول فرما کر اس طر ح دعا فرماتے : اے اﷲ! ہمارے پھلوں اور پیدا وار میں برکت دے۔ ہمارے شہر مدینہ میں برکت دے اور ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت دے۔ الٰہی ! ابراہیمؑ تیرے خاص بندے اور تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں۔ انہوں نے مکہ کے لئے تجھ سے دعا کی تھی اور میں مدینہ کے لئے تجھ سے ویسی ہی دعا کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم)

۱۱۸۔مدینہ میں طاعون داخل نہیں ہو سکتا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں۔ اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہو سکتا۔‘‘ ( صحیح مسلم)

۱۱۹۔مدینہ میں مرنے کی سعادت

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو اس کی کوشش کر سکے کہ مدینہ میں اس کی موت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ مدینہ میں مرے۔ میں ان لوگوں کی ضرور شفاعت کروں گا جو مدینہ میں مریں گے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی)

۱۲۰۔مدینہ میں دفن ہونے کی فضیلت

یحییٰ بن سعید انصاری تابعی صحابی کا واسطہ ذکر کئے بغیر رسول اﷲﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کی موجودگی میں مدینہ کے قبرستان میں کسی میت کی قبر کھودی جا رہی تھی۔ ایک صاحب نے قبر میں جھانک کر دیکھا اور ان کی زبان سے نکلا کہ مسلمان کے لئے یہ اچھی آرام گاہ نہیں۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: یہ تمہاری زبان سے بہت بری بات نکلی۔ روئے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں اپنی قبرکا ہونا مجھے مدینہ سے زیادہ محبوب ہو۔یہ بات آپ نے تین دفعہ ارشاد فرمائی۔ (موطا امام مالک)

۱۲۱۔مسجد نبویؐ میں مسلسل ۴۰ نمازیں ادا کرنا

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جس نے مسجد نبویؐ میں مسلسل ۴۰ نمازیں پڑھیں اور ایک نماز بھی فوت نہیں کی اس کے لئے دوزخ سے نجات اور نفاق سے برات لکھ دی جائے گی۔(مسند احمد، معجم اوسط للطبرانی)

۱۲۲۔ ریاض الجنہ،منبر رسولؐ اور حوض کوثر

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔ میرا منبر میرے حوض کوثر پر ہے۔ (صحیح مسلم)

۱۲۳۔زیارتِ روضہ رسولﷺ کی فضیلت

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا : جس نے حج کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو وہ انہی لوگوں کی طرح ہے جنہوں نے میری حیات میں میری زیارت کی۔ (شعب الایمان للبیہقی، معجم کبیر و معجم اوسط للبطرانی)۔ حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا : جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گی(صحیح ابن خزیمہ، سنن دار قطنی، بیہقی)


٭٭٭

ضمیمہ۔۳: ۱۔ کتاب الاذکار والدعوات ؛ ۲۔ کتاب المعاملات و المعاشرت

۱۔ذکر کی محافل پر فرشتوں اور رحمتوں کا نزول

حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ’’جب بھی اور جہاں بھی بندگانِ خدا، اﷲ کا ذکر کرتے ہیں تو لازمی طور پر فرشتے ہر طرف سے ان کو گھیر لیتے ہیں۔ رحمت الٰہی ان کو اپنے سایہ میں لے لیتی ہے اور ان پر سکینہ کی کیفیت نازل ہوتی ہے۔ اور اﷲ اپنے مقربین ملائکہ میں ان کا ذکر فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم)

۲۔ذکرِ الٰہی کرنے والے بندوں پر اللہ کا فخر

حضرت معاویہؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ ایک دن اپنے اصحاب کے ایک حلقہ کے پاس پہنچے اور ان سے پوچھا۔ ’’آپ لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہیں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا۔’’ہم اﷲ کو یاد کر رہے ہیں اور اس کی حمدو ثناء کر رہے ہیں۔ کیونکہ اُس نے ہمیں ہدایت سے نواز کر احسانِ عظیم فرمایا ہے۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا:ابھی جبرئیلؑ میرے پاس آئے اور انہوں نے بتایا کہ اﷲ تعالیٰ فخر کے ساتھ فرشتوں سے تم لوگوں کا ذکر فرما رہا ہے۔ (صحیح مسلم)

۳۔ذکرِ الٰہی، صدقہ و جہاد سے بھی افضل ہے

حضرت ابو الدرداءؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:کیا میں تم کو وہ عمل بتاؤں جو تمہارے سارے اعمال میں بہتر اور تمہارے مالک کی نگاہ میں دوسرے تمام اعمال سے زیادہ بلند کرنے والا ہے۔ یہ عمل راہِ خدا میں سونا چاندی خرچ کرنے اور جہاد سے بھی زیادہ افضل ہے۔صحابہؓ نے عرض کیا۔’’ یا رسول اﷲ ! ضرور بتائیے۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا۔’’وہ اﷲ کا ذکر ہے۔‘‘ (مسند احمد،جامع ترمذی،سنن ابن ماجہ)

۴۔دیوانگی کی حد تک اللہ کا ذکر کرنا

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اﷲ کا ذکر اتنا اور اس طرح کرو کہ لوگ کہیں کہ یہ دیوانہ ہے۔ (رواہ احمد وابو یعلی)

۵۔ذکر الٰہی کے بغیر کلام سے بے حسی

حضرت عبداﷲ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا :اﷲ کے ذکر کے بغیر زیادہ کلام نہ کیا کرو کیونکہ اس سے دل میں سختی اور بے حسی پیدا ہوتی ہے۔ لوگوں میں وہ آدمی اﷲ سے زیادہ دور ہے جس کے دل میں سختی اور بے حسی ہو۔ (جامع ترمذی)

۶۔افضل ترین چار کلمے

حضرت سمرہ بن جندبؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا : تمام کلموں میں افضل یہ چار کلمے ہیں :’’سُبْحَانَ اﷲِ‘‘ اور ’’اَلْحَمْدُﷲِ ‘‘ اور ’’لاَ اِلہ اِلَّا اﷲُ‘‘ اور ’’اَﷲُ اَکْبَرُ‘‘ (صحیح مسلم)

۷۔رسول اللہﷺ کا محبوب ترین ذکر

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:’’اس دنیا کی وہ تمام چیزیں جن پر سورج کی روشنی اور اس کی شعاعیں پڑتی ہیں ، ان سب چیزوں کے مقابلے میں مجھے یہ زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک دفعہ ’’سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُﷲِ وَلَا اِلہ اِلَّا اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ‘‘ کہوں۔ (صحیح مسلم)

۸۔ سو مرتبہ سُبْحَانَ اﷲِ وَبِحَمْدِہ کہنے کا اجر

حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: جس نے روزانہ سو دفعہ کہا : سُبْحَانَ اﷲِ وَبِحَمْدِہ اس کے قصور معاف کر دیئے جائیں گے اگرچہ کثرت میں سمندر کے جھاگوں کے برابر ہوں۔ ایک اور حدیث میں حضرت ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ سے دریافت کیا گیا کہ :’’کلاموں میں کون سا کلام افضل ہے ؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا:’’وہ کلام جو اﷲ تعالیٰ نے اپنے ملائکہ کے لئے منتخب فرمایا ہے یعنی ’’سبحَانَ اﷲِ وَبِحمْدِہٖ‘‘۔ایک دوسری حدیث میں اُم المومنین حضرت جویریہؓ کہتی ہیں کہ وہ ایک دن نمازِ فجر پڑھنے کے بعد چاشت کے وقت تک بیٹھی اپنے وظیفہ میں مشغول تھیں۔ یہ دیکھ کررسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا:تمہارے پاس سے جانے کے بعد میں نے چار کلمے تین دفعہ کہے ہیں۔ اگر وہ تمہارے اس پورے وظیفے کے ساتھ تولے جائیں جو تم نے آج صبح سے پڑھا ہے تو ان کا وزن بڑھ جائے گا۔ وہ کلمے ’’سُبْحَانَ اﷲِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ ہیں (مسلم)

۹۔سبحان اللہ ساری مخلوق کی تعداد کے مطابق

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اﷲﷺ کے ساتھ ایک بیوی کے پاس پہنچے جو گٹھلیوں پر تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا :’’میں تم کو وہ نہ بتا دوں جو تمہارے لئے اس سے زیادہ افضل ہے۔ تم اس طرح کہو:

سُبْحَانَ اﷲِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِی السَّمَاءِ... وَسُبْحَانَ اﷲِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِی الْاَرْضِ...وَسُبْحَانَ اﷲِ عَدَدَ مَابَیْنَ ذٰلِکَ...وَسُبْحَانَ اﷲِ عَدَدَ مَا ھُوَ خَالِقً.

سبحان اﷲ ساری مخلوق کی تعداد کے مطابق۔ سبحان اﷲ ساری زمینی مخلوقات کی تعداد کے مطابق۔ سبحان اﷲ زمین و آسمان کے درمیان کی ساری مخلوقات کی تعداد کے مطابق جسے وہ قیامت تک پیدا فرمانے والا ہے۔ اور اﷲ اکبر اسی طرح الحمدﷲاسی طرح لا الٰہ الا ﷲ۔ اسی طرح لاحول ولا قوۃ الا باﷲ ( ترمذی ، سنن ابن داؤد)

۱۰۔لَا اِلہ اِلَّا اﷲُ کا ذکر

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: سب سے افضل ذکر ’’لَا اِلہ اِلَّا اﷲُ‘‘ ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن داؤد)

۱۱۔جنت کے خزانوں والا کلمہ

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے مجھ سے ایک دن فرمایا:’’میں تمہیں وہ کلمہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے ؟ میں نے عرض کیا: ضرور بتائیں۔‘‘آپﷺ نے فرمایا:’’وہ ہے : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَا بِاﷲ ( مسلم)

۱۲۔اللہ کے ۹۹ ناموں کی تفصیل

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:’’اﷲ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں جس نے ان کو محفوظ کیا اور ان کی نگہداشت کی وہ جنت میں جائے گا۔ ان ناموں کی تفصیل یہ ہے۔

وہ اﷲ ہے جس کے سوا کوئی مالک و معبود نہیں وہ ہے اَلرَّحْمٰن (بڑی رحمت والا) الرَّحِیْمُ (نہایت مہربان ) الْمَلکُ(حققی بادشاہ اور فرمانروا) اَلْقُدُّوْسُ (نہایت مقدس اور پاک ) اَلْسَّلَامُ (جس کی ذاتی صفت سلامتی ہے )الْمُومِنُ (امن و امان عطا فرمانے والا) اَلْمُھَیْمِنُ (پوری نگہبانی فرمانے والا) اَلْعَزِیْزُ (غلبہ اور عزت جس کی ذاتی صفت ہے ، اور جو سب پر غالب ہے ) اَلْجَبَّارُ (صاحب جبروت ہے ، ساری مخلوق اس کے زیرِ تصرف ہے ) اَلْمُتَکَبِّرُ (کبیریائی اور بڑائی اس کا حق ہے ) اَلْخَالِقُ (پیدا فرمانے والا) اَلْبَارِی (ٹھیک بنانے والا)۔

اَلْمُصَوِّر(صورت گری کرنے والا) اَلْغَفّار (گناہوں کا بہت زیادہ بخشنے والا) اَلقَھَّارُ(سب پر پوری طرح غالب اور قابو یافتہ جس کے سامنے سب عاجز اور مغلوب ہیں ) اَلْوَھَّابُ (بغیر کسی عوض اور منفعت کے خوب عطا فرمانے والا) اَلْرَّزَّاقُ(سب کو روزی دینے والا) اَلْفَتَّاحُ (سب کے لئے رحمت اور رزق کے دروازے کھولنے والا)اَلْعَلِیْمُ (سب کچھ جاننے والا) اَلْقَابِضُ، اَلْبَاسِطُ (تنگی کرنے والا، فراخی کرنے والا۔ یعنی اس کی شان یہ ہے کہ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق کبھی کسی کے حالات میں تنگی پیدا کرتا ہے اور کبھی فراخی کر دیتا ہے ) اَلْخَافِضُ، اَلْرَّافِعُ (پست کرنے والا، بلند کرنے والا) اَلْمُعِزُّ، اَلْمُذِلُّ (عزت دینے والا، ذلت دینے والا)۔

اَلْسَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ(سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا) الْحَکَمُ اَلْعَدْلُ (حاکم حقیقی، سراپا عدل و انصاف) اَللَّطِیْفُ (لطافت اور لطف و کرم جس کی ذاتی صفت ہے ) اَلْخَبِیْرُ (ہر بات سے باخبر) اَلْحَلِیْمُ (نہایت بردبار) اَلْعَظِیْمُ (بڑی عظمت والا، سب سے بزرگ و برتر) الْغَفُوْرُ (بہت بخشنے والا) اَلْشَّکُوْرُ (حسن عمل کی قدر کرنے والا اور بہتر سے بہتر جزا دینے والا) اَلْعَلِیُّ، اَلْکَبِیْرُ (سب سے بالا، سب سے بڑا) اَلْحَفِیْظُ (سب کا نگہبان) اَلْمُقِیْتُ (سب کو سامانِ حیات فراہم کرنے والا) اَلْحَسِیْبُ(سب کے لئے کفایت کرنے والا) اَلْجلِیْلُ (عظیم القدر) اَلْکَرِیْمُ (صاحب کرم) اَلرَّقِیْبُ (نگہدار اور محافظ) اَلْمُجِیْبُ (قبول فرمانے والا) اَلْوَاسِعُ (وسعت رکھنے والا) اَلْحَکِیْمُ (سب کام حکمت سے کرنے والا) اَلْوَدُوْدُ (اپنے بندوں کو چاہنے والا) اَلْمَجِیْدُ (بزرگی والا) اَلْبَاعِثُ(اٹھانے والا،موت کے بعد مُردوں کو جلانے والا) اَلْشَّھِیْدُ (حاضر جو سب کچھ دیکھتا ہے اور جانتا ہے ) اَلْحَقُّ (جس کی ذات اور جس کا وجود اصلاً حق ہے ) اَلْوَکِیْل (کارسازِ حقیقی) اَلْقَوِیُّ، اَلْمَتِیْنُ (صاحب قوت اور بہت مضبوط) اَلْوَلِیُّ(سرپرست مددگار) الْحَمِیْدُ (مستحق حمدو ستائش) اَلْمُحْصِیُ (سب مخلوقات کے بارے میں پوری معلومات رکھنے والا) اَلْمُبْدِیُ، اَلْمُعِیْدُ (پہلا وجود بخشنے والا، دوبارہ زندگی دینے والا) اَلْمُحْیِیُ، اَلْمُمِیْتُ(زندگی بخشنے والا، موت دینے والا)

اَلْحَیُّ (زندۂ جاؤید، زندگی جس کی ذاتی صفت ہے ) اَلْقَیُّوْمُ (خود قائم رہنے والا اور سب مخلوق کو اپنی مشیت کے مطابق قائم رکھنے والا) اَلْوَاجِدُ (سب کچھ اپنے پاس رکھنے والا) اَلْمَاجِدُ (بزرگی اور عظمت والا) اَلْوَاحِدُ، اَلْاَ حَدُ (ایک اپنی ذات میں ، اور یکتا اپنی صفات میں ) اَلْصَّمَدُ (سب سے بے نیاز اور سب اس کے محتاج) اَلْقَادِرُ، اَلْمُقْتَدِرُ (قدرت والا، سب پر کامل اقتدار رکھنے والا) اَلْمُقَدِّمُ، اَلْمُوَّخَّرُ (جسے چاہے آگے کر دینے والا اور جسے چاہے پیچھے کر دینے والا) اَلْاَوَّلُ، اَلْاَ خِرُ (سب سے پہلے اور سب سے آخر والا) اَلْظَّاھِرُ، اَلْبَاطِنُ (بالکل آشکار اور بالکل مخفی) اَلْوَالِیْ (مالک و کارساز) اَلْمُتَعَالِیْ (بہت بلند و بالا) اَلْبَرُّ (بڑا محسن) اَلتَوَّابُ(توبہ کی توفیق دینے والا اور توبہ قبول کرنے والا) اَلْمُنتَقِمُ (مجرمین کو کیفر کر دار کو پہنچانے والا) اَلْعَفُوُّ (بہت معافی دینے والا) اَلرَّوُفُ (بہت مہربان) مَالِکُ الْمُلْکِ (سارے جہان کا مالک) ذُوالْجَلَالِ وَالْاِ کْرَامِ (صاحب جلال اور بہت کرم فرمانے والا) اَلْمُقْسِطُ (حقدار کا حق ادا کرنے والا عادل و منصف) اَلْجَامِعُ (ساری مخلوق کو قیامت کے دن یکجا کرنے والا)

اَلْغَنِیُّ، اَلْمُغْنِی (خود بے نیاز جس کوکسی سے کوئی حاجت نہیں ، اور اپنی عطا کے ذریعہ بندوں کو بے نیاز کر دینے والا) اَلْمَانِعُ (روک دینے والا ہر اس چیز کو جس کو روکنا چاہے ) اَلضَّارُ، اَلنَّافِعُ (اپنی حکمت اور مشیت کے تحت ضرر پہنچانے والا اور نفع پہنچانے والا) اَلنُّوْرُ (سراپا نور) اَلْھَادِی (ہدایت دینے والا) اَلْبَدِیْعُ (بغیر مثالِ سابق کے مخلوق کا پیدا فرمانے والا) اَلْبَاقِی (ہمیشہ رہنے والا جس کو کبھی فنا نہیں ) اَلْوَارِث(سب کے فنا ہو جانے کے بعد باقی رہنے والا) اَلرَّشِیْدُ(صاحب رُشد و حکمت جس کا ہر فعل اور فیصلہ درست ہے ) اَلصَّبُوْرُ (بڑا صابر کہ بندوں کی بڑی نافرمانیاں دیکھتا ہے اور فوراً عذاب بھیج کر ان کو تہس نہس نہیں کر دیتا) ( ترمذی، دعوات کبیر للبیہقی)

۱۳۔اللہ کے اسمِ اعظم کے وسیلہ سے دعا مانگنا

حضرت بریدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ایک آدمی کو اس طرح دُعا کرتے ہوئے سنا:’’اے اﷲ! میں اپنی حاجت تجھ سے مانگتا ہوں بوسیلہ اس کے کہ بس تو اﷲ ہے اور تیرے سوا کوئی مالک و معبود نہیں۔ ایک اور یکتا ہے۔ تو سب سے بے نیاز ہے اور سب تیرے محتاج ہیں۔ نہ کوئی تیری اولاد نہ تو کسی کی اولاد اور نہ تیرا کوئی ہمسر‘‘ رسول اﷲﷺ نے اس بندے کی یہ دُعا سُن کر فرمایا: اس بندے نے اﷲ سے اُس کے اِسم اعظم کے وسیلہ سے دعا کی ہے۔ جب اُس کے وسیلہ سے اُس سے مانگا جائے تو وہ دیتا ہے۔ اور جب اُس کے وسیلہ سے دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)


۱۴۔اسمِ اعظم قرآن کی دو آیتوں میں

حضرت اسماء بنت یزیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ اسم اﷲ الاعظم‘‘ ان دو آیتوں میں موجود ہے۔ ایک۔’’والٰھُکُمْ اِلٰہ واحِد لاَ اِلٰہَ الّا ھُوَالرَّحْمٰنُ الرّحِیْم‘‘ اور دوسری۔ ’’اٰل عمران کی ابتدائی آیت ’’الٓمّٓ اَﷲُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْم‘‘۔ (جامع ترمذی، سنن ابو داؤد ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی)

۱۵۔قرآن میں مشغول رہنے والے کی فضیلت

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس شخص کو قرآن نے مشغول رکھا میرے ذکر سے اور مجھ سے سوال اور دعا کرنے سے تو میں اس کو اس سے افضل عطا کروں گا جو سائلوں اور دعا کرنے والوں کو عطا کرتا ہوں۔ دوسرے کلاموں کے مقابلہ میں اﷲ کے کلام کو ویسی ہی عظمت و فضیلت حاصل ہے جیسی اپنی مخلوق کے مقابلہ میں اﷲ تعالیٰ کو۔ (جامع ترمذی، سنن دارمی، شعب الایمان للبیہقی)

۱۶۔قرآن کو دلچسپی لے کر پڑھا کرو

حضرت عبیدہ ملیکیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:’’اے قرآن والو! قرآن کو اپنا تکیہ اور سہارا نہ بنا لو بلکہ دن اور رات کے اوقات میں اس کی تلاوت کیا کرو جیسا کہ اس کا حق ہے۔ اس کو پھیلاؤ اور اس کو دلچسپی اور مزہ لے لے کر پڑھا کرو۔ اس میں تدبر کرو اور امید رکھو کہ تم اس سے فلاح پا جاؤ گے۔ اس کا عاجل معاوضہ لینے کی فکر نہ کرو۔ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اس کا عظیم ثواب اور معاوضہ ملنے والا ہے ‘‘۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۱۷۔ کامیابی و ناکامی کا پیمانہ قرآن ہو گا

حضرت عمر بن الخطابؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اﷲ تعالیٰ اس کتابِ پاک یعنی قرآن مجید کی وجہ سے بہت سوں کو اونچا کرے گا اور بہت سوں کو نیچے گرائے گا۔ (صحیح مسلم)

۱۸۔قرآن کا ایک حرف پڑھنے پر دس نیکیاں

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے قرآن پاک کا ایک حرف پڑھا اس نے ایک نیکی کمالی اور یہ کہ ایک نیکی اﷲ تعالیٰ کے قانون کے مطابق دس نیکیوں کے برابر ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ’’الٓم‘‘ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک الگ حرف ہے ، لام ایک الگ حرف ہے اور میم ایک الگ حرف ہے۔ (ترمذی، سنن دارمی)

۱۹۔دلوں کے زنگ کو موت کی یاد سے دور کرو

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:’’بنی آدم کے قلوب پر اسی طرح زنگ چڑھ جاتا ہے جس طرح پانی لگ جانے سے لوہے پر زنگ آ جاتا ہے۔ عرض کیا گیا کہ: ’’دلوں کے اس زنگ کے دور کرنے کا ذریعہ کیا ہے ؟‘‘ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’موت کو زیادہ یاد کرنا اور قرآن مجید کی تلاوت‘‘۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۲۰۔ سورۃ فاتحہ قرآن کی سب سے عظیم سورۃ

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ابی بن کعب سے فرمایا کہ:’’کیا تمہاری خواہش ہے کہ میں تم کو قرآن کی وہ سورت سکھاؤں جس کے مرتبہ کی کوئی سورت نہ توریت میں نازل ہوئی نہ انجیل میں ، نہ زبور میں اور نہ قرآن ہی میں ؟‘‘ ابی بن کعبؓ نے عرض کیا ہاں حضورﷺ ! مجھے وہ سورت بتا دیں۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا:’’ تم نماز میں قرأت کس طرح کرتے ہو؟‘‘ابی بن کعبؓ نے آپﷺ کو سورۂ فاتحہ پڑھ کر سنائی۔ آپؐ نے فرمایا:’’قسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ توریت، انجیل، زبور میں سے کسی میں اور خود قرآن میں بھی اس جیسی کوئی سورت نازل نہیں ہوئی۔ یہی وہ’’سبع من المثانی والقران العظیم‘‘ ہے جو مجھے اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ (جامع ترمذی)

۲۱۔جمعہ کے دن سورۃ کہف پڑھنے کی فضیلت

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو شخص جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھے اس کے لئے نور روشن ہو جائے گا دو جمعوں کے درمیان۔ (دعوات الکبیر للبیہقی)

۲۲: سورۃ یٰسین پڑھنے سے سابقہ گناہ معاف

حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جس نے اﷲ کی رضا کے لئے سورۂ یٰسین پڑھی اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ لہٰذا یہ مبارک سورت مرنے والوں کے پاس پڑھا کرو۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۲۳۔ہر رات سورۃ واقعہ پڑھو،فقر و فاقہ سے بچو

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:’’جو شخص ہر رات سورۂ واقعہ پڑھا کرے اسے کبھی فقرو فاقہ کی نوبت نہیں آئے گی۔ خود حضرت ابنِ مسعودؓ کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنی صاحبزادیوں کو اس کی تاکید فرماتے تھے اور وہ ہر رات کو سورۂ واقعہ پڑھتی تھیں۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۲۴۔سورۃ الھاکم التکاثر ہزار آیت کے مساوی

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:’’کیا تم میں سے کوئی یہ نہیں کر سکتا کہ روزانہ ایک ہزار آیتیں قرآن پا ک کی پڑھ لیا کرے ؟‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا: ’’حضورﷺ ! کس میں یہ طاقت ہے کہ روزانہ ایک ہزار آیتیں پڑھے۔آپﷺ نے ارشاد فرمایا:’’کیا تم میں کوئی اتنا نہیں کر سکتا کہ سورۃ’’الھاکم التکاثر‘‘ پڑھ لیا کرے۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۲۵۔نصف، تہائی اور چوتھائی قرآن کے برابر سورتیں

حضرت عبداﷲ ابن عباس اور حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا:’’سورۃ ’’اذازلزلت‘‘ نصف قرآ ن کے برابر ہے اور ’’قل ھو اﷲ احد‘‘ تہائی قرآن کے برابر ہے اور ’’قل یٰٓا یھا الکٰفرون‘‘ چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ (جامع ترمذی)

۲۶۔سورۃ اخلاص کی تلاوت سے جنت واجب

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ایک شخص کو ’’قل ھو اﷲ احد‘‘ پڑھتے ہوئے سنا تو آپﷺ نے فرمایا:’’اس کے لئے واجب ہو گئی ہے ‘‘ میں نے عرض کیا: ’یا رسول اﷲ! کیا چیز واجب ہو گئی؟‘ آپﷺ نے فرمایا:’’جنت‘‘۔ (موطا امام مالک، جامع ترمذی، سنن نسائی)

۲۷۔دُعا سے متکبرانہ روگردانی کرنے والا جہنمی ہے

حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:’’دُعا عین عبادت ہے۔‘‘ اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا: دُعاعین عبادت ہے۔‘‘ اس کے بعد آپﷺ نے سند کے طور پر یہ آیت پڑھی:’’وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ الخ‘‘ تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دُعا کرو اور مانگو۔میں قبول کروں گا اور تم کو دوں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے متکبرانہ روگردانی کریں گے۔ انہیں ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جانا ہو گا۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)

۲۸۔ دعا عبادت کا مغز ہے

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’دعا عبادت کا مغز اور جوہر ہے۔‘‘ ( ترمذی) ایک دوسری حدیث میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ:’’اﷲ کے یہاں کوئی چیز اور کوئی عمل دعا سے زیادہ عزیز نہیں۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

۲۹۔ بندے کی کون سی دُعا اللہ کو محبوب ہے

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:’’تم میں سے جس کے لئے دُعا کا دروازہ کھل گیا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھل گئے۔ اور اﷲ کو دُعاؤں میں سب سے زیادہ محبوب یہ ہے کہ بندے اس سے عافیت کی دُعا کریں۔ یعنی کوئی دُعا اﷲ تعالیٰ کو اس سے زیادہ محبوب نہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:جو اﷲ سے نہ مانگے اس پر اﷲ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ (جامع ترمذی)

۳۰۔ عزم اور قطعیت کے ساتھ دعا مانگنا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اس طرح نہ کہے گا:’’اے اﷲ! تو اگر چاہے تو مجھے بخش دے اور تو چاہے تو مجھ پر رحمت فرما اور تو چاہے تو مجھے روزی دے۔‘‘ بلکہ اپنی طرف سے عزم اور قطعیت کے ساتھ اﷲ کے حضور میں اپنی مانگ رکھے۔ بے شک اللہ کرے گا وہی جو وہ چاہے گا۔ کوئی ایسا نہیں جو زور ڈال کر اس سے کراسکے۔ (صحیح بخاری)

۳۱۔ خوشحالی کے زمانہ میں زیادہ دُعا کرنا

جو کوئی یہ چاہے کہ پریشانیوں اور تنگیوں کے وقت اﷲ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے، تو اس کے چاہئے کہ عافیت اور خوش حالی کے زمانہ میں دعا زیادہ کرے۔ (جامع ترمذی)

۳۲۔ اپنے مال و اولاد کے لیے بد دعا نہ کرنا

حضرت جابرؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’تم کبھی اپنے حق میں یا اپنی اولاد اور مال و جائیداد کے حق میں بد دعا نہ کرو۔ مبادا وہ وقت دعا کی قبولیت کا ہو اور تمہاری وہ دعا اﷲ تعالیٰ قبول فرمال ے۔ (صحیح مسلم)

۳۳۔ دُعا کے بعد ہاتھوں کو چہرہ پر پھیرنا

سائب بن یزید تابعی اپنے والد یزید بن سعید بن ثمامہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کا دستور تھا کہ جب آپﷺ ہاتھ اُٹھا کے دُعا مانگتے تو آخر میں اپنے ہاتھوں کو چہرۂ مبارک پر پھیر لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد، دعوات کبیر للبیہقی)

۳۴۔جہنم سے بچانے والی دُعا

حضرت مسلم بن الحارثؓ سے روایت یہ کہ رسول اﷲﷺ نے ان کو خصوصیت کے ساتھ تلقین فرمائی کہ جب تم مغرب کی نماز ختم کرو تو کسی آدمی سے بات کرنے سے پہلے سات دفعہ یہ دعا کرو:’’اللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّار‘‘ (اے اﷲ! مجھے دوزخ سے پناہ دے )تم نے مغرب کے بعد اگر یہ دعا کی اور اسی رات میں تم کو موت آ گئی تو دوزخ سے تمہارے بچاؤ کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اسی طرح جب تم صبح کی نماز پڑھو تو کسی آدمی سے بات کرنے سے پہلے ساتھ دفعہ اﷲ کے حضور میں عرض کرو ’’اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ‘‘ اگر اُس دن تمہاری موت مقدر ہوئی تو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تم کو دوزخ سے بچانے کا حکم ہو جائے گا۔ (سنن ابی داؤد)

۳۵۔سورۃ روم کی تین آیات کی برکتیں

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ: ’’جو کوئی سورۂ روم کی یہ تین آیتیں صبح ہونے پر تلاوت کرے وہ اس دن کی ساری خیر اور برکتیں پالے گا جو اس سے فوت ہوئی ہوں گی۔ اور اسی طرح جو کوئی شام آنے پر یہ تین آیتیں تلاوت کرے وہ اس رات کی وہ ساری خیر و برکت پالے گا جو اس سے فوت ہوئی ہوں گی۔ وہ آیات یہ ہیں :اﷲ کی پاکی بیان کرو جب تمہارے لئے صبح ہو اور جب شام آئے۔ اور زمین و آسمان میں ہر وقت اس کی حمد و ثناء ہوتی ہے۔ اور چوتھے پہر اور دوپہر کے وقت بھی اس کی پاکی بیان کرو، وہی قادرِ مطلق زندہ کو مَردہ سے اور مُردہ کو زندہ سے برآمد کرتا ہے اور زمین پر مرد گی طاری ہو جانے کے بعد اپنی رحمت سے اسے حیاتِ تازہ بخشتا ہے۔ اور تم بھی اسی طرح مَرنے کے بعد زندہ کر دیئے جاؤ گے۔ (سنن ابی داؤد)

۳۶۔صبح و شام معوذتین پڑھنا کافی ہے

حضرت عبداﷲ بن خبیبؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’شام کو اور صبح کو یعنی دن شروع ہونے پر اور رات شروع ہونے پر تم قل ھو اﷲ احد اور قل اعوذ برب الفلق ’قل اعوذ برب الناس تین بار پڑھ لیا کرو۔ یہ ہر چیز کے واسطے تمہارے لئے کافی ہوں گی۔ (سنن ابی داؤد)

۳۷۔سوتے میں ڈر جانے کی دعا

حضرت عبداﷲ بن عمر و بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سوتے میں ڈر جائے تو یوں دُعا کرے :’’اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اﷲِ التَّامَّاتِ .تا وَاَنْ یَّحْضُرُوْنَ۔‘‘ (میں پناہ مانگتا ہوں اﷲ کے کلمات تامات کے ذریعہ خود اس کے غضب اور عذاب سے اور اسک ے بندوں کے شر سے اور شیطانی وَساوِس و اثرات سے اور اس بات سے کہ شیاطین میرے پاس آئیں اور مجھے ستائیں )۔حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ کے صاحبزادے حضرت شعیب کا بیان ہے کہ ہمارے والد ماجد کا یہ دستور تھا کہ ان کی اولاد میں جو بڑے اور بالغ ہو جاتے وہ یہ دعا ان کو تلقین فرماتے تاکہ وہ اس کو اپنا معمول بنا لیں۔ اور جو بچے چھوٹے ہوتے تو یہی دعا ایک کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں بطور تعویذ کے ڈال دیتے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)

۳۸۔گھر سے باہر نکلنے کی دعا

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جب کوئی آدمی اپنے گھر سے نکلے اور نکلتے وقت کہے :’’بِسْمِ اﷲِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اﷲِٗ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲ۔‘‘ تو عالمِ غیب میں اس آدمی سے کہا جاتا ہے :’’اﷲ کے بندے تیرا یہ عرض کرنا تیرے لئے کافی ہے۔ تجھے پوری رہنمائی مل گئی اور تیری حفاظت کا فیصلہ ہو گیا۔‘‘ اور شیطان مایوس و نامراد ہو کر اس سے دور ہو جاتا ہے۔ (جامع ترمذی و سنن ابی داؤد)

۳۹۔عورت سے نکاح کرنے کے بعد کی دعا

حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ہدایت فرمائی کہ:’’جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو اپنے نکاح میں لائے اور بیوی بنائے یا خدمت کے لئے غلام یا باندی خریدے تو یہ دعا کرے :’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ تاوَشَرِّمَا جَبَلْتَھَا عَلَیْہِ۔‘‘ (اے اﷲ! اس میں اور اس کی فطرت میں جو خیر اور بھلائی ہو، میں تجھ سے اس کی استدعا کرتا ہوں اور اس میں اور اس کی فطرت میں جو شر اور برائی ہو اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ)

۴۰۔فکر و پریشانی کے وقت کی دعا

حضرت انسؓ سے روایت ہے رسول اﷲﷺ کو جب کوئی فکر اور پریشانی لاحق ہوتی تو آپﷺ کی دعا یہ ہوتی تھی:’’یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ بِرَ حْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ۔‘‘ (اے حی وقیوم! بس تیری رحمت سے مدد چاہتا ہوں ) اور دوسروں سے ) فرماتے :’’اَلَظُّوْ ابِیَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِ کْرَام۔‘‘ (یا ذالجلال والا کرام سے چمٹے رہو) یعنی (اس کلمہ کے ذریعہ اﷲ سے استغاثہ اور فریاد کرتے رہو۔ (جامع ترمذی)

۴۱۔حَسْبُنَا اﷲُ وَنِعْمَ الْوَ کِیْل

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:جب کوئی بھاری اور بہت مشکل معاملہ پیش آ جائے تو کہو:حَسْبُنَا اﷲُ وَنِعْمَ الْوَ کِیْلُ وہی سب کام سپرد کرنے کے لئے اچھا ہے (ابن مردود یہ)

۴۲۔بڑھاپے میں روزی میں وسعت کی دعا

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے رسول اﷲﷺ سے یہ دعا روایت کی ہے :اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ تا وَاِنْقِطَاعِ عُمُرِیْ۔اے اﷲ! میرے بڑھاپے کے دنوں میں اور میری عمر کے آخری حصے میں میری روزی میں زیادہ سے زیادہ وسعت فرما۔ (مستدرک حکم)

۴۳۔اللہ کے حضور توبہ کرتے رہو

حضرت اغر مزنیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: لوگو! اﷲ کے حضور میں توبہ کرو۔ میں خود دن میں سو سو دفعہ اس کے حضور میں توبہ کرتا ہوں (مسلم)

۴۴۔خطا کاروں میں اچھا کون ہے ؟

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ہر آدمی خطا کار ہے مگر خطا کاروں میں وہ بہت اچھے ہیں جو خطا کے بعد مخلصانہ تو بہ کریں اور اﷲ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو جائیں۔ ( ترمذی، ابنِ ماجہ، دارمی)

۴۵۔گناہ سے توبہ کر لینے والا بے گناہ جیسا ہے

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: گناہ سے توبہ کر لینے والا گناہگار بندہ بالکل اُس بندے کی طرف ہے جس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔ (سنن ابن ماجہ، شعب الایمان للبیہقی)

۴۶۔عام مسلمانوں کے لیے مغفرت مانگنے کا اجر

حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جو بندہ عام ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لئے اﷲ تعالیٰ سے مغفرت مانگے گا اس کے لئے ہر مومن مرد و عورت کے حساب سے ایک ایک نیکی لکھی جائے گی۔ (معجم کبیر للطبرانی)

۴۷۔نبیﷺ پر ایک درود بھیجنے کا اجر

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: جو بندہ مجھ پر ایک صلوٰۃ بھیجے اﷲ تعالیٰ اس پر دس صلوٰاتیں بھیجتا ہے اور اس کی دس خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں اور اس کے دس درجے بلند کر دئیے جاتے ہیں۔ (سنن نسائی)

۴۸۔نبیؐ سے قیامت میں قریب تر کون ہو گا

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مجھ سے قریب ترین اور مجھ پر زیادہ حق رکھنے والا میرا وہ اُمتی ہو گا جو مجھ پر زیادہ صلوٰۃ بھیجنے والا ہو گا۔ (جامع ترمذی)

۴۹۔درود بھیجے بغیر کی گئی دُعا معلق رہتی ہے

حضرت عمر بن الخطابؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: دعا آسمان اور زمین کے درمیان ہی رکی رہتی ہے اوپر نہیں جاسکتی جب تک کہ نبی پاکﷺ پر درود نہ بھیجا جائے۔ (جامع ترمذی)

۵۰۔اُمتیوں کا درودنبیؐ تک کیسے پہنچتا ہے ؟

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ: اﷲ کے کچھ فرشتے ہیں جو دنیا میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور میرے اُمتیوں کا سلام و صلوٰۃ مجھے پہنچاتے ہیں۔ (سنن نسائی، مسند دارمی)

۵۱۔روضہ پر پڑھا گیا درود نبیؐ خود سنتے ہیں

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: جو آدمی میری قبر کے پاس مجھ پر درود بھیجے گا،وہ میں خود سنوں گا۔ اور جو کہیں دُور سے بھیجے گا تو وہ مجھے پہنچا یا جائے گا۔ (شعب الایمان، للبیہقی)

۵۲۔لڑکے کا عقیقہ دو بکری لڑکی کا عقیقہ ایک بکری

حضرت عبداﷲ بن عمر و بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسولا ﷲﷺ نے فرمایا جس کے بچہ پیدا ہوا اور وہ اس کی طرف سے عقیقہ کی قربانی کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرے۔ (سنن ابی داؤد ، سنن نسائی)

۵۳۔حسنؓ وحسینؓ کا عقیقہ ایک ایک مینڈھا

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے اپنے نواسوں حسنؓ اور حسینؓ کا عقیقہ کیا اور ایک ایک مینڈھا ذبح کیا۔ (سنن ابی داؤد)

۵۴۔عقیقہ کے بعد سر کے بال منڈانا

حضرت علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے حسنؓ کے عقیقہ میں ایک بکری کی قربانی کی اور اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ سے فرمایا کہ اس کا سر صاف کر دو اور بالوں کے وزن بھر چاندی صدقہ کر دو۔ ہم نے وزن کیا تو وہ ایک درہم کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم تھے۔ (جامع ترمذی)

۵۵۔عبداللہ اور عبدالرحمن پسندیدہ نام ہیں

حضرت عبداﷲ عمرؓ راوی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: تمہارے ناموں میں اﷲ کو سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نام عبداﷲ اور عبدالرحمن ہیں۔( مسلم)

۵۶۔دس سال کے بچوں کے لیے ہدایات

حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: تمہارے بچے جب سات سال کے ہو جائیں تو ان کو نمازی کی تاکید کرو اور جب دس سال ہو جائیں تو نماز میں کوتاہی کرنے پر ان کو سزا دو اور ان کے بستر بھی الگ کر دو۔ (سنن ابی داؤد)

۵۷۔ بیٹی کی عمدہ پرورش پر جنت کی خوشخبری

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جس شخص کے ہاں لڑکی پیدا ہو پھر وہ نہ تو اسے کوئی ایذاء پہنچائے اور نہ اس کی توہین اور ناقدری کرے، اور نہ محبت اور برتاؤ میں لڑکوں کو اس پر ترجیح دے تو اﷲ تعالیٰ لڑکی کے ساتھ اس حسنِ سلوک کے صِلے میں اس کو جنت عطا فرمائے گا۔ (مسند احمد)

۵۸۔ تین بیٹیوں، بہنوں کا بار اٹھانے کا اجر

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا :جس بندے نے تین بیٹیوں یا تین بہنوں یا دو ہی بیٹیوں یا بہنوں کا بار اٹھایا اور ان کی اچھی تربیت کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور پھر ان کا نکاح بھی کر دیا تو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اُس بندے کے لیے جنت کا فیصلہ ہے۔ ( ابو داؤد، ترمذی)

۵۹۔اولاد کی شادی نہ کرنے پر باپ ذمہ دار ہو گا

حضرت ابو سعید خدری اور حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کو اﷲ تعالیٰ اولاد دے تو چاہئے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو اچھی تربیت دے اور سلیقہ سکھائے۔ پھر جب وہ سنِ بلوغت کو پہنچے تو اس کے نکاح کا بندوبست کرے۔ اگر شادی کی عمر کو پہنچ جانے پر بھی اس کی شادی کا بندوبست نہیں کیا اور وہ اس کی وجہ سے حرام میں مبتلا ہو گیا تو اس کا باپ اس گناہ کا ذمہ دار ہو گا۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۶۰۔والدین کی اجازت کے بغیر ہجرت نہ کرنا

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن سے ہجرت کر کے حضورﷺ کی خدمت میں پہنچا تو آپﷺ نے اس سے پوچھا:کیا یمن میں تمہارا کوئی ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ: ہاں میرے والدین ہیں۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا: کیا انہوں نے تم کو اجازت دی ہے ؟ اس نے عرض کیا: ایسا تو نہیں ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: تو پھر ماں باپ کے واپس جاؤ اور یہاں آنے کی ان سے اجازت مانگو۔ اگر وہ تمہیں اجازت دے دیں تو آؤ اور جہاد میں لگ جاؤ۔ اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو ان کی خدمت کرتے رہو۔ (سنن ابی داؤد، مسند احمد)

۶۱۔ماں کے قدموں تلے جنت ہے

معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے کہ میرے والد جاہمہ رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ: ’’میرا ارادہ جہاد میں جانے کاہے اور میں آپﷺ سے اس بارے میں مشورہ لینے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ ‘‘آپﷺ نے اُن سے پوچھا: کیا تمہاری ماں ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا:’’ہاں !‘‘ آپﷺ نے فرمایا: تو پھر ان کے پاس انہی کی خدمت میں رہو کہ ان کے قدموں میں تمہاری جنت ہے۔ (مسند احمد، سنن نسائی)

۶۲۔والدین کی خدمت کا اجر

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ: میں سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں ہوں جہاں میں نے کسی کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی۔ میں نے دریافت کیا کہ:’’یہ کون ہے جو یہاں جنت میں قرآن پڑھ رہا ہے ؟‘‘ تو مجھے بتایا گیا کہ’’یہ حارثہ بن نعمانؓ ہیں ‘‘ ماں باپ کی خدمت و اطاعت شعاری ایسی ہی چیز ہے۔ اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا: حارثہ بن نعمانؓ اپنی ماں کے بہت ہی خدمت گزار اور اطاعت شعار تھے (شرح السنہ للبغوی و شعب الایمان)

۶۳۔ماں کے بعد خالہ کی خدمت کرنا

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضرت! میں نے ایک بہت بڑا گناہ کیا ہے تو کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے۔آپﷺ نے پوچھا: تمہاری ماں زندہ ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ ماں تو نہیں ہے آپﷺ نے فرمایا: تو کیا تمہاری کوئی خالہ ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں خالہ موجود ہے۔ آپﷺ نے فرمایا تو اس کی خدمت کرو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔(جامع ترمذی)

۶۴۔والد کے دوستوں سے احترام کا سلوک

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: باپ کی خدمت اور حسن سلوک کی ایک اعلیٰ قسم یہ ہے کہ ان کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں کے ساتھ تعلق رکھا جائے اور باپ کی دوستی و محبت کا حق ادا کیا جائے۔ (صحیح مسلم)

۶۵:بیویاں پاک دامن رہینگی اگر ہم پاک دامن رہے

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: اپنے ماں باپ کی خدمت و فرمانبرداری کروتو تمہاری اولاد تمہاری فرمانبردار اور خدمت گزار ہو گی۔ تم پاک دامنی کے ساتھ رہو تو تمہاری عورتیں پاک دامن رہیں گی۔ (معجم اوسط للطبرانی)

۶۶۔قرابت داری جوڑنے کا حکم

حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اﷲ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’میں اﷲ ہوں ، میں الرحمن ہوں ، میں نے رشتۂ قرابت کو پیدا کیا ہے اور اپنے نام رحمن کے مادہ سے نکال کر اس کو رحم کا نام دیا ہے۔پس جو اسے جوڑے گا میں اس کو جوڑوں گا۔ اور جو اس کو توڑے گا میں اس کو توڑوں گا‘‘۔ (سنن ابی داؤد)

۶۷۔عورت کے لیے شوہر اور مرد کے لیے ماں مقدم

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا : عورت پر سب سے بڑا حق اس کے شوہر کاہے اور مرد پر سب سے بڑا حق اس کی ماں کاہے۔ (مستدرک حاکم)

۶۸۔عورت، شوہر اور سجدہ

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی مخلوق کے لیے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (جامع ترمذی)

۶۹۔شوہر راضی ہوا تو عورت جنتی ہے

حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جو عورت اس حالت میں دنیا سے جائے کہ اس کا شوہر اس سے راضی اور خوش ہو تو وہ جنت میں جائے گی۔ (جامع ترمذی)

۷۰۔بیویوں کی غلطی پر سخت سزا نہ دینا

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع میں یومِ عرفہ کے خطبہ میں رسول اﷲﷺ نے فرمایا: لوگو! اپنی بیویوں کے بارے میں اﷲ سے ڈرو۔ تم نے ان کو اﷲ کی امان کے ساتھ اپنے عقد میں لیا ہے۔ اور اسی اﷲ کے کلمہ سے وہ تمہارے لئے حلال ہوئی ہیں۔ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ جس کا گھر میں آنا اور تمہارے بستروں پر بیٹھنا تمہیں ناپسند ہو وہ اس کو وہاں آ کر بیٹھنے کا موقع نہ دیں۔ اگر وہ ایسی غلطی کریں تو ان کو تم سزا دے سکتے ہو جو زیادہ سخت نہ ہو۔ تمہارے ذمہ مناسب طریقے پر ان کے کھانے کپڑے وغیرہ کی ضروریات کا بدوبست کرنا ہے۔ (مسلم)

۷۱۔ بیوی کے حق میں اچھا آدمی ہی اچھا ہے

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: وہ آدمی تم میں زیادہ اچھا اور بھلا ہے جو اپنی بیوی کے حق میں اچھا ہو۔ اور میں اپنی بیویوں کے لئے بہت اچھا ہوں۔ (جامع ترمذی)

۷۲۔پڑوسیوں کو ایذا نہ پہنچانا

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا:’’وہ آدمی جنت میں داخل نہ ہو سکے گا جس کی شرارتوں اور ایذاء ر سانیوں سے اس کے پڑوسی مامون نہ ہوں۔ (صحیح مسلم)

۷۳۔بہترین گھر:یتیم کے ساتھ اچھا سلوک

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے گھرانوں میں بہترین گھرانہ وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو اور مسلمانوں کے گھروں میں بدترین گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے۔ (سنن ابن ماجہ)

۷۴۔ضرورتمندوں کی مدد کرنے کا اجر

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جو مسلمان کسی مسلمان کو عریانی کی حالت میں کپڑے پہنائے اﷲ تعالیٰ اس کو جنت کے سبز جوڑے عطا فرمائے گا اور جو مسلمان کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلائے اﷲ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل اور میوے کھلائے گا اور جو مسلمان کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی پلائے اﷲ تعالیٰ اس کو نہایت نفیس شراب طہور پلائے گا جس پر غیبی مہر لگی ہو گی۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)

۷۵۔برتنوں کی عمریں بھی مقرر ہیں

حضرت کعب بن عجرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ہدایت فرمائی کہ اپنی باندیوں کو برتن توڑ دینے پر سزا نا دیا کرو۔ اس لیے کہ تمہاری عمروں کی طرح برتنوں کی بھی عمریں مقرر ہیں۔(مسند الفردوس للدیلمی)

۷۶۔ماتحتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو

حضرت علی مرتضیؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے وفات سے پہلے جو آخری کلام فرمایا، وہ یہ تھا :نماز کی پابندی کرو، نماز کا پورا اہتمام کرو، اور اپنے غلاموں میں زِیردستوں کے بارے میں خدا سے ڈرو۔ (ابو داؤد)

۷۷۔ایک مومندوسرے مومن کا بھائی ہے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے۔ ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے۔ اس کے ضرر کو اس سے دفع کرتا ہے اور اس کے پیچھے اس کی پاسبانی کرتا ہے۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی)

۷۸۔مکمل سلام پر تیس نیکیاں ملتی ہیں

حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر :’’اَلسَّلامُ عَلَیکُمْ‘‘ کہا تو آپؐ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: اسے دس نیکیاں ملیں۔ پھر ایک اور آدمی آیا۔ اس نے کہا:’’اَلسَّلَامْ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اﷲ‘‘ آپؐ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور ارشاد فرمایا:اسے بیس نیکیاں ملیں۔ پھر ایک تیسرا آدمی آیا۔ اس نے کہا:’’اَلسَلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَ کَاتُہ۔‘‘آپؐ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: اسے تیس نیکیاں ملیں۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

۷۹۔مومن کا ایک دوسرے کو سلام کرنا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی اپنے کسی مسلمان بھائی سے ملاقات ہو تو چاہئے کہ اس کو سلام کرے۔ اگر اس کے بعد کوئی درخت یا کوئی دیوار وغیرہ ان دونوں کے درمیان کچھ دیر کے لیے بھی حائل ہو جائے تو جب دوبارہ سامنا ہو تو پھر سلام کرے۔ ( ابو داؤد)

۸۰۔گھر :آتے اور جاتے دونوں وقت سلام کرنا

حضرت قتادہ(تابعی) سے (مرسلاً) روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جب تم کسی گھر میں جاؤ تو گھر والوں کو سلام کرو اور پھر جب گھر سے نکلو تو وداعی سلام کر کے نکلو۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۸۱۔ مصافحہ سے کینہ کی صفائی ہوتی ہے

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : سلام کا تکملہ مصافحہ ہے۔ ( ترمذی، ابو داؤد)۔ عطاء خراسانی تابعی سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: تم باہم مصافحہ کیا کرو اس سے کینہ کی صفائی ہوتی ہے۔ اور آپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو اس سے تم میں باہم محبت پیدا ہو گی اور دلوں سے دشمنی دور ہو گی۔ (موطا امام مالک)

۸۲۔کسی کی تعظیم کے لیے کھڑے نہ ہونا

حضرت ابو امامہ باہلیؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ عصا کا سہارا لیتے ہوئے باہر تشریف لائے تو ہم کھڑے ہو گئے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اس طرح مت کھڑے ہو جس طرح عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد)

۸۳۔صحابہ نبیؐ کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کے لئے کوئی شخصیت بھی رسول اﷲﷺ سے زیادہ محبوب نہیں تھی۔ اس کے باوجود ان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ حضورﷺ کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ جانتے تھے کہ یہ آپﷺ کو ناپسند ہے۔ (جامع ترمذی)

۸۴۔بغیر چہار دیواری والی چھت پر نہ سونا

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے لوگوں کو ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا جو دیواروں سے نہ گھری ہوئی ہو۔ (جامع ترمذی)

۸۵۔ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر چت لیٹنا

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی چت لیٹنے کی حالت میں اپنی ایک ٹانگ اُٹھا کے دوسری ٹانگ پر رکھے۔( مسلم)

۸۶۔اوندھے لیٹنے کی ممانعت

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اﷲﷺ نے ایک شخص کو پیٹ کے بل اوندھا لیٹا ہوا دیکھا تو آپﷺ نے فرمایا کہ لیٹنے کا یہ طریقہ اﷲ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ (جامع ترمذی)

۸۷۔جسم کا کچھ حصہ دھوپ کچھ سائے میں

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سایہ کی جگہ میں بیٹھا ہو پھر اس پر سے سایہ ہٹ جائے اور پھر اس کے جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ سائے میں ہو جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس جگہ سے اُٹھ جائے۔ (ابو داؤد)

۸۸۔بہت زیادہ تعریف کرنے والے

حضرت مقداد بن الاسودؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: جب تم بہت زیادہ تعریف کرنے والے مداحین کو دیکھو تو ان کے مُنہ پر خاک ڈال دو۔ (مسلم)

۸۹۔ بلی اور اس کی قیمت کھانا منع ہے

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے بلی کے کھانے سے منع فرمایا ہے اور اس کی قیمت کے کھانے سے بھی ممانعت فرمائی۔ ( ابی داؤد، ترمذی)

۹۰۔گندگی کھانے والے جانوروں سے پرہیز

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نجاست کھانے والے جانوروں کو کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا۔ (جامع ترمذی)

۹۱۔زندہ جانور کا گوشت کاٹ کھانا حرام ہے

حضرت ابو واقدلیثیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ جب ہجرت فرما کے مدینہ تشریف لائے تو یہاں کچھ لوگ کھانے کے لئے اپنے زندہ اونٹ کا کوہان اور دنبوں کی چکی کاٹ لیتے۔ اور پھر اس اونٹ اور دنبہ کا علاج کر لیتے۔نبیﷺ نے اس بارے میں فرمایا کہکسی زندہ جانور میں سے جو گوشت کاٹا جائے گا وہ مردار ہے اس کا کھانا جائز نہیں۔ (ترمذی، ابو داؤد)

۹۲۔مچھلی اور ٹڈی مردہ بھی حلال ہے

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ہمارے لئے دو مردہ چیزیں اور خون کی دو قسمیں حلال قرار دی گئی ہیں۔ مردہ چیزوں میں مچھلی اور ٹڈی جبکہ خون کی دو قسموں میں کلیجی اور تلی کہ یہ دونوں منجمد خون ہیں۔ (مسند احمد، ابن ماجہ، دار قطنی)

۹۳۔شرابی، جنت کی شرابِ طہور سے محروم ہو گا

حضرت عبداﷲبن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ہر نشہ آؤر چیز خمر ہے اور حرام ہے۔ اور جو کوئی دنیا میں شراب پیئے اور اس حال میں مرے کہ برابر شراب پیتا ہو اور اس سے توبہ نہ کی ہو تو وہ آخرت میں جنت کی شرابِ طہور سے محروم رہے گا۔ (صحیح مسلم)

۹۴۔شرابیوں کو دوزخیوں کا پیپ پلایا جائے گا

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن سے آیا اور رسول اﷲﷺ سے ایک خاص قسم کی شراب کے بارے میں سوال کیا تو آپؐ نے پوچھا کہ کیا وہ نشہ پیدا کرتی ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں تو آپؐ نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ نشہ پینے والوں کو اﷲ آخرت میں ’’طِیْنَۃُ الْخَبَال‘‘ ضرور پلائے گاجو دوزخیوں کے جسم سے نکلنے والا پسینہ، لہو یا پیپ ہے۔ (صحیح مسلم)

۹۵۔شراب دوا نہیں بلکہ بیماری ہے

حضرت وائل بن حجر حضرمیؓ سے روایت ہے کہ طارق بن سویدؓ نے شراب کے بارے میں رسول اﷲﷺ سے دریافت کیا تو آپﷺ نے ان کو شراب پینے سے منع فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں تو اس کو دوا کے لئے استعمال کرتا ہوں تو آپﷺ نے فرمایا کہ وہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔ (صحیح مسلم)

۹۶۔کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ منہ کا دھونا

حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ کھانے کے بعد ہاتھ منہ دھونا باعث برکت ہے۔ میں نے یہ بات رسول اﷲﷺ سے ذکر کی تو آپﷺ نے فرمایا کہ کھانے سے پہلے اور اس کے بعد ہاتھ اور منہ کا دھونا باعث برکت ہے۔ (جامع ترمذی، ابوداؤد)

۹۷۔بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھانا چاہئے

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانا کھانے کا ارادہ کرے تو چاہئے کہ پہلے بسم اﷲ پڑھے اور اگر شروع میں بسم اﷲ پڑھنا بھول جائے تو بعد میں کہہ لے : بِسْمِ اﷲِ اَوَّلَہ وَآخِرَہ۔(ابو داؤد ترمذی)

۹۸۔جوتے اتار کر کھانے سے راحت ملتی ہے

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جب کھانا سامنے رکھ دیا جائے تو اپنے جوتے اُتاردیا کرو اس سے تمہارے پاؤں کو زیادہ راحت ملے گی۔ (مسند دارمی)

۹۹۔کھانا کچھ ٹھنڈا کر کے کھانے میں برکت ہے

حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ سے روایت ہے کہ ان کا یہ طریقہ تھا کہ جب ثرید پکا کر ان کے پاس لائی جاتی تو وہ ان کے حکم سے اس وقت تک ڈھکی رہتی کہ اس کی گرمی کا جوش اور تیزی ختم ہو جاتی۔آپ فرمایا کرتی تھیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ سے سنا ہے کہ اس طرح کچھ ٹھنڈا کر کے کھانا زیادہ برکت کا باعث ہوتا ہے۔ (مسند دارمی)

۱۰۰۔مَرد سُرخ لباس کا جوڑا نہ پہنیں

حضرت عبداﷲ بن عمر و بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ تشریف فرما تھے ) ایک آدمی گزرا اور وہ دونوں کپڑے سرخ رنگ کے پہنے ہوئے تھا۔ اس نے حضورﷺ کو سلام کیا تو آپﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (جامع ترمذی ، سنن ابی داؤد)

۱۰۱۔اللہ کی نعمتوں کا معیار زندگی پر اثر نظر آنا

عمر و بن شعیب اپنے والد شعیب سے اور وہ اپنے دادا حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ:اﷲ تعالیٰ کو یہ بات محبوب اور پسند ہے کہ کسی بندے پر اس کی طرف سے جو انعام ہو تو اس پر اس کا اثر نظر آئے۔ ( ترمذی)

۱۰۲۔اسراف و تکبر کے بغیر اچھا کھانا پہننا جائز ہے

عمرو بن شعیب اپنے والد شعیب سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے دادا حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: اجازت ہے کہ خوب کھاؤ پیؤ۔ دوسروں پر صدقہ کرو یا کپڑے بنا کر پہنو بشرطیکہ اسراف اور نیت میں فخر و تکبر نہ ہو۔ (مسند احمد، سنن نسائی، ابن ماجہ)

۱۰۳۔اپنا حلیہ اچھی حالت میں رکھنا

حضرت عطا ء بن یسار راوی ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں اس طرح آیا کہ اس کے سر اور داڑھی کے بال بالکل بکھرے ہوئے تھے۔نبیﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے فرمایا کہ وہ اپنے سر اور داڑھی کے بالوں کو ٹھیک کرائے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور لوٹ کر آ گیا تو آپؐ نے فرمایا:کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی سر کے بال بکھیرے ہوئے ایسی صورت میں آئے کہ گویا وہ شیطان ہے۔(موطا امام مالکؒ)

۱۰۴۔سفر میں جوتے پہننے کی اہمیت

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اﷲﷺ جہاد کے ایک سفر پر روانہ ہونے سے قبل لوگوں کو ہدایت دے رہے تھے :لوگو! جوتیاں زیادہ لے لو کیونکہ آدمی جب تک پاؤں میں جوتا پہنے رہتا ہے تو وہ سوار کی طرح رہتا ہے۔ (صحیح مسلم)

۱۰۵۔غیر ضروری بالوں کی صفائی کی حد ۴۰دن

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ مونچھیں ترشوانے اور ناخن لینے اور بغل اور زیرِ ناف کی صفائی کے سلسلہ میں ہمارے واسطے حد مقرر کر دی گئی ہے کہ ۴۰ دن سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ (صحیح مسلم)

۱۰۶۔عورتوں کے ہاتھوں میں مہندی لگی ہو

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ ہند بنتِ عتبہ نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ:’’مجھے بیعت کر لیجئے ؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا کہ’’میں تم کو اس وقت تک بیعت نہیں کروں گا جب تک کہ تم مہندی لگا کر اپنے ہاتھو ں کی صورت نہ بدلو گی کہ تمہارے ہاتھ اس وقت کسی درندے کے سے ہاتھ معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ (سنن ابی داؤد)

۱۰۷۔زندہ یا مُردہ کے ستر کے نہ دیکھنا

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ان کو ہدایت فرمائی کہ:اے علیؓ ! اپنی ران نہ کھولو۔ اور نہ کسی زندہ یا مردہ آدمی کی ران کی طرف نظر کرو۔ (سنن ابی داؤد،سنن ابن ماجہ)

۱۰۸۔عورتیں دوسری عورت کا ستر نہ دیکھے

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : مرد دوسرے مرد کے ستر کی طرف اور عورت دوسری عورت کے ستر کی طرف نظر نہ کرے۔ (صحیح مسلم)

۱۰۹۔تنہائی میں بھی برہنگی سے پرہیز کرنا

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: لوگو!تنہائی کی حالت میں بھی برہنگی سے پرہیز کرو۔ سوائے قضائے حاجت اور میاں بیوی کی صحبت کے وقت کے، فرشتے تمہارے ساتھ برابر رہتے ہیں لہٰذا ان سے شرم کرو اور ان کا احترام کرو۔ (ترمذی)

۱۱۰۔جب عورت باہر نکلتی ہے تو شیطان تاکتا ہے

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: عورت سترکی مانند ہے۔ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیاطین اس کو تاکتے اور اپنی نظروں کا نشانہ بناتے ہیں۔ (جامع ترمذی)

۱۱۱۔بلا ارادہ پہلی نظر معاف ہے

حضرت بریدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے حضرت علیؓ سے ایک دفعہ فرمایا:اگر کسی نامحرم پر تمہاری نظر پڑ جائے تو دوبارہ نظر نہ کرو۔تمہاری پہلی بلا ارادہ نظر تو جائز ہے لیکن دوسری نظر جائز نہیں۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

۱۱۲۔حسن و جمال پر سے نظر ہٹانے کا اجر

حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے وہ رسول اﷲﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: جب مردِ مومن کی کسی عورت کے حسن و جمال پر پہلی دفعہ نظر پڑ جائے پھر وہ اپنی نگاہ نیچی کر لے تو اﷲ تعالیٰ اس کو ایسی عبادت نصیب فرمائے گا جس کی وہ لذت و حلاوت وہ محسوس کرے گا۔ (مسند احمد)

۱۱۳۔نامحرم عورت اچھی لگے تو بیوی کے پاس جاؤ

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا : ایسا ہوتا ہے کہ کوئی عورت شیطان کی طرح آتی یا جاتی ہے تو اگر کسی کو ایسا واقعہ پیش آئے کہ کوئی ایسی عورت اچھی لگے اور اس کے ساتھ دلچسپی اور دل میں اس کی خواہش پیدا ہو جائے تو آدمی کو چاہئے کہ اپنی بیوی کے پاس جائے اور اپنی نفسانی خواہش پوری کرے۔ اس سے اس کی اس گندی خواہش نفس کا علاج ہو جائے گا۔ (صحیح مسلم)

۱۱۴۔شوہر کی غیر موجودگی میں عورتوں کے گھر نہ جانا

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ان خواتین کے گھروں میں نہ جایا کرو جن کے شوہر کہیں باہرگئے ہوئے ہوں۔ کیونکہ شیطان سب میں اس طرح جاری ساری رہتے ہیں جس طرح رَگوں میں خون رَواں دَواں رہتا ہے۔ ہم نے عرض کیا : اور کیا آپ میں بھی؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: اور مجھ میں بھی۔ لیکن اﷲ تعالیٰ نے میری خاص مدد فرمائی ہے اس لئے میں محفوظ رہتا ہوں۔ ( ترمذی)


٭٭٭

ضمیمہ۔۴: فہرستِ کتب


۱۔ نکاح و ازدواج اور اسکے متعلقات؛ ۲۔کتاب المعاملات ؛ ۳۔ کتابُ العلم

۴۔کتاب الاعتصام بالکتاب و السنۃ؛ ۵۔ دعوت الی الخیر، امر بالمعروف و نہی عن المنکر

۶۔ کتاب الفتن ؛ ۷۔ علاماتِ قیامت ؛ ۸۔کتاب المناقب و الفضائل


۱۔نکاح سے قبل عورت کو دیکھ لینا گناہ نہیں

حضرت محمد بن مسلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جب اﷲ تعالیٰ کسی آدمی کے دل میں کسی عورت کے لیے نکاح کا پیام دینے کا خیال ڈالے تو اس کے واسطے گناہ نہیں ہے کہ ایک نظر اس کو دیکھ لے۔ (مسند احمد، سنن ابن ماجہ)

۲۔مطلقہ و بیوہ کا خود پر ولی سے زیادہ حق ہے

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ شوہر دیدہ عورت کا اپنے نفس کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق اور اختیار ہے اور کنواری کے باپ کو بھی چاہئے کہ اس کے نکاح کے بارے میں اس کی اجازت حاصل کرے اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔ (صحیح مسلم)

۳۔نکاح اور دیگر ضرورتوں کے لیے خطبہ

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ہم کو نکاح اور ہر اہم ضرورت کے لئے یہ خطبہ تعلیم فرمایا:ساری حمد ستائش اﷲ ہی کے لئے سزاوار ہے۔ہم اسی سے مدد کے طالب اور خواستگار ہیں اور اسی سے معافی اور مغفرت کی استدعا کرتے ہیں۔ اپنے نفس کی شرارتوں سے اسی اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اﷲ جس کو ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جس کے لئے اﷲ ہدایت سے محرومی کا فیصلہ فرما دے اور اس کو کوئی ہدایت نہیں کر سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی عبادت اور پرستش کے لائق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول برحق ہیں۔ اے ایمان والو! اس اﷲ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم باہم سوال کرتے ہو اور قرابتوں کی حق تلفی سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ اور نہ مرنا مگر اس حالت میں کہ تم اس کے فرمانبردار ہو۔ اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرتے رہو اور ہمیشہ سیدھی بات بولو۔ وہ تمہارے اعمال درست فرما دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ جو بندہ اﷲ اور اس کے رسول کے احکام پر چلے تو اس نے بڑی کامیابی حا صل کر لی۔ (سنن ابی داؤد، مسند احمد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)

۴۔نبیؐ کی بیویوں کا مہر ۵۰ بکریوں کے مساوی تھا

ابو سلمہ سے روایت ہے کہ میں نے اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا کہ خود رسول اﷲﷺ کا مَہر کتنا تھا؟ تو انہوں نے بتلایا کہ آپؐ نے اپنی بیویوں کے لئے جو مہر مقرر فرمایا تھا وہ ساڑھے بارہ اوقیہ (مساوی پانچ سو درہم یا چالیس پچاس بکریاں ) تھا۔ ( مسلم)

۵۔شادی کی مبارکباد کا مسنون طریقہ

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ جب کسی آدمی کو شادی کی مبارک باد دیتے تو یوں فرماتے : اﷲ تم کو مبارک کرے تم دونوں پر برکت نازل فرمائے اور خیر اور بھلائی میں تم دونوں کو ہمیشہ متفق اور مجتمع رکھے۔ (مسند احمد ترمذی، ابی داؤد)

۶۔کم سے کم بار والا نکاح بابرکت ہوتا ہے

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ وہ نکاح بہت بابرکت ہے جس کا بار کم سے کم پڑے۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۷۔حضرت فاطمہؓ کو ملنے والا سامان جہیز نہ تھا

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے اپنی صاحبزادی فاطمۃ الزہراؓ کو جہیز کے طور پر یہ چیزیں دیں تھیں۔( حدیث کے لفظ ’’جھ‘‘ز کے معنی اصطلاحی ’’جہی‘‘ز کے نہیں بلکہ ضرورت کا انتظام کرنے کے ہیں۔ حضرت فاطمہؓ کے لئے ان چیزوں کا انتظام حضرت علیؓ کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے انہی کی طرف سے اور انہی کے پیسوں سے کیا گیا تھا۔ ایسا کوئی انتظام آپؐ نے اپنی کسی اور بیٹی کے لیے نہیں کیا) ایک پلو دار چادر، ایک مشکیزہ، ایک تکیہ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی۔ (سنن نسائی)

۸۔بیوی کا راز فاش کرنا بد ترین کام ہے

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اﷲ کے ہاں وہ آدمی بدترین درجہ میں ہو گا جو بیوی سے ہم بستری کے بعد اس کا راز فاش کرے۔ (صحیح مسلم)

۹۔مانع حمل طریقے اختیار کرنا جائز ہے

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری ایک باندی ہے اور وہی ہمارے گھر کا کام کاج کرتی ہے۔ میں اس سے مباشرت بھی کرتا ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ اس کے حمل قرار پا جائے۔آپﷺ نے فرمایا اگر چاہو تو عزل (مباشرت کے دوران منی فرج سے باہر خارج کرنا)کر لو لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس باندی کے لئے جو مقدر ہو چکا ہے وہ ضرور ہو گا۔ کچھ دنوں کے بعد وہی آدمی آیا اور عرض کیا کہ اس باندی کے تو حمل قرار پا گیا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو تم کو بتایا تھا کہ جو اس کے لئے مقدر ہو چکا ہے وہ ہو کے رہے گا۔ (صحیح مسلم)

۱۰۔دورِ جاہلیت کی چار سے زائد بیویوں کو چھوڑنا

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا اور اس وقت ان کی دس بیویاں تھیں۔ ان سب نے بھی ان کے ساتھ اسلام قبول کر لیا تو حضورﷺ نے ان کو ہدایت فرمائی کہ چار بیویاں رکھو اور باقیوں کو جدا کر دو۔ (مسند احمد)

۱۱۔بیویوں کے درمیان عدل نہ کرنے کا حشر

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جب کسی آدمی کی ایک سے زائد بیویاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ عدل کا برتاؤ نہ کرے تو قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک دھڑ گرا ہوا ہو گا۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی)

۱۲۔بیویوں سے یکساں دلی لگاؤ ممکن نہیں

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ اپنی سب بیویوں کے ہاں باری باری رہتے تھے اور پورے عدل کا برتاؤ فرماتے تھے اور اس کے ساتھ اس سے عرض کرتے تھے کہ اے میرے اﷲ! یہ میری تقسیم ہے ان معاملات میں اور اس عملی برتاؤ میں جو میرے اختیار میں ہیں۔ پس میری سرزنش اور محاسبہ نہ فرما دل کے اس معاملے میں جو تیرے اختیار میں ہے میرے اختیار میں نہیں۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی)

۱۳۔جائز چیزوں میں اللہ کو طلاق پسندیدہ نہیں

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ حلال اور جائز چیزوں میں اﷲ تعالیٰ کو سب سے زیادہ مبغوض ’’طلاق‘‘ ہے۔ (سنن ابی داؤد)

۱۴:بلا جواز طلاق مانگنے والی پر جنت حرام ہے

حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو عورت اپنے شوہر سے کسی سخت تکلیف کے بغیر طلاق کا مطالبہ کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی)

۱۵۔چال چلن مشتبہ نہ ہو تو بیوی کو طلاق نہ دو

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ عورتوں کو طلاق نہیں دینی چاہئے الّایہ کہ ان کا چال چلن مشتبہ ہو۔ اﷲ تعالیٰ ان مردوں اور عورتوں کو پسند نہیں کرتا جو ذائقہ چکھنے کے شوقین اور خوگر ہوں۔ (مسند بزار، معجم کبیر و معجم اوسط للطبرانی)

۱۶۔نکاح، طلاق،رجعت :مذاقاً بھی درست ہے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں دل کے ارادہ اور سنجیدگی کے ساتھ بات کرنا بھی حقیقت ہے اور ہنسی مذاق کے طور پر کہنا بھی حقیقت ہی کے حکم میں ہے۔ نکاح، طلاق ، رجعت (ایک یا دو طلاق کے بعد رجوع کرنا)۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

۱۷۔زبردستی دلوائی گئی طلاق نہیں ہوتی

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے تھے کہ زبردستی کی طلاق اور زبردستی کے ’’عتاق‘‘(غلام آزاد کرنا) کا اعتبار نہیں۔ (سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)

۱۸۔شوہر کے علاوہ تین دن سے زیادہ سوگ نہیں

اُم المومنین حضرت اُمِّ حبیبہؓ اور حضرت زینب بنت حجشؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ کسی ایمان والی عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی عزیز کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ البتہ شوہر کے انتقال پر چار مہینے دس دن سوگ کا حکم ہے۔ ( صحیح مسلم)

۱۹۔شوہر کی موت پر مہندی و زیورات سے پرہیز

اُم المومنین حضرت اُم سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا :جس عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہو وہ کُسم کے رنگے ہوئے، سرخ اور گیروے رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے۔ وہ نہ زیورات پہنے نہ خضاب و مہندی یا سرمہ لگائے۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی)

۲۰۔حلال کی کوشش فرض کے بعد فریضہ ہے

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے ارشاد فرمایا : حلال روزی حاصل کرنے کی فکر و کوشش فرض (نماز روزہ وغیرہ)کے بعد فریضہ ہے۔ (بیہقی)

۲۱۔جب روپیہ پیسہ ہی کام آئے گا

حضرت مقدام بن معدی کربؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ فرماتے تھے :لوگوں کے لئے ایک وقت آئے گا جب روپیہ پیسہ ہی کام آئے گا۔ (مسند احمد)

۲۲۔ایماندار تاجر نبیوں شہیدوں کے ساتھ ہو گا

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ پوری سچائی اور ایمانداری کے ساتھ کاروبار کرنے والا تاجر، نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا۔ (جامع ترمذی، سنن دارمی، سنن دار قطنی)

۲۳۔ہاتھ سے کام کرنا اور پاک تجارت

حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ سے دریافت کیا گیا کہ حضرت کون سی کمائی زیادہ پاک اور اچھی ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ آدمی کا اپنے ہاتھ سے کوئی کام کرنا اور ہر تجارت جو پاکبازی کے ساتھ ہو۔ (مسند احمد)

۲۴۔جائز مال و دولت اچھی چیز ہے

حضرت عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ان سے فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ تم کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجوں۔ پھر تم اﷲ تعالیٰ کے فضل سے صحیح سالم لوٹو اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تم کو مال و دولت کا اچھا عطیہ ملے۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے اسلام مال و دولت کے لئے قبول نہیں کیا ہے بلکہ اسلام کی محبت اور آپﷺ کی رفاقت کی وجہ سے قبول کیا ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اے عمروؓ ! اﷲ کے صالح بندہ کے لئے جائز مال و دولت اچھی چیز ہے۔ (مسند احمد)

۲۵۔مالِ حرام سے صدقہ قبول نہیں ہوتا

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی بندہ حرام مال کمائے اور اس میں سے ا ﷲ کے لیے صدقہ کرے تو اس کا صدقہ قبول ہو۔ اور اس میں سے خرچ کرے تو اس میں برکت ہو۔ جو شخص مرنے کے بعد حرام مال پیچھے چھوڑ کے جائے گا تو وہ اس کے لئے جہنم کا توشہ ہی ہو گا۔ اﷲ تعالیٰ بدی کو بدی سے نہیں مٹاتا بلکہ بدی کو نیکی سے مٹا تا ہے۔ کیونکہ گندگی کبھی گندگی کو نہیں دھوسکتی۔‘‘ (مسند احمد )

۲۶۔قرض دینے کا اجر صدقہ سے زیادہ ہے

حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے بیان فرمایا کہ ایک آدمی جنت میں داخل ہوا تو اس نے جنت کے دروازہ پر لکھا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا اور قرض دینے کا اجر اٹھارہ گنا ہے۔ (معجم کبیر طبرانی)

۲۷۔قرض چھوڑ کر مرنا بڑا گناہ ہے

حضرت ابو موسیٰ اشعری راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان کبیرہ گناہوں کے بعد جن سے اﷲ تعالیٰ نے سختی سے منع فرمایا ہے، سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اس حال میں مرے کہ اس پر قرض ہو اور اس کی ادائیگی کا سامان چھوڑ نہ گیا ہو۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد)

۲۸۔ادائیگیِ قرضہ تک مومن کی روح معلق رہتی ہے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ مومن بندہ کی روح اس کے قرضہ کی وجہ سے بیچ میں معلق رہتی ہے جب تک وہ قرضہ ادا نہ کر دیا جائے،جو اس پر ہے۔ (مسند شافعی، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، مسند دارمی)

۲۹۔بجز قرض، شہید کے سارے گناہ معاف ہیں

حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ راوی ہیں کہ نبیؐ نے فرمایا کہ شہید ہونے والے مومن کے سارے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں،بجز قرض کے (مسلم)

۳۰۔ادائیگی کی نیت ہو تو قرض ادا ہو جائے گا

حضرت عمران بن حصینؓ اُم المومنین حضرت میمونہؓ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ فرماتے تھے کہ جو کوئی بندہ قرض لے اور اﷲ کے علم میں ہو کہ اس کی نیت اور ارادہ ادا کرنے کاہے تو اﷲ تعالیٰ اس کا وہ قرضہ دنیا ہی میں ادا کرا دے گا۔ (سنن نسائی)

۳۱۔واجب الاداسے زائد ادا کرنا مستحب ہے

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ میرا رسول اﷲﷺ پر کچھ قرض تھا تو آپﷺ نے جب وہ ادا فرمایا تو میری واجبی رقم سے زیادہ عطا فرمایا۔( ایسا کرنا،جائز بلکہ مستحب اور سنت ہے ) (سنن ابو داؤد)

۳۲۔سات مہلک گناہ سے بچو

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سات مہلک اور تباہ کن گناہوں سے بچو:(۱) اﷲ کے ساتھ اس کی عبادت یا صفات میں کسی کو شریک کرنا۔ (۲) جادو کرنا۔ (۳) ناحق کسی آدمی کو قتل کرنا۔(۴)سود کھانا۔ (۵) یتیم کا مال کھانا۔(۶) جہاد میں لشکر اسلام کاساتھ چھوڑ کر بھاگ جانا۔(۷) اﷲ کی پاک دامن بندیوں پر زنا کی تہمت لگانا۔ (صحیح مسلم)

۳۳۔سود خوروں کا انجام

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جس رات مجھے معراج ہوئی میرا گزر ایک ایسے گروہ پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی طرح ہیں اور ان میں سانپ بھرے ہوئے ہیں جو باہر سے نظر آتے ہیں۔ میں نے جبرئیل سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب ملا کہ یہ سود خور لوگ ہیں (مسند احمد، ابن ماجہ)

۳۴۔ سود خوری کا ستّرواں حصہ؟

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سود خوری کے ستّر حصے ہیں ان میں سے ادنیٰ اور معمولی ایسا ہے کہ جیسے اپنی ماں کے ساتھ منہ کالا کرنا۔ (سنن ابن ماجہ، شعب الایمان للبیہقی)

۳۵۔سودی حساب لکھنے والے بھی گنہگار ہیں

حضرت جابرؓ نے بیان کیا کہ رسول اﷲﷺ نے لعنت فرمائی سود لینے اور کھانے والے پر اور سود دینے اور کھلانے والے پر اور سودی دستاویز لکھنے والے پر اور اس کے گواہوں پر۔ آپﷺ نے فرمایا کہ گناہ کی شرکت میں یہ سب برابر ہیں۔ (صحیح مسلم)

۳۶۔ باغ کو چند سالوں کے لیے بیچنا منع ہے

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے باغ یا کھیت کو چند سالوں کے واسطے فروخت کرنے سے منع فرمایا اور آپﷺ نے ناگہانی آفات کے نقصان کا ازالہ کرنے کا بھی حکم دیا۔ (صحیح مسلم)

۳۷۔غیر موجود چیز کی بیع کا مسئلہ

حضرت حکیم بن حزامؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے مجھے اس سے منع فرمایا کہ جو چیز میرے پاس موجود نہیں ہے میں اس کی بیع فروخت کا کسی سے معاملہ کروں۔ (جامع ترمذی)

۳۸۔ نیلامی کے ذریعہ خرید و فروخت جائز ہے

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ(نیلامی کے انداز میں ) اس طرح فروخت کیا: آپؐ نے حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ ٹاٹ اور پیالہ کون خریدنا چاہتا ہے۔ایک شخص نے عرض کیا کہ میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں لے سکتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا :کون ایک درہم سے زیادہ دینے کو تیار ہے ؟ تو ایک دوسرے صاحب نے آپ کو دو درہم کی پیش کش کی تو آپ نے وہ دونوں چیزیں اُن کے ہاتھ بیچ دیں۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)

۳۹۔ذخیرہ اندوزی گناہ ہے۔

حضرت معمر بن عبداﷲ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا جو تاجر مہنگا بیچنے کے لیے غلہ وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی کرے۔ وہ خطاکار اور گنہگار ہے۔ (صحیح مسلم)

۴۰۔ جائیداد بیچ کر جائیداد ہی خریدی جائے

حضرت سعید بن حریثؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ فرماتے تھے کہ تم میں سے جو کوئی اپنا گھر یا جائداد بیچے تو سزاوار ہے کہ اس کے اس عمل میں برکت و فائدہ نہ ہو۔ البتہ اگر وہ اس کی قیمت کو اسی طرح کی کسی جائداد میں لگا دے تو پھر ٹھیک ہے۔ (سنن ابن ماجہ، مسند دارمی)

۴۱۔ ایک دوسرے کو ہدیہ تحفہ بھیجا کرو

حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:’’آپس میں ہدیے تحفے بھیجا کرو۔ ہدیے تحفے دِلوں کے کینے ختم کر دیتے ہیں۔ ‘‘ (ترمذی)

۴۲۔ایصالِ ثواب کے لیے کنواں کھدوانا

حضرت سعد بن عبادہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔تو اُن کے لیے کون سا صدقہ زیادہ بہتر اور زیادہ ثواب کا ذریعہ ہو گا؟ آپﷺ نے فرمایا پانی۔ چنانچہ انہوں نے ایک کنواں کھدوا دیا اور کہا کہ یہ میری والدہ اُم سعد کے ایصالِ ثواب کے لئے ہے۔ ( ابو داؤد، سنن نسائی)

۴۳۔ وصیت کے بعد والی موت تقویٰ والی ہے

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جس نے وصیت کی حالت میں انتقال کیا یعنی انتقال سے قبل وصیت کر گیا تو اس کا انتقال ٹھیک راستہ پر اور شریعت پر چلتے ہوئے ہوا۔لہٰذا اس کی موت تقویٰ اور شہادت والی موت ہوئی اور اس کی مغفرت ہو گئی۔ (سنن ابنِ ماجہ)

۴۴۔وصیت میں حقدار کو نقصان پہنچانا

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ کبھی کوئی مرد یا کوئی عورت ساٹھ سال تک اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری والی زندگی گزارتے رہتے ہیں پھر جب اُن کی موت کا وقت آتا ہے تو وصیت میں حق داروں کو نقصان پہنچا دیتے ہیں اور یوں ان کے لئے دوزخ واجب ہو جاتی ہے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابنِ ماجہ)

۴۵۔جھوٹا دعویٰ کر نے والا جہنمی ہے

حضرت ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ فرماتے تھے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو فی الحقیقت اس کی نہیں ہے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اور اس کو چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ (صحیح مسلم)

۴۶۔ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ظالم حکمراں کے سامنے کلمۂ حق کہنا افضل جہاد ہے۔( ترمذی، ابو داؤد ابنِ ماجہ)

۴۷۔حاملین علم عبادت گذاروں سے برتر ہیں

حضرت ابو الدرداءؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ ارشاد فرماتے تھے کہ جو بندہ علم حاصل کرنے کے لئے کسی راستہ پر چلے گا، اﷲ تعالیٰ اس کے عوض اس کو جنت کے راستوں میں سے ایک راستے پر چلائے گا۔ اﷲ کے فرشتے طالبان علم کے لئے اظہار رضا کے طور پر اپنے بازو جھکا دیتے ہیں۔ علم دین کے حامل کے لئے آسمان و زمین کی ساری مخلوقات اﷲ تعالیٰ سے مغفرت کی استدعا کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ دریا کے پانی کے اندر رہنے والی مچھلیاں بھی۔عبادت گذاروں کے مقابلہ میں حاملین علم کو ایسی برتری حاصل ہے جیسی کہ چودھویں رات کے چاند کو آسمان کے باقی ستاروں پر۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں کیونکہ انبیاء علیہم السلام نے دولت کا ترکہ نہیں چھوڑا ہے بلکہ انہوں نے اپنے ترکے اور ورثے میں صرف علم چھوڑا ہے۔ جس نے اس کو حاصل کر لیا اس نے بہت بڑی کامیابی اور خوش بختی حاصل کر لی۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، مسند ادارمی)

۴۸۔کتاب و سنت کے علم سے دولتِ دنیا حاصل کرنا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ وہ علم جس سے اﷲ کی رضا چاہی جاتی ہے (یعنی کتاب و سنت کا علم) اگر اس کو کوئی شخص دنیا کی دولت کمانے کے لئے حاصل کرے تو وہ قیامت میں جنت کی خوشبو سے محروم رہے گا۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ)

۴۹۔عالم بے عمل کو سخت عذاب ہو گا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس عالم کو ہو گا جس کو اس کے علم دین نے نفع نہیں پہنچایا یعنی اس نے اپنی عملی زندگی کو علم کے تابع نہیں بنایا۔ (مسند ابو داؤد، شعب الایمان للبیہقی)

۵۰۔دین میں نکالی ہوئی ہر نئی بات بدعت ہے

حضرت عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اﷲﷺ نے نماز پڑھائی۔ پھر آپ ہم لوگوں کی طرف متوجہ ہو گئے اور ایسا موثر وعظ فرمایا کہ اس کے اثر سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل خوفزدہ ہو کر دھڑکنے لگے۔ آپﷺ نے فرمایا میں تم کو وصیت کرتا ہوں اﷲ سے ڈرتے رہنے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہنے کی اور اولوالامر یعنی خلیفہ یا امیر کا حکم ماننے کی اگرچہ وہ کوئی حبشی غلام ہی ہو۔ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بڑے اختلافات دیکھے گا لہٰذا تم میرے اور خلفائے راشدین کے طریقے کی پیروی کو اپنے اوپر لازم کر لینا۔ اور دین میں نئی نکالی ہوئی باتوں سے اپنے آپ کو الگ رکھنا۔ اس لئے کہ دین میں نئی نکالی ہوئی ہر بات بدعت ہے اور ہربدعت گمراہی ہے۔‘‘ (مسند احمد ابی داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)

۵۱۔قرآن و حدیث کو تھامنے والا کبھی گمراہ نہ ہو گا

حضرت امام مالک بن انس سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ میں نے دو چیزیں تمہارے درمیان میں چھوڑی ہیں۔ ایک کتاب اﷲ اور دوسری میری سنت۔ تم جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے (موطا امام مالک)

۵۲۔قرآن اور حدیث دونوں کے احکام موثر ہیں

حضرت مقدام بن معدی کربؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا : سن لو اور آگاہ ہو کہ مجھے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے قرآن بھی عطا ہوا ہے اور اس کے ساتھ اس کے مثل اور بھی۔آگاہ رہو کہ عنقریب بعض پیٹ بھرے لوگ اپنے شاندار تخت پر لوگوں سے کہیں گے کہ بس اس قرآن ہی کو لے لو۔ اس میں جس چیز کو حلال بنایا گیا ہے اس کو حلال جانو اور جو حرام قرار دیا گیا ہے اس کو حرام سمجھو۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اﷲ کے رسول کی حرام کردہ چیز بھی انہیں چیزوں کی طرح حرام ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے قرآن میں حرام قرار دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد، مسند دارمی، سنن ابن ماجہ)

۵۳۔اسلام کے ۷۳ فرقوں میں حق پر کون ہو گا

حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت میں وہ سب برائیاں آئیں گی جو بنی اسرائیل میں آئی تھیں یہاں تک کہ اگر بنی اسرائیل میں کوئی ایسا بدبخت ہوا ہو گا جس نے اعلانیہ اپنی ماں کے ساتھ منہ کالا کیا ہو گا تو میری امت میں بھی کوئی ایسا بدبخت ہو گا جو ایسا کرے گا۔ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تو میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو گی۔یہ سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک فرقہ کے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ حضرت وہ کون سا فرقہ ہو گا؟ آپﷺ نے فرمایا جو اس راستے پر ہو گا جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب ہیں۔ (جامع ترمذی)

۵۴۔متروک سنت زندہ کرنے کا اجر و ثواب

حضرت بلال بن الحارث مزنی سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جس نے میری کوئی ایسی سنت زندہ کی جو میرے بعد ختم کر دی گئی تھی تو اس شخص کو ان پر عمل کرنے والے تمام بندگان خدا کے اجر و ثواب کے برابر اجر و ثواب ملے گا۔ اور اس سنت پر عمل کرنے والوں کے اجر و ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ (جامع ترمذی)

۵۵:داعی کو لوگوں کے نیک اعمال کا اجر ملے گا

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت یہ کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: جس بندے نے نیکی کے راستہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی تو اس داعی کو ان سب لوگوں کے اجروں کے برابر اجر ملے گا جو اس کی بات مان کر نیکی کے اس راستہ پر عمل کریں گے۔ اور ان عمل کرنے والوں کے اجروں میں کوئی کمی نہ ہو گی۔ اسی طرح جس نے لوگوں کو کسی گمراہی کی دعوت دی تو اس داعی کو ان سب لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہو گا جو اس کی دعوت پر بد عملی کے مرتکب ہوں گے اور ان لوگوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی (مسلم)

۵۶۔برائیوں سے نظر انداز کرنے والا نیک بندہ

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے بیان فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے جبرائیلؑ کو حکم دیا کہ فلاں بستی کو اس کی پوری آبادی کے ساتھ الٹ دو۔ جبرائیلؑ نے عرض کیا خداوندا اس شہر میں تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے پل جھپکنے کے برابر بھی کبھی تیری نافرمانی نہیں کی۔ اﷲ تعالیٰ کا حکم ہو گا کہ اس بستی کو اس بندے پر اور اس کے دوسرے سب باشندوں پر الٹ دو کیونکہ کبھی ایک ساعت کے لئے بھی میری وجہ سے اس بندے کا چہرہ متغیر نہیں ہوا۔ (شعب الایمان للبیہقی)

۵۷۔شہید کو قتل ہونے کی تکلیف نہیں ہوتی

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا راہ خدا میں شہید ہونے والا بندہ قتل کئے جانے کی بس اتنی ہی تکلیف محسوس کرتا ہے، جتنی تکلیف تم میں سے کوئی آدمی چیونٹی کے کاٹ لینے کی محسوس کرتا ہے۔ ( ترمذی، سنن نسائی، سنن دارمی)

۵۸۔خوفِ خدا سے رونے والی آنکھ

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ دو آنکھیں ایسی ہیں جن کو دوزخ کی آگ چھو بھی نہیں سکے گی۔ ایک وہ آنکھ جو اﷲ کے خوف سے روئی ہو اور دوسری وہ آنکھ جس نے جہاد میں جاگ کر پہرہ داری کی ہو۔ (جامع ترمذی)

۵۹۔ طاعون و امراضِ پیٹ سے مرنا بھی شہادت ہے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ تم لوگ کسے ’’شہید‘‘ شمار کرتے ہو؟انہوں نے عرض کیا :جو بندہ راہ خدا میں قتل کیا گیا وہی شہید ہے۔آپﷺ نے فرمایا اس صورت میں تو میری امت کے شہداء تھوڑے ہی ہوں گے۔سنو! جو بندہ راہ خدا میں مارا گیا وہ شہید ہے۔ جس بندہ کا انتقال راہ خدا میں ہوا،وہ بھی شہید ہے۔ جس بندہ کا طاعون میں انتقال ہوا، وہ بھی شہید ہے۔ جس بندہ کا پیٹ کے امراض ( ہیضہ، اسہال وغیرہ) میں مبتلا ہو کر انتقال ہوا، وہ بھی شہید ہے۔ (صحیح مسلم)

۶۰۔جو فتنوں سے دور رہا وہ خوش نصیب ہے

حضرت مقداد بن اسودؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا:یقیناً وہ بندہ نیک بخت اور خوش نصیب ہے جو فتنوں سے محفوظ رکھا گیا۔ وہ بندہ نیک بخت اور خوش نصیب ہے جو فتنوں سے دور رکھا گیا۔ وہ بندہ نیک بخت اور خوش نصیب ہے جو فتنوں سے الگ رکھا گیا۔ اور جو بندہ فتنوں میں مبتلا کیا گیا اور وہ صابر اور ثابت قدم رہا تو اس کو شاباش اور مبارک باد ہے (ابو داؤد)

۶۱۔عالمِ عرب کے سرسبز و شاداب ہونے کی پیش گوئی

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ ایسا وقت نہ آ جائے کہ مال کی غیر معمولی بہتات ہو جائے یہاں تک کہ ایک آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے مگر اس کی زکوٰۃ کو قبول کرنے والا کوئی نہ ہو۔ اور آج کی بے آب و گیاہ عرب کی زمین سرسبز چراگاہوں اور نہروں کی شکل میں اختیار کر لے۔ (صحیح مسلم)

۶۲۔ قیامت کی نشانی: آفتاب کا مغرب سے نکلنا

حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول ا ﷲﷺ نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں سے سب سے پہلے جس کا ظہور ہو گا وہ آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ہے۔ لوگوں کے سامنے چاشت کے وقت دابۃ الارض نامی جانور بھی زمین سے برآمد ہو گا۔ دونوں میں سے جو بھی پہلے ہو، دوسری اس کے َبعد متصلاً ہی ہو گی۔ (صحیح مسلم)

۶۳۔امام مہدی دنیا کو انصاف سے بھر دیں گے

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مہدی میری اولاد میں سے ہو گا،روشن اور کشادہ پیشانی والا۔وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھر گئی تھی۔(سنن ابی داؤد)

۶۴۔نزول کے وقت حضرت عیسیٰؑ کا حلیہ مبارک

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے حضرت عیسیٰ بن مریمؑ کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی پیغمبر نہیں۔ یقیناً وہ قیامت سے پہلے نازل ہونے والے ہیں۔تم جب ان کو دیکھنا تو پہچان لینا۔ وہ میانہ قدہوں گے۔ ان کا رنگ سرخی مائل سفید ہو گا۔ وہ زرد رنگ کے دو کپڑوں میں ہوں گے۔ ایسا محسوس ہو گا کہ ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ اگرچہ سر کو تر نہ کیا ہو گا۔ وہ نازل ہونے کے بعد اسلام کے لئے جہاد و قتال کریں گے۔ وہ صلیب کو پاش پاش کر دیں گے اور خنزیروں کو نیست و نابود کرائیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ اور ان کے زمانے میں اﷲ تعالیٰ اسلام کے سوا ساری ملتوں اور مذہبوں کو ختم کر دیں گے۔ حضرت مسیحؑ دجال کا خاتمہ کر دیں گے۔ وہ اس زمین اور اس دنیا میں چالیس سال رہیں گے پھر یہیں وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ (سنن ابی داؤد)

۶۵۔ سب سے پہلے نبی ؐ قبر سے نکلیں گے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کاسردار ہوں گا۔ میں وہ پہلا شخص ہوں گا جس کی قبر شق ہو گی۔ میں شفاعت کرنے والا پہلا شخص ہوں گا اور میں ہی وہ شخص ہوں گا جس کی شفاعت سب سے پہلے قبول فرمائی جائے گی۔ (صحیح مسلم)

۶۶۔نبیؐ اور ابوبکرؓ و عمرؓ : تینوں کی عمر۶۳ سال

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ کی طرح حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ نے بھی ۶۳ سال ہی کی عمر میں وفات پائی۔ (مسلم)

۶۷۔نبیؐ ذاتی کام خود کر لیا کرتے تھے

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ کا عام معمول تھا کہ آپﷺ اپنے ذاتی کام خود کر لیا کرتے تھے۔ ضرورت پڑنے پر خود ہی اپنی ٹوٹی جوتی مرمت کر لیتے تھے اور خود ہی اپنا پھٹا ہوا کپڑا سی لیتے تھے۔ آپؐ اپنے گھر میں ایک عام آدمی کی طرح کام کرتے تھے اور اپنے کپڑوں میں خود جوئیں دیکھتے تھے۔ بکری کا دودھ بھی خود دوہ لیتے تھے۔( ترمذی)

۶۸۔حضرت ابوبکرؓ کا نبیؐ سے منفرد حسن سلوک

حضرت ابو ہریرہؓ ، سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس نے میرے ساتھ حسن سلوک کیا ہو اور میں نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکرؓ کے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ جو حسن سلوک کیا اس کی مکافات قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ ہی کرے گا۔ کسی شخص کا بھی ما ل کبھی اتنا میرے کام نہیں آیا جتنا ابوبکرؓ کا مال کام آیا اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکرؓ کو بناتا۔ معلوم ہونا چاہئے کہ میں بس اﷲ کا خلیل ہوں۔ (جامع ترمذی)

۶۹:سب سے پہلے ابوبکرؓ داخلِ جنت ہوں گے

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل امین میرے پاس آئے، میرا ہاتھ پکڑا اور مجھ سے جنت کا وہ دروازہ کھلوایاجس سے میری امت کا جنت میں داخلہ ہو گا۔ ابوبکرؓ نے یہ سن کر عرض کیا کہ میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی ہے کہ میں بھی اس وقت موجود ہوتا اور اس دروازہ کو دیکھتا۔رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکرؓ تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ میری امت میں سب سے پہلے تم جنت میں داخل ہو گے۔ (سنن ابی داؤد)

۷۰۔حضرت عمرؓ کے زبان و قلب میں حق ہے

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے عمرؓ کی زبان اور اس کے قلب میں حق رکھ دیا ہے۔ (جامع ترمذی)

۷۱۔اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے

حضرت عقبہ بن عامرؓ راوی ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ اگر بالفرض میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطابؓ ہوتے۔ (جامع ترمذی)

۷۲۔حضورﷺ کی دعا سے عمرؓ اسلام لائے

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اﷲﷺ نے ایک رات دعا کی کہ اے اﷲ! اسلام کو قوت عطا فرما ابو جہل کے ذریعہ یا عمر بن خطاب کے ذریعہ۔اگلی صبح کورسول اﷲﷺ کی خدمت میں حضرت عمرؓ آئے اور اسلام قبول کر لیا اور مسجد حرام میں اعلانیہ نماز پڑھی۔ (مسند احمدو ترمذی)

۷۳۔ابو بکرؓ و عمرؓ کی پیروی کی ہدایتِ نبویؐ

حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ کب تک تم لوگوں میں باقی رہوں گا۔ لہٰذا میرے بعد ان دونوں ابوبکرؓ و عمرؓ کی پیروی کرنا۔ (جامع ترمذی)

۷۴۔ابوبکرؓ و عمرؓ علاوہ انبیا جنتیوں کے سردار ہیں

حضرت انسؓ مروی ہیں کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا :ابوبکرؓ و عمرؓ ادھیڑ عمر والے اولین و آخرین میں سوائے انبیاء کے،تمام جنتیوں کے سردار ہیں (ترمذی)

۷۵۔نبیؐ کے زمینی وزیر ابو بکرؓ و عمرؓ ہیں

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کے دو وزیر ہوتے ہیں آسمان والوں میں سے اور دو وزیر ہوتے ہیں زمین میں بسنے والے انسانوں میں سے۔ آسمان میں سے میرے وزیر جبرائیلؑ و میکائیلؑ ہیں اور زمین والوں میں سے میرے وزیر ابوبکرؓ و عمرؓ ہیں۔ (جامع ترمذی)

۷۶،قبل از شہادت عثمانؓ کی نبیؐ ، ابوبکرؓ و عمرؓ سے ملاقات

حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام مسلم ابن سعیدؓ سے روایت ہے کہ روزِ شہادت حضرت عثمانؓ نے بیس غلام آزاد کئے اور پاجامہ منگوا کر پہنا اور اس کو بہت مضبوط باندھا۔ حالانکہ انہوں نے پاجامہ اس سے پہلے نہ کبھی زمانۂ جاہلیت میں پہنا تھا اور نہ اسلام لانے کے بعد کبھی پہنا تھا۔پھر آپؓ نے فرمایا: میں نے گذشتہ رات خواب میں رسول اﷲﷺ کے ساتھ ابوبکرؓ و عمرؓ کو بھی دیکھا تھا۔ ان حضرات نے مجھ سے فرمایا کہ عثمانؓ ! صبر پر قائم رہو۔ تم کل ہمارے پاس روزہ افطار کرو گے۔ اس کے بعد آپؓ نے قرآن مجید منگوایا اور اس کو سامنے رکھ کر تلاوت شروع کر دی۔ آپؓ دورانِ تلاوت ہی شہید کئے گئے۔ (مسند احمد)

۷۷۔جو علیؓ سے بغض رکھے گا وہ منافق ہو گا

زرد بن حبیش سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا قسم ہے اس پاک ذات کی جو دانے کو پھاڑ کر پودا نکالتا ہے اور جس نے جانداروں کو پیدا فرمایا۔ نبیﷺ نے خصوصیت سے مجھ سے فرمایا تھا کہ مجھ سے وہی بندہ محبت کرے گا جو مومن صادق ہو گا اور وہی شخص مجھ سے بغض و عداوت رکھے گا جو منافق ہو گا۔ ( مسلم)


۷۸۔علیؓ مجھ سے ہیں، میں علیؓ سے ہوں : محمدؐ

حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ علی مجھ میں سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں۔ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ (جامع ترمذی)


٭…… تمت بالخیر ……٭

کوئی تبصرے نہیں: